Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shadi Mubarak (Episode 05)

Shadi Mubarak by Mishi Sheikh

دیکھ میرے دوست ہم ہیں تو ہم عمر پر تو نے گھر اور ہوسٹل کے علاوہ کچھ دیکھا ہی نہیں…. میں نے اک عمر گزاری ہے ماں باپ کے بغیر، تنہا اس ظالم دنیا کے دھکے کھاتے ہوئے، بہت روپ دیکھے ہیں… کئی رنگ پہچانے ہیں…

تو سوچ رہا ہے کہ انکل اس لڑکی سے زبردستی کر رہے ہیں، اسکی مجبوری کا فائدہ اٹھا رہے ہیں تو تو غلط ہے، کیا ہمدانی انکل پاگل ہیں جو بغیر سوچے سمجھے اور اس لڑکی کی مرضی کے بغیر بیاہ رہے ہیں، آجکل کی لڑکیاں نوجوان، لاپرواہ، کھلنڈر لڑکوں سے زیادہ بڑی عمر کے مردوں کو پسند کرتی ہیں، تجربہ کار ہوتے، اور بیوی کو کیسے رکھتے ہیں، اسکی کیا کیا ڈیمانڈ ہوتی ہیں یہ مرد حضرات کہے بنا ہی جان لیتے ہیں، مجھ اور تجھ جیسے لڑکے کہاں سمجھ سکتے ہیں یہ سب…. اور ہم سے تو جی حضوری بھی نہیں ہونی جو یہ مرد بخوبی کر سکتے ہیں… ناز نخرے اٹھانا کوئی آسان بات ہے….

تابش حیرت سے اسکی باتیں سن رہا تھا، اس نہج پہ اس نے کبھی سوچا ہی نہیں….

ایک بات اور اگر تیرا دل مطمئن نہیں ہوتا تو تو خود پوچھ لے اس لڑکی سے کہ وہ اس شادی سے خوش ہے کہ نہیں….. ایان نے سمپل سا حل دے دیا.

میں خود پوچھ لوں…. پر کیسے؟ اس نے ناسمجھتے ہوئے پوچھا.

یہ بھی سمجھا دوں گا، چل جلدی سے ناشتہ کر…. مجھے آفس سے دیر ہو رہی ہے…. تو نے بھی تو جانا ہو گا آفس… آیان کہہ کر چینج کرنے دوسرے کمرے میں چلا گیا.

وہ آفس پہنچا ہی تھا کہ بابا کا فون آ گیا، سکرین پہ بابا کا نام جگمگاتا دیکھ کر اس نے اک لمبی سانس خارج کی اور کال اٹینڈ کر لی…. ایان نے اسکی برین واشنگ نہ کی ہوتی تو وہ کبھی بھی بات نہ کرتا.

کہاں ہو مائی ڈئیر سن… میں ناشتہ ٹیبل پر لگا کر تمہارے انتظار میں بیٹھا ہوا ہوں، تمہاری راہ تک رہا ہوں پر تم ہو کہ گھر کا راستہ ہی بھول بیٹھے ہو شاید….

سوری بابا میں آپ کو بتا کر نہیں آیا ، آفس ہوں میں تو…. آپ ناشتہ کریں، پھر دل کرے تو آفس آ جائیں نہیں تو آج ریسٹ کر لیں میں سب دیکھ لوں گا…

اوکے مائی سن…. فون کاٹ دیا گیا.

بابا آفس نہیں آئے….

وہ شام میں گھر گیا، بابا نے اسکے لئے قورمہ بنا رکھا تھا، دونوں نے ساتھ میں ڈنر کیا، ہلکی پھلکی باتیں ہوتی رہیں، بابا نے آفس کے کچھ میٹر بھی ڈسکس کئے…. وہ مختصر جواب دیتا رہا، ذہن ایان کی باتوں میں الجھا ہوا تھا، وہ معصوم چہرہ اسے بار بار ڈسٹرب کر رہا تھا…

بابا مجھے اس لڑکی سے ملنا ہے…. پھر کب لے کر جا رہے آپ مجھے ہمدانی انکل کی طرف…. اس نے اچانک سے پوچھ لیا…

اوووو آئی سی…. تو تمہارا ذہن اس طرف ہے تبھی میں کہوں کہ تم میری باتوں کے الٹے سیدھے جواب کیوں دے رہے…

تم کب جانا چاہتے ہو، بابا نے الٹا اسی سے سوال کر ڈالا.

صبح… میرا مطلب ہے کل ہی چلتے ہیں… اس نے بے ساختہ کہہ دیا.

ٹھیک ہے، میں ہمدانی کو بتا دوں گا. ہم کل ہی چلیں گے… بلاول صاحب نے مسکرا کر کہا.

تابش کوشش کے باوجود مسکرا نہ سکا.

صبح صبح ہمدانی صاحب کا ہی فون آ گیا اور ڈنر کی دعوت دی گئی….

لو جی وہ خود ہی ہو گیا جو تم چاہتے تھے، چائے کا سپ لیتے ہوئے بلاول صاحب نے تابش کو بتایا…. اب آفس کا کام ذرا جلدی نمٹا لینا، میں چاہتا ہوں کچھ گپ شپ کا ٹائم بھی ملنا چاہیے، اب یہ تو اچھا نہیں لگتا کہ ہم عین کھانے کے وقت وہاں پہنچیں، بھئ ہم کھانا کھانے نہیں، ساتھ میں کچھ وقت گزارنے جا رہے…. تھم دکھاتے ہوئے بیسٹ آف لک کہہ کر بلاول صاحب اپنے کمرے میں تیار ہونے چلے گئے.

تابش کتنی ہی دیر وہیں بیٹھا رہا…. دل کی عجیب حالت ہو رہی تھی. اگر وہ سچ نہ ہوا جو کچھ ایان نے کہا تو…. اسے جھرجھری سے آ گئی….. یا اللہ ایسا ہی ہو جیسا ایان نے کہا، آمین تابش نے آنکھیں موند کر دل سے دعا کی.

شام چھ بجے وہ ہمدانی صاحب کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے…. بلاول صاحب اور ہمدانی صاحب باتوں میں مصروف، بات بے بات قہقہے لگ رہے تھے،یہ اس نے آج جانا تھا کہ بابا ہمدانی انکل کی کمپنی بہت انجوائے کرتے ہیں، بابا کی نظروں بار بار دروازے کی طرف اٹھ رہی تھیں ان میں کچھ بے قراری بھی تھی…. وہ ان نگاہوں کی طلب سمجھ رہا تھا، اسے بابا کی یہ بے قراری اک آنکھ نہیں بھا رہی تھی. اسے اپنے اندر بغاوت کا الاؤ جلتا بجھتا محسوس ہو رہا تھا، وہ اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ میں الجھائے بیٹھا تھا…. دل کی دھڑکنیں خامخواہ ہی بے ترتیب ہو رہیں تھیں… وہ آنے والے وقت کے متعلق سوچ رہا تھا جانے اسے بات کرنے کا موقع ملے گا بھی کہ نہیں… اگر مل گیا تو جانے اس کا جواب کیا ہو گا….

کیوں بیٹا جی آپ کیوں خاموش بیٹھے ہیں…کن سوچوں میں گم ہیں جی… . ہمدانی انکل نے پوچھا تو اسکی سوچوں کا سلسلہ ٹوٹا….

نہیں انکل کچھ نہیں، بس آپ لوگوں کی ہی باتیں انجوائے کر رہا اس نے بات بنائی.

کیوں بلاول یہ واقعی کم گو ہے یا یہاں آ کر پوز کر رہا ہے، انکل نے بابا سے شرارتا پوچھا.

نہیں میرا بیٹا واقعی کم گو ہے….. فضول بولنے کی عادت نہیں اسے….. ہمیشہ اچھا سوچتا ہے اور اچھا بولتا ہے…. بابا نے اسے محبت پاش نگاہوں سے دیکھ کر کہا.

اسے اس لمحے شرمندگی سی ہونے لگی، بابا اسکے بارے میں کیا کہہ رہے تھے اور وہ بابا کے لیے دل میں کیسے جذبات پال رہا تھا…..

السلام علیکم…

مسز ہمدانی سلام کرتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئیں….

وعلیکم السلام بابا نے خوش دلی سے جواب دیا.

بھئ بیگم مہمان خصوصی اتنی دیر سے بیٹھے ہیں اور آپ نے پانی کا بھی نہیں پوچھا… ہمدانی صاحب نے مصنوعی خفگی دکھاتے ہوئے کہا تو وہ مسکرا دیں…

مسکان لا رہی ہے….. انہوں نے مختصر جواب دیا.

مسکان…. تابش نے زیر لب کہا. یہ نام اسے ہمیشہ سے ہی پسند تھا.

اتنے میں اک سادہ سی لڑکی ہاتھ میں ٹرے تھامے کمرے میں داخل ہوئی، ہولے سے سلام کیا، اور باری باری سب کو جوس پیش کرنے لگی…. سب کی نگاہیں اسی پہ تھی پر بابا کی آنکھیں اس پہ واری صدقے جا رہی تھیں، لبوں پر دلفریب مسکراہٹ آن ٹھہری تھی….پر اسکی نگاہیں مسلسل جھکی ہوئی تھیں… تابش کو جوس پیش کرتے ہوئے اس کی نگاہیں اک لمحے کو اٹھی، اور پھر جھک گئیں، بس وہ اک لمحہ ہی تابش کو مسحور کر گیا…

بیٹھ جاؤ، اور آپ بھی لے لو جوس مسکان…. مسز ہمدانی نے پیار سے مسکان سے کہا…. تو وہ بھی گلاس لیے اک طرف بیٹھ گئی.

تابش بظاہر جوس پینے میں مصروف تھا پر کن انکھیوں سے مسکان کا جائزہ بھی لے رہا تھا.

اس نے بظاہر سادہ سا سوٹ پہن رکھا تھا، ان میں فیشن نام کی کوئی چیز نہ تھی پر بلو اینڈ اورنج کلر کے کنٹراس کے ساتھ یہ سادہ سا سوٹ بھی اس پہ بہت جچ رہا تھا نکھری نکھری سی لگ رہی تھی، سلیقے سے دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا،رنگ اسکا بہت سفید نہ تھا پر کھلا کھلا سا تھا…. بال خاصے لمبے جو کہ اسکے دوپٹے کے نیچے سے نکل کر تابش کو اپنی طرف متوجہ کر رہے تھے….

آنکھیں صاف شفاف بڑی بڑی… بابا ٹھیک کہہ رہے تھے ان میں درد کا بسیرا تھا…اور اس درد نے تابش کو جکڑ لیا تھا…

نام تو مسکان ہے پر چہرے پہ مسکان نام کی کوئی چیز نہیں…. اس نے جوس کا آخری سپ لیتے ہوئے سوچا.

مسکان نے اٹھ کر سب گلاس ٹرے میں رکھے،

رضیہ کے ساتھ کھانا میز پہ لگا دو…. مسز ہمدانی نے مسکان سے کہا.

جی اچھا… کہہ کر وہ باہر نکل گئی… یکدم ایسا لگا کہ کمرہ سونا ہو گیا ہے….. تابش کو اپنے دل کی حالت بہت عجیب لگی…. وہ اپنا دھیان بٹانے کی کوشش کرنے لگا.

تھوڑی دیر میں کھانا لگ جانے کا پیغام آ گیا….

سب اٹھ کر ڈائننگ روم کی طرف بڑھ گئے…. کمرے میں تازہ گلابوں کی خوشبو ماحول کو مسحور کن بنا رہی تھی… اسکی طبیعت اک دم فریش ہو گئی.

واہ یار آج تو کھانا کھانے کا مزہ بھی آئے گا، یہ خوشبو….. بلاول صاحب نے سانس کھینچ کر خوشبو کا مزہ لے کر کہا.

بھئی مجھے اور میری بیگم کو یہ شوق کہاں…. یہ مسکان کی کارستانی ہے… وہی ایسے شوق فرماتی ہے… ہمدانی صاحب نے اک ادا سے کہا…

بھئ خوب جمے گی….. جب مل بیٹھیں گے دو دیوانے…. بلاول صاحب نے شاعرانہ انداز میں کہا تو تابش کے تو جیسے تن بدن میں آگ سی لگ گئی… اسکا دل چاہا کہ یا خود منظر سے غائب ہو جائے یا ان سب کو کر دے…..

کھانا جو کہ بے حد لذیذ تھا یکدم بدمزہ سا ہو گیا.

کچھ اور چاہئے…. مسکان نے اندر آ کر پوچھا.

نہیں…. سب کچھ ہے…. بیٹا جی آپ بھی آ جاؤ ناں… ہمارے ساتھ کھانا کھاؤ ناں… ہمدانی انکل نے کہا.

نہیں… مجھے بھوک نہیں… وہ شاید یہاں بیٹھنے سے گھبرا رہی تھی….

تابش نے اک نظر اپنے بابا پہ ڈالی…. جو کہ مسکرا مسکرا کر کھانا کھا رہے تھے…. ہمدانی انکل اسے بیٹا کہہ رہے ہیں اور اک میرے بابا… شرم نہیں آئے گی اسکے ساتھ شادی کرتے…. اب تو مجھے شرمندگی ہونے لگی ہے…. اس نے تاسف سے سوچا.

سب کھانا کھا چکے تھے… مطلب تھوڑی دیر میں واپسی…. اور جو میں کرنے آیا ہوں وہ تو ہو ہی نہیں سکا، موقع ہی نہیں ملا….. اففففف اب کیا کروں…تابش پریشان ہونے لگا.

اسکا فون نمبر مانگ لیتا ہوں…. تابش نے سوچا.

نہیں اچھا نہیں لگے گا…. جانے کیا سوچے میرے بارے میں… پھر خود ہی اپنے خیال کی تردید کر دی.

اچانک سے کسی موبائل کی بیل گونجنے لگی… ہمدانی انکل نے جیب سے موبائل نکالا اور کان سے لگا کر باہر نکل گئے… میں ذرا چائے کا کہہ کر آئی، مسز ہمدانی بھی اٹھ کر چلی گئیں…. بابا ڈائننگ روم کے ملحقہ واش روم کی طرف بڑھ گئے…. کھانا کھانے کے بعد اچھی طرح سے ہاتھ دھونا انکی پرانی عادت تھی، وہ کہتے کہ مجھے ٹشو سے ہاتھ صاف کر کے تسلی نہیں ہوتی…. کمرہ خالی دیکھا تو دل نے کچھ مانگنا چاہا ہی تھا کہ وہ ٹرے لئے اندر آ رہی تھی….. اس نے اک گہری سانس خارج کی

_______

کبھی کبھی اللہ تعالیٰ کتنے قریب ہو کے سنتا ہے…. اسکے لبوں پہ مسکراہٹ پھیل گئی…

مسکان نے اک نگاہ چارو طرف ڈالی شاید اسے یوں کمرہ خالی ہونے کی امید نہ تھی پھر اک نظر تابش پر ڈال کر نظر جھکا گئی، وہ وہیں کھڑی رہی شاید تذبذب کا شکار تھی کہ کھڑی رہے یا لوٹ جائے…

آئیے آئیے…. رک کیوں گئیں…. تابش نے کہہ ڈالا کہ کہیں وہ لوٹ ہی نہ جائے…..

وہ آگے بڑھ آئی اور ٹیبل سے برتن سمیٹنے لگی,

آپ اس رشتے سے خوش ہیں، یہ سب آپکی مرضی سے ہو رہا ہے کیا…. تابش کے سوال پہ اسکے ہاتھ رک گئے…

اس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا…. اسکی آنکھوں میں تذبذب تھا، وہ جو پہلے سے ہی کنفیوز تھی، مذید الجھ گئی تھی….. تابش مسلسل اسے تکے جا رہا تھا.

جلد ہی خود کو سنبھال کر بولی…. جانے آپ کیا سننا چاہتے ہیں…. پر میں وہی کہوں گی جو سچ ہے کہ مجھے جھوٹ کی عادت نہیں…. نہ بولنا پسند کرتی ہوں نہ سننا…

جو میں کہنے جا رہی شاید سن کر آپ کو دکھ ہو پر میں مجبور ہوں، آپ کو خوش کرنے کے لیے لگی لپٹی نہیں کر سکتی ….. میں ایسا کچھ بھی فیل نہیں کر پا رہی جیسا کہ اس موقع پہ باقی لڑکیاں محسوس کرتی ہیں…. شاید اسکی وجہ میرے حالات ہیں…. اس بات کا دکھ مجھے بھی ہے اپنے اندر کی پژمردگی کیوجہ سے میں اپنے ان خوبصورت لمحات کو انجوائے نہیں کر پا رہی….میری آنکھیں وہ سپنے نہیں دیکھ پا رہیں جو باقی سب لڑکیاں دیکھتی ہیں….پر میں اس بات کے لیے اپنے رب کی شکر گزار ہوں کہ مجھے اک سائبان ملنے جا رہا ہے ، مجھے لوگوں کی زمین پہ زندگی نہیں گزارنی پڑے گی…..

بلاول صاحب کو واش روم سے نکلتے دیکھ کر اسکے ہاتھ میکانکی انداز میں برتن سمیٹنے لگے…. تابش بھی سیدھا ہو بیٹھا….

بلاول صاحب کے لبوں پر پھر سے مسکان ناچنے لگی…. اور اب تابش کا صبر جواب دینے لگا….

گھر کب تک چلنا ہے بابا…. اس نے روکھے لہجے میں پوچھا.

چلتے ہیں… چلتے ہیں…. صبر رکھو میری جان… بابا نے چہکتے ہوئے کہا.

مسکان برتن لے کر جا چکی تھی، وہ دوبارہ نہیں آئی، باقی کا کام رضیہ نے کیا،مسٹر اور مسز ہمدانی بھی واپس آ چکے تھے، چائے بھی رضیہ نے ہی بنائی.

تابش بار بار دروازے کے پار دیکھتا رہا، چائے پی جا چکی تو بابا اٹھ کھڑے ہوئے، باہر گیراج تک آتے آتے اس نے کئی بار مڑ کر دیکھا، دل نے جاتے جاتے اک بار مسکان کو دیکھنے کی تمنا کی پر ضروری نہیں کہ ہر دعا، ہر تمنا پوری ہو جائے…. وہ نظر نہیں آئی.

گھر آ کر تابش سیدھا اپنے کمرے میں چلا آیا، دل کی حالت بہت نازک لگ رہی تھی….رونے کو من کر رہا تھا پر کوئی کندھا دستیاب نہ تھا…. وہ کہتے ہیں نا کہ اگر رونے کے لیے کندھا نہ ملے تو اپنے رب کے حضور سجدے میں رو لیا کرو، اس نے بھی ایسا ہی کیا، وضو کر کے مصلیٰ بچھا لیا…. پہلا سجدہ کرنے کو جھکا تو آنکھیں برسنے لگیں…. دل کی کیفیت کی اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی…. روتے روتے نماز مکمل کی، دعا کو ہاتھ اٹھائے تو دو خوبصورت آنکھیں سامنے آن ٹھہری….ان آنکھوں کا درد اسے اپنے سینے میں اٹھتا محسوس ہوا… تو گھبرا کر بنا دعا کے ہی ہاتھ گرا دیئے….. یہ سب کیا ہو رہا ہے میرے اللہ…. مجھے چین دے دے، میرے دل کی بے قراری مٹا دے…. پلیز اللہ جی….. اس نے اپنا چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپا کر رونا شروع کر دیا….

صبح آنکھ کھلی تو وہ زمین پہ پڑا تھا، کچھ دیر تک تو سمجھ نہیں آیا کہ وہ یہاں کیسے….؟سر میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں بلکہ سارا بدن ہی ٹوٹا ٹوٹا سا محسوس ہو رہا تھا…. پھر رات کے مناظر یاد آنے لگے اوو وہ شاید روتا روتا یہیں سو گیا….

پھر مسکان یاد آ گئی…..تو اسے پھر سے بابا پر غصہ آنے لگا…

کاش میں تمہارے لئے کچھ کر سکتا…. اس نے دل ہی دل میں مسکان سے کہا.

بڑی مشکل خود کو فرش سے اٹھایا…. واش روم گھس گیا… نہا کر طبیعت کچھ سنبھلی تو کچن کی طرف چلا آیا…. بابا آملیٹ پلٹا رہے تھے… وہ بنا سلام دعا کے ہی میز پہ بیٹھ گیا… السلام علیکم….. بابا نے اسکے سامنے ناشتے کی ٹرے رکھتے ہوئے کہا…..

پر وہ کوشش کے باوجود سلام کا جواب بھی نہ دے پایا…. بابا نے اگنور کر دیا اور اپنا ناشتہ بھی لے کر اسکے سامنے بیٹھ گئے، بھئ اب تو میں بھی تھکنے لگا ہوں… یہ زنانہ کام اب مجھ سے نہیں ہوتے… دل چاہتا ہے اک پیاری سی آواز صبح نیند سے جگائے، جب فریش ہو کر باہر آؤں تو مزے دار خوشبو دار ناشتہ ٹیبل پہ ملے…آفس کی تیاری میں کوئی ہماری ہلپ کروائے اور پھر جب ہم دونوں جانے لگیں تو کوئی باہر گیٹ تک الوداع کرنے آئے…. بابا تصور کی آنکھ سے یہ سب دیکھتے ہوئے مسکرا بھی رہے تھے….

بابا نے یہ سب مسکان کے ملنے سے پہلے کہا ہوتا تو حالات کس قدر مختلف ہوتے… وہ ان باتوں کو انجوائے کرتا، ہوٹنگ کرتا اور بابا کے ساتھ چھیڑخانی میں کوئی کسر نہ رکھتا…. پر اب اسے یہ سب بہت برا لگ رہا تھا….

اتنی بے صبری بھی کیسی….. آنے ہی والی ہیں مس مسکان… اس نے طنز کا تیر چلایا.

ہاں بات تو تمہاری ٹھیک ہے…. اور جناب آپ نے بتایا نہیں کہ کیسی لگی آپ کو ہماری چوائس…. بابا نے اٹھلا کر پوچھا.

زبردست…. پرفیکٹ….. میں تو ایسے ہی خوار ہوتا رہا…. ایکچولی مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ اپکا ٹیسٹ بدلہ ہی نہیں، سنا تھا عمر کے ساتھ ساتھ بہت کچھ بدل جاتا پر آفرین ہے آپ پہ کہ آج بھی وہی سب پسند کرتے ہیں اپنے لیے جو کہ جوانی میں پسند کیا جاتا ہے…اس نے لفظ چبا چبا کر ادا کئے….

بلاول صاحب پہ اسکی بات کا رتی اثر نہ ہوا…. انہوں نے چائے کا سپ لیتے ہوئے کہا…. یار میں سوچ رہا ہوں کہ ہمدانی سے کہوں کہ اگلے مہینے کے پہلے جمعہ کو ہماری امانت ہمارے حوالے کر دے….. اس سے زیادہ صبر نہیں ہو سکتا…. بلاول صاحب کے کہنے پہ تابش کو کھانسی سی آ گئی… بلاول صاحب نے جلدی سے جگ سے پانی ڈال کر دیا….

پر اتنے شارٹ ٹائم میں شادی کی تیاری کیسے ہو گی، تابش نے فکر مندی سے کہا.

یار آجکل تیاری کرنے میں بھلا کتنا ٹائم لگتا ہے سب کچھ تو ریڈی میڈ مل جاتا ہے…. جیب میں پیسہ ہو تو دو دن میں تیاری ہو جاتی ہے….

میں نے سوچا ہے کہ برات میں تمہارے اور میرے قریبی دوست ہوں گے بس….. زیادہ لوگوں کو اکٹھا نہیں کرنا….. پر ولیمے پہ میں نے آدھا شہر انوائیٹ کر لینا ہے، بہت دھوم دھام سے کرنا ہے ولیمہ….

یہ سننا تھا کہ تابش کو پھر سے کھانسی چھڑ گئی اور اس بار تو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی،پانی بھی پیا پر افاقہ نہ ہوا، بابا اٹھ کر اسکی پشت کو سہلانے لگے….

ہاتھ اسکی پیشانی پہ پڑا تو گھبرا گئے، تمہیں تو بخار ہے….

نہیں کچھ نہیں ہے، بس رات صحیح سے نیند پوری نہیں ہوئی شاید اس وجہ سے….. تابش نے بات ادھوری چھوڑ دی. اچانک کھانسی ہوا ہو گئی.

بابا نے کیبنٹ سے ٹیبلٹ نکال کر اسکے ہاتھ پہ رکھ دی، لو جلدی سے کھاؤ…. اور ریسٹ کرو، آج تم آفس نہیں جاؤ گے سمجھے…..

بابا نے مصنوعی سختی سے کہا، اسکی پیشانی پہ بوسہ دے کر باہر نکل گئے….

تابش کافی دیر تک ہتھیلی پہ رکھی دوا کو دیکھتا رہا…. بوسے کا لمس ابھی بھی اپنی پیشانی پہ محسوس کر رہا تھا….. یکدم اٹھا، دوا سامنے دیوار پہ دے ماری اور پیشانی کو بری طرح رگڑ ڈالا…. اس لمس سے اسے وحشت سی ہونے لگی تھی… ناشتہ بھی ادھورا چھوڑ کر اپنے کمرے میں چلا گیا… اور اندر سے لاک کر لیا کہ اب وہ بابا سے کوئی بھی بات نہیں کرنا چاہتا تھا.

بارہ بجے کے قریب اسکی آنکھ کھلی…. وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا…. اوو آفس کے لیے لیٹ ہو گیا… وہ واش روم کی طرف بھاگا… دروازے کے قریب پہنچ کر اسکی یادداشت لوٹ آئی، صبح کا سارا منظر اسکے سامنے روشن ہو گیا… وہ پلٹ آیا اور بیزار سا بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گیا….

ایان…. ایان کا خیال آتے ہی اس نے ایان کو کال ملا لی…. یار کہاں ہے تو….

میرا خیال ہے یہ آفس ٹائم ہے…. تو یقیناً مجھے آفس میں ہی ہونا چاہیے…. ایان نے تپ کر کہا.

تو گھر آ سکتا ہے، مجھے تیری کمپنی چاہیے….. تابش نے رو دینے کے انداز میں کہا.

سوری سر میری کمپنی اتنی سستی نہیں کہ میں ہوم ڈلیوری کرتا پھروں…. میں بہت بزی بندہ ہوں…. انڈرسٹینڈ…. ایان نے ہنسی دباتے ہوئے کہا.

بھاڑ میں جا تو اور تیری کمپنی… … میں تو تجھے صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ مجھے بہت تیز بخار ہے… لگتا ہے اب میں نہیں بچوں گا، وصیت کرنا چاہتا تھا، سوچا تجھ سے بڑھ کر کوئی نہیں جو میری وصیت کا مان رکھ سکے…. تابش نے ہوا میں بھونڈا تیر چلا کر کال کاٹ دی.

اب دیکھتا ہوں ایان… تو کیسے نہیں آتا…. تابش شیطانی ہنسی ہنسا.

وہ لاؤنچ میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا جب اسے ایمبولینس کی آواز سنائی دی، لگتا ہے محلے میں کوئی ایمرجنسی ہو گئی ہے… تابش بڑبڑایا… اٹھنا چاہا تو دکھتے بدن نے اٹھنے نہ دیا وہ بیزار سا صوفے پہ نیم دراز ہو گیا. اسی اثنا میں میں مین دروازہ کھلا، ایان اور ولی محمد تیزی سے اندر داخل ہوئے… کیا ہوا ہے تجھے میرے دوست میری جان…. دیکھ میں ایمبولینس لے آیا ہوں چل ہوسپٹل چل…. میں تیرا علاج کرواؤں گا میں تجھے کچھ نہیں ہونے دوں گا…. ایان نے آ کر اسے کندھے پہ اٹھانا چاہا، تابش اس اچانک حملے سے گھبرا گیا… میں ٹھیک ہوں، کہیں نہیں جانا مجھے….اس نے خود کو ایان سے الگ کیا.

پر یار اب تو تجھے جانا ہی پڑے گا…. ایمبولینس آ چکی ہے…. ایان نے ڈھونس جماتے ہوئے کہا.

کہا نا… میں ٹھیک ہوں….بھیج دے واپس اسکو…. تابش حلق کے بل چیخا.

ایسے کیسے بھیج دوں واپس…… مجھے پتہ ہے تو مرنا چاہتا ہے اس لیے ایسا کہہ رہا ہے پر میں تجھے مرنے نہیں دوں گا…. ایان نے اسے زبردستی گود میں اٹھا لیا…. تابش بری طرح ٹانگیں چلانے لگا..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *