Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah NovelR50815 Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode01
No Download Link
965.9K
9
Rate this Novel
Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode01 (Watching)Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode02 Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode03 Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode04 Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode05 Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode06 Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode07 Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode08 Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Last Episode
Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode01
Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode01
وہ اسوقت کلب میں شراب کے نشےمیں بیٹھا لڑکیوں کو
ناچتا ہوا دیکھ رہا تھا کے اتنے میں نینا أی ہاے زوار وہ جو بلیک پینٹ شرٹ بکھرے ہوے بال ہلکی بڑی ہوی شیو ایک ہاتھ مے قیمتی گھڑی پہنے ہوے لڑکیوں کو دیکھنے مے مگن تھا ایک دم سے اسے دیکھ کر کالی أنکھوں مے بیزاریت چھإی اور نہایت اکتاہت بھرے لہجے مے کہا کیا مسلہ ہے اور أگ.ے بھی نینا تھی اسکی بیزاریت کو اگنور کر کے بہت مزے سے کہتی OfcorZ زوی جان تم سے ملنے إٔی ہوں
زوار نے جو ہاتھ مے شراب کا گلاس پکڑا ہوا تھا میز پر پھینک کر اٹھ گیا ابھی جانے ہی لگا تھا کے نینا نے اسکا ہاتھ پکر لیا اور کہا
کہاں جا رہے ہو زوی تو زوار نے اپنی سرخ أنکھوں سے اسکی طرف دیکھا اور کہا جہنم مے جا رہا چلو گی اور نینا نہایت ہی بےشرمی سے بولی
زوی جان جہاں کہو گے جانے کو تیار ہوں وہ اپنی شعلہ بار أنکھوں سے اسکی ترف دیکھتا اپنا ہاتھ چھڑوا کر کلب سے باہر نکل گیا نینا بس غصے سے اسے دیکھتی رہ گی ایک تو مے اس جناب کے لیے کلب إی اوت یے جناب ہیں کے وہ یہی سب سوچتی کلب کے دسرے کونے مے چلی گی
وہ جو گہری نیند مے سو رہی تھی ایک دم فون کی بیل بجی اس نے کوفت سے فون دیکھا تو سانیہ کا فون تھا اسنے یس کیا اور فورن شروع ہوگی کیا مسلہ ہے تم مجھے سونے کیوں نہی دیتی تم ہاتھ لگو زرا میرے تمہارا قیمہ بنا دوں گی بریک تو زینیا کو تب لگی جب سانیہ بولی أج میم تمرین نے ٹیسٹ لینا ہے اور تم ابھی تک سو رہی ہو پانچ منٹ مے کالج پہنچو الله حافظ اتنا کہ کر سانیہ نے فون کاٹ دیا
زینیا تو جیسے ہوش مے إی ویسے یونیفارم اٹھا کر واشروم میں چلی گٕی اور ادھر سانیہ فون کو دیکھ کر مسکرانے لگی۔
زینیا نے تیار ہو کر ایک اخری نظر خود پر ڈالی وإیٹ یونیفارم ٹیل پونی کر کے حجاب کیا گوری رنگت نیلی أنکھوں مے کاجل پنک ہونٹ جنہیں لپسٹک کی ضرورت نہی ایک ہاتھ مے گرلز واچ دسرے ہاتھ مے بریسلٹ اوپر بلیک جیکٹ پہنے وہ کوٕی حور پری ہی لگ رہی تھی خود کو إٔیینے مے دیکھ کر بیگ اٹھا کر نیچے أگی
اسکی بھابھی جو بیٹھی ہوی تھی زینیا کو دیکھ کر فورن طنز مارا أگٕی مہرانی ابھی کھانا مانگے گی جیسے مے اسکے لیے لے کر بیٹھی ہوں اور بھی بہت کچھ کہ رہی تھی جو کی زینیا نیچے منہ کییے سن رہی تھی أنکھوں مے سے أنسوں نکلنے کو بےتاب تھے یہ تو روز کا معمول تھا زینیا اپنے آنسو پیتی گھر سے چلی گٕی
………………………….
زوار سو کر اٹھا تو گھڑی پر ٹایم دیکھا تو گھڑی نو بجا رہی تھی پہلے تھوڑی دیر زوار اپنا سر ہاتھوں مے گرا کر رات کی کاروإی سوچتا رہا اور پھر اٹھ کر اپنے کپڑے لے کر واشروم مے چلا گیا واشروم سے باہر نکلا تو اس کا فون وإبریٹ کر رہا تھا اس نے فون دیکھا تو احمد یار کا نمبر جگمگا رہا تھا اس کا نام دیکھ کر زوار کے منہ پر خود بہ خود مسکراہٹ چھا گی جیسے ہی اسنے یس کیا تو احمد فورن شروع ہو گیا کیا مسلہ ہے ترا کب سے فون کر رہا ہوں کہا مر گیا تھا تو اور بھی بول رہا تھا اور زوار بس سن کر مسکرا رہا تھا جب احمد کو لگا وہ بس اویں ہی بول رہا ہے تو پھر سے شروع ہو گیا اب بکواس بھی کر یا مے ہی بولوں یا تیرے منہ پر ٹیپ لگی ہوی ہے
احمد یار تو بلنے کا موقع دے گا تو مے بولوں گا اپنی بکواس ہی کییے جا رہا
ہاں ہاں اب تو مری باتیں بکواس ہی لگیں گی خیر مینے یے بتانے کے لیے فون کیا ہے کے مے تجھ سے ناراض ہوں احمد کی بات سن کر زوار قہقہ لگا کر ہنسا اووووووو جگر تونے یے بتانے کے لیے فون کیا تھا تو مرا اویں ٹإٕیم ہی ویسٹ کیا اور یے بات احمد کو تپانے کے لیے کافی تھی تجھے یے بات چھوٹی لگ رہی ہے کمینے انسان جا مے تجھ سے اور ناراض ہو گیا ہوں اور ہاں اگر منانا ہو تو اپنی پرانی جگہ پر آجإیں یہ کہ کر فون کاٹ دیا اور ادھر زوار کا قہقہ کمرے مے گونجا
…………………………
زینیا جب کالج پہنچی تو سانیہ اسے سامنے بینچ پر بیٹھی نظر آ گی زینیا جا کر اسکے ساتھ بیٹھ گی اور بولی سوری۔
سانیہ جو اسے تنگ کرنے کا ارادہ رکھتی تھی زینیا کی بھیگی آواز سن کر فورن اسکی طرف دیکھا کیا ہوا زینی ۔
زینیا نے جیسے منہ اٹھایا رونے کی وجہ سے سرخ آنکھیں لال ناک جو رونے کی وجہ سے اور لال ہو گی تھی سانیہ نے جیسے اسکی طرف دیکھا تو اسکی شکل دیکھ کر سانیہ کو جھٹکا لگا یار زینی آج پھر بھابھی نے کچھ کہا ہے تو زینی نے اپنا سر اثبات مے ہلایا
آہہہہ اچھا چھوڑو زینی جانووووو آو کنٹین چلتے ہیں مجھے بہت بھوک لگی ہے اور یقینن تم کو بھی لگی ہوگی چلو جانوووووو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زوار نیچے آیا تو شازیہ (زوار کی چچی) اسے دیکھ کر مسکرإی اور بولیں سلام میرا بچہ زوار نے سنجیدگی سے سلام کا جواب دیا
جانے لگا کے شازیہ نے کہا رک جاو ناشتہ تو کر لو
نہیں چچی جان دل نہیں آفس کر لوں گا ام کلثوم(شازیہ کے بیٹی اور زوار کی کزن) آٸ اور بولی سلام زوار بھإی جان پلیز مجھے کالج چھوڑ دیں ڈرإیور ابو ساتھ گے ہیں
ٹھیک ہے مے باہر انتظار کر رہا ہوں اوکے زوار ام کلثوم کو کالج چھوڑ کر خود آفس چلا گیا۔
رولنمبر 429
present mam
جی زینیا جی آپ کل کالج نہی آییں میم نے اپنا چشمہ اتار ک زینیا کو دیکھا انکے اس طرح پوچھنے پر زینیا گھبرا گی
وہ میم میں مجھے آآآآآ
زینی بخار تھا نیچے سے آہستہ سے سانیہ نے کہا
زینیا فورن بولی جی میم وہ مجھے بخار تھا
سیریسلی مس زینیا میم تمرین نے زینیا کو جانچتی ہوی نظروں سے کہا
یسس میم زینیا تھوڑا کھانستے ہوے اور معصومیت سے بولی
Ok sit down
یار سانیہ کل مینے ہی اکیلی نے چھوٹی کی تھی لیکچر ختم ہونے کے بعد زینیا سانیہ سے پوچھ رہی تھی
نہیں یار اور بھی لڑکیوں نے کی تھی کیااااا تو میم کو بس مے ہی ملی ہوں پوچھنے کے لیے ایسے ہی باتیں کرتیں کرتیں وہ کنٹین کی طرف چلی گٕیں
………………………….
زوار اپنے کیبن مے بیٹھا سر پیچھے کرسی پر ٹکا کر سگریٹ پی رہا تھا کے اتنے مے رحیم اسکا سیکرٹری آیا
سر آج اپکی میٹنگ ہے آپ الریڈی آدھا گھنٹہ لیٹ ہو گے ہیں سر رفیق آپ کا میٹنگ روم مے انتظار کر رہے ہیں
رحیم کی بات سن کر اسنے آنکھیں کھول کر اسکی طرف دیکھا اور پوچھا
اس میٹنگ مے فإدہ کس کو ہے
سر رفیق سر کو
اچھا تو پھر انہیں اور انتظار کرنے دو آدھا گھنٹہ اور ہاں آدھے گھنٹے بعد میٹنگ روم مے آوں گا مے اب جاو تم
اسے بھہیج کر زوار سگریٹ کے بڑے بڑے کشش لینے لگ گیا
میٹنگ سے فارغ ہو کر زوار نے احمد یار کو فون کیا
احمد جو اپنے اوپر پرفیوم کی بارش کر رہا تھا ایک دم سے اسکا فون بجا فون پر جگرزز کالنگ دیکھ کر مسکرانے لگا اور فون اٹھایا
یسسس جگر بولو
احمد اآدھے گھنٹے مے مجھے اپنے فیورٹ ہوٹل مے مل یے کہ کر اسنے فون کاٹ دیا تو احمد جلدی جلدی تیار ہو کر گاڑی کی چابیاں اٹھا کر گھر سے نکل گیا
………………………….
سانیہ یار چل نہ وہ دیکھ آسکریم پارلر چل وہاں چل کر آسکریم کھاتے ہیں زینیا تو جیسے آسکریم دیکھ کر پاگل ہو گی
نہیں یار زینی سردی دیکھی ہے تو پاگل ہے جو اتنی سردی مے آسکریم کھاے گی تو ایسا کر ساتھ یے ہوٹل ہے یہاں چل کر پیزا کھاتے ہیں آسکریم کو چھوڑ
نہیں مجھے آسکریم کھانی ہے
یار رہنے دے نہ
ہاں ٹھیک ہے تجھے تو میری کوٕی فکر ہی نہیں ہے کے میرا کچھ کھانے کو دل ہے جا کوی نی
(ایموشنل بلیک میلنگ)
اچھا چل میری جانو کھاتے ہیں تو منہ نہ بنا
زینیا کھل کے مسکرای
………………………….
ہو گیا بیغیرت انسان تیرا پیٹ فل یا اور کچھ کھانا ہے زوار نے احمد سے پو چھا
نہیں یار مے تجھ کو اتنا پیٹو لگتا ہوں اب مے اتنا بھی نہیں کے پیزا کھا کر فل نہ ہوں احمد اپنی بتیسی دیکھاتے ہوے کہنے لگا
جب دونوں ہوٹل سے باہر نکلے تو احمد کا فون وایبریٹ کرنے لگا
ایک منٹ تو گاڑی کے پاس جا مے آ رہا ہوں
………………………….
زینیا آسکریم لے کر جیسے ہی موڑی پیچھے کھڑے زوار کے ساتھ ٹکرای تو ساری آسکریم زوار کے کپڑوں کو لگ گی
اوہہہ سوری سوری پلیز سوری مینے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا پلیز معاف کر دیں
زینیا شرمندگی سے بار بار سوری کیے جا رہی تھی
اور زوار کی آنکھیں زینیا کے چہرے کا طواف کر رہیں تھی
سکتہ تو اسکا تب ٹوٹا جب احمد نے پیچھے سے آ کر کہا چل یار چلتے ہیں پر جیسے ہی نظر زوار کے کپڑوں پر گی تو دھنگ رہ گیا زوار یے کیا ہوا
یے مجھ سے غلطی سے ہو گیا ایم سوری زوار کے بولنے سے پہلے زینیا بولی
اٹس اوکے
احمد جو سمجھ رہا تھا کے اس لڑکی کی اب خیر نہیں اسکو زوار سے کیسے بچاے تو زوار کے منہ سے اٹس اوکے کا لفظ سن کر اسے حیرت کا جھٹکا لگا
زینیا شکریہ کہ کر جا چکی تھی جب وہ نظروں سے اوجھل ہوی تو اسنے احمد کی طرف دیکھا جو اسے گھور رہا تھا
کیا ہوا
یار زوی یے تو ہی تھا نا یار تو کب سے معاف کرنے لگا تو اور اٹس اوکے تیری ڈکشنری مے تو میرے علاوہ کسی اور کے لیے تو اٹس اوکے کا لفظ ہی نہیں تھا تو پھر یے کیا مجھے تو لگا تو اس لڑکی کو چھوڑے گا نہیں احمد بس نان سٹاپ بولے جا رہا تھا
اسٹاپ اٹ احمد یار اب مے اتنا بھی ظالم نہیں معصوم لڑکی تھی غلطی سے ہوا
زوار نے جھنجلا کر کہا
جہا تک میرا خیال ہے زوار کوی کتنا معصوم ہی کیوں نا ہو تو نہیں نخشتا کسی کو احمد اسے جانچتی ہوی نظروں سے پوچھنے لگا
اچھا میرے باپ فل حال تو تو مجھے بخش دے چل اب
زوار اسے کھینچ کر لے گیا اور احمد ابھی تک حیرت میں تھا۔
یار زینی میری أپی کی شادی ہے اور تمنے لازم أنا ہے اگر تم نا ای نا تو مینے تمکو چھوڑنا نہیں اچھا أ جاوں گی میری جان بس بھای اجازت دے دیں
وہ دونوں اس وقت بس سٹاپ پے کھڑی بس کا انتظار کر رہیں تھیں
اچھا مے جا رہی ہوں میری بس أ گی الله حافظ اور ہاں اپنے بھای سے بات کر لی
کچھ دیر بعد زینیا بھی اپنی بس مے اپنے گھر کے لیے روانہ ہو گی
زینیا جب گھر پہنچی تو فرقان زینیا کا بھای سامنے بیٹھا تھا زینیا ڈرتی ڈرتی اسکے پاس جا کر بیٹھ گی اور اپنے ہاتھ ملنے لگی
بھای وہ کچھ بات کرنی ہے
بولو فرقان نے کافی بیزاریت سے کہا
بھای سانیہ کی بہن کی شادی ہے کیا مے جا سکتی ہوں
اچھا ٹھیک ہے
اتنی اسانی سے مان جانے پر تو زینیا کو اپنے کانوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا
شکریہ بھای وہ یہ کہ کر اپنے کمرے مے چلی گی
اسکے جانے کے بعد ریحانہ اسکی بھابھی فورا بولی اپنے اسے اجازت کیوں دی
اسی لیے دی تکہ اس بلا سے کچھ دن جان چھوٹ جاے
زینیا نے اجازت ملنے والی خوشخبری سانہ کو سنای اور کپڑے لے کر واشروم مے چلی گی
………………………….
زوار بیٹھا زینیا کے بارے مے سوچ رہا تھا کے ایک دم سے دروازہ کھٹکا
زوار بھای کیا مے اجاوں
اجاو گڑیا
زی بھای نیچے مہمان اے ہیں علی بھای اور انکی فیملی ای ہے
اوکے ارہا ہوں
زوار ڈراینگ روم مے جاتا ہے تو علی اور اسکی فیملی پیٹھی ہوی تھی زوار سب سے مل کر علی سے گلے ملا اور بیٹھ گیا
زوار یے کارڈ ہے میری بہن کی شادی ہے اور تمنے لازمی انا ہے
دیکھوں گا
زوار دیکھوں گا نہیں پکا انا ہے ورنہ تجھے اٹھا کر لے جاوں گا
اچھا اجاوں گا
اتنے مے احمد ایا تو اسنے بھی سبکو مشترکہ سلام کیا اور علی سے مل کر بیٹھ گیا
علی خیر تو یہاں احمد نے علی سے پوچھا
شکر ہے احمد تو یہیں مل گیا ورنہ تیرے گھر جانا پڑتا یہ لے میری بہن کی شادی کا کارڈ تونے انا ہے لازمی
زوار تو جا رہا ہے شادی پر احمد نے زوار سے پوچھا
ہاں جا رہا ہوں
تو ٹھیک ہے علی تیری بہن کی شادی مے میں ضرور اوں گا
اوکے ہم چلتے ہیں کہیں اور بھی جانا ہے الله حافظ ٕعلی انسے مل کر چلا گیا
شازیہ بھی رات کے ڈنر کی تیاری کے لیے اٹھ گی
اب ڈاینگ روم مے زوار اور احمد رہ گے تھے زوار صوفے کی پشت پر سر ٹکا کر انکھیں موند کر کچھ سوچ رہا تھا اور احمد اسے دیکھ رہا تھا اخر رہا نہ گیا تو اسنے کہ دیا
اووو بینیرت انسان کونسی یادوں مے گم ہے کہ تجھے مے نظر نہیں ارہا
زوار نے اسکی طرف دیکھا اور کہا کچھ نہیں
زوی کیا ہوا تو ٹھیک تو ہے
ہاں ٹھیک ہوں یار
اچھا ایک بات تو بتا احمد نے کافی سنجیدگی سے کہا
زوار بھی سیدھا ہو کر سنجیدگی سے دیکھنے لگا
ہاں بول
تم لوگوں کے ڈنر کا وقت کب ہونا ہے
کچھ دیر مے ہی کیو زوار نے جھنجلا کر کہا
یار بڑی بھوک لگی ہے اج یہی ڈنر کر لوں سوچ رہا ہوں ویسے بھی اب کھاے بنا مہمان جاے تو اچھی بات نہیں نا ہے ڈنر تو ہونے ہی والا ہے تم لوگوں کو گھر احمد نے کافی معصومیت سے کہا
اور کمینے انسان تجھے ایسا کیوں لگتا ہے کے مے تجھے یہاں ڈنر کرنے دوں گا اور رہی بات مہمان کی تو تو کہا سے مہمان ہے زوار نے اسے گھور کر کہا اور سوچا یہ کبھی سیریس نہیں ہو سکتا
ہاے دوست دوست نا رہا مے ایتھے کلا رہ گیا احمد کی دوہایاں عروج پر تھی
بکواس بند کر اپنی زوار نے مسکرا کر کہا
چچی چچی جان احمد اونچی اونچی شازیہ کو بلانے لگ گیا
بولو بیٹا کیا بات ہے
چچی کیا مے ڈنر ییاں سے کر لوں نہایت معصومیت سے کہا کہ زوار غش کھاتا رہ گیا کمینے اور منہ مے بڑبڑایہ
کیوں نہیں بیٹا کھا لو مینے تو پہلے تمہے کھا تھا کے ڈنر ہمارے ساتھ کرنا مے کھانا لگاتی ہوں تم دونوں اجاو وہ یہ کہ کر چلی گی اور احمد نے اپنا کارلر جھاڑا
زوار احمد پر لانت بھیجتا اٹھ گیا
کھانا کھانے کے بعد
چل یار احمد کلب مے چلتے ہیں زوار نے احمد سے کہا
نہیں زوی میرا دل نہیں ہے
ہاں کھانا ٹھوس لیا اب تیرا دل نہیں ہے
احمد بس اسے گھورتا ہی رہ گیا
تو چل رہا ہے احمد یا مے ایک لگاوں
اور احمد کسی لڑکی کی طرح زوار کے کندھے پر سر رکھ کر کہنے لھا ڈارلنگ اب تم مجھے ایک لگاو گے
اسنے اتنے ڈرامای انداز مے کہا کے اسکا قہقہ پورے گھر مے گونجا شاید وہ بہت عرصے بعد ایسے کھل کر ہنسا تھا احمد نے اور شازہ نے مل کر اسکی خوشی کی دعا کی
اور زوار اسے کھینچ کر گاڑی کی طرف لے گیا اور دونوں کلب کی طرف روانہ ہو گے
………………………….
تین دن بعد شادی ہے تم ارہی ہو نا اس وقت دونوں کال پے بات کر رہیں تھیں
ہاں جانو ارہی ہوں پکا والا اوں گی
مکرو گی تو نہیں نہ
نہیں مکرتی یار اب ساین کر کے دوں
اسنے اکتاہتے ہوے کہا
کیوں کے جب سے فون کیا تھا وہ ایک ہی رٹ لگا کر بیٹھی تھی
………………………….
“روپ کے جلووں کی ہاے کیا بات ہے
اک گناہ کر دوں گناہ کی رات ہے”
وہ دونوں کلب مے بیٹھے تھے اور زوار نے بے حد شراب پی رکھی تھی
احمد اسے پینے سے منع کرتا پر وہ یہ کہ دیتا یار احمد اسے پینے سے مجھے تسکین ملتی ہے سکون ہے اسمے تو بھی پی یار مزہ ے اور احمد انکار کر دیتا
احمد کو شراب بلکل پسند نہیں تھی وہ کلب اتا تو تھا پر شراب نہیں پیتا تھا اور جب زوار احمد کے ساتہ کلب اے تو وہ کچھ زیادہ ہی پی لیتا تھا کیوں کے وہ جانتا تھا احمد اسے سنبھال لے گا
یا.ر اح…مد نینا کہا.ں ہے دیکھ تجھ.ے نظر أ رہی ہے
اسنے بامشکل یے لفظ ادا کیے شراب پینے کی وجہ سے اسکی انکھیں لال ہو چکیں تھی
مجھے نہیں پتا وہ کہا ہے احمد جانتا تھا وہ اسوقت نینا کا کیوں پوچھ رہا ہے اسے اسوقت لڑکی کی ضرورت تھی
دو لڑکیا ناچتی ناچتی اسکے پاس ای کبھی اسکی شرٹ کھینچتی تو کبھی اسکے منہ کے ساتھ اپنا منہ مس کرتیں اور زوار بس لطف اندوز ہو رہا تھا
احمد کو بہت غصہ ارہا تھا جب یے سب اسکی برداشت سے باہر ہوا تو اسنے لڑکیوں کو دھکا دے کر زوار سے کہا چل ہم یہاں سے چلتے ہیں
ارے بڈی ابھی تو مزہ انے لگا اور تو جانے کو کہ رہا ہے
می کہ رہا ہوں نہ چل ورنہ مجھ سے برا کوی نہیں ہوگا
نہیں مجھے نہیں جانا وہ بصد ہوا
کیوں نہیں جانا تیرے تو اچھے بھی جایں گے احمد نے اسے اٹھا کر لا کر گاڑی مے پٹکا
زوار اٹھنے لگا کے احمد نے اسے دھکا دے کر دوبارہ سیٹ پر گرا دیا
تو یہاں سے ہلے گا بھی نہیں ورنہ دو لگاوں گا
احمد کی بات سن کر زوار مسکرایا اور بولا
اوکے بڈی نہیں جاتا اور کسی چھوٹے بچے کی طرح منہ پر انگلی رکھ کر سیٹ پر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا
احمد نے گاڑی سٹارٹ کی اور اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا
اسنے اسے لا کر بیڈ پر لیٹایا اور خود پاس بیٹھ گیا زوار سو چکا تھا۔
جاری ہے
