Surkh Jora by Saloni NovelR50720 Surkh Jora by Saloni Episode 04
Rate this Novel
Surkh Jora by Saloni Episode 01 Surkh Jora by Saloni Episode 02 Surkh Jora by Saloni Episode 03 Surkh Jora by Saloni Episode 04 (Watching)Surkh Jora by Saloni Episode 05,06 Surkh Jora by Saloni Episode 07 Surkh Jora by Saloni Episode 08 Surkh Jora by Saloni Episode 09 Surkh Jora by Saloni Episode 10 Surkh Jora by Saloni Episode 11,12 Surkh Jora by Saloni Episode 13 Surkh Jora by Saloni Episode 14 Surkh Jora by Saloni Episode 15 Surkh Jora by Saloni Episode 16 Surkh Jora by Saloni Last Episode
Surkh Jora by Saloni Episode 04
کھائی اتنی گہری نہیں تھی ۔ بس کے ٹکرانے
سے ڈرائیور اور جین موقع پر ہلاک ہو گے ۔
مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کھائی
میں اتر کر سبکو گاڑی سے نکالنے کی کوشش
کرنے لگے ۔
کافی دیر تک سبکو گاڑی سے نکالنے میں کامیاب
ہوگئے ۔
سمیر کی سانسیں دیکھ کر ایک مقامی باشندہ
وسیم تیزی سے سمیر کی طرف بڑھا اور جلدی
سے ہسپتال پہنچانے کا بندوبست کیا ۔
سمیر نے اشارے سے اس سے بات کی ۔ کہہ میری
بچیاں میری فمیلی کے حوالے کر دینا ۔
سمیرنے تکلیف اور نقاہت سے اپنا ہاتھ اسکی
طرف جیسے ہی بڑھایا ۔ زندگی نے وفا نہیں کی
اور سانسوں کا زندگی سے رشتہ ٹوٹ گیا ۔
جینیفر اور جولیا کو وسیم نے جلد ہسپتال پہنچایا ۔
وسیم کی تیزی کارآمد ثابت ھوئی اور دو گھنٹے
کی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد دونوں نے
باری باری آنکھیں کھول دیں ۔
وسیم دوڑ کر گھر گئے اور اپنی بیوی اور کچھ
کھانے پینے کی اشیا بھی ساتھ لے اے ۔
ڈاکٹر کی اجازت سے بچیوں کو ہلکی پھلکی
غذا دے دی گئی ۔
سمیر اور جین کی میت کو پولیس نے اپنی
تحویل میں لے لیا ۔
ڈرائیور کی میت اسکے ورثا کے حوالے کر دی
گئی ۔
جینیفر اور جولیا کو کچھ دن اور ہسپتال
میں رکھا گیا ۔
وسیم اور انکی بیگم نے بچیوں کی دیکھ
بھال میں کوئی کثر نہیں چھوڑی ۔
جینیفر اور جولیا نے ھوش میں اتے ھی اپنے
ممی ڈیڈی کا پوچھا ۔ اور انکو سامنے نا پا
کر رونے لگی ۔
وسیم اور سدرہ نے بہت پیار سے دونوں کو
سمجھایا ۔ اور انکی دلجوئی کرنے لگے ۔
سدرہ وسیم نے باری باری دونوں سے نام
پوچھا ۔
کیوں کہ بچیاں اردو نہیں سمجھ سکتی تھی
لہٰذا سدرہ ٹوٹی پھوٹی انگلش میں تھوڑی
بہت معلومات لیتی رهی ۔
انکی بتانے پر ایک بچی کا نام جولیا اور دوسری
جنیفر تھی ۔ انکے ڈیڈی کا نام سمیر اور ممی
کا نام جین تھا ۔
سدرہ اس بات سے بہت خوش ھوئی کہ بچیاں
مسلمان ہیں ۔ انکی ممی انگلش عورت تھی ۔
بچیاں ایک ہفتے تک ہسپتال میں رہنے کے بعد
دسچارج کر دی گئی ۔ وسیم اور سدرہ بچیوں
کو اپنے گھر لے آئے ۔
وسیم کے علاقے کے ایس ایچ او سے بہت اچھے
تعلقات تھے۔
وسیم نے گزارش کی جب تک بچیوں کے ورثا
مل نہیں جاتے دونوں کو ہماری تحویل میں
رہنے دیا جاۓ ۔
وسیم کا شمار میر پور کے خاص لوگوں میں
ہوتا تھا ۔
قدرت نے سب نعمتوں سے نوازا تھا ۔سواۓ
اولاد کے ۔
یہ شادی شدہ جوڑا بارہ سال سے بے اولاد تھا ۔
اچھی جان پہچان کی وجہ سے بچیاں انکے
حوالے کر دی گئی ۔
سدرہ وسیم ان کا بیحد خیال رکھتی ۔
وسیم نے پولیس کے ساتھ مل کر وارثوں کو
ڈھونڈھنے میں بھر پور مدد بھی کی ۔
وقت گزرتا گیا ۔ لیکن وارثوں کی کوئی
خبر نہیں ملی ۔
سدرہ بچیوں کو بھر پور توجہ دینے لگی ۔
تاکہ انکے دل سے ماں باپ کی جدائی کا
دکھ نکالنے میں مدد کر سکے ۔
اب تو دونوں وسیم اور سدرہ بھی دعا کرنے
لگے کہ ورثا کا پتا نا معلوم ہو
سدرہ نے کافی ٹائم کے بعد جینیفر کا نام
بدلکر مایا اور جولیا کا نام ماریہ رکھ دیا ۔
سدرہ وسیم نے انکو مقامی اسکول میں داخل
کروا دیا ۔ اور انکے والدین کی جگہ سدرہ اور
وسیم لکھوا دیا ۔
ایسے مایا اور ماریہ سدرہ اور وسیم کی بیٹیاں
بنکر پروان چڑھنے لگی ۔
مایا اور ماریہ کافی حد تک اس ماحول میں
ڈھل چکی تھی ۔
اب دونوں سدرہ اور وسیم کو ممی ڈیڈی
کہنے لگی تھیں ۔
وسیم اور سدرہ انکی تعلیم و تربیت پر بھر پور
توجہ دینے لگے تھے
قرآن پاک کی تعلیم کے لیے ایک بہترین استاد
مقرر کیا ۔ جو وسیم کی موجودگی میں پڑھاتا ۔
مایا اور ماریہ آپس میں کافی مماثلت رکھتی
تھی ۔
وسیم اور سدرہ کے علاوہ کوئی پہچان نہیں پاتا ۔
وسیم اور سدرہ کی زندگی یکسر بدل گئی ۔
بیشک اللہ بہت مہربان ھے ۔ اپنے بندوں کو
دیکر بھی آزماتا ھے ۔ اور لیکر بھی آزماتا ھے۔
اللہ پاک نے انکے نامہ اعمال میں یہ نیکی بھی
لکھ دی تھی ۔کہ بیشک لمبے صبر کے بعد انکو
ایسی اولاد سے نوازا جائے گا ۔ جنکو کلمہ پڑھانے
کا اعزاز بھی انہی کو حاصل ہوگا ۔
وسیم صاحب نے اپنے کاروبار کا دائرہ وسیع
کر دیا ۔ اب انکی زندگی کا ایک مقصد تھا ۔
مایا اور ماریہ کی پرورش ۔
سدرہ مایا اور ماریہ کو پاکر خود کو مکمل
سمجھنے لگی ۔
جاری ……
