39.5K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

”لالا ام تم سے پوچھ رہا ہے کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔“؟؟
وہ دو قدم آگے آٸی۔۔۔۔۔پھر سر جھکا کے کھڑے دراب خان کو بازو سے پکڑ کے جھنجھوڑا۔۔۔۔
”وہ ہسپتال میں داخل ہے۔۔۔۔۔اس کی حالت ٹھیک نہیں ہے زرشاہ۔۔۔۔۔۔“
ہسپتال میں بھی بار بار وہ تمہارا نام لے رہا ہے۔۔۔۔۔
انہوں نے اس کے سر پہ تسلی دینے والے انداز میں ہاتھ رکھا تو ان کے چہرے پہ ایسا کچھ تھا جس نے زرشاہ کو اندر سے جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔۔۔۔
اس کے بعد جیسے ہر طرف دھند چھا گٸ تھی کوٸی چہرہ واضح نہیں رہا تھا
اس کے ذہن میں دن رات گردش کرتی۔۔۔۔۔ضرار کی باتیں بھی کہیں دب کے رہ گٸ تھی
اور ہاں وہ آخری دھکا بھی وہ آخری تذلیل بھی۔۔۔۔۔
بہت سے چہرے آپس میں گڈمڈ ہوۓ تھے اور جو آخری چہرہ بچا تھا وہ ضرار خان کا تھا۔۔۔۔۔
وہ جو عہد اس نے خود سے کیا تھا۔۔۔۔۔اب کبھی وہ یہ چہرہ نہیں دیکھے گی اس کو آج یاد آیا تھا وہ چہرہ تو اس کے دل کے نہاں خانوں میں تھا۔۔۔۔
اس نے محسوس کیا وہ بھاگ رہی ہے دراب خان نے اسے پکارہ تو۔۔۔۔۔اس کے قدم تھم گۓ ٹھہر کے انہیں دیکھا۔۔۔۔۔
میں ساتھ چلتا ہوں تمہارے۔۔۔۔“
یہ آخری بات اس نے اپنے خوش و ہواس میں سنی تھی۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ ہسپتال کی راہداری سے تقریبا بھاگتے ہوۓ ریسپشینٹ کے سامنے کھڑی غاٸب دماغی سے ایک ہی نام دہرا رہی تھی۔۔۔۔
”دراب خان کب اس کے پہلو میں آکے کھڑے ہوۓ اسے کچھ پتہ نہ چلا۔۔۔۔۔
دراب خان اس کا بازو پکڑ کے اب مطلوبہ وارڈ کی طرف جا رہے تھے
دور سے شناسہ چہروں کی چھلک نظر آٸی تو وہ اس طرف بھاگی۔۔۔۔
المظ نے کچھ بے یقینی سے دراب خان کو دیکھا۔۔۔۔
انہوں نے اسے یکسر نظر انداز کیا تو وہ نظر جھکا کے رہ گٸ۔۔۔۔۔
”ضرار خان۔۔۔۔۔“؟؟
اس نے اپنے حواسوں میں لوٹتے ہی المظ سے جو پہلا سوال پوچھا تھا وہ یہی تھا۔۔۔۔
”المظ بجاۓ جواب دینے کے اس کے ساتھ لپٹ کے رو دی۔۔۔۔
”لالا کو برین ہمبریج ہوا ہے زرشاہ لالا ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔۔اس کو تمہارا بددعا لگ گیا ہے۔۔۔۔۔“
وہ ہچکیوں کے درمیان کہہ رہی تھی۔۔۔۔
”نہ المظ ام نے ضرار کو کبھی بد دعا نھیں دیا وہ ٹھیک ہو جاۓ گا۔۔۔۔۔“
ہا نہ لالا۔۔۔۔۔“
پلٹ کے دراب خان سے تصدیق چاہی تو انہوں نے محظ سر ہلا دیا۔۔۔۔۔
”ڈاکٹر کے باہر آتے ہی زرشاہ ۔۔۔۔۔ڈاکٹر کی طرف لپکی تھی۔۔۔۔۔“
”ڈاکٹر ضرار خان ٹھیک تو ہے نا۔۔۔۔۔“
اس نے قریب ھو کے ایک دفعہ اور تصدیق چاہی۔۔۔۔۔
”آپ سب میں سے زرشاہ کون ہے۔۔۔۔“؟؟
ڈاکٹر نے اس کے سوال کو یکسر نظر انداز کر کے سب کو ایک نظر دیکھا۔۔۔۔۔
”میں ہوں زرشاہ۔۔۔۔۔“
اس نے بے تاب ہو کے کہا۔۔۔۔
”مریض کو مکمل ہوش نہیں آرہا غنودگی میں وہ بار بار ایک یہ ہی نام پکار رہے ہیں آپ ایک دفعہ۔۔۔۔۔مریض سے جاکے مل لے شاید ان کی حالت سنبھل جاۓ۔۔۔۔۔۔اس طرح ہم پر امید نہیں ہیں۔۔۔۔۔“
ڈاکٹر ایک نظر زرشاہ کو دیکھ کے کاروباری انداز میں کہتے۔۔۔۔۔۔۔ہوۓ آگے بڑھ گیا۔۔۔۔
زرشاہ نے ایک درد بھری نظر۔۔۔۔۔دراب خان پہ ڈالی۔۔۔۔
اور وارڈ کا دروازہ کھول کے اندر چلی گٸ۔۔۔۔۔
المظ نے ایک دفعہ پھر دراب خان کے تاثرات جانچنے کی کوشش کی
ان کا چہرہ ہنوز سپاٹ تھا۔
❤❤❤❤❤
وہ جب دھیرے سے اندر داخل ہوٸی تو ادویات کی مخصوص بو اس کے نتھے چیرتی ہوٸی آگے بڑھ گٸ ۔۔۔۔۔
اس نے چور نظروں سے بیڈ پہ سوٸیوں میں جھکڑے ضرار کو دیکھا تو اس کا دل کٹ کے رہ گیا۔۔۔۔
ایسا تو چھوڑ کے نہیں گٸ تھی وہ اسے۔۔۔۔۔
وہ دھیرے دھیرے چلتی اس کے قریب آٸی۔۔۔۔۔
تھوڑا جھک کے اس کا چہرہ دیکھا۔۔۔۔
جو ذرد پڑھ چکا تھا آنکھوں کے نیچے سیاہ ہلکے واضح تھے۔۔۔۔۔
اس نے اپنا گال اس کے گال کے ساتھ مس کیا اس نے محسوس کیا اس کا۔۔۔۔۔۔چہرہ تپ رہا ہے۔۔۔۔۔
اس کی سانسیں بھی اکھڑی ہوٸی تھی۔۔۔۔
زرشاہ نے ہاتھ سے اس کے سامنے کے بال پیچھے کیے۔۔۔۔
اس کے جسم میں کوٸی حرکت پیدا نہیں ہوٸی تھی
اس نے دھیرے سے اس کے چہرے پہ ہاتھ پھیرا
اس کے وجود میں کوٸی حرکت پیدا نہ ہوٸی۔۔۔۔۔
اس نے اپنے لب اس کے دہکتے ہوۓ ماتھے پہ رکھے تو کسی اپنے کا لمس محسوس کر کے۔۔۔۔۔اس کے لب دھیرے سے ہلے تھے۔۔۔۔۔
”زرشاہ۔۔۔۔“
دھندلاٸی نظروں سے اس نے کالی چادر میں لپٹے وجود کو دیکھ کے ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادا کیے۔۔۔۔۔
زرشاہ نے چونک کے سر اٹھایا لیکن اس کی آنکھیں ہنوز بند تھی۔۔۔۔۔
زرشاہ کو لگا یہ اس کا وہم ہے۔۔۔۔۔۔
اس کی آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کے ضرار کے چہرے پہ گرے۔۔۔۔۔تو اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولی تھی
وہ غنودگی میں تھا اسے سب کچھ وہم ہی لگ رہا تھا۔۔۔۔۔
اس نے دھیرے سے ہاتھ اٹھا کہ جیسے زرشاہ کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی زرشاہ نے تڑپ کے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا
ضرار کا شک یقین میں بدل رہا تھا۔۔۔۔۔
وہ زرشاہ ہی تھی۔۔۔۔
اس نے ایک دفعہ پھر کہنے کی کوشش کی لیکن وہ بول نہیں پایا۔۔۔۔
زرشاہ نے محسوس کیا وہ بھی رو رہا ہے۔۔۔۔
”ہاں ضرار ام تمہارے پاس ہے ام تم کو چھوڑ کے اب کہیں نہیں جاۓ گا۔۔۔۔۔
اس نے اس کے ہاتھوں کو لبوں کے ساتھ لگاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
پتہ نہیں اسے سمجھ آٸی تھی یا نہیں لیکن اس کی آنکھیں ایک دفعہ پھر بند ہو گٸ تھی۔۔۔۔۔
اس کے جسم کا درجہ حرارت ایک دفعہ پھر بڑھ گیا تھا
وہ سانس بھی رک رک کے لے رہا تھا۔۔۔۔۔
اس کو اس طرح دیکھ کے زرشاہ کی حالت غیر ہو گٸ تھی۔۔۔۔
وہ ڈاکٹر کو اونچی آواز میں پکارتی۔۔۔۔۔۔اس کا ہاتھ چھوڑ کے باہر کی طرف بھاگی۔۔۔۔۔
اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولی دھندلاہٹ کے اس پار سفید کپڑے پہنے ضرار کا ہاتھ زرشاہ نے چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔
❤❤❤❤❤
”اس سب کا ذمہ دار ام ہے۔۔۔۔۔“
دور چمکتے چاند کی مدہم روشنی میں مدہم ہوا کے ساتھ جھومتے آم کے درخت کی طرف دیکھتے اس نے ندامت سے کہا تو دراب خان نے محض اسے ایک نظر دیکھا۔۔۔۔۔
”المظ پچھتاوے ندامت کبھی گزرا ہوا وقت ہمیں واپس نہیں کر سکتی۔۔۔۔“
تمہارا ایک پچھتاوہ بھی ان لمحات کی اذیت کم نھیں کر سکتا جو میں نے اور میری بہن نے اذیت میں گزارے ہیں۔۔۔۔۔
”تمہاری ندامت ہر گز میری اور ثنا کی بے عزتی کا مداوہ نہیں ہو سکتی۔۔۔۔۔“
انہوں نے نیچے کچی ذمین کو گھورتے عام سے لہجے میں بہت بڑی بات کہہ دی تھی۔۔۔۔
”ام معافی مانگنے کو تیار ہے۔۔۔۔۔“
اس نے فوراً صفاٸی پیش کی
”اچھا المظ چلو تم نے مانگ لی معافی۔۔۔۔۔میں نے تمہیں معاف بھی کر دیا۔۔۔۔۔۔“کیا ہو گا اس معافی سے۔۔۔۔۔۔“؟؟؟
انہوں نے رخ اس کی طرف موڑ کے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔
”کیا تمہارا لالا ۔۔۔۔۔۔ٹھیک ہو جاۓ گا۔۔۔۔۔“؟؟
”کیا زرشاہ اور ضرار میرا اور تمہارا رشتہ پھر پہلے جیسا ہو جاۓ گا۔۔۔۔۔“
انہوں نے ابرو ترچھا کر کے سوالیہ انداز اپنایا
وہ لاجواب ہو گٸ تھی۔۔۔۔۔
”معافی کا جو بھی کانسپٹ ہے۔۔۔۔۔وہ کچھ بھی ہو پر یہ ہر گز نہیں ہے کہ اپنے ہوش و حواس میں دوسرے انسان کو تکلیف پہنچاٶ۔۔۔۔۔۔“پھر معافی مانگ لو۔۔۔۔۔“
”تو کیا تمہیں لگتا ہے کسی انسان کا تکلیف کا ازالہ ہے یہ لفظ۔۔۔۔۔“
تاسف سے سر جھٹک کے ایک دفعہ پھر راہداری سے اندر آتے لوگوں کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
وہ دونوں اس وقت۔۔۔۔۔ہسپتال کے پارکنگ ایریا کے ساتھ بنی چھوٹی سی لان نما جگہ پہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔۔۔
وہ بالکل لاجواب ہو گیا تھا اور ساتھ ہی سر جھکا کے بیٹھ گٸ۔۔۔۔
آج اسے اس چیز کا احساس ہو رہا تھا کہ دراب خان زرشاہ اور ضرار نے اس کی وجہ سے کتنا سفر کیا تھا۔۔۔۔۔
”دراب خان۔۔۔۔“
اس نے تھوڑے وقفے کے بعد ان کو پکارا
انہوں نے گردن ترچھی کر کے اسے دیکھا۔۔۔۔
”کیا تم ام کو چھوڑ دے گا۔۔۔۔۔“؟؟
اس نے کسی امید کے تحت دراب خان کی طرف دیکھا
وہ ایک گہری سانس لے کے رہ گیا۔۔۔۔۔
”المظ اس وقت مجھے چھوڑنے کا فیصلہ تمہارا تھا میں نے تمہیں روکنا چاہا تم نہیں رکی ۔۔۔۔۔۔“
لیکن۔۔۔۔
پلٹ کے ایک نظر اس کے جھکے ہوۓ سر کو دیکھا
”لیکن اب تمہیں چھوڑنے کا فیصلہ میرا ہے۔۔۔۔۔“
انہوں نے پختہ لہجے میں کہا تو ایک لمحے کے لیے المظ سکتے میں آگٸ۔۔۔۔
اس نے بے یقینی سے ان کی طرف دیکھا
ان کا چہرہ سپاٹ تھا۔۔۔۔۔
”مجھے ضرار خان۔۔۔۔۔شروع میں غلط لگتا تھا۔۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔پھر میں نے سوچا۔۔۔۔۔تو اس سے ذیادہ میں نے خود کو غلط پایا۔۔۔۔۔“
وہ اس کے چہرے کے بدلتے تاثرات کو نظر انداز کر کے۔۔۔۔۔اپنی ہی دھن میں کہے جارہے تھے
جیسے وہ کچھ بھی سننے کا ارادہ نہ رکھتے ہو۔۔۔۔
”میں نے کبھی ایک ذمہ دار بھاٸی بن کے سوچا ہی نہیں میں نے کبھی اپنی بہن سے پوچھا ہی نہیں کہ وہ اپنے گھر میں خوش بھی ہے یا نہیں۔۔۔۔۔۔“
”ضرار خان نے اپنی بہن کے لیے اپنا گھر تک توڑنے کا سوچ لیا اور میں کیا کرتا رہا خود غرضی سے۔۔۔۔۔تمہارے متعلق ہی سوچتا رہا۔۔۔۔۔“
وہ دکھی لہجے میں بول رہے تھے اور المظ سانس روکے انہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
”میری دعا ہے کہ اللہ ضرار کو صحت دے اور زرشاہ اور اس کا رشتہ قاٸم رہے لیکن المظ اگر ایسا نہیں ہوتے تو تم مجھ سے اس دفعہ اچھاٸی کی امید مت رکھنا اگر زرشاہ اور ضرار کا رشتہ نہ بچا تو میرا تمہارا رشتہ بھی نہیں بچے گا۔۔۔۔“
وہ چبھتی ہوٸی نظروں سے۔۔۔۔اسے دیکھتے اٹھ کھڑے ہوۓ۔۔۔۔
”لالا۔۔۔۔۔۔۔“
زرشاہ نے پھولے ہوۓ سانس کے ساتھ دراب خان کو پکارا تو وہ فوراً پلٹے۔۔۔۔
وہ بامشکل دیوار کا سہارا لے کے کھڑی تھی۔۔۔۔
اس کی سانس پھولی ہوٸی تھی۔۔۔۔۔اس کا دھواں دھواں چہرہ کوٸی اور ہی کہانی سنا رہا تھا
کسی انہونی کے احساس کے تحت۔۔۔۔المظ اپنا غم بھول کے فورا اٹھ کھڑی ہوٸی۔۔۔۔
”ضرار خان ٹھیک سے سانس نہیں لے پارہا۔۔۔۔۔“لالا۔۔۔۔“
وہ تقریباً رو دینے کو تھی۔۔۔۔۔
المظ نے ایک نظر دراب خان کو دیکھا پھر وہ فوراً اندر کی طرف بھاگی۔۔۔۔۔
❤❤❤❤