De Ijazat Joh Tu By Farwa Khalid Readelle50118 Last updated: 24 July 2025
Rate this Novel
De Ijazat Joh Tu
By Farwa Khalid
حُرمت کو دھویں کی وجہ سے ابھی بھی بہت کھانسی آرہی تھی. ایک طرف کھانسی سے بے حال ہوتی دوسری جانب خود کو اِس نقاب پوش سے چھوڑوانے کی کوشش کررہی تھی. جو پہلے یونی اور اب اُس کے گھر تک پہنچ چکا تھا. اندھیرے کی وجہ سے حُرمت اُس کو ٹھیک سے دیکھ نہیں پارہی تھی. حُرمت کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے. جس پر شاید مقابل اُس پر ترس کھاتا اُسے اُسی طرح اپنے بازو کے گھیرے میں لیے کھڑکی کی جانب بڑھا تھا. کھڑکی کا پٹ وا کرتے تازہ ہوا کا جھانکا حُرمت کی نتھنوں سے ٹکراتا اُس کو کسی حد تک نارمل کرگیا تھا. " چھوڑو مجھے تم ہو کون. اور کیا کررہے ہو یہاں. " حُرمت اپنے گرد حصار قائم کیے اُس کے بازوؤں کو ہٹاتے طیش بھرے لہجے میں بولی. وہ تو یہاں اپنے شوہر کی تلاش میں نکلی تھی. مگر یہاں یہ نقاب پوش اُسے دوبارہ مل گیا تھا. " کہیں یہ کوئی دہشت گرد تو نہیں…ایک منٹ یہ…." حُرمت جو کچھ اور ہی سوچ رہی تھی. اچانک اُس کے زہن میں جھماکہ ہوا تھا. کوئی اور شخص بھلا اتنی ٹائٹ سیکیورٹی کی وجہ سے رحمانی ہاؤس میں آہی نہیں سکتا تھا. تو پھر کہیں یہ نقاب پوش یزدان تو نہیں….. حُرمت کے تجسس اور بے چینی میں اضافہ ہورہا تھا. اُس نے کسی شک کے تحت نظریں اُٹھا کر غور سے مقابل کی جانب دیکھا تھا. جو پہلے ہی انتہائی فُرصت سے حُرمت کے نقوش کا جائزہ لے رہا تھا. جیسے حُرمت کے دل و دماغ میں چلتی ہر اُلجھن کا پتا اُس کے چہرے سے چلا لینا چاہتا ہو. حُرمت اُس کے کچھ نہ بولنے پر مزید شک میں مبتلا ہوتی. خود میں ہمت پیدا کرتے جلدی سے ہاتھ بڑھا کر اُس کا نقاب پکڑ کر کھینچنا چاہا تھا. مگر مقابل بھی اُس سے اتنا بے خبر نہیں تھا. فوراً سے پہلے اُس نے حُرمت کے دونوں ہاتھ تھام کر واپس اُسی کی کمر پر موڑ دیئے تھے. " تم ہر بار ایسی حرکت کیوں کرتی ہو کہ مجھے تمہیں اُس کا پے بیک کرنا پڑتا ہے." نقاب پوش کی گھمبیر بھاری آواز حُرمت کو یزدان کی آواز جیسی بالکل بھی نہیں لگی تھی. بے شک آواز کا گھمبیر پن ملتا جلتا تھا مگر اُن کے ایکسنٹ میں زمین آسمان کا فرق تھا. حُرمت کو اُس کی بات پر خوف سا محسوس ہوا تھا. لاسٹ ٹائم بھی اُسے یاد تھا کیسے اِس شخص نے اُسے اتنا ٹائم آفس میں اپنے ساتھ بند رکھا تھا. اور آخر میں زبردستی بینڈیج بھی کروائی تھی. " تم یزدان رحمانی ہو نا. بہت ناٹک کر لیا تم نے پاگل ہونے کا اب اور نہیں. میں سب جان چکی ہوں اب تمہارے بارے میں. اور کل ہی سب گھر والوں کو تمہاری اصلیت بتا دوں گی." حُرمت نے چاند کی مدھم روشنی میں اُس نقاب پوش کی آنکھوں میں جھانکتے اُس کا ری ایکشن جاننے کے لیے اپنی جانب سے ایک تکا مارا تھا. جبکہ مقابل کی آنکھوں سے حُرمت تو کوئی اندازہ نہیں لگا پائی تھی. مگر مقابل اِس دھان پان سی لڑکی کی حرکتوں پر اپنا بے ساختہ اُمڈ آنے والا قہقہ نہیں روک پایا تھا. حُرمت نے انتہائی غصے سے اُسکی جانب دیکھتے خود کو آزاد کروانا چاہا تھا. اُس کے ہاتھ ابھی تک اِس نقاب پوش نے اپنے ہاتھ میں قید کرکے حُرمت کج کمر سے ٹکا رکھے تھے. اُس کی یہ حرکت مقابل کی گرفت کم کرنے کے بجائے مزید سخت کروا گئی تھی. اُس نے حُرمت کو ہلکا سا جھٹکا دیتے اپنے مزید قریب کیا تھا. حُرمت کا چہرا اب نقاب پوش کے چہرے کے بہت قریب تھا. " چھوڑو مجھے.…یہ کیا بے ہودگی ہے.." اُس کی لال آنکھیں اپنے اتنے قریب دیکھ حُرمت کی دھڑکنوں کا شور بڑھ چکا تھا. مدھم روشنی میں حُرمت کا چاندنی میں نہایا حسین سراپا مقابل کے دل پر بجلیاں گر رہا تھا. کب سے خود پر قابو پاتا آخر میں جیسے اِس لڑکی کے آگے بے بس ہوا تھا. اُس نے حُرمت کا رُخ اپنی جانب سے پھیرتے دوسری جانب موڑا تھا. وہ حُرمت کو اپنی مرضی سے ایسے اِدھراُدھر گھما رہا تھا جیسے وہ کوئی کانچ کی گڑیا ہو. حُرمت اُس کی آہنی گرفت میں صرف بن پانی کی مچھلی کی طرح پھڑ پھڑا رہی تھی. اُسے معلوم ہورہا تھا. اِس گرفت سے اتنی آسانی سے رہائی ملنا ناممکن تھا. حُرمت کا رُخ دوسری جانب موڑتے اُس کے ہاتھوں کو قید کرتے اُس نے اپنے چہرے سے نقاب ہٹایا تھا. اور بہت ہی نرمی اور محبت سے حُرمت کی کان کی لوح کو چوم لیا تھا. حُرمت کو لگا تھا جیسے اُسے کسی انگارے نے چھو لیا ہو. حُرمت ہر چیز سے دھوکہ کھا سکتی تھی. مگر یہ لمس وہ اِس لمس میں چھپی دیوانگی اچھے سے محسوس کرسکتی تھی. حُرمت اُس سے خود کو چھڑانے کی پوری کوشش کررہی تھی. مگر وہ اپنے ہاتھ تک ہلا نہیں پارہی تھی. مقابل کی گرم سانسیں اب اُسے اپنی گردن پر محسوس ہورہی تھیں. " پلیز چھوڑو مجھے. تم غلط کررہے ہو. تم جو کوئی بھی ہو میں تمہیں نہیں جانتی. اور نہ ہی ہمارے…
" میں ٹھیک ہوں. " یزدان کو پاؤں میں موجود کانچ کے چھوٹے سے ٹکڑے کی جانب ہاتھ بڑھاتا دیکھ حُرمت نے ملتجی انداز میں اُس کی جانب دیکھا تھا. مگر ہاتھ بڑھا کر روکنے کی غلطی اِس بار نہیں کی تھی. اُسے ڈر لگ رہا تھا یہ پاگل شخص اُس کے پاؤں کو مزید ہرٹ نہ کر دے. " پلیز مت کریں مجھے درد ہورہا ہے." یزدان نے جیسے ہی حُرمت کا پیر پکڑ کر دبایا وہ درد سے دوہری ہوتی یزدان کا دائیاں کندھا اپنے ناخنوں سے بُری طرح دبوچ گئی تھی.
