Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah NovelR50815

Last updated: 25 July 2026

Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah

سانیہ یار چل نہ وہ دیکھ آسکریم پارلر چل وہاں چل کر آسکریم کھاتے ہیں زینیا تو جیسے آسکریم دیکھ کر پاگل ہو گی
نہیں یار زینی سردی دیکھی ہے تو پاگل ہے جو اتنی سردی مے آسکریم کھاے گی تو ایسا کر ساتھ یے ہوٹل ہے یہاں چل کر پیزا کھاتے ہیں آسکریم کو چھوڑ
نہیں مجھے آسکریم کھانی ہے
یار رہنے دے نہ
ہاں ٹھیک ہے تجھے تو میری کوٕی فکر ہی نہیں ہے کے میرا کچھ کھانے کو دل ہے جا کوی نی
(ایموشنل بلیک میلنگ)
اچھا چل میری جانو کھاتے ہیں تو منہ نہ بنا
زینیا کھل کے مسکرای
...............................
ہو گیا بیغیرت انسان تیرا پیٹ فل یا اور کچھ کھانا ہے زوار نے احمد سے پو چھا
نہیں یار مے تجھ کو اتنا پیٹو لگتا ہوں اب مے اتنا بھی نہیں کے پیزا کھا کر فل نہ ہوں احمد اپنی بتیسی دیکھاتے ہوے کہنے لگا
جب دونوں ہوٹل سے باہر نکلے تو احمد کا فون وایبریٹ کرنے لگا
ایک منٹ تو گاڑی کے پاس جا مے آ رہا ہوں
...............................
زینیا آسکریم لے کر جیسے ہی موڑی پیچھے کھڑے زوار کے ساتھ ٹکرای تو ساری آسکریم زوار کے کپڑوں کو لگ گی
اوہہہ سوری سوری پلیز سوری مینے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا پلیز معاف کر دیں
زینیا شرمندگی سے بار بار سوری کیے جا رہی تھی
اور زوار کی آنکھیں زینیا کے چہرے کا طواف کر رہیں تھی
سکتہ تو اسکا تب ٹوٹا جب احمد نے پیچھے سے آ کر کہا چل یار چلتے ہیں پر جیسے ہی نظر زوار کے کپڑوں پر گی تو دھنگ رہ گیا زوار یے کیا ہوا
یے مجھ سے غلطی سے ہو گیا ایم سوری زوار کے بولنے سے پہلے زینیا بولی
اٹس اوکے
احمد جو سمجھ رہا تھا کے اس لڑکی کی اب خیر نہیں اسکو زوار سے کیسے بچاے تو زوار کے منہ سے اٹس اوکے کا لفظ سن کر اسے حیرت کا جھٹکا لگا
زینیا شکریہ کہ کر جا چکی تھی جب وہ نظروں سے اوجھل ہوی تو اسنے احمد کی طرف دیکھا جو اسے گھور رہا تھا
کیا ہوا
یار زوی یے تو ہی تھا نا یار تو کب سے معاف کرنے لگا تو اور اٹس اوکے تیری ڈکشنری مے تو میرے علاوہ کسی اور کے لیے تو اٹس اوکے کا لفظ ہی نہیں تھا تو پھر یے کیا مجھے تو لگا تو اس لڑکی کو چھوڑے گا نہیں احمد بس نان سٹاپ بولے جا رہا تھا
اسٹاپ اٹ احمد یار اب مے اتنا بھی ظالم نہیں معصوم لڑکی تھی غلطی سے ہوا
زوار نے جھنجلا کر کہا
جہا تک میرا خیال ہے زوار کوی کتنا معصوم ہی کیوں نا ہو تو نہیں نخشتا کسی کو احمد اسے جانچتی ہوی نظروں سے پوچھنے لگا
اچھا میرے باپ فل حال تو تو مجھے بخش دے چل اب
زوار اسے کھینچ کر لے گیا اور احمد ابھی تک حیرت میں تھا۔
یار زینی میری أپی کی شادی ہے اور تمنے لازم أنا ہے اگر تم نا ای نا تو مینے تمکو چھوڑنا نہیں اچھا أ جاوں گی میری جان بس بھای اجازت دے دیں
وہ دونوں اس وقت بس سٹاپ پے کھڑی بس کا انتظار کر رہیں تھیں
اچھا مے جا رہی ہوں میری بس أ گی الله حافظ اور ہاں اپنے بھای سے بات کر لی
کچھ دیر بعد زینیا بھی اپنی بس مے اپنے گھر کے لیے روانہ ہو گی
زینیا جب گھر پہنچی تو فرقان زینیا کا بھای سامنے بیٹھا تھا زینیا ڈرتی ڈرتی اسکے پاس جا کر بیٹھ گی اور اپنے ہاتھ ملنے لگی

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *