Surkh Jora by Saloni NovelR50720 Surkh Jora by Saloni Episode 07
Rate this Novel
Surkh Jora by Saloni Episode 01 Surkh Jora by Saloni Episode 02 Surkh Jora by Saloni Episode 03 Surkh Jora by Saloni Episode 04 Surkh Jora by Saloni Episode 05,06 Surkh Jora by Saloni Episode 07 (Watching)Surkh Jora by Saloni Episode 08 Surkh Jora by Saloni Episode 09 Surkh Jora by Saloni Episode 10 Surkh Jora by Saloni Episode 11,12 Surkh Jora by Saloni Episode 13 Surkh Jora by Saloni Episode 14 Surkh Jora by Saloni Episode 15 Surkh Jora by Saloni Episode 16 Surkh Jora by Saloni Last Episode
Surkh Jora by Saloni Episode 07
سدرہ نے مایا ماریہ کو سکھایا تھا جیسے ھی گاڑی میں بیٹھو سب سے پہلے سفر کی دعا پڑھنی چاہیے ۔ ایسے اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرماتا ھے۔
مایا ماریہ کی عادت پختہ ھو گئی لہٰذا جیسے ھی روانہ ہونے لگے دونوں اونچی آواز میں دعا پڑھنے لگی ۔
سدرہ وسیم کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر جبکہ مایا ماریہ پیچھے بیٹھتی تھیں ۔
کھانے پینے کا سامان ماریہ نے اپنے پاس رکھا تھا ۔
باقی کا سامان ڈگی میں رکھ دیا گیا تھا ۔
موسم کافی خوشگوار تھا ۔ مایا ماریہ نے ایک دوسرے جو جوک سنانے شروع کر دیے ۔
کبھی کبھار لڑنے لگتی ۔ سدرہ انکی ہر وقت کی شکایتوں سے تنگ آ جاتی ۔
ابھی بھی کچھ ایسا ھی ماحول بن رہا تھا ۔
مایا نے ماریہ کی ببل کھا لی اور اتنی سی بات پر مسلہ کشمیر بن رہا تھا ۔
دونوں کی لڑائی جب عروج پر پہنچی تو وسیم نے غصّے سے دونوں کو خاموش کرایا ۔
اگر یہ جھگڑا ختم نا کیا تو میں یہی سے گاڑی واپس موڑ دونگا ۔
سدرہ نے پیچھے منہ کر کے انکی منت کی کہ چپ ھو جاو ورنہ ڈیڈی واپس ھو جایئں گے ۔
دھمکی کام آ گئی ۔ دونوں نے منہ پھلا کر ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا ۔
کچھ فاصلے پر ایک ٹک شاپ نظر آئی تو وسیم نے سائیڈ پر گاڑی کھڑی کی یہ سوچ کر کہ کافی ساری ببل لا سکے ۔
وسیم کے اترنے کی دیر تھی دونوں چھلانگیں لگاتی گاڑی سے اتری اور ڈیڈی کے ساتھ شاپ تک پہنچ گئی ۔
ڈیڈی سے پہلے ہی ببل اور کچھ چاکلیٹ پر دھاوا بول دیا ۔
اپنا اپنا الگ پیک کروا کر گاڑی میں آ بیٹھیں ۔
وسیم نے ڈرنک اور بسکٹس لیے اور تمام بل ادا کرنے کے بعد گاڑی میں واپس آئے اور بولے ۔
اب مجھے تم دونوں کی آواز آئی میں وہیں ا تار دونگا ۔
چارو پھر مزے مزے سے چل پڑے ۔
اب کچھ تھکن کا احساس ہونے
تو دونوں کو نیند نے آ لیا ۔ چند لمحوں میں ھی خراٹے لینے لگی ۔
انکے سوتے ھی سدرہ وسیم کو کچھ سکوں ملا ۔ تمام رستہ بیحد شور مچایا تھا دونوں نے ۔
سدرہ کو بھی کچھ سستی محسوس ہونے لگی اور سیٹ کے ساتھ ٹیک لگا لی۔
اچانک وسیم نے شیشے سے پیچھے دیکھا اور محسوس کیا کہ پچھلی نشست پر مایا ماریہ کے علاوہ بھی کوئی بیٹھا ہوا ھے ۔
وسیم نے پلٹ کر دیکھا تو کوئی نہ تھا ۔
وسیم نے پھر سے شیشے میں دیکھا مایا ماریہ کے درمیان کوئی تھا ۔ ایک جھٹکے سے وسیم نے گاڑی کو روکا اور پوری قوت سے پیچھے کو پلٹے تو دیکھا مایا ماریہ کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں دونوں جڑ کر بیٹھی ہوئی تھیں ۔
اتنے میں سدرہ بھی نیند سے ھوش میں آ گئی اور وسیم کی پریشانی کو سمجھنے لگی ۔
وسیم نے کھل کر سدرہ کو کچھ نہیں بتایا ۔ بس یہی کہا کہ میں سمجھا مایا ماریہ نیند میں سیٹ پر گر گئی ۔
اب وسیم نے سدرہ کو مشورہ دیا کہ وہ پچھلی نشست پر بیٹھ کر دونوں کو سہارا دیں ۔ تاکہ انکی نیند پوری ھو سکے ۔
سدرہ فورا پیچھے بیٹھ گئی اور دونوں بچیوں کو اپنے کندھے کا سہارا کر سلا دیا ۔
وسیم کو کچھ اطمینان ہوا تو دوبارہ سے چل پڑے ۔
ایک گھنٹے کا سفر باقی رہ گیا تھا ۔
اب وسیم اور سدرہ آپس میں باتیں کرتے ہوئے جارھے تھے ۔
شام کچھ گہری ہونے لگی تو گاڑی کی ہیڈ لائٹس ان کرنی پڑی ۔ مر پور سے لاھوتک کا کافی تھکا دینے والا سفر تھا ۔ سدرہ نیند سے ہلکان ہووے جا رهی تھیں ۔
اچانک سدرہ نے کہا وسیم ہم غلط رستے میں پڑ گئے ۔ گاڑی کو روکو۔
وسیم نے ہنس کر کہا ۔ بیوقوف مت بنو لاھور کا روڈ بالکل سیدھا ھے ۔ راستے میں کوئی موڑ نہیں ۔ یہ کہہ کر وسیم نے مرر سے پیچھے دیکھا تو سدرہ کی آنکھوں میں غصّے سے انگارے نکل رھے تھے ۔ کیا ہوا وسیم نے حیرت سے پوچھا ۔ سدرہ نے کوئی جواب نہیں دیا بس غصّے سے وسیم کو گھورتی رهی ۔
وسیم نے جب پلٹ کر دیکھا تو سدرہ مایا ماریہ کی طرح خراٹے لیکر سو رهی تھی ۔
یہ اج میرے ساتھ کیا ھو رہا ھے ۔
وسیم نے دل میں سوچا ۔اور سورہ یٰسین کی تلاوت لگا کر سننا شروع کر دی ۔
لاھور متعلقہ ہوٹل پہنچ کر وسیم نے سبکو جگایا ۔
سب نے اپنا اپنا سامان اٹھایا اور ہوٹل میں اپنے روم میں ا گئے ۔
ہوٹل کا کمرہ کچھ اسطرح تھا ۔
کمرے کی دونوں سائیڈ پر رومز فرنٹ پسسیج تھا ۔ بیک سائیڈ پر خوبصورت لان جس پر بینچ لگے ہوئے تھے ۔
کھڑکی لان کیطرف کھلتی تھی ۔
کمرے میں پہنچ کر سبھی نڈھال تھے نیند سے ۔ سدرہ مایا ماریہ بیڈ پر آرام کرنے لگی ۔ ۔
وسیم نے کمرے کا جایزہ لینے کے بعد صوفہ پر کمر سیدھی کرنے کے لیے لیٹ گئے ۔ اور تمام معاملات کے متعلق سوچنے لگے کہ یہ کیا ماجرا تھا ۔
بھوک کے مارے چاروں نا طاقتی محسوس کرنے لگے تو انہوں نے انٹر کام پر کھانے کا آرڈر کیا ۔ کیوں کہ بھوک سے نیند بھی کوسوں دور ھو گئی ۔
کھانا کھانے کے دوران وسیم نے تینوں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا ۔
واہ واہ نیند کی تینوں نے ۔
مایا ماریہ اور سدرہ باقاعدہ غصّے میں ا گئی ۔ ماریہ نے جھٹ سے کہا۔
کیا بات کر رھے ہیں ڈیڈی ہم تو ایک منٹ کے لیے بھی نہیں سوئیں ۔
آپ کہیں تو راستے میں انے والے ہر بورڈ کا نام بھی بتا سکتی ہیں ہم دونوں ۔
جتنے میں گن سکی سیدھی سائیڈ پر ٹوٹل 110 بورڈ تھے ۔ مایا تم بتاؤ تمہاری سائیڈ پر کون سے اور کتنے بورڈ تھے ۔
ماریہ کی بات سنکر وسیم سکتے میں آ گئے ۔ ۔
