No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
”یہ کیا کہہ رہا ہو تم زرعونے۔۔۔۔۔“؟
وہ ایک دم بوکھلا گٸ تھی۔۔۔۔۔۔اسے سمجھ نہیں آرہی تھا کہ وہ اب کیا بولے۔۔۔۔۔
”قسم لے لو باجی جرگے میں یہی فیصلہ ہوا ہے۔۔۔۔مختیار نے اپنے کانوں سے سنا ہے ۔۔۔۔۔“
اس نے قریب آکے قدرے رازداری سے کہا تھا۔۔۔۔۔
”تو احتجاج نہیں کیا کسی نے آغا جان نے۔۔۔۔۔“؟ضرار لالا نے۔۔۔۔۔“؟
اس نے کسی امید کے تحت قدرے فکرمندی سے پوچھا تھا
صورتحال اس حد تک بگڑ جاۓ گی اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔
”نہ باجی ضرار لالا تو جگہ پہ ہی خاموش ہو گیا آغا جان نے رضامندی دے دی ۔۔۔۔۔“
اس نے بھی تیزی سے جواب دیا تھا۔۔۔۔
وہ بے بس نظروں سے زرعونے کو دیکھ کے رہ گٸ۔۔۔۔۔
وہ اس دراب خان نے بھی کچھ نہیں کہا۔۔۔۔۔“؟
اس نے کچھ یاد آتے ہی فورا اگلا سوال پوچھا تھا۔۔۔۔۔
”مختیار کہہ رہا تھا کہ اس نے بہت احتجاج کیا لیکن اس کا وہ بڑا بھاٸی ہے نا واجد لالا اس نے زبان دے دیا اور اسے سمجھا کے واپس لے گیا باجی یہ بہت غلط ہو گیا ہے تم نہیں جانتا جرگے میں ایک دفعہ جو فیصلہ ہو جاۓ اسے کوٸی نہیں بدل سکتا۔۔۔۔۔“
زرعونے نے اس کے قریب بیڈ پہ بیٹھ کے دیدے باہر نکال کے ہاتھ نچا نچا کے اسے خبردار کرنے کے ساتھ اسے اچھا خاصا ڈرا بھی دیا تھا۔۔۔۔۔
اس کے تو رہے سہے اوسان بھی خطا ہو گۓ تھے۔۔۔۔۔
اسی لمحے دھڑام سے دروازہ کھلا تو المظ نے سر اٹھا کے دیکھا
سامنے دروازے پہ سفید انارکلی پیر کو چھوتے ہوۓ فراک میں گل مینے کھڑی لب کچل کے جیسے آنسو ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔
چٹیا میں بندھے بال عجیب سے بکھرے ہوۓ تھے سفید چہرے پہ آنسوٶں کے نشان واضح تھے آنکھیں سوجی ہوٸی اور متورم تھی جیسے وہ کافی دیر روتی رہی ہو۔۔۔۔۔۔
اس کی ایسے حالت دیکھ کے المظ کو ندامت کا ہلکا سا احساس ہوا تھا اس نے سر جھکا لیا تھا
اس سے ذیادہ تو گل مینے کے ساتھ برا ہوا تھا
”پڑ گیا تمہارے کلیجے میں ٹھنڈ ۔۔۔۔۔یہی چاہتا تھا نا تم۔۔۔۔۔“؟
وہ اندر آکے بغیر کسی لحاظ کے پھٹ پڑی تھی۔۔۔۔۔
اس کی آنکھوں سے نکلتے شرارے المظ کو بھسم کر رہے تھے
اس سے سر ہی نہیں اٹھایا جا رہا تھا۔۔۔۔۔
”تم نے تو ام کو برباد کر دیا المظ۔۔۔۔۔۔“ام سے ہمارا محبت چھین لیا تم نے۔۔۔۔۔“
وہ وہی بیڈ پہ سر تھام کے بیٹھ کے ایک دفعہ پھر رونے لگی تھی اپنی محبت کو کھو دینا آسان نہیں ہوتا۔۔۔۔۔
المظ انگلیوں کو مڑوڑتے ہوۓ لب کچلتے ہوۓ بے بس سی بیٹھی تھی
ایسا تو نہیں سوچا تھا اس نے ایسا تو نہیں چاہا تھا
یہ سب کیا ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
”گل مینے۔۔۔“
اس نے ہمت کر کے پکارا تھا
اس نے سر نہیں اٹھایا تھا
وہ بیڈ سے اتر کے اس کے پاس گٸ تھی پھر گھٹنوں کے بل اس کے پاس بیٹھی تھی اس کے دنوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا تھا۔۔۔۔۔
”سب کچھ اماری وجہ سے ہوا ہے ام خود اسے ٹھیک کرے گا ام لالا سے بھی بات کرے گا آغا جان سے بھی بات کرے گا ہر ممکن کوشش کرے گا اس شادی کو روکنے کا۔۔۔۔۔“
وہ اس کی کانچ سی سنہری آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ ٹھوس لہجے میں کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔
اس نے پہلی بار سر اٹھایا تھا
اس کی کانچ سی آنکھوں میں بہت سے اندیشے تھے۔۔۔۔۔محبت چھن جانے کا ۔۔۔۔۔۔خوابوں کے بکھرنے کا
المظ نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے تسلی دی تھی۔۔۔۔۔
اس کے آنسو صاف کیے تھے
اسی لمحے ایک تہیہ گل مینہ نے کیا تھا اور ایک المظ نے
اس شادی کو دونوں نے روکنا تھا چاہے جیسے بھی۔۔۔۔
دوسری طرف جھیل کے کنارے بنی اس حویلی کے زنانہ حصے میں مورے کی آواز گونج رہی تھی۔۔۔۔
وہ مسلسل اپنی بات پہ باضد تھی۔۔۔۔۔
پاس ہی سکن رنگ کی سادہ سی شلوار قمیض پہنے زرشاہ سر جھکا کے بیٹھی تھی
اور دوسری طرف واجد لالا سنجیدہ سا چہرہ لیے کھڑے تھے
رخ کھڑکی کی طرف تھا نظریں بل کھاتی سڑک پہ جماۓ کسی گہری سوچ میں گم تھے
صوفے پہ سابقہ لباس میں ماٶف دماغ کے ساتھ دراب خان بیٹھے تھے چہرہ سپاٹ تھا دونوں بازو گہٹنوں پہ جماۓ ذرا نیچے کی طرف جھکے ہوۓ تھے نظریں نیچے ذمین پہ جما رکھی تھی۔۔۔۔
”یہ امارہ آخری فیصلہ ہے واجد ام اپنی بیٹی کو ایسے کسی جرگے کی نظر نہیں کرے گا۔۔۔۔۔“
وہ دو ٹوک انداز اپنا کے اب رخ موڑ کے بیٹھ گٸ تھی۔۔۔۔۔
”اب بات تمہارا مرضی سے نکل گیا ہے مورے جرگے میں زبان دے آیا ہے ام۔۔۔۔۔۔“
وہ پلٹے تھے پھر جھنجھلا کے بولے تھے۔۔۔۔۔
”تم تو ایسے کہہ رہا ہے خان جیسے یہ تمہاری بہن کا مسٸلہ نہیں کسی باہر کی لڑکی کا مسٸلہ ہے تم جانتا ہے ضرار خان کو کس قدر خبطی انسان ہے ام کس طرح اعتبار کر لیں۔۔۔۔۔۔“
انہوں نے بھی حیرت اور غصے سے اپنے سمجھدار بیٹے کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔
مورے وہ بھی دے رہا ہے اپنا لڑکی۔۔۔۔۔۔“تم ام کو شرمندہ مت کرواٶ ام نے انکار کیا نا پورا گاٶں امارے خلاف ہو جاۓ گا ام اکیلا ہو جاۓ گا۔۔۔۔۔“
وہ التجاٸیہ انداز میں کہتے ہوۓ صوفے پہ بیٹھے تھے اور ایک مدد طلب نظر اپنے بھاٸی پہ ڈالی تھی جو ۔۔۔۔۔ابھی تک لاتعلق سے بیٹھے تھے۔۔۔۔۔
”واجد ۔۔۔۔۔ام کچھ نہیں جانتا۔۔۔۔۔۔اگر زرشاہ اور دراب کی مرضی ہے ادھر تو ام کچھ نہیں بولے گا اگر نہیں ہے تو ۔۔۔۔۔ام تمہیں زبردستی نہیں کرنے دے گا۔۔۔۔۔۔“
وہ کچھ نرم پڑ گٸ تھی اس لیے ختمی لہجے میں کہتے ہوۓ زرشاہ اور دراب کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔۔
زرشاہ نے پہلی بار سر اٹھایا تھا
آنکھوں کے سامنے ایک دفعہ پھر وہی چہرہ آیا تھا جس نے اس کا چین و سکون غارت کر دیا تھا
پھر ایک نظر واجد لالا کی طرف دیکھا تھا
جو آس بھری نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے
”جیسے لالا کی مرضی امارے بارے میں غلط فیصلہ نہیں کرے گا وہ ام کو اس کا فیصلہ قبول ہے۔۔۔۔۔“
وہ سر جھکا کے آہستہ آواز میں اتنا ہی بولی تھی۔۔۔۔۔
مورے نے ایک گھوری سے اسے نوازا تھا۔۔۔۔۔
واجد لالا کے چہرے پہ خوشی کی ایک لہر دوڑ گٸ تھی جو دراب کا جواب سنتے ہی معدوم ہو کے غاٸب ہو گٸ تھی۔۔۔۔۔
”ہمیں نہیں قبول۔۔۔۔۔۔“
انہوں نے پہلی دفعہ سر اٹھا کے تپش بھری نظروں سے لالا کو دیکھا تھا۔۔۔۔
”آغا جان تم کو ہمارا بات سمجھ نہیں آرہا ہم کو وہ بندہ نہیں قبول۔۔۔۔۔۔“
آغا جان کے گھر میں قدم رکھتے ہی اس نے قدرے اونچی آواز میں اپنا مٶقف بیان کیا تھا۔۔۔۔۔۔
”ہم کسی قیمت پہ اتنی بدتمیز لڑکی سے شادی نہیں کرے گا۔۔۔۔۔“
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوۓ تھے ساتھ ہی سرد لہجے میں بولے تھے۔۔۔۔
آغا جان ام کسی قیمت پہ اس پچاس سال کے بندے سے شادی نھیں کرے گا
المظ نے برا سا منہ بنا کے ضدی لہجے میں کہا تھا۔۔۔۔۔
”ام زبان دے چکا ہے دراب خانے۔۔۔۔۔اب نہیں پھر سکتا زبان سے۔۔۔۔۔“
واجد لالا نے بھی فوراجتایا تھا۔۔۔۔۔۔
”ہم زبان دے چکا ہے المظ۔۔۔۔۔۔اب کچھ نھیں ہو سکتا۔۔۔۔۔“
آغا جان نے بھی نرمی سے بتایا تھا۔۔۔۔۔۔
زہ صرف ستا ژبی لپارہ خپلہ او دہ زرشا زندگی نہ خرابہ ہوم
(”میں صرف تمہاری زبان کے لیے اپنی اور زرشاہ کی ذندگی خراب نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔۔۔)
اس نے جھنجھلا کے پشتو زبان میں اپنا مٶقف بیان کیا تھا۔۔۔۔
”آغا جان یہ فیصلہ تمہارا ۔۔۔۔۔۔۔ضرار لالا کو بھی منظور نہیں لالا تم بتاٶ نا تم کسی اور کو پسند کرتا ہے۔۔۔۔“؟
المظ نے فوراً سے بال اس کے کوٹ میں پھینکی تھی۔۔۔۔
وہ گڑبڑا گیا تھا۔۔۔۔۔
آغا جان سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے
گل مینے کا دل ذور ذور سے دھڑکنے لگا تھا۔۔۔۔۔
”نہ اغا جانہ زہ چاسرہ مینہ نہ کوم مونگتہ خو ستاسو ژبہ ٹولو نہ وڑاندی دہ“
(”نہیں آغا جان میں کسی سے محبت نہیں کرتا ہم کو تو تمہاری زبان سب سے آگے ہے۔۔۔۔۔۔“)
اس نے فورا سے جان چھڑا کے گل مینے سے نظریں چراٸی تھی
گل مینے کے اندر چھن سے کچھ ٹوٹا تھا
اور المظ تو منہ کھول کے اسے دیکھتی ہی رہ گٸ تھی۔۔۔۔۔
یعنی گل مینے کے جذبات یک طرفہ تھے۔۔۔۔۔
اس نہ دی زندگی خرابگی یو ورز خو وادہ کول اوستا خو عمر تیریگی تہ خوشحالہ ہوسہ دمرہ زوانہ خزہ درتہ ملا وی گی
(”کوٸی نہیں ذندگی برباد ہو رہی ایک دن تو شادی کرنی ہی تھی تم نے عمر گزر رہی ہے تمہاری تم تو خوش ہو اتنی جوان بیوی مل رہی تمھیں۔۔۔۔۔“)
انہوں نے پشتو میں ہی سختی سے جھڑک ڈالا تھا انہیں وہ وہی احترام سر جھکا کے رہ گۓ تھے۔۔۔۔۔
اور دوسری طرف المظ بھی اپنا سا منہ لے کے رہ گٸ تھی
ضرار تو اس سارے معاملے سے بالکل بھی پریشان نھیں لگ رہا تھا
پریشان تو وہ تھی تو حل بھی اسے ہی تلاش کرنا تھا
اور حل ایک ہی تھا۔۔۔۔۔
وہ کچھ سوچ کے اٹھ کھڑی ہوٸی۔۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤
صبح کی ہلکی ہلکی سفیدی اس وادی میں پھیل رہی تھی ساری ساری کروٹیں بدلتے گزری تھی۔۔۔۔۔۔اس لیے ونڈ اسکرین کے باہر ہلکی ہلکی روشنی دیکھ کے ہی وہ اٹھ کے بیٹھ گٸ تھی
اس کے بعد سے اس کا گل مینے سے آمنا سامنا نھیں ہوا تھا لیکن اسے یقین تھا اس نے بھی رات رو کے ہی گزاری ہو گی
اسے سب سے ذیادہ غصے دراب پہ ہی آرہا تھا
کیا تھا وہ اسے اس دن بے عزت نہ کرتا تو آج یہ سب نہ ہوتا۔۔۔۔۔
زرعونے جو نیچے میٹرس پہ سو رہی تھی کروٹ بدلی تھی پھر نیم وا آنکھیں کھول کے اسے دیکھا تھا۔۔۔۔۔
مختیار کی عادت تھی وہ ذرا کم ہی گھر آتا تھا اس میں آوارگی ذرا ذیادہ تھی جس کی وجہ سے آۓ روز اس کے اور زرعونے کے جھگڑے رہتے تھے اور وہ اکثر ناراض ہو کے مکمل ہی المظ کے پاس رہاٸش اختیار کر لیتی تھی۔۔۔۔۔۔
”باجی تم جاگ کیوں رہا ہے۔۔۔۔۔“؟
اس نے حیرت سے پوچھا تھا
۔۔۔۔
”ایسی ٹینشن میں کسے نیند آتا ہے۔۔۔۔۔“؟
اس نے افسردگی سے کہا تھا۔۔۔۔
”نہ باجی تم غم نہ کرو وہ برا آدمی نہیں ہے ہمارا خالہ ذاد ہے نا وہ اس کا خاص ملازم ہے ام نے پوچھا اس سے وہ کہتا ہے کہ بڑا اچھا آدمی ہے۔۔۔۔“
اس نے اپنے طور پہ اسے تسلی دی تھی۔۔۔۔
لیکن المظ کے ذہن میں کچھ اور ہی چل رہا تھا
”زرعونہ تم اسے کال کرو۔۔۔۔۔۔“
اس نے فورا سے کہا
زرعونہ الجھن بھری نظروں سے اسے دیکھ رہ گٸ۔۔۔
”کیا مطلب باجی۔۔۔۔۔“؟
اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔۔۔
”تم اسے کال کرو اسے کہو۔۔۔۔۔کہ دراب خان آج کس وقت اکیلا ہو گا۔۔۔۔۔“؟
وہ چھلانگ لگا کے اس کے قریب میٹرس پہ آکے بیٹھی اور پرجوش سی اسے کہنے لگی۔۔۔۔۔
”نہ باجی ایسا نہ کرو اس کو بڑا غصہ ہو گا تم پہ۔۔۔۔۔“
وہ اس کے دماغ میں چلنے والی حکمت عملی سمجھ گٸ تھی اس لیے اسے روکنا چاہا۔۔۔۔۔“
زرعونہ ام تمہیں حکم دے رہے ہیں۔۔۔۔۔“
اس نے اس دفعہ اسے گھور کے دیکھتے ہوۓ ذرا سختی سے کہا۔۔۔۔۔
تو نا چارو نا چار اسے کال کرنی ہی پڑی۔۔۔۔
تیسری بیل پہ اس نے فون اٹھا لیا تھا اس طرف جلدی اٹھنے کا رواج ہے یوں بھی۔۔۔۔۔
اس نے ساری معلومات المظ کو دے دی تھی
کہ وہ شام کو چار بجے ڈیرے جاۓ گا۔۔۔۔۔
اس واقعے کے بعد اس پہ سختی ذیادہ ہو گٸ تھی
لیکن اب شام کو چار بجے وہ گھر سے نکلے گی کیسے“؟
اب وہ یہ سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
جیسے ہی شام کے ساۓ گہرے ہوۓ تھے۔۔۔۔۔وہ بے چینی سے پورے کمرے کے چکر کاٹ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔گھر میں آغا جان ضرار لالا اسفند یار اور شیراز تینوں موجود تھے ان کی موجودگی میں نہیں نکل سکتی تھی وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔۔۔۔
کچھ سوچ کے وہ پلٹی تھی۔۔۔۔
زرعونے جو اس پہ نظریں ٹکا کے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔
”زرعونے تم اماری واپسی تک یہ دروازہ مت کھولنا کوٸی پوچھے امارا تو کچھ مت بولنا امارے بستر پہ۔۔۔۔۔منہ تک کمبل اوڑ کے لیٹ جانا سب یہی سمجھے گا کہ ام سو رہا ہے۔۔۔۔۔۔“
وہ ہدایت دیتے ہوۓ کھڑکی کھولنے لگی جو باہر حجرے کی طرف کھلتی تھی۔۔۔۔
زرعونے گھبرا کے اس کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔۔۔
”باجی خدا کے لیے جلدی واپس آنا ام کو کسی مصیبت میں مت ڈالنا۔۔۔۔۔“
وہ ڈری ہوٸی تھی اسی لیے اس سے درخواست کر رہی تھی
اس نے زرعونے کا پختونوں کے طرز پہ بنا عبایہ پہنا۔۔۔۔۔جس نے اس کے چہرے کے ساتھ ساتھ اس کے کپڑوں کو بھی چھپا دیا تھا اب جالی سے صرف اس کی آنکھیں نظر آرہی تھی
یہ سب اس لیے کیا جارہا تھا
کہ باہر بیٹھے سیکیورٹی گارڈ کو لگے کہ۔۔۔۔۔۔یہ زرعونہ ہے۔۔۔۔۔
”باجی جلدی واپس آنا۔۔۔۔۔باہر موسم بھی بہت خراب ہے۔۔۔۔۔“
کھڑکی سے چھلانگ لگانے تک زرعونہ یاد دہانی کروانا بھولی نہیں تھی
گھر سے وہ بہت آسانی سے نکل گٸ تھی۔۔۔۔۔
وہ سوات کی ہر جگہ سے واقف تھی تھوڑی دیر بعد وہ اس کے ڈیرے پہ موجود تھی۔۔۔۔۔۔
دور سے ہی وہ اسے کچھ لوگوں کے ہمراہ چارپاٸی پہ بیٹھے نظر آگۓ تھے
وہ اکیلا نہیں تھا اسے اکیلے میں بات کرنی تھی۔۔۔۔۔
کچھ سوچ کے وہ اس کے پاس جاکے کھڑی ہو گٸ۔۔۔۔۔
دراب نے چونک کے اس کی طرف دیکھا تھا
قریب بیٹھے دوسرے لوگوں کی بھی ایسی ہی حالت تھی۔۔۔۔۔
”ہم نے آپ سے بات کرنی ہے۔۔۔۔“؟
اس نے آواز کو ذرا موٹا کرکے اسے کہا تھا تو دراب نے پہلے نا سمجھی سے اس برقعہ پوش کو دیکھا تھا پھر آنکھ کے اشارے سے۔۔۔۔۔ان لوگوں کو جانے کا کہا تھا وہ فورا وہاں سے چلے گۓ تھے
اس نے اسے بیٹھنے کا کہا تھا تو وہ فورا سامنے والی چارپاٸی پہ بیٹھ گٸ تھی۔۔۔۔۔
”آپ کون ہیں میں نے پہچانا نہیں آپ کو“؟
اس کی خالص اردو کے جواب میں اس نے بھی اردو کا استعمال کیا تھا۔۔۔۔۔
”ام ہونے والا بیوی ہے تمہارا۔۔۔۔۔۔“
اس نے فورا سے برقعہ اٹھا کے چبا چبا کے کہا تھا
تو ان کے اعصاب تن گۓ تھے اسے اپنے سامنے دیکھ کے۔۔۔۔۔
”تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوا دوبارہ امارے سامنے بھی آنے کا۔۔۔۔۔“
وہ اٹھ کھڑے ہوۓ تھے پھر قدرے اونچی آواز میں غصے سے بولے تھے
تو اس نے ان کا ہاتھ پکڑ کے زبردستی انہیں دوبارہ چارپاٸی پہ بیٹھایا تھا۔۔۔۔۔۔
اب ام آہی گیا ہے تو اماری بات سن لو“
وہ ناگواری سے بولی تھی ہاتھ ابھی تک پکڑ رکھا تھا
وہ کچھ ٹھنڈے پڑ گۓ تھے۔۔۔۔۔
”ام تمہیں یہ کہنے آیا تھا کہ ام یہ شادی نہیں کرنا چاہتا یقینا تم بھی نھیں کرنا چاہتے ہو گے کوٸی حل نکالو ورنہ بہت برا ہو گا۔۔۔۔۔“
وہ سنجیدگی سے بول رہی تھی
”برا ہو گا بھی تو تمہاری وجہ سے ہی ہو گا تم نے کس قدر گھٹیا الزام لگایا ام پہ دل چاہتا تمہاری جان لے لیں ام۔۔۔۔۔“
انہوں نے غصے سے کہتے ہوۓ اپنا ہاتھ چھڑایا تھا۔۔۔۔۔
”اچھا او گٸ نا غلطی اب پوری عمر تو نہیں بھگت سکتا ام۔۔۔۔۔۔تم کوٸی حل نکالو نا۔۔۔۔۔۔“
اس نے خفکی سے کہہ کے اسے امید بھری نظروں سے دیکھا تھا۔۔۔۔۔
”ام کچھ نہیں کر سکتا مڑاں واجد لالا زبان دے چکا ہے۔۔۔۔“
اس نے ہری جھنڈی دکھاٸی تو المظ کا منہ بن گیا تھا۔۔۔۔۔
”تو اب کیا ہو گا۔۔۔۔۔“؟
وہ روہانسی ہو گٸ تھی
”تمہاری میری شادی ہو گی۔۔۔۔۔“
انہوں نے مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ تپانے والے لہجے میں کہا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ ان کی شکل دیکھ کے رہ گٸ۔۔۔۔۔
”ام اتنا چھوٹا ہے تم سے۔۔۔۔۔“؟
اس نے قدرے معصومیت سے کہا۔۔۔۔۔۔۔
”اب غلطی کیا ہے تو سزا تو ملے گا ہی نا۔۔۔۔۔۔۔“
وہ نرم پڑ گۓ تھے
اٹھ کھڑے ہوۓ تھے۔۔۔۔۔
”تم گھر جاٶ اپنے۔۔۔۔۔“
وہ کہتے ہوۓ دو قدم آگے گۓ۔۔۔۔۔۔
تو اس نے ایک دفعہ پھر ان کا بازو پکڑ لیا۔۔۔۔۔
اس لڑکی کو ہاتھ پکڑنے کی پتہ نہیں کیا عادت ہے۔۔۔۔۔
وہ جھنجھلا کے پلٹے۔۔۔۔۔
”تم ام کو گھر لے جا کے مارے گا تو نہیں۔۔۔۔۔“؟
اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔۔۔۔
وہ شادی سے ذیادہ اس بات سے ڈر رہی تھی۔۔۔۔۔
ان کا دل ایک دم سے پگھل گیا تھا
وہ گھٹنوں کے بل ذمین پہ بیٹھے تھے۔۔۔۔
”ام وعدہ کرتا ہے تم سے تم کو نہیں مارے گا۔۔۔۔۔یہ شادی فلحال بڑوں کی خوشی کے لیے کر لو تم ام زبان دیتا ہے تم کو۔۔۔۔۔۔تم ہمارے ساتھ نہیں رہنا چاہو گے تو ام چھوڑ دے گا تم کو زبردستی نہیں کرے گا۔۔۔۔۔“
اس نے نرمی سے اسے سمجھایا تھا
اس کی آنکھیں چمک اٹھی تھی۔۔۔۔۔
یہی سننے آٸی تھی وہ
اس نے فورا سے کسی بچی کی طرح ان کی گردن کے گرد بازو حماٸل کیے۔۔۔۔۔۔
”بہت اچھا ہو تم۔۔۔۔۔“
وہ خوشی سے بولی تھی۔۔۔۔۔
”یار تم بے باک بھی بہت ہو۔۔۔۔۔“
اس نے اس کے بازوٶں کے پیچھے ہٹاتے ہوۓ جھنجھلا کے کہا تھا
تو وہ ہنستی ہوٸی اٹھ کھڑی ہوٸی تھی۔۔۔۔۔
انہیں نہیں پتہ تھا یہ شادی انہیں کتنی مہنگی پڑنے والی تھی
کیونکہ مقابل المظ خان یوسفزٸی تھی جو رنگ بدلنے سے واقف تھی
جاری ہے
