No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
ہال میں جلتے بلب کی مدہم روشنی میں کسی کے تیز قدموں کی چاپ سناٸی دی ۔۔۔۔۔۔وہ گل مینے کو بانہوں میں بھر کے سیڑھیاں تیزی سے اتر رہا تھا۔۔۔۔۔
گل مینے کی رنگت ذرد ہوتی جارہی تھی وہ آنکھیں بھی نہیں کھول رہی تھی۔۔۔۔۔
ضرار کے چہرے پہ تشویش تھی۔۔۔۔۔
اس کے منہ میں سے جھاگ نکل رہی تھی اور ضرار کو یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ سب ہوا کیا ہے۔۔۔۔۔
وہ تیزی سے کسی کو بھی اطلاع دیۓ بغیر دروازہ کھول کے پورچ میں کھڑی گاڑی کی طرف لپکا
گاڑی کا دروازہ کھولا اسے پچھلی سیٹ پہ لٹایا خود ڈراٸیونگ سیٹ سنبھال لی
اس وقت وہ کسی کو بھی اطلاع دے کے وقت نھیں ضاٸع کر سکتا تھا
اوپر کمرے میں کھڑی زرشاہ نے ڈبڈباتی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا تھا
”کیا یہ حقیقت تھی کہ گل مینے ان کی ذندگیوں سے کبھی نہیں نکل سکتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
زرشاہ کو بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ سب ہوا کیا ہے حواس بحال ہوتے ہی۔۔۔۔۔۔۔وہ تیزی سے کمرے سے نکلی اور سیڑھیاں اتر کے پلوشہ بھابھی کا کمرہ بجانے لگی
تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلنے پہ نیند میں ڈوبی پلوشہ بھابھی اسے نظر آٸی
جو تشویش بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
شیراز خان بھی اٹھ بیٹھے تھے ساٸیڈ لیمپ آن کیا تو پورا کمرہ روشن ہو گیا ان کے تاثرات بھی کچھ ایسے ہی تھے۔۔۔۔۔۔
”پلوشہ بھابھی گل مینے کا طبیعت اچانک خراب ہو گیا ہے ضرار اس کو ہسپتال لے کے گیا ہے۔۔۔۔۔“
اس نے پھولے ہوۓ سانس کے ساتھ انہیں اطلاع دی۔۔۔۔۔
ان کے تاثرات بدلے تھے اب ان کے چہرے پہ پریشانی تھی
شیراز خان تیزی سے اٹھ کھڑے ہوۓ تھے اب وہ ضرار کا نمبر ڈاٸل کر رہے تھے۔۔۔۔۔
وہ کمرے سے باہر نکل گۓ تو پلوشہ بھابھی زرشاہ سے مذید پوچھنے لگی۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر میں سب جاگ چکے تھے اور حویلی روشن ہو چکی تھی۔۔۔۔۔
اسفند یار اور شیراز خان ضرار سے ہسپتال کا پوچھ کے اب شہر کے لیے روانہ ہو چکے تھے۔۔۔۔۔
آغا جان پریشانی سے ٹہل رہے تھے اور زرشاہ غاٸب دماغی سے یہ منظر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤
رات کے اسی پہر کسی عجیب سی آواز سے المظ کی آنکھ کھل گٸ اس نے آدھی آنکھیں کھول کے سمجھنے کی کوشش کی کہ آواز کہاں سے آرہی ہے۔۔۔۔۔۔اور حواس بحال ہوتے ہی اسے سمجھ آگٸ ۔۔۔۔
ساٸیڈ ٹیبل پہ پڑے دراب خان کے موباٸل سے روشنی کی شعاٸیں نکل کے چھت کے ساتھ ٹکرا رہی تھی
اور انہیں کا موباٸل وابریٹ کر رہا تھا۔۔۔۔۔
اسی مدہم روشنی میں اس نے دیکھا تھا دراب خان گہری نیند میں سو رہے تھے
اور گھڑی رات دو کا ہندسہ عبور کر چکی تھی ۔۔۔
اس نے کچھ سوچا پھر اپنی جگہ سے اٹھی گھوم کے ان کی طرف گٸ موباٸل اٹھایا۔۔۔۔۔۔تو اوپر ثنا کے نام سے نمبر سیو تھا۔۔۔۔
اسے دھچکا لگا اس نے آنکھیں مل کے ایک دفعہ پھر دیکھا
پھر کچھ سوچ کے موباٸل کان سے لگا لیا
دوسری طرف کسی لڑکی کی روتی ہوٸی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکراٸی اسے یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔۔۔
”دراب تم جلدی سے یہاں آجاٶ مجھے اس وقت تمہاری بہت ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
اس نے بے یقینی سے صاف اردو میں بولی گٸ اس لڑکی کی بات سنی تھی۔۔۔۔
اس کے دل میں وسوسے سر اٹھانے لگے
ایک سیکنڈ میں اس کا رعب غصہ سب جھاگ کی طرح بیٹھ گیا
اس کا دل چاہا وہ جواب دے لیکن اس کی آواز اندر ہی اندر گھٹ کے رہ گٸ
اس نے فورا سے کال کاٹ دی۔۔۔۔
کال لاگز میں جا کے کال ڈلیٹ کی
اس کو اپنے گالوں پہ نمی محسوس ہوٸی
اسے حیرت ہوٸی وہ رو رہی تھی
المظ خان یوسفزٸی دراب خان کے لیے رو رہی تھی۔۔۔
اسے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔
“کیا دراب خان اس لیے مجھ سے کتراتے ہیں کہ ان کی ذندگی میں کوٸی اور لڑکی۔۔۔۔ہے“
وہ سوچتے ہوۓ بیڈ پہ بیٹھ گٸ۔۔۔۔۔
اضطرابی کیفیت میں سر کو دونوں ہاتھوں میں دٸیۓ وہ سوچے جارہی تھی۔۔۔۔۔
اس کا دل چاہا وہ دراب خان سے پوچھ لے۔۔۔۔۔
اور اگر انہوں نے واقعی میں تسلیم کر لیا تو پھر میں کیا کروں گی۔۔۔۔۔
اس نے خیال کو اپنے ذہن سے جھٹک ڈالا
”نہیں میں ان کی بیوی ہوں اگر کوٸی باہر والی عورت ہے بھی تو میں اسے دراب خان کی ذندگی سے نکال دوں گی۔۔۔۔۔۔“
اس نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوۓ خود کو تسلی دی۔۔۔۔۔
پھر سونے کے لیے لیٹ گٸ۔۔۔۔
وہ پوری رات اس نے کروٹیں بدلتے ہوۓ آنکھوں میں کاٹی تھی اس رات اس پہ ایک انکشاف ہوا تھا کہ وہ بری طرح سے دراب خان کی محبت میں گرفتار ہو چکی ہے۔۔۔۔۔۔۔
اور اسی رات ضرار پہ بھی ایک انکشاف ہوا تھا۔۔۔۔۔
اور زرشاہ غلط فہمیوں کے اتھاہ سمندر میں کہیں غرق ہو کے رہ گٸ تھی۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤
ہسپتال کے جس وارڈ میں گل مینے کو ایڈمٹ کیا گیا تھا اس کے باہر ضرار خان اضطراری کیفیت میں چکر کاٹ رہا تھا
شیراز خان اور اسفند یار خان۔۔۔۔۔۔ابھی تک یہاں نہیں پہنچے تھے
اس لیے فلحال وہ یہاں پہ اکیلا تھا
کافی دیر بعد ڈاکٹر باہر نکلے تو وہ ان کی طرف لپکا تھا۔۔۔۔
”پیشنٹ کو زہر دیا گیا تھا یا انھوں نے زہر کھا لیا تھا لیکن خطرے کی کوٸی بات نہیں بروقت پہنچ آنے کی وجہ سے ہم نے ان کا معدہ واش کر دیا ہے اب وہ خطرے سے باہر ہیں۔۔۔۔۔“
ڈاکٹر پیشہ ورانہ انداز میں اسے تفصیل سے بتاتا آگے بڑھ گیا
لیکن وہ ڈاکٹر کے الفاظ میں الجھ کے رہ گیا تھا
گل مینے کو کوٸی زہر کیوں دے گا“؟
اسی دوران شیراز خان اور اسفند یار خان بھی پہنچ آۓ تھے وہ اب اسے گل مینے کے متعلق پوچھ رہے تھے۔۔۔۔۔
”لالا ڈاکٹر کہہ رہا تھا اسے زہر دیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔“
اسے اپنی آواز کسی کھاٸی سے آتی محسوس ہوٸی ۔۔۔۔۔
شیراز خان اور اسفند یار خان ایک دوسرے کا منہ دیکھ کے رہ گۓ۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
یہ صبح بھی معمول کے جیسی ہی تھی اس گھر میں موجود تمام نفوس اپنے روز مرہ کے کاموں میں مشغول تھے نیچے مورے ملازمین سے پورے گھر کی صفاٸی کروا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔جس میں بھابھی بھی ان کے ساتھ تھی واجد لالا صبح ہی صبح باغات کو دیکھنے کی غرض سے چلے گۓ تھے اوپر کے اس بڑے کمرے میں دراب خان نے اخبار پڑھتے ہوۓ نظر اٹھا کے المظ کو دیکھا تو چونک گۓ۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے گھنگھریالے بال چڑیا کے گھونسلے کا منظر پیش کر رہے تھے ستا ہوا چہرہ متورم سوجی ہوٸی آنکھیں اسے دیکھ کے لگ رہا تھا کہ وہ کافی دیر روتی رہی ہے۔۔۔۔۔۔
انہوں نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا پھر ارادہ ترک کر کے اخبار کی طرف متوجہ ہو گۓ۔۔۔۔۔
ساتھ ساتھ کن اکھیوں سے وہ اس کے اداسی بھرے تاثرات بھی دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
اس نے گھنگھریالے بالوں کو جوڑے کی شکل میں باندھا پھر سستی سے اٹھی۔۔۔۔
ان پہ ایک شکوہ کناں نگاہ ڈالی۔۔۔۔۔
”ام کو تم سے کچھ بات کرنا ہے۔۔۔۔۔۔“؟
رک رک کے کہتی وہ تذبذب کا شکار لگتی تھی
انہوں نے اخبار ایک طرف رکھی پھر اس کی طرف متوجہ ہو گۓ۔۔۔۔۔
وہ چلتی چلتی ان کے قریب آٸی پھر گھٹنوں کے بل ان کے پاٶں کے قریب بیٹھ گٸ۔۔۔۔۔
وہ ناسمجھی سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔
”ام نے تم سے جو جو بدتمیزی کیا ہے ام اس کے لیے تم سے معافی مانگتا ہے ام کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔“
اس نے سر جھکا کے ٹھہر ٹھہر کے کہا
پھر رک کے ان کے تاثرات جاننے کے لیے سر اٹھایا
ان کا چہرہ سپاٹ تھا۔۔۔۔۔
”اور ام نے یہ کہنا تھا۔۔۔۔“
ان کا ہاتھ تھام کے اس نے اپنے لبوں کے ساتھ لگایا تھا۔۔۔۔۔
”خان صاحب ام تم سے بہت محبت کرتا ہے۔۔۔۔۔۔“
اس نے محبت بھرے لہجے میں کہا
تو دراب خان کو دو سو واٹ کا کرنٹ لگا تھا۔۔۔۔
”ام نے بہت چاہا تم سے محبت نہ کریں لیکن ام کو تم سے محبت ہو گٸ ہے ام کیا کریں۔۔۔۔۔ام نہیں جانتے تم کو ام سے محبت ہے یا نہیں لیکن ام اتنا جانتا ہے کہ ام تمہیں کسی اور کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔“
وہ ایک ہی سانس میں کہتے کہتے روہانسی ہو گٸ تھی ۔
پھر ان کے دونوں ہاتھوں کو باری باری آنکھوں کے ساتھ لگایا۔۔۔۔
”تم اماری آنکھوں کا نور ہے۔۔۔۔۔خان صاحب۔۔۔۔۔“
وہ نم آنکھوں سے مسکراٸی۔۔۔۔۔
پھر رک کے ان کے تاثرات جاننے کی کوشش کی ان کے چہرے پہ حیرت تھی
وہ دھیرے سے مسکراتے ہوۓ انہیں اسی کیفیت میں چھوڑ کے خود وہاں سے اٹھ گٸ۔۔۔۔
جاری ہے
