58.6K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

انہیں وہاں اسی حالت میں بیٹھے بیٹھے ایک گھنٹے سے ذیادہ وقت گزر گیا ان کا وجود برف بن چکا تھا اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت منجمند ہو گٸ تھی۔۔۔۔
مورے خود بھی صدمے کی سی کیفیت میں تھی۔۔۔۔۔۔
آمنہ بھابھی با مشکل انہیں وہاں سے لے کے گٸ تھی
وہ بھی ماں تھی انہیں اپنی بیٹی کا غم کھاۓ جا رہا تھا ۔۔۔۔۔
کہ المظ کے واپس لوٹ کے جانے کے بعد وہ لوگ زرشاہ کو بھی واپس بھیج دیں گے۔۔۔۔۔
ثنا الگ سکتے میں کھڑی تھی ۔۔۔۔اسے لگ رہا تھا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ۔۔۔۔۔۔جو کچھ بھی ہوا ہے۔۔۔۔۔اس کی ذمہ دار وہ خود ہے
اس نے اسی طرح کھڑے کھڑے ایک سہمی ہوٸی نگاہ ۔۔۔۔۔۔صوفے پہ سر دونوں ہاتھوں میں تھامے دراب خان پہ ڈالی پھر چلتے چلتے اس کے قریب آٸی اور پاس ہی صوفے پہ ٹک گٸ۔۔۔۔۔
”دراب۔۔۔۔۔۔۔“
اس نے ہلکی سی آواز میں اسے پکارا
تو اس نے چونک کے سر اٹھایا۔۔۔۔۔
”المظ۔۔۔۔۔“
بے خیالی میں اس کے منہ سے نکلا تھا
پھر حواس بحال ہوتے ہی ۔۔۔۔۔۔ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوۓ سر پیچھے صوفے کے ساتھ ٹکا لیا۔۔۔۔۔
”جا چکی ہے وہ۔۔۔۔۔۔“
اس نے سر جھکا کے تھکے ہوۓ لہجے میں کہا۔۔۔۔
”دراب مجھ سے غلطی ہو گٸ مجھے یہاں نہیں آنا چاہیۓ تھا میری وجہ سے یہ سب ہو گیا ۔۔۔۔۔“
ثنا نے سر جھکا کے ندامت سے کہا۔۔۔۔۔
تو وہ ذرا سیدھے ہو کے بیٹھے۔۔۔۔
نہیں ثنا تمہاری وجہ سے کچھ نہیں ہوا آج نہیں تو کل یہ سب ہونا ہی تھا۔۔۔۔۔۔تم شرمندہ مت ہو یہ تمہارے بھاٸی کا گھر ہے تم جنتا وقت چاہو اس گھر میں رہ سکتی ہو جیسے ہی یہ تمہاری طلاق والا مسٸلہ ختم ہو گا پھر میں آگے کے بارے میں کچھ سوچتا ہوں اور بہنیں بھاٸیوں سے ایسی باتیں نہیں کرتی۔۔۔۔۔“
انہوں نے شفقت پہ اس کے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوۓ محبت سے سمجھایا تو فرط جذبات سے اس کی آنکھیں نم ہو گٸ۔۔۔۔
دراب تم بہت اچھے ہو اگر تم نہ ہوتے تو اس وقت کوٸی بھی ایسا نہیں تھا جو مجھے پناہ دیتا۔۔۔۔۔۔تم نے جو کیا وہ تو ایک بھاٸی بھی اپنی بہن کے لیے نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔“۔۔۔۔
اس نے مشکور لہجے میں کہا
تو وہ پھیکا سا مسکرایا۔۔۔۔۔
”دراب ۔۔۔۔“
کچھ توقف کے بعد اس نے کچھ جھجھکتے ہوۓ اس پکارا
تو اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔
”کیا المظ اب کبھی واپس نہیں آۓ گی۔۔۔۔۔“
اس نے کسی امید کے تحت پوچھا۔۔۔۔
”پتہ نہیں۔۔۔۔۔۔“
انہوں نے خود کو لاپرواہ ظاہر کرتے ہوۓ کہا۔۔۔۔۔
”تمہیں اس پہ ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیۓ تھا۔۔۔۔۔۔۔“
اس نے بظاہر عام سے لہجے میں کہتے ہوۓ اسے اپنی غلطی کا احساس دلایا تھا۔۔۔۔
”میں خود بھی ایسا نہیں چاہتا تھا وہ مجھے بہت پیاری ہے میں اس پہ ہاتھ نہیں اٹھانا چاہتا تھا لیکن پتہ نہیں کیوں یہ مجھ سے ہو گیا۔۔۔۔۔“
وہ ہونٹ بھینچ کے ذمین کو گھورنے لگے
”محبت کرتی ہو اس سے۔۔۔۔۔۔۔“؟
اس نے یوں ہی بے اختیار پوچھ لیا تھا۔۔۔۔
”اس نے اس بارے میں کبھی سوچنے نہیں دیا مجھے اب وہ چلی گٸ ہے تو فرصت سے سوچوں گا۔۔۔۔۔۔۔“
وہ دکھی لہجے میں بولتے ہوۓ مسکراتے ہوۓ اٹھ کھڑے ہوۓ
”اور اگر یہ ثابت ہو گیا کہ تم اس سے محبت کرتے ہو تو جا کے اسے منا لینا۔۔۔۔۔۔“
اس نے وہی بیٹھے بیٹھے نرم مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔۔۔۔۔
”اس بارے میں ابھی سوچا نہیں میں نے۔۔۔۔۔کہ مجھے اسے منانا چاہیۓ یا نہیں۔۔۔۔۔۔ہاں میں معذرت۔۔۔۔۔۔ضرور کروں گا اگر کبھی میری اس سے ملاقات ہوٸی تو۔۔۔۔۔شناساٸی سے یا اجنبیت سے۔۔۔۔۔۔“
وہ سنجیدگی سے کہتے ہوۓ آگے بڑھ گیا جب ثنا کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکراٸی۔۔۔۔
”پھر یہ طے ہے کہ تم اسے اب منانے نہیں جاٶ گے۔۔۔۔۔۔“
اس نے پلٹ کے محض اس کا چہرہ دیکھا تھا۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
وہ اندھا دھند سیڑھیاں چڑھتا اوپر اپنے کمرے کی طرف گیا۔۔۔۔۔۔المظ وہی پیچھے کھڑی۔۔۔۔۔اسے جاتا دیکھتی رہی۔۔۔۔۔۔دوسرے گھر والوں کی بھی یہی حالت تھی وہ دروازے کو دھکا دے کے سیدھا زرشاہ کے سر پہ پہنچ گیا۔۔۔۔۔زرشاہ اس کو اتنے غصے میں دیکھ کے بوکھلا گٸ تھی اس لیے بیڈ سے فورا اٹھ کھڑی ہوٸی تھی۔۔۔۔
وہ جارحانہ انداز میں اس کی طرف لپکا پھر سختی سے اس کا بازو پکڑ کے اسے کمرے سے باہر نکلا۔۔۔۔۔
وہ مسلسل اس سے اس سلوک کی وجہ پوچھ رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ اس کی کسی بھی بات کا جواب دیۓ بغیر اسے تقریبا گھسیٹتے ہوۓ سیڑھیاں اترنے لگا۔۔۔۔
نیچے المظ کو کھڑا دیکھ کے وہ الجھ کے رہ گٸ۔۔۔۔
سب لوگ تاسف سے ضرار کی طرف دیکھ رہے تھے سواۓ گل مینے کے جس کے چہرے پہ ایک فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔۔۔۔۔
اس نے آخری سیڑھی پہ پہنچ کے اس کا ہاتھ پوری قوت سے چھوڑا تھا
وہ توازن نہ برقرار رکھ سکی اور اوندھے منہ ذمین پہ گری۔۔۔۔
تھوڑی گردن ترچھی کر کے دیکھا تو ضرار کے چہرے پہ اس کے لیے صرف نفرت تھی۔۔۔۔۔
”اگر تمہارے بھاٸی کے گھر میں میری بہن کے لیے کوٸی جگہ نہیں تو آج سے ہمارے گھر میں بھی تمہاری کوٸی جگہ نہیں اس گھر کے دروازے آج سے تم پر بند ہیں اور یہ دروازے تم پہ تب تک نہیں کھلیں گے جب تک تمہارے گھر کے دروازے میری بہن کے لیے نہیں کھلتے اور اگر اسے دوسری شادی کا اتنا ہی شوق ہے تو وہ ضرور کرے دوسری شادی لیکن اس سے پہلے وہ میری بہن کو طلاق دے گا اور میں تمہیں طلاق دوں گا اگر ان شادیوں کا انجام ایسے ہونا تھا تو ایسے ہی سہی۔۔۔۔۔۔“
وہ شعلہ بار نظروں سے اسے دیکھتے ہوۓ ایک ایک لفظ پہ ذور دیتے ہوۓ بولا تو نا چاہتے ہوۓ بھی زرشاہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔۔۔۔
”پر لالا“
المظ کچھ کہنے کو آگے بڑھی تو ضرار نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا۔۔۔۔۔
اس کی آنکھوں کی نفرت زرشاہ کو اپنے وجود کے آرپار ہوتی محسوس ہوٸی۔۔۔۔
پھر اس نے اپنی آنکھوں کو رگڑ ڈالا تھا۔۔۔۔۔
ذمین پہ پڑا اپنا دوپٹہ اٹھایا۔۔۔۔۔
ایک شکوہ کناں نگاہ سب پہ ڈال کے حویلی کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ دیا تھا۔۔۔۔۔
”یہ تم نے کیا کیا ہے ضرار تم کیوں کسی بے گناہ کی بد دعا لیتا ہے۔۔۔۔۔۔“
اس دفعہ بولنے والے آغا جان تھے۔۔۔۔۔۔
انہوں نے آگے بڑھ کے اسے یہ کرنے سے روکنا چاہا۔۔۔۔۔
”ہاں لالا امارے ساتھ جو بھی ہوا وہ امارہ نصیب ہے تمہیں زرشاہ کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیۓ تھا۔۔۔۔۔۔“
المظ نے تاسف سے ضرار کی طرف دیکھا
جس کا چہرہ سپاٹ تھا۔۔۔۔
”یہ ظلم ہے ضرار ۔۔۔۔۔۔۔“
پلوشہ بھابھی نے افسوس سے کہا تھا۔۔۔۔۔
”ام کو کوٸی کچھ نہ سمجھاۓ ام جانتے ہیں کیا ٹھیک ہے اور کیا غلط۔۔۔۔۔۔“اگر المظ اس گھر میں نہیں رہ سکتا تو زرشاہ بھی اس گھر میں نہیں رہ سکتا۔۔۔۔۔۔۔“
اس نے پختہ لہجے میں کہا۔۔۔۔
تو المظ اس کے سامنے جا کے کھڑی ہو گٸ۔۔۔۔۔
”ام تم کو یہ ظلم نہیں کرنے دے گا لالا۔۔۔۔۔اماری اپنے ذندگی ہے اور تمہاری اپنی ذندگی ہے کیا یہ ضروری ہے کہ جو امارے ساتھ برا ہو وہی زرشاہ کے ساتھ بھی برا ہے
تم جا کے اسے منا کے لاٶ گے لالا۔۔۔۔۔“
المظ نے بھی بغیر کسی خوف کے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ۔۔۔۔۔۔۔حتمی لہجے میں کہا
تو ضرار نے خشمگین نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔
”ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔جب تک دراب خان یہاں آکے تم سے معذرت کرکے تمہیں یہاں سے نہیں لے کے جاٸیں گا تب تک۔۔۔۔۔۔زرشاہ اس گھر میں نہیں آسکتی۔۔۔۔۔“اب اور کچھ نہیں سننا چاہتا میں۔۔۔۔۔۔“
سرد نظروں سے اسے دیکھتے ہوۓ وہ دو ٹوک لہجے میں بولتے ہوۓ سیڑھیاں چڑھ گیا
المظ نے پلٹ کے سب کو احتجاج بھری نظروں سے سب کو دیکھا تھا۔۔۔۔
❤❤❤❤❤
زرشاہ نے حویلی کے داخلی دروازے پہ پہنچ کے ایک نظر حویلی پہ ڈالی جس کو چھوڑتے وقت اس کی آنکھوں میں بھی کتنے ارماں تھے۔۔۔۔جیسے ہر لڑکی کی آنکھوں میں ہوتے ہیں لیکن اب اس کی آنکھوں میں محض ان ٹوٹے ہوۓ خوابوں کی کرچیاں تھی ۔۔۔۔۔ضرار کے دھتکارے ہوۓ رویے کی دھول جس نے باقی ہر احساس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس وقت زرشاہ اس حویلی سے نکلی تھی اس وقت وہ ایک معصوم سی خوابوں میں جینے والی لڑکی تھی۔۔۔۔۔اس کہانی کی دنیا میں رہنے والی لڑکی جس میں لاکھ براٸیوں کے باوجود شہزادہ شہزادی پہ جان چھڑکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔لیکن حقیقت ایسی نہیں ہوتی حقیقت بھیانک ہونے کے ساتھ ساتھ ظالم بھی ہوتی ہے۔۔۔۔۔آج جب وہ اس حویلی میں لوٹی تھی تو وہ ایک ایسی عورت تھی جس کی اہمیت اس کے شوہر کی نظر میں دو کوڑی کی تھی وہ اٹھارہ سال کی عمر میں ایک دھتکاری ہوٸی عورت تھی ۔۔۔۔۔لیکن اس کی آنکھوں میں عجیب سا سرد پن تھا۔۔۔۔۔اس کی آنکھوں کے سارے آنسو خشک ہو گۓ تھے اس نے اب رونا نہیں تھا وہ اپنے حصے کا رو چکی تھی۔۔۔۔۔
اس نے پورے اعتماد سے قدم آگے کی طرف بڑھاۓ۔۔۔۔۔۔
اور حویلی کے اندر داخل ہوتے ہی سب سے پہلے اس کا سامنا دراب خان سے ہوا تھا۔۔۔۔۔
اسے دیکھ کے وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوۓ تھے۔۔۔۔۔
زرشاہ نے پہلی بار اپنے بھاٸی کو۔۔۔۔۔۔۔اس حالت میں دیکھا تھا
بکھرے بال سرخ آنکھیں۔۔۔۔۔۔۔“
ان کے چہرے پہ عجیب سی ندامت تھی وہ اس سے نظریں چرا گۓ تھے۔۔۔۔۔
”زرشاہ۔۔۔۔۔۔”
وہ بس دکھی لہجے میں اسے اتنا ہی کہہ پاۓ۔۔۔۔۔۔
اس نے پلٹ کے ایک نظر انہیں دیکھا تھا۔۔۔۔۔
”مجھے ضرار نے گھر سے نکال دیا ہے لالا۔۔۔۔۔۔“
وہ اتنے عام سے لہجے میں بولی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔۔۔۔
ام کو معاف کر دو زرشاہ یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔ام نے تمہارا ذندگی برباد کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔“۔
انہوں نے دکھ سے اس کے سر پہ ہاتھ رکھ کے گویا اسے تسلی دینے کی کوشش کی۔۔۔۔۔
”اس نے سر اٹھا کے ان کے چہرے کی طرف دیکھا پھر زحمی سا مسکراٸی
”نہ لالا تم نے تو ام کو دوبارہ آباد کیا ہے برباد تو ام نے خود کر دیا تھا خود کو اگر یہ سب نہ ہوتا تو اماری آنکھیں کبھی نہ کھلتی ۔۔۔۔۔۔۔ام بھی عام عورت کی طرح برداشت برداشت کا سبق رٹتے ہوۓ کب کے مر چکے ہوتے۔۔۔۔۔۔۔“
وہ سپاٹ لہجے میں کہتے ہوۓ دراب خان کو اپنی عمر سے بہت بڑی لگی تھی۔۔۔۔۔
”نہیں زرشاہ۔۔۔۔۔۔۔۔ام تمہارا بھاٸی ہے ام سے دکھ مت چھپاٶ اپنا تم اتنا بہادر نہیں ہو زرشاہ تمہارا دل بہت چھوٹا ہے تمہارا لالا ابھی ذندہ ہے وہ تمہارا ساتھ کچھ بھی برا نہیں ہونے دے گا تمہارا گھر بسانے کے لیے اگر ام کو المظ کے پیروں میں بھی بیٹھنا پڑا تو ام بیٹھ جاۓ گا۔۔۔۔۔۔“
وہ گھٹنوں کے بل اس کے قریب بیٹھ کے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ اسے تسلی دے رہے تھے۔۔۔۔۔
زرشاہ کو اس لمحے وہ بہت شکستہ لگے۔۔۔۔۔
پھر جب زرشاہ بولی تھی تو فقط اتنا بولی تھی۔۔۔۔۔
“لالا اگر تم واقعی ہی امارے لیے کچھ کرنا چاہتے ہو تو ام کو ضرار سے طلاق دلوا دو ام اب اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا ام یہ رشتہ ختم کرنا چاہتا ہیں۔۔۔۔۔“
اس نے دراب خان کی منت کرتے ہوۓ ہاتھ جوڑ کے کہا تھا
دراب خان زرشاہ کے منہ سے یہ الفاظ سن کے دھنگ رہ گۓ تھے۔۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
جاری ہے