Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Surkh Jora by Saloni Episode 02

سمیر جب فریش ہوکر باہر آیا تو جین کچن میں مصروف تھی ۔ اسے بڑی مزیدار خوشبو نے بے چین کر دیا ۔ سوچنے لگا کہ جین کی وجہ سے گھر میں ایک دم رونق سی ھو گئی ۔
نجانے کیا پکا رهی ھے ۔ پر میں اس سے بولوں گا پھر بھی نہیں ۔
یہ بھی کوئی بات ھے بھلا دو دن بنا بتاۓ غائب رهی ۔
سمیر ٹی وی دیکھنے کی ایکٹنگ کرنے لگا ۔
جین تھوڑی دیر میں ھی گرما گرم آلو کے پراٹھے لیکر آ گئی۔
سمیر کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی ۔
جین کو بھی شرارت سوجھی اور آرام سے بیٹھ کر اکیلے کھانا شروع کر دیا ۔
اور سمیر کو صلح تک نہیں ماری ۔
سمیر کے منہ میں پانی ا گیا ۔
غصّے سے اسکے ساتھ آن بیٹھا اور خود ھی کھانا شروع کر دیا ۔
جین نے اپنے ہاتھ سے نوالہ سمیر کے منہ میں ڈالتے ہوئے کہا کہ ۔
ناراض ہو ۔
سمیر نے کسی سعادت مند بچوں کی طرح جواب دیا ۔
ہاں ھوں ۔
اور پراٹھے کھانے کے بعد پھر ناراض ہو جاؤں گا ۔
جین قہقہہ لگا کر ہنس پڑی ۔
لیکن تم ایسا کیوں کرو گے ۔
اب سمیر کافی سیریس ھو گیا ۔
ا س نے کھانا چھوڑ کر جین کو کہا۔
میں جانتا ھوں ۔ مجھے تم سے ناراض ہونے کا کوئی حق نہیں ۔
پر ایک دوست ہونے کے ناطے مجھے بتا تو سکتی تھی کہ تم دو دن کی holiday پر ھو ۔
جین کو سمیر کی بات پر بہت پیار آیا ۔
اس نے اگے بڑھ کر نوالہ بنا کر سمیر کے منہ میں ڈالا اور بولی ۔
میں معذرت چاہتی ھوں ۔ میں واقعی بزی تھی ۔
اور بیمار بھی تھی ۔
لیکن اب ایسا نہیں ہوگا ۔
جین فورا اپنے کان کو پکڑتے ہوۓ بولی ۔
سمیر نے بھرپور نگاہ ڈالتے ہوئے جین کو دیکھا ۔ اور مسکرا اٹھا ۔
اوکے پہلے یہ بتاؤ یہ اتنے مزیدار آلو کے پراٹھے کہاں سے سیکھے ۔
دیکھ لو سمیر کتنی محنت کی میں نے تمہارے لیے۔
میں نے دو دن لگا کر پراٹھے سیکھے۔
او ۔ اچھا ۔ اسی لئے غائب تھی ۔ سمیر نے کہا ۔
تو اور کیا ۔
جین نے جیسے بہت بڑا احساں کیا ھو ۔
سمیر نے اگے بڑھ کر پیار سے جین کے ہاتھ پکڑ لیے ۔
سمیر کے اسطرح دیکھنے سے دونوں پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ھو گئی ۔
دونوں کچھ دیر خاموش رھے ۔
زندگی میں پہلی مرتبہ مجھے ایسا لگا جیسے مجھے کسی کا انتظار تھا ۔
جیسے میں تم بن ادھورا ھوں ۔
سمیر نے انتہائی بے چارگی میں کہا ۔
جین ۔ تم کیا سوچتی ھو میرے بارے میں ۔
مجھے کیا سوچنا چاہیے سمیر ۔
جین نے الٹا سمیر سے پوچھ ڈالا ۔
مطلب یہ جو ہم ملتے ہیں ۔ اس کا احتتام کیا ہوگا ۔ سمیر نے اداسی سے پوچھا ۔
کیا ہوگا سمیر تم بتاؤ ۔ جو تم چاہتے ھو وہی ہوگا ۔ جین نے سمیر کو مطمئن کرنے کے لیے کہا ۔
اچھا سچ بتاو ۔ سمیر کے لہجے میں شوخی آ گئی ۔
ہاں ہاں ۔ سچ ۔ جین نے بھی اسی انداز میں جواب دیا ۔
مطلب شادی ۔ ہا ہا ہا ہا ۔ سمیر نے جین کو چھیڑنے کے موڈ میں کہا ۔
ھو بھی سکتا ھے اس میں اتنا ہنسنے کی کیا ضرورت تھی ۔
جین نے برا مانتے ہوۓ کہا اور اٹھ کھڑی ہوئی ۔
میں جا رهی ھوں اب ۔
سمیر بھاگتا ہوا دروازے کے بیچ کھڑا ھو گیا اور کہا ۔ چلو جا کے دکھاؤ ۔
جین دروازے کی طرف بڑھی اور سمیر کے سامنے آن کھڑی ھوئی ۔ اور کہا ۔
سمیر ہٹو اگے سے ۔
ہٹا لو ۔ اج سمیر بہت شوخا ھو رہا تھا ۔
دونوں برابر آمنے سامنے کھڑے ھو گئے ۔ کہ سمیر سانسیں جین کے ساتھ ٹکرانے لگی ۔
سمیر ایک ٹک جین کو دیکھنے لگا ۔
اچانک سمیر نے چونکا دینے والا سوال پوچھ لیا ۔
جین ۔ کیا تم مجھ سے شادی کرو گی ۔
جین منہ سے بے ساختہ نکل پڑا ۔
ہاں میں کرونگی ۔
سمیر نے اگے بڑھ کر جین کو سینے سے لگا لیا ۔ اور بولا ۔
بہت شکریہ ۔جین تم نے میری ٹینشن دور کر دی ۔
میں تمہیں خوش رکھنے کی کوشش کروں گا ۔
سمیر نے جین کے ماتھے پر بوسہ دیا اور اسے گاڑی تک چھوڑنے ا گیا ۔
جین کے والدین کو جین اور سمیر کی شادی پر کوئی اعتراض نہیں تھا ۔انکو بھی سمیر پسند تھا ۔
سمیر میں ایسی کوئی برائی بھی نہیں تھی ۔ وہ کسی بھی لڑکی کا آئیڈیل ھو سکتا تھا ۔ جین کے والدین یہ چاہتے تھے کہ ۔ شادی ضرور کریں لیکن تعلیم مکمل ہونے کے بعد ۔
جین اور سمیر تعلیم مکمل ہونے تک ملتے رھے ۔
چار سال میں دونوں ایک دوسرے کے بیحد قریب ا چکے تھی ۔
یونی کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد دونوں نے سادگی سے باقاعدہ شادی کر لی یوں جین سمیر کی دلہن بن کر اس کے اپارٹمنٹ میں آ گئی ۔
سمیر کی روکھی پھیکی زندگی میں رنگ بھر گیا ۔
جیسے سوکھے بے جان پتوں میں جان ا گئی ھو اور وہ پھر سے ہرے بھرے ھو گئے ھوں ۔
زندگی اتنی خوبصورت ھو سکتی ھے اس بات کا احساس اب ہوا سمیر کو ۔
جین ایک اچھی شریک سفر ثابت ھوئی ۔
جین نے اتے ھی سمیر میں رشتوں سے محبت کا احساس اجاگر کیا ۔
جین اکثر سمیر کی تنہائی کو محسوس کرتی اور اسے مجبور کرتی کہ ہم پاکستان جا کر تمہاری فمیلی کو ڈھونڈھتے ہیں ۔
سمیر جین کی باتوں پر کافی دیر تک سوچتا رہتا ۔
جین سمیر کے ساتھ اپنے والدین کے گھر ہفتے میں ایک مرتبہ ضرور جاتی تھی ۔
اج ویکینڈ تھا ۔ دونوں جین کے گھر کھانے پر مدعو تھی ۔ جین کی مام کو بینک میں ایک ضروری کام تھا اور جین کو رات اپنے پاس رکھ لیا ۔ لہٰذا سمیر کو گھر اکیلے جانا پڑا ۔
گھر کا دور کھولتے ہوۓ سمیر کو ایک عجیب سا احساس محرومی ہونے لگا ۔
سمیر کو رات اکیلے کاٹنا ایک عذاب لگ رہا تھا ۔
نیند کوسوں دور بھاگ گئی ۔
اپنا سیل فون اٹھایا اور جین کو کال کر دی ۔
جین نے موبائل پر روشنی میں سمیر کا چمکتا ہوا نام دیکھ کر جین مسکرا اٹھی ۔
فورا کال پک کی اور سمیر کو سوری بولا ۔
سمیر نے کہا ۔
جین سوری کیوں ۔
سمیر مجھے پتا ھے تمہیں نیند نہیں ا رهی ۔ صبح موم کے کام سے فری ھو کر میں سیدھی گھر ا جاؤں گی ۔
اوکے نو پروبلم ۔ تم پریشان مت ھو ۔
میں نے سوچا سونے سے پہلے اپنی جان کو گڈ نائٹ کہہ دوں ۔
میں بس سونے لگا ۔ تم بھی سو جاو اب ۔
جین نے سمیر کو گڈ نائٹ کہا اور سو گئی ۔
سمیر آدھی رات کو یکدم گھبرا کر بیٹھ گیا ۔
اہ مائی گاڈ ۔ یہہ مائی نے کیا خواب دیکھا ۔
سخت سردی کے باوجود سمیر پسینے سے شرابور ھو گیا ۔
اٹھ کر ٹائم دیکھا ۔چار بجے کا ٹائم تھا ۔
مانچسٹر کی سرد رات اور چار بجے کا ٹائم ۔ ایک ھو کا عالم تھا سب طرف ۔
ٹھنڈی تیز ہواؤں کی آواز اج کچھ زیادہ ھی اداس کر رهی تھی ۔
ایک خواب کا اثر تھا اور کچھ ہواؤں کی تیز آوازیں ۔
سمیر کو خوفزدہ کر رهی تھیں ۔
سمیر کا بیحد دل چا ہا کہ وہ جین کو فون کرے کہ ابھی گھر واپس آ جاۓ ۔
جیسے تیسے رات تو کٹ گئی ۔ سمیر کے لیے کافی کٹھن اور لمبی رات تھی ۔
صبح بارہ بجے کے قریب جین گھر واپس آ گئی ۔ اسکی طبیعت خاصی خراب معلوم ھو رهی تھی ۔
سمیر نے جین کو ہاتھوں ہاتھ لیا ۔
جین نے محسوس کیا سمیر بہت اداس ھے ۔
جین کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ ایسا کیا کرے کہ جس سے گزری رات کی تکلف کم ھو سکے ۔
جین کی گود میں سمیر نے سر رکھ کر آنکھیں موند لیں ۔ اور بولا ۔
تمہیں پتا ھے جین میں نے کل خواب میں کیا دیکھا ۔
نہیں مجھے کیسے پتا چل سکتا ھے ۔ خواب تو تم نے دیکھا ۔
جین سمیر کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوۓ بولی ۔
جین میں نے خواب میں خود کو قتل کرتے ہوئے دیکھا ۔
میرے سامنے میں خود کھڑا ھوں ۔ اور میں نے خود کا قتل کر دیا ۔
یہ کہہ کر سمیر اٹھ بیٹھا اور جین کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ بولا ۔ کتنا خوفناک خواب تھا نا ۔
جین نے سمیر کو تسلی دیتے ہوئے کہا ۔
اصّل میں کل اکیلے تھی گھر میں ۔ اسی لیے ایسا عجیب سا خواب آیا ۔
چلو اب فٹافٹ فریش ھو جاؤ ۔ اج گروسری ڈے ھے ۔ باہر بھی جانا ھے ۔
اوکے باس ۔ کیا بریک فاسٹ بھی ملے گا یا ایسے ھی گھسیٹو گی ۔
ملے گا ۔پر فریش ہونے کے بعد ۔
جین نے الماری سے سمیر کی مرون شرٹ اور جینز نکال کر بیڈ پر رکھی اور خود کچن میں آ گئی ۔
املیٹ اور ٹوسٹ بنا کر جلدی جلدی ٹیبل پر رکھے اور کافی بنانے لگی ۔
سمیر اور جین ایک ھی سٹور پر کام کرتے تھے ۔
ایسے وہ سارا ٹائم ایک ساتھ گزارتے ۔
صبح کے ٹائم گھر کے کاموں کو بھی ساتھ ساتھ نبٹاتے ۔
اج شاپنگ ڈے تھا ۔ سٹور پر جانے سے پہلے گھر کی کچھ ضروری چیزیں لینا تھیں جین کو ۔
اج جین کچھ تھکن محسوس کر رهی تھی ۔ طبیعت میں بھی بے چینی سی رهی ۔ دن بھر کے کاموں سے تھکی ہاری بیڈ پر گرتے ہی سو گئی۔
سمیر نے اسے جگانا مناسب نہیں سمجھا اور خود بھی سو گیا ۔
رات کے آخری پہر ۔جین ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی ۔ اسکی سانسیں اکھڑ رهی تھیں ۔ زور زور سے سانسیں لینے لگی تو سمیر کی آنکھ بھی کھل گئی ۔
سمیر نے جین کو سینے سے لگا لیا تو وہ پسینے سے مکمل بھیگ چکی تھی ۔
جین کیا ہوا بولو۔ سمیر نے بیحد پریشانی سے کہا ۔
ڈر خوف سے جین کی آنکھیں کھل چکی تھیں ۔
اج بھی باہر ہوا بہت غصّے میں تھی شائد ۔
ہوا کا شور صاف محسوس ھو رہا تھا ۔ جبکہ مانچسٹر کے گھروں میں بیحد موٹے شیشے باہر کے شور شرابے سے محفوظ ہوتے ہیں ۔
جین نے گھبرا کر سمیر کو بتایا ۔
سمیر میں نے پتا ھے کیا خواب دیکھا ۔
سمیر نے بڑے پیار سے پوچھا ۔
شائد خواب سنا کر اسکا بوجھ ہلکا ھو جاۓ اور پھر سکوں سے سو سکے ۔
سمیر میں نے دیکھا کہ میں نے خود کا قتل کر دیا ۔
میرے سامنے میں خود کھڑی تھی اور تیز دھار الے سے خود کو قتل کر دیا ۔
رات کا وہی پہر تھا ۔ سمیر نے ٹائم دیکھا تو پورے چار بج چکے تھے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *