Surkh Jora by Saloni NovelR50720 Last updated: 3 June 2026
Rate this Novel
Surkh Jora by Saloni Episode 01Surkh Jora by Saloni Episode 02Surkh Jora by Saloni Episode 03Surkh Jora by Saloni Episode 04Surkh Jora by Saloni Episode 05,06Surkh Jora by Saloni Episode 07Surkh Jora by Saloni Episode 08Surkh Jora by Saloni Episode 09Surkh Jora by Saloni Episode 10Surkh Jora by Saloni Episode 11,12Surkh Jora by Saloni Episode 13Surkh Jora by Saloni Episode 14Surkh Jora by Saloni Episode 15Surkh Jora by Saloni Episode 16Surkh Jora by Saloni Last Episode
Surkh Jora by Saloni
سمیر کیوں نا پاکستان جا کر تمہاری فمیلی کو ڈھونڈا جاۓ ۔
بیٹھے بیٹھے جین کو نا جانے کیا سوجھی اور سمیر کو چونکا دیا ۔
ہاں یہ تو کبھی میں نے سوچا بھی نہیں ۔ پر ایسا کیسے ممکن ھو سکتا ھے۔
سمیر نے لاپرواہی سے کہا ۔
کیوں نہیں ھو سکتا جین نے پختہ لہجے میں کہا ۔
آجکل کسی کو ڈھونڈھنا کون سا مشکل ھے ۔ بس فیملی نمبر ڈالو تو پورا بیک گراونڈ نکل آتا ھے ۔
اچھا اگر ایسا ھو تو میرا پاکستان جانے کا شوق بھی پورا ھو جاۓ ۔
سمیر نے بڑی خوشی سے کہا ۔
جین نے اپنا لیپ ٹاپ کھول لیا ۔ اور سمیر بڑے تجسس کے ساتھ جین کے پاس ا بیٹھا ۔
شائد جین اسکی فمیلی کو ڈھونڈ نکالے ۔
سمیر برطانوی نژاد پاکستانی پچھلے پچیس سال سے برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں رہتا تھا ۔ اسکے والدین بچپن میں کسی حادثے کا شکار ھو گئے تھے ۔ برطانوی حکومت نے ھی اسے سہارا دیا اور زندگی کے مراحل بتدریج بڑھتے جا رھے تھے ۔
سمیر نے کالج کی تعلیم مکمل کی اور یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا ۔
چند دوستوں کے علاوہ اسکا کوئی بھی نہیں تھا ۔
وہ اکثر شام کو لوگوں کے ہجوم میں تنہا سڑکوں پر گھومتا ۔ اور انکے چہروں پر جب خوشی تاثرات دیکھتا تو پہروں یہی سوچتا کہ وہ اگر خوش ہیں تو کس بات پر ۔
ایسی کون سی اکٹیوٹی ہوتی ھے جس کے بعد لوگوں کو خوشی ہوتی ھے ۔
سمیر کو غمی اور خوشی کے احساس کا پتا بھی نہیں تھا ۔
کلاس میں بھی کسی سے خاص دوستی نہیں تھی ۔ جب وہ اٹھارہ برس کا ہوا تو حکومت برطانیہ نے اسے الگ اپارٹمنٹ دے دیا تھا ۔ وہ اکثر اپنے والدین اور فمیلی کے بارے میں بھی سوچتا رہتا تھا ۔یونیورسٹی میں آ کر اسکی دوستی جین سے ھو گئی ۔
جین بہت خوبصورت اور سلجھی ھوئی لڑکی تھی ۔
جین کے والدین کافی امیر لوگ تھے ۔
سمیر پڑھائی میں کافی تیز تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ مراحل تیزی سے عبور کر رہا تھا ۔
جین یونیورسٹی اپنی کار میں اتی تھی ۔ پڑھائی میں وہ بھی کافی تیز تھی ۔
کلاس میں کافی سٹوڈنٹس تھے ۔ ان شوخ و چنچل لوگوں میں سمیر سب سے مختلف تھا ۔ اپنے کام سے کام رکھنے والا ۔
دوستوں کے ساتھ کچھ ٹائم گزارنے کے بعد فورا اکتا جاتا ۔
سمیر نے پارٹ ٹائم جاب کے دوہرانیے کو بڑھا دیا ۔
جین کو سمیر کی یہی بات بہت پسند تھی اور رفتہ رفتہ اسکے قریب اتی گئی ۔
سمیر نے جین کو کبھی کوئی خاص اہمیت نہیں دی ۔
شائد اسے رشتوں کی چاہت اور اہمیت کا اندازہ نہیں تھا ۔
حالانکہ وہ جان بوجھ کر جین کو اگنور نہیں کرتا تھا ۔
جین سمیر کو سمجھ چکی تھی ۔
وہ بخوبی آگاہ تھی کہ سمیر دنیا بھر میں بالکل اکیلا ھے۔
یہی وجہ تھی کہ وہ کچھ ہمدردی کی بنا پر بھی اسکے قریب ہوتی گئی ۔
جین کی دوستی یونیورسٹی سے گھر تک پہنچ گئی ۔
وہ اکثر اسکے گھر اتی گھر کے چند چھوٹے موٹے کام کر دیتی ۔کبھی کبھار ہلکا پھلکا کھانا بھی بنا دیتی ۔
جین کے ہاتھ سے پکا کھانا سمیر کو بہت اچھا لگتا ۔
چونکہ ہفتے میں دو دن اسکے گھر لازمی چکر لگاتی لہٰذا اب سمیر کو اسکا انتظار رہتا ۔
تمہیں آلو کے پراٹھے بنانے آتے ہیں کیا ۔
سمیر نے جین سے پوچھا تو وہ بولی ۔
واٹ ۔ الو کے پراٹھے کیا ہوتا ھے ۔
وہ روٹی کے اندر الو ڈال کے پکتے مجھے بھی میرے ایک دوست نے کھلاے تھے ۔ کافی ٹیسٹی تھے وہ ۔ اوکے لیو ۔
تم کیا بنا رهی ھو اج ۔
جین نے کافی کے ساتھ ٹوسٹ بنا کر ٹیبل پر رکھے ۔ جلدی سے اپنا بیگ سمیٹا اور سمیر کو دیر ھو جانے کا کہہ کر بھاگتی ہوئی گاڑی میں بیٹھ کر نکل گئی ۔
جین اپنی ایک انڈین دوست کے گھر پہنچ گئی ۔
ڈور بیل پر جلد ہی دروازہ کھل گیا ۔ سمرتی نے جین کو خوش دلی سے ویلکم کیا اور اندر لے گئی ۔
اج پہلی مرتبہ جین سمرتی کے گھر آئی تھی جبکہ انکی دوستی کو کافی عرصہ گزر گیا تھا ۔
سمرتی نے جین کی اچانک آمد کا مقصد پوچھا کہ خیریت ھے نہ ہیں ایسے اچانک ۔ ۔ ۔
سمرتی کیا تم مجھے آلو کے پراٹھے بنانے سکھاؤ گی ۔
سمرتی قہقہہ لگا کر ہنس پڑی ۔
تو کیا تم اس کام کے لیے آئ ھو ۔ سمرتی نے ہنستے ہوئے کہا ۔
جین کھسیانی ھو کر بولی اصّل میں کسی سے سنا تھا آلو کے پراٹھے برے ٹیسٹی ہوتے ہیں ۔
سمرتی اسی وقت جین کے ساتھ کچن میں گئی ۔ ایک گھنٹے میں ھی اس نے جین کو سکھا کر کہا ۔
سچ بتانا یہہ سب تم سمیر کے لیے کر رهی ھو نا ۔
جین نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا ۔
بالکل اسے کے لیے ۔ تمہیں پتا ھے وہ اکیلا ھے ۔ اسکے والدین کی ڈیتھ ھو گئی ۔ باقی کی فمیلی پاکستان میں ھے ۔
میں کبھی کبھار اسکی ہیلپ کے طور پر کھانا بنا دیتی ھوں۔
بہت اچھی بات ھے جین ۔ سمرتی نے کہا ۔دوست انہی موقعوں پر ھی تو کام اتے ہیں ۔
کیا سمیر کو باقی فمیلی ممبرز کا نہیں معلوم ۔
وہ کیسے گزارا کرتا ھے بالکل اکیلے میں ۔
میں اسکا ساتھ دونگی ۔
میں سمیر کو وہ تمام خوشیاں دلاؤں گی جن پر اسکا حق ھے۔
جین کے لہجے میں عزم تھا ۔
تو تم شادی کیوں نہیں کر لیتی اس سے ۔
سمرتی نے اسے مشورہ دیا ۔
ممکن ھے میں ایسا کر بھی لوں ۔
جین مسکرا کر بولی ۔
ویسے اتنا برا بھی نہیں کہ اسے اگنور کیا جا سکے ۔
دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑیں
جین خوشی خوشی گھر ا گئی ۔
اگلے دو دن جین یونی نہیں جا سکی ۔
کچھ طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور کچھ گھریلو کام کی وجہ سے ۔
سمیر جین کی غیر موجودگی میں خود کو اکیلا محسوس کرنے لگا ۔
دو دن کافی بوریت سے گزرے ۔
اج سمیر کافی اداس تھا ۔ بلا وجہ روڈ پر چلنا شروع کر دیا ۔
چلتے ہوئے اسے احساس بھی نہیں ہوا وہ گھر سے کافی دور نکل آیا تھا ۔
سردی کی جب لہر پورے جسم میں دوڑنے لگی ۔ تو واپسی کا خیال ایا ۔
صبح چاہنے کے باوجود سمیر یونی جانے کیلیے اٹھ نہیں پایا ۔
جین یونی اتے ھی سمیر کو ڈھونڈنے لگی ۔
سمیر دو دن بولایا بولایا پھرتا رہا ۔ اج شائد غصے سے نہیں آیا ہوگا ۔ سمرتی نے بتایا ۔
اوکے میں دیکھ لیتی ھوں ۔ جین نے کہا ۔
ڈور پر دستک ھوئی تو سمیر کی آنکھ کھلی۔
ہمم اس وقت کون ہوگا ۔
ٹائم دیکھا تو کافی دیر ھو چکی تھی ۔
سمیر نے جلدی سے دروازہ کھولا اور بڑی بے نیازی سے واپس مڑ گیا۔
جین نے اندر اتے ھی بڑی خوش دلی سے کہا ۔
ہیلو !
ہیللللو سمیر ۔
سمیر نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموشی سے ٹی وی آن کر کے بیٹھ گیا ۔
کیا ہوا سمیر ۔ جین نے پوچھا ۔
نوتھنگ ۔ سمیر نے بڑی لا پرواہی سے کہا ۔
تو بات کیوں نہیں کر رھے ۔ ناراض ھو کیا ۔
سمیر نے جواب دیے بغیر کہا ۔
میں فریش ھو لوں ۔
جین من ھی من میں مسکرا اٹھی ۔
بیٹھ کر سوچنے لگی کہ اب وہ کیسے سمیر کو مناے ۔
