Shadi Mubarak by Mishi Sheikh NovelR50691 Shadi Mubarak (Episode 04)
Rate this Novel
Shadi Mubarak (Episode 04)
Shadi Mubarak by Mishi Sheikh
بھاری بھر کم عورت بلاول صاحب کے پاس بینچ پہ آ کر بیٹھ گئی…. وہ کافی کنفیوز لگ رہی تھی، اپنے پرس سے کالی عینک نکال کر کبھی آنکھوں پہ لگاتی تو کبھی سر پہ ٹکا لیتی… کبھی اپنے شاپنگ بیگ ٹٹولنے لگتی… شاید کچھ ڈھونڈ رہی تھی…. کبھی عینک پھر سے اپنے پرس میں رکھ دیتی… وہ دھیرے دھیرے سرک کر بلاول صاحب کے قدرے قریب آ چکی تھی….. بلاول صاحب کو وہ ابنارمل لگ رہی تھی…..
جب وہ خاصی قریب آ گئی تو بلاول صاحب کو کھانس کر اسے اپنی موجودگی کا احساس دلانا پڑا….
ہائے….. آئی ایم نیناں…. اس نے ہاتھ آگے بڑھا دیا، بلاول صاحب کو اسکی بے باکی خاصی ناگوار گزری پر نظر انداز کر گئے.
آپ کا کیا نام ہے… اس نے دوسرا وار کیا.
بلاول صاحب نے سنی ان سنی کر دیا.
آپ کو کس قسم کی لیڈیز پسند ہیں، اب وہ سٹریٹ فارورڈ ہو گئی…
بلاول صاحب نے اسے گھور کے دیکھا جیسے کہتے ہوں، خاتون اپکو اس سے مطلب….
آئی مین… آپ کس طرح کی خاتون سے شادی کرنا چاہیں گے….؟ خاتون نے ہمت نہیں ہاری تھی.
آپ سے کس نے کہہ دیا کہ میں شادی کے لیے کوشاں ہوں…. بلاول صاحب آخر پھٹ ہی پڑے.
مجھے پتہ ہے آپ شادی نہیں کرنا چاہتے…. پر میرا خیال ہے آپ کو شادی کر لینی چاہیے، آخر یہ پہاڑ سی زندگی تنہا کیسے بیتے گی، آپ کو سوچنا چاہیے…. خاتون نے انہیں راضی کرنے کی اپنی سی ایک کوشش کی.
جی سوچ تو رہا ہوں…. پر کچھ اور….. مجھے یہاں سے دفع ہی ہو جانا چاہیے….
خاتون کے چہرے پر آئی مسکراہٹ اڑن چھو ہو گئی….
دیکھیں…. آپ شادی کیوں نہیں کرنا چاہتے، کیا کمی ہے… آپ میں…. اور مجھ میں…. آخری فقرہ انہوں نے ذرا شرما کر کہا.
اور انکا شرمانا بلاول صاحب کو تپا ہی گیا…
جی بالکل بجا فرمایا آپ نے…. آپ میں کوئی کمی نہیں…بلکہ ایکسٹرا ہی ہے سب کچھ…. کہہ کر وہ بینچ سے اٹھ کر مال کے بیرونی دروازے کی طرف چل دیئے ساتھ ہی جیب سے موبائل نکال کر تابش کو کال ملا لی….
کہاں ہو تم… جو شاپنگ رہ گئی پھر کر لینا، مجھے گھر جانا ہے، فوراً پہنچو، میں پارکنگ ایریا میں ہوں…. بلاول صاحب نے ذرا غصے سے کہا.
اور میں کار میں ہوں، آپ آ جائیں…. تابش نے جلدی جلدی کہہ کر کال کاٹ دی.
بلاول صاحب خاموشی سے کار میں آ کر بیٹھ گئے…. سارا راستہ انہوں نے اک لفظ نہ نکالا منہ سے…. پر پیشانی پہ پڑے بل صاف صاف کہہ رہے تھے کہ انکا موڈ خاصا خراب ہے.
تابش تو اسی میں خوش تھا کہ وہ کچھ کہہ نہیں رہے…. پر اسکی خوشی زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی….
گھر پہنچتے ہی وہ تابش پہ برس پڑے….
کہا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ…. تم سے کس نے کہہ دیا کہ میں شادی کرنا چاہتا ہوں، اگر مجھے شادی کرنی ہوتی تو تب کرتا جب تن تنہا اس گھر کی درودیوار سے لپٹ کر روتا تھا، جب میں تنہائی سے گھبرا کر گھر سے نکل جاتا تھا اور سڑک کنارے گاڑی روک کر اس میں سویا کرتا تھا کہ سڑک پہ چلتے پھرتے لوگوں کو دیکھ کر مجھے اطمینان ہوتا تھا کہ میں تنہا نہیں ہوں…. تم تو مجھے چھوڑ کر چلے گئے… بے وفا نکلے پر میں تمہارے ساتھ بے وفائی نہیں کر سکا… باپ تھا ناں… کیسے کرتا بے وفائی…. اگر میں شادی کر لیتا تو آج حالات کچھ اور ہوتے، تم جو میرے لیے جزبات رکھتے ہو، وہ نا ہوتے….. اور شاید تم یہاں میرے سامنے بھی نہ ہوتے….
بلاول صاحب کے ساتھ تابش کی آنکھیں بھی نم ہو رہی تھیں.
تم چاہتے ہو کہ میں شادی کر لوں….. کیا تم میرا ٹیسٹ بھول گئے…. چار سالوں میں تم بہت کچھ بھول گئے ہو…. مجھے ہمیشہ سے گھر گرہستن عورتیں پسند رہی ہیں اور جو تم میرے لیے ڈھونڈ رہے ہو ایسی آزاد عورتیں مجھے کبھی بھی نہیں بھاییں…..
اب تمہیں ذحمت کرنے کی ضرورت نہیں، تمہیں اس گھر کے لیے عورت چاہیے نا جو تمہارا اور میرا خیال رکھے….
تابش نے سر ہلا دیا.
تو ٹھیک ہے…. اب جو کرنا ہے میں حود کروں گا… تم بس اپنے کام سے کام رکھو، آفس ورک پہ دھیان رکھو اوکے…..
بابا سختی سے کہہ کر چلے گئے…
وہ مسکرا دیا کہ واقعی وہ ہو گیا جو وہ کرنا چاہ رہا تھا… فٹ سے ایان کو فون کر کے سب سنا ڈالا…
واہ یار تو نے تو کمال کر دیا… چل شکر ہے تو نے بھی اپنی عقل کا استعمال شروع کر دیا… ایان نے بھونڈا قہقہہ لگایا تو وہ بھی مسکرا دیا….
اگلے کئی دنوں تک دونوں باپ بیٹا فرصت سے اک دوسرے کے پاس نہیں بیٹھ پائے تھے صرف کھانے کی میز پہ ہی ملاقات ہوتی تھی وہ بھی مختصر سی….
وہ دفتر کے کام میں بہت بزی تھا، کچھ نئے کنٹریکٹ ملے تھے تو کام بہت بڑھ گیا تھا.. پر بابا اس کے علاوہ بھی کہیں بزی تھے… اکثر آفس سے غائب ہو جاتے تھے… وہ انہیں غائب پا کر بزریعہ موبائل رابطہ کرتا تو پتہ چلتا کہ وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ ہیں….. اسے حیرت ہوتی اور کبھی تو غصہ بھی آتا کہ آفس میں اتنا کام ہے اور بابا فرینڈ کی کمپنی انجوائے کرنے نکل گئے…. وہ جو لا پرواہ طبیعت کا مالک تھا، اپنی ساری ایکٹیویٹیز چھوڑ کر سب دوستوں سے لاتعلق ہو کر بزنس کو ٹائم دینے لگا ہے اتنا ذمہ دار ہو گیا ہے اور بابا…. جانے انہیں کیا ہوتا جا رہا ہے….
وہ بارہا سوچتا کہ اب موقع ملے گا تو وہ بابا سے بازپرس ضرور کرے گا، پر مسئلہ ہی تو یہ تھا کہ موقع مل ہی نہیں رہا تھا….
یہ ویک اینڈ تھا، ویسے تو وہ گھر پہ ہی تھا پر گھر پر بھی وہ لیپ ٹاپ لئے آفس ورک میں ہی بزی تھا، بابا صبح سے کمرے میں ہی تھے…. وہ آج کچھ وقت بابا کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا، کچھ باتیں کرنی تھیں کچھ گلے شکوے….
پر کام تھا کہ ختم ہی نہیں ہو رہا تھا….
بلاول صاحب اپنے کمرے سے تیار شیار ہو کے باہر کہیں جا رہے تھے، تابش کے کمرے کے سامنے سے گزرے اس پہ نظر پڑی تو رک گئے…. کیا ہو رہا ہے مائی ڈئیر سن…. انہوں نے لاڈ سے پوچھا. بس بابا ارسل صاحب کو ای میل کر رہا ہوں، آئیں آپ کو بھی دکھا دوں میں نے کیا باتیں کی ہیں ان سے، اس نے سکرین سے نظریں ہٹا کر بابا کی طرف دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا،نیوی بلو شلوار قمیض کے اوپر ہم رنگ ویسٹ کوٹ…. آج تو چشمہ بھی نیا لگا رکھا تھا، روپ ہی نرالہ لگ رہا تھا….
بلاول صاحب اسکی حیرانی کو بھانپ گئے، فوراً بولے دوست کی طرف جا رہا ہوں، ہمدانی صاحب کی طرف، انکو تو تم بھی جانتے ہو، انہوں نے بلایا ہے کچھ ضروری بات چیت کرنی ہے…. کوشش کروں گا جلدی آ جاؤں….
تابش کچھ بول نہیں پایا بس سر ہلاتا رہا…
وہ جانے لگے تو پھر رک گئے، اور ہاں بیٹا تمہیں اک خوشخبری دینی تھی، اب ہمیں خود کھانا بنا کر نہیں کھانا پڑے گا، میں نے اس گھر کی دیکھ بھال اور کچن سنبھالنے والی ڈھونڈ لی ہے، تصویر تمہیں واٹس ایپ کر دوں گا، امید ہے تمہیں بھی پسند آئے گی…..
کہہ کر بلاول صاحب آگے بڑھ گئے…
،اوووو تو بابا کی مصروفیات یہ تھیں…. وہ وقت بے وقت غائب ہو جانا، کام میں دل نہ لگنا…. ایسا تو پھر ہوتا ہی ہے عشق میں…..تابش کی آنکھیں جو اب تک پھٹی جا رہی تھیں، مسکرا دیں، اس نے اٹھ کر ناچنا شروع کر دیا….
اور یونہی ناچتے ہوئے ایان کو کال ملا لی….
بابا کی آئے گی برات،…. رنگیلی ہو گی رات…. وہ گلا پھاڑ پھاڑ کر گانے لگا.
ارے یار باؤلا ہو گیا ہے کیا…. ایان نے چیخ کر کہا تاکہ وہ اسکی آواز سن لے اور آپنا راگ بند کر کے بتائے تو سہی ہوا کیا ہے.
ہاں یار سمجھ خوشی سے پاگل ہو رہا ہوں…. بابا نے میرے لیے ممی ڈھونڈ لی ہے…. اس نے بھی خوشی سے تقریباً چیخ کر ہی کہا.
واٹ آ گریٹ نیوز….. یہ تو کمال ہی ہو گیا… تو تو ایسے ہی ہلکان ہو رہا تھا، پہلے ہی بابا کو فری ہینڈ کر دیا ہوتا تو اب تک تیری ممی آ چکی ہوتی….
چل دیر ائید درست ائید، بیسٹ آف لک…. اپ ڈیٹ دیتا رہیں بائے.
فون بیڈ پہ پھینک کر وہ پھر سے ناچنے لگا.
_______
دل ذرا ٹھہرا تو وہ کچن میں چلا آیا، سوچا اچھا سا کھانا بنایا جائے، آخر بابا نے بھی تو اسے اتنی بڑی خوشخبری سنائی تھی، اب اس خوشی کو سیریبریٹ بھی تو کرنا تھا نا….
بہت سوچا کہ کیا بنایا جائے.. کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا، ابھی وہ اپنے بابا کی طرح کوکنگ میں ایکسپرٹ نہیں ہوا تھا… سو فیصلہ کرنے میں دشواری ہو رہی تھی…. بہت سوچنے کے بعد فیصلہ یہی ہوا کہ رات کا کھانا تو اب بابا کم ہی کھاتے ہیں، اب جبکہ وہ ہمدانی انکل کی طرف گئے ہیں تو پکا ہے کہ رات نہیں کھا پائیں گے…. تو بہتر یہی ہے کہ اچھی سی چائے کا انتظام کر لیا جائے…
کیک بنانا وہ ہوسٹل لائف میں اپنے دوستوں سے سیکھ چکا تھا، اور کافی بار بنا بھی چکا تھا سو جلدی جلدی فریج سے انڈے نکالے، دودھ، میدہ، آئل، چینی لے کر اپنے کام میں جت گیا…. وہ سٹیپ یاد کر کر کے ہاتھ چلا رہا تھا،کیک بنائے بھی کافی وقت بیت چکا تھا. آخر کافی محنت کے بعد اسکا میٹیریل تیار ہو گیا تو اسے اون میں لگا دیا.
میکرو نی وہ بابا سے بنانا سیکھ چکا تھا سو اب سبزیاں کاٹنے پہ لگ گیا….. دو گھنٹے کی مشقت کے بعد اسکی میکرونی تیار ہو پائی تھیں. اس دوران کیک بھی تیار ہو چکا تھا…. سوچا کچھ اور بھی کر لے پر ہمت جواب دے گئی تھی… بس کافی ہے…. بابا سے تو اتنا بھی نہیں کھایا جانا، اس نے خود کو تسلی دی.
شام بابا کے آنے سے پہلے اس نے میز پہ برتن لگا دئے، انکے آتے ہی چائے کا پانی چڑھا دیا، تھوڑی دیر میں اس نے سب کچھ میز پہ لا سجایا.
گڈ مائی سن، چائے کی بہت طلب ہو رہی تھی…. چائے کی خوشبو بلاول صاحب کو کمرے سے لاؤنچ میں کھینچ لائی…
میز پہ باقی چیزیں دیکھ کر انہیں حیرت ہوئی…
یہ سب تم نے بنایا ہے.
جی بابا…. اس نے کسی بچے کی مانند ہوتے ہوئے بتایا.
گڈ جاب…. پر سوری بیٹا مجھ سے کھایا نہیں جائے گا وہ ایسا ہے کہ ہمدانی نے زبردستی کچھ زیادہ ہی کھلا دیا مجھے….
انہوں نے معذرت کرنی چاہی.
چکھنا تو پڑے گا آپ کو…. اور کچھ نہیں تو کیک کے ساتھ نا انصافی برداشت نہیں ہو گی…. اسکی بات پہ بلاول صاحب مسکرا دئیے اور اسکے ہاتھ سے اپنی پلیٹ لے لی.
کیک واقعی بہت مزے کا ہے سو فٹ،ملکی، چاکلیٹی.. پرفیکٹ…. جیسا مجھے پسند ہے… انہوں نے دل کھول کر تعریف کی.
وہ خاتون کون ہیں، کیسی ہیں آپ کو کہاں ملی… آپ نے کچھ بتایا نہیں…. تابش نے بابا کا موڈ اچھا دیکھا تو پوچھ لیا… لفظ خاتون اس لیے استعمال کیا کہ بابا کے سامنے ممی کہتے ہوئے کچھ جھجھک سی محسوس ہو رہی تھی.
اوو سوری میں تمہیں تصویر سینڈ کرنا بھول گیا… ابھی روم میں جا کر سینڈ کرتا ہوں….
اور رہی بات کہ وہ مجھے کہاں ملی…. ہمممم
اسے پہلی بار ہمدانی صاحب کے گھر پر دیکھا، ہمدانی کی دور پرے کی رشتے دار ہے…. بیچاری کافی دکھی اور حالات کی ماری ہے، ایک بم بلاسٹ میں والدین کی موت واقع ہوگئی تھی…. بھائی بھابھی کے پاس رہ رہی تھی… بھابھی اس سے نالاں رہتی تھی، ایک دن بھائی کی غیر موجودگی میں اسے آدھی رات کو گھر سے نکال باہر کیا، وہ بیچاری بہت روئی کہ کہاں جائے گی اس پہ یہ ظلم نہ کیا جائے پر بھابھی بھی خاصی ظالم اور پتھر دل عورت تھی… اسے رتی بھر ترس نہ آیا…
وہ بیچاری گھر سے چل پڑی ، خوف سے کانپتی رہی…. بڑی مشکل اس نے ہمدانی سے رابطہ کیا اور یہ جا کر اسے لے آیا.
واپس گھر جانے کے بابت پوچھا تو اس نے رو کر ہاتھ جوڑ دئیے کہ گھر واپس گئی تو بھائی بھابھی جان سے مار ڈالیں گے، بھابھی نے بھائی کو جانے کیا کیا کہہ رکھا ہو گا اسکی غیر موجودگی کے بارے میں…..
ہمدانی اسکے لئے پریشان تھا، اسکی شادی کرنا چاہتا تھا، میں نے دیکھی تو بھلی لگی بلکہ پہلی نظر میں ہی لگا کہ وہ بنی ہی ہمارے گھر کے لیے ہے…. بہت سلجھی، ٹھہری طبیعت کی مالک…. مجھے ہمیشہ سے ہی ایسی عورتیں پسند رہی ہیں….اسکی بڑی بڑی آنکھیں ہیں بالکل تمہاری ماں جیسی بس فرق یہ ہے کہ تمہاری ماں کی آنکھیں ہر وقت مسکراتی تھیں پر اسکی آنکھوں میں درد کا بسیرا ہے، پر آئی ایم شیور کہ اس گھر میں آ کر اسکے سارے دکھ درد دور ہو جائیں گے، اسکی آنکھیں بھی مسکرانا سیکھ جائیں گی…. بابا کی آنکھیں اسکے زکر پہ چمک رہی تھیں اور یہ دیکھ کر اسکا دل جھوم جھوم اٹھا تھا….
بابا میں چاہتا ہوں وہ جلد از جلد ہمارے گھر آ جائیں… تابش نے بے صبری سے کہا.
میں بھی یہی چاہتا ہوں….. بلاول صاحب نے بے ساختہ کہا.
اوکے میرا خیال ہے اگلے مہینے کی کوئی تاریخ رکھ لیتے ہیں، اتنا وقت تو لگ ہی جائے گا تیاری کرنے میں…
اور میں آپ کو بتا دوں، میں اور آپ ایک جیسی ڈریسنگ کریں گے، بالکل سیم سیم….. آفٹر آل میں شہہ بالا بنوں گا…. اس نے بچوں کی طرح خوش ہوتے ہوئے پلان بنایا…
اور بلاول صاحب اپنے بیٹے کی خوشی دیکھ کر دل ہی دل میں اسکی نظر اتارنے لگے….
کمرے میں آ کر اس نے موبائل چیک کیا تو کوئی میسج نہیں آیا ہوا تھا وہ بے صبری سے انتظار کرنے لگا، تھوڑی دیر بعد میسج ٹون پہ اس نے لپک کر فون اٹھا لیا، میسج کھولا تو اک لمحے میں ساری خوشی اڑن چھو ہو گئی، دل میں اک کانٹا سا چبھا…. کانوں میں شاں شاں سی ہونے لگی… ہر شے گھومتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی….
یہ کیا….. یہ تو اک بیس اکیس سال کی لڑکی کی تصویر تھی…بابا کی زبانی کہانی سنی تو وہ یہی سمجھا کہ حالات کی ستائی کسی ادھیڑ عمر عورت کو بابا خوشیاں دینے کا سوچ رہے ہیں، وہ تو اپنے بابا کو مہان سمجھ رہا تھا پر اب اسے اپنے بابا دنیا کے خودغرض ترین انسان لگے….اک لڑکی کو مجبور دیکھا تو فوراً جال پھینک دیا…. اگر وہ اسکی مدد ہی کرنا چاہتے تھے تو بیٹی بھی تو بنا سکتے تھے… یوں کسی کی زندگی داؤ پہ لگانا کہاں کی انسانیت تھی اسکے بابا کبھی ایسے تو نہ تھے…. چار سالوں میں وہ اتنا بدل چکے ہیں اسے اندازہ نہیں ہوا تھا…. اب حقیقت سے پردہ اٹھا تو وہ بہت ہرٹ ہوا تھا.
اسکا مطلب بابا کو اس گھر کے لیے یا اپنے بیٹے کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے عورت چاہیے تھی….پھر بابا کتنے چالباز نکلے کہ ایسے حالات پیدا کیے اور خود کو ایسے پیش کیا کہ بیٹا خود ان سے شادی کر لینے کو کہے…. اگر وہ خود سے ایسی لڑکی کو بیاہ کر لے آتے تو بیٹے کی نظروں میں گر جاتے، مجرم گردانے جاتے…. اب سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی بچ گئی…. انکے دل کی مراد بھی پوری ہو گئی اور کوئی الزام بھی نہیں آیا…. وہ جو بابا سے ٹوٹ کر محبت کرتا تھا، اس لمحے ساری محبت نفرت میں بدلتی دکھائی دی …
اسے یہ اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ ایک بیٹے کے دل میں باپ کے لیے نفرت پیدا ہو پر باپ کی حرکت ہی کچھ ایسی کی تھی کہ بیٹا مجبور ہو گیا تھا….
ساری رات وہ جاگتا رہا کڑھتا رہا، مری ہوئی ماں سے گلے کرتا رہا کہ اسے جانے کی اتنی بھی کیا جلدی تھی، اگر آج وہ ہوتی تو اک معصوم لڑکی کی زندگی تباہ نہ ہوتی…
صبح وہ بابا کے اٹھنے سے پہلے ہی گھر سے نکل آیا کہ انکا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا…. پہلے ایان کی طرف گیا، وہ اسکی سوجھی ہوئی لال آنکھیں دیکھ کر پریشان ہو گیا…. یار تم اس وقت…. ہوا کیا ہے انکل تو ٹھیک ہیں نا…. اس نے گھبرا کر پوچھا.
ہاں بالکل ٹھیک ہیں… انہیں کیا ہونا ہے….. تابش لفظ چبا کر بولا.
ایان نے اسے کمرے میں بیٹھایا، پانی پلایا…. اب بتا کیا ہوا ہے، تابش پانی پی چکا تو اسنے پوچھا.
تابش کافی دیر خود پہ ضبط کرتا رہا آخر ہار گیا، دوست کے گلے لگ کر دھاڑیں مار مار کر رویا…. جب خوب رو چکا تو جیب سے موبائل نکال کر لڑکی کی تصویر نکال کر آیان کے سامنے رکھ دیا…. یہ کون بہن جی ہیں… آیان نے اک نظر تصویر پہ ڈال کر پوچھا.
بہن جی نہیں…. ماں جی کہہ….. تابش تپ ہی گیا
یہ ماں ڈھونڈی ہے میرے باپ نے میرے لیے…. اتنی بڑی دنیا میں میرے ٹھرکی باپ کو یہی معصوم ملی تھی..ماما کیوں چلی گئیں انہیں نہیں جانا چاہیے تھا… .کہہ کر وہ پھر سے چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپا کر رونے لگا . آیان نے اسکے لہجہ میں باپ کے لیے انتہا درجہ کی نفرت محسوس کی… تو کانپ ہی گیا، اسے دوست کے آنسو بہت تکلیف دے رہے تھے پر اسکا لہجے اور باپ کے لیے استعمال کیا گیا لفظ زیادہ اذیت میں مبتلا کر گیا تھا….
دیکھ میرے یار میری جان یوں بچوں کی طرح رونے سے کیا ہو گا…. چل اٹھ فریش ہو جا، میں تیرے لئے ناشتے کا بندوبست کرتا ہوں،پھر دونوں مل کر اس مسئلے کا حل ڈھونڈتے ہیں….
ایان کے کہنے پہ تابش چپ چاپ واش روم کی طرف بڑھ گیا. اور آیان باہر نکل گیا.
