No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
” چھوڑو مجھے. “
حُرمت جو اِس اچانک حملے پر خوفزدہ ہو گئی تھی. یزدان کو اپنے سامنے دیکھ اُس کی سانسیں کچھ بحال ہوئی تھیں.
” مسز یزدان رحمانی تم ہر وقت چھوڑنے کی باتیں ہی کیوں کرتی رہتی ہو.”
یزدان گہری نظروں سے حُرمت کے سجے سنورے رُوپ کی جانب دیکھتے بولا.
” کیونکہ مجھے یزدان رحمانی بہت بُرا لگتا ہے. میں اُس کے ساتھ ایک پل بھی نہیں رہنا چاہتی.”
حُرمت کے غصے سے بچنا اب یزدان کے لیے آسان نہیں تھا. وہ چڑ کر جواب دیتے یزدان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر گئی تھی.
یہ لڑکی دن بدن اُس کی سانسوں کے لیے ضروری ہوتی جارہی تھی. شاید اِس پوری دنیا میں حُرمت ہی ایسی لڑکی تھی جس کو یزدان رحمانی کے دوبدو بولنے کی مکمل اجازت حاصل تھی.
” اور اگر یزدان رحمانی کہے کہ اپنی مسز کے بغیر اُس کا ایک پل گزارنا بھی مشکل ہے تو.”
یزدان کی آنکھوں میں حُرمت کے لیے بے پناہ چاہت تھی. جو فلحال سمحھنے سے قاصر تھا.
حُرمت نے یکدم نظریں اُٹھا کر اپنے مقابل کھڑے یزدان کو دیکھا تھا. مگر کچھ دیر پہلے فاریہ کے حوالے سے جو انکشاف اُس پر ہوئے تھے.
اب اتنی جلدی اُس کا یزدان کی باتوں پر عمل کرنا ناممکن تھا.
” تو یہی تو میں کہنا چاہتی ہوں. کہ رہے یزدان رحمانی اپنی مسز فاریہ یزدان کے ساتھ. پلیز مجھے بخش دے. “
حُرمت نے یزدان کے سامنے ہاتھ جوڑتے اکتائے ہوئے انداز میں کہا تھا.
” کہہ تو رکھا ہے چھوڑ دوں گا تمہیں مگر تین مہینوں بعد. تم کچھ زیادہ جیلس نہیں ہورہی میری مسسز سے.”
یزدان کی نظریں بھٹک بھٹک کر حُرمت کے بالوں پر پھسل رہی تھیں. جنہیں محسوس کرنا جیسے اِس وقت اُس کے لیے بہت ضروری ہوگیا تھا.
حُرمت اُس کی پرتپیش نظریں نوٹ کر چکی تھی اِس لیے جلدی سے اپنا دوپٹہ کھلے بالوں پر مزید پھیلا دیا تھا. وہ بال نہیں کھلنا چاہتی تھی. کیونکہ پھر اُس کے لیے اِن کو سنبھالنا زیادہ مشکل ہوجاتا تھا. مگر آج عائشہ کے اصرار پر مجبوراً اُسے کھولنے پڑ گئے تھے.
” آپ کو بہت زیادہ محبت ہے نا اپنی بیوی سے.”
حُرمت شہلا کی باتیں سننے کے بعد اور فاریہ کی یزدان کے ساتھ کلوزنیس دیکھ یہ ہی مان چکی تھی کہ واقعی یزدان فاریہ سے بہت محبت کرتا ہے. اور اب بھی یزدان کا مسز کہنا فاریہ کے حوالے سے سمجھتی وہ اندر سے مزید بدگمان ہوچکی تھی.
” ہاں بہت زیادہ. میری زندگی ہے وہ.”
یزدان حُرمت کے دلکش نقوش میں کھویا نرم مسکراہٹ سے اُس کی جانب دیکھتا مبہوت ہوچکا تھا.
” تو پھر تمہیں تمہاری محبت کی قسم اِن تین مہینوں میں جب ہم ساتھ رہیں گے. تم میرے قریب نہیں آؤ گے. مجھ سے کسی قسم کی زبردستی نہیں کرو گے. وعدہ کرو مجھ سے. “
حُرمت یزدان رحمانی کے سامنے ہاتھ پھیلاتے وہ مانگ رہی تھی جو اُس کے لیے انتہائی مشکل اور جان لیوا تھا.
” میری محبت سودے بازی کے لیے بالکل بھی نہیں ہے. تم چاہتی ہو میں تمہارے قریب نہ آؤں. تم سے زبردستی نہ کروں تو ٹھیک ہے میں کوشش کروں گا. مگر اُس کے لیے میں اپنی محبت کی قسم کسی صورت نہیں کھا سکتا.”
آج پہلی بار ایسا ہوا تھا. کہ حُرمت نے یزدان کی جانب ہاتھ بڑھایا تھا. جسے یزدان نے تھامنے سے انکار کردیا تھا.
یزدان کی بات کرتے نظر حُرمت کے ہاتھ پر پڑی تھی.
” یہ کیا ہوا ہے تمہیں. یہ زخمی کیسے ہوا ہے. اتنا خون بہہ گیا ہے تمہارا.”
یزدان پریشانی کے عالم میں حُرمت کا ہاتھ تھامتا اپنے سامنے کرتے بولا. اُس کے ہر ہر انداز سے حُرمت کے لیے بے پناہ فکر تھی.
” کچھ نہیں ہوا میں ٹھیک ہوں.”
حُرمت یزدان کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالنے کی کوشش کرتے ہلکے سے منمنائی تھی.
یزدان کا اِس قدر فکرمند ہونا اُسے عجیب سے احساس سے دوچار کر گیا تھا.
آخر یہ شخص اُس کی اتنی فکر کیوں کرتا تھا. جب اِس کی پہلی بیوی اِس کی محبت تھی. وہ اُس کے ساتھ بہت خوش تھا.
حُرمت یزدان رحمانی کے بارے میں کچھ اچھا نہیں سوچنا چاہتی تھی. مگر اُس کا اتنا اہمیت دینا اتنی کیئر کرنا حُرمت کو کسی اور دنیا میں ہی پہنچا دیتا تھا.
” بہت درد ہو رہا ہوگا نا.”
یزدان رحمانی جس نے اپنی زندگی میں بہت زیادہ درد برداشت کیے تھے. حُرمت کی اتنی سی تکلیف پر اُس کی حالت خراب ہوئی تھی.
وہ اپنی پاکٹ سے رومال نکال کر حُرمت کے زخم پر باندھ چکا تھا. مگر حُرمت کا خون آلود ہاتھ اُس کا دل بے چین کر گیا تھا.
” نہیں.”
انگوٹھی کی نوک بُری طرح چبھنے کی وجہ سے حُرمت کو بہت درد محسوس ہورہا تھا. مگر وہ یزدان کو ابھی اِس قابل نہیں سمجھتی تھی کہ اپنا درد شیئر کرتی.
” درد کیسے نہیں ہورہا. زخم اتنا گہرا ہے. اتنا خون بہہ چکا ہے. چلو میرے ساتھ ڈاکٹر کے پاس.”
یزدان کی پریشانی ختم ہونے کانام ہی نہیں لے رہی تھی. وہ اُس کا ہاتھ پکڑتا وہاں سے نکل آیا تھا.
حُرمت اُسے روکتی رہ گئی تھی. مگر یزدان نے اُس کی ایک نہ سنتے گاڑی میں بیٹھا کر ہی دم لیا تھا.
” کیا تمہیں ہاتھ زخمی کرنے کے علاوہ کچھ اور آتا بھی ہے یا نہیں.”
یزدان گاڑی ڈرائیور کرتا حُرمت کو چھیڑتے ہوئے بولا.
اُس نے اپنی سائیڈ کی ونڈو اوپن کی ہوئی تھی. جس کی وجہ سے حُرمت کی سیاہ زلفیں اُڑ اُڑ کر یزدان کے کندھے اور چہرے سے ٹکراتیں اُسے بے خود کیے جارہی تھیں.
حُرمت جو بال کھلے رکھنے پر خود کو ہی کوستی اُنہیں سنبھالنے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھی. یزدان کی بات پر تپ کر اُس کی جانب دیکھا تھا.
” تو اپنے ہاتھ زخمی کرتی ہوں. آپ کو کیا پرابلم ہے.”
حُرمت اِس وقت اپنے بالوں کی وجہ سے پیدا ہوئی آکورڈ پوزیشن کی وجہ سے اپنے کارنامے بھول چکی تھی.
جو یزدان نے اپنے ہاتھ کی پشت اُس کے سامنے لاتے اُس کو بُری طرح شدمندہ ہونے پر مجبور کر گیا تھا.
” پرابلم تو بالکل بھی نہیں ہے. اِن فیکٹ آئی لائک اِٹ. لیکن یہ ستم اِن ہاتھوں پر گوارہ نہیں مجھے. آئندہ اگر مجھ پر غصہ آرہا ہو. تو میرے ہاتھوں پر ہی نکالنا.”
یزدان کے ہاتھ کی پشت پر اپنے ناخنوں کے نشان دیکھ حُرمت کا چہرا شرمندگی سے لال ہوا تھا.
اور اپنا آپ بہت ہی جنگلی لگا تھا.
یزدان کی بات کے جواب میں وہ کچھ نہیں بولی تھی. کیونکہ اُس کے وعدہ لینے کی وجہ سے یزدان اُس کے قریب تو نہیں ہورہا تھا. مگر اُس کی گہری لوح دیتی نگاہیں حرمت پر بھاری ثابت ہو رہی تھیں.
یزدان کی خود پر اُٹھتی نظروں کے ساتھ ساتھ اُسے اُس کے بالوں نے بھی بہت تنگ کر رکھا تھا. جسے یزدان کے سامنے جوڑے میں مقید کرنا اُسے انتہائی مشکل کام لگ رہا تھا.
جبکہ یزدان جو حُرمت کی اِن زلفوں کا وار بہت مشکل سے برداشت کررہا تھا. اب آخر کار اُسکا بھی ضبط جواب دے چکا تھا.
اُس نے ایکدم بریک لگاتے گاڑی کو روڈ کے کنارے پر کھڑا کیا تھا.
” کیا ہوا.”
حُرمت نے سوالیہ نظروں سے اُس کی جانب دیکھا.
” بال باندھو اپنے.”
یزدان حُرمت کے دلفریب رُوپ سے نظریں چُراتے گھمبیر لہجے میں بولا.
وہ جانتا تھا حُرمت کو اُس کا قریب آنا پسند نہیں ہے. اِس لیے وہ اب اپنے دل کی خواہش پر اُس سے زبردستی نہیں کرنا چاہتا تھا.
جبکہ حُرمت سے دور رہنا اُس کے لیے انتہائی مشکل کام تھا. مگر حُرمت کی خوشی کی خاطر وہ کچھ بھی برداشت کرسکتا تھا. سوائے اُسے خود سے جدا کرنے کے.
حُرمت نے یزدان کو رُخ موڑے دیکھ جلدی سے اپنے سر سے دوپٹہ ہٹاتے بالوں کو سمیٹ کر جوڑے کی شکل میں باندھنا چاہا تھا. لیکن ایسا کرنے میں اُسے بہت دشواری پیش آرہی تھی.
زخمی ہاتھ زرا سا فولڈ کرنے کی وجہ سے اُسے ہتھیلی سے تکلیف سے ٹیسیں اُٹھتی محسوس ہوئی تھیں.
ایک ہاتھ سے اپنے گھنے بالوں کو سمیٹ کر جوڑے میں باندھنا اُس کے لیے بہت مشکل ہوگیا تھا.
چار پانچ بار ٹرائے کرنے کے بعد بار بار اُس کے بال ہاتھوں سے نکل کر پھسل جاتے تھے. جس پر بے بسی سے حُرمت کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی.
یزدان جو بنا اُس کی جانب دیکھے اُس کی ایک ایک مومنٹ نوٹ کررہا تھا. آخر تنگ آکر اپنے ازلی رُوپ میں آتے اُس نے حُرمت کی جانب رُخ موڑا تھا.
حُرمت کا بازو پکڑ کر اُسے اپنے قریب کرتے یزدان نے اُس کے ہاتھ سے کیچر لیا تھا.
” میں کر لوں گی.”
حُرمت نے فوراً پیچھے ہونا چاہا تھا. کیونکہ وہ اِس شخص کے قریب آنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی تھی.
” وہ تو کافی دیر سے تم کر ہی رہی ہو.”
یزدان کے سرد انداز میں طنز کرنے پر حُرمت اُسے گھور بھی نہیں سکی تھی. کیونکہ اب وہ اُس کے گرد دونوں بازو پھیلائے اُس کی سیاہ زلفوں کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا.
حُرمت نظریں جھکائے اپنے زخمی ہاتھوں کو غصے بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی. جس کی وجہ سے اُسے اِس شخص کے قریب آنا پڑ رہا تھا.
اُس کی سانسوں کی اتھل پتھل جاری تھی. یزدان رحمانی کی خوشبو اُس کے نتھنوں سے ٹکراتی ایک عجیب سا اثر اُس پر چھوڑ رہی تھی.
یزدان آج پہلی بار اِن بالوں کو چھو رہا تھا. جنہوں نے ہمیشہ دور سے ہی اُس کا ضبط آزمایہ تھا. اور آج اُس کے اتنے قریب ہونے کے باوجود وہ اِن کی خوبصورتی کو محسوس نہیں کرسکتا تھا.
یزدان اپنے جذبات کو تھپک تھپک کر سلاتا ٹھنڈی سانس ہوا میں خارج کرتا اُس کے بالوں میں کیچر لگاتے پیچھے ہٹ گیا تھا.
یزدان جو حُرمت کے ساتھ گزرتے یہ لمحے دل سے محسوس کرنا چاہتا تھا. موبائل پر موصول ہوتا ایک میسیج اُس کا سارا فسوں ختم کر گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
صدام تیز قدموں سے بھاگتا گھر کے اندر داخل ہوا تھا. اُس کے چہرے سے اُس کی پریشانی اور فکرمندی صاف ظاہر تھی.
” ماما کہاں ہیں. عائشہ بھابھی ؟؟؟”
صدام اُن کو آوازیں دیتا اندر داخل ہوا تھا.
وہ ابھی میٹنگ میں ہی تھا جب گھر کے نمبر سے اُسے کال آئی تھی. کہ نائمہ بیگم سیڑھیوں سے گِرکر بُری طرح زخمی ہوگئی ہیں.
وہ میٹنگ چھوڑ کر اندھا دھند ڈرائیونگ کرتا گھر پہنچا تھا. اِس قدر تیز ڈرائیونگ کرنے کی وجہ سے اُس کا دو دفعہ ایکسیڈنٹ بھی ہوا تھا. ایک بچے کے بھاگ کر اچانک سامنے آجانے کی وجہ سے اُسے بچاتے صدام کا سر سٹیرنگ سے ٹکراتا اُس کا ماتھا زخمی کر گیا تھا.
مگر اُسے اپنی پرواہ نہیں تھی. اُس کے لیے سب سے ضروری اُس کی ماما تھیں.
جب آگے آتے ایک موٹر سائیکل سوار غلط سائیڈ سے نکل کر اُس کے سامنے آگیا تھا. اور گاڑی کی سپیںڈ بھی تیز ہونے کی وجہ سے وہ بروقت بریک نہیں لگا پایا تھا. جس کی وجہ سے اُس کی گاڑی اُس موٹر سائیکل سوار کو دور اُچھال گئی تھی.
صدام رُک کر دیکھنا چاہتا تھا مگر اُس کے پاس اتنا ٹائم بالکل بھی نہیں تھا. اِس لیے وہ ایمبولنس کو کال کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے منیجر کے نمبر پر ایک وائس میسیج بھی سینڈ کر گیا تھا.
مگر گھر میں داخل ہو کر سب خواتین کو ڈرائنگ روم میں خوش گپیوں میں مصروف دیکھ وہ سکتے میں آچکا تھا. اِس قدر بھیانک مذاق کس نے کیا تھا اُس کے ساتھ.
” صدام بیٹا آپ اِس طرح اچانک اتنی جلدی واپس کیسے آگئے. سب ٹھیک ہے نا.”
نائمہ بیگم صدام کی پریشان صورت دیکھ فکرمندی سے آگے بڑھی تھیں.
صدام وہاں موجود تمام خواتین کے چہروں پر ایک کھوجتی نظر ڈالتا پاس رکھے صوفے پر ڈھے سا گیا تھا.
وہ سمجھ چکا تھا. کہ پھر وہ کسی بڑی سازش ک حصہ بن چکا تھا. اِس کا مطلب دشمن اُن کے گھر میں بھی موجود تھا.
مگر کون ہوسکتا یے.؟؟؟؟؟
صدام اپنی کنپٹی پر شہادت کی اُنگلی رگڑتے اِس وقت پہلے سے بھی کہیں زیادہ پریشان ہوچکا تھا. اگر دشمن کی رسائی اُس کے گھر تک تھی. تو اُس کے گھر والوں کو بہت خطرے تھا.
” جی ماما میں بالکل ٹھیک ہوں. وہ بس سر میں درد تھا تو سوچا گھر جاکر آرام کر لوں.”
صدام نے اپنے تاثرات چھپاتے چہرے پر مسکراہٹ لاتے اُن مطمئن کرنا چاہا تھا.
جب اُسی وقت جعفر صاحب اور باسط اندر داخل ہوئے تھے. وہ دونوں کسی بزنس ٹور پر جانے کے سلسلے میں آج آفس سے جلدی آچکے تھے.
صدام کو گھر دیکھ اُنہوں نے بھی حیرت کا اظہار کیا تھا. کیونکہ صدام کا اِس وقت گھر پر ہونا ناممکن تھا.
” بھئی آپ سب لوگ اِس طرح عجیب نظروں سے مت دیکھو ورنہ میں نے واپس چلا جانا ہے.”
صدام مسکراتے ہوئے اُن سب کو وارن کرتا بولا. اور ساتھ ہی بلا ارادہ ریموٹ اُٹھا کر چینل سرچنگ شروع کردی تھی.
جب ایک نیوز چینل پر چلتی خبر دیکھ صدام کی آنکھیں حیرت کی زیادتی سے پھٹ چکی تھیں.
” پاکستان کے کامیاب ترین بزنس مین صدام جعفر گیلانی انتہائی سفاکیت کا مظاہر کرتے ہوئے. ایک موٹر سائیکل سوار کو اپنی گاڑی سے بُری طرح کچل کر وہاں سے فرار ہوچکے ہیں.”
یہ خبر تھی یا کوئی دھماکہ جو سیدھا اُن کے سروں پر آن پھؤٹا تھا.
” یہ کیا بکواس ہے. اپنی خبر بنانے کے لیے کچھ بھی بول دیتے ہیں.”
ناۂمہ بیگم سب کو ایک دم پریشان دیکھ جلدی سے بولیں.
” نہیں یہ اتنے بڑے چینل والے ایسے ہی کوئی خبر نہیں چلوائیں گے.صدام کیا ایسا کچھ ہوا.”
جعفر صاحب صدام کے چہرے کا بدلتا رنگ محسوس کرچکے تھے.
” جی ایکسیڈنٹ ہوا ہے میری گاڑی سے. مگر اتنا شدید بالکل بھی نہیں کہ کسی کی جان چلی جائے.”
صدام کو جیسے اب کچھ کچھ کلیئر ہونے لگا تھا. لیکن اچانک نیوز اینکر کی ایک بات نے وہاں بیٹھے ہر شخص کو ساکت کردیا تھا.
” آئیں اِس بارے میں مزید تفصیلات کے لیے بات کرتے ہیں ایس پی نورِ عمل سے.”
صدام سمیت باقی سب بھی آنکھیں پھاڑے سکرین پر فل پولیس یونیفارم میں ملبوس امل کو دیکھ رہے تھے.
” جی یہ سچ ہے. صدام جعفر کی گاڑی سے کی ایکسیڈنٹ ہوا تھا اِس نوجوان کا. اور مجھے یہ بتاتے بہت افسوس ہورہا ہے. کہ ابھی پانچ منٹ پہلے ٹریٹمنٹ ملنے سے پہلے ہی وہ نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے اِس دنیا سے رخصت ہوچکا ہے. “
امل نے چند ہی منٹوں میں اُن سب کو اِس قدر جھٹکا تھا کہ وہ ہلنے کے قابل بھی نہیں رہے تھے.
صدام یہ تو سمجھ ہی چکا تھا کہ اِس پوری سازش کے پیچھے امل کا ہاتھ ہے.
مگر امل کا ایک پولیس آفیسر ہونے کا انکشاف اُس پر بہت بھاری ثابت ہوا تھا.
” یہ تو امل بھابھی ہیں. واؤ یہ پولیس آفیسر ہیں انہوں نے بتاتا بھی نہیں.”
ثمرا حیرت کے مارے صرف اتنا ہی بول پائی تھی.
جب ملازم بھاگتا ہوا اندر داخل ہوا تھا.
” سر باہر پولیس آئی ہے.”
ملازم کافی بوکھلایا ہوا تھا.
” مسٹر صدام جعفر گیلانی یو آر انڈر اریسٹ.”
امل کی سرد و سپاٹ آواز وہاں موجود تمام افراد کو سانپ سونگا گئی تھی.
اُس کا یہ انٹرویوں پندہ منٹ پہلے کا تھا. اور وہ اپنی دلی خواہش پوری کرنے کے لیے اِس قدر بے چین تھی کہ پندرہ منٹ کے اندر وہاں پہنچ چکی تھی.
جاری ہے…….
.
