Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Surkh Jora by Saloni Episode 14

رحیم ابتہاج اور اس کے والدین کو استہزایہ نظروں سے دیکھنے لگے تو ابتہاج نے اگے بڑھ کر اپنا تعارف کرایا ۔اپنے بابا فیروز حیدر سے ملوایا ۔
رحیم نے انکو ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور باہر اطلاع دینے آے ۔
وسیم کو ہنگامی حالت میں آفس جانا پڑ گیا ۔
پولیس کے مطابق آفس کی پوری عمارت میں بجلی کا کرنٹ ا گیا تھا ۔ لہٰذا تمام مالکان کو فوری طور پر کال کر کے بلایا گیا ۔
وسیم رحیم کو ضروری ہدایات دے کر گھر سے نکل پڑے ۔
ابتہاج کے والد صاحب سے رحیم اور سدرہ کے بھائی احمد نے معذرت کرلی۔ کہ وسیم کو ہنگامی حالت میں جانا پڑ گیا ۔ فیروز حیدر ایک نہایت نفیس انسان تھے ۔ انہوں نے اس بات کو ہرگز محسوس نہیں کیا ۔
ہاجرہ خاتوں نے سدرہ سے معذرت چاہی ۔ بنا بتاۓ انے کی ۔
سدرہ ‘ رحیم اور احمد نے ابتہاج اور اسکے والدین کی خوب آو بھگت کی ۔ تا کہ وہ بن بتاۓ انے پر شرمندہ نا ھوں ۔
اسی دوران مایا کے ساتھ ماریہ بھی ڈرائنگ روم میں ا گئی ۔
فیروز حیدر دونوں کو دیکھ کر بیحد خوش ہوۓ ۔
دونوں کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے انہوں نے محسوس کیا کہ سدرہ اور وسیم نے انکی تربیت میں کمی نہی چھوڑی۔
فیروز حیدر باتوں میں ایسے مگن ہوۓ کہہ جس کام سے اے وہ بات ھی بھول گئے ۔
فیروز حیدر نے سدرہ سے پوچھا ۔
بھابھی آپکی فمیلی میں اور کون جڑواں تھا ۔ کیوں کہ میں نے سنا ھے ماں باپ کی طرف سے ایسا کیس ورثے میں ملتا ھے ۔
سدرہ نے ہنس کر بات کو ٹال دیا اور کہا ۔
چلیں آب ہماری اولاد کو ورثے میں ملے گا ایسا کیس ۔
فیروز حیدر نے قہقہہ لگایا ۔
رحیم کو فیروز حیدر کا اس طرح سے مایا ماریہ کے ساتھ گھل مل کر باتیں کرنا سخت نا گوار گزر رہا تھا ۔
انہوں نے مایا ماریہ کو باہر جانے کا کہہ کر معذرت کرتے ہوئے کہا ۔
میرا خیال ھے ہم اس محفل کو یہی ملتو ی کر دیتے ہیں ۔ وسیم کو میری ضرورت نا ھو ۔ مجھے وہاں پہنچنا ھے ۔
فیروز حیدر رحیم کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے کہا ۔
ہم ایک مرتبہ پھر سے معذرت چاہتے ہیں ۔
پر میں ایک التجا لے کر آیا تھا ۔ خیر وسیم صاحب سے بات ھو جاۓ گی ۔ آپ وسیم کے بھائی ہیں اور ہماری التجا ان تک پہنچا سکتے ہیں ۔ میں بڑا ممنون ھوں گا اپکا ۔
رحیم نے جواب دیا جی ضرور میں آپکی بات کا مطلب سمجھ گیا ۔
میں اسکے گوش گزار کر دونگا ۔
جاتے جاتے ہاجرہ بیگم نے سدرہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر اپنا مدعا بیان کر گئی ۔
سدرہ کچھ کہنا چاہ رهی تھیں ۔ رحیم نے بات کو ختم کرتے ہوئے کہا ۔ بہن جی ہم وسیم کو آپکے انے کا مقصد ضرور بتا دینگے ۔
فیروز حیدر جانے کے لیے ابھی دروازے تک پہنچے ھی تھے کہہ سر بری طرح سے چکرا یا اور زمین پر گر گئے ۔
ابتہاج نے جلدی سے اگے بڑھ کر انھیں سہارا دیا ۔
اتنے میں رحیم اور احمد نے بھی اٹھایا اور صوفہ پر لٹا دیا ۔
سدرہ بھاگ کر پانی لےآئیں ۔ کچھ طبیعت سنبھلی تو فیروز حیدر بہت شرمندہ ہوۓ۔
وہ کیسے گرے اس بات سے سخت حیران رہ گئے ۔
دوبارہ اٹھے اور دروازے کی جانب بڑھے تو پھرتی کی سی تیزی سے واپس آے ۔ اس مرتبہ ان کے چہرے پر حیرت ‘ پریشانی اور غصے کے ملے جلے جذبات تھے ۔
رحیم سے ایک غیر متوقعہ سوال پوچھ ڈالا ۔ کیا آپ میں سے کسی نے ایک سال پہلے کینیڈا ٹریول کیا ۔
جی نہیں ۔ اللہ کا شکر ابھی ایسی نوبت نہیں آئی ۔
فیروز حیدر ایک عجیب سی کشمکش میں ا گئے ۔ اور بولے ۔
میرا آب وسیم سے ملنا اور بھی ضروری ھو گیا ھے ۔
میری ایک بہت قیمتی چیز ھے وسیم کے پاس ۔ میں یہ ضرور جاننا چاہتا ہوں کہ وہ اس تک کیسے پہنچی ۔
آب وہ میرے پاس ھے ۔ ان سے کہے گا مجھ سے مل لیں ۔
یہ کہہ کر فیروز حیدر جلدی سے باہر ا گئے ۔ ابتہاج اور ہاجرہ فیروز حیدر کو حیرت سے دیکھنے لگے ۔
ابتہاج نے پہلی مرتبہ اپنے بابا کو اس روپ میں دیکھا تھا ۔
رحیم سدرہ اور احمد کو حیرت میں ڈال کر نکل گئے ۔
رحیم اور سدرہ سوچتے رہ گئے کہ فیروز حیدر نے کیا کہا۔
کونسی قیمتی چیز وسیم کے پاس تھی جو آب فیروز حیدر کے پاس پہنچ گئی ۔
کہیں یہ شخص پاگل تو نہیں ۔
ابتہاج کو کافی عجیب لگا ۔ فیروز حیدر کے روییے سے کافی پریشان ھو گیا ۔ وہ کسی طور مایا کو کھونا نہیں چاہتا تھا ۔
ڈرتے ڈرتے بول پڑا ۔
بابا جان کیا قیمتی چیز تھی وسیم انکل کے پاس ۔
آپ جانتے تھے انکو پہلے سے ۔
فیروز حیدر ابتہاج کی بات سنکر حیرتوں کے سمندر سے باہر نکل آئے ۔ اور چونک پڑے ۔
یار میں بہت پریشان ھوں ۔
میں وہاں گرا نہیں ۔ گرایا گیا تھا ۔ مجھے باقائدہ دھکا دے کر گرایا گیا تھا ۔
جب میں زمین پر گرا ۔ میرے ہاتھ میں وہ لاکٹ ا گیا ۔ جو کینیڈا میں گم ہوا تھا ۔
ہاجرہ اور ابتہاج کا حیرت کے مارے منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔
یار میں سوچ رہا ھوں ۔ اج کے دور میں بھی ایسے اتفاقات ہوتے ھوں گے ۔
بابا جان کوئی غلطی لگی ہوگی ۔ لاکٹ ملتا جلتا ہوگا ۔
انہوں نے ایک دم سے لاکٹ جیب سے نکالا اور دونوں کو دکھایا ۔
ہاجرہ نے فورا تصد یق کرتے ہوئے کہا ۔ یہ سو فیصد وہی لاکٹ ھے ۔ پر یہ انکے ہاتھ آیا کیسے ۔
آب یہ تو وسیم ھی بتاۓ گا ۔
میرا اس شخص سے ملنا بیحد ضروری ھو گیا ھے ۔
میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اس تک یہ لاکٹ آیا کیسے ۔ کیوں کہ تم لوگ تو جانتے ھو نا اتنے ہی ڈرامائی انداز میں یہ گم بھی ہوا تھا ۔ آجکل کے دور میں اگر میں نے کسی کو بتایا بھی تو کوئی یقین نہیں کرے گا ۔
مجھے ابھی بھی یاد ھے چھ سات ماہ پہلی کی بات ھے ۔
صبح گیارہ بارہ کا ٹائم تھا ۔پورے کینیڈا میں برف باری نے سفید چادر اوڑھ رکھی تھی ۔ میں گاڑی سے سامان نکال رہا تھا ۔ پتا نہیں کیسے لاکٹ برف پر گرا اور دیکھتے ہی دیکھتے برف کے اندر دھنستا چلا گیا ۔
جبکہ برف سخت فرش کی صورت اختیار کر چکی تھی ۔ اور صرف اس جگہ سے نرم ھوئی جہاں لاکٹ گم ہوا ۔
میں نے اپنی آنکھوں سے نا دیکھا ہوتا تو شائد کسی کی بات پر یقین بھی نا کرتا ۔
لاکٹ کے اندر جاتے ھی برف پھر سے سخت چٹان کی مانند ھو گئی تھی ۔ میں نے بہت کوشش بھی کی مگر بے سدھ گئی ۔
حیرت کی بات تو یہ تھی کہ اس لمحے کے بعد میرے ذھن سے یہ لاکٹ بالکل نکل گیا تھا ۔
کیوں کہ مجھے یہی بتایا گیا تھا ۔ کہ یہ لاکٹ کئی پشتوں سے خاندان کا حصہ ھے ۔
اس لاکٹ میں ایک ایسی جادوئی خاصیت ھے ۔ جو یہ گم نہیں ہوتا ۔ یہ خود بخود اپنے وارثوں تک پہنچ جاتا ھے ۔ اور جب جب کسی پر کوئی مصیبت پڑی ۔ یہ اسے مصیبت سے نکلنے میں مدد کے لیے پہنچ جاتا ھے ۔
میں یہ سوچ رہا ھوں وسیم کا کیا تعلق ھے اس لاکٹ سے ۔
کیا اس سے ہمارا کوئی خونی رشتہ بھی ھے ۔
میں جلد از جلد اس سے ملنا چاہوں گا ۔ کیوں کہ میں نے اج تک ایسا سنا تھا ۔ کہ اس لاکٹ میں ایسی کوئی طاقت ھے ۔ مگر آب جا کے اسکی کرامت دیکھی ۔ جبکہ میری عمر پچپن کی ھو گئی ۔
اج تک ابتہاج اس بات سے ناواقف تھا ۔ اس نے بے انتہا دلچسبی سے پوری بات سنی اور قہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔
بابا جان آپ بھی ایسی باتوں پر یقین رکھتے ہیں میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔
فیروز حیدر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور بولے ۔
آب سے ایک گھنٹہ پہلے تک یقین نہیں تھا ۔ مگر نا جانے کیوں مجھے پچھلی تمام باتیں سچی لگنے لگی ہیں ۔
کبھی بتاؤں گا تمہیں ۔ اور فیروز حیدر نے آنکھوں میں آے آنسو صاف کیے اور خاموش ھو گئے ۔
کبھی کیوں بابا جان اج ھی کیوں نہیں ۔
آب ابتہاج سیریس ھو گیا تھا ۔
ٹھیک ھے ۔ میں تمہیں سب کچھ بتاؤں گا ۔ آب شائد اس بات کا وقت ا چکا ھے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *