No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
شام کے گہرے ساۓ ہر چیز کو اپنے حصار میں مقید کر چکے تھے۔۔۔۔۔۔آسمان پہ بادلوں کے ننھے ننھے ٹکڑوں کا بسیرا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔بارش برسنے کے لیے بے تاب تھی۔۔۔۔۔۔سوات کا موسم اسی طرح رنگ بدلنے کا عادی تھا اس لیے یہاں کے لوگوں کے لیے یہ کوٸی نٸ بات نہیں تھی۔۔۔۔۔۔اس سنگ مر مر کے تراشے ہوۓ پتھروں سے بنے اس حویلی نما گھر میں اس کی آنکھیں چھم چھم برس رہی تھی۔۔۔۔۔دیکھنے والوں کو یہ آنسو۔۔۔۔۔۔اصلی لگ رہے تھے لیکن بہانے والی کو ان آنسوٶں کی حقیقت کا اندازہ تھا۔۔۔۔۔
ایک طرف۔۔۔۔۔بڑے سے قیمتی گلدان کے قریب۔۔۔۔۔۔۔۔سفید قمیض شلوار اوپر کالے رنگ کی واسکوٹ پہنے ضرار لالا ہونٹ بھینچے کھڑے تھے۔۔۔۔۔۔گردن تنی ہوٸی تھی۔۔۔۔جبڑے بھینچے وہ اس کی دہاٸیاں سن رہے تھے۔۔۔۔۔
ایک طرف صوفے پہ۔۔۔۔۔۔۔آغا جان۔۔۔۔۔پریشان سی نظروں سے اپنی لاڈلی پوتی کو دیکھ رہے تھے جو ہتھیلیوں سے اپنی لال آنکھوں کو رگڑ رہی تھی
گل مینے نے ایک اچنٹی نگاہ اپنی کزن پہ ڈالی پھر دل ہی دل میں کانوں کو ہاتھ لگایا
”کس قدر ڈرامہ باز لڑکی ہے یہ۔۔۔۔۔“
وہ سوچ کے رہ گٸ
مورے نے چور نظروں سے اپنے بیٹے کو دیکھا تھا جس کی نظروں میں غصے کے آثار واضح تھے۔۔۔۔۔
”لالا۔۔۔۔۔ام تو صنم کے گھر گیا تھا اس حرام حور نے امارا راستہ روکا۔۔۔۔۔۔دوپٹہ کھینچا کہتا ہے کہ۔۔۔۔تم شہزاد خان کی بہن ہو ہم تم کو اس طرح نہیں جانے دے گا۔۔۔۔“
اس نے امارے ساتھ بہت بدتمیزی کیا لالا
ایک نظر اپنے بھاٸی کے چہرے کو دیکھ کے اس نے پھر زاروقطار رونا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔
”ام اس کی جان لے لے گا۔۔۔۔۔اس کی ہمت کیسے ہوا ہماری بہن کا راستہ روکنے کی۔۔۔۔۔اب تو ساری بات جرگے میں ہی ہو گا اس کو ۔۔۔۔۔۔جواب دینا ہو گا اس بدتمیزی کا تم غم نہ کرو تمہارا بھاٸی ذندہ ہے ابھی۔۔۔۔۔“
شروع میں جو بات نہایت غصے میں کہی گٸ تھی اختتام کے جملے جذباتی لہجے میں ادا کیے گۓ تھے
اس کا خیال تھا کہ گھر میں اپنے بڑے بھاٸی کے سامنے یہ ڈرامہ رچاۓ گی وہ جھٹ دراب خان کو گریبان سے پکڑ کے اس کے سامنے لے آٸیں گے لیکن یہاں آکے اسے سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس کے دونوں بھاٸی اپنی بیویوں کے ہمراہ گھر پہ موجود نہیں تھے صرف ”ضرار خان“ موجود تھا جو اس کی اجڑی سی حالت بھی دیکھ چکا تھا۔۔۔۔۔۔اور اپنے دونوں بھاٸیوں کی نسبت جذباتی بھی بہت تھا۔۔۔۔
اس نے اطمینان سے آنکھیں پونچھی اور لالا کے گلے لگ گٸ ۔۔۔۔۔۔
آغا جان نے کچھ ناگواری سے اپنے پوتے اور پوتی کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔
جو بھی تھا وہ دشمن تھا ان کا لیکن۔۔۔۔۔یہ گھر کی لڑکیوں کی باتیں جرگوں میں اچھالنا انہیں پسند نہیں تھا
یوں بھی المظ کی بے وقوفیوں سے وہ واقف تھے۔۔۔۔۔
”گل مینے۔۔۔۔تم اس کو کمرے میں لے چلو یہ کتنا ڈرا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔اس کو پانی وغیرہ پلاٶ “
ضرار خان نے گل مینے کو حکم دیا تو وہ فورا کسی روبورٹ کی طرح کھڑی ہو گٸ
ضرار خان نے اس کے سر پہ شفقت سے ہاتھ رکھ کے اسے تسلی دی
اور وہ فاتحانہ انداز میں مسکراتی ہوٸی گل مینے کے ہمراہ اندر کمرے میں چلی گٸ۔۔۔۔
تو ضرار خان اطیمنان سے آغا جان کے قریب صوفے پہ بیٹھ گیا۔۔۔۔
”یہ کیا بات کہہ دیا تم نے ضرار خان اب گھر کی لڑکیوں کی بات جرگے میں جاۓ گا۔۔۔۔۔پورے گاٶں میں کتنی بدنامی ہو گا ہمارا۔۔۔۔۔۔“؟
انہوں نے ذرا سخت لہجے میں اسے ٹوکا تھا۔۔۔۔
”نا آغا جان ہم نا مرد نہیں ہے کہ بدنامی کی وجہ سے چپ رہیں دشمنی امارا تھا تو اماری بہن کو کیوں بیچ میں لایا ۔۔۔۔۔۔یا تو ام بات جرگے میں لے کے جاٸیں گا یا ام اس کو گولی مار دے گا۔۔۔۔۔۔“
اس نے مونچھوں کو تاٶ دیتے ہوۓ شعلہ بار نظروں سے آغا جان کو دیکھتے ہوۓ اپنی بات پہ ذور دیا۔۔۔۔۔
”ہم کو یہ بات پسند نہیں کہ المظ کا نام جرگوں میں لیا جاۓ یوں المظ اور دراب خان کا نام آپس میں جڑ جاۓ گا ہوش سے کام لو ضرار خانے۔۔۔۔۔۔“
انہوں نے لہجے میں نرمی سموتے ہوۓ اسے رسان سے سمجھایا تھا۔۔۔۔۔
تو وہ ہتھے سے اکھڑ گیا تھا
”بس آغا جان۔۔۔۔۔۔۔ام اس کے بعد خاموش نہیں رہے گا بات وہ گھر کی عورتوں تک لایا ہے اب بات اس کے گھر کی عورتوں تک بھی جاۓ گا۔۔۔۔۔۔۔“
اس نے ٹھوس لہجے میں اپنا موقف بیان کیا تھا پھر۔۔۔۔۔۔۔گھر سے نکل گیا تھا
ان کا یہ سب سے چھوٹا پوتا بہت جذباتی تھا۔۔۔۔۔۔
انہوں نے ایک نظر اپنی بہو کو دیکھا تو وہ سر جھکا کے وہاں سے چلی گٸ۔۔۔۔۔
اب انہیں اپنے بڑے بیٹوں سے بات کرنی چاہیۓ تھی۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کے پانی سر سے اوپر چلا جاۓ۔۔۔۔۔
لیکن پانی سر سے اوپر جا چکا تھا۔۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤
رات کے گہرے سیاہ اندھیرے نے اس خوبصورت وادی کو اپنے حصار میں لینا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے کے بیڈ پہ پاٶں اوپر کیے آرام سے بیٹھی ہوٸی تھی
پاس ہی زرعونے مشکوک سی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی
نیچے میٹرس پہ گل مینے گود میں باداموں کی پلیٹ رکھے بیٹھی تھی
کیا تم واقعی ہی سچ بول رہی ہو المظ۔۔۔۔۔۔“؟
گل مینے نے کھوجتی نظریں المظ کے چہرے پہ جماتے ہوۓ اس سے پوچھا تھا
تو وہ یکدم سیدھی ہو کے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔پھر استہزاٸیہ نظروں سے اسے دیکھا تھا۔۔۔۔۔
”تم کو کیا لگتا ام جھوٹ بول رہے اپنے بارے میں اتنی غلط بات کون بولتا ہے۔۔۔۔۔“
اس نے شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکھتے ہوۓ معصومیت سے کہا تو وہ گڑبڑا گٸ
” ناایسی بات نہیں ہے تم ضرار خان کو جانتا ہو وہ تمہارے معاملے میں کس قدر جذباتی ہے
اس نے صفاٸی دی۔۔۔۔۔۔۔
وہ چہرے سے پریشان لگتی تھی۔۔۔۔
المظ اور سب ہی جانتے تھے کہ وہ ضرار خان کو پسند کرتی ہے۔۔۔۔۔
جب سے المظ کے چچا کا اور چچی کا قتل ہوا تھا تب سے وہ ان کے ساتھ ہی رہتی تھی
المظ کو وہ بالکل بہنوں کی طرح سمجھتی تھی
اور جب تک المظ کے والد حیات تھے تب تک انہوں نے۔۔۔۔المظ اور گل مینے میں کوٸی فرق نہیں رکھا تھا
وہ ضرار خان کو پسند کرتی تھی پتہ نہیں یہ بات ضرار خان جانتا تھا یا نہیں لیکن المظ ضرور جانتی تھی۔۔۔۔۔۔
”تم اس کی فکر نا کرو وہ ہمارا محافظ ہے وہ صحیح سبق سیکھاۓ گا اسے۔۔۔۔۔“
اس نے تفاخر سے کہا۔۔۔۔
زرعونے تو بس اسے تاسف سے دیکھ کے رہ گٸ۔۔۔۔۔۔۔
ساری بات سے وہ باخبر تھی لیکن اس نے المظ کا نمک کھایا تھا نمک حرامی کیسے کرتی۔۔۔۔۔۔
المظ اب مطمٸین سی نظر آرہی تھی
لیکن وہ سب ہی آنے والے وقت کے ہنگامے سے بے خبر تھے۔۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
وہ جس وقت سکول سے باہر نکلی اس وقت باہر دھوپ کے ساۓ گہرے تھے اس نے نظر اٹھا کے صاف آسمان پہ چمکتے سورج کو دیکھا اور ایک دفعہ پھر کچے پکے راستوں پر چلنے لگی۔۔۔۔۔۔آج اسے لالا نے لینے آنا تھا لیکن۔۔۔۔۔وہ شاید کسی وجہ سے لیٹ ہو گۓ تھے اس لیے وہ خود ہی نکل آٸی تھی۔۔۔۔۔وہ اس وقت سفید رنگ کے یونیفارم میں تھی۔۔۔۔۔۔سفید چہرہ دھوپ کی تمازت کی وجہ سے دہک رہا تھا۔۔۔۔۔۔شہد رنگ آنکھوں میں سنجیدگی تھی سر پہ دوپٹہ اوڑ رکھا تھا لیکن اس کے باوجود سامنے کی دو لٹھے چہرے کا طواف کر رہی تھی۔۔۔۔۔سفید رنگت گول چہرہ متناسب نقوش کے ساتھ وہ لمبی پتلی سولہا سترہ سال کی عمر کی لڑکی تھی۔۔۔۔۔
وہ اونچی سی پہاڑی پہ بنے راستے پہ چلنے لگی جب اسے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔۔۔۔۔
وہ گھبرا کے پیچھے پلٹی اس سے پہلے وہ کچھ سمجھتی اس کی کمر کے گرد بازو حماٸل کر کے اس کے منہ پہ ہاتھ رکھ کے کس نے اس کی آواز کا گلا گھونٹ دیا تھا
خوف اور دہشت کے مارے اس کی شہد رنگ آنکھیں باہر کی طرف ابل پڑی تھی
وہ اس چہرے سے اچھی طرح واقف تھی۔۔۔۔۔۔
اکثر اس کے گھر میں ذکر ہوا کرتا تھا بہت سی تقریبات پہ اس نے اس چہرے کو دیکھا تھا
لیکن اتنے قریب سے پہلی بار دیکھا تھا۔۔۔۔
وہ اونچے لمبے قد والا تٸیس چوبیس سال کا ایک شخص تھا
گول چہرہ چوڑی پیشانی۔۔۔۔۔۔متناسب نقوش۔۔۔۔۔۔خوبصورت کالے رنگ کی گہری آنکھیں۔۔۔۔۔۔مغرور ناک ۔۔۔۔۔گھنی مونچھوں کے نیچے دبے عنابی ہونٹ۔۔۔۔۔اور سب سے بڑھ کے اس کے گالوں پہ پڑتے ڈمپل اس کی خوبصورتی اور وجاہت میں اضافہ کرتے تھے۔۔۔۔۔
لیکن اس وقت اس کی آنکھوں میں عجیب سی سفاکیت رقصاں تھی
لیکن گرفت اتنی سخت تھی کہ۔۔۔وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر تھی
وہ یونہی بلاوجہ ہاتھ پیر مارنے لگی
لیکن مقابل کی آنکھوں میں بے رحمی تھی۔۔۔۔۔۔
”تمہارے لالا کی ہمت کیسے ہوٸی امارے بہن کے ساتھ بدتمیزی کرنے کی۔۔۔۔۔۔“؟
لہجے میں سفاکیت واضح تھی
اس کی آنکھوں میں گھبراہٹ اور واضح ہوٸی۔۔۔۔۔
”اگر اس گاٶں میں اماری بہن محفوظ نہیں تو اس کی بہن کیسے محفوظ رہ سکتے ہے۔۔۔۔۔۔“
اس نے سپاٹ لہجے میں کہتے ہوۓ
اس کے ہونٹوں پر سے اپنا ہاتھ ہٹا دیا تھا
اس کا تو جیسے رکا ہوا سانس بحال ہو گیا تھا
وہ لمبے لمبے سانس لے کے اپنی سانس بحال کرنے لگی
وہ فطرتاً اتنی ڈرپوک لڑکی تھی کہ اپنے سامنے ایک لڑکے کو دیکھ کے اس کی روح فنا ہو گٸ تھی۔۔۔۔۔۔
اس نے خود کو چھڑوانے کی کوشش کی۔۔۔۔۔
لیکن بے سود وہ ابھی تک اس کی گرفت تھی۔۔۔۔۔
”ام کو جانے دو ضرار خان ہم نہیں جانتے تمہارا اور لالا کا کیا چکر ہے۔۔۔۔۔۔“
اس نے آہستہ سی آواز میں التجا کی تھی۔۔۔۔
مقابل کھلکھلا کے ہنسا تھا گال پہ گڑھا گہرا ہوا تھا
تو زرشاہ کی ایک بیٹ مس ہوٸی تھی
مقابل سفاک سہی لیکن خوبصورت بلا کا تھا وہ سوچ کے رہ گٸ۔۔۔۔۔
”اچھا ٹھیک ہے چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔“
اس نے ایک دم اسے خود سے دور کیا۔۔۔۔۔
”لیکن گھر میں جا کے اپنے دراب لالا کو بتانا کے ضرار خان نے میرے ساتھ بدتمیزی کی۔۔۔۔۔۔۔“اگر تم نے زبان نہ کھولا نا تو میں روز تمہیں اس سے ذیادہ پریشان کرونگا
اس نے اپنی گھنی مونچھوں کو تاٶ دیتے ہوۓ دل جلا دینے والی مسکراہٹ کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔اس کے سامنے کی لٹھ کو چھوتے ہوۓ جیسے اسے سمجھایا تھا
لہجہ بظاہر نارمل تھا۔۔۔۔۔۔لیکن اندر چھپی کاٹ کو وہ محسوس کر کے اور گھبرا گٸ تھی
اسے نہیں پتہ تھا یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔لیکن جو بھی ہو رہا تھا ٹھیک نہیں تھا۔۔۔۔۔۔اسے لالا کو تو آگاہ کرنا تھا نا۔۔۔۔۔۔
وہ اب پہاڑی اتر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ کالے رنگ کا سوٹ پہنے پاٶں میں پشاوری جوتی پہن رکھی تھی۔۔۔۔۔۔۔چمکدار بال جو دھوپ کی وجہ سے چمک رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔وہ مغرور سا شخص۔۔۔۔۔۔سیدھا دل میں اترنے کی صلاحیت رکھا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ کھوٸی کھوٸی نظروں سے اس کی پیٹھ دیکھ کے رہ گٸ ۔۔۔۔
وہ پہاڑی اتر کے پلٹا تھا۔۔۔۔۔۔
گھنی مونچھوں تلے دباۓ عنابی ہونٹ مسکرانے کے سے انداز میں پھیلاۓ تھے۔۔۔۔
”عجیب استہزاٸیہ سی مسکراہٹ
دل جلانے والی تپا دینے والی مسکراہٹ۔۔۔۔۔
اور آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔۔۔
لیکن وہ کہیں الجھ کے ہی رہ گٸ تھی۔۔۔۔۔۔
”لیکن ”زرشاہ خان یوسفزٸی نے ارادہ کر لیا تھا کہ وہ اپنے لالا کو ضرور آگاہ کرے گی۔۔۔۔۔۔“جو بھی ہو وہ اپنے بھاٸیوں کی عزت پہ حرف نہیں آنے دے گی
وہ نتاٸج سے بے خبر ایک دفعہ پھر سر جھٹک کے چلنے لگی۔۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
اونچے پہاڑوں کی اس وادی میں یہ صبح۔۔۔۔۔معمول سے ذرا ہٹ کے اتری تھی۔۔۔۔۔۔۔دونوں حویلی میں عجیب سی خاموشی تھی۔۔۔۔۔۔جیسے ہی جرگے کی اطلاع ملی تھی۔۔۔۔۔۔آغا جان کی حویلی میں زرشاہ سے ضرار کی بدتمیزی کی خبر بھی پھیل گٸ تھی۔۔۔۔۔۔۔مورے سب سے نظریں چراۓ پھر رہی تھی۔۔۔۔۔آغا جان اور ان کے دونوں بڑے پوتے ضرار خان سے سخت ناراضگی کے طور پہ بات چیت نہیں کر رہے تھے ان کے نزدیک عورتوں کو بیچ میں گھسیٹ کے بد سلوکی کرنا مردانگی کا تقاضہ نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔گھر کی دونوں بڑی بہوٸیں عجیب کھوجتی نظروں سے سب کو دیکھتی بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کررہی تھی گل مینے کی آنکھیں آج کل یونہی بات بے بات نم ہو جاتی تھی۔۔۔۔۔۔
ساتھ ہی شکوہ کناہ نظروں سے مطمٸین سے ضرار خان کو بھی دیکھتی تھی
جو عجیب بے خبر بنے یوں بیٹھا تھا جیسے اس معاملے میں اس کا کوٸی قصور ہی نہیں۔۔۔۔۔
یا وہ گل مینے کے جذبات سے بے خبر ہو
اس وقت اس کی ساری توجہ اس شخص سے انتقام پہ تھی جس نے اس کی بہن کے ساتھ بد تمیزی کی تھی
اس کے نزدیک یہ سب کچھ ٹھیک کیا تھا اس نے۔۔۔۔۔۔
اس سب معاملے میں سب سے مطمٸین اور خوش المظ خان یوسفزٸی ہی تھی۔۔۔۔
جو دل ہی دل میں دراب خان کی حالت سے مزے لے رہے تھے
لیکن اب بات بڑھ کے جرگے تک پہنچ گٸ تھی۔۔۔۔۔
دوسری طرف واجد خان کی حویلی میں تو سب کا غصے سے برا حال تھا
ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ شہزاد خان کی جان لے لیں اس نے کس بنیاد پہ ان کی بہن کے ساتھ بدتمیزی کی تھی۔۔۔۔۔
دراب خان تو اس کی جان کے درپے تھا
لیکن واجد خان نے فلحال اسے سمجھا بجھا کے مطمٸین کرنے کی کوشش کی تھی کہ جرگے میں فیصلہ انہی کے حق میں ہو گا وہ بے قصور ہے خون خرابے سے بات بڑھ جاٸے گی
لیکن دراب خان کی سوٸی کہیں اور ہی اٹکی ہوٸی تھی۔۔۔۔
پتہ نہیں کیوں ان کو اس سب کے پیچھے اس لڑکی کا ہاتھ لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
ابھی بھی اس وسیع میدان نما کچی ذمین پہ جیپ آکے رکی تھی۔۔۔۔جس کا فرنٹ ڈور کھول کے۔۔۔۔۔۔اندر سے واجد خان یوسفزٸی باہر نکلے تھے۔۔۔۔۔۔آسمانی رنگ کی قمیض شلوار اوپر واسکوٹ پہنے چہرے پہ سنجیدگی تھی سامنے کے سفید بال ان کی وجاہت میں اضافہ کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔ساتھ دراب خان ان کے ہمراہ تھے جنہوں نے سرمٸ رنگ کی قمیض شلوار پہن رکھی تھی۔۔۔۔۔۔چہرے پہ غیض و غضب واضح تھا۔۔۔۔۔
وہ دونوں مغرور چال چلتے اس جگہ بڑھے جہاں چارپاٸیوں پہ پہلے ہی گاٶں کے معتبر لوگ بیٹھے جیسے انھیں کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔۔
ایک طرف ۔۔۔۔۔۔آغا جان اپنے تینوں پوتوں کے ہمراہ بیٹھے تھے۔۔۔۔۔۔
دراب خان نے ایک سرد نگاہ ۔۔۔۔۔۔۔ضرار خان پہ ڈالی جو لاپرواہی سے بیٹھا تھا
انہیں دیکھ کے جھٹ سے مسکرایا تھا۔۔۔۔۔
باقی اسفند یار اور۔۔۔۔۔۔شہزاد خان کے تاثرات سپاٹ سے تھے۔۔۔۔۔۔
بڑی سی کرسی پہ بیٹھے اس ادھیڑ عمر مغزز آدمی جس نے سر پہ پگڑی باندھ رکھی تھی۔۔۔۔۔۔
گفتگو کا آغاز کیا تھا۔۔۔۔۔
”ضرار خان تم نے۔۔۔۔۔دراب خان کی بہن کے ساتھ بدتمیزی کی تھی۔۔۔۔۔۔“؟
اس ادھیڑ عمر شخص نے گردن لاپرواہ سے بیٹھے ضرار خان کی طرف موڑی پھر کرخت لہجے میں پوچھا تھا۔۔۔۔۔
”ہاں ہم نے کیا“
جواب لاپرواہی سے ہی آیا تھا۔۔۔۔۔
آغا جان کا سر مذید جھک گیا تھا
دراب خان نے ہونٹ بھینچ کے اسے دیکھا تھا۔۔۔۔۔
واجد خان نے اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے گویا اسے ٹھنڈا رہنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔۔۔
وہ ہونٹ بھینچے وہی بیٹھ گۓ
”ہم وجہ پوچھ سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔“؟
اگلا سوال پوچھا گیا تھا۔۔۔۔۔
”کیونکہ دراب خان نے پہلے اماری بہن کے ساتھ بدتمیزی کیا تھا۔۔۔۔۔“
اس نے اس دفعہ ۔۔۔۔۔۔ذرا سرد لہجے میں کہا تھا
تو دراب خان کا دماغ بھک سے اڑا تھا۔۔۔۔۔
یعنی ان کے اندازے درست تھے۔۔۔۔۔۔اس سب تماشے کے پیچھے اس لڑکی کا ہاتھ تھا۔۔۔۔۔
واجد خان نے ناسمجھی سے ۔۔۔۔۔دراب خان کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔۔
جو اس الزام پہ تڑپ اٹھے تھے
ایک ساتھ کٸ نظریں ان کی طرف اٹھی تھی۔۔۔۔
سب جانتے تھے کہ ۔۔۔۔۔دراب خان ایسا آدمی نہیں ہے سب کی نظروں میں تعجب تھا جس کی وجہ سے دراب خان مذید شرمندہ ہو گۓ تھے
اس لیے اپنی جگہ سے فورا اٹھ کھڑے ہوۓ تھے
”یہ ام پہ الزام ہے ۔۔۔۔۔۔ام اس کی بہن کو جانتا تک نہیں ہے وہ چھوٹی سی لڑکی اس قدر بد تمیز ہے کہ روز ہمارا باغ خراب کر دیتا تھا ہم نے اسے روکنے کی کوشش کی تو ہم پہ الزام لگا دیا۔۔۔۔۔“
انہوں نے جھنجھلاہٹ بھرے انداز میں دبا دبا سا احتجاج کیا
تو اپنی بہن کے بارے میں یہ الفاظ سن کے اسفند خان یوسفزٸی اور شہزاد خان یوسفزٸی بھی کھڑے ہو گۓ۔۔۔۔۔
”ام نے تمہاری بہن کے بارے میں کچھ غلط نہیں بولا۔۔۔۔۔بہتر ہے تم بھی اماری بہن کے متعلق کچھ غلط مت بولو۔۔۔۔“
وارن کرنے والا اسفند خان یوسفزٸی تھا۔۔۔۔۔
”اماری بہن کو ہم نے اتنی آذادی نہیں دے رکھا کہ وہ لوگوں کے باغات میں گھس کے آوارہ گردی کرتی رہے پکڑے جانے کے بعد الزام لگا دے۔۔۔۔۔“
واجد خان یوسفزٸی بھی اٹھ کھڑے ہوۓ تھے پھر جتا کے بولے تھے۔۔۔۔۔
تو شہزاد خان نے آگے بڑھ کے واجد خان کا گریبان پکڑ لیا تھا
دراب خان نے چھڑانے کی کوشش کی تو انہوں نے ایک مکا اس کے ناک پہ جڑ دیا جس سے خون رسنے لگا
صورتحال سنگین ہونے لگی تھی۔۔۔۔۔
واجد خان نے رکھ کے ایک تھپڑ ان کے منہ پہ رسید کیا تھا بڑی مشکل سے اس صورتحال پہ قابو پا کے فیصلہ سنا دیا گیا تھا جو کسی کے لیے بھی قابلِ قبول نہیں تھا۔۔۔۔۔
اس فیصلے سے سب سے ذیادہ نا خوش۔۔۔دراب خان یوسفزٸی ہی تھے۔۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤
وہ بیڈ پہ بیٹھی اطمینان سے ٹی وی دیکھنے میں مشغول تھی جب دروازہ دھڑام سے کھول کے زرعونے اندر داخل ہوٸی تھی اس کے چہرے کی ہواٸیاں اڑی ہوٸی تھی۔۔۔۔۔
”اللہ کیا مصیبت ہو تم لڑکی۔۔۔۔۔ہر وقت دھماکے کرتا رہتا ہے۔۔۔۔۔“
اس نے ناگواری سے کہتے ہوۓ زرعونے کے دھواں دھواں چہرے کو دیکھا تو چونک گٸ۔۔۔۔۔
”المظ باجی اچھا خبر نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ام کو ابھی فون آیا تھا مختیار کا ۔۔۔۔۔وہ ام کو کہہ رہا تھا کہ جرگے میں فیصلے سنا دیا گیا ہے۔۔۔۔۔“
اس نے اس کے قریب بیٹھ کے پھولے ہوۓ سانس کے ساتھ گفتگو کے لیے تمہید باندھی تھی۔۔۔۔۔۔
”اچھا سا ذلیل ہوا ہو گا دراب خان یوسفزٸی۔۔۔۔۔“؟
اس نے بے تابی سے سوال پوچھا تھا۔۔۔۔۔
”ہاں باجی۔۔۔۔۔۔وہ تو بدنام ہوا ہی ہوا تمہارے ساتھ بھی کچھ اچھا نہیں ہوا۔۔۔۔۔“جرگے میں یہ فیصلہ ہوا کہ دونوں لڑکیاں۔۔۔۔۔۔اچھی خاصی بدنام ہو گٸ ہیں اب اس معاملے کا ایک ہی حل ہے کہ تمہارا دراب خان کے ساتھ نکاح کروا دیا جاۓ اور زرشاہ کا ضرار خان کے ساتھ۔۔۔۔۔“
اس نے رک رک کے اپنی بات مکمل کرنے کے بعد اس کے تاثرات جاننے کی کوشش کی
اس کی رنگت فق ہوٸی تھی
اسے لگا اس کمرے کا چھت اس کے سر پہ گر گیا ہے۔۔۔۔
یہ ایڈونچر اس کے ساتھ ساتھ گل مینہ کو بھی بہت مہنگا پڑا تھا۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤
جاری ہے
