Shadi Mubarak by Mishi Sheikh NovelR50691 Shadi Mubarak (Episode 01)
Rate this Novel
Shadi Mubarak (Episode 01)
Shadi Mubarak by Mishi Sheikh
وہ لاؤنچ کے صوفے پہ نیم دراز ریموٹ ہاتھ میں لئے بیزاری سے چینل سرچ کر رہا تھا، عرصہ چار سال سے ٹی وی نہیں دیکھا تھا، اب دیکھا تو پتہ چلا کہ بہت کچھ بدل گیا ہے، کتنے ہی نئے چہرے نظر آ رہے تھے……
ایک چینل پہ میزبانی کرتی عورت پہ اسکی نظر ٹھہر سی گئی، عورت کی عمر چالیس پینتالیس کے لگ بھگ تھی، جسم فربہ پر شخصیت کافی پر وقار تھی…. وہ کتنی ہی دیر اسکی چال ڈھال اور لب و لہجہ پہ غور کرتا رہا….
بالکل ایسی ہی عورت کا ہونا ضروری ہے بابا کی زندگی میں…. اس نے خود سے سرگوشی کی….
ڈھونڈوں گا، میں ضرور ڈھونڈوں گا…..
کیا بابا مان جائیں گے…. اس نے خود سے ہی سوال کر ڈالا اور خود ہی سوچ میں پڑ گیا…
انہیں ماننا پڑے گا، اپنے لیے نا سہی میرے لئے…. اس گھر کے لیے…. اس نے ذرا بلند آواز میں کہہ کر خود کو یقین دلانے کی کوشش کی.
وہ وہیں صوفے پہ نیم دراز ہو گیا، ریموٹ میز پر رکھ دیا، دماغ میں سوچوں کا سمندر بہنے لگا.
ماں کے مرنے کے بعد جب اسکا گھر میں دل نہ لگا تو ہوسٹل چلا گیا، چار سال بعد ڈگری پوری کر کے چار دن پہلے وہ واپس آیا….
اور چار دن سے وہ تنہا، دیواروں کو تک رہا تھا، بابا اسکے ساتھ وقت بیتانا چاہتے تھے پر ظالم سماج سے یہ برداشت نہیں ہو رہا تھا…
آج بھی انہوں نے مینیجر کو کال کر دی تھی کہ وہ نہیں آ رہے، سب کام خود دیکھ لینا…. پر ایک گھنٹہ جانے اس نے کیسے نکالا کہ فون کھڑکا دیا کہ بلاول صاحب آپ کو آنا ہی پڑے گا، بہت سے کام آپ کے بنا نہیں ہو پا رہے….
اور بلاول صاحب ایک بار پھر بیٹے سے معزرت کر کے فیکٹری روانہ ہو گئے ہاں جاتے جاتے ویک اینڈ اسی کے ساتھ گزارنے کا وعدہ ضرور کر گئے، اور وہ اسی میں خوش ہو گیا تھا.
شام میں بابا ذرا جلدی آ گئے، اس نے چائے بنا کرپیش کر دی تو مسکرا اٹھے کہ واہ میرا بیٹا تو بہت اچھی چائے بناتا ہے….
مجھے تو تمہاری ماں نے بنانا سکھائی تھی برخوردار…. تمہیں کس نے سکھائی ہے، بلاول صاحب نے اسے آنکھ مارتے ہوئے معنی خیزی سے پوچھا.
مجھے آپ کی محبت اور گوگل سرچ نے…. کہتے ہوئے اس نے موبائل میں محفوظ چائے بنانے کا طریقہ دکھا دیا….
جسے دیکھ کر بلاول صاحب کی ہنسی نکل گئی.
میرے لاڈے میری جان…. اتنی محنت نہ کیا کر بیمار پڑ جائے گا، باپ کے پیار بھرے طنز پہ وہ مسکرائے بنا نہ رہ سکا.
اچھا جلدی سے بتاؤ کیا کھاؤ گے ڈنر میں….. بلاول صاحب نے اٹھتے ہوئے پوچھا.
اب آپ کھانا بنائیں گے…. اس نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا.
جی میری جان…. انہوں نے اپنی تھکاوٹ چھپاتے ہوئے بہت خوش دلی سے کہا.
جبکہ وہ محسوس کر چکا تھا، باہر سے نہ منگوا لیں، اس نے اپنی رائے دی.
تم نے کھانا ہے تو ضرور منگوا لو پر مجھے باہر کے کھانے سختی سے منع کر دئے گئے ہیں….. پچھلے سال بہت زیادہ بیمار ہو گیا تھا معدے کا السر ہو گیا تھا بس تب سے ڈر گیا ہوں. اب بھوکا رہنا منظور، باہر کا کھانا نامنظور….. بابا نے نعرہ لگانے کے سے انداز میں کہا.
چلیں پھر میں بھی آپکی ہلپ کروا دیتا ہوں….وہ بھی اٹھ گیا…
چلو تم کچن میں چل کر دیکھو کیا بنایا جا سکتا ہے… میں زرا فریش ہو کر آیا، بلاول صاحب کہہ کر اپنے کمرے میں چلے گئے.
وہ کچن میں آیا تو ہر چیز اپنی جگہ سلیقے سے پڑی تھی، کہیں سے بھی ایسا معلوم نہ پڑتا تھا کہ یہ کچن پچھلے چار سال سے اک مرد کے زیر استعمال ہے اور کسی عورت نے یہاں جھانکا بھی نہیں….
اس نے پہلا کیبنٹ کھولا تو اس میں نمک مرچ مصالحہ جات پڑے تھے، دوسرا کھولا تو میگی نوڈلز کے چند پیکٹ پڑے تھے، یہ دیکھ کر اسکی آنکھیں چمک اٹھیں… اس نے جلدی سے وہ پیکٹ نکالے، چولہے پہ پانی رکھ دیا… اس یاد آیا کہ فریج میں بوائل مٹر کا ڈبہ پڑا تھا اس نے جلدی سے وہ بھی نکال لیا، پانی بوائل ہو چکا تھا اس نے مٹر ڈالے اور دو گاجریں بھی کاٹ لیں، کیسے کاٹی یہ وہی جانتا تھا، سب کچھ ڈال کر اس نے دم دے دیا…. جب بابا کچن میں داخل ہوئے وہ نوڈلز باؤل میں ڈال رہا….
کیا بنا رہا ہے ہمارا بیٹا….بات پوری ہونے سے پہلے ہی اس نے باؤل بابا کے سامنے کر دیا…. پہلے بابا نے باؤل دیکھا پھر بکھرا ہوا کچن دیکھا….. دل چاہا سر پیٹ لیں اپنا….
اس نے بھی اپنے آس پاس دیکھا تو شرمندگی سے سر کھجانے لگا…. بابا کے کچن کا کیا حال کر دیا اس نے…
بابا باؤل اسکے ہاتھوں سے لے کر وہی کونے میں رکھی میز پہ بیٹھ گئے…. اتنا تکلف کیوں کیا آپ نے بیٹا جی….. بابا نے سوپ میں تیرتے نوڈلز میں فورک چلاتے ہوئے بہت سنجیدگی سے پوچھا…..
وہ دانت نکالتا ہوا، اپنا باؤل بھی لے کر انکے پاس ہی بیٹھ گیا….
بابا نے ٹیسٹ کیا تو بولے… ناٹ بیڈ….
وہ فرضی کالر جھاڑنے لگا جیسے کوئی اٹالین ڈش کا مقابلہ جیت لیا ہو… بابا بھی ہنس دئیے.
بابا آپ نے شیف خان بھائی کو کیوں نکال دیا نوکری سے…. اس نے سنجیدہ ہوتے ہوئے پوچھا.
تم اسے شیف کہتے ہو…. ایسے ہوتے ہیں شیف…. ارے اسی کے کھانے کھا کھا کر تو مجھے السر ہوا، اٹالین اور چائنیز کے نام پہ جانے کیا کیا گند مند کھلاتا رہا مجھے اور میری معصومیت اور مجبوری دیکھو پورا ایک سال وہ سب کھاتا بھی رہا اور انکے موٹے موٹے مشکل مشکل نام بھی یاد کرتا رہا اور جب نام یاد ہو جاتا تو اسے سختی سے منع کر دیتا کہ فلاں ڈش اب کبھی مت بنانا ورنہ نوکری سے نکال دوں گا….. بابا نے ایسی صورت بنائی کہ اسکا قہقہہ فضا میں بکھر گیا….
تمہیں ہنسی آ رہی ہے…. تمہیں اب کیا کیا بتاؤں کہ میں نے کتنے عذاب سہے ہیں…. جب کبھی ان کھانوں سے تنگ آ جاتا تو دال یا سبزی کی فرمائش کرتا تو شام میں میرے سامنے دال کا سوپ آ جاتا جس کے اوپر ثابت پیاز، ٹماٹر اور ہری مرچیں تیر رہی ہوتیں تھیں…. اور مجھے سمجھ نہیں آتا تھا اسے کھانا کیسے ہے….. بابا چہرے پہ زبردستی مظلومیت سجا کر بتا رہے تھے….. وہ بابا کے دکھ میں شریک ہونا چاہتا تھا پر ایک بار پھر ہنسی چھوٹ گئی اور اس بار بابا نے بھی اسکا ساتھ دیا تھا.
بابا آپ کو نہیں لگتا کہ اس گھر کو ایک عورت کی ضرورت ہے، آخر کب تک آپ کھانا بناتے رہیں گے…. اور میں بے شرموں کی طرح کھاتا رہوں گا… اس نے سر کھجاتے ہوئے کہا.
جی جی….. بالکل بجا فرمایا آپ نے برخوردار…. واقعی اس گھر کو اب اک عورت کی اشد ضرورت ہے…. بابا نے مسکراہٹ دباتے ہوئے بظاہر سنجیدگی سے کہا….
تو بابا پھر آپ کچھ کرتے کیوں نہیں…. اس نے بے صبری سے کہا.
ہممممم اب تو لگتا ہے جلدی کچھ کرنا پڑے گا…. اچھا تمہاری کوئی خاص ڈیمانڈ ہو تو بتا دو….
نہیں بابا میری کوئی ڈیمانڈ نہیں…. بس اب یہ کام جلد از جلد ہو جانا چاہیے. اس نے بے صبری کی انتہا کرتے ہوئے کہا.
اوووو تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی…. معاملہ کافی سیریس لگ رہا ہے مجھے…. ٹھیک ہے کچھ کرتے ہیں، تم پریشان بالکل نہ ہونا…. بابا اٹھ کھڑے ہوئے اور اسکا گال تھپتھپا کر اپنے کمرے میں چلے گئے.
وہ کھلے دل سے مسکرا دیا، دونوں باؤل اٹھا کر سنک کے پاس لے گیا،
اے دل نادان
نہ ہو تو پریشان
راضی ہیں میرے بابا
لا دیں گے مجھے ماما
اے دل نادان
نہ ہو تو پریشان
وہ شیلف سے چیزیں سمیٹتے ہوئے گنگنانے لگا….
_________
جب سےبابا نے شادی کے لیے حامی بھری تھی وہ بہت خوش تھا پر ایک بات کا اسے بہت دکھ تھا کہ اسے چار سال پہلے ہی بابا کو شادی کر لینے کا کہہ دینا چاہیے تھا، شاید بابا اسکی وجہ سے آج تک تنہا تھے…. انہوں نے یہ وقت کیسے گزارا ہو گا وہ سمجھ سکتا تھا وہ تو خود غرض نکلا اور وہاں سے بھاگ نکلا، بابا کے متعلق اک لمحے کو بھی نہ سوچا، نہ خود انکے ساتھ رہا اور نہ انہیں کسی کا ساتھ دیا.
اب اسے اپنی غلطی سدھارنی ہے جلد از جلد…..
ویک اینڈ دونوں نے ایک ساتھ گزارا، کومیڈی مووی دیکھی دونوں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے رہے…. کتنا اچھا لگ رہا تھا اتنے عرصے بعد یوں ساتھ میں وقت گزارنا…..
مووی ختم ہو گئی، بابا اب بھی اسکے سین یاد کر کے ہنس رہے تھے اور وہ محویت سے انہیں تک رہا تھا….
بابا پھر کیا سوچا آپ نے شادی کے متعلق…. اس نے اسی کھوئے ہوئے انداز میں پوچھا.
بابا کی ہنسی کو بریک لگ گیا…. میرا بیٹا لگتا ہے کافی سیریس ہے…..
جی بابا… اس نے سیدھے ہوتے ہوئے کہا.
کیا تم نے کوئی دیکھ رکھی ہے، انہوں نے آنکھ مارتے ہوئے پوچھا.
نہیں بابا…. پر آپ کہیں گے تو ڈھونڈنے میں مدد کر سکتا ہوں. اس نے مسکرا کر کہا.
ہمممم چلو ٹھیک ہے، تم بھی دیکھو…. میں بھی دیکھتا ہوں… کہہ کر وہ کچن کی طرف چل دئیے کہ رات کے کھانے کا بندوبست بھی کرنا تھا.
وہ خوشی سے اچھل پڑا بلکہ ناچنے ہی لگا….
بابا نے قیمہ آلو بنایا تھا، بہت ہی ذائقے دار…. اسکا پسندیدہ کھانا…. وہ تو جھوم ہی اٹھا….. اور اسی خوشی میں کھانا بھی زیادہ کھا لیا….
بابا سونے چلے گئے اور کچن سمیٹنے کا کام اسکے سپرد کر گئے…. اسے یہ کام زہر لگتا تھا پر بابا کی خاطر کرتا تھا…. اب تو ماما جلدی آ جائے اور آکر اپنا گھر سنبھالیں…. مجھ سے نہیں ہوتے یہ زنانہ کام….. اففففف….. آ بھی جا، اآاااآ بھی جااااااا…. وہ برتن دھوتے ہوئے گنگنانے لگا.
کمرے میں آ کر بستر پہ گر پڑا…. سونا چاہتا تھا پر نیند نہیں آ رہی تھی…. شاید کھانا زیادہ کھا لینے کی وجہ سے طبیعت بوجھل ہو رہی تھی، وہ اٹھا اور باہر لان میں آ کر بیٹھ گیا…. تازہ ہوا نے اسکی طبیعت میں تازگی بھر دی….
دماغ فریش ہوا تو اس نے اپنی ممکنہ ماما کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا….
پہلے تو دھیان اپنی پروفیسر ٹیچرز کی طرف گیا، ان میں سے کافی ساری تو میرڈ تھیں…. اور اپنے گھروں میں خوش یعنی کہ طلاق دلوا کر بھی شادی ممکن نہ تھی…. اوووو میں بھی کتنا شیطانی سوچ رہا ہوں اس نے خود کو تھپڑ لگایا…. تب مسز خان یاد آئیں جو کہ بیوہ تھیں، اسکے چہرے پہ رونق آنے ہی لگی تھی کہ انکا بیٹا زمان خان یاد آ گیا، توپ بندہ تھا وہ تو اسکا کلاس فیلو…. شاید ہی کوئی بچا ہو جس سے اسکا پھڈا نہ ہوا ہو…. نو نو نو….. نیور…. بابا کا تو گزارا ہو جائے گا مسز خان سے پر میرا نہیں ہونا زمان کے ساتھ…. توبہ توبہ…. میں نے ایسا سوچا بھی کیسے…. اس نے پھر خود کو دو لگائے اور مسز خان کو ریجیکٹ کر دیا.
مس کنول…. وہ کنواری ہیں، پر اب جوانی ڈھل گئی انکی، جانے انہوں نے شادی کیوں نہیں کی، ہو سکتا ہے اپنی فیملی کو سپورٹ کرنے کے لیے قربانی دی ہو….
وہ انکے بارے میں فیصلہ کرنے ہی والا تھا کہ اسے یاد آیا کہ وہ تو مزاج کی بہت تیز ہیں…. انہوں نے تو بابا کو بھی اپنے سٹوڈنٹس کی طرح ٹریٹ کرنا ہے اور پھر بابا نے مجھے جان سے مار ڈالنا ہے….، سر اسرار نے بھی تو اپنی وائف کو کچھ ماہ پہلے طلاق دے دی تھی….. اوووو ہاں، انکے بارے میں بھی تو سوچا جا سکتا ہے نا….. وہ خوش ہوا، بھنگڑا ڈالنے ہی لگا تھا تو خیال آیا کہ میں تو ان کے بارے میں کچھ جانتا ہی نہیں…. کون ہے کیسی ہیں، کہاں رہتی ہیں…سر سے بھی تو انکے بارے میں پوچھا جا سکتا ہے نا…. اس نے اپنے تئیں مسئلہ کا حل نکالا….. واہ تابش تیری عقل پہ تو آج قربان جانے کو دل چاہ رہا ہے… سر تو جیسے خوشی خوشی اسے اپنی سابقہ بیوی کے گھر کا پتہ دیں گے، بلکہ وہ تو خود اسکے بابا کا رشتہ لے کر جائیں گے وہاں…… ڈوب کر مر جا تابش…. اس نے خود کو کھری کھری سنا ڈالیں . اففففف اللہ جی کیا کروں میں…. کہاں سے ڈھونڈ کر لاؤں میں ماما…. وہ بیزاری سے اٹھ کر لان میں ٹہلنے لگا….
ٹہلتے ٹہلتے اسے اپنی ماما یاد آنے لگیں، یہاں اسی لان میں وہ اور ماما شام کی چائے پیا کرتے تھے،ایک دن ماما چائے کو دم دے کر باہر نکلیں تو ان کی ایک دوست آ گئی ، تب ماما نے اسے چائے لانے کو کہا، وہ ماما کی بنائی ہوئی چائے کپس میں ڈال کر لے آیا، ساتھ میں کچھ بیکری رکھ لایا ، چائے پی کر آنٹی منال حیران رہ گئیں انہوں نے اسکی خوب تعریف کی …. ماما نے بھی اسکی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا ڈالے تھے اور دوست کے جانے کے بعد دونوں کتنی ہی دیر ہنستے رہے…..
پھر ایک بار وہ ماما کے ساتھ آنٹی منال کے گھر گیا، وہ اپنے شوہر کے ساتھ تنہا رہتی تھیں، انکے دونوں بیٹے پڑھائی کے لیے بیرونی ملک گئے، پھر وہیں پہ گھر بسا لیے اور ماں باپ کو بھلا دیا…..
آنٹی نے اس دن پھر سے ویسی چائے کی فرمائش کر دی، اسکے تو پسینے چھوٹ گئے کہ اسے تو چائے کی اے بی سی کا بھی نہیں پتہ تھا….
ماما نے اس دن سچ بتا دیا….. تب آنٹی خوب ہنسی، تب ماما نے انکی فرمائش پہ چائے بنائی، ماما واقعی ہی بہت اچھی چائے بناتی تھیں انکی چائے کی خوشبو دور دور تک جاتی تھی.
پھر دوسری بار وہ آنٹی منال سے انکے شوہر کی ڈیتھ پہ ملا، وہ بہت بکھر چکی تھیں، بیٹے باپ کی وفات پہ بھی نہ آ سکے تھے…. تب آنٹی نے وصیت کر دی کہ میرے جنازے پہ بھی انہیں نہ آنے دیا جائے…..
ماما نے انہیں بہت مشکل سنبھالا تھا، بابا ان دنوں بیرون ملک تھے….
آخری بار میں ان سے انکی عدت پوری ہونے کے بعد ملا…. وہ ماما سے کہہ رہی تھیں کہ بیٹوں سے اب وہ کوئی رابطہ نہیں رکھنا چاہتی…. انہیں کوئی مناسب بندہ ملا تو وہ شادی کر لیں گی…. شادی کی خواہش نہیں ہے پر اک عورت کو آسرا چاہیے ہوتا ہے ہر حال میں…. تنہا جینا آسان نہیں اس معاشرے میں….ماما نے انکی ہاں میں ہاں ملائی تھی اور وعدہ کیا تھا کہ وہ انکی ہر ممکن مدد کریں گی…..
پر ماما خود بیمار پڑ گئیں، انہیں سکن کینسر ہو گیا، اور پھر وہ زیادہ نہیں جی سکیں…. آنٹی منال کی مدد کرنے کی رب نے مہلت ہی نہ دی….
پھر وہ بھی ہوسٹل چلا گیا، دوبارہ کسی سے بھی رابطہ نہ رکھا، آنٹی منال کا ایک دو بار اسے میسج ملا پر اس نے کوئی جواب نہ دیا کہ وہ ماما سے متعلق کسی کے ساتھ رابطے میں نہیں رہنا چاہتا تھا، ماما کا ذکر اسکے سارے زخم ہرے کردیا کرتا تھا، یہی وجہ کہ بابا بھی ماما کا ذکر بہت کم کیا کرتے تھے…..
ماضی میں کھوئے کھوئے اسکے ذہن میں اک خیال آیا اور ساتھ ہی اسکی آنکھیں چمک اٹھیں….. آنٹی منال.
