Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Surkh Jora by Saloni Episode 03

سمیر کچھ دیر خاموش رہا اور کہا ۔
میرا خواب تمہارے ذھن میں رہ گیا تھا۔
اس لیے وہی خواب دوبارہ نظر آیا ۔
ایسا کچھ بھی نہیں جو تم پریشان ھو جاؤ ۔
جین نے بھی سمیر کی تائید کی ۔
اور کروٹ لیکر سو گئی ۔
صبح سمیر نے محسوس کیا جین کو تیز بخار تھا ۔
اس نے ہلکے سے جین کو ہلایا تو وہ سر درد سے
کراہ اٹھی ۔
سمیر نے جین کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوۓ کہا ۔
تم سوئی رہو میں کافی بنا کر لاتا ھوں ۔
ناشتے کے بعد تک جین کی طبیعت نہیں سنبھلی
تو سمیر نے جین کو اٹھا کر گاڑی میں بٹھایا
اور ہسپتال لے گیا ۔ جہاں جین کے کچھ ٹیسٹ
لیے گئے۔
ٹیسٹ رپورٹ کے مطابق جین امید سے تھی۔
سمیر بیحد خوش ہوا ۔ اور جین کو اٹھا کر
گاڑی میں بٹھایا ۔
گھر کےسب چھوٹے موٹے کام سمیر نے خود
کے ذمہ کرلیے ۔ جین کی ہر ممکن مدد کرتا ۔
بچوں کا احساس دونوں کو مسرور کر دیتا ۔
جین کی طبیعت اکثر خراب رہتی ۔
سمیر سٹور سے واپس ا کر سارا ٹائم بچوں
کی باتیں کرتا ۔ جین اور سمیر انے والے دنوں
کی پلاننگ بھی کرتے ۔
بچوں کی ضرورت کی اشیا گھر میں آنا شروع
ہو گئی ۔
گھر میں ایک خوشگوار ماحول پیدا ہو گیا ۔
وقت آن پہنچا اور سمیر کے گھر جڑواں بیٹیوں
نے جنم لے لیا ۔
سمیر نے جین کے نام سے ملتے جلتے ہوۓ ناموں
کو منتخب کیا ۔ جینیفر اور جولیا جین کی طرح
نیلی آنکھوں والی ہمشکل بچیاں تھیں ۔
سمیر کی کل کائنات ۔
سمیر کا زیادہ تر وقت بچیوں کے ساتھ گزرتا ۔
دونوں کو بیک وقت جین کے لیے سنبھالنا مشکل
ھو جاتا تو سمیر اسکی پوری مدد کرتا ۔
جینیفر اور جولیا کے انے سے دونوں کی زندگی
یکدم بدل گئی ۔
اب تو بچیوں کے کاموں سے دونوں کو فرصت
ھی نا ملتی ۔
وقت قذرتا گیا بچیاں چار سال کی ھو گئی تو
انکو اسکول میں ڈال دیا گیا ۔
اب زندگی میں کچھ ٹہراؤ آیا تو جین نے پھر سے
سمیر کو کہا ۔
سمیر جینیفر ‘ جولیا بڑ ی ھو گئی ۔ چلو پاکستان
چلتے ہیں ۔
آؤٹنگ بھی ھو جاۓ گی اور تمہاری فمیلی کو
بھی ڈھونڈ نکالیں گے ۔
جین نے کہا ۔
سمیر کچھ دیر سوچنے کے بعد بولا ۔
ہم کافی ٹائم سے کہیں گئے بھی نہیں ۔
بچوں کی وجہ سے کافی مصروف تھے ۔
چلو میں کچھ معلومات لیتا ھوں ۔ سمیر نے
جین کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا ۔
دونوں نے بڑی دلچسبی سے ضروری اقدامات کئے ۔
کیوں کہ سمیرنے اس سے پہلے کبھی پاکستان نہیں
دیکھا ۔
جینیفر اور جولیا کے ہالیڈیز میں پاکستان
جانے کا پروگرام رکھا گیا ۔
سمیر نے پوری معلومات حاصل کر لی ۔ میر پور
تک ڈائریکٹ کوئی فلائٹ نہیں جاتی لہٰذا اسلام آباد
ایئر پورٹ پر لینڈ کرنے کے بعد میر پور کار سے جانا
ہوگا ۔
سمیر نے اسلام آباد کے ہوٹل میں ایک کمرہ ریزرو کرایا ۔
تاکہ نو گھنٹے کے سفر کی تھکان ختم کرنے کے بعد
میر پور
کی طرف کوچ کیا جاۓ ۔ اس بہانے اسلام آباد جیسے
خوب
صورت شہر کو بھی دیکھا جا سکتا ھے ۔
جین اور سمیر بیحد خوش تھے ۔ دونوں کو پاکستان
دیکھنے کا بیحد شوق تھا ۔
اگلی صبح کی فلائٹ سے چارو اسلام آباد ایئر پورٹ
پہنچ گئے ۔
سمیر نے ہوٹل فون کرکے ان کی کار بلائی اور وہ
گھنٹے بعد ایک خوبصورت ہوٹل میں داخل ہوئے ۔
جینیفر اور جولیا تو تقریبا سارا ٹائم سوئی رهی ۔
کمرے میں پہنچ کر سمیر نے کچھ کھانے پینے کا
آرڈر کیا ۔ اور فریش ھو کر کل کا پروگرام بنانے لگے ۔
اسلام آباد دو دن رہنے کا پروگرام تھا ۔ تاکہ یہاں کی
مشہور جگہیں دیکھ سکیں ۔
اسلام آباد کی خوبصورتی سے دونوں بہت متاثر ہوئے ۔
میر پور جانے کے لیے ہوٹل والوں کی طرف سے
سروس
دی گئی ۔
لہٰذا سب خوشی خوشی اپنی منزل کی جانب چل پڑ ے ۔
سمیر بے انتہا خوشی محسوس کر رہا تھا۔
میر پور کی طرف روانہ ہوتے وقت سمیر کا دل
زور زور سے دھڑکنے لگا ۔
ایک عجیب سا احساس دل کو اداس کر گیا ۔
میر پور کے راستوں سے ایک انجانی سی
انسیت محسوس کرنے لگا ۔
سمیر دل ھی دل میں دعا کرنے لگا کہ یا اللہ
مجھے میری فمیلی سے ملا دے
جین میر پور کے راستوں سے لطف اندوز ھو
رهی تھی ۔
جین نے سمیر سے کہا ۔
سمیر میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ
تمہارا شہر اتنا خوبصورت ھو گا ۔
سڑک کے ایک جانب اونچے پھاڑ اور دوسری
جانب کھائی تھی ۔
جو سارا رستہ انکے ساتھ ساتھ چلتی رہی ۔
پہاڑوں کی خوبصورتی اور ساتھ چلتی هوئی
کھائی کہیں کہیں خوفزدہ بھی کر دیتی ۔
ہاں واقعی مجھے بھی اندازہ نہیں تھا اسکی
خوبصورتی کا ۔
سمیر کے لہجے میں بیحد اداسی تھی ۔
جین نے سمیر کی اداسی کو محسوس کرتے
ہوئے کہا ۔
سمیر میں سوچ رهی ھوں ہم مستقل طور پر یہیں
شفٹ ھو جاتے ہیں ۔ ۔
اج سمیر کو نجانے کیوں شدت سے احساس
محرومی ہونے لگا ۔
تقریبا تمام راستہ خاموش رہا ۔ جبکہ جین اور
بچیاں کافی چہکتی رہیں ۔
موسم نے یکایک پلٹی کھائی ۔
دیکھتے ھی دیکھتے سرد ہوا اور طوفان نے
جگہ لےلی ۔
جیسے ھی طوفان کا زور ٹوٹا موسلادھار
بارش شروع ھو گئی ۔
سمیر کا دل اس زور سے دھڑکا کہ اسکی حالت
دیکھ کر جین نے ڈرائیور کو گاڑی رکنے کا
اشارہ کیا ۔
ڈرائیور ابھی محتاط طریقے سے گار کو ایک
سائیڈ پر لگا رہا تھا کہ ایک تیز رفتار بس
موڑ مڑتے ہوۓ گاڑی سے ٹکرائی اور گاڑی
نیچے کھائی میں گر گئی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *