No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
وارڈ کے باہر کرسی پہ بیٹھے ہوۓ اسے ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ نرس نے آکے اسے اطلاع دی تھی گل مینے ہوش میں آگٸ ہے۔۔۔۔۔اس نے محض سر ہلا دیا تھا اپنی جگہ سے اٹھا نہیں تھا۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد ڈراٸیور کے ساتھ مورے اور پلوشہ بھابھی بھی پہنچ آٸی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ اب تشویش بھرے لہجے میں ضرار سے گل مینے کی حالت کے متعلق پوچھ رہی تھی۔۔۔۔
وہ ان کو مطمٸین کر کے۔۔۔۔۔خود ہسپتال سے باہر نکل آیا۔۔۔۔۔
اس نے جیب سے سگریٹ نکالا اور لبوں کے ساتھ لگا لیا
اس کا ذہن اس وقت طرح طرح کی سوچوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔۔۔۔۔
وہ ذہنی انتشار کا شکار لگ رہا تھا
اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ گھر میں کون ایسا ہے جو گل مینے کو زہر دے گا۔۔۔۔۔
زرشاہ کے بارے میں بھی وہ ایسا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔۔۔
اس بات کا صحیح جواب تو گل مینے خود ہی دے سکتی تھی۔۔۔۔۔
اگلے دو دن گل مینے کو ڈسچارج نہیں کیا گیا اور اس دوران ضرار ایک دفعہ بھی گھر واپس نہیں آیا نہ اس نے ایک دفعہ بھی زرشاہ کو فون کر کے اس کی حیرت پوچھی
ضرار کے اس رویے نے جہاں اس کی تشویش میں اضافہ کیا تھا وہی اس کو بہت کچھ سوچنے پہ بھی مجبور کر دیا تھا۔۔۔۔
دو دنوں کے بعد جب گل مینے کو ڈسچارج کیا گیا تو وہ اسی کے ساتھ واپس آیا تھا۔۔۔۔
زرشاہ نے گھر کے تمام لوگوں کی آنکھوں میں سرد مہری اور ضرار کی آنکھوں میں اجنبیت دیکھی تھی۔۔۔۔۔
آغا جان اور دونوں بھابھیوں کے علاوہ سب لوگ اکھڑے اکھڑے دیکھاٸی دے رہے تھے۔۔۔۔۔
اس سے پہلے وہ کسی سے کچھ پوچھتی ضرار نے خود ہی سب کے سامنے سوال پوچھ کے اس کی مشکل آسان کر دی ۔۔۔۔۔
”گل مینے کو زہر تم نے دیا تھا۔۔۔۔“
اس کے چلتے قدم رک گۓ اس سوال پہ اس نے حیرت سے پلٹ کے اپنے شوہر کو دیکھا جس کا چہرہ سپاٹ تھا۔۔۔۔
پھر ایک نظر دوسرے چہروں پہ ڈالی۔۔۔۔
ادھر بھی سب کے تاثرات ایسے ہی تھے۔۔۔۔۔
”ضرار یہ تم کیسی بات کر رہے ہو ام کیوں اسے زہر دے گا۔۔۔۔“
اس نے کمزور سی صفاٸی دی تھی۔۔۔۔۔
”تو تمہارے کہنے کا کیا مطلب ہے ام جھوٹ بول رہا ہے۔۔۔۔۔۔ام نے خود زہر کھایا ہے یا اس گھر میں کوٸی اور امارا دشمن ہے۔۔۔تم نے رات کو جو دودھ امارے کمرے میں بجھوایا اس میں زہر ملایا تاکہ ام مر جاۓ“
گل مینے نے ایک دفعہ رونا دھونا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔
”لیکن کل رات کو ام نے تمہارے کمرے میں دودھ نہیں بجھوایا تھا۔۔۔۔۔۔۔تم نے خود ہی تو ام کو منع کیا تھا کہ آج ام امارے کمرے میں دودھ مت بجھوانا۔۔۔۔۔۔“
اس نے ضرار کی طرف دیکھتے ہوۓ ایک اور دفعہ صفاٸی دی۔۔۔۔۔
”لیکن جب صبح ام گل مینے کے کمرے میں گیا تو ٹیبل پہ دودھ کا گلاس پڑا تھا تم اب جھوٹ مت بولو تمہیں صرف یہ خوف ہے کہ کہیں تمہارا شوھر تمہیں چھوڑ کے گل مینے سے شادی نہ کر لے اس لیے تم نے اس کو زہر دیا تم نفرت کرتا ہے اماری بچی سے۔۔۔۔۔“
اس دفعہ مورے نے حقارت سے اسے دیکھتے ہوۓ اسے جلی کٹی سناٸی
وہ زحمی نظروں سے ضرار کو دیکھ کے رہ گٸ جو اس کے حق میں ایک لفظ نہیں بول رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اور اس کا یہ رویہ اسے بہت تکلیف دے رہا تھا۔۔۔۔۔
”تم اتنا خطرناک لڑکی ہے کل کو اگر کسی اور کو زہر دے دیا تو دشمن کے گھر سے آیا ہے اس سے اچھے کی کیا امید۔۔۔۔۔۔“
مورے نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھتے ہوۓ ناک چڑھا کے کہا۔۔۔۔۔۔
”ام نے کسی کو نہیں بولا ام سے شادی کرے۔۔۔۔۔۔اپنی مرضی سے شادی کر کے لے کے آۓ تھے آپ لوگ۔۔۔۔۔۔اور آج ام پہ الزام لگاۓ جا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔“صرف اس لیے کہ ام اس راستے سے ہٹ جاٸیں“
اس کی آنکھیں بہہ رہی تھی تیز لہجے میں بولے گۓ جملے میں وہ خود با خود روہانسی ہو گٸ تھی۔۔۔۔۔۔
”تم اس پہ کیوں الزام لگا رہا ہے ہو سکتا ہے حقیقت کچھ اور ہو۔۔۔۔۔“
اس گفتگو سے تنگ آکے۔۔۔۔۔۔آغا جان نے جھجنھلا کے کہا تھا۔۔۔۔۔
تو ایک دفعہ پھر گل مینے نے وویلا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔
”تو پھر آغا جان۔۔۔۔۔ام جھوٹ بول رہا ہے۔۔۔۔۔۔“اگر تم کو لگتا ہے ام جھوٹا ہے تو۔۔۔۔۔تم امے یہاں سے پشاور بجھوا دو ام اس طرح نہیں رہ سکتا ایسی جگہ جدھر اماری جان کو خطرہ ہو۔۔۔۔۔۔“یا ام رہے گا اس جگہ یا یہ لڑکی۔۔۔۔۔“
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوٸی پھر تیز لہجے میں بولی۔۔۔۔۔
”ضرار جو اب تک خاموش کھڑا تھا۔۔۔۔۔
”تم یہی رہو گی یہاں سے کہیں نہیں جاٶ گی اگر واقعی ہی تمہارے ساتھ نا انصافی ہوٸی ہے تو میرا وعدہ ہے کہ میں زرشاہ کے ساتھ سارے تعلق ختم کر دوں گا اور اگر تم جھوٹا نکلا تو تمہارے ساتھ بھی اچھا نہیں ہو گا اب ختم کرو یہ ڈرامہ۔۔۔۔۔“سب۔۔۔۔
اس نے ایک سخت نگاہ زرشاہ پہ ڈال کے سرد لہجے میں کہا
اور سیڑھیاں چڑھتا ہوا چھت کی طرف چلا گیا۔۔۔۔۔
اور زرشاہ بے یقینی سے اس کے الفاظوں میں الجھ کے رہ گٸ۔۔۔۔۔
”میں زرشاہ کے ساتھ سارے تعلق ختم کر دوں گا۔۔۔۔۔۔“
یہ الفاظ اس کے کانوں میں بار بار گونج رہے تھے۔۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
المظ کو صبح اٹھتے ہی پہلا دھچکہ تب لگا تھا جب وہ نیچے گٸ تھی تو ہال میں بیٹھی۔۔۔۔۔۔ایک اجنبی لڑکی کو دراب خان کے ساتھ بیٹھے دیکھا تھا۔۔۔۔۔
ایک طرف مورے بیٹھی ہمدردانہ نظروں سے۔۔۔۔۔۔اس عورت کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
جو اس وقت برینڈڈ سوٹ پہنے سر پہ نفاست سے ڈوپٹہ اوڑے نظریں جھکاۓ بیٹھی تھی پاس دراب خان بیٹھے ذمین کو گھور رہے تھے
ٹیبل پہ چاۓ کے ساتھ دیگر لوازمات بھی پڑے ہوۓ تھے۔۔۔۔
”تو بیٹا تم کیوں اتنے وقت اس ظالم شخص کا ظلم برداشت کرتا رہا اتنا پڑھا لکھا ہے تم ۔۔۔۔۔۔خوبصورت بھی ہے ماشااللہ۔۔۔۔۔“تم اس جیسے ظالم شخص کے خلاف آواز اٹھاتا۔۔۔۔۔“
مورے کی ہمدردانہ آواز اس کی سماعتوں سے ٹکراٸی تو اس کے کان کھڑے ہو گۓ۔۔۔۔۔۔
اس عورت نے سر اٹھایا تو اس کی آنکھیں سرخ تھی۔۔۔۔
”آنٹی آپ جانتی ہیں ہمارے معاشرے میں طلاق یافتہ عورت کو کیسی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔۔۔۔۔اسی لیے میں چپ رہی دوسرا وہ بندہ بہت طاقتور اور پیسے والا تھا میں اس کا مقابلہ کیسے کر سکتی تھی۔۔۔۔۔۔“
دکھی لہجے میں بولی پھر پلٹ کے دراب خان کی طرف دیکھا
”اور ابھی بھی اگر دراب نہ ہوتا تو یہ سب ممکن نہ ہو پاتا۔۔۔۔۔۔۔۔“
اس نے مشکور نظروں سے دراب خان کو دیکھا۔۔۔۔۔
”نہیں ثنا تم خود بھی بہت بہادر ہو جب تک تم اس گھر میں رہنا چاہو رہ سکتی ہو۔۔۔۔۔۔“اسے اپنا ہی گھر سمجھو۔۔۔۔۔“
انہوں نے ایک نرم مسکراہٹ کے ساتھ اسے کہا
وہ پھیکا سا مسکراٸی
المظ کے دماغ میں ایک دم کچھ کلک ہوا تھا۔۔۔۔۔
وہ مشکوک نظروں سے انہیں دیکھتے ہوۓ اس طرف آٸی۔۔۔۔۔
سب نے سر اٹھا کے اسے دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کے مورے اس کا تعارف کرواتی۔۔۔۔۔۔
وہ کمر پہ دونوں ہاتھ رکھ کے اس عورت کے سامنے جا کے کھڑی ہو گٸ اور تیز نظروں سے اسے گھورنے لگی۔۔۔۔۔
اس عورت نے کچھ حیرت سے اسے دیکھا تھا
دراب خان کی مسکراہٹ یکدم غاٸب ہوٸی تھی۔۔۔۔۔
”تم ہی ہے نا وہ عورت جو امارے بندے کو رات کو فون کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔“
اس نے اسی پوزیشن میں کھڑے کھڑے دانت پیس کے ایسے کہا جیسے اس کو کچا چبا جاۓ گی۔۔۔۔۔
وہ بھی گھبرا کے کبھی دراب خان کو دیکھ رہی تھی کبھی اپنے سامنے کھڑی اس لمبی زبان والی چھوٹی لڑکی کو۔۔۔۔
دراب خان نے گھور کے اسے دیکھا تھا
مورے الگ شرمندہ ہو رہی تھی۔۔۔۔۔
”تم کو شرم نہیں آتا ایک شادی شدہ انسان پہ غلط نظر رکھتے ہوۓ تمہارے جیسے عورت کا ساری چلاقیاں سمجھتے ہے ام۔۔۔۔۔جس بندے پہ ڈورے ڈال رہا ہے نا تم ام اس کا بیوی ہے ۔۔۔۔۔۔“
اس نے ذرا جتا کے اپنا تعارف کروایا
پھر پلٹ کے ایک طنزیہ نگاہ اپنے پیچھے تیوری چڑھا کے کھڑے دراب خان پہ ڈالی۔۔۔۔
وہ ضبط کیے کھڑے تھے۔۔۔۔۔۔
”المظ یہ کیا بدتمیزی ہے تمہیں کسی نے مہمانوں سے بات کرنے کا طریقہ نہیں سکھایا۔۔۔۔۔۔تم کس طرح بغیر کچھ جانے کسی کے کردار پہ انگلی اٹھا رہی ہو شرم آنے چاہیۓ تمہیں معافی مانگو ثنا سے جلدی۔۔۔۔۔۔“
انہوں نے ایک نظر ثنا کو دیکھا جس کا چہرہ احساس توہین سے سرخ ہو چکا تھا
وہ اپنے آنسو ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
”ام کیوں مانگیں معافی۔۔۔۔۔ایسی عورت سے جو دوسرے کے شوہر پہ نظر رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔خدا غارت کرے ایسے عورت کو ۔۔۔۔۔“
اس نے حقارت سے اسے دیکھتے ہوۓ۔۔۔۔۔۔ناک چڑھا کے کہا تو
اور تمہارا کیا تعلق ہے اس کے ساتھ خان صاحب ۔۔۔۔۔تمہارا رکھیل ہے۔۔۔۔۔تب ہی تمہارا گھر میں دل نہیں لگتا۔۔۔۔۔۔“؟
وہ ابھی دراب خان کی طرف پلٹی تھی اور ہاتھ باندھ کے طنزیہ لہجے میں کہا تھا
دراب خان کی برداشت اتنی ہی تھی
ان کا المظ پہ ہاتھ اٹھ گیا تھا۔۔۔۔
وہ سرخ چہرے پہ ہاتھ رکھے بے یقینی سے انہیں دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
”تم نہایت بدتمیزی لڑکی ہو۔۔۔۔۔۔یہاں سے چلی جاٶ اب شکل مت دیکھانا مجھے اپنی۔۔۔۔“
انہوں نے غصہ ضبط کرتے ہوۓ کہا تھا
المظ کچھ دیر اسی پوزیشن میں کھڑی انہیں دیکھتی رہی پھر اس کی آنکھیں بہنے لگی
وہ پیر پٹھ کے وہاں سے چلی گٸ ۔۔۔
دراب خان وہی سر تھام کے بیٹھ گیے۔۔۔۔۔
مورے صدمے کی سی حالت میں یہ سب دیکھ کے رہ گٸ۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد المظ یہ حویلی چھوڑ کے جا چکی تھی۔۔۔۔
❤❤❤❤❤
جس وقت المظ اپنی حویلی واپس لوٹی اس وقت شام گہری ہو چکی تھی۔۔۔۔
ہال میں بیٹھے تمام لوگ چاۓ پینے میں مصروف تھے۔۔۔۔۔
المظ کے اندر داخل ہوتے ہی سب نے گردن موڑ کے اسے دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔
سب کے چہروں پہ مسکراہٹ ابھری تھی پھر المظ کی حالت دیکھ کے مسکراہٹ غاٸب ہو گٸ تھی
وہ اس وقت کالے رنگ کے کپڑوں میں تھی چہرے اور سر کو چادر سے ڈھانپ رکھا تھا
چہرے پہ آنسوٶں کے نشان آنکھیں لال اور سوجی ہوٸی تھی
سب سے پہلے آگے بڑھنے والا ضرار خان تھا۔۔۔۔۔
”المظ کیا ہوا ہے یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے اپنا تم ٹھیک تو ہے۔۔۔۔۔۔“؟
ضرار نے اسے کندھوں سے تھام کے پوچھا
وہ یکدم پریشان ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
المظ اس کے گلے لگ کے پھوٹ پھوٹ کے رونے لگ گٸ تھی
سب پریشانی سے اس کی طرف بڑھے تھے۔۔۔۔۔۔
”لالا دراب خان کی ذندگی میں کوٸی اور عورت ہے۔۔۔۔۔۔اس نے ام کو مار کے گھر سے نکال دیا ہے۔۔۔۔۔“
اس نے ہچکیاں لیتے ہوۓ کہا تو ضرار وہی سن رہ گیا تھا۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
جاری ہے
