Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah NovelR50815 Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode02
No Download Link
965.9K
9
Rate this Novel
Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode01 Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode02 (Watching)Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode03 Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode04 Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode05 Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode06 Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode07 Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode08 Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Last Episode
Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode02
Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode02
زوار کی انکھ کھولی تو اسنے دیکھا یہ اسکا کمرہ تو نہیں تھا اسنے اپنی باییں جانب دیکھا تو احمد بیٹھا بیٹھا ہی سو چکا تھا زوار مسکرانے لگا اسنے اٹھ کر احمد کے کندھے پر سر رکھا کیونکہ یہ جانتا تھا احمد نیند کا بہت کچا ہے
احمد نے اپنی نیند سے بھری انکھوں سے زوار کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا
زوار نے بھی اسے دیکھ کر سمایل پاس کی
اٹھ گیا تو زوی
ہاں اٹھ گیا
ہم یہاں کیسے پہنچے زوار نے احمد سے کہا
گاڑی سے اے ہیں احمد نے لاپرواہی سے کہا
میرا مطلب ہم تو۔۔
رات کو کلب مے تھے
احمد زوار کی بات کاٹ کر بولا
اچھا تو پھر یہاں کب اے زوار ابھی بھی الجھا ہوا تھا
واہ جناب کو کچھ بھی یاد نہیں کم پی لینی تھی
احمد نے طنز کیا
سوری یار کچھ زیادہ ہی پی لی تھی
کچھ زیادہ نہیں بہت زیادہ پی لی تھی اسی لیے جناب کو نینا یاد ا رہی تھی
احمد نے گھور کر کہا
کیاااااااااا
احمد کی بات سن کر زوار ایک دم سے چینخا اور احمد نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے اور کہا
جی ہاں
تو کیا۔۔۔۔۔۔۔۔زوار نے بات ادھوری چھوڑ دی
جی نہیں ایسا کچھ نہیں ہوا میرے ہوتے بھلا ایسا کچھ ہو سکتا ہے پر تیرے پورے پلین تھے
احمد کہ کے بیڈ سے اٹھ گیا
زوار اٹھنے لگا تو ایک دم سے اسکی کمر مے درد ہوا
اہ۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا زوی
احمد نے فورا فکرمندی سے پو چھا
یار میری کمر مے درد نکلا
ہااہااہہاہا زوار کی بات سن کر احمد زور سے ہنسا اور کہا
تجھے کچھ یاد نہیں ہے
نہیں یار کیا ہوا جلدی بھونک
بتاتا ہوں رات کو جناب کا کلب سے جانے کا دل نہیں تھا تو مینے اٹھا کر لا تجھے گاڑی مے پٹھکا اسی لیے درد ہو ریا ہوگا
احمد کی بات سن کر زوار پہلے حیرت سے دیکھتا رہا پھر مسکرا دیا
اچھا زوار تو ریڈی ہو تب تک مے کچھ کھانے کو لاتا ہوں
چل ٹھیک ہے
………………………….
زینیا تیار ہو کر نیچے ای تو سامنے بھابھی کھڑی تھیں
سلام بھابھی زینیا نے ادب سے کہا
کالج بعد مے جانا پہلے گھر کی صفای کرلو میری طبیعت ٹھیک نہیں بھابھی نے نیا ارڈر صادر کیا
لیکن بھابھی اج میرا امپورٹنٹ لیکچر ہے مے اکر کر دوں گی
تو کیا اتنی دیر گھر گندا رہے گا ایک کام کیا کہ دوں تمھارے بہانے ہی ختم نہیں ہوتے
نہیں بھابھی ایسی بات نہیں ہے اج میرا فرسٹ پریڈ ہے بہت ضروری مینے وہ۔۔۔
ٹھاہ
ابھی اتنا ہی بعلی تھی کہ فرقان نے زینیا کے منہ پر ٹھپر مارا اور زینیا زمین پر جا گری انسو تیزی سے بہنے لگے
زبان لڑاتی ہے اپنی بھابھی سے جاو جا کر صفای کرو نہیں جانا تمنے اج کالج ای بڑی زبان لڑانے والی
زینیا روتی روتی کمرے مے چلی گی
جلدی باہر او صفای کرنی ہے پیچھے سے بھابھی نے ہانک لگای
………………………….
احمد کے جانے کے بعد زوار اٹھا تھا کہ اسکا فون وایبریٹ ہونے لگا
اسنے دیکھا تو ان ناون نمبر تھا
کون؟؟؟
شاہ کیسا ہے تو
زوار یے اواز تو لاکھوں مے بھی پہچان سکتا تھا
کمینے تیری ہمت بھی کیسے ہوی مجھے فون کرنے کی
کول ڈاون شاہ یار اخر میں تمہارے پاپا کا دوست ہوں
بکواس بند کرو اپنی دوست لانت بھیجتا ہوں م جھ پر
زوار نے غصے سے چلا کر کہا
ہاہاہاہاہا شاہ مجھے تو لگا تو مجھ سے بدلہ لے گا پر تو تو کاہروں کی طرح چھپ کر بیٹھ گیا ہاہاہاہاہ اسنے قہقہ لگایا
اسکی بات سن کر زوار نے بھی قہقہ لگایا اور کہا تجھے کیا لگتا ہے کے زوار شاہ ڈر گیا شیر ابھی سویا نہیں ہے باقی سب کے لیے شاہ نے اپنے اندر کا درندہ سلا دیا پر تو شاہ کو اچھے سے جانتا ہے مے کسی کو معاف نہیں کرتا تجھے بھی مے زمین مے زندہ گاڑ دوں گا تو بھی میرے ہاتھوں مرے گا کمینے انسان
زوار کی بات سن کر اسکا رنگ ایک دم فیقا پڑا
تم تم مجھے کبھی نہیں ڈھونڈ سکتے شاہ
کسے تسلی دے رہے ہو تم عمران اپنے أپ کو یہ بات تم بھی جانتے ہو زوار شاہ کے لیے کچھ بھی تم مشکل نہیں چل سن وہ جو تیری خوفیا ڈیل تھی جو تونے سإین ہونے کے بعد سبکے سامنے لانی تھی جانتا ہے وہ کینسل کس نے کروای مینے ہاہاہاہااہاہاہاہا زوار قہقہ لگا ک ہنسا
اور ادھر اسے جیسے اگ لگ گی ہو ہاں وہ کیسے بھول سکتا تھا اسکے اندر پلنے والے درندے کو یہ بات واقع ہی سچ تھی کے وہ اسے ڈھونڈ لے گا تو شاہ وہ ڈیل تمنے کینسل کروای تھی مے تجھے نہیں چھوڑوں گا
اسکی بات سن کر زوار کا قہقہ گونجا
اچھا دیکھتے ہیں تیرے تو مے اتنے ٹکڑے کروں گا کے تیرے گھر والے گنتے گنتے تھک جاییں گے
یہ کہ کر اسنے فون کاٹ دیا
ادھر عمران نے فون زمین پر پھینک کر توڑ دیا
زوار کے غصے کی بھی انتہا نہ تھی غصے مے ہر چیز توڑ رہا تھا اب اسکا غصہ ایک شخص ہی ٹھنڈا کر سکتا تھا اور وہ تھا احمد۔
زینیا اپنے کمرے مے بیٹھی اپنے ماما بابا کی تصویر دیکھ کر رو رہی تھی
ماما بابا اپ مجھے کیوں چھوڑ کر چلے گے بھای بھابھی بلکل بھی اچھے نہیں ہیں
زینیا کے بابا وقاس اور ماما علینہ کا ایکسیڈنٹ مے انتقال ہو گیا تھا علینہ وقاس کی دوسری بیوی تھی اور سارا اسکی پہلی بیوی اور فرقان کی ماما تھی
فرقان کے پیدا ہونے کے دو سال بعد مر گی تھی تو وقاس نے دوسری شادی کر لی فرقان کو علینہ بالکل پسند نہیں تھی حالانکہ وہ بہت اچھی تھی اسی لیے فرقان زینیا کو ناپسند کرتا تھا یہ بات زینیا کو نہیں پتا تھا کہ فرقان اسکا سوتیلا بھای ہے فرقان کے گھر اولاد نہ ہونے کا قصوروار بھی یہ زینیا کو سمجھتا تھا
زینیا روتی روتی ہی سو گی تھی
………………………….
زوار شراب پی رہا تھا کہ کسی نے اکر اسے ٹھپر مارا اور زوار لڑکھڑاتا ہوا زمین پر گر گیا غصے سے پیچھے مڑ کر دیکھا تو بس اپنا غصہ ضبط کرتا ہی رہ گیا
جی ہاں وہ اور کوی نہیں احمد تھا جس مے اتنی ہمت تھی ورنہ کوی اور ایسا کرتا تو زوار اسے ایک تھپر کے بدلے سو ٹکرے کر چکا ہوتا
احمد نے زوار کو گریبان سے پکڑ کر اٹھایا اور کہا یہ کیا کر رہے ہو کمرے کی کیا حالت بنای ہوی ہے اپنی حالت بھی دیکھ کیا ہو گیا ہے زوار تجھے
اح۔مد اس بی۔غیر۔ت انسا۔ن کا فون ایا تھا سب اس۔کا قصو۔ر ہے تو سمج۔ھ رہا ہے نہ
زوار نے ٹوٹے پھوٹے لفظوں سے کہا
کسکا فون احمد نے ناسمجھی سے کہا
عمران کا
کیا تو یہ سب اسکا کیا دھرا ہے اسکی تو ۔۔۔۔۔۔
اور زوار یہ تونے اپنی حالت ایسی کیوں بنای ہے
احمد کو بھی شدید غصہ ارہا تھا
احمد اسکے فو۔ن کر۔نے سے سب می۔رے زہن مے گھو۔م رہا ہے اپن۔ی ماں کی حا۔لت بابا۔۔۔۔۔۔۔
زوار نے غصے سے شراب کی بوتل توڑ کر کانچ اٹھایا ہی تھا کہ احمد نے کانچ کھینچ کر اسکے منہ پر ایک اور تھپڑ لگایا کانچ کھینچنے کی وجہ سے احمد کے ہاتھ پر لگ گیا تھا
زوار تھپڑ کھانے کے بعد دوبارہ کانچ اٹھانے لگا کے احمد نے اسکی کنپٹی پر مارا کہ وہ بےہوش ہو گیا
کیونکہ احمد جانتا تھا اگر وہ اسے بےہوش نہ کرتا تو وہ غصے مے خود کو نقصان پہنچاتا
اسنے زوار کو بیڈ پر لیٹایا اور خود پاس چیر پر بیٹھ کر سگریٹ سلگانے لگا
………………………….
سانیہ نے زینیا کو کتنی دفعہ فون کیا اخر پانچویں دفعہ زینیا نے اٹھا لیا
کیا یار زینی کب سے فون کر رہی ہوں
زینی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زینیا بول بھی
ہاں سن رہی ہوں رونے کی وجہ سے اواز بھاری ہو گی تھی
یار زینی تو روی ہے کیوں اور کالج بھی نہیں ای
کچھ نہیں
جلدی بول کوی بہانہ نہیں
تو اسنے سب سانیہ کو بتایا اور ساتھ رونے لگ گی
سانیہ اسے تسلی دینے لگی چھوڑ زینی اج تونے میرے گھر انا ہے نہ تو پھر کچھ دن میرے گھر رہے گی تو ریلیکس ہو جاے گی شادی بھی تو ہے ہےنہ چل رعنا نہیں اب
چل ٹھیک ہے الله حافظ
الله حافظ
………………………….
احمد اسوقت کرسی پہ بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا سگریٹ پینے کی وجہ سے اسکی انکھیں لال ہو چکیں تھیں ایشل ٹرے بھر چکا تھا ایک تو اس غم مے پی رہا تھا کہ اتنے عرصے کی محنت پہ پانی پھر گیا جو اسنے بہت مشکل سے زوار کے اندر کے درندے کو سلایا تھا وہ پھر جاگ چکا تھا اور دوسرا زوار کو مارنے کی وجہ سے پی رہا تھا اسے بہت دکھ ہو رہا تھا اسے مارنے پہ پھر یہ سوچتا اگر نہ مارتا تو وہ خود کو نقصان پہنچتا زوار کی انکھ کھولی تو اسنے دیکھا احمد کرسی پر بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا اسنے احمد کو بلایا
احمد یار
تو اسنے زور کی طرف دیکھا اور سگریٹ ایشل ٹرے مے مسل کر اسکے پاس بیٹھ گیا اور کہا
اب تو ٹھیک ہے زوار
نہیں أحمد میرا سر بہت پھٹ رہا ہے بہت زیادہ اسنے اپنا سر پکڑ کر کہا
احمد مے اس انسان کو زندہ نہیں چھوڑوں گا جیسے اسنے میرے ماما بابا کو مارا اسسے زیادہ درد ناک موت دوں گا
دیں گے زوار پر تسلی رکھ غصے مے کچھ غلط مت کریں سمجھا اسکی پہلے ہر پیاری چیز کو تباہ کرنا ہے پھر اسکو تو سمجھ رہا ہے نہ
احمد اسے پھر سے سمجھا رہا تھا جاکہ جانتا تھا زوار کو اب سمجھانا بہت مشکل کام تھا
ہاں سمجھ گیا
زوار نے اچانک شیشے مے دیکھا تو اسکا تھوبڑا بگڑا ہوا تھا اسکے ہونٹ پہ خون جم چکا تھا ہلکا سا سوجھ چکا تھا زوار یہ دیکھ کر مسکرایا اور کہا یہ تیرا کارنامہ ہے نہ احمد
سوری زوی یہ کہ کر احمد زوار کے گلے لگ گیا
جانتا ہوں میری حسین شکل تونے کیوں بیگاڑ دی ہے
احمد نے بتیسی دیکھای اور سوچا شکر ہے اسکا اس ثاپک سے دھیان ہٹا
اچھا زوی بیٹھ مے کھانا لے کر اتا ہوں وہ یہ کہ کر باہر چلا گیا
اور زوار خود کو شیشے مے دیکھنے لگ گیا
یہ لے زوی کھانا کھا لے
نہیں میرا موڈ نہیں
پلیز یار لڑکیوں کی طرح نکھرے نہ دیکھا مینے خود سے وعدہ کیا ہے کہ مے اپنے ہاتھوں سے کھانا صرف اپنے عزیز جان بیوی کو ہی کھلاوں گا اسی لیے نکھرے نہ دیکھا اور چپ چاپ کھا لے
زوار اسکی بات سن کر مسکرایا اور بولا نہیں یار میرا دل۔۔۔
ابھ اتنا ہی کہا تھا کہ احمد اسکی بات کاٹ کر بولا بولاکھا لے ورنہ تیری یہ شکل اور بیگاڑ دوں گا اسنے دھمکی دی
تو زوار کھانا کھانے لگ گیا
………………………….
زینیا کو اجازت تو مل گی تھی وہ جانتی تھی اب اسکا بھای اسے روکے گا نہیں جانے دے گا وہ پیکنگ کر رہی تھی کیونکہ پرسوں سانیہ کی بہن کی مہندی تھی
بیگ لے کر نیچے ای تو سامنے اسکا بھای بیٹھا تھا اسے خدا حافظ بول کر چلی گی
شکر ہے کچھ دن اس بلا سے جان چھوٹ گی
………………………….
کھانا کھانے کے بعد احمد برتن رکھ کر صوفے پر بیٹھ اور سنجیدگی سے بولا
شاہ اب مجھے سب بتاو
احمد اسے شاہ تب ہی بولتا تھا جب وہ بہت زیادہ سنجیدہ ہو
زوار نے اسے سب بتایا تو احمد کا خون خولنے لگا اسکا دل کیا سب تباہ کر دے پر اگر وہ خود اپے سے باہر ہو گیا تو زوار کو کون سنبھالے گا اسی لیے اسے ٹھنڈے دماغ سے کام لینا تھا
احمد نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا
زوار قاسم کو فون کر اور ملنے کے لیے بلا اسے عمران پر نظر رکھنے کو کہا تھا دیکھتے ہیں کیا خبر دیتا ہے اور اگلی کاروای علی کی بہن کی شادی کے بعد کریں گے
شاہ تو ٹھنڈا رہیں ورنہ عمران کی جگہ تیرا حشر نشر کر دوں گا
احمد کی بات سن کر اسنے قاسم کو فون کیا اور احمد کے گھر بلا لیا
احمد گھر مے اکیلا رہتا تھا اسکے ماں باپ نہیں تھے۔
زینیا جب سانیہ کے گھر پہنچی تو سب نے اسکا بہت اچھے سے استقبال کیا سانیہ کی امی بھی اسے بہت اچھے سے ملیں سب سے ملنے کے بعد سانیہ اسے اپنے کمرے مے لے ای
لو زینی یہ میرا کمرا تم فریش ہو جاو مے کھانا لے کر اتی ہوں پھر دونوں مل کر کھاتے ہیں
وہ اسے کہ کر چلی گی
اور زینیا بھی فریش ہونے چلی گی
………………………….
زوار کے بلانے پر اب قاسم انکے پاس کھڑا تھا
اور بتاو قاسم عمران کی کوی خبر زوار نے قاسم سے پوچھا
جی شاہ سإیں عمران لڑکیوں کی سمگلنگ حیدراباد کر رہا ہے بس تاریخ معلوم کرنا رہ گی ہے وہ بھی جلدی پتا چل جاے گی
کب پتا کرو گے جب وہ لڑکیوں کو حیدراباد بھیج دے گا
زوار نے گرج کر کہا
تو مانو جیسے قاسم کے ہوش اڑ گے ہوں
وہ شاہ ساییں فکر نہیں کریں کام ہو جاے گا
اسنے ڈرتے ڈرتے کہا
وہ تو ہونا ہی چاہیے اگر نہ ہوا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنے فقرہ ادھورہ چھوڑ دیا
قاسم نے مدد طلب نظروں سے احمد کی طرف دیکھا
تو احمد اپنی ہنسی کنٹرول کرتا قاسم سے کہنے لگا
جاو قاسم کام کر کے بتانا
تو قاسم شکر کا سانس لیتا وہاں سے چلا گیا
یار زوی کم از کم قاسم کو تو بخش دے وہ تو ہمارا وفادار ہے
یہی دھمکیوں کی وجہ سے ہی وفادار ہے اور مجھے تیرے علاوہ کسی پر بھی یقین نہیں کیا پتا یہ بھی غدار ہو
احمد نے افسوس سے اسکی طرف دیکھا
اور کہا کیا پتا مے بھی غدار ہوں
اسکی بات سن کر زوار مسکرایا اور پھر سنجیدگی سے بولا
امپوسیبل تو میرا جگر ہے دل ہے تو مجھے کبھی دھوکہ نہیں دے سکتا تجھ پر انکھ بند کر کر یقین ہے
احمد اسکی بات سن کر مسکرا دیا اور بولا
بل فرض اگر نکل ایا تو؟
تو احمد مے خود کی جان لے لوں گا
زوار کی بات سن کر احمد کے تیور بدلے اور کشن اٹھا کر مارنا شروع کر دیے
تیری ہمت بھی کیسے ہوی ایسا کہنے کی کبھی سوچی بھی نہ ورنہ مے بھی خود کی جان لے لوں گا
تو احمد تو بھی ایسا کبھی مت سوچیں تجھ پر خود سے بھی بڑھ کر یقین ہے
احمد نے زوار کو کھڑا ہونے کو کہا تو وہ ناسمجھتے ہوے کھڑا ہوا تو احمد نے اسے گلے لگا لیا
شکریا زوی اس یقین کے لیے
چل اسی خوشی مے پیزا کھاتے ہیں
تو زوار نے اسے گھور کر دیکھا تیرا یہ پیٹ کب فل ہوگا
میرے مرنے کے بعد احمد نے اپنی بتیسی دیکھاتے ہوے کہا
تجھے مرنے کا زیادہ شوق نہیں یہ نیک کام مے اپنے ہاتھوں سے نہ کر دوں
زوار نے گھور کر کہا
ہاے زوی جان اپکے ہاتھوں تو مرنا بھی منظور ہے
یہ کہ کر اسنے باہر دوڑ لگا دی کیونکہ زوار کو اس لاین سے سخت چڑ تھی
اکثر نینا اسے یہ کہتی تھی
احمد کے بچے ہاتھ لگ تو زرا میرے
زوار نے چلا کر کہا
سوری زوی میرے بچے نہیں ہے
جب دونوں بھاگ بھاگ کر تھک گے تو دونوں کھڑے ہو کر ہنسنے لگ گے
چل پیزا کھانے چلتے ہیں زوار نے احمد سے کہا تو دونوں گاڑی مے بیٹھ گے
احمد نے فون نکالا اور ارسلان کو فون کیا کمرے کی حالت چینج کرنے کو کہا اور کہا مے لسٹ بھیج رہا ہوں سامان لے کر گھر جا کر صحیح کروا دے
زوار نے اسے ناسمجھی سے دیکھا
تو احمد نے کہا جو تونے میرے گھر کا بیڑا گرک کیا ہے اسے صحیح نہیں کروانا ایسے تو مے وہاں نہیں رہوں گا پیزا کھانے کے بعد زوار اسے گھر چھوڑ کر خود بھی چلا گیا گھر۔۔۔
اففففف زینی ابھی تک تیار نہیں ہوی
بس ہونے لگی ہوں یہ ٹوکریاں انٹی کو دے اوں
زینی کام ہی کرتی ہے صبح سے اب تیار ہوجا مے دے اتی ہوں امی کو
سانیہ زینیا سے ٹوکریاں لے کر چلی گی
تو زینیا بھی کپڑے اٹھا کر واشروم مے چلی گی
سانی اور زینی کا ڈریس ایک جیسا تھا
زینی مے تیار ہو گی ہوں تو بھی تیار ہو جا مے اپی کو دیکھ اوں
زینیا نے تیار ہو کر خود کو اینے مے دیکھا
پیلے رنگ کی کڑتی اور گرین رنگ کا لہنگا جس پر گولڈن کام ہوا تھا اوپر پیلے اور گرین کلر کا دوپٹہ جو طریقے سے سیٹ کیا تھا بالوں کی چوٹیا بنا کر اس پر پھول لگاے ہاتھوں مے گجرے کانوں مے جھمکے نیلی انکھوں مے کاجل پنک کلر کی لپسٹک اور گولڈن کلر کی شوز پہنٕے وہ حد سے زیادہ خوبصورت لگ لگ رہی تھی
خود کو اینے مے دیکھ کر خود ہی شرما گی
تم تیار ہو گی زینی چلا چل۔۔۔۔ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ زینیا کو دیکھ کر خاموش ہو گی
اسکے چپ ہونے پر اسنے پہلے خود کو دیکھا پھر پھر سانیہ کو۔۔
کیا ہوا سانی اوووررر لگ رہا ہے
نہیں زینی
You look osaammm
Beautifull
الله تجھے نظر نہ لگاے جانو یہ کہ کر وہ اسکے گلے لگ گی
چل اب چلتے ہیں جانوں
………………………….
زوار تیار ہو کر خود پر پرفیوم چھڑک رہا تھا کہ احمد واشروم سے نکلا
دونوں جہاں بھی جاتے تھے اکھٹے تیار ہوتے اور ایک جیسا سوٹ پہنتے تھے
واہ زوی تو تو مجھ سے زیادہ ہینڈسم ہوتا جا رہا ہے اور چٹا بھی کونسی کریم لگاتا ہے
احمد تولیے سے اپنے بال رگڑتا نارمل اناز مے کہ کے اسے اگ لگا چکا تھا
کمینے انسان پہلے ہی ہینڈسم تھا مے اور تیرے سسر نے کریم لا کر دی ہے لانتی نہ ہو تو
زوار نے گھور کر کہا
زوار کی بات سن کر احمد ہنسنے لگ گیا
اور زوار احمد کو گھور کر خود کو اینیے مے دیکھنے لگ گیا
اسنے وایٹ شلوار قمیض اوپر کالی واسکٹ پہنے ایک ہاتھ مے قیمتی واچ اور ہمیشہ کی طرح بال ویسے ہی بے ترتیبی لیکن پھر بھی وہ کسی ریاست ریاست کا بادشاہ ہی لگ رہا تھا
اسکے مقابل احمد کی بھی سیم ڈریسنگ تھی بس بال ترتیب سے سیٹ تھے اور وہ بھی بے انتیہا ہینڈسم لگ رہا تھا
………………………….
ہاے عایشہ اپی اپ کتنی پیاری لگ رہی ہیں زینیا نے کھل کر تعریف کی تو وہ شرما دیں اور سب ہنس دیے
چلو لڑکیو جلدی او مہندی اتی ہی ہوگی چلو چلو
تو سب نیچے چلیں گی
………………………….
ہاے زوار احمد اگے تم دونوں علی نے گلے ملتے ہوے کہا
نہیں ابھی رستے مے ہی ہیں احمد نے جل کر کہا
اس کی بات سن کر علی نے قہقہ لگایا اور زوار مسکرانے لگ گیا
چلو اندر چلتے ہیں
جب اندر اے تو زوار کی سٹیج پر نظر گی اور ٹھہر گی وہاں زینیا کھڑی کسی بات پر ہنس رہی تھی
زوار کی نظر اس پر سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے ہی تھی
اوے زوی کدھر کھو گیا چل چلتے ہیں احمد نے بازو سے ہلا کر کہا
ہاں ہاں چل زوار نے گڑبڑا کر کہا
تو احمد اسے شکی نظروں سے دیکھنے لگ گیا
چل کمینے اب نظر نہ لگا دیں چل اب
زینیا بیٹی جاو اندر سے پھولوں کی ٹوکریاں لے او مہمان اتے ہی ہوں گے
جی انٹی ابھی لے کر ای
زوار کا فون بجا تو دیکھا شازیہ کا فون تھا
ہیلو۔۔۔۔۔۔۔ہیلو
احمد مے فون سن کر ایا یہاں اواز نہیں ا رہی
زوار فون سنتا سنتا کچن کی طرف چلا ایام
فون سنے کے بعد جیسے ہی موڑا زینیا کے اندر ٹکرایا زینیا گرنے لگی کے زوار نے اسے پکڑ لیا اور جو ہاتھ مے پھولوں کی ایک ٹوکری تھی وہ ان دونوں کے اوپر گر گی زینیا نے اپنی انکھیں میچیں اسکی شرٹ کو کس کر پکڑا ہوا تھا
کہ زوار نے اسکے کان مے سرگوشی کی
مس اپ بچ گی ہیں گرنے سے
زینیا نے انکھیں کھولیں تو زینیا اسکی باہوں مے تھی
زوار اسکی نیلی انکھوں مے جیسے کھو گیا ہو
“کیا کشش تھی اسکی انکھوں مے
مت پوچھ
مجھ سے میرا دل لڑ پڑا کے مجھے وہ شخص چاہیے”
زوار اسے اتنا قریب دیکھ کر اپنے ہوش گوا بیٹھا تھا
پلیز چھوڑ دیں مجھے
چھوڑ دیا تو گر جاو گی
زوار نے مدہوشی مے کہا
نہیں میرا مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب کوی بات نہ بنی تو نظریں جھکا لیں
زوار نے مسکرا کر ارام سے خود سے دور کیا
سوری زینیا نے شرمندگی سے کہا
اٹس اوکے کبھی اسکریم تو کبھی اپ خود
زوار نے مسکرا کر کہا
زینیا اور شرمندہ ہو گی
زینیا ا جاو ٹوکریاں لے کر مہندی ا گی ہے
اگی انٹی
زینیا کچن مے جا کر ساری ٹوکریاں اٹھا کر باہر چلی گی
اور زوار نے بےساختہ اپنے دل پر ہاتھ رکھا
اففف تیری نیلی انکھیں
اور دوبارہ فون پر نمبر ملانے لگ گیا
سانیہ اپنے دھیان مے سیلفیاں لے رہی تھی کے پیچھے کھڑا احمد جو فون یوز کر رہا تھا اس مے ٹکرای
اوے پاگل لڑکی اندھی ہو کیا
احمد نے گھور کر کہا
ہاں اندھی ہوں پر تم تو نہیں نہ اندھے تم دیکھ لیتی جواباً اسنے بھی گھور کر کہا
بدتمیز
تم تمیز دار ہو نہ مے بدتمیز ہی سہی
سانیہ نے زبان چڑھا کر کہا
اسکی اس حرکت پر احمد مسکرا دیا
سوری کرو سانیہ نے انگلی اٹھا کر کہا
تو احمد نے پہلے انگلی دیکھی پھر اسے
چھٹانک بھر کی لڑکی ہو اور مجھ سے سوری کرواو گی احمد دو قدم اگے ہو کر اسکے قریب ہو ہوکر کہا
تو سانیہ نے سٹپٹا کر کہا ارے جاو معاف کیا علی بھای کے دوست ہو یہ کہ کر جلدی سے وہاں سے بھاگ گی
اور پیچھے احمد کا قہقہ گونجا
زوار واپس ایا تو احمد نے کہا اگیا فون سن کر کسکا تھا
چچی جان کا
اور دونوں سٹیج کی طرف چل دیے
زوار کی بار بار نظر زینیا کی طرف جاتی اور مسکرا دیتا زینیا جب دیکھتی تو شرمندہ ہو کر منہ نیچے کر لیتی
احمد جب سانیہ کو دیکھتا تو وہ زبان چڑھا دیتی تو تواحمد ہنس دیتا
پاگل لڑکی احمد نے سوچا
احمد کی جب زینیا پر نظر گی تو اسنی زوار کو کہنی ماری اوے زوی وہ دیکھھھ اسکریم والی
یار تونے اب دیکھی مے دیکھ چکا ہوں اور ساتھ مے مسکرا دیا
ہاے دال مے کچھ کالا نہیں پوری دال ہی کالی ہے کیا بات ہے بڑا مسکرایا جا رہا ہے
احمد نے چھیرتے ہوے کہا تو زوار نے اسے گھورا ایسے ہی مہندی اختتام کو پہنچی۔
جاری ہے
