Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shadi Mubarak (Episode 03)

Shadi Mubarak by Mishi Sheikh

اوووو آئی ایم سوری…. آنٹی کو آنسو گراتے دیکھ کر بابا موم ہو گئے،انکی پیشانی پہ آئی تیوریاں غائب ہو گئیں اور وہ کچن سے نکل گئے….

منال نے تابش کی طرف دیکھا…. ڈونٹ وری…. آپ کھانا بنائیں.

تابش نے انہیں تسلی دی.

کیا بناؤں…. انہوں نے تھوک نگلتے ہوئے پوچھا

جو آپ کا دل چاہے، اس نے دانستہ آج انہیں انکے حال پہ چھوڑ دیا کہ جانتا تھا آج بابا گھر پہ ہیں وہ باہر سے کچھ نہیں منگوا سکیں گی سو وہی بنا لیں جو وہ آسانی سے بنا سکتی ہیں.

بابا نے کھانا نہیں کھایا… انکا کہنا تھا کہ وہ خود کو اچھا محسوس نہیں کر رہے…. تابش سمجھا کہ شاید صبح کے واقعہ سے اپ سیٹ ہیں… جب بابا نے رات گئے تک کچھ نہیں لیا تو وہ پریشان ہو گیا..

کیا بات ہے بابا، اب ایسا بھی کیا کہ آپ صبح سے کمرے میں بند ہیں، کھانا نہیں کھایا، چائے تک نہیں لی آپ نے…، تابش کمرے میں جاتے ہی شروع ہو گیا.

بس بیٹا، طبیعت بہت سست ہے، پیٹ میں درد ہے اور بار بار ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے قے آ جائے گی، بتاؤ بھلا ایسی حالت میں کچھ کھانے کو دل کرتا ہے انہوں نے خفگی دکھاتے ہوئے کہا.

آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا… وہ پریشان ہو گیا.

چلیں میں آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے چلوں… تابش سہارا دے کر بلاول صاحب کو بستر سے اٹھانے لگا…

نہیں بیٹا، ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں، مجھے لگتا ہے پھر سے معدے کا مسئلہ ہو رہا ہے… یہ میز کی دراز میں کچھ ٹیبلٹ رکھی ہیں وہ دے دو.

تابش نے جلدی سے دوا اور پانی تھما دیا.

بلاول صاحب ساری گولیاں ایک ساتھ پھانک کر پھر سے لیٹ گئے.

وہ بابا کے پاس بیٹھ گیا انکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر دھیرے دھیرے مسلنے لگا….. آئی ایم سوری بابا…. اسکی آواز بھیگنے لگی….

فار واٹ مائی سن…. انہوں نے محبت پاش لہجے میں کہا.

جسکا اسکے پاس کوئی جواب نہ تھا وہ سر جھکائے یونہی بیٹھا رہا، تھوڑی دیر میں بابا کے ہلکے ہلکے خراٹوں کی آواز سنائی دینے لگی تب وہ بنا کوئی آہٹ پیدا کئے باہر نکل آیا. جیب سے فون نکال کر ایان کو کال ملا لی….

یار مجھے تیری بات ماننی ہی نہیں چاہیے تھی، مسئلہ ہو گیا نا….. بابا کو پھر سے سٹومچ پروبلم ہو گیا ہے، آج سارا دن انہوں نے کچھ نہیں کھایا، درد سے بے حال پڑے رہے ہیں، ڈاکٹر کے پاس بھی نہیں جا رہے، ابھی انہیں دوائیں دے کر سلایا ہے…. تابش نے دل کی بھراس نکالی.

اوووو یہ تو بہت برا ہوا، سو سوری یار….

پر تیرے یار کے پاس اس سٹویشن کے لیے بھی بہت اچھا پلان ہے…. ایان نے اک ادا سے کہا.

نہیں سننا مجھے اب تیرا کوئی بھونڈا پلان….. تابش نے غصے میں فون رکھنا چاہا.

تجھے میری قسم فون مت رکھنا…. ایان چیخا تھا.

اور تابش کے ہاتھ رک گئے….. بک…. اس نے اسی غصے سے کہا.

کل سے تو بابا کو آفس لے کر نہیں جائے گا، انہیں آرام کرنے کے بہانے گھر رہنے پہ مجبور کرے گا…. اوکے

جب انکل گھر پہ رہیں گے تو آنٹی باہر سے کچھ بھی نہیں منگوا پائیں گی اور گھر پہ ہی انکے لئے بیماری کا خیال کرتے ہوئے ہلکا پھلکا کھانا بنائیں گی….

یوں انکل کی طبیعت بھی ٹھیک ہو جائے گی، اور دونوں کے درمیان فاصلہ بھی کم ہو جائے گا…. تو سمجھ رہا ہے نا میری بات…. ایان نے تصدیق چاہی…

ہاں…. سوچتا ہوں… دیکھتا ہوں…. تابش نے سوکھے لہجے میں کہہ کر کال کاٹ دی، پر دل میں ایان کی ذہانت کی داد دئے بنا نہ رہ سکا.

بابا آپ کدھر….. اس نے بابا کو تیار ہو کر لاؤنچ میں آتے دیکھ کر پوچھا…

آفس نہیں جانا… مائی ڈئیر سن…. انہوں نے مسکرا کر کہا.

آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں…. آپ آج… بلکہ اگلے دو تین دن کہیں نہیں جا رہے، سمجھے آپ…. ؟؟؟؟

آپ ناشتہ کریں اور چلیں اپنے روم میں اور جی بھر کر ریسٹ کریں…. آنٹی… بابا کے لیے دلیہ لے آئیں… آنٹی کو آواز دے کر وہ موبائل اور گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر نکل گیا اور بلاول صاحب دیکھتے ہی رہ گئے.

آنٹی روز مجبوراً گھر پہ کھانا بنانے لگیں اور بابا بھی اب بہتر محسوس کرنے لگے تھے…. بابا کو گھر بیٹھے ہفتہ دس دن ہونے کو تھے…. تابش باقاعدہ آفس جا رہا تھا اور کام کو کافی حد تک سمجھنے لگا تھا….

وہ کام میں مصروف تھا، جب بابا کا نام موبائل سکرین پر جگمگانے لگا…. اس نے فائل پرے دھکیل کر فون کان سے لگا لیا، جی بابا جانی کیسے یاد کیا آپ نے، لگتا ہے میرے بنا اداس ہو گئے… ویسے اداس ہونا تو نہیں چاہیے آپ کو….. وہ ماہم آنٹی کہاں ہیں…. اس نے معنی خیز انداز میں کہا.

بیٹا مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے…. کئی دنوں سے بہت کچھ عجیب ہو رہا ہے… اس سے پہلے کہ کوئی اور تم سے کچھ کہے، میں خود تم سے بات کرنا چاہتا ہوں….. بابا کافی پریشان سے لگے.

اوکے اوکے آپ پریشان نہ ہوں…. ایسی باتیں فون پہ نہیں کیا کرتے، میں کوشش کرونگا آج جلدی گھر آ جاؤں پھر آرام سے بیٹھ کر آپکی بات سنو گا، ویسے بھی جو مزہ سامنے بیٹھ کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے اور سننے میں ہے وہ فون میں نہیں…. اس نے اپنی ہنسی دباتے ہوئے کہا اور فون کاٹ دیا.

یا ہو وووووووو….. اس نے نعرہ لگایا…

اور فٹ سے ایان کو کال ملا لی، لگتا ہے یار بات بن گئی…. اس نے چھوٹتے ہی کہا.

ہوا کیا… پوری بات بتا… ایان نے حیرت سے پوچھا.

تب تابش نے ساری بات بتا دی….

یا ہرررررر رےےےےے ایان کا نعرہ بھی فضا میں بلند ہوا….

اب یہاں کیا کر رہا ہے، گھر جا اور شادی کی تیاریاں کر…. میرا خیال ہے اگلا جمعہ ٹھیک رہے گا… ایان نے خوشی سے باؤلے ہوتے ہوئے کہا.

نہیں یار اتنی بھی جلدی اچھی نہیں…. جتنی دیر سے گھر جاؤں گا بابا کے جذبات میں اتنی ہی شدت آئے گی اور انکے منہ سے اقرار سننے میں اتنا ہی مزہ آئے گا.

اس نے تصور ہی تصور میں مزہ لیتے ہوئے کہا.

یہ بات بھی ٹھیک ہے…. چل بیسٹ آف لک… کہتے ہوئے ایان نے کال کاٹ دی.

اسکا کام میں دل نہیں لگ رہا تھا، دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے…. وقت گزرنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا تھا… وہ وقت سے پہلے ہی آفس سے نکل آیا… بے مقصد سڑک پہ گاڈی دوڑاتا رہا، جب اکتاہٹ ہونے لگی تو گھر کا رخ کیا.

گھر آتے ہی وہ سیدھا اپنے کمرے میں بھاگ گیا….شوز سمیت ہی بستر پہ لیٹ گیا… اور فیوچر کو تصوراتی آنکھ سے دیکھ دیکھ خوش ہونے لگا….

ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ دروازہ زور سے بجا…. اور ساتھ ہی بابا اندر داخل ہوئے…. تم گھر آ چکے اور بتایا بھی نہیں…. تمہیں پتہ ہے میں کس قدر پریشان ہوں کب سے تمہارا انتظار کر رہا… اور تم نے گھر آ کر ملنا بھی گوارا نہیں کیا… وہ کافی غصے میں لگ رہے تھے….

اوووہووو کیا ہو گیا ہے بابا….. ایسے حالات میں ایسی کیفیت ہو ہی جایا کرتی ہے اس نے آنکھ مار کر کہا تو بابا ٹھٹک گئے تو کیا تم سب جانتے ہو…. انہوں نے حیرت سے پوچھا….

اک لمحہ کو اسے لگا کہ اگر اس نے ہاں کہہ دیا تو بابا سمجھ جائیں گے کہ یہ اسکی سوچی سمجھی چال ہے، پھر کہیں وہ ضد میں آ کر سارا بنا بنایا کھیل ختم ہی نہ کر دیں….

نہیں بالکل بھی نہیں…. مجھے آپ کچھ بتائیں گے تو پتہ چلے گا نا….. پیارے بابا اب بتا بھی دیں کیا بات ہے… مجھے بہت ٹینشن ہو رہی ہے اس نے چہرے پہ جھوٹی پریشانی کے آثار دکھاتے ہوئے کہا.

دراصل بیٹا میں تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ عورت جسے تم نے کام کے لیے رکھا ہوا ہے،میں اسکے متعلق تمہیں کچھ بتانا چاہ رہا ہوں…. سمجھ نہیں آ رہا کیسے کہوں سب کچھ…. مجھے کہتے ہوئے کتنا عجیب لگ رہا ہے اور تمہیں سن کر شاید شاک لگے….

بلاول صاحب اٹک اٹک کر بول رہے تھے….

بابا کھل کر بتائیں نا…. آپ کہنا کیا چاہ رہے ہیں… آخر ہوا کیا ہے؟ تابش نے بابا کو کھل کر بولنے پہ اکسایا.

بابا نے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ سے بری طرح بھینچا ہوا تھا…. کافی ٹینشن میں لگ رہے تھے….اور تابش انکی اس حالت سے کافی لطف لے رہا تھا….

….. یہ ٹھیک نہیں…. میرا مطلب ہے اسکا کردار مشکوک ہے…. اسکی حرکتیں نا قابل برداشت…..

پہلے تو تمہاری موجودگی کا خیال کرتے ہوئے یہ اپنی اوقات میں رہتی تھی… اب ایک ہفتے سے مجھے تنہا پا کر… بہت گری ہوئی حرکتیں کرنے لگی ہے…. میں سارا سارا دن یہاں لاؤنچ میں بیٹھ کر یا باہر لان میں بیٹھ کر گزار دیتا رہا ہوں، مجھے اسکی ذات سے خوف آتا رہا ہے…. چائے دینے کے بہانے ہاتھوں کو چھوتی ہے…صوفے پہ میرے ساتھ آ کر بیٹھ جاتی ہے…. بہت منع کرتا رہا ہوں پر باز ہی نہیں آتی… کل تو اسے یہ حرکتیں کرتے ولی محمد چوکیدار نے بھی دیکھ لیا… تمہیں بتا نہیں سکتا مجھے کتنی شرمندگی ہوئی اور اس بے شرم کو کوئی فرق نہیں پڑا…. اور آج تو حد ہی ہو گئی، میرے کمرے میں چلی آئی… باہر تک تو میں نے سب برداشت کر لیا پر کمرے میں آنا…. اچھا سائن نہیں ہے، جانے کیا چاہتی ہے یہ عورت…. بابا کے پسینے چھوٹ رہے تھے….

تابش قہقہہ لگا کر ہنسا….

بابا نے اسے یوں دیکھا کہ اسکا ذہنی توازن بگڑ جانے کا یقین ہو گیا ہو….

پیارے بابا چند ہی دنوں میں وہ قانونی و شرعی طور پہ آپ سمیت آپکے کمرے پہ قابض ہونے والی ہیں، پلیز ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے پریشان نہ ہو جایا کریں… براڈ مائنڈڈ بنیں… زمانہ بدل گیا ہے…..

جانے کس لے کے زیر اثر وہ سچ بول گیا….

بابا کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا…. آنکھیں جتنی کھل سکتی تھیں کھل چکی تھیں…. وہ ہونقوں اپنے سپوت کو دیکھے جا رہے تھے….. دماغ میں ساری کہانی چند ہی لمحوں میں ریوائنڈ ہو گئی تھی…. اوووو تو اسکا مطلب کہ انکا بیٹا اس گھر میں جس عورت کی کمی محسوس کرتا ہے وہ ہے میری بیوی…. وہ اپنی ماں لانے کو بے تاب تھا اور وہ سمجھ رہے تھے کہ وہ اپنی شادی کے لیے بے چین ہے اور بہانے بہانے سے اس گھر میں عورت کی کمی کا احساس دلا رہا ہے…..

اس نے کہا تھا کہ آپ کی پسند کو ترجیح دی جائے گی….جب میں نے کوئی قدم نہیں اٹھایا تو اس نے خود کمر کس لی اور جانے اس عورت کو کہاں سے ڈھونڈ لایا…. وہ اسے آیا نہیں ماں بنانے کے لیے لایا…. اب تک جو کچھ ہوتا آیا اک پلان کے تحت ہوتا رہا… اوووو مائی گاڈ وہ کیا کہتا رہا، کیا کرتا رہا، اور مجھے پتہ بھی نہیں چلا…… سوچیں تھیں کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں، بلاول صاحب کے لیے اب وہاں رکنا مشکل ہو گیا، وہ بنا اک لفظ کہے وہاں سے چلے آئے…

________

دروازہ بنا دستک کے کھٹاک سے کھلا اور آنٹی منال دندناتی ، غصے سے لال پیلی اسکے سامنے آ کھڑی ہوئیں …اسکے اوپر سے کمبل کھینچ ڈالا…. . سمجھتا کیا ہے تمہارا باپ خود کو، کسی ریاست کا شہزادہ ہے وہ بڈھا….. (بڈھا کہتے ہوئے انکے اپنے دل پہ بھی چوٹ آئی ہو گی یقیناً کہ بلاول صاحب کہیں سے بھی بڈھےدکھائی نہ دیتے تھے )

تابش کی آنکھیں تو کھل چکی تھیں پر یادداشت ابھی تک نہیں لوٹی تھی….

میں آدھی رہ گئی ہوں اسکی خدمت کر کر کے…. میرا چہرہ دیکھو مرجھا سا گیا ہے….. آنٹی کی اس بات پہ تابش کی یادداشت واپس آ گئی اس نے بغور انکے چہرے اور جسامت کا جائزہ لیا اور پھر دل ہی دل میں سفید جھوٹ کہنے پہ مجبور ہوا.

اور تو اور اس شخص نے اپنی بیماری کا الزام بھی میرے سر ڈال دیا ہے…. میں سارا دن چولہے کے آگے سڑ سڑ کر اس کے لیے کھانے بناتی رہی اس وقت تو انگلیاں چاٹتا تھا، اب اسے بیماری یاد آ گئی، احسان فراموش ہو تم بھی اور وہ بھی….

وہ آنٹی کو بتانا چاہتا تھا کہ انہوں نے جس محنت سے کھانے بنائے وہ سب جانتا ہے پر تربیت آڑے آ رہی تھی….

کہتا ہے تم مجھ پہ ڈورے ڈالنے آئی ہو…. میں نے بھی صاف کہہ دیا خود نہیں آئی تمہارا بیٹا لایا ہے…. اور میں بھی عقل کی کھوٹی کہ تمہاری باتوں میں آ کر مولوی صاحب کو چھوڑ آئی….بیوہ ہونے کے بعد جب کسی اپنے نے نہیں پوچھا تو انہوں نے ہی ساتھ دیا میرا…. . کتنا خیال رکھتے تھے میرا…. یہاں تم لوگ مجھے کچن میں کھڑا رکھتے تھے سارا دن اور وہاں وہ ہر جمعہ کو مجھے باہر سے کھانا کھلانے لے جایا کرتے تھے…..اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے بھی یہ سب کر گزرتے تھے…. اک تمہارا باپ ہے زمانے بھر سے ڈرتا ہے…. اور تو اور ولی محمد سے بھی ڈرتا ہے…. توبہ ہے…. تم نے پوچھا ہشام ریسٹورنٹ کا مجھے کیسے پتہ تو سنو انہی کے ساتھ جاتی تھی وہاں…. میرے آنے پہ کیسے روئے تھے وہ… اور میں نے خود غرضی دکھائی، اسی خود غرضی کی سزا ملی ہے یہ مجھے…..

جا رہی ہوں میں اپنے مولوی صاحب کے پاس واپس…. اور دیکھنا میری بد دعا ہے کہ تمہارے باپ کو کوئی نہ ملے گی …. اتنے خودغرض انسان کے ساتھ کسی کی قسمت نہ پھوٹے….. دیکھنا اگلے جمعہ ہی نکاح کر لینا ہے میں نے مولوی صاحب کے ساتھ…. آنا چاہو تو شوق سے آنا…. پر اپنے باپ کو نہ لانا…. وہ غصے سے پھنکارتی ہوئی یہ جا…. وہ جا…..

وہ گھنٹہ بھر وہیں سر جھکائے بیٹھا رہا…. وہ آنٹی کو روک لیتا، بابا کو منا لیتا پر مولوی صاحب کا سن کر اسکا دل کھٹا ہو گیا…..؛

بابا ٹھیک ہی کہتے ہیں میں ابھی بچہ ہوں لوگوں کو نہیں پہچان سکتا.لوگ وہ ہوتے نہیں جو دکھتے ہیں … اک چہرے میں کئی چہرے چھپے ہوتے ہیں…. وہ خود کو کوستا رہا… جب بھوک نے کسی قابل نہیں چھوڑا تو باہر نکل آیا.

سوچا کچن میں دیکھے کچھ کھانے کو…. ابھی سیڑھیاں ہی اترا تھا کہ بابا کی آواز آ گئی چلو جلدی سے آ جاؤ دیکھو میں نے تمہارے لئے کیسے مزے دار سینڈوچ بنائے ہیں…. وہ چپ چاپ سا جا کر بیٹھ گیا…. بابا سے نظریں ملانے کی ہمت نہ رہی تھی… خاموشی سے ناشتہ کیا… اٹھ کر جانے لگا…. کہاں چلے برخوردار… بابا نے چھیڑنے والے انداز میں پوچھا.

آفس… اس نے مختصر سا جواب دیا.

پر آج تو چھٹی ہے…. بابا نے کہا.

آج چھٹی نہیں ہے آج…..

جب میں نے کہہ دیا کہ چھٹی ہے تو اسکا مطلب ہے چھٹی ہے…

بابا نے اسکی بات بہت قطعیت سے کاٹی…

چلو جلدی سے ریڈی ہو جاؤ… آج میرا کچھ شاپنگ کا موڈ ہے… چلو اسی بہانے ایک ساتھ ٹائم سپینڈ ہو جائے گا کچھ اؤٹنگ، انجوائے منٹ ہو جائے گی…. آج میرا کام کرنے کو بالکل جی نہیں چاہ رہا..

اسکا انجوائے منٹ کا موڈ نہیں تھا پر اسکے لئے بابا کی پسند، نا پسند ہمیشہ پہلے نمبر پہ رہی تھی تو آج بھی انکی خوشی کے لیے تیار ہو گیا.

شاپنگ مال لوگوں سے بھرا پڑا تھا….اور اتنا بڑا شاپنگ مال کہ بابا تھوڑی دیر میں ہی تھک کر بیٹھ گئے…. اپنی ضروری اشیا وہ لے چکے تھے پر تابش ابھی کچھ مزید شاپنگ کرنا چاہتا تھا…. دونوں نے فریش ہونے کے لئے جوس پیا… بابا وہیں بیٹھے رہے اور تابش اپر فلور پر چلا گیا….

ایسکیوز می آنٹی…. اس نے راستے میں کھڑی بھاری بھر کم عورت سے راستہ لینا چاہا…..

وہ اک جھٹکے سے مڑی اور منہ پھلا کر جو کہ عام حالت میں بھی کافی پھولا ہوا تھا…. بولی ایسکیوز می…. میں آنٹی نظر آ رہی ہوں…. میری تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی…. ایڈیٹ…

کیوں نہیں ہوئی؟ تابش نے بے ساختہ پوچھ لیا.

کیا مطلب ہے کیوں نہیں ہوئی…. میں کروں گی تو ہو گی نا…. مجھے ابھی تک اپنے سپنوں کا راجہ ملا نہیں….

یہ جو میں دکھنے میں بڑی لگتی ہوں نا…. یہ موٹاپے کی وجہ سے ہے، ویسے بڑی ہوں نہیں… تم سے بس ایک دو سال ہی بڑی ہوں گی…

اور یہ موٹاپہ زیادہ کھانے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ جم جوائن کر کے حاصل کیا ہے…. کسی نے کہا تھا تم موٹی ہوتی تو زیادہ خوب صورت لگتی… انہوں نے کھوئے کھوئے انداز میں کہا تو تابش نے بہت مشکل سے اپنی ہنسی روکی…

جی بالکل صحیح ہی کہا تھا، ویسے بھی موٹاپہ آجکل فیشن کی دنیا میں بہت ان ہے…. تابش نے بھی بے پرکی اڑانا شروع کر دیں….

وہ خاتون خوشی سے مزید پھول گئی.

ایک بات کرنا چاہ رہا ہوں آپ سے… آپ ذرا سائیڈ پہ آ کر میری بات سن لیں…. تابش نے ادھر ادھر دیکھ کر کہا تو خاتون کی آنکھیں سکڑنے لگیں….

پلیز مجھے غلط مت سمجھیں، میں بہت سیریس بات کرنا چاہ رہا ہوں…. تابش نے اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی

ہاں جلدی بولو، خاتون ایک طرف جہاں رش ذرا کم تھا، کھڑی ہو کر بولیں…

شادی کریں گی…. تابش نے چھوٹتے ہی پوچھا.

تم سے… خاتون نے اسے اوپر سے نیچے تک گھور ڈالا.

اوووو نہیں…. میرے دوست سے… تابش نے دانستہ بابا نہیں دوست کا لفظ استعمال کیا.

کیا وہ بھی تمہاری طرح ہینڈ سم ہے…. خاتون نے چھیڑتے ہوئے کہا.

نہیں وہ مجھ سے کہیں زیادہ سوبر اور ہینڈ سم ہے….

تابش نے فخر سے کہا.

کوئی تصویر ہے اسکی تمہارے پاس… خاتون کے لہجے میں بے صبری تھی.

تصویر کیا کرنی ہے وہ بذات خود یہاں اس مال میں موجود ہے…. . پر ایک پرابلم ہے وہ شادی نہیں کرنا چاہتا، پر میں نے بھی تہیہ کر رکھا ہے کہ اسکی شادی کروا کر رہوں گا…. میں آپ کو راستہ دکھا دیتا ہوں،آگے اسے پٹانہ اپکا کام…. دیکھتے ہیں آپ میں کتنا ہے دم…. تابش نے اسے اکسایا.

مجھے پسند آ گیا تو پٹانہ میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے…. خاتون نے کچھ زیادہ ہی لمبی چھوڑ ڈالی.

اوکے پھر آئیں میں آپ کو راستہ دکھا دوں، دونوں سیڑھیوں کے قریب چلے آئے…. وہ دیکھیں نیچے جو بلیک شلوار قمیض میں ملبوس شخص بنچ پہ بیٹھا ہے…. وہی ہے جسکی میں شادی کروانا چاہتا ہوں….اگلے ہی لمحے خاتون کی آنکھیں چمک اٹھیں واؤ وہ تو واقعی ہی تم سے زیادہ سوبر ہے، تم تو بچے سے لگتے ہو کچھ کھایا پیا کرو سویٹی….موٹی آنٹی اسے چھیڑ کر نیچے کی طرف اترنے لگیں، وہ اپنا حلیہ، بال وغیرہ ٹھیک کر رہی تھیں

اور تابش کے چہرے پہ وہ مسکراہٹ عود آئی تھی جسے وہ اب تک روک رہا تھا..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *