Surkh Jora by Saloni NovelR50720 Surkh Jora by Saloni Episode 13
Rate this Novel
Surkh Jora by Saloni Episode 01 Surkh Jora by Saloni Episode 02 Surkh Jora by Saloni Episode 03 Surkh Jora by Saloni Episode 04 Surkh Jora by Saloni Episode 05,06 Surkh Jora by Saloni Episode 07 Surkh Jora by Saloni Episode 08 Surkh Jora by Saloni Episode 09 Surkh Jora by Saloni Episode 10 Surkh Jora by Saloni Episode 11,12 Surkh Jora by Saloni Episode 13 (Watching)Surkh Jora by Saloni Episode 14 Surkh Jora by Saloni Episode 15 Surkh Jora by Saloni Episode 16 Surkh Jora by Saloni Last Episode
Surkh Jora by Saloni Episode 13
وسیم طبیعت بوجھل ہونے کے باعث اپنے کام پر بھی نہیں جا سکے ۔
مایا ماریہ کو یونیورسٹی چھوڑ کر سیدھے رحیم کیطرف نکل پڑے ۔
رحیم سے رات کے خواب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کیوں لگتا ھے جیسے اس خواب کا انے والے وقت سے کوئی تعلق ھے ۔
رحیم نے وسیم کو تسلی دیتے ہوۓ کہا ۔
یار ہر وقت ایسا مت سوچا کرو ۔ لگتا تم بوڑھے ھو گئے ھو ۔
پہلے تو اتنے کمزور نہیں تھے ۔
تمہیں یاد نہیں آدھی رات کو بھی ہم گھنے جنگلات میں سے گزرا کرتے تھے اور ڈرتے بھی نہیں تھے ۔
ہاں وہ وقت اور تھا ۔
تب ہم ایسا کوئی سین دیکھنے کی خواہش کرتے تھے ۔
اور جب میں نے ایسا سین دیکھ لیا ۔ تب سے زندگی پریشان ھے ۔
چلو جیسا رب چاہے ۔ بس پریشان مت ہوا کرو رحیم نے وسیم کو تسلی دیتے ہوۓ کہا ۔
تم جس کام میں لگے ھو یہ صدقہ جاریہ ھے ۔
دو یتیم بچیوں کی کفالت اور انکو دینی دنیاوی تعلیم دلا کر ۔
تم سرخرو ھو اللہ کی نظر میں ان شاء اللہ ۔ مجھے پورا یقین ھے ۔ باقی معاملات اپنے اللہ پر چھوڑ دو ۔
رحیم کی اتنی پیاری باتوں سے وسیم کی طبیعت کافی سنبھل گئی ۔
وسیم نے ساتھ ھی رحیم کو کہہ دیا ۔
تم بھی خیال رکھنا ۔ میری بیٹی کا ۔ بڑے نازو نعم سے پالا ھے ہم نے ۔ اسے بہو نہیں اپنی بیٹی کی طرح رکھنا ۔
وسیم نے رحیم سے التجا کی ۔
کیسی باتیں کررہے ھو یار ۔
میں بھی تمہارا بھائی ھوں ۔ رحیم نے وسیم کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔
کس کا دل چاہے گا پھول جیسی بچی کو تکلیف پہنچے ۔
ابھی جس طرح تم ذمہ داری نبھا رھے ھو ۔
کل میں بھی ان شاء اللہ اسی مقام پر ھوں گا ۔
اور رهی بات شمائل کی ۔ وه تم پر گیا ھے ۔ بہت چاہنے والا ۔ اور خیال رکھنے والا بیٹا ھے میرا ۔
یونیورسٹی میں سپورٹس ویک چل رہا تھا ۔
ابتہاج نے اس ویک میں مایا کو مجبور کیا کہ ۔
یا وہ اسکے گھر آے یا میرے والدین کو اپنے گھر انے کی اجازت دے ۔
مایا ابھی ایسا کچھ نہیں چاہتی تھی ۔
ممی ڈیڈی انہیں کامیاب ڈاکٹر کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے ۔ اور وہ ہر صورت میں انکا خواب پورا کرنا چاہتی تھی ۔
ابتہاج نے پوری کلاس ٹیم سے اجازت لیکر مایا کے ساتھ کچھ وقت لونگ ڈرائیو پر جانے کو کہا ۔
حالانکہ وہ جانتا تھا یہ طریقہ مناسب نہیں ۔
اسکا دعوہ تھا کہ سب میرے گھر سے بھی واقف ہیں ۔
اور مجھ سے بڑھ کر مایا کا کوئی خیر خواہ بھی نہیں ۔
ابتہاج نے مایا سے وعدہ کیا کہ یونی کی چھٹی ٹائم پر واپس آ جایں گے ۔
مایا کو اسکے ساتھ جاتے ہوۓ جھجھک محسوس ھو رهی تھی ۔
وہ دل ھی دل میں ممی ڈیڈی سے شرمندہ بھی تھی ۔
اسکے دل میں بار بار یہ خیال آ رہا تھا کہہ میں اچھا نہیں کر رهی ۔
ابتہاج راستے بھر میں بالکل خاموش رہا۔
کافی ٹائم کے بعد ابتہاج نے ایک گھر کے سامنے گاڑی روک کر مایا کو اترنے کا کہا ۔
یہ کسکا گھر ھے ابتہاج ۔
مایا خوفزدہ ہو گئی ۔
ڈرو نہیں یہ میرا گھر ھے میں تمہیں اپنی ماما بابا سے ملوانے لا یا ھوں ۔
لیکن میں اندر نہیں جاؤں گی ابتہاج ۔ تم مجھے بتاتے تو سہی ۔
ایسے میرے پیرنٹس کی عزت میں فرق آتا ھے ۔
مجھے ابھی اسی وقت واپس جانا ھے ۔
یار پلیز آب آ چکی ھو تو مل بھی لو ۔
میری ماما کو بڑی خواہش تھی تم سے ملنے کی ۔
میرے پاس اور کوئی حل نہیں تھا ۔ اسی لئے تمہیں یہاں لے آیا ۔
ٹھیک ھے ابتہاج تم انٹی کو گھر لے آنا لیکن میں یہاں ان سے نہیں ملوں گی ۔
ابتہاج کی کار روکنے کی آواز فیروز حیدر نے سن لی تھی ۔
انکا دل زور سے دھڑکا ۔ ایک نا معلوم سا سکوں محسوس ہوا ۔ انھیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ کئی صدیوں سے ابتہاج کا انتظار کر رہے تھے ۔
کچھ انتظار کے بعد جب ابتہاج گھر داخل نا ہوا تو وہ باہر نکل آئے ۔
چلتے ہوئے ابتہاج کی کار کے پاس ا گئے ۔
مایا کو دیکھ کر انکے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی ۔
انہوں نے اگے بڑھ کر دروازہ کھولا اور مایا کو باہر انے کا اشارہ کیا ۔
مایا نا چاہتے ہوۓ باہر نکل آئی ۔
فیروز حیدر نے مایا کا ہاتھ پکڑ لیا اور گھر کے ااندر لے گئے اور ساتھ آوازیں دینی شروع کر دی ۔
ہاجرہ یہاں تو آو ۔ دیکھو کون آیا ھے ہمارے گھر ۔
مایا خود کو روبوٹ سمجھنے لگی ۔ وہ نجانے کیوں انکی ہر بات مانے جا رهی تھی ۔
کون سی ایسی کشش تھی ۔ انکل میں ۔ کیوں مجھے ان سب پر اعتبار کرنے کو دل چاہ رہا ھے ۔
ابتہاج کی ماما کسی بیماری کے باعث آہستہ آہستہ چلتی آ رهی تھیں ۔
مایا کو دیکھ کر بیحد خوش ہوئیں ۔ اسے گلے سے لگا کر پیار کیا اور دعا دی ۔
باتوں کے دوران بارہا مرتبہ ابتہاج کے بابا نے محسوس کیا کہ مایا کے ہنسنے کا انداز بہت دیکھا بھالا ھے ۔ گو کہ مایا اپنی ماں جین جیسی تھی لیکن پاکستان کے ماحول اور مذہبی گھرانے میں پلنے کی وجہ سے جین سے کافی مختلف ھو گئی تھی ۔
فیروز حیدر جانتے تھے مایا کے ڈیڈی کا نام وسیم تھا ۔ اسکے باوجود انہوں نے پھر سے مایا سے اسکے ڈیڈی ممی کا نام پوچھا ۔
مایا نے بتایا ۔
میری ممی کا نام سدرہ اور ڈیڈی وسیم احمد ہیں ۔
میرے ڈیڈی کا اپنا بزنس ھے ۔ کافی مصروف ہوتے ہیں ۔
بیٹا کیا میں تمہارے ڈیڈی سے مل سکتا ھوں ۔
ہاجرہ بیگم بھی ایک ٹک مایا کو دیکھتی رهی ۔
مایا انکے اصرار پر شرمندہ ھو گئی ۔ اور کہا ۔
میں اپنی ممی سے پوچھ کر بتاؤں گی ۔
فیروز حیدر مایا کے جواب سے بہت خوش ہوۓ۔
ہاجرہ بیگم نے مایا کو پہلی مرتبہ اپنے گھر انے پر ایک خوبصورت گرم شال کا تحفہ پیش کیا ۔
جسے تھوڑے سے پس و پیش کے بعد مایا کو قبول کرنا پڑا ۔
ابتہاج اپنے وعدے کے مطابق مایا کو چھٹی ٹائم سے کافی پہلے واپس لے آیا ۔
مایا کو واپس آتا دیکھ کر ماریہ کی جان میں جان آئی ۔
مایا نے گھر اتے ساتھ سب سے پہلے شال کو چھپایا ۔ جو ابتہاج کی ماما نے دی تھی ۔
وسیم قدرے بہتر موڈ میں تھے ۔
مایا ماریہ کے گھر انے سے کافی پہلے گھر ا چکے تھے ۔
مایا ماریہ دونوں ڈیڈی کے ارد گرد بیٹھ گئی اور ماریہ نے کہا ۔
لگتا ھے ڈیڈی اپنے بھائی سے مل کر آے ہیں جبھی موڈ بڑا اچھا ھے ۔
وسیم قہقہہ لگا کر ہنس پڑے ۔
ہاں تم دونوں ماں بیٹی کو یہی مسلہ ھے ۔
مایا کچھ خاموش سی تھی ۔ وسیم نے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔ بس مایا ساتھ دیتی ھے میرا ۔ تم تو ممی کی چمچی ھو ۔
اسطرح مایا آپکی چمچی ۔
ماریہ مکمل مقابلے میں موڈ میں تھی ۔
چاچو جو آپکو پٹیاں پڑھاتے ہیں نا یہ بھی ساتھ ساتھ مسکے لگا رهی ہوتی ھے ۔
بیچاری ممی کو میں اکیلا تو نہیں چھوڑ سکتی ۔
اتنا سننے کی دیر تھی سدرہ غصے سے چیختی کچن سے باہر آ گئی۔
ماریہ کیا پٹیاں پڑھا رھے تھے تمہارے چاچو میرے خلاف ذرا بتانا تو ۔
دیکھو ذرا نیکی کا تو زمانہ ھی نہیں رہا ۔
ارے کچھ کہا اس نے تمہارے خلاف ۔ ماریہ ایسے ھی بھڑکا رهی ھے ۔
وسیم نے سدرہ کو صفائی پیش کرتے ہوئے کہا ۔
اور خوب جھڑک دیا ماریہ کو ۔
ماریہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑی اور بولی ۔
آب تو ممی نہیں چھوڑنے والی ڈیڈی کو ۔
اس سے پہلے کہ لڑائی کا ماحول بنے مایا نے کہا ۔
ڈیڈی سنڈے اسپیشل ھو جاۓ اس مرتبہ ۔
مایا نے ڈیڈی کو خوش دیکھتے ہوئے جھٹ سے فرمائش کر ڈالی ۔
ٹھیک ھے ماں سے پوچھ لو میں تو تیار ھوں ۔
وسیم واقعی رحیم سے ملنے کے بعد خود کو ہلکا محسوس کر رھے تھے ۔
اتوار کو کرکٹ کا میچ رکھا گیا ۔
مایا وسیم چاچو اور چچی کی ٹیم الگ تھی ۔ جبکہ ماریہ سدرہ اور سدرہ کے بھائی اور انکا بیٹا چار لوگ الگ ٹیم میں شامل تھے ۔
چونکہ اتوار کی صبح میچ سٹارٹ ہونا تھا ۔ تو کھانا ایک دن پہلے بنایا گیا ۔
مایا ماریہ اور سدرہ نے تین چار ڈشیں چٹنی اور میٹھا بنا لیا ۔ اور روٹیاں وقت پر تنور سے منگوا لینے کا پروگرام بنایا ۔
پروگرام کے مطابق 10 بجے میچ سٹارٹ ہونا تھا ۔ دونوں ٹیم کے ممبرز نے ٹاس کرنے کے بعد کھیل شروع کر دیا ۔
ابھی ایک گھنٹہ بھی نہیں گزرا کھیل کو گیٹ پر بیل کی آواز آئی ۔
رحیم نے گیٹ کھولا تو گیٹ پر ابتہاج اپنے ماما بابا کے ساتھ کھڑا تھا ۔
