Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode03

Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode03

اج بارات ہونے کی وجہ سے ہر طرف گہمہ گہمی تھی ہر کوی اپنی تیاری مے مصروف تھا زینیا بھی اپنی اور سانیہ کی چیزیں ایک جگہ اکھٹی کر کے رکھ رہی تھی زینیا ہر کام بخوبی سر انجام دے رہی تھی
بارات شام کی تجی اسی لیے سب نے سکون سے تیار ہونا تھا
زینیا اور سانیہ کا ڈریس اج بھی سیم تھا
زینیا تیار تھی اج اسنے بلیک کلر کا لانگ فراق نیچے چوڑی پاجامہ بالوں کو کھلے چھوڑ کر کرل کیا بلیک کلر مے ہیل والی شوز ڈارک ریڈ کلر کی لپسٹک ہاتھوں مے ریڈ چوڑیاں انکھوں مے کاجل وہ اسمان سے اتری کوی حور پری لگ رہی تھی سانیہ کی بھی سیم ڈریسنگ تھی وہ بھی بہت پیاری لگ رہی تھی
………………………….
زوار اور احمد نے بھی بلیک کڑتا اوپر براون واسکٹ پہنی تھی یہ دونوں بھی حد سے زیادہ ڈیشنگ لگ رہے تھے تیار ہونے کے بعد زوار صوفے پر بیٹھا فون یوز کر رہا تھا اور احمد بیڈ پر بیٹھا اسکا جایزہ لے رہا تھا
زوار نے احمد کے مسلسل گھورنے پر اسکی طرف ایسے کیا گھور رہا ہے نظر لگانی ہے کیا
ہاہااہا احمد ہنسا اور پھر بولا
تجھ جیسے کالے کو کس کی نظر لگنی ہے اور مے دیکھ رہا تھا کہ تو کالے ڈریس مے کالا کوا ہی لگ رہا ہے احمد نے کہ کر دوڑ لگا دی
احمد کے بچے تیری تو تو ہاتھ لگ تیرا قیمہ کروں
زوار نے غصے سے چلا کر کہا
ہااہاہا یار سچ کڑوا ہی لگتا ہے احمد نے بھاگتے ہوے ہنس کر کہا
زوار نے صوفے سے کشن اٹھا کر اسے مارنے شروع کر دیے پھر کانچ کا گلاس اٹھا کر مارا احمد ساییڈ پر ہو گیا اور گلاس نیچے گر کر ٹوٹ گیا
احمد نے گلاس کو دیکھا پھر زوار کو
یار زوی کیا تیرے واقع مجھے مارنے کے ارادے ہیں یار خدا کے لیے بخش دے اگر تونے مار دیا تو تیرے بچے چاچو کسے کہیں گے اور ابھی میری شادی بھی نہیں ہوی تو بھابھی کسے کہے کا ہاے میرے ابھی نا ہونے والے بچے
احمد چلا چلا کر دوہایاں دے رہا تھا اور زوار اسکی دوہایاں سن کر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا
جا معاف کیا زوار ہنسنے کے دوران بڑی مشکل سے بولا
اتنا ہنس چکا تھا کہ اسکی انکھوں مے پانی اگیا اور احمد کھڑا اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا
زوار ایا اور احمد کو گلے لگا کر کہا یار تو ہی میرے ہنسنے کی وجہ ہے اگر تو نہ ہوتا تو مے اب تک مر چکا ہوتا
احم نے اسے الگ کیا اور کہا دوبارہ مرنے کی بات نہ کریں جگر اور پھر سے گلے لگا لیا
اچھا بس کر احمد تو تو رومینس کرنا ہی شروع ہو ہوگیا
زوار نے ہنس کر کہا تو احمد بھی ہنس دیا
چل زوی چلتے ہیں ورنہ علی کا فون ا جاے گا
………………………….
چل زین ریڈی ہے تو ہال کے لیے نکلتے ہیں سانیہ نے کہا تو زینیا نے اسے گھورا اور کہا سانی میرا خیال ہے پہلے ہمیں پارلر جانا ہے اپی کو لینے پھر ہال کے لیے
ہاں ہاں یاد ہے دادی اماں چلو اب زینیا مسکرا دی
………………………….
دونوں ہال مے پہنچے تو سامنے علی کھڑا تھا اسنے ہاتھ ہلایا تو احمد زوار سے کہنے لگا زوی ایسے ہی نینا تجھے ہاتھ ہلاتی تھی یہ کہ کر ہنس کر وہ علی سے ملنے لگ گیا اور زوار بھی گھوری سے نواز کر اسے ملنے لگا
اور سناو سہی سے پہنچ گے علی نے پوچھا تو احمد بولا
نہیں ٹرک مے پہلے بجے تھے پھر پہنچے
اسکی بات سن کر دونوں ہنسنے لگ گے
یار احمد کبھی تو سیدھا جواب دے دیا کر علی نے کہا تو تو زوار بولا الٹا ہے تو الٹا جواب ہی دے گا نہ
پھر علی بولا ہاں مینے ایک دفعہ اسے الووں کی طرح درخت پر لٹکے دیکھا تھا اور پھر دونوں کا مشترکہ قہقہ گونجا
احمد ان سونوں کو خونخوار نظروں سے گھور کر سٹیج کی طرف چل دیا وہ دونوں بھی اسکے پیچھے چل دیے
زوار کی نظریں زینیا اور احمد کی نظریں سانیہ کو ڈھونڈ رہیں تھی
اور احمد نے خود کو کوسا مے کیوں اس بدتمیز کو ڈھونڈ رہا ہوں اور زوار بھی اپنی کیفیت سے انجان تھا
………………………….
زینیا اور سانیہ عایشہ کو لیکر پیچھے والے دروازے سے برایڈل روم مے داخل ہویں
اپی اپ یہاں بیٹھے ہم باہر جا رہے ہیں بارات اتی ہی ہوگی
مے کیلی اسنے گھبرا کر کہا
تو زینیا بولی نہیں اپی اپ بھی ہمارے ساتھ چلیں اسکی بات پر سانیہ ہنس دی اور عایشہ مسکرا دی
………………………….
وہ دونوں باہر ای تو زوار اور احمد نے بیقوقت ان کو دیکھا تو دونوں کی نظریں ہٹنے کا نام نہیں لے رہیں تھی
احمد نے خود کو ملامت کیا اور نظریں ہٹا لیں اسنے زوار کی طرف دیکھا تو وہ ہنوز ویسے ہی دیکھ رہا تھا احمد نے اسکے تعاقب مے دیکھا تو وہ زینیا کو دیکھ رہا تھا احمد مسکرایا اور زوار کو کہنی ماری اور کہا اہم اہم اسکریم والی
احمد کی بات سن کر زوار مسکرایا اور نظروں کا زوایہ بدلہ جوکہ بہت مشکل تھا
اسکریم کھایں گے کشمیر جایں گے
احمد نے ایک انکھ دبا کر گایا تو زوار نے اسکی کمر پر ایک مکہ رسید کیا کہ احمد نے کہا زوی ہاتھ ہے یا پتھر اور کمر سہلانے لگ گیا
بارات اگی کا شور ہوا تو سب لڑکیاں بارات کا استقبال کرنے کے لیے چلیں گی بارات کا بہت اچھے اچھےسے استقبال کیا
نکاح ہوا اور پھر دلہن کو دلہے کے ساتھ بٹھا دیا اب لڑکیا دلہے کے سر پر کھڑی دودھ پلای کی رسم کر رہیں تھی ایک طرف سانیہ بیٹھی تھی تو ایک طرف زینیا
زوار زینیا کی بیٹھی کی پکس کھینچ رہا تھا کہ احمد احمدنے کہا بس کر بھای فون کی میمری ختم ہو جاے گی تو زوار مسکرایا
رسموں مے بھی لڑکیوں نے کافی شور مچایا
زینیا اور سانیہ کھڑی خود کی پکس بنا رہیں تھی کہ سانیہ کو اسکی امی نے بلایا تو وہ چلی گی اب زینیا اپنی اکیلی کی پکس بنا رہی تھی کہ اچانک اچانکاسکی نظر زوار پر گی جو گھور رہا تھا زینیا کو وہ کافی ہینڈسم لگا پھر خود کو کوس کر شرمندگی سے سر جھکا گی
تو زوار مسکرا دیا
سانیہ اپنی امی کی بات سن کر زینیا پاس جا رہی تھی کہ احمد ایا اور اسنے کہا کیسی ہو چڑیل
سانیہ اسکی چڑیل کہنے پر تپی اور بولی خود ہوگے جن بھوت بندر
احمد ہنسا اور پھر بولا نقل چور سیم کلر کیوں پہنا ہے
توبہ توبہ خود ہوگے نقل چور اسنے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا تو احمد پھر ہنس دیا
احمد کو زوار نے بلایا تو اسنے سانیہ سے کہا پھر ملیں گے چھپکلی اور چلا گیا
تو سانیہ نے اسے خونخوار نظروں سے گھورا اور زینیا پاس چلی گی
زینیا نے اسکا موڈ اف دیکھا تو پوچھا کیا ہو سانی
تو اسنے ساری سٹوری بتای تو زینیا کا قہقہ گونجا ہنس لے ہنس تو بدتمیز
اچھا سوری سوری
رخصتی کا شور اٹھا تو ہر طرف اداسی چھا گی ایسے بارات بھی اختتام کو پہنچی۔
شادی ختم ہونے کے بعد زینیا اب اپنے گھر اچکی تھی اب انہیں محنت کرنی تھی کیونکہ دو ماہ بعد انکے پیپر تھے پھر سے وہیں روز مرہ کی روٹین شروع ہو گی تھی
احمد زوار کے گھر ایا ہوا تھا تو انے زوار کو خوشخبری سنای کے عمران جو لڑکیوں کی سمگلنگ کر رہا تھا اس پر چھاپا ڈال کر لڑکیوں کو ازاد کروا لیا ہے
زوار بہت خوش تھا اسے اج بھی خود پر غرور تھا کبھی نہ ہارنے کا غرور
احمد مے بہت خوش ہوں اج پھر ہماری ہی جیت ہوی عمران تڑپ رہا ہوگا کاش مے اسکی تڑپ دیکھ سکتا اور وہ دیکھ سکتا میری انکھوں مے جیت ہاہاہہاہا
فکر نہیں کر زوی وہ اور تڑپے گا جیت ہماری ہی ہوگی
زوار یار کچھ کھلا ہی دے احمد نے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر کہا تو زوار ہنسا اور کھانے کے لیے کچھ منگوایا
کھانا کھانے کے بعد احمد فون یوز کرنے لگ گیا
تو زوار بھی فون مے زینیا کی پک دیکھ کر مسکرانے لگ گیا
احمد نے زوار کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا رہا تھا
کیا بات ہے زوی بڑا مسکرایا جا رہا ہے احمد نے مشکوک نظروں سے کہا
احمد یہ مجھے چاہیے زوار نے بے خودی مے کہا
کون چاہیے احمد نے نا سمجھی سیے کہا اور اسکے اسکےپاس جا کر بیٹھ گیا
یہ چاہیے زوار نے فون احمد کے سامنے کر دیا تو احمد کو حیرت کا جھٹکا لگا
نہیں زوار یہ بہت معصوم ہے تو اسسے دور رہ سمجھا احمد نے سنجیدگی سے کہا
احمد یہ بہت خوبصورت ہے زوار نے بے ساختہ کہا
زوار تجھے لڑکی ہی چاہیے نہ رات گزارنے کے لیے تو لڑکیاں مر رہی ہیں تیرے لیے تو ان مے سے کسی ساتھ گزار لے احمد نے دل پر پتھر رکھ رکھکر کہا ورنہ احمد کی پوری کوشش ہوتی تھی وہ ان سب سے دور رہے اور اج خود اجازت دے رہا تھا
نہیں یہ مجھے رات گزارنے کے لیے نہیں شادی کرنی ہے اس سے
زوار کی بات سن کر احمد کو جھٹکا لگا کہ زوار اور شادی احمد تو سوچ رہا تھا وقتی طور لگاو ہوگا پر یہاں تو کام ہی الٹا تھا
بھای تو سیریس ہے سوچ لے تو کیا کہ رہا ہے ہوش ہوشمے تو ہے اگر نہیں ہے تو اجا جانی احمد نے اسے سمجھایا
نہیں احمد مجھے یہ چاہیے ہر حال مے چوہیے زوار بصد ہوا
زوار یہ کوی چیز نہیں ہے جا تجھٕ چاہیے جس کے لیے تو صد کر رہا ہے
احمد نے تھوڑا غرا کر کہا
زوار نے احمد کے ہاتھ پکڑے اور کہا احمد یہ مجھے چاہیے میرا دل اسکے لیے تڑپ رہا ہے دل صد لگا کر بیٹھا ہے میرٕے ساتھ مجھے اسے محبت ہوگی ہے نہیں شاید عشق تو سمجھ رہا ہے نہ میری بات
احمد تو عشق کا لفظ سن کر ہی ٹھٹکا
زوار عشق کر سکتا ہے زوار تو وہ ہے جو صرف رات گزارنا اور لڑکیوں ساتھ وقت گزاری کرتا تھا
زوار میری بات سن یہ بھی صرف وقت گزاری ہو تو ایسا کچھ نہ ہو تو بس اسے اپنے اوپر سوار کر کے بیٹھا ہو
احمد کو سمجھ نہیں ارہا تھا اسے کیسے سمجھاے
احمد پلیز مجھے یہ چاہیے مر جاے گا تیرا بھای اسکے بغیر
زوار نے سرخ انکھوں ے کہا
احمد تو زوار کو ایسے دیکھ کر ہی تڑپ اٹھا وہ تو توزوار کے لیے دنیا چھوڑ سکتا تھا اسکی خوشی خوشیکے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا پھر وہ ایک لڑکی اسے کیسے نہیں دے سکتا تھا پر جب اسکا معصوم چہرا اسکے ذہن مے اتا تو احمد بے بس ہو جاتا پر احمد زوار کو چھے سے جانتا تھا اگر اگراسنے شادی کا فیصلہ کیا ہے تو ضرور کچھ ہے
ٹھیک ہے زوار مے تیرے ساتھ ہوں ہم اسکا رشتہ اسکے گھر لینے جایں گے
نہیں احمد مانگنا نہیں زوار شاہ جو چاہتا ہے وہ حاصل کر کے رہتا ہے
ہاں ہاں زوی میرا مطلب وہ نہیں تھا وہ تیری ہے احمد نے صبر کے گونٹ بھر کے کہا
تو زوار احمد کے گلے لگ گیا
………………………….
زینیا گراونڈ مے کتابوں مے سر دے کر بیٹھی تھی اور سانیہ بور ہو رہی تھی
چل زینی کینٹین مے میں بور ہو رہی ہوں
بور ہو رہی ہے تو پڑھ لے
نہیں چل اٹھ یار
سانی ہمارے پاس دو مہینے ہیں مارچ اینڈ فیب اگزیمز ہیں اپریل مے پڑھ لے
افففف زینی دو ماہ ہیں ابھی دو منٹ اٹھ جاے گی تو کچھ ہو نہیں جاتا
اہہہہہہ اچھا زینیا نے ہار مانی اور اثھ کھڑی ہوی
ہاہووووووووو سانیہ نے یاہو کا نعرہ لگایا تو زینیا مسکرا کر اسکا ہاتھ پکڑ کر لے گی
………………………….
شاہ نے عمران کو فون ملایا تو اسنے اسنے اٹھایا اور طیش سے بولا
کمینے انسان مے جانتا ہوں یہ تیرا ہی کام ہے مے تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا
اور زوار نے قہقہ لگایا اور ہنستا چلا گیا
کیا ہوا یار عمران اتنے غصے مے کیوں ہو ے ایسا کیوں کروں گا اخر تو میرے پاپا کا دوست ہو اسنے دوست پر خاصہ زور دے کر کہا تو احمد سامنے سامنےبیٹھا سگریٹ پیتا ہنس دیا
زوار کی بات سن کر عمران نے غصے مے فون زمین پر دے مارا اور زوار کا قہقہ گونجا
عمران غصے مے ادھر اُدھر چکر کاٹ رہا تھا
اسکو تو مے نہیں چھوڑوں گا شاہ تو مرے گا
اسنے اپنے سیکرٹری سے دوسرا فون لیا اور حمزہ کو فون کیا اور کہا زوار شاہ کو جان سے مار دو اسکا مے تمہیں ٥کڑوڑ دوں گا کام کرکے بتانا اور اسکی سنے بنا فون کاٹ دیا
………………………….
احمد فون مے کچھ دیکھ رہا تھا اور دیکھ کر مسکرایا اور زوار کو مخاطب کیا
زوار اسکریم والی کا پتا چل گیا ہے
چل بول زوار نے سنجیدگی سے کہا
اسکا نام زینیا ہے گھر مے یہ اسکا بھای اور بھابھی ہوتے ہیں اسکے ماں باپ نہیں ہے سیکنڈایر مے پڑتی ہے اسکی بیسٹ مرینڈ إیک ہی ہے اور وہ ہے سانیہ علی کی بہن اسکے بھای کا رویہ اسکے ساتھ کچھ خاس نہیں ہے
احمد نے بول کر لمبا سانس لیا جیسے کوی جنگ فتح کی ہو ویسے یہ بھی جنگ سے کم نہیں تھی زوار سن کر خاموش ہوا اور جب بولا تو احمد کا پارا ہای کر گیا
زوار کمینے لانتی کتنے مزے سے کہتے سہی ہے بدتمیز انسان
ہاہاہہاہا احمد اتنا ہایپر کیوں ہو رہے ہو پوری بات تو سن لے مے کہنے لگا تھا چل پیزہ کھاتے ہیں
تو پوری بکواس کرنی تھی نہ
اچھا چل اب پہلے میٹنگ اٹینڈ کرتے ہیں پھر پیزہ کھایں گے۔۔
زوار اج بہت خوش تھا اج اسکے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہی نہیں ہو رہی تھی اسنے بلیک پینٹ شرٹ اوپر جیکٹ پہنی ہوئی تھی اسنے والٹ کار کی چابی اور موبائل اٹھا کر بالوں میں ہاتھ پھیرتا نیچے اگیا اسنے احمد کو فون ملایا
احمد جو فون پر گیم کھیل رہا تھا جگز کالنگ دیکھ کر مسکرایا اور یس کیا
بول جگر
کہاں ہے تو
ارے بے صبرے ارہا ہوں ارہا ہوں احمد نے مسکراہٹ دبا کر کہا
اچھا رک میں تجھے لینے کے لیے اتا ہوں یہ کہ کر اسنے فون کاٹ دیا
اور قاسم کو فون لگا کر احمد کے گھر انے کو کہا
قاسم احمد کے گھر پہنچا تو احمد نے اس سے پوچھا
تم یہاں
تو قاسم نے کہا شاہ ساٸیں نے بلایا ہے
………………………….
اج سنڈے ہونے کی وجہ سے زینیا گھر پر ہی تھی صبح سے ہی کمرے میں بند تھی کیونکہ اج صبح صبح بھابھی نے اسکی بےعزتی کی تھی
اور صبح سے رو رہی تھی اب اٹھ کر فریش ہو کر کرواشروم میں چلی گی
………………………….
احمد زوار ایک گاڑی میں اور قاسم ایک گاڑی میں تھے احمد نے گاڑی زینیا کے گھر کے سامنے روکی احمد نے زوار سے کہا اگیا بھابھی کا گھر اور ساتھ میں مسکراہٹ پاس کی
دونوں اسوقت صوفے پہ بیٹھے اور قاسم پیچھے کھڑا تھا سامنے زینیا کا بھای اور بھابھی بیٹھے تھے
احمد نے زینیا کا مطالبہ کیا تو فرقان بولا دیکھیں مسڑ ہم ابھی زینیا کی شاد نہیں کرنا چاہتے
٥کڑوڑ زوار نے فرقان کی بات پر دھیان دیے بغیر کہا کیونکہ احمد نے زوار کو بتایا تھا کہ فرقان بہت لالچی ہے
٥کڑوڑ سن کر فرقان اور اسکی بیوی نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اتنی رقم تو انہوں نے کہیں نہیں دیکھی تھی
فرقان کی بیوی نے اسے لینے کا اشارہ کیا وہ تو پہلے کسی طرح اس سے جان چھڑوانا چاہتے تھے تو توکیسے لینے سے انکار کرتے اور جھٹ سے ہاں ہاںکر ردی
تو زوار اج پھر اپنی جیت پر کھل کر مسکرایا
اور احمد نے افسوس سے سر ہلایا کے سب رشتے میلے ہو گے ہیں
زینیا کی بھابھی اسکے کمرے میں اسکے پاس ای اور کہا چلو
کہاں بھابھی
جان چھوٹ گی ہے تم سٕے
مطلب
بیچ دیا اور ساتھ میں قہقہ لگایا
نہیں اپ مزاک کر رہی ہیں نہ اسنے خود کو تسلی دیتے ہوے کہا
مزاک نہیں میری جان مزاک نہیں چلو اب
نہیں بھابھی زینیا رو رہی تھی اور اسکے رونے کا اسکی بھابھی پر کوی اثر نہیں ہو رہا تھا وہ اسے کھینچتی ہوی ڈراینگروم میں لای زینیا نے انسوں بھری انکھوں سے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا تو ٹھٹھکی لیکن زینیا کو اسوقت ہوش نہیں تھا کہ وہ اس طرف دھیان دیتی
وہ اپنے بھای کے پیروں میں بیٹھ گی اور کہنے لگی
بھای بھابھی جھوٹ بول رہی ہیں نہ ا۔اپ مجھ سے پیار کرتے ہیں نہ
نہیں کرتا میں پیار نفرت ہے مجھے تم سے سمجھی سوتیلی ہو تم میری
فرقان نے نفرت سے کہا
احمد کو اسکی حالت دیکھ کر بہت دکھ ہوا اور زوار زوار کو بھی غصہ ارہا تھا کہ زینیا اسکے پیروں میں بیٹھی اسکی منتیں کیوں کر رہی ہے
چلو زینیا زوار نے صرف اتنا ہی کہا
زینیا نے زوار کی طرف دیکھا اور اپنے بھای سے کہا نہیں بھای پلیز مر جاوں گی میں
لے جاٸیں شاہ صاحب اپنی امانت کو فرقان نے زینیا کی بات پر غور کیے بنا زوار سے کہا تو زوار زینیا کا بازو پکڑ کر اسے لیجانے لگا اور قاسم سے کہ کر انہیں رقم دے دی زینیا اپنا بازو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی
زوار نے لاکر اسے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھا کر لاک کر دیا
اور خود اگے اکر بیٹھ گیا احمد ڈرٸیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا
زینیا بار بار دروازہ بجا رہی تھی احمد کو اس پر بہت ترس ارہا تھا
چلو احمد زوار نے ایک نظر زینیا کو دیکھ کر کہا
جب گھر زینیا کی نظروں سے دور ہوا تو منے ہاتھوں میں چھپا کر رونے لگ گی
زوار کو اسکا رونا تکلیف دے رہا تھا
رونا بند کرو زوار نے غصے سے کہا تو زینیا سہم گی اور احمد نے اسے گھورا تو زوار پیار سے بولا
بٹرفلاے رونا بند کرو تمہارا رونا مجھے تکلیف دے رہا ہے
پلیز اپ مجھے گھر چھوڑ دیں وہ ضرور مجھ سے کسی بات پر ناراص ہوں گے میں انہیں منا لوں گی اسنے روتے ہوے کہا
نہیں کرتے وہ تم سے محبت زوار نے اپنا لہجہ نرم رکھ کر کہا تو وہ گھٹنوں میں سر دے کر بیٹھ گی
احمد نے گاڑی اپنے اور زوار کے مشترکہ فلیٹ کے کےسامنے روکی زوار نے زینیا کو باہر نکالا اور ایک کمرے میں لاکر بند کر دیا اور زینیا دروازہ بجانے لگ گی جب دروازہ بجا بجا کر تھک گی تو رونے لگ گی
زوار صوفے پر بیٹھا سگریٹ پینے لگ گیا اور قاسم سے کہا قاسم اڈے پر جاو اور دو بھروسہ مند ادمیوں کا انتظام کرو اور ایک کام والی کا بھی
تو وہ جی شاہ کہتا وہاں سے چلا گیا
اب کیا کرنا ہے احمد نے زوار سے پوچھا
فل حال تو رات کی فلایٹ ہے میری میں وہاں جارہا ہوں باقی اکر دیکھتا ہوں تو گھر چکر لگاتا رہیں
اوکے
زینیا بیٹھی رو رہی تھی اور ساتھ میں دعا کر رہی تھی کہ الله اسکی عزت کی حفاظت کرے اور سوچ رہی تھی کہ اسکا بھای ایسا بھی ہو سکتا ہے یہی سب سوچتے سوچتے کب اسکی انکھ لگی اسے پتا نہ تھا
Aftet Two days
زینیا سوچ رہی تھی کہ دو دن ہوگے اسے یہاں اے ہوے ایک عورت اتی اور اسے کھانا دے کر چلی جاتی اور منتیں کرتے کہ کھا لیں ورنہ شاہ جی ہمیں چھوڑیں گے نہیں اور زینیا اس کا خیال کر کے کھا لیتی اور سوچتی انکا شاہ جی میرے ساتھ کیسا سلوک کرے گا اور پوری کانپ جاتی
یہں سوچتے اسنے کمرے میں میں نظر دوڑای اانے تو اج غور کیا تھا کمرہ بہت خوبصورت تھا ہر چیز ترتیب میں رکھی ہوی تھی
اسنے دیکھا ایک جالی کا دروازہ تھا اسنے کھول کر دیکھا تو وہ ٹیرس تھا زینیا کمرے مے ای اور چادر اپنٕے اوپر اوڑ کر ادھر ادھر نظر گھما کر چھلانگ لگا دی تو اسنے دیکھا وہ ایک خوبصورت سا گارڈن تھا یہ اس پاس نظر دوڑاتے ہوے دروزے کہ پاس پہنچی دروازے کہ سوراخ سے باہر دیکھا تو ایک ادمی کرسی پر بیٹھا سویا ہوا تھا تو دوسرا دوسری طرف منہ کر کہ بیٹھا تھا
اسنے ہونٹوں پر زبان پھیر کر دروازہ کھولا اور باہر نکل کر دیوار کہ ساتھ ہوتی ہوتی باہر نکا گی یہ سوچے بنا کہ اب یہ کہاں جاے گی
زوار اج خوشی میں گھر ایا کہ وہ زینیا کو دیکھ سکے سکےگا پر جیسے ہی دروازہ کھولا کمرہ خالی تھا اسکے ماتھے پر بل پڑے واشروم دیکھا تو واشروم بھی خالی تھا اسنے غصے میں ماسی کو اواز دی اور زینیا کا پوچھا تو انہوں نے ڈرتے ڈرتے کہا کمرے میں ہی تھی اسنے پورا گھر دیکھا وہ وہاں نہیں تھی اسنے احمد کو فون کر کہ بلایا اور باہر کھڑے پہرےداروں کو بھی اور غصے میں چلا کر پوچھا تو وہ دونوں گھبرا گے
شاہ جی کوی باہر نہیں گیا
باہر نہیں گی تو کہاں گی اسے زمین نگل گی یہ اسمان کھا گیا گی تو گی کہا
تب تک احمد بھی رش ڈریونگ کرتا پہنچ چکا تھا
شاہ جی ہمیں نہیں پتا یقین جانیں وہ دونوں زوار کے قدموں میں بیٹھے گڑگڑا رہے تھٕے
کیونکہ دونوں جانتے تھے اسکا انجام شاہ کی عدالت میں صرف موت ہے
قاسم جو زوار سے ملنے ایا تھا اسے غصے میں دیکھ کر سہم گیا
شاہ جی اسنے ڈرتے ڈرتے بلایا
دل تو کر رہا ہے تم دونوں کو شوٹ کر دوں تم دونوں کہ ہوتے وہ بھاگی کیسے
قاسم بندوق لے کر او ان دونوں کا کام تمام کروں
پلیز معاف کر دیں شاہ جی وہ دونوں گڑگڑانے لگے
جاو تم دونوں احمد نے ان دونوں کو کہا
تو زوار نے اسے خونخوار نظروں سے دیکھا
زوار یہ وقت غصے کا نہیں ہمیں اسے ڈھونڈنا ہوگا
زوار وحشی ہو چکا تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ دنیا تباہ کر دے
زوار چل ڈھونڈتے ہیں احمد اسے لے گیا
زینیا بھاگتی ہوی جارہی تھی کہ کچھ لڑکوں میں ٹکرای سوری سوری یہ کہ کر وہ جیسے مڑی تو سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسکی سانسیں رک گیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے🍁🍁

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *