Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Surkh Jora by Saloni Episode 11,12

مایا بوجھل قدموں سے آفس سے باہر نکلی ۔ کچھ اسے ابتہاج سے شرمندگی ھو رهی تھی۔
اور کچھ اسکے بابا کو دیکھ کر غلطی کا احساس ہونے لگا ۔
ابتہاج کے بابا کسقدر ڈیسنٹ تھے ۔ وہ دل میں سوچنے لگی ۔ نجانے کیوں میرا دل چاہ رہا تھا انکے پاس بیٹھوں اور باتیں کروں ۔
مایا اسی سوچ میں جا رهی تھی کہ سامنے سے اتی ہوئی ماہین سے جا ٹکرائی ۔
او ھو ۔ دیکھ کر چلو لڑکی ۔ تمہارا دھیان کدھر ھے ۔
ماہین نے کہا ۔
میں تو نہیں دیکھ پائی تم ھی سائیڈ پر ہوجاتی ۔
مایا نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا ۔
واصف کہاں ہیں کچھ معلوم ھے تمہیں ۔ مایا نے ماہین سے پوچھا ۔
کیفے ٹیریا میں ہوگا ادھر جاتے دیکھا تھا ما نے ۔ کیوں خیر ھو ۔
خیر ھی تو نہیں ۔ چلو وہیں سب کو بتاتی ھوں ۔
دونوں کیفے ٹیریا چل پڑی ۔
اتفاق سے سبھی وہاں مل گئے ۔
مایا نے سبکو بتایا ۔
ہماری وجہ سے ابتہاج اس یونیورسٹی سے جا رہا ھے ۔
اسکے بابا سے مل کر میں دل ھی دل میں بہت شرمندہ ھو گئی ۔
ہمیں اتنا خطرناک مذاق نہیں کرنا چاہیے تھا کہ وہ یونی چھوڑ دے ۔
واصف اور تیمور قہقہہ لگا کر ہنس دیے ۔
یار وہ تو بہت ھی ڈرپوک نکلا ۔
ماریہ نے کہا ۔ہم دونوں نے ایکٹ ایسا کیا کوئی بھی ہوتا وہ ڈر جاتا ۔
اس بیچارے کو کیا معلوم کہ ہم ایک نہیں دو ہیں ۔
سیدھی طرح کیوں نہیں کہتی تم دونوں ھو ھی چڑیل ۔ جو دیکھتا ھے ڈر جاتا ھے ۔
تیمور نے دونوں کا مذاق اڑاتے ہوۓ کہا ۔
چھوڑو ان سب باتوں کو ۔ تیمور اور واصف تم دونوں کو جانا ہوگا ابتہاج کو دیکھنے ۔ اور موقع ملتے ھی اسے بتانا کہ یہ ایک مذاق تھا ۔ آب اسے واپس لانا تم دونوں کا کام ھے ۔
میں نہیں چاہتی ہماری وجہ سے ایک اچھا سٹوڈنٹ یونی چھوڑ دے ۔
مایا نے تحکمانہ انداز میں کہا ۔
سب نے اسکی بات سے اتفاق بھی کیا ۔
طے یہ پایا کہ اتوار کو واصف اور تیمور ابتہاج کے گھر جایئں گے اور اس سے تمام کلاس کیطرف سے سوری بھی کریں گے ۔
ابتہاج کے بابا دونوں سے بہت پر تپاک طریقے سے ملے ۔
دونوں کی خوب آو بھگت بھی کی ۔ اور انے کے لیے شکریہ ادا کیا ۔
کچھ دیر وہ انکے ساتھ بیٹھے رھے ۔ پھر کسی کام سے باہر چلے گئے ۔
دونوں نے ابتہاج کو تمام بات بتائی اس سے معافی مانگی ۔ اور واپس انے کی التجا بھی کی ۔ جسے ابتہاج نے قبول کرلی ۔ اور بولا ۔
تو مایا ماریہ جڑواں ہیں ۔ تبھی میں سوچوں کبھی وہ میرے سامنے اور کبھی پیچھے نظر اتی ھے ۔
ابتہاج نے قہقہہ لگایا اور کہا ۔ سہی الو بنایا مجھے سب نے چلو آب میری باری ۔
اگلے دن ابتہاج کو یونیورسٹی میں زبردست ویلکوم کیا گیا ۔
ابتہاج مایا ماریہ سے ملکر کافی ایمپریس ہوا ۔ اتنی مماثلت بھی خوفزدہ کر دیتی ھے ۔
مایا نے ابتہاج کے پچھلے تمام لیکچر کوور کرنے میں بہت مدد کی ۔ اسی دوران مایا ابتہاج کے کافی قریب انے لگی ۔
ابتہاج کو اسکا احساس ہو چلا تھا لیکن اس وقت کنفیوز ھو جاتا جب دونوں ساتھ ہوتی ۔
ابتہاج تو کیا کلاس کا کوئی بھی ساتھی ابھی تک دونوں میں فرق نہیں سمجھ سکا تھا ۔
سب سٹوڈنٹس ایک کو بلانے کے لیے دونوں کو مخاطب کرتے تھے ۔ کبھی مایا کو اکیلے نہیں بلاتے ہمیشہ مایا ماریہ کہہ کر بلاتے تھے ۔
ابتہاج کبھی دل کی بات نہیں کر پایا کیوں کہ اسے ابھی تک دونوں کی پہچان نہیں تھی ۔ وہ بس یہ جانتا تھا کہہ مایا اسکی ہیلپ کرتی ھے ۔ اور وہی اس کے قریب ھے ۔
دونوں ایک جیسی ہونے کے باوجود ابتہاج صرف مایا کے متعلق سوچنے لگا تھا ۔
بہت کام موقع ملتا کہ وو مایا سے بات کر پاتا ۔ سب سٹوڈنٹس مایا ماریہ ہمیشہ ساتھ ساتھ رہتے ۔
اج پہلی مرتبہ پورا دن مایا کے ساتھ اکیلے گزارنے کا موقع ملا ۔
ماریہ بدلتے ہوئے موسم کی وجہ سے بخار اور زکام کی وجہ سے چھٹی پر تھی ۔
مایا دو دن لگاتار اکیلے یونیورسٹی اتی رهی ۔
ان دو دنوں میں ابتہاج نے کھل کر مایا سے محبت کا اظہار کیا ۔
مایا ایک بات کہوں ۔ ابتہاج نے مایا سے کہا ۔
تمہیں بات کہنے کی اجازت کیوں پڑنے لگی ابتہاج ۔
یہ بات ھی ایسی ھے ۔ اجازت تو لینی پڑے گی ۔
دیکھو اگر تم نے میری بات نا مانی تو ہم دونوں کا بڑا نقصان ھو جاۓ گا مایا ۔
اوکے ۔ تم بات تو بتاؤ ابتہاج ۔
ہمممم سوچ رہا ھوں ۔
کہ
کینٹین چلتے ہیں ۔
بس یہ کہنا تھا ۔ مایا ہنس پڑی ۔
نہیں ۔ مجھے کچھ اور کہنا تھا ۔ ابتہاج اسے چڑانے کے موڈ میں بولا ۔
اگر تم یہ سمجھو گے کہ میں چڑ جاؤں گی تو تمہاری سوچ ھے ۔
جو کہنا ھے کہو نہیں تو میرا گھر جانے کا ٹائم ھو گیا ۔ میں مزید رک نہیں سکتی ۔
مایا نے اپنا بعد سمیٹتے ہوئے کہا ۔
چلو مذاق ختم ۔ سریس ھو کے سنو ۔
کس تم اپنا گیٹ اپ ماریہ سے بدل نہیں سکتی ۔
میرا مطلب یہ کہ جس سے کم از کم میں دونوں میں فرق جان سکوں ۔
مایا کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔
ابتہاج ۔ ہمارے ممی ڈیڈی کو ہم ایک جیسی نہیں لگتی ۔ انھیں ہم دونوں میں فرق محسوس ہوتا ھے ۔ آب اگر تمہیں میری ضرورت ھے تو یہ فرق تم ڈھونڈو ۔
مایا نے سیریس ھو کر کہا ۔
تم پاگل ھو گئی ھو ۔
والدین کی بات اور ھے ۔ وو تو آنکھیں بند کر کے بھی پہچان سکتے ہیں ۔
میں تمہارا والد نہیں ۔ جو پہچان سکوں ۔ نا ھی ہمارا بہت ٹائم ساتھ گزرا ۔ مجھے کوئی واضح فرق چاہیے دونوں میں ۔
اپنا ہیر سٹائل یا کوئی رنگ پہنو یا کچھ بھی یار ۔
بس کچھ بدلو ۔
مایا اسکی جھنجہلا ہٹ کو سمجھتے ہوئے کہا ۔
ٹھیک ھے ۔ میں سوچوں گی ۔ فلحال میں گئی ۔
مایا تیزی سے اٹھی اسکی بس کا ٹائم ھو چلا تھا ۔
ابتہاج اسے دور جاتا دیکھتا رہا ۔
Episode 12
حالانکہ دونوں میں فرق ابتہاج کے لیے نا ممکن تھا ۔ لیکن پھر بھی کیوں اسے ماریہ سی چڑ سی ہونے لگی تھی ۔
وہ اکثر سوچتا کاش ماریہ نا ہوتی ۔
اگلے دن ابتہاج نے مایا سے کوئی بات نہیں کی ۔
مایا محسوس کر رهی تھی کہ ابتہاج اسے اگنور کر رہا ھے۔
مایا کی طرح ماریہ بھی بہت اچھے انداز میں ابتہاج سے بات کرتی تھی بلکہ پوری کلاس کے سٹوڈنٹس کی ایک دوسرے سے کافی اچھی گپ شپ تھی ۔ کوئی بھی مسلہ ھو یا کوئی سٹوڈنٹ فیس دینے کی پوزیشن میں نہیں تو سب ملکر اسکی مدد کرتے ۔
کسی کا لیکچر مس ھو تو سبھی اسکی مدد میں پیش پیش ہوتے ۔
مایا نے ایسا کبھی محسوس نہیں کیا کہ ابتہاج کو ماریہ سے چڑ سی ہونے لگی ۔
مایا نے سب سے الگ ھو کر ابتہاج سے پوچھا ۔
مجھے ایسا کیوں لگ رہا ھے ابتہاج جیسے تم مجھے اگنور کر رھے ھو ۔ مایا نے ناراضگی میں کہا ۔
مایا اگر تمہارے سامنے دو لڑکے ایک جیسے کھڑے ھوں جو شکل و صورت میں کسی طرح سے بھی ایک دوسرے سے مختلف نا ھوں ۔ جبکہ تم چاہو کسی ایک کو ۔
بتاؤ تم کیا کرو گی ۔
مایا میں بہت الرٹ ھوں میں اپنا مذاق نہیں بنوانا چاہتا ۔
میں نہیں چاہتا کہ اپنے جذبات بھول کر بھی ماریہ سے کہہ دوں ۔
اگر ھو سکے تو کچھ ایسا فرق رکھو جسے صرف میں سمجھ سکوں ۔
اگر تم چاہو تو میرے گھر والے ا کر تمہارے خوبصورت سے ہاتھوں میں ایک رنگ پہنا جایں ۔
آب ابتہاج شرارتوں پر اتر آیا ۔
مایا بھی مسکرا کر بولی ۔ ابھی ایسا ممکن نہیں ۔ بھر حال میں کوشش کرونگی کہ خود کو تھوڑا الگ کر سکوں ۔
وسیم کافی دنوں سی کسی کام میں الجھے ہوئے تھے کہ گھر کے لیے وقت نہیں بچتا تھا ۔
مایا ماریہ یونی چلی جاتی ہیں ۔ آپ سارا دن کام میں مصروف ہوتے ہیں ۔ میں انتظار کرتی رہتی ھوں سب کا ۔
سدرہ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ۔ کچھ دن کی بات ھے سدرہ پھر میں فری ھو جاؤں گا ۔
تمہیں معلوم ھے نا مایا ماریہ کی فیس اتنی ھے کہ اگر محنت نہیں کرونگا تو وہ ڈاکٹر کیسے بنے گی ۔
اگلے ماہ دونوں کی لاکھوں میں فیس جاۓ گی ۔
کماؤں گا تو فیس دونگا نا ۔
ایک بھی نہیں ہماری دو بیٹیاں ڈاکٹر بن رهی ہیں ۔
سدرہ کو کچھ تسلی دے کر وسیم کو کچھ اطمینان ہوا۔
وسیم اپنے آفس سے نکلے تو سوچا یہی کہ اج رحیم کی طرف کچھ وقت گزارے گے ۔ اپنے دھیان میں نجانے کس سوچ میں تھے کہ کسی انجانی راہ کیطرف نکل پڑے ۔
کافی دیر تک کوئی موڑ نہیں آیا تو وسیم اپنے دھیان سے باہر نکلے تو بیحد خوف زدہ ھو گئے ۔
یہ تو وہ راستہ ھی نہیں تھا جس طرف نکل آئے ۔ چلتے چلتے کافی شام ھو گئی ۔ سڑک بالکل سنسان اور ویران تھی ۔
لگتا تھا جیسے برسوں اس روڈ پر کسی نے سفر نہیں کیا ھو گا ۔ سڑک پر دھول مٹی کے علاوہ زرد رنگ کے پتے بکھرے ہوئے ھوں ۔ ایسی اداسی جیسے کسی بہت اپنے کے مرنے کا منظر ھو۔
چلتے چلتے بیچ سڑک کے ایک اداس پیڑ جسکی ہر شاخ بغیر پھل کے زمین پر جھکی ھوئی ھو ۔ ایسے کھڑا تھا جیسے ماتم کر رہا ھو ۔ درخت سے کچھ اگے ایک انسان اوندھے منہ لیٹا تھا ۔ گاڑی گزرنے کی جگہ بھی نہیں تھی ۔
وسیم خوف سے کانپتے ہوۓ نیچے اترے کہ دیکھ سکے یہ کون ھے ۔ زندہ بھی ھے یا نہیں ۔
رات کا خوف اور راستہ بند ہونے کی وجہ سے پسینہ سے شرابور ھو گئے ۔
آہستہ آہستہ اگے بھڑتے ہوۓ اس شخص کو سیدھا کیا ۔ وہ تیز تیز سانس لے رہا تھا ۔ جیسے زندگی کی آخری سانسیں ھوں ۔
اندھیرے کی وجہ سے اسکا چہرہ دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔
وسیم نے ٹارچ ان کی اور دیکھا تو خوف سے کانپنے لگے ۔
وہ شخص کوئی اور نہیں خود وسیم تھے ۔
نجانے کہاں سے وسیم کے پاس اڑتا ہوا ایک خنجر آیا جس سے وسیم نے زمین پر لیتے ہوۓ وسیم کو قتل کر دیا ۔
اور خوف سے وسیم کی چیخیں نکل رهی تھیں ۔
۔ وسیم وسیم اٹھیں کیا ہوا ھے ۔ آپکی طبیعت ٹھیک ھے نا ۔ سدرہ نے وسیم کو جھنجھوڑ کر جگایا ۔
ڈیڈی آپ ٹھیک ہیں اٹھیں ہمیں دیکھیں ۔
وسیم نے آنکھیں کھول دی اور خوف انکی آنکھوں سے صاف جھلک رہا تھا ۔
سانسیں ایسے اکھڑ رہی تھیں جیسے میلوں دور سے بھاگ کر آے ھوں
کیا ہوا ڈیڈی مایا ماریہ سدرہ سبکو اپنے پاس دیکھ کر وسیم کی آنکھوں میں آنسو ا گئے ۔
کیا کوئی خواب دیکھا ھے آپ نے سدرہ نے بے چینی سے پوچھا ۔
وسیم نے باہیں پھیلا کر تینوں کو اپنے گلے سے لگا لیا ۔ اور کہا ۔
بس تم تینوں کی فکر رہتی ھے ۔ حب بھی اس فکر سے سوتا ھوں ڈراؤنی خواب دیکھتا ھوں
اللہ کا شکر کہ یہ خواب تھا ۔
چلو جاو تم اپنے کمرے میں ۔ صبح جلدی اٹھنا ھے ۔ وسیم نے مایا ماریہ کو بھیج دیا ۔
وسیم کیا کوئی ڈراؤنا خواب دیکھا تھا ۔ سدرہ نے پوچھا ۔
نہیں ۔ ایسی بات نہیں تم سو جاو ۔ صبح بات کرتے ہیں ۔
وسیم مجھے نیند تو آے گی نہیں ۔ اگر آپ نے سونا ھے تو سو جایں ۔
آب نیند کوسوں دور بھاگ چکی تھی ۔ اور سدرہ کے اصرار پر وسیم نے بتایا ۔
کہ میں ایک بےبس انسان کو دیکھتا ھوں ۔ جو زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا ۔ جب میں اسے سیدھا کرتا ھوں تو وہ میں خود ھی ہوتا ھوں ۔ وہ شخص کسی زخم سے نہیں غموں سے چور تھا ۔ مجھے اس پر رحم نہیں آتا ۔مجھے اس سے حسد ہوتا ھے اور پھر اسی حسد میں میں خود کا قتل کر دیتا ھوں ۔
سدرہ خواب سنکر خوفزدہ ھو گئی ۔ اور بولی ۔
پتا نہیں کیوں پر مجھے اس خواب کا کوئی مقصد لگتا ھے ۔
سنا ھے کہ خواب وحی کی صورت میں نازل ہوتے ہیں ۔
آپ صبح اسکا مطلب ضرور پوچھے گا ۔
سدرہ نے تاکید کی تو وسیم نے کہا ۔
ٹھیک ھے میں کل رحیم کی طرف جاؤں گا ۔
انہی عامل سے پوچھوں گا ۔ کیا یہ خواب ان باتوں کی کڑی تو نہیں ۔
بہرحال اللہ بہتر کرے گا ان شاءاللہ ۔
صبح کچھ صدقہ نکا ل دینا ۔ وسیم بولے ۔
دور دور سے تہجد کی اذان سنائی دینے لگی ۔
دونوں نے وضو کیا اور نماز تہجد ادا کرنے لگے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *