Tu Joh Humdard Hua Mera By Eman Khan Readelle50156

Tu Joh Humdard Hua Mera By Eman Khan Readelle50156 Last updated: 16 August 2025

58.6K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Joh Humdard Hai

By Eman Khan

پلیز ذرا میرے بال بنا دیں؟ وہ ہاتھ میں کنگھی پکڑے عجلت میں ان کی طرف گئی۔ جو انہوں نے موبائل پر سے نظر ہٹا کے ایک طنزیہ نگاہ اس پہ ڈالی جو بال کھولے۔۔۔ چہرے پہ بیزاری سجائے کھڑی تھی۔ تمہیں میں شکل سے کیا نظر آتا ہوں؟ ان کے لہجے میں تاسف کے ساتھ ساتھ گہرا طنز بھی تھا۔ خچہرے سے تو آپ۔۔۔۔ چالیس پچاس سال کے انسان نظر آتے ہیں۔۔۔۔ اس نے چہرے پہ معصومیت سجا کے۔۔۔۔۔ ایک دفعہ پھر انہیں عمر کا طعنہ دیا وہ دانت پیس کے رہ گئے۔۔۔۔ ہر وفت فضول باتیں ہوتی ہیں تمہارے پاس تو۔۔۔۔۔ وہ اسے گھوری سے نواز کے اٹھ کھڑے ہوئے۔ کنگھی تو کر دیں ذرا میری۔۔۔۔۔ اس نے اس دفعہ۔۔۔۔ التجا کی تھی۔ کس خوشی میں کنگی کروں میں تمہاری۔۔۔۔ ہاتھ ٹوٹ گئے ہیں کیا تمہارے؟ انہوں نے چڑ کے ذرا سختی سے کہا۔۔ دن با دن اس لڑکی کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا تھا۔ ہاتھ تڑواتی نہیں ہوں میں ہاتھ توڑتی ہوں۔۔۔۔ المظ دراب خان نام ہے میرا۔ ۔۔۔ اس نے دونوں ہاتھ کمر پہ ٹکا کے۔۔کسی ہیروئین کی طرح کہا۔ میرا نام اپنے نام کے ساتھ مت لگایا کرو تم۔۔۔ انہیں اس کے انداز پہ بے ساختہ ہنسی آئی تھی جو ضبط کر گئے تھے وہ۔ تو کیا؟ کام والے چچا کا نام لگاؤں اپنے نام کے ساتھ۔۔۔ اس نے ناک چڑاتے ہوئے ان کو گھورا تھا۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔ انہوں نے دلچسپی سے کہہ کے۔۔ اس کے تاثرات جانچنے کی کوشش کی جس کے چہرے پہ حیرانگی واضح تھی۔۔ وہ ایسی باتیں کب کرتے تھے۔