Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode08

Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode08

زینیا میں بالکل بھی اچھا نہیں ہوں میں گناہوں میں پڑھ گیا تھا لڑکیوں کے ساتھ رات گزارنا میرے لیے عام بات تھی میں شراب پیتا تھا زینیا
زوار اسکا ہاتھ پکڑ کر گھٹنوں کے بل بیٹھا اسے کہ رہا تھا اور زینیا کے دل میں ایسا تھا جو ٹوٹا تھا
شاہ اپ لڑکیوں کے ساتھ رات گزارتے تھے
نہیں زینیا تمہارے انے سے پہلے تھا یہ سب جب سے تم ای ہو کسی لڑکی کی طرف نہیں گیا شراب کو ہاتھ تک نہیں لگایا تمہارے بعد کسی کی خواہش نہیں رہی اب میرا یقین کرو
شاہ مجھے اپ پر پورا یقین ہے مجھ سے پہلے جو تھا وہ اپکا ماضی تھا اپ اپنے ماضی کو بھول جاٸیں میں اپکو کبھی اپکے ماضی کے بارے میں یاد نہیں دلاوں گی
زینیا میں بکھر گیا تھا زندگی ویران سی ہو گی تھی احمد نہ ہوتا تو شاید میں نا ہوتا تمہارے انے سے میں پھر سے جینے لگا ہوں کبھی چھوڑو گی تو نہیں نہ میرا ساتھ دو گی نہ مجھ پر یقین رکھو گی نہ
شاہ میں اپکو کبھی نہیں چھوڑوں گی اپکا ہمیشہ ساتھ دوں گی زینیا نے زوار کے انسوں صاف کرتے کہا
تو زوار اٹھ کھڑا ہوا اور دونوں پھر سے چلنے لگے ہر طرف خاموشی کا راج تھا زینیا نے زوار کے ہاتھ کی طرف دیکھا اور اسکا ہاتھ تھام لیا زوار نے دیکھا اور مسکرا دیا
شاہ رکیں
کیا ہوا اسنے فکر مندی سے کہا
وہ دیکھیں زینیا نے اٸسکریم والے کی طرف اشارہ کرکے کہا
نو وے زینیا بہت سردی ہے زینیا بیمار پڑجاو گی
نہیں ہوتی پلیز شاہ مجھے بہت پسند ہے اور ویسے بھی تو سردیوں مہں کھانے کا مزہ اتا ہے
نہیں کوی ضد نہیں
ٹھیک ہے کبھی میری بات مانی ہے جو اب مانیں گےہمشہ اپنی منمانی کرتے ہیں اسنے منہ پھلا کر کہا
تو زوار نے ہار مان کر کہا چلو جان من اور اسے لے گیا
زینیا اٸسکریم کھا رہی تھی سردی کی وجہ سے اسکی ناک لال ہو چکی تھی نیلی انکھوں میں ہلکا ہلکا پانی تھی زوار اسے یک ٹک دیکھے جا رہا تھا
شاہ کھاٸیں گے اپ زینیا نے اسکی نظروں سے کنفیوز ہو کر کہا
نہیں تم ہی کھاو
ٹھیک ہے پر اپ پلیز بند کریں
تمہیں نہیں دیکھنا تو اور کسے دیکھنا ہے ویسے زینیا یاد ہے ہماری پہلی ملاقات بھی اس اٸسکریم سے ہوی تھی
جی اور ساری اٸسکریم اپکے کپڑوں پر گر گی تھی زینیا نے ہنس کر کہا
مت کرو اتنا ظلم جانم
کیوں میں نے کیا کیا ہے
میرے جزباتوں کو چھیڑ کر کہتی ہو مینے کیا کیا ہے
مطلب
مطلب پاگل کر رہی ہیں تمہاری یہ نیلی انکھیں تم جانتی ہو تمہاری ان نیلی انکھوں پر مرتا ہوں پاگل ہوں یار میں زوار نے جزبات سے چور لہجے میں کہا
تو زینیا نظریں جھکا گی
تیری ان نیلی انکھوں کے بعد
خدا قسم کچھ اور دیکھا نہ گیا
اپ کسی ہارے ہوے عاشق کی طرح شاعری کرتے ہیں زینیا نے گال پر انگلی رکھ کر شوچنے کے انداز میں کہا
اور زوار کا دل کیا کچھ اٹھا کر اپنے سر پر مارے نہیں یعنی کہ حد ہے اسکے جزباتوں کو نہیں سمجھ رہی
چلیں شاہ
ہاں چلو
تمہارا دماغ تو گھر میں ٹھکانے لگاتا ہوں نہ زوار منہ میں بڑبڑایا
…………………………
احمد اور زوار عمران کے سامنے بیٹھے تھے اور قاسم انکے پیچھے کھڑا تھا عمران کی حالت حد سے زیادہ بری تھی
قاسم بندوق دو اب اسکے خاتمے کا وقت اگیا ہے
ن۔نہ۔نہں ش۔۔شاہ اسنے بامشکل یہ لفظ ادا کیے
زوار نے اسکی ٹانگوں پر گولی ماری اور کہا یہ میرے پاپا ساتھ بےوفای کرنے کے لیے پھر بازووں پر گولی ماری اور کہا یہ انکے اعتبار کو توڑنے انکو توڑنے انکی موت کے لیے اور پھر اسکے دل پر گولی مارنے سے پہلے کہا یہ احمد کے بدلے اگر تو احمد ساتھ کچھ نہ کرتا تو شاید کچھ راعیت مل جاتی اور گولی مار کر کام تمام کر دیا
قاسم جو وڈیو بنای ہے وہ اسکے بیٹے کو بھیج دینا اور ہاں اسکی لاش کو اگ لگا دینا
و احمد
گاڑی میں مکمل خاموشی تھی احمد نے بھی کچھ بات کرنا مناسب نہ سمجھا
احمد گاڑی ماما بابا کی قبر کی طرف لی جا
ٹھیک ہے
ماما بابا اج اپکے قاتل کو سزا دے دی موت کے گھاٹ اتار دیا جہنم واسل کر دیا ہے بدلہ پورا ہوا اپ مبجھے بہت یاد اتے ہیں ماما بابا اپ مجھے کیوں چھوڑ کر چلے گے میں اپ سے بہت پیار کرتا ہوں زوار ایسے ہی باتیں کر رہا تھا احمد دور گاڑی ساتھ ٹیک لگا کر دیکھ رہا تھا
………………………….
رات دو بجے کا وقت تھا جب زوار کمرے میں ایا زینیا بیٹھی بیٹھی سو چکی تجی یقین اسکے انتظار میں
زوار نے اسے سیدھا لیٹانا چاہا تو اسکی انکھ کھل گی اور اٹھ کر بیٹھ گی
تمہیں سہی سے لیٹانے لگا تھا تم بیٹھی بیٹھی سو چکی تھی اسنے سپاٹ لہجے میں کہا اور دوسری ساٸیڈ پر اکر لیٹ گیا
شاہ کھانا دوں
نہیں بھوک نہیں
زینیا کو غصہ ایا کہ اسکے انتظار میں کھانا نہیں کھیا بیٹھی بیٹھی سو گی اور یہ صاحب ہیں کہ زینیا غصے سے دروازہ مار کر باہر چلی گی
زوار نے انکھوں سے بازو ہٹا کر دیکھا
اسے کیا ہوا زوار خود سے کہتا باہر چلا گیا
کچن میں دیکھا تو زینیا اپنی انکھیں صاف کرتی کھانا کھا رہی تھی
اوو تو میڈم نے میرے انتظار میں کھانا نہیں کھایا اوپس
زوار سوچتا اسکے پاس گیا
سوری یار مجھے نہیں پتا تھا تمنے کھانا نہیں کھایا
مینے اپسے کچھ کہا ہے جاٸیں اپ یہاں سے اسے انکھوں میں غصہ لیے کہا
سوری یار زوار نے اپنی داڑھی کھجا کر کہا اور پاس بیٹھ گیا زینیا جو نوالہ اپنے منہ میں لیجانے لگی تھی زوار نے اسکا ہاتھ اپنے منہ ک طرف لیجا کر خود کھا لیا زینیا تو ہکا بکا رہ گی
اپ بہت۔۔۔۔زینیا نے چمچ پٹخ کر کہا
ہاں بہت ہینڈسم ہوں اسنے فقرہ مکمل کیا
اچھا اب غصہ چھوڑو زوار نے اسے جیکٹ سے پکڑ کر کھینچ کر کہا
اب اپکا کبھی انتظار نہیں کرنا یہ وقت ہے گھر انے کا
پکی بیوی لگ رہی ہو اچھا اٸندہ کبھی دیر نہیں ہوگی چلو اب ساتھ کھاتے ہیں اسکے کہنے پر زینیا نے اسکے لیے کھانا نکالا
………………………….
ایسے ہی دن گزرتے گے زینیا اور زوار نے سانیہ کا رشتہ احمد کے لیے مانگ لیا تھا جو انہوں نے خوشی خوشی دے دیا تھا ان دونوں کا نکاح پیپرز کے بعد اور رخصتی سانیہ کی سٹڈٕی مکلمل ہونے کے بعد ہونی تھی
ان کے پیپرز ہو رہے تھے اج انکا اخری پیپر تھا زینیا دے کر نکلی تو اسنے زوار کو فون کیا
ہیلو شاہ
جی جان شاہ
کب تک اٸیں گے لینے
تھوڑی دیر رک پہنچ رہا ہوں
اچھا اسکریم کھلاٸیں گے
جو حکم سرکار
اوکے
اچھا سنو
جی بولیں زینیا جانتی تھی زوار کیا کہنے لگا ہے پر پھر بھی پوچھا
I loveee uuu❤❤
زوار ہمیشہ کال کے اینڈ پر یہی کہتا تھا
اوکے باے اسنے مسکرا کر فون کاٹ دیا
زینیا جا رہی تھی کہ اسے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا اسنے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اسکے اوسان خطا ہو گے۔
زینیا نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اسکے اوسان خطا ہو گے پیچھے ایکھ نقاب پوش اس پر بندوق تانے کھڑا تھا زینیا پیچھے مڑ کر بھاگنے لگی کہ پیچھے بھی ایک کھڑا تھا پھر دو اردگرد بھی اکر کھڑے ہو گے فرار کے سارےراستے بند ہو چکے تھے پھر ایک نقاب پوش نے اسکے منہ پر رومال رکھ کر اسے بےہوش کر دیا اسکے منہ سے صرف ایک لفظ ادا ہوا
شاہ
………………………….
زوار گاڑی چلا رہا تھا اور ساتھ گانا گنگنا رہا تھا کہ اسکے فون پر میسج کی بیب بجی اسنے دیکھا تو ان ناون نمبر تھا میسج پڑھا تو اس میں لکھا تھا
بچا سکتا ہے اپنی بیوی کو تو بچا لے
زوار نے فون ڈیش بورڈ پر پھینکا اور گاڑی کو تیز بھگانے لگا رش ڈرٸیونگ کرتا وہاں پہنچا تو زینیا کو ڈھونڈنے لگ گیا اسے کال بھی کر رہا تھا بیل تو جا رہی تھی پر کوی فون نہیں اٹھا رہا تھا
اسے ایک درخت کے پاس بیگ پڑا دیکھا اسے وہ زینیا کا لگا اسنے کال کی تو فون کی اواز وہی سے ای اسنے وہ اٹھایا اور پاگلوں کی طرح پھر سے ڈھونڈنے لگ گیا دو گھنٹے مسلسل ڈھونڈنے کے بعد تھک ہار کر گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر جھکا
اہ کہاں چلی گی ہو
اسے پھر سے میسج ایا اسنے میسج دیکھا تو وہ ایک وڈیو تھی وہ وڈیو دیکھ کر اسکی انکھوں میں لہو دھوڑنے لگ گیا رگیں تن گیں
اسنے دوبارہ وڈیو دیکھی زینیا کرسی پر بے ہوش بندھی ہوی تھی حجاب ڈھیلا پڑ چکا تھا اور اسمیں سے کچھ بال باہر نکلے ہوے تھے اور جمال(عمران کا بیٹا)کہ رہا تھا شاہ یہ دیکھ تیری حسینا میرے پنجرے میں قید ہے ویسے بڑا مال چھپا کر رکھا تھا حسین تو واقع ہی بہت ہے جیتی جاگتی قیامت ہے تو تو خوش قسمت ہے پر ابھی یہ قیامت میرے پاس ہے ہاہاہہااا
زوار کی غصے کی انتہا نہ تھی اسکے لیے زینیا کو ڈھونڈنہ کچھ مشکل کام نہ تھا پر اسوقت غصہ اسکے دماغ پر حاوی ہو چکا تھا
اسنے احمد کو فون کیا
احمد فاٸلز دیکھ رہا تھا اسنے فون دیکھا اور مسکرا کر اٹھا کر کہا
اوے مجنوں ابھی تک ایا نہیں افس
احمد جلدی اجا
کیا ہوا زوار تو ٹھیک ہے
کچھ ٹھیک نہیں ہی جمال نے زینیا کو اگواہ کر لیا ہے
کیااا تو کہاں ہے میں ارہا ہوں
کالج ہوں اسکے
ٹھیک ہے تو رک میں ابھی ایا اور ہر چیز ویسے بکھری چھوڑ کر احمد وہاں سے بھاگا
………………………….
احد پہنچا تو زوار ایک بینچ پر ہاتھوں میں سر گرا کر بیٹھا تھا
کیا ہوا زوار
زوار نے اسے دیکھا اور اسکے گلے لگ گیا
کیا ہوا کچھ بول
اسنے وہ وڈیو احمد کر اگے کر دی زوار ضبط کی انتہا پر تھا
احمد کا بھی خون کھولنے لگ گیا کہ اسکی بہنوں جیسی بھابھی اس خبیث انسان کے قبضے میں ہے
زوار فکر نہیں کر مل جاے گی
احمد اگر اسے زرا بھی خروش ای تو میں جمال کے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا
زوار کوی نشانی اسے ڈھونڈنے کی یاد کر
احمد میرا دماغ کچھ کام نہیں کر رہا میرا غصہ دماغ کو چڑ رہا ہے مجھے کچھ سمجھ نہیں ارہا
اوکے کول ڈاون ریلیکس میں کچھ کرتا ہوں اور اسنے فون نکال کر قاسم کو ڈھونڈنے پر لگا دیا
احمد اور زوار بھی اسے ڈھونڈنے پر لگ گے تھے
دن سے رات ہوگی تھی پر اسکا کچھ پتا نہ لگا زوار کا دماغ اور گھوم رہا تھا اس حوس پرست انسان کو زوار اچھے سے جانتا تھا اخر بچپن میں ساتھ رہے تھے اسے زینیا کی فکر لگی ہوی تھی
………………………….
زینیا کو حوش ایا تو اسن اردگرد دیکھا پر سہی سے دیکھا نہ گیا ہر طرف اندھیرا تھا اسنے اپنے ہاتھوں کو چھڑوانا چاہا پر وہ بندھے ہوے تھے زینیا بے اواز رونے لگ گی
شاہ اپ کہاں ہیں پلیز اجاٸیں مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے پلیز الله جی شاہ کو بھیج دیں
کہ دروازہ کھلا اور ایکھ شخص چین کو گھوماتا اندر داخل ہوا دروازے سے روشنے پڑنے کی وجہ سے سہی سے دیکھای نہیں دیا
کو۔ن ہو ت۔تم زینیا نے اٹک کر کہا
تمہارے شاہ کا چاہنے والا اور ساتھ میں قہقہ لگایا
پلز مجھے جانیں دیں اسنے روتے ہوے کہا
ارے ارے حسن کی ملکہ ایسے کیسے جانیں دوں فکر نہیں کر تیرا شاہ تجھے ڈھونڈ لے گا اور اسکے سامنے تجھے بیڈ کی زینت بناوں گا سچ پوچھو تو صبر نہیں ہو رہا تیرا حسن گھاٸل کر رہا ہے پر وہ کیا ہے نہ شاہ کے سامنے تجھے چھونے میں الگ ہی مزہ ہے ہاہاہہاہاہا
پلیز مجھے شاہ کے پاس جانیں دیں
اوو جانے من کو شاہ پاس جانا ہے ہاہہا روکو ابھی بات کرواتا ہوں اور اسنے زوار کو وڈیو کال کی
زوار نے ان ناون نمبر دیکھ کر اٹھایا تو جمال اسے دیکھ کر خباثت سے مسکرایا
حرام خور میں تیرا حشر نشر کر دوں گا اسے چھوڑ دے
ہاہاہا اج تجھ سے پہلی بار جیتا ہوں اسکا جشن تو منانے دے مجھے
اچھا رک رک غصہ نہیں ہو ابھی اس حسینہ سٕے بات کرواتا ہوں اور کیمرہ زینیا کے سامنے کر دیا اسکے منہ سے ٹیپ ہٹا دی
شاہ پلیز بچا لیں یہ بہت برے ہیں اسنے روتے ہوے کہا
تم فکر نہیں کرو میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا
شاہ مجھے اپنے پاس لے اٸیں نہیں رہ سکتی اپکے بغیر پلیز بچا لیں
تم فکر نہیں کرو کہیں نہیں جانے دوں گا
اچھا بس کرو کیا رومینٹک سین کریٹ کر رہے ہو پھےر میرابھی دل رومینس کو کرنا اور تیری بیوی کے علاوہ کوی اور ہے بھی نہیں
تونے اسے ہاتھ بھی لگایا تو ہاتھ توڑدوں گا
ہاہاہاہہا فکر نہیں کر تیرے سامنے ہی ہاتھ لگاوں گا اور فون کاٹ دیا
زوار نے اہنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ کیا اور کچھ یاد انے پر ایک دم سے سر اٹھایا اور کہا
احد اسکے گلے میں ایک لاکٹ ہے اور اس میں مینے ایک چیپ لگای تھی اسکو ٹریس کرکے ہم زینیا تک پہنچ سکتے ہیں
زوار پیچھے لیپ ٹاپ پڑا ہے
تو زوار اسکی لوکیشن ٹریس کرنے لگ گیا
زوار کو وہ جگہ دیکھ کر جھٹکا لگا
کیا ہوا
احمد یہ تو وہ جگہ ہے جہاں ابو اور عمران رہتے تھے
کیاااا
احمد جلدی چل اسکی موت قریب ہے اب اور ایک میسج قاسم کو سینڈ کیا۔
جاری ہے🍁

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *