Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shadi Mubarak (Last Episode)

Shadi Mubarak by Mishi Sheikh

اس نے ولی محمد کی مدد سے بابا کو جلدی سے گاڑی میں ڈالا اور ہوسپٹل لے پہنچا…. بابا کو ایمرجنسی ٹریٹ منٹ دیا جانے لگا…. ایک گھنٹے بعد بابا کی حالت کچھ سنبھلی… تو اسے چین کا سانس آیا، یہ ساٹھ منٹ اس پہ ساٹھ صدیوں برابر گزرے تھے…. بابا کو چیسٹ انفیکشن اتنا زیادہ ہو گیا کہ سانس میں دشواری ہونے لگی تھی…. اور اسی انفیکشن سے انکا ٹمپریچر اتنا ہو گیا کہ انہیں غنودگی سی ہو گئی تھی، بلڈ پریشر بھی ہائی ہو گیا تھا.. … اب انکی حالت بہتر تھی.

تابش نے شکرانے کے نفل ادا کئے….

سجدے میں گڑگڑا کر خدا سے باپ کی زندگی، صحت اور خوشیاں مانگی… اس کی حالت دیکھتے ہوئے

نرس نے آ کر کہا کہ اگر آپ چاہیں تو اندر جا سکتے ہیں، پر پلیز اس بات کا خیال رہے کہ مریض آرام کر رہا ہے… شور بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے،وہ دوا کے زیر اثر سو رہے ہیں…

وہ شکریہ ادا کر کے دیوانوں کی طرح بابا کے پاس بھاگا..

بابا گہری نیند کا مزہ لوٹ رہے تھے… وہ پہلے تو دور سے انہیں دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتا رہا… جب تسکین نہ ہوئی تو قریب جا کر بیٹھ گیا انکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کتنی ہی دیر لبوں سے لگائے بیٹھا رہا….. اس دوران آنسو مسلسل بہتے رہے….

آئی لویو بابا…. مسکان سے بھی زیادہ…. ساری دنیا سے زیادہ…. سوری بابا میں بہک گیا تھا.شیطان کے شکنجے میں آ گیا تھا… آپ سے نفرت کرنے لگا تھا، کسی غیر کی محبت میں الجھ کر آپ سے بیگانہ ہوا جا رہا تھا، پر آج مجھے پتہ چلا کہ یہ بیٹا اپنے باپ سے نفرت کر ہی نہیں سکتا، آج آپ کو کھو دینے کا خیال مجھے دو لمحوں میں ہی یہ بتا گیا کہ میں آپ سے کتنا پیار کرتا ہوں…. میں مر تو سکتا ہوں پر آپ سے نفرت نہیں کر سکتا….بابا کبھی بھی نہیں…. آئی لو یو بابا….

وہ وہاں بیٹھا روتا رہا، دل کا بوجھ ہلکا کرتا رہا….

جب کچھ افاقہ ہوا تو باہر نکل آیا.

اسے دیکھ کر ولی محمد اٹھ کر اسکے پاس چلا آیا… سر جی ڈاکٹر کہہ رہے ہیں بڑے صاحب کی طبیعت اب بہتر ہے آپ گھر چلے جائیں، فریش ہو کر کچھ آرام کر لیں، آپ کی حالت بھی کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی، اسنے اسکی لال ہوتی آنکھوں میں جھانک کر کہا.

ہمممم ٹھیک ہے…. میں چلتا ہوں، ضرورت ہوئی تو فوری کال کر لینا مجھے…. بابا کا موبائل ولی محمد کے ہاتھ میں دے کر تابش باہر کی طرف ہو لیا.

گھر آ کر وہ فریش ہوا اور بستر پہ گر گیا بھوک کا احساس ہوا تو اسے یاد آیا کہ آج تو اس نے ناشتہ بھی نہیں کیا تھا… اور اب سہ پہر چار بج رہے تھے…

تھکاوٹ سے برا حال تھا جسم سے زیادہ دماغ تھکا ہوا تھا کہ بہت سے مسئلے اسکے سامنے سر اٹھائے کھڑے تھے اور اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ انکا کیا حل نکالا جائے….

کچھ کرنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا، من تھا کہ اسے چٹکی بجاتے ہی نیند آ جائے پر خالی پیٹ میں چوہوں نے جو اودھم مچانا شروع کر دیا تھا ایسے میں نیند کہاں آ سکتی تھی، مجبوراً وہ اٹھ کر کچن میں چلا آیا.

فریج کھولا تو سامنے پچھلی رات کے بچے تکے اور چند سیخ کباب رکھے تھے، اس نے بد دلی سے نکال کر اون میں گرم ہونے کے لیے رکھ دئیے، اس وقت تو بابا کے ہاتھ کا کھانا کھانے کو دل چاہ رہا تھا… بابا کا خیال آتے ہی آنکھیں پھر سے نم ہو گئیں، اون بند ہونے کا الارم بجا، وہ پلیٹ لے کر باہر لاؤنچ میں آ بیٹھا …. آنسو تواتر سے بہنے لگے، اگر بابا کو آج کچھ ہو جاتا تو…. اس نے اتنے بڑے گھر کو دیکھا، پھر بابا کے بغیر یہاں تنہا رہنے کا تصور کیا تو جھر جھری آ گئی.

کھانا کھا کر وہ اپنے کمرے کی بجائے بابا کے کمرے کی طرف بڑھ گیا…. جہاں نائٹ بلب پہلے سے ہی روشن تھا، بیڈ کی چادر شکن زدہ اور اس پہ کمبل بکھرا پڑا تھا… سائڈ ٹیبل پہ کافی ساری دوائیں بکھری پڑی تھیں، مطلب کے بابا کی طبیعت پہلے سے ہی کافی خراب تھی وہ اپنی سمجھ کے مطابق مختلف دوائیں کھاتے رہے ہیں… اور میرے سامنے تھکاوٹ کا ڈھونگ رچاتے رہے… اس نے افسردگی سے اندازہ لگایا.

ان دواؤں کے ساتھ ہی اسکی اور بابا کی اچھے موڈ میں لی گئی تصویر پڑی تھی…. یہ تصویر ان دنوں کی تھی جب وہ ہوسٹل کی پہلی چھٹیوں میں گھر آیا تھا، بابا چونکہ جانتے تھے کہ وہ گھر سے وحشت کھاتا ہے سو اپنے سارے کام چھوڑ کر اسے مری کی سیر کو لے گئے تھے، ماما کے جانے کے بعد پہلی بار دونوں کھل کر ہنسے تھے، بہت خوبصورت دن تھے…. یہ تصویر ان دنوں کی حسین یاد….

وہ تصویر ہاتھ میں لئے وہیں بابا کے بیڈ پہ بیٹھ گیا… آنسو تھے کہ بہتے ہی چلے جا رہے تھے…

آئی لو یو بابا….آپ جیسے بھی ہیں میری جان سے عزیز بابا ہیں…. سوری بابا میں آپ کی خوشیوں کا قاتل بننے جا رہا تھا، میں یہ سب کرنا نہیں چاہتا تھا پر جانے کس نازک لمحے میں شیطان کے ہتھے چڑھ گیا…آئی ایم سوری بابا .مجھے مسکان سے محبت ہو گئی، پر یہ کیسے ہوا کیوں ہوا میں نہیں جانتا، میں نے یہ سب جان بوجھ کر نہیں کیا، محبت رسوا کرنے کے لیے کب کسکا انتخاب کر لے، کسی کو کیا خبر… اس بار بد قسمتی سے میں محبت کا منظور نظر ٹھہرا ہوں….دو آنسو مزید اسکی پلکوں سے ٹوٹ کر رخسار پہ آ گرے……. میں بہک گیا تھا بابا، ماما کے پڑھائے سب سبق بھول گیا تھا بابا…. پر اب مجھے ہوش آ گیا ہے، میں آپ اور آپکی خوشیوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنوں گا….. میں سب کچھ خوشدلی سے قبول کروں گا، آپکی خوشیوں میں اپکا بھرپور ساتھ دوں گا…. پھر رفتہ رفتہ آپکی زندگی سے نکل جاؤں گا پر کچھ اسطرح کہ آپ کو احساس بھی نہ ہو….

یا اللہ میرے بابا کی خوشیوں کو سلامت رکھنا…. آمین

دل سے دعا کی اور پھر بابا کی تصویر کو چوم کر سینے سے لگا لیا…. آنسو بہتے رہے… جانے کب اسکی آنکھ لگ گئی.

صبح آنکھ کھلی تو سات بج رہے تھے، وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا، رات تو وہ بابا کے ساتھ ہوسپٹل میں گزارنا چاہتا تھا سوچا تھا کہ ولی محمد کو گھر بھیج دے گا…. پر یہ کیا ہو گیا…. وہ جلدی سے واش روم میں گھس گیا..

فریش ہو کر ہوسپٹل کے لیے تیار ہو گیا… کل سے مالی بابا کو گھر پہ روک رکھا تھا…. وہ باہر نکلا تو انہوں نے قریب آ کر بلاول صاحب کا حال چال پوچھا….

بہتر ہیں مالی بابا، پر آپ دعا کرتے رہیے گا…. تابش نے کچھ نوٹ اسکی مٹھی میں دباتے ہوئے کہا.

اب وہ ہوسپٹل کے راستے پہ تھا، اسے یاد آیا کہ ولی محمد بھی نے بھی کل کچھ نہیں کھایا…..اووو مائی گاڈ…. اس نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا… قریب ہی مارکیٹ تھی، وہاں سے اس نے ناشتہ پیک کروایا….

اسے دیکھ کر ولی محمد اپنی کرسی سےاٹھ کھڑا ہوا….

بابا کی طبیعت کیسی ہے، تابش نے آتے ہی پوچھا

جی الحمدللہ، بہت بہتر ہیں اب، رات ہوش میں تھے، آپ کا پوچھ رہے تھے، ولی محمد نے بتایا.

مجھے کال کیوں نہیں کی… میں بھاگا چلا آتا…تابش کو افسوس ہونے لگا.

جی وہ صاحب نے منع کر دیا تھا… ولی محمد نے آہستہ سے کہا. اسکی طبیعت اور لہجے سے نقاہت صاف جھلک رہی تھی.

آئی ایم سوری ولی محمد…. میں رات کو آنے والا تھا پر پتہ نہیں کب آنکھ لگ گئی، کب رات بیت گئی پتہ ہی نہیں چلا. یہ بتاؤ، کچھ پیا بھی کہ بھوکے بیٹھے ہو… تابش نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا.

وہ….. وہ… میرے پاس کچھ بھنے ہوئے چنے تھے بس وہی کھا کر گزارا کرتا رہا… اس نے نظریں جھکا کر کہا.

تابش کو بہت افسوس ہونے لگا… یہ دیکھو میں تمہارے لئے ناشتہ لایا ہوں، تم بیٹھ کر ناشتہ کرو، میں بابا سے مل کر آتا ہوں، تابش کہہ کر آگے بڑھ گیا.

اس نے کلاس ڈور سے دیکھا تو بابا سو رہے تھے، وہ اندر نہیں گیا، باہر ہی کھڑا رہا….

اب کیسی طبیعت ہے انکل کی،

ایان نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا.

تم…. تمہیں کیسے پتہ چلا، تابش نے جواب دئیے بنا ہی سوال کر دیا.

ابھی انکل کے موبائل پہ فون کیا تو ولی محمد نے بتایا. ایان کے کہنے پہ وہ سر ہلانے لگا.

بہتر ہیں اب…. وہ مختصر جواب دے کر کسی سوچ میں الجھ گیا.

کیا سوچنے لگے، ایان نے اسے ہوش دلاتے ہوئے پوچھا.

نہیں، کچھ بھی نہیں… وہ یار… ثبوت کدھر ہیں…. تابش نے جھجھکتے ہوئے پوچھا.

تجھے ملا نہیں ثبوت ابھی تک…. ایان نے بے یقینی سے پوچھا.

نہیں تو…. ثبوت تو تیرے پاس تھے نا، تو نے مجھے دئیے ہی کب تھے…. تابش نے پریشان ہوتے ہوئے کہا.

یار میں نے تو ثبوت پارسل کر دیا تھا تجھے…. ابھی تک تجھے ملا نہیں…. یہ کیسے ہو سکتا ہے… چل تو پریشان نہ ہو، میں دیکھتا ہوں…. کہہ کر ایان واپس چلا گیا.

ایان کا دل دکھا تھا کہ ایک بیٹا باپ کی اس حالت میں بھی ثبوت کی فکر میں ہے… اسے باپ سے زیادہ کسی اور کی فکر ہے…

ادھر تابش پریشان ہو گیا کہ اگر وہ ثبوت کسی اور کے ہاتھ لگ گئے تو بہت برا ہو گا، وہ اپنے بابا کی رسوائی برداشت نہیں کر پائے گا…. اسے کچھ کرنا چاہیے… پر کوئی بھی راہ دکھائی نہیں دے رہی تھی…

وہ ایان کو بتانا چاہتا تھا کہ اسکے دل کی حالت بدل گئی ہے، نفرتیں مٹ گئیں ہیں، محبتیں جاگ اٹھی ہیں، اسے اب کسی بھی ثبوت کی ضرورت نہیں بلکہ اب تو وہ ان تمام رکاوٹوں سے ٹکرا جائے گا جو اسکے بابا کی راہ میں حائل ہونے کی کوشش کریں گی….

وہ ان ثبوت کو بھی جلانے کے لیے بےچین ہے جو ایان نے اسکی خواہش پہ اکٹھے کئے ہیں…. پر وہ اسے کچھ بھی نہ بتا پایا کہ اسے لگا کہ ایان بپھر جائے گا اور کہے گا کہ تم نے ایسا ہی کرنا تھا تو پہلے مجھ سے یہ کام کروایا ہی کیوں… تمہیں اندازہ نہیں کہ کتنی محنت سے میں نے یہ کام کیا ہے اب میں اپنی محنت کو رائگاں نہیں جانے دوں گا، میں کریمنل لوگوں کو بے نقاب ضرور کروں گا….

ایک سوچ، پریشانی ختم ہونے نہیں پاتی کہ دوسرا امتحان شروع ہو جاتا ہے… یا اللہ مدر فرما.

دو دن بعد بابا گھر آ گئے….

یار دوست، آفس کولیگ بابا کے لئے آنے لگے، ہمدانی انکل بھی انکی تیمار داری کے لیے آئے، شادی میں صرف تین دن رہ گئے تھے، ہمدانی انکل نے بہت کہا کہ کچھ دن لیٹ کر لیتے ہیں پر بابا مصر رہے کہ جو ڈیٹ فکس ہوئی ہے، رخصتی اسی پہ ہی ہو گی.

اگلے دن بابا بستر سے اٹھ بیٹھے بلکہ کافی ایکٹو بھی ہو گئے… اس سے شاپنگ پہ چلنے کے لیے کہا تو تابش آنکھیں پھاڑے انہیں دیکھنے لگا، پھر ہاتھ جوڑ کر بولا ہمارے حال پہ رحم کریں…

بابا مسکرا دئیے.

چلو پھر آفس ہی چلے جاتے ہیں، بلاول صاحب نے کندھےاچکائے.

آپ ریسٹ کریں…. میں آپ کو شادی والے دن بالکل فریش دیکھنا چاہتا ہوں… سمجھے آپ….. وہ بابا کو گھر پہ چھوڑ کر آفس چلا گیا.

آفس پہنچتے ہی اس نے ایان کو فون کیا اور ثبوت کے بابت پوچھا.

ثبوت تجھے مل جائیں گے، نکاح سے پہلے پہلے مل جائیں گے، فکر ناٹ میری جان…. ایان نے بات ہنسی میں اڑا دی…. تابش کے تن بدن میں آگ سی لگ گئی، وہ چلانا چاہتا تھا پر قابو پا گیا کہ وہ ایان کو اس نازک موقع پر ناراض نہیں کر سکتا تھا.

مقررہ دن آن پہنچا.

بابا اپنے کمرے سے تیار ہو کر نکلے اور وہ اپنے…… دونوں آمنے سامنے ہوئے تو دونوں کے نگاہوں نے اک دوجے کی نظر اتاری…. بابا تو پہلے سے زیادہ ہینڈسم لگ رہے تھے……

آج تو تیر چلیں گے تیر…. جانے کس کس کے دل پہ، تابش نے بابا کو چھیڑتے ہوئے کہا.

ویسے بابا مجھے کچھ عجیب سا لگ رہا، مجھے اتنا تیار نہیں ہونا چاہیے تھا…. تابش یچکچایا

او کم آن یار…. بابا نے بہت رومینٹک انداز میں اسکے بازو میں بازو ڈالا اور قدم لاؤنچ کی طرف بڑھا دئیے….. کچھ صوفوں پہ براجمان مہمان احتراما کھڑے ہو گئے….. اور سب نے نکلنے کی تیاری پکڑ لی.

کار میں فرنٹ سیٹ کوئی نہیں بیٹھا، دونوں باپ بیٹا پچھلی سیٹ پہ ایک ساتھ بیٹھے.

مختصر سی برات کا بہت اچھے طریقے سے استقبال کیا گیا، انتظام ہمدانی نے اپنے گھر پہ ہی کروایا تھا.

تابش نے بابا سے دو قدم پیچھے ہٹنا چاہا پر بلاول صاحب نے اسکا بازو ایسے پکڑ رکھا تھا کیسے بچہ ہاتھ چھڑا کر بھاگ نہ جائے جیسے اسکے اس ہجوم میں گم ہو جانے کا ڈر ہو…….

سب ڈرائینگ روم میں بیٹھ گئے، مولوی صاحب پہلے سے ہی موجود تھے، پہلے کولڈ ڈرنک سرو کئے گئے، مولوی صاحب ضروری لکھ پرت کر رہے تھے…..

تابش نے ایان کی طرف دیکھا….. ایان نے اشارے سے تسلی دی…. جیسے کہہ رہا ہو ابھی اس دروازے سے ایک بندہ ثبوت کے کر آئے گا، سب کے سامنے ان لوگوں کا پول کھولے گا.

اب تابش پچھتا رہا تھا کہ اسے پہلے ہی ایان سے کھل کر بات کر لینی چاہیے تھی، اب جانے کیا ہونے والا ہے…. نکاح شروع ہو چکا تھا….. تابش کے دھیان مکمل طور پر باہر کے دروازے کی طرف تھا، اس نے سوچا جیسے ہی کوئی اندر آنے لگے گا میں فوراً اسے باہر ہی جا روکوں گا…. اور ثبوت اپنے قبضے میں کر لوں گا…. کہ اب اسکے علاوہ اور کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا…. اور جو ہونے والا وہ ہرگز قابل قبول نہیں….

بابا نے اسے زور سے کہنی ماری….اس کے منہ سے سسکی نکلی، سب کی نگاہیں اسی کی طرف تھیں…. کچھ کے چہروں پر حیرت اور کچھ دبی ہنسی ہنس رہے تھے، اسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا ہوا ہے…کہیں سب کو اصلیت کا پتہ تو نہیں چل گیا اس نے خوفزدہ ہو کر سوچا…. . بابا کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا رہے تھے….. اسے حیرت ہوئی.

اتنے میں مولوی صاحب کی آواز آئی

بیٹا کچھ بولو…. خاموش کیوں ہو…. کیا آپ کو مسکان راشد ولد راشد علی کے ساتھ نکاح قبول ہے…..

تابش کو اپنے کانوں پہ یقین نہیں آیا تو باری باری سب کی طرف دیکھا پھر ایان سے نگاہیں ملی تو وہ شیطانی ہنسی ہنس رہا تھا…. تب وہ اٹھا اسے بازو سے پکڑ کر باہر لے گیا…. یہ سب کیا ہے ایان، لگتا ہے تم نے بابا سے کچھ کہا ہو گا، تبھی بابا اس رشتے سے دستبردار ہو گئے…. بولو ایسا ہی ہے نا…. تابش نے تقریباً چیختے ہوئے کہا.

او گدھے تو تو واقعی پورے کا پورا گدھا ہے….. جو اب بھی نہیں سمجھ سکا کہ حقیقت کیا ہے…… او چلیا….. انکل نے مسکان کے ساتھ تیرا ہی رشتہ طے کیا تھا، تجھے گھر میں عورت کا وجود چاہیے تھا، تو انکل کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گیا، تجھے یہ خیال کیوں نہیں آیا کہ عورت تو تو بھی لا سکتا تھا….. ایان نے اسے گھورتے ہوئے کہا.

میں یہ نکاح نہیں کر سکتا، مسکان کو ایک نہ ایک دن یہ پتہ چل ہی جانا ہے کہ اسے بیچا اور خریدا گیا ہے، تب وہ مجھ سے نفرت کرنے لگے گی، مجھے اسکی محبت نہ ملے یہ تو برداشت کر لوں گا پر اسکی نفرت نہیں سہی جائے گی مجھ سے، تابش نے دل برداشتہ ہوتے ہوئے کہا.

تب ایان کا دل کیا کہ اسکا سر دیوار میں دے مارے یا اپنا ہی سر پھوڑ لے…… یا اللہ میرے حال پہ رحم کھا…. اسے عقل دے دے…. ایان نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر کہا.

میرے بھائی ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، وہ چیک اس شاپنگ کے لیے تھا جو لڑکے والے لڑکی کے لیے کرتے ہیں، رسم ہے کہ لڑکے والے لڑکی کو کپڑے جوتے ہار سنگھار…. وغیرہ وغیرہ

تحفتاً دیتے ہیں، تیرے گھر میں کوئی تھا نہیں جو کہ یہ سب کرتا سو انکل نے چیک دے دیا اور یہ زمہ داری مسز ہمدانی کو سونپ دی. اور انہیں یہ بھی اندازہ نہیں تھا کہ کتنا خرچہ ہوتا ہے، تو بلینک چیک دے دیا کہ اپنی مسز سے پوچھ کر رقم درج کر لیجیے گا……

اب اور کوئی سوال….. ایان نے اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے پوچھا.

ہاں ہے ناں…..تابش نے جھجھکتے ہوئے کہا.

وہ کونسا ثبوت تھا جو تو نے مجھے پارسل کیا تھا…..

وہ تیری شادی کا کارڈ تھا گھامڑ گدھے….. اور تو نے لگتا ہے اسے کھول کر بھی نہیں دیکھا…. دیکھا ہوتا تو آج میں یوں کٹہرے میں نہ کھڑا ہوتا….

ایان کا چہرہ اب غصے سے لال ہوتا دکھائی دے رہا تھا، اس سے پہلے کہ وہ اپنا سر پیٹ لے یا اسے ہی پیٹ ڈالے، تابش نے ہتھیار ڈالنا ہی بہتر سمجھا،

ایان کو یوں شرمندہ سر جھکائے کھڑے دوست پہ بہت پیار آیا، اس نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا لیا…..

چل اب باقی باتیں بعد میں سوچ لینا، اندر مولوی صاحب تیرے قبول ہے کی انتظار میں بیٹھے ہیں…. ایان اسکا ہاتھ پکڑ کر اندر لے گیا.

قبول ہے مولوی صاحب دل و جان سے قبول ہے ، تابش نے اندر جاتے ہی مولوی صاحب سے کہا تو ہر چہرہ مسکرا اٹھا، وہ آگے بڑھ کر بابا کے گلے لگ گیا…. آئی لو یو بابا…. آنسو بہنے لگے.

بلاول صاحب نے بھی زور سے بھنچ لیا….

آئی لو یو ٹو مائی ڈئیر سن….. شادی مبارک

دونوں باپ بیٹا آنکھوں میں آنسو لئے مسکرا رہے تھے، اور اس خوبصورت منظر پہ زندگی بھی مسکرا اٹھی تھی.

مٹھائی بانٹی جانے لگی…. منہ میٹھے ہونے لگے

ہر طرف شور اٹھا……. شادی مبارک

ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *