Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode04

Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode04

وہ جیسے ہی پیچھے مڑی زوار کو کھڑا دیکھ کر اسے اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا
زوار اسکی طرف بڑھا تو وہ اپنے پیچھے کھڑے لڑکوں کے پیچھے چھپ گی اور کہا
پلیز بچا لیں
اسکی بات سن کر زوار کے تیور بدلے
ادھر او اسنے غرا کر کہا
پلیز بچا لیں وہ زوار کو اگنور کر کے لڑکوں سے کہنے لگی
مینے کہا ادھر او سنا نہیں زوار نے غصے سے چلا کر کہا
تو وہ سہم گی اور مدد طلب نظروں سے لڑکوں کی طرف دیکھا
ان میں سے ایک لڑکا اگے بڑھا اور زوار کو دھکا دیا اور کہا کیوں بے اس لڑکی کو چھیڑتا ہے
زوار نے پہلے لڑکے کو دیکھا اور پھر ہاتھ کو اور اسکے منہ پر مکہ دے مارا وہ برداشت نہ کر سکا اور گر گیا اسکا بازو جس سے اسنے دھکا دیا تھا وہ مڑوڑ دیا احمد فوراً اگے بڑھا اور اسے چھڑوایا
وہ لڑکے بھاگ گے اور دوسرا لڑکا بھی اپنا ہاتھ پکڑتا بھاگ گیا
زینیا بھگنے لگی کہ زوار نے اسکو بازو سے دبوچ کر کھینچا اور خود سے قریب کیا
کہا جا رہی ہو بٹرفلاۓ
زینیا کو اسکی انگلیاں بازو میں گڑتی محسوس ہو رہیں تھی اسکی انکھوں سے انسو نکلنے لگ گے
احمد اگے ہو کر زوار کو دھکا دیا اور زینیا کو گاڑی میں بٹھایا زوار بھی اپنا غصہ ضبط کرتا گاڑی میں بیٹھ گیا
گھر پہنچ کر احمد نے زینیا کو کمرے میں بھیج کر دروازہ بند کر دیا زوار غصے سے باہر چکر کاٹ رہا تھا اور احمد اسے گھور رہا تھازوار رکا اور بند دروازے کو دیکھا اندر جانے لگا کہ احمد نے روک لیا
غصے کو ٹھنڈہ کر
کچھ نہیں کرتا زوار نے کہا اور اندر چلا گیا
زینیا بیٹھی رو رہی تھی کہ دروازہ کھلنے کی اواز سے پیچھے مڑ کر دیکھا تو زوار تھا زینیا ڈر کر کھڑی ہو گی
زوار نے زینیا کو بازو سے پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگایا اسکی انگلیاں زینیا کو بازو میں چبھ رہیں تھی اسکے چہرے پر صاف زوار کے خوف کے چہرے لہرا رہے تھے
کیوں یہاں سے بھاگی تھی تم ہاں جواب دو اسنے تھوڑا غرا کر کہا
وہ وہ میں زینیا ہکلا رہی تھی
کیا وہ تم بولو
مجھ۔ے لگا آ۔آپ کہ پا۔س میری عز۔ت مح۔محفوظ نہیں آ۔آخر خریدہ ہے اپ۔نے مج۔مجھے اسنے اٹکتے ہوے کہا
اسکی بات سن کر زوار کو بے انتہا غصہ ایا اسنے پاس شیشے کا جگ پڑا تھا وہ اٹھا کر زمین پر مارا تو وہ ٹکرے ٹکرے ہو گیا
زینیا یہ دیکھ کر سہم گی اور رونا شروع ہو گی
احمد اندر ایا تو اندر کا منظر دیکھ کر اسکا دماغ گھوم گھومگیا
اسنے خود پر قابو پا کر اسے دور دھکا دیا زوار دوبارا اگے بڑھا تو اسنے اسے مکا مارا تو وہ نیچے گر گیا
زوار نے زمین پر مکا مارا اور دوبارا اٹھا کہ احمد دوبارا اگے ایا پر زوار نے اسے دھکا دے دیا اور احمد لڑکھڑاتا ہوا کانچ کے ٹکروں کے پاس گرا کانچ کانچکے کچھ ٹکڑے اسکے باٸیں ہاتھ میں دھنس گے اسنے اپنے ہاتھ کو دیکھا جہاں سے خون نکلنا شروع ہو چکا تھا
احمد نے زوار کو دیکھا جو ایک ہاتھ سے زینیا کے بال پکڑے اور دوسرے ہاتھ سے اسکے منہ کو دبوچے کہ رہا تھا
تم نے مجھے درندہ سمجھ لیا ہے تو کیوں نہ بن کر دیکھا دوں
احمد نے اپنے ہاتھ سے بےدردی سے کانچ کے ٹکڑے نکالے اور زوار کی طرف بڑھ کر اسے پرے دھکیلا اور انگلی اٹھا کر کہا
اگر تو بھابھی کے پاس بھی ایا تو اسے تجھ سے اتنا دور کر دوں گا کہ تو اس تک کبھی نہیں پہنچ پاے گا اور تو جانتا ہے میں ایسا کر سکتا ہوں
زوار نے اپنی لال انگارہ انکھوں سے اسکی طرف دیکھا اور تھوڑا دور ہو کر اپنا ماتھا مسلنے لگ گیا اور پھر بولا
احمد مولوی کا انتظام کر اس سے اج ابھی اور اسی وقت نکاح کرنا ہے وہ یہ کہ کر باہر چلا گیا تو احمد نے بےبس نظروں سے اسکی طرف دیکھا جس کا چہرہ انسوں سے تر ہو چکا تھا
بھابھی احمد نے صرف اتنا کہا
نہیں بھای پلیز مجھے انسے شادی نہیں کرنی یہ بہت برے ہیں مجھے ماریں گے
احمد کا دل اسکی بات پر کٹ گیا
اسنے زینیا کو بیڈ پر بیٹھایا اور خود کچھ فاصلے پر پربیٹھ گیا
دیکھیں بھابھی وہ بہت اچھا ہے اپ سے بہت پیار کرتا ہے بس تھوڑا غصے کا تیز ہے میں اسے سمجھاوں گا وہ دوبارہ ایسے غصہ نہیں کرے گا اسے اچھا نہیں لگا اپکا ایسے بھاگنا میں وعدہ کرتا ہوں بھای کہا ہے تو بھای پر ایک بار یقین کریں اپ پریشان نہیں ہوں میں اپکی دوست سانیہ کو بھی لے اتا ہوں
تو زینیا نے کہا پکا بھای وہ برے نہیں ہیں
نہیں پیاری بہنا اسنے پیار سے سر پر چپٹ لگا کر کہا تو زینیا ہنس دی
احمد نے اسے پہلی بار ہنستے دیکھا تھا بھابھی اپ ہنستی بھی ہیں مجھے تو لگا بس روتی ہی ہیں احمد نے ہنس کر کہا
تو وہ منہ بنا کر بیٹھ گی
اچھا اچھا سوری بہنا میں جارہا ہوں اس نواب زوادے زوادےنے مولوی صاحب کا اڈر دیا ہے اوکے وہ یہ کہ دو قدم ہی چلا تھا کہ زینیا نے کہا
اپ سانیہ کو لے اٸیں گے
تو احمد نے پیچھے مڑ کر مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا اور چلا گیا
زوار کھڑا سگریٹ پر رہا تھا کہ احمد اسکے پاس سے ہو کر گزر گیا
اسنے قاسم کو ساتھ انے کا کہا قاسم کے ساتھ مولوی کو بھیج کر اسنے علی کو فون کیا اور ساری سچویشن بتای
احمد یار میں تو اسلام اباد ہوں تو سانیہ کو لیجا
احمد نے اس سے سانیہ کا نمبر لیا اور اسے فون کیا
سانیہ نے تیسری بیل پر فون اٹھایا اور کہا
کون؟
احمد ہوں
کون احمد؟
علی کا دوست
کونسا دوست اسکے اتنے دوست ہیں
یور چھپکی میں ہوں اسنے جھنجلا کر کہا
اوہ بندر تو تم ہو کیا ہے اور میرا نمبر کہا سے لیا
تمہیں لینے ارہا ہوں تمہارے گھر سے ریڈی رہا
اسنے اس کی بات ک اگنور کر کے کہا اور فون کاٹ دیا
احمد نے اسکے گھر کے سامنے پہنچ کر اسے باہر انے کا کہا
سانیہ باہر ای تو احمد گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا تھا
کیا ہے سانیہ نے گھور کر کہا
چلو میرے ساتھ
کیوں میں کیوں جاو تمہارے ساتھ تم مجھے اگواہ کر لو تمہارا کیا بھروسا
بدتمیز لڑکی تمہارے بھای کو پتا ہے اور اس سے ہی تمہارا نمبر لیا ہے
کیا پتا تم جھوٹ بول رہے ہو
بسسس سکون سے ا کر بیٹھو اب تمہاری اواز نہ اے احمد نے غصے میں کہا تو سانیہ ڑر کر بیٹھ گی
گاڑی مین روڈ پر ای تو احمد نے کہا
سوری
اٹس اوکے
اسنے نروٹھے پن سے کہا
یار میں اگے پریشان ہوں تمہارے سوالات ہی ختم نہیں ہو رہے تھے تو غصہ اگیا
اٹس اوکے کہاں لے کر جا رہے ہو
وہ دراصل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسنے ساری سٹوری سانیہ کو بتایا
او ماے گاڈ اتنا سب کچھ ہو گیا زینیا کہ ساتھ وہ ٹھیک تو ہے نہ اسنے انکھوں میں انسو لے کر کہا
ہاں ٹھیک ہے رونا مت پلیز
تو اسنے اپنی انکھیں رگڑیں
اچھا سوری سانیہ میں غصے میں تھا
سانیہ نے پہلی بار اسکے منہ سے اپنا نام سنا تو اسکی ہارٹ بیٹ مس ہوی اور پھر خود کو سنبھال کر کہا
کوی بات نہیں
اور سوچا بندہ تو غصب کا ہے پھر خود ہی اپنی سوچ پر لانت بھیجی۔
احمد نے سانیہ کو زینیا کے کمرے میں چھوڑا اور خود ڈراٸینگ روم میں چلا گیا زینیا نے سانیہ کو دیکھا تو اسکے گلے لگ کر خوب روی سانیہ نے اسکو کافی تسلیاں دی
احمد نے مولوی کو ساتھ لیا اور زینیا کے کمرے میں چلا گیا
سانیہ نے اسکے اوپر دوپٹہ اوڑھ دیا زینیا نے بڑی مشکل سے تین بار قبول ہے کہا اور سگنیچر کیے
زینیا کے گواہ میں احمد سانیہ اور ماسی تھٕے
پھر احمد ڈراینگ روم میں مولوی صاحب کے ساتھ ایا احمد دروازے میں کھڑا تھا کہ زوار اسکے پاس ایا اور کچھ کہنے لگا کہ اسکی نظر اسکے ہاتھ پر گی
احمد یہ کیا ہوا تیرے ہاتھ کو خون جم گیا ہے تونے پٹی کوں نہیں کی جب یاد ایا یہ اسکا زخم دیا ہو ہے تو بولا سوری یار
احمد نے اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور اور مولوی صاحب کے ساتھ جا کر بیٹھ گیا
زوار کو احمد کے اس رویے نے بہت تکلیف دی
مولوی صاحب نے دلہے کو بلانے کو کہا تو احمد نے اسکی طرف دیکھے بنا کہا
شاہ اجاو نکاح کے لیے دیر ہو رہی ہے
تو زوار خود پر ضبط کرتا اسکے ساتھ اکر بیٹھ گیا پر احمد اٹھ کر سامنے قاسم کے ساتھ کھڑا ہو گیا زوار اپنے لب بھینچ کر رہ گیا تو کیا احمد اس سے سےناراض ہو گیا تھا
نکاح کے بعد زوار احمد سے ملنے لگا تو احمد زینیا کے کمرے میں چلا گیا
ایک انسو اسکی انکھ سے ٹوٹ کر گرا تو کیا احمد اس سے اس قدر ناراص ہو گیا تھا کہ اسکے نکاح کی مبارکباد تک نہیں دی وہ جو کہتا تھا احمد مجھے تیری شادی کا بہت شوق ہے وہ اج اس سے ملا تک نہیں تھا
زوار خود کو کمپوز کرتا دوسروں سے ملنے لگ گیا
سانیہ بیٹھی زینیا کو سمجھا رہی تھی کہ احمد ایا اور کہا
کیا پٹیاں پڑھای جا رہیں ہیں میری بھابھی پلس بہنا کو
کوی پٹیاں وٹیاں نہیں پڑھا رہی تمہارا ٹانگ اڑانا ضروری ہے کیا اسنے جل کر کہا
اوہ میڈم مینے تو پٹیوں کا کہا ہے وٹیوں کا تو نام بھی نہیں لیا ویسے یہ ہوتا کیا ہے اسنے مسکراہٹ دبا کر کہا
تم اپنے کام سے کام رکھو اسنے تپ کر کہا
دونوں چپ کرو کیوں پاگلوں کی طرح لڑ رہے ہو زینیا نے تنگ ا کر کہا
ہمیں کہ رہی ہو زینی
نہیں تم دونوں کے علاوہ کوی اور پاگل ہے کیا تو دونوں نے زینیا کی طرف اشارہ کیا اور پھر ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس پڑے اور زینیا منہ بنا کر بیٹھ گی
جب سانیہ کو لگا کہ یہ زیادہ فرینکلی ہوگیا تو اسنے احمد سے کہا اب زیادہ خوش فہمی میں نہ رہنا بندر
اور احمد ہنس دیا پاگل لڑکی
اچھا زینی میں چلتی ہوں کافی وقت ہو گیا ہے
میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں
نہیں میں چلی جاوں گی شکریہ وہ یہ کہ کر باہر چلی گی
بھابھی جی اپ فریش ہو جاٸیں کھانا اے گا کھا لینا اور پھر ارام کر لیجیے گا
وہ یہ کہ کر باہر چلا گیا
باہر زوار کھڑا تھا اسکے پاس سے ہوتے ہوے بغیر کوی بات کیے سانیہ پاس چلا گیا زوار نے مٹھیاں بھینچی
روکو چھوڑ اتا ہوں رات ہو گی ہے کیسے جاو گی
جیسے بھی جاوں تم کو اس سے کیا
کہا نہ چھوڑ اتا ہوں
نہیں چلی جاوں گی اسنے ضدی لہجے میں کہا
شششش احمد نے اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھی اور دو قدم اگے ہو کر اسکے قریب ہو گیا اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے کھینچ کر خود سے اور قریب کر لیا
سانیہ تو مرنے والی ہو گی
چھوڑ اتا ہوں تو ضد کیوں کر رہی ہو تم
اسنے یہ کہ کر اسکے بال کان کے پیچھے کیے اور شرارت سے کہا ویسے تمہیں دیکھ کر کچھ ہوتا ہے دل کو اور اس سے دور ہو گیا
سانیہ تو فل سپیڈ سے واہاں سے بھاگی اور احمد کا قہقہ گونجا
زینیا فریش ہو کر لیٹ گی تھی اور سوچ رہی تھی کہ پتا نہیں اب اسکی اگے زندگی میں کیا ہوگا اسے بس اتنا پتا تھا یہ زینیا ملک سے زینیا شاہ بن گی تھی
زوار سگریٹ پر سگریٹ پر رہا تھا کہ احمد ایا احمد اسے اگنور کرتا صوفے پر لیٹ گیا اور فون یوز کرنے لگ گیا
احمد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔احمد یار زوار نے اسے اوازیں پر اسنے انسنی کیں
یار احمد بات تو سن
تو احمد نے زوار کی طرف دیکھا اور اور ہینڈفری نکال کر کانوں میں لگا لی
اس حرکت نے زوار کو غصہ دلایا اور اسنے ایشل ٹرے زمین پر دے مارا اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا
احمد نے یہ دیکھا تو اسکا دماغ گھوم گیا اٹھا اور اسنے زوار کو گربان سے پکڑ کر اٹھایا اور کہا تو سمجھتا کیا ہے خود کو جب غصہ اے توڑ پھوڑ شروع کر دے اب کچھ بھی توڑا نہ تو تیرا منہ توڑ کر رکھ دوں گا
احمد کی بات سن کر اسے صوفے پر گریا اور خود اس پر چڑھ کر بیٹھ گیا
میں تو اپنے اپ کو زوار شاہ اور تیرا جگر سمجھتا ہو اور یار تو ناراض کیوں ہو رہا ہے سوری نہ زوار نے بےچارگی سے کہا
تو احمد نے منہ دوسری طرف کر لیا
یار احمد مت کر ایسا تو جانتا ہے تیری ناراضگی مجھ سے برداشت نہیں
تو تو بھی غصہ مت کیا کر اپنے کام سیدھے کر لے
یار سوری نہ اب کیا کروں جو تو مانیں گا
زوار پیچھے ہو کر بیٹھ گیا احمد بھی سیدھا ہو کر بیٹھ گیا احمد نے زوار کی طرف دیکھا جسکا چہرہ ضبط کرنے سے سرخ ہو چکا تھا زوار نے اسکی طرف دیکھا تو ایک انسو اسکی انکھ سے گرا تو احمد تڑپ کر رہ گیا یار زوی رو نہیں اور کس کے گلے لگا لیا
سوری اچھا اچھا ٹھیک ہے نہیں ہوں ناراض
احمد تو نکاح کے بعد ملا بھی نہیں جانتا ہے کتنا دل دکھا ہے میرا
میرا بہت دل تھا کہ تجھ سے ملوں پر وہ کیا ہے نہ کہ تجھے سزا دینا بھی ضروری تھا اور ساتھ میں دانتوں کی نمایش کی
اچھا ایک منٹ
زوار فرسٹ ایڈ باکس لایا اور اسکے ہاتھ کی پٹی کرنے لگ گیا اور احمد اسکے فون پر گیم کھیلنے لگ گیا
پٹی کرنے کے بعد اسنے احمد سے پوچھا زینیا کیسی ہے
یار زوی تونے بہت ڈرایا ہے اسے بڑی مشکل سے سمجھایا ہے خدا کے لیے تو اسکے سامنے غصہ مت کیا کر کنٹرول کر لیتا غصہ
یار اسکی حرکت نے غصہ دلایا تھا
ویسے زوار ایک بات پوچھوں اسنے کافی سنجیدگی سے کہا
ہاں بول
میری ساری زندگی تجھے سنبھالتے سنھالتے گزر جانی ہے
ہاہہاہاہااہا فکر نہیں کر تیری بھابھی اگی ہے ادھی زمہ داریاں وہ لے لے گی
خاک لے گی زمہ داریاں تیرے نام سے اسکے ہوش اڑ جاتے ہیں وہ تجھے سنبھالے گی
ہاہاہا کعی نہیں ڈر ختم کر دیں گے
اچھا زوی کمرے میں جا بھابھی کو تیری ضرورت ہے
اوکے میں چلتا ہوں خیال رکھیں
اوکے
زینیا نے دروازہ کھلنے کی اواز سے پیچھے مڑ کر دیکھا تو زوار تھا زینیا فوراً اٹھ بیٹھی
کیا ہوا بٹر فلاے اٹھ کیوں گی زوار نے بیڈ پر بیٹھتے ہوے پوچھا
وہ اپ
اسنے ہکلا کر کہا
ہوں اچھا سو جاو شاباش
نہیں زینیا نے کہا تو زوار تھوڑا سنجیدگی سے بولا لیٹ جاو اور سو جاو تو زینیا نے ڈر کے مارے لیٹ کر لمبل اوپر تک تان لیا
زوار مسکرایا اور پاس ہی لیٹ گیا
جب زینیا کو اسکی موجودگی کا احساس ہوا تو اٹھ بیٹھی
کیا ہوا
اپ یہا۔ں سو۔یں گے
ہاں کیوں
نہیں اپ یہاں نہیں سویں گے
کیوں اور کسنے کہا
میں کہ رہی ہوں نہ
اووووو اچھا کوں نہیں سو سکتا ہاں شوہر ہوں تمہارا اور اب اور بحث نہیں
تو زینیا بیڈ کے کونے میں لیٹ گی
یہ عمل زوار کو زرا پسند نہیں ایا اسنے زینیا کو کھینچ کو کر خود سے قریب کیا اور ہا دور جانے کا سوچنا بھی مت اور زینیا سمٹ کر رہ گی.
صبح زوار زوار اٹھا تو زینیا اسکے اگوش میں سوی ہوی تھی زوار نے مسکرا کر اسکے ماتھے پر لب رکھے اور اٹھ کر باہر چلا گیا
زینیا اٹھی تو اسنے دیکھا یہ اکیلی سوی ہوی تھی اسے رات کی ساری کاروای یاد ای اور دو انسوں اسکی انکھ سے ٹوٹ کر گرے اور اٹھ کر واشروم چلی گی نہا کر باہر نکلی اور اپنے بال سکھا رہی تھی کہ زوار کھانے کی ٹرے لے کر اندر ایا زینیا کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا پھر اپنے جزبات کنٹرول کرتا زینیا سے کہا او بٹرفلاے کھانا کھاتے ہیں
نہیں مجھے بھوک نہیں
ضد نہیں جانم کھانا کھاتے ہیں
کہا نہ بھوک نہیں
زوار اٹھا اور اسکی طرف قدم بڑھانے لگا اور اسے کمر سے کھینچ کر خود سے قریب کر لیا
جانو کھانا نہیں کھانا اسکی لٹ سے کھیلتے ہوے کہا
نہیں بھو۔ک نہی۔ں
انے اٹکتے ہوے کہا
زوار نے اسکی گردن سے بال ہٹاے اور اپنے دہکتے لب اسکی گردن پر رکھ دیے زینیا کے تو ہوش اڑ گے
ابھی بھی بھوک نہیں جانم
ہاں ہے بھوک اپ دور ہٹیں گے تو کھاوں گی
زوار مسکرا کر دور ہوگیا اور پھر دونوں نے مل کر کھانا کھایا
………………………….
احمد افس میں بیٹھا فاٸل دیکھ رہا تھا کہ اسے سانیہ یاد ای تو اسنے اسے فون کیا
ہیلو سانیہ کی نیند سے ڈوبی اواز ای
کیسی ہو سانیہ میڈم
کون؟
احمد ہوں
تم بندر ہمت بھی کیسے ہوی فون کرنے کی لنگور کی شکل والے میری نیند کا پیڑا گرک کر دیا بدتمیز
اوووو سٹوپ یار تم تو نان سٹاپ شروع ہو گی
اچھا ابھی میں بزی ہوں باے یہ کہ کر اسنے فن کاٹ دیا
تو احمد نے غصے سے فون ٹیبل پر پٹکا پاگل کڑی
………………………….
زوار نہا کر باہر نکلا تو بال تولیے سے رگڑ رہا تھا کہ اسنے زینیا کو مخاطب کیا
جانم تم ہنستی یا بولتی نہیں ہو
نہیں ایک لفظ میں جواب ایا
اچھا گونگی ہو تم
ہاں پھر ایک لفظی جواب
چلو پھر پیار کی زبان سمجھ لیتے ہیں اسنے محبت بھرے لہجے میں کہا
اپ بہت بدتمیز ہیں اور برے بھی ہیں اسنے انکھوں میں انسو لے کر کہا
تو زوار نے اسکی طرف قدم بڑھانے شروع کر دیے زوار ایک قدم اگے بڑھ رہا تھا اور زینیا ایک قدم پیچھے ہو رہی تھی کہ دیوار ساتھ لگ گی اسنے پہلے دیوار کو دیکھا پھر سہمی نظروں نظروں سے زوار کو دیکھا زوار نے ایک ہاتھ دیوار پر رکھا اور دوسرا اسکے منہ پر پھیرتے ہوے کہنے لگا
کیا کہا جانم تم نے
کچ۔کچھ بھی تو نہیں اسنے گھبرا کر کہا
زوار نے اسے خفا نظروں سے دیکھا اسکا جھوٹ بو لنا اسے اچھا نہ لگا
جھوٹ کیوں بولا
تو زینیا نے انکھیں بند کر لیں زوار کو اس پر بہت پیار ایا اسنے بے ساختہ اسکے لبوں پر اپنے لب رکھے اور خود کو سیراب کرنے لگا زینیا نے کس کر اسکی شرٹ کو پکڑ لیا اور انکھیں سختی سے میچ لیں
زوار نے چہرہ اٹھا کر دیکھا تو زینیا رو رہی تھی اور لمبے لمبے سانس لینے لگ گی
یار زینیا رو کیوں رہی ہو زوار اسکے انسوں صاف کرتے ہوے بولا
تو زینیا نے اسکے سینے پر مکا مارا اور کہا اپ سچ میں بہت برے ہیں
زوار مسکرایا اور کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ اسکا فون بجا اسنے کوفت سے فون دیکھا اور پھر زینیا کو پھر اس سے دور ہو کر فون اٹھا کر دیکھا تو قاسم کا تھا
ہوں قاسم زوار بات کرتا کرتا باہر چلا گیا
تو زینیا نے کچھ شرم سے اور کچھ رونے کی وجہ سے سرخ چہرہ شیشے میں دیکھا اور پھر اپنے ہاتھوں میں چھپا لیا
شاہ جی اپکو ایک خبر دینی ہے
بولو
عمران کے ادمی اے تھے اور انہوں نے توڑ پھوژ شروع کر دی تھی
پھر زوار کے تیور بدلے پہلے والا پیار اب کہیں دیکھای نہیں دے رہا تھا
تو سب کو موت کے گھاٹ اتار دیا
شاباش تم سے یہیں امید تھی اور سب کی لاشیں کہاں ہیں
سرکار یہیں ہیں
خوب ایسا کرو ان لاشوں کو عمران کے پاس بھیج دو اور کہنا شاہ نے تحفہ بھیجا ہے اور فون بند کر دیا
زوار کمرے میں ایا اور کچھ ڈھونڈنے لگ گیا اور ساتھ میں کہا
میں جا رہا ہوں کھانا کھا لینا اور ہاں انگلی اٹھا کر کہا طھاگنے کی کوشش بھی مت کرنا
تو زینیا نے تابعداری سے سر ہلایا
تو زوار مسکرایا اور کہا ایک بات تو بتاو
جی کیا
تم مجھ سے ڈرتی کیوں ہو
جن بھوت سے ڈرا ہی جاتا ہے اسنے بے ساختہ کہا اور پھر دانتوں تلے زبان دبای
اچھا جن بھوت زوار زینیا طرف بڑھا تو زینیا واشروم میں بھاگ گی اور زوار کا قہقہ گونجا
ڈرپاک کہیں کی اچھا میں جا رہا ہوں کھانا کھا لینا اور چلا گیا
افف یہ بندہ ہے یا کیا ہے ویسے ہے تو بہت خوبصورت افف کیا سوچ رہی ہے زینی
………………………….
زوار افس ایا تو احمد فایلز میں سر دے کر بیٹھا تھا
ارے واہ لوگ تو بصی محنتیں کر رہے ہیں
احمد نے زوار کی طرف دیکھا اور پھر فایلز دیکھنے لگ گیا
کیا ہوا موٹے
بس زوار شاہ بس میرے منہ نہ لگ تو میں بہت بزی ہوں تو تو چاہتا ہے میں ترقی نہ کروں خود ویلا مجھے بھی ویلا رکھنا چاہتا ہے احمد کی ایکٹنگ عروج پر تھی
اوے نوٹنکی باز میں تیرے منہ بھی نہیں لگنا چاہتا چھییی شرم احمد میں کیوں تیرے منہ لگوں گا زوار نے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا
اوے زوار لانتی گندے دماغ والے میری باتوں سے تجھے یہیں بات سمجھ ای اور اپنی واہیات باتیں اپنے پاس رکھ شریف لوگ پاس بیٹھے ہیں احمد نے کارلر چھاڑ کر کہا
کون شریف زوار نے حیرت سے ادھر ادھر نظر دوڑای
کمینے انسان میں احمد نے اپنی طرف اشارہ کیا
توبہ توبہ جھوٹا جتنا دماغ تو تیرہ گندہ ہے نہ مجھ جیسے شریف کو بھی تونے بیگاڑ دیا ہے
شریف او جا زوی دیکھ لی ہے تیری شرافت احمد نے جل کر کہا
کیا ہوا تپا ہوا کیوں ہے زوار نے پوچھا
شکر ہے میری یاد ای مجھے اب لگتا ہے مجھے ہمیشہ ایسے اکیلا ہی رہنا پڑے گا میرا جگر تو شادی شدہ ہوگیا میں کلا رہ گیا اسنے نہ ہونے والے انسو صاف کیے
ہاہاہاہاہا اوو نوٹنکی فکر نہیں کر سانیہ کے لیے علی سے بات کرتے ہیں
احمد نے حیرت سے زوار کی طرف دیکھا اوے جگر تجھے کیسے پتا
احمد تجھے بچپن سے جانتا ہوں اور ویسے بھی اندھا نہیں ہوں میں
ہاہاہا مجھے لگا اندھا ہے تو اسنے ہنس کر کہا
چل دفع ہو بھلای کا زمانہ ہی نہیں چل علی سے بات کرنا کینسل
ارے ارے مزاک کر رہا ہوں یار تو تو غصہ ہع گیا اور کندھے کے گرد بازو حماٸل کیے زوار ہنس دیا
جاری ہے🍁

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *