Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah NovelR50815 Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode06
No Download Link
965.9K
9
Rate this Novel
Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode01 Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode02 Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode03 Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode04 Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode05 Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode06 (Watching)Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode07 Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode08 Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Last Episode
Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode06
Tere Ishq Mein Pagal by Meral Shah Episode06
دو گولیوں کی اواز اور پھر ہر طرف سناٹا چھا گیا اور احمد لڑکھڑاتا ہوا نیچے گر گیا
احمد اور زوار کی اواز گونجی
زوار نے سامنے دیکھا جس نے گولی چلای تھی اسنے دوبارہ گولی چلای کہ زوار نیچے بیٹھ گیا اور پھرتی سے گاڑی سے گن نکالی اور اسکے چلانے اسے پہلے زوار نے اسکا کام تمام کر دیا اور پھر نہیچے گرے پڑے احمد کے پاس ایا
احمد ۔۔۔۔احمد اٹھ نہ یار جگر اٹھ
احمد خون سے لت پت ہو چکا تھا زوار نے اسے اٹھا کر گاڑی میں لیٹایا اور خود ڈراٸیونگ کرنے لگ گیا زوار کے کپڑے بھی خون سے بھر چکے تھے زوار سپیڈ سے گاڑی چلاتا بندرہ منٹ کا سفر پانچ منٹ میں طے کرتا ہاسیٹل پہنچا اور احمد کو اٹھا کر اندر کی طرف بھاگا
ڈاکٹر ڈاکٹر اسنے اونچی اونچی چلا کر داکٹرز کو بلایا اور اسے ایمرجنسی روم میں لیجایا گیا
زوار کے کپڑے خون سے بھرے ہوے تھے اور اج بہت بے بس کھڑا تھا اسنے چچا اور چچی کو فون کر کے ہاسپٹل بلایا
شازیہ تو رونے لگ گی زینیا نے اس سے پوچھا ہ کیا ہوا تو شازیہ نے اسے بتایا ہاسپٹل کا نم سن کر ہی اسکا دل دھڑکا
کیا چچی جان شاہ ٹھیک ہیں
بیٹا پتا نہیں ہاسپٹل جا کر ہی پتا چلے گا
چچی جان پلیز میں بھی چلوں گی ساتھ
نہیں بیٹا
پلیز چچی جان
ٹھیک ہے اور چچا چچی اور زینیا ہاسپٹل کے لیے روانہ ہو گے
جب ہاسپٹل پہنچے تو زوار اپنے چچا کو دیکھ کر انکے گلے لگ کر رونے لگ گیا
زوار نے اپنے انسووں صاف کیے اور کہا
پلیز چچا جان احمد سے کہیے نہ کہ وہ اٹھ جاے وہ جانتا ہے مجھ سے اسکی خاموشی برداشت نہیں زوار کسی چھوٹے بچے کی طرح کہ رہا تھا
زوار جا کر بینچ پر بیٹھ گیا او اسکا چچا ساری فارمیلیٹیز پوری کرنے چلا گیا
شازیہ زوار کے پاس بیٹھی اسے تسلی دے رہی تھی کہ زینیا اپنے بھاری قدموں کے ساتھ اسکے پاس گی زینیا کو دیکھ کر شازیہ اٹھ گی
زینیا زوار کے پاس بیٹھی اور اہستہ سے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا زوار اسکا لمس محسوس کرتا اسکی طرف دیکھا زوار کی انکھیں سرخ ہو چکیں تھیں
پلیز رو نہیں احمد بھی ٹھیک ہو جاٸیں گے فکر نہیں کریں
زینیا کی بات پر زوار اسکے گلے لگ گیا زوار اج چھوٹا سا بچا ہی لگ رہا تھا
شاہ اسنے زوار کو پکارا تو وہ اس سے الگ ہو گیا اور سر جھکا لیا
شاہ پلیز کچھ کھا لیں
نہیں زینیا میں کیسے کچھ کھا سکتا ہوں میرا دوست زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے
شاہ کیا اپ کو لگتا ہے کہ احمد بھای ٹھیک ہوں گے؟
ہاں مجھے پورا یقین ہے وہ ٹھیک ہوگا اور میں اس سے لڑوں گا کہ اسنے ایسا کیوں کیا
شاہ وہ اپ سے بہت پیار کرتے ہیں اکر اپ کھانا نہیں کھاو گی تو کمزور ہو جاو گے تو اگر احمد بھای اپکو ایسے دیکھیں گے تو انہیں تکلیف ہوگی کیا اپ چاہتے ہیں کہ ان کو تکلیف ہو
نہیں
تو بس پھر کچھ تو کھا لیں
اسنے زینیا کے کہنے پر بس دو نوالے ہی لیے پر اسوقت اتنا ہی کافی تھا کہ اسنے کچھ کھا لیا
شاہ اپ الله سے دعا مانگیں انکی زندگی کی
تو کیا میں دعا مانگوں گا وہ سن لے گا
ہاں ضرور سنے گا
سچ کہ رہی ہو
اسنے کسے بچے کی طرح یقین دہانی کروانی چاہی
جی سچ کہ رہی ہو
تو زوار نے وضو کیا اور اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو کر احمد کی زندگی کی دیا مانگی
زوار اج رو رہا تھا احمد کے کیے جو اسے بہت عزیز تھا اسکی جان تھا اور اسکی جان اج خطرے میں تھی
زوار رو رو کر دعا مانگ رہا تھا کہ پاس بیٹھے لوگوں کے بھی اسکی حالت دیکھ کر انکوں مں انسوو اگے
زوار واپس ایا تو زینیا ویسے ہی بینچ پر بیٹھی تھی اکا چہرہ بھی سرخ ہو چکا تھا زوار نے اکر اسکے کندھے پر سر ٹکا کر بیٹھ گیا
زینیا اسنے زینیا کو پکا اسکی اواز بھاری وہو چکی تھی
جی بولیں
احمد سے کہو نہ کہ وہ اٹھ جاے ایسے مت کرے میرے ساتھ یار وہ بھوک کا بہت کچا ہے اسے بھوک لگی ہوگی اسے کہو اٹھ جاے اسے اس کی پسند کی ہر چیز لا کر دوں گا بس اسے کو اٹھ جاے
زینیا بس اسکی باتیں سن کر رو رہی تھی
زوار اٹھو گھر جا کر کپڑے چینج کر لو۔
نہیں اگر احمد اٹھا میں موجود نہ ہوا تو نہیں مجھے نہہیں جانا
بیٹا چلو پھر واپس اجانا
نہیں اگر وہ لوگ احمد کو لے گے تو
بیٹا نہں لے کر جاتے تمہارے چچا یہیں ہیں چلو اب چلو زینیا تم بھی
زینیا اور شازیہ کے زبردستی گھر لے جانے پر وہ چلا گیا
گھر پہنچے کے لیڈ لاین پر کل انے لگے زوار نے اٹھای تو عمران بولا
کیسا ہے شاہ
عمران تجھے میں زندہ نہیں چھوڑوں تیری جان لے لوں گاہاہ
ہاہا شاہ پہلے تو اپنے اس احمد کو تو بچا لے ہاہا مروانا تو تجھے چاہتا تھا پر اگر تیرا وہ احمد مر گیا پھر بھی جیت میری ہوگی کیونکہ تو جیتے جی مر جاے گا
اہہہہہہ زوار نے غصے سے فون نیچے پھینک دیا اور واپس مڑا کہ شازیہ نے کہا کہاں جا رہے ہو زوار
چچی جان اس حرام خور کو زندہ دفنانے
نہیں زوار تم کہیں نہیں جاو گے
کیوں نہ اووں اس بیغیرت کی وجہ سے احمد کی یہ حالت ہے اپ کہنا چاہتی ہیں کہ میں اسے زندہ چھوڑ دوں زوار نے چلا کر کہاا کہ یہاں جی درودیوار تک کانپ گی
اج تو یہ نہیں بچے گا اور کمرے میں چلا گیا
زینیا پلیز اسے روک لو اسکے وحشی پن کو روک لو
اپ فکر نہیں کریں میں دیکھتی ہوں اور زینیا کمرے کی طرف بھاگی
زوار گن لے کر واپس مڑا کہ سامنے زینیا کھڑی تھی اسکے پاس سے ہو کر جانے لگاا کہ زینیا نے اسکاا ہاتھ پکڑ لیا
پلیز شاہ مت جایے
زوار نے اسے سختی سے بازووں سے پکڑ کر کہا کیوں نہ جاوں ہاں کیوں نہ جاوں وہ جس نے میرے دوست کی یہ حالت کر دی میں کیسے اسے چھوڑ دوں ہاں بولو
شاہ انکو اس وقت اپکی ضرورت ہے اپ کو مینے روکا نہیں بس ابھی نہیں ابھی احمد بھای ہاس جایں سمجھیں بات کو
زوار نے پیچھے ہو کر گن شیشے میں ماری کہ شیشہ چکنا چور ہو گیا
زینیا کی چینخ نکل گی
زوار کچھ اور اٹھانے لگا تھا کہ زینیا نے اگے ہو کر اسے گلے لگا لیا
زوار اسکے گلے لگا خود کو ٹھنڈا کرتا رہا اور پھر خود کو کمپوز کر کے پیچھے ہوا اور کپڑے لے کر واشروم چلا گیا
زینیا باہر بیٹھ کر ہاتھوں میں منہ چھپا کر رونے لگ گی
زینیا اور زوار واپس دونوں ہاسپٹل پہنچے تو سامنے اسکا چچا بیٹھا تھا
چچا جان ڈاکٹرز نے کیا کہا ہے اسنے خود پر ضبط کر کے کہا
بیٹا ابھی تک تو کچھ نہیں کہا اپریشن چل رہا ہے
صبح سے شام ہوگی اور پھر رات پر کچھ خبر نہ تھی
اور پھر کچھ دیر بعد ڈاکٹر ایا
تو زوار اگے ہوا اور کہا احمد کیسا ہے
دیکھیں پیشنٹ کو دو گولیاں لگیہیں ایک بازو پر اور دوسرے دل سے نیچے ہم نے نکال تو دیں ہیں پر
کیا پر اگر احمد کر کچھ بھی ہو تو یں زندہ نہیں چھوڑوں گا اگ لگا دوں گا اس ہاسپٹل کو اور اسکے ڈاکٹرز کو
دیکھیں ہم نے بہت کوشش کی پیشنٹ کی حالت بہت کریٹیکل ہے
تو اب کیا بنا زوار کے چچا نے پوچھا
اور جو ڈاکٹر نے کہا زوار نے بامشکل سہارا لیا۔
دیکھیں شاہ صاحب ہم نے بہت کوشش کی انکی حالت بہت کریٹیکل ہے اگر انہیں اگلے ٢٤ گھنٹوں میں ہوش نہ ایا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا
زوار بس بینچ پر بیٹھا ایک نقطے کو گھور رہا تھا اسنے کچھ بات نہ کی
اگر انہں گولی دل پر لگ جاتی تو انکی موقع پر ہی دیتھ ہو جاتی اب بس اپکی دعا کی ضرورت ہے باقی الله خیر کرے
زوار اٹھ کر ایمرجنسی روم میں جانے لگا کے ادکے چچا نے پوچھا
کہاں جا رہے ہو
احمد سے ملنے
نہیں شاہ صاحب ابھی پرمشن نہیں اپ نہیں مل سکتے
پوچھا نہیں تم سے سمجھے اس سے ملنے کے لیے مجھے کسی پرمشن کی ضرورت نہیں اسکی اواز اس قدر اونچی تھی کہ اردگرد کے لوگ دیکھنے لگ گے ڈاکٹر بھی سہم گیا اور پیچھے ہو گیا
بھلا کون نہیں زوار شاہ اور اسکے غصے کو نہیں جانتا تھا
زوار نے اپنی انسووں سے بھری انکھوں سے مشینوں میں جکڑے احمد کو دیکھا اور بھاری قدموں کے ساتھ اسکے پاس جا کر بیٹھ گیا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر کہا
یار جگر اٹھ جا نہ اور کتنا تنگ کرے گا تو ان مشینوں میں جکڑا بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا دیکھ اگر تونے مجھے اور ستایا نہ تو تیرا یہ ہینڈسم چہرہ ہے نہ یہ بیگاڑ دوں گا زوار کی انکھوں سے انسو گر رہے تھے
کون کہتا ہے مرد کو درد نہیں ہوتا مرد روتا نہیں کیوں اسکے سینے میں دل نہیں ہوتا اسکے جزبات نہیں ہوتے
زوار اپنے انسوو صاف کرتا اسکے ماتھے پر کس کرتا باہر چلا گیا
زوار سنبھال خود کو اسکے چچا نے کہا تو زوار اثبات میں سر ہلاتا باہر چلا گیا
زوار کو اج سگریٹ کی اشد ضرورت تھی اور وہ سگریٹ پر سگریٹ پھونکی جا رہا تھا
ہر کوی دعا گو تھا پر احمد کو ہوش نہ ایا زوار کا دل جل رہا تھا زوار اٹھا اور پھر مسجد میں چلا گیا دعا مانگ رہا تھا کہ احمد کے چچا نے اسے احمد کے ہوش میں انے کی خوشخبری دی زوار پہلے اپنے چچا کو دیکھتا رہا پھر انکے گلےلگ گیا
چچا جان سچ میں اہہہ شکر ہے خدا تیرا اور وہاں سے احمد سے ملنے کے لیے بھاگا لیکن روم کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا اندر نہ گیا
اس لانتی نے مجھے بڑا تنگ کیا ہے اب تو دیکھ احمد میں بھی تجھ سے جلدی نہیں ملوں گا زوار خود سے سوچ کر مسکرا کر باہر بیٹھ گیا حلانکہ اسکا بہت دل تھا اس سے ملنے کو
احمد سب سے ملا پر جسے احمد تلاش کر رہا تھا وہ نہ تھا
زینیا احمد کے لیے سوپ نکال رہی تھی کہ احمد پوچھا
بھابھی زوار کہاں ہے
پتا نہیں زینیا نے کندھے اچکاے
چڑیل کیا اسے مجھ سے نہیں ملنا احمد نے منہ ٹیڑھا کر کے کہا
احمد بھای اپ بہت بدتمیز ہیں اپ نے مجھے چڑیل کہا اب تو میں بالکل بھی نہیں بتاووں گی زینیا نے منہ بنا کر کہا
اووو بہنا تجھے نہں زوار کو چڑیل کہا احمد جلدی جلدی بات بنانے کے چکر میں کیا کہ گیا اسے تب احساس ہوا جب زینیا ہنسنے لگ گی
اچھا اچھا اب بتا دو بھابھی احمد نے منت کرتے ہو کہا
وہ اپ سے ناراض ہیں اچھا خیر میں بھیجتی ہوں
اور باہر چلی گی
شاہ وہ احمد بھای ملنا چاہتے ہیں
اسکی بات سن کر زوار مسکرایا اور اندر کی طرف بڑھ گیا
بابھی وہ بندر ایا کہ نہیں جب کچھ جواب نہ ملا تو اسنے انکھیں کھول کر دیکا سامنے زوار سینے پر ہاتھ باندھ کر اسے گھور رہا تھا
تو احمد نے دانت دیکھاے اچھا بس کر اب گھورنا
تو زوار نے اکر اسے کس کر گلے لگایا
اووو تیری خیر زوی میری پیچ اگے ڈھیلے ہیں اور تونے اور ستیاناس کر دیا
اوہ سوری یار
رین دی ہون مار تے دِتا ای اسکی بنجابی سن کر زوار ہنسا تو احمد بھی مسکرا دیا
یار احمد میں تجھ سے ناراض ہوں تونے ایسا کیوں کیازوار م
یرے ہوتے اگرتجھے کچھ ہوتا تو لانت دوستی پر میں تجھ پر کیسے انچ انے دے سکتا ہوں
اور اگر تجھے کچھ ہوجاتا تو
فل حال تو کچھ نہیں ہوا ٹھیک ہوں
احمد میں عمران کو زندہ نہیں چھوڑوں گا سب حساب چگتا کروں گا چھوڑوں گا نہیں
احمد کچھ کہنے لگا کہ زینیا زوار کے چچا چچی اندر اگے
یار چچا جان پلیز مجھے گھر جانا ہے ان مشینوں سے ازاد کروادیں پلیز اسنے بےچارگی سے کہا
بیٹا ابھی تم ٹھیک نہیں ہوے
یار زوی تو تو سمجھ نہ یار
تو زوار نے اییسے پہلو بدلا جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو
لانت تیری شکل پر مینے کچھ بھونکا ہے
اچھا تو بھونک رہاتھا مجھے لگا شاید کتا بھونک رہا ہے اسکی بات پر سب کا مشترکا قہقہ گونجا اور احمد نے اسے ایسے گھورا جیسے ابھی کچا چبا جاے گا
جاو بچو جا کر فریش ہو جاو اور احمد کے کپڑے بھی لیتے انا تو زینیا اور زوار گھر چلے گے
کمرے میں پہنچ کر زوار کپڑے لے کر واشروم چلا گیا
زینیا کو لیڈ لاین پر سانیہ کی کال ای تو سانیہ اس سے باا کرنے لگ گی اور اسے احمد کے بارے یں بتایا سانٕیہ کو سن کر شاک لگا اسے بھی رونا ایا فون بند کرنے کے بعد زینیا زوار کے نکلنے کا انتظار کرنے لگ گی کے زوار بنا شرٹ کے باہر نکلا
اوووو شاہ اپ ایسے کیوں باہر اگے اور منہ دوسری طرف کر لیا
زوار نے خود کی طرف دیکھا کیا ہوا یار
اپ شرٹ پہنیں
تو اسمے کیا تمہیں ہی میڈم دیکھنےکا حق ہے اور پیچھے سے ہگ کیا
زینیا تو جیسے پتھر کی بن گی
زوار نے اسکے کنھے پر تھوڑی ٹکای اور کان میں سرگوشی کی
مجھ سے کیا شرمانا جانم اور اسکے کان کی لو کو چوما
زینیا کے دل کی رفتار تیز ہوگی جیسے ابھی باہر اجاے گا
ش۔شاہ مجھے چھو۔ڑیں
چھوڑنے کے لیے نہیں پکڑا اور اسکی گردن پر اپنے لب رکھ دیے
زینیا نے انکھیں میچ لیں
زینیا کی پشت زوار کے چوڑے سینے پر لگ رہی تھی
زوار نے اسکا رخ اپنی طرف موڑا زینیا اسکی طرف دیکھنے سے پرہیز کر رہی تھی ایک تو اسکی انکھوں میں اپنے لیے محبت اور دوسرا زوار کا شرٹ لیس ہونا
جانم میں تم سے اتنی محبت کروں گا کہ تم خود مجھ سے محبت کرنے لگ جاو گی
love u i realy love you sweetheart
زوار محبت سے چور سے چور لہجے میں کہتا اس پر جھکا
کہ زینیا نے دروازے کی طرف دیکھ کر کہا چچا جانتو ز
زوار فورا پیچھے ہوا اور دروزے کی دیکھا پر وہاں کوی نہ تھا زینیا واشروم میں بھاگ گی
سارے موڈ کا ستیاناس کر دیا اس لڑکی نے زوار نے چبا کر کہا اور بالوں میں ہاتھ پھیرتا پھیرتا شیشے کے سامنے کھڑا ہو کر مسکرا دیا اسکی چلاکی پر
…………………………
زینیا روم کے باہر بیٹھی تھی کہ سانیہ ای اور زینیا سے ملی اور زینیا نے کہا چلو احمد بھای سے مل لو
ہاں چلو تم بھی اتنا ہی کہا تھا کہ زوار ایا اور سانیہ کو دیکھا اور زینیا سے کہا چلو وہ لیڈی ڈاکٹر سے کچھ میڈیسن لینی ہیں تو زینیا اسکے ساتھ چلی گی
زسایہ لمبا سانس لیتی اندر چلی گی احمد نے اسے دیجھا تو پہلے حیران ہوا پھر مسکرایا
سانیہ نے سلام کیا اور اسکا حال پوچھا
ٹھیک اور اب تمہیں دیکھ کر اور ٹھیک ہو گیا
اسنے ایک جزب سے کہا کہ سانیہ نے انگلیاں مڑونا شروع کر دیں
اجاو بیٹھ جاو تو سانیہ بیٹھ گی
سانیہ کی انکھوں میں انسو تھے ایک انسو اسکی انکھ سے ٹوٹ کر گرا احمد کو اس حالت میں دیکھ کر
یہ انسو احمد کی نظروں سے چھپ نہ سکا
یہ میرے لیے رو رہی ہو یا صرف ہمدردی ہے
تو سانیہ نے نظریں اٹھا کر دیکھا پر جواب نہ ہونے پر دوبارا جھکا گی
بولو بھی
پر وہ کچھ نہ بولی
sania will u marry me?
سانیہ نے جھٹ سے چہرہ اٹھا کر دیکھا کہ ایسی حالت میں بھی
احمد مج۔ھے وقت چا۔چاہیے تھوڑا او۔اور
لے لو جتا وقت لینا ہے میں ساری عمر تمہارا انتظار کرنے کو تیار ہوں بس انکار مت کرنا
سانیہ اسنے محبت بھرے لہجے میں کہا
ج۔جی
i love u
تو سانیہ کہ دل نے سپیڈ پکڑی اور اٹھ کر جانے لگی کہ زینیا اور زوار اے
زوار نے شیطانی مسکراہٹ احمد کو پاس کی تو احمد اسے گھورا
زینیا میں چلتی ہوں تو زینیا بھی ساتھ باہر نکل گی۔
احمد کو ہاسیٹل میں پانچ دن ہو گے تھے اور اسنے شور مچایا ہوا تھا گھر جانے کا اخر کار سب نے اسکے سامنے ہار مان لی تھی پر زوار نے شرط رکھی تھی کہ تم میرے گھر جاو گے اس پر بھی اسنے شور مچانا چاہا پر زوار کی دھمکیوں پر خاموش ہو گیا اور ساتھ جانے کے لیے تیار ہوگیا
اس وقت احمد کے روم میں علی زوار اور احمد بیٹھے تھے اور احمد کو بے چینی لگی تھی کہ سانیہ بھی ای ہے یا نہیں
اسنے انکھوں سے زوار کو اشارہ کیا تو زوار اپنی مسکراہٹ دباتا علی کو کہا یار اکیلا ایا ہے یا انٹی بھی اٸیں ہیں
نہیں یار ساتھ سانیہ ہے اس نے بھابھی سے ملنا تھا
اچھا ایک منٹ میں ابھی ایا زوار یہ کہ کر وہاں سے چلا گیا
………………………….
یار زینی تجھے کچھ بتانا ہے سانیہ نے ہاتھ مسل کر کہا
کیا بتانا ہے بتا ہچکچا نہیں
یار دراصل ۔۔۔۔۔اسنے احمد اور اپنا سارا بتایا
زینیا نے پہلے بےیقینی سے اسے دیکھا جو ہاتھ مسل رہی تھی
سچی سانی اسے ابھی بھی یقین نہیں ارہا تھا
تو سانیہ نے اثبات میں سر ہلایا
تو سانیہ خوشی سے اسکے گلے لگ گی
یار سانی احمد بھاج بہت اچھے ہیںتم انکو انکار مت کرنا اور بھی بہت کچھ بتا رہی تھی اور زوار باہر کھڑا سن کر مسکرا رہا تھا اور سوچا دوسروں کو کیسے سمجھا رہی ہے اور خود ۔۔۔۔۔۔۔
اور دروازہ کھٹکھٹا کر اندر چلا گیا
زینیا وہ احمد کو کچھ پوچھنا ہے چلو
اوکے چلو سانیہ تم بھی اسنے شرارت سے کہا تو سانیہ ہڑبڑا کر کہنے لگی چلو
سانیہ اور زینیا جا رہی تھیں کہ زوار نے زینیا کو پبارزسے پکڑ کر پیچھے کھینچا اور کہا میں بھی جانتا ہوں سانیہ اور احمد کا سین
تو زینیا نے اسکی طرف دیکھا
زوار نے اسے انکھ ماری تو زینیا نے گھبرا کر نظریں جھکا لیں
دوسروں کو ہدایات دیتی ہو کبھی فرصت سے میرے پاس انا اور مجھ سے بھی کچھ سیکھ لینا معنی خیزی سے کہتا اسکی گال کو چومتا کمرے میں چلا گیا زینیا نے گھبرا کر اردگرد دیکھا اور خود کو کمپوز کرتی اندر کی طرف بڑھ گی
احمد نے مسکرا کر سانٕیہ کی طرف دیکھا تو سانیہ نے علی کی طرف دیکھا کہیں وہ تو نہیں دیکھ رہا
علی یار چچی جان پوچھ رہیں ہیں زرا میرے ساتھ تو اا زوار نے احمد کو انکھ مار کر علی سے کہا تو احمد اپنی مسکراہٹ دبای وہ دونوں باہر چلے گے تو زینیا نے کہا
میں زرا اتی ہوں اور احمد بھای دھیان سے اور ساتھ میں ہنس دی اور سانیہ کو دیکھ کر باہر چلی گی
سانیہ بھی جانے لگی کہ احمد نے کہا
یار روکو وہ جان بوجھ کر کچھ دیر اکیلا چھوڑ کر گے ہیں رکو بات سن لو
تو سانیہ مرے قدموں کے ساتھ اسکے سامنے بیٹھ گی
کیا ساچا میرے بارے میں
اپ یقیناً اچھے ہیں زینی نے بھی کہا پر کیا واقع اپ مجھے پسند کرتے ہیں
پسند نہیں کرتا میں تمہیں اسکی بات سن کر سانیہ نے اسکی طرف دیکھا اور مزید بولا
پسند نہں کرتا محبت کرتا ہوں تم سے اور مسز احمد پسند میں اور محبت میں بہت فرق ہے سوو میرےی حبت کو پسند کا نام مت دو احمد نے اسکی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسا کر کہا
تو سانیہ نے شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھکا لیا
بولو محبت کرتی ہو
سانیہ کچھ بولنے لگی کہ زواع دروازہ کھٹکھٹا کر اندر داخل ہوا
سانیہ نے فوراً اپنا ہاتھ چھڑوایا اور باہر چلی گی
اہم اہم بڑی بات ہے زوار نے چھیڑا
احمد نے اسے گھورا اور کہا لانتی انسان تھوڑی دیر بعد نہیں اسکتا تھا ابھی تو بات بنی تھی اور تونے لڑکی کے باپ کی طرح انٹری ماری
ہاہاہاہا اسکی بات سن کر زوار کا قہقہ گونجا
اچھا اچھا بس کر
احمد نے دیکھا زینیا ارہی ہے تو اسکی بینڈ بجانے کا سوچا اور کہا
اور میری پیاری بھابھی پلس بہنا کی سنا
زینیا و بولنے لگی تھی اسکی بات سن کر خاموش ہو گی
اسکا کیا سناووں یار دور بھاگتی رہتی ہے
کچھ نہیں ہوتا حوصلہ رکھ سمجھ جاے گی
سب سمجھتی ہے تیرے بھابھی پلس بہنا بس ویسے ہی اسے مجھے تڑپانے میں مزہ اتا ہے
تو تو نہ تڑپ
تو تو فصول بکواس بند رکھ
بھابھی اچھی ہے یار
اچھی تو ہے پر ہے چڑیل خوبصورت چڑیل
احمد اپنی ہنسی کنٹرول کر رہا تھا
زوار کچھ اور بھی بولنے لگا تھا کہ زینیا بولو
شاہ اپکو چچا جان بلا رہے ہیں
زوار نے پیچھے پلٹ کر دیکھا تو زینیا انکھوں میں انسو لیے اسکی طرف دیکھ رہی تھی اور واپس غصے سے دروازہ زور سے بند کر کے چلی گی
ادھر دروازہ دھڑام سے بند ہوا ادھر احمد کا قہقہ گونجا
زوار نے اسکی طرف کھا جانے والی نظروں سے دیکھا
کمینے بیغیرت لانتی بتا نہیں سکتا تھا پیچھے زینیا کھڑی ہے
ہاہااہاہا اچھا ہوا تیرے ساتھ اسی لیے نہیں بتایا ہنس ہنس کر احمد کی انکھوں میں پانی اگیا تھا
احمد کے بچے تیرا منہ توڑ دوں
احمد کا ہنسنے کی وجہ سے منہ درد کرنے لگ گیا تھا اسنے اپنے گال زور زور سے مسلے
سچی زوی بڑا مزہ ایا
اب دیکھ مجھے کیسے مزہ اتا علی کو بتاتا ہوں تیرے خیالات کے تو تنہای میں اسکی بہن کو چھوتا ہے
احمد کی ہنسی کو بریک لگی اوے مینے کب چھوا ہے
تونے نہیں چھوا یہ بس مجھے بتا ہے علی کو تو نہیں نہ
زوار تیرا حشر نشر کردوں گا اگر تونے کچھ فصول بکواس کی تو
نہیں اب ہنس نہ میری جان کو ناراض کر دیکا اب تو دیکھ یہ جو تیرا ٹانکا فٹ ہے نہ کینسل دیکھیں کرواتا
اوو سوری جگر یار تو کچھ الٹا نہ کریں تینوں رب دا واستہ ای
ہاہاہہا دفعہ ہو اور دہاں سے جانے لگا کہ احمد نے معصوم شکل بنا کر کہا
ہاہہاہاہا اب اموشنل نہ ہو نہیں کرتا کچھ اور چلا گیا
نیچے گیا تو زینیا کی طرف دیکھا جس نے اسکی طرف دیکھ کر منہ دوسری طرف کرلیا
زوار لب بھینچ کر رہ گیا اور اپنے چچا سے باتیں کرنے لگ گیا
………………………….
زوار رات کو کمرے میں گیا تو زینیا اسے ایک نظر دیکھ کر بیڈ پر لیٹ کر انکھیں بند کر لیں
زوار اسکے پاس جا کر بیٹھ گیا اور کان میں سرگوشی کی
جانم ناراض ہے تو زینیا نے جھٹ سے انکھیں کھولیں اور اسے پرے دھکیل کر اٹھ کر بیٹھ گی
زوار نے اسے کھینچ کر اپنے اوپر گرایا اور بال کان کے پیچھے کر کے کہا سوری
نہیں میں تو چڑیل ہوں اسنے چڑیل پر زور دے کر کہا
یار خوبصورت چڑیل بھی تو تھا نا
زینیا نے خود کو چھڑوانا چاہا پر وہ زوار شاہ کی پکڑ تھی
زوار نے اسے نیچے کیا اور خود اوپر ہوگیا اور اسکے ہاتھوں پر پکڑ مضبوط کر لی
چھوڑیں اپ بات نہیں کریں مجھ سے
سوری نا یار اسنے بےچارگی سے کہا
چھوڑیں مجھے اور ہاتھ چھڑوانے چاہے
زوار نے اسکی مزاحمت کو ناکام بنا کر اسکے لبوں پر اپنے لب رکھ کر اسکی سانسوں کو قید کر لیا
جب زوار پیچھے ہوا تو زینیا لمبے لمبے سانس لینے لگ گی
زوار نے اسکی انکھوں کو چوما اور کہا یہ سب احمد کا کیا دھرا ہے اسنے یہ سب کروایا اچھا اب سوری بھی
ہاں اپ تو جیسے بچے تھے سب کہتے گے اور ہاں دل میں جو تھا وہیں نکلا ہے
دل میں اور بھی بہت کچھ ہے کر کے دیکھاوں اور دوبارا اسکے لبوں کو چوم لیا زینیا شرم سے لال ہو گی
چھوڑیں
ایک شرط ر چھوڑوں گا ناراض تو نہیں
نہیں ہوں اب چھوڑیں
تو زوار پیچھے ہو گیا اور زینیا لیٹ کر سر تک کمبل تان لیا۔۔۔
جاری ہے
