Shadi Mubarak by Mishi Sheikh NovelR50691 Shadi Mubarak (Episode 06)
Rate this Novel
Shadi Mubarak (Episode 06)
Shadi Mubarak by Mishi Sheikh
یہ منظر دیکھ کر ولی محمد کے منہ سے ہنسی کا فوارہ پھوٹ نکلا…..اور پھر یوں اس ڈرامے کا ڈراپ سین ہوا.
ایان مڑ کر اسے گھورنے لگا….. ولی محمد اپنے منہ پہ ہاتھ رکھ کر ہنسی روکنے کی ناکام کوشش کرنے لگا….جاؤ اب تم اپنی ڈیوٹی پہ، اور ہاں میری کار میں ایک شاپر رکھا ہے وہ دے جاؤ.ایان نے ذرا تلخی سے کہا، اپنے ڈرامے کے خراب ہونے کا اسے افسوس ہی بہت ہو رہا تھا.
تابش اپنے کپڑے ٹھیک کرتا ہوا صوفے پہ ڈھے سا گیا. ایان بھی اسکے برابر بیٹھ گیا. کمینہ ہے تو بہت بڑا کمینہ….. کیوں کیا یہ سب…..تابش نے اسے لات رسید کرتے ہوئے کہا.
تو نے بھی تو میری جان نکالنے کی کوشش کی تھی….. ڈفر
ایان نے دوبدو جواب دیا.
مجھے سچ میں بخار ہے…. بس وہ وصیت والی بات تجھے بلانے کے لیے کی تھی…. تابش نے سر کھجایا.
وہ ایمبولینس…. تابش نے باہر کی طرف اشارہ کر کے بات ادھوری چھوڑ دی.
ایان نے جیب سے موبائل فون نکال کر اسکے دو تین بٹن پریس کئے تو ایمبولینس کا سائرن ایک بار پھر گونجنے لگا…. اب تو تابش نے ایان پر لاتوں کی بارش ہی کر دی….
اندر آتے ولی محمد کا قہقہہ پھر سے فضا میں گونج اٹھا.
تم کیا کر رہے ہو یہاں، چلو بھاگو….. تابش نے اسے آنکھیں دکھائیں تو وہ شاپر میز پر رکھ کر واپس بھاگ گیا.
یہ کیا ہے، تابش نے شاپر کو للچائی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا.
بیمار کر دیا انکل نے میری جان کو گھر کے کھانے کھلا کھلا کر، سوچا تیرے لئے لنچ لیتا چلوں، شاید اسی طرح تیرے بخار کو کچھ افاقہ ہو جائے…. ایان نے برا سامنہ بناتے ہوئے کہا.
کل میری مسکان سے بات ہوئی، تابش اصل موضوع کی طرف آیا.
کون مسکان…. ایان نے زنگر برگر کا باۂٹ لیتے ہوئے لا پرواہی سے پوچھا.
میری متوقع ممی…. تابش نے چڑ کر کہا.
اوووو تو اسکا نام مسکان ہے….. پر تیرے چہرے کی مسکان چھین لی اس ظالم نے…. ایان نے شاعرانہ انداز میں کہنے کی کوشش کی.
شٹ اپ یار…. تو سیریس ہو کے میری بات سن سکتا ہے کہ نہیں…. تابش تلخ ہوا.
اوکے اوکے….. بھونکو. … او سوری میرا مطلب ہے فرماؤ، میں ہمہ تن گوش ہوں.ایان پھر سے برگر میں مگن ہو گیا.
یار وہ اس شادی سے خوش نہیں ہے، وہ تو بس اس بات پہ رب کی شکر گزار ہے کہ اسے مضبوط سہارا مل رہا ہے، وہ کہتی ہے کہ وہ ایسا کچھ بھی فیل نہیں کر پا رہی جو باقی لڑکیاں اپنی شادی کے نام پہ محسوس کرتی ہیں…. اگر بابا کی جگہ کوئی ہم عمر لڑکا اسکا جیون ساتھی بن رہا ہوتا تو اسکے جذبات بھی مچلتے…وہ ان لمحات کو انجوائے کر رہی ہوتی …
میں اسکی زندگی کی اس محرومی کو برداشت نہیں کر پا رہا، میرا بس نہیں چل رہا میں سارے زمانے کی خوشیاں اسکی جھولی میں ڈال دوں…. میں اسے بھرپور طریقے سے جیتا دیکھنا چاہتا ہوں…. میں اسکے لئے جو محسوس کر رہا ہوں، وہ میں کسی سے کہہ نہیں سکتا بلکہ میرے پاس الفاظ ہی نہیں…. اور کسی کے پاس ایسی سمجھ بھی نہیں شاید…..
تابش اداسی سے سر جھٹک کر برگر کھانے لگا.
ایان نے اس موقع پہ خاموشی ہی بہتر جانی.
وہ صوفے پہ ہی نیم دراز تھا جب بابا کی آواز آئی، وہ ہاتھ میں کئ شاپر تھامے اندر داخل ہو رہے تھے… السلام علیکم مائی ڈئیر سن…. کیسی طبیعت ہے اب….
انہوں نے سامان میز پہ رکھ کر اسکی پیشانی کو چھوا…. بہتر لگ رہے ہو…..
آج میں اپنے بیٹے کے لیے کھانا باہر سے لایا ہوں، میرے ہاتھ کا کھا کھا کر میرا بیٹا بیمار ہو گیا…. یہ بخار بھی شاید اسی وجہ سے آ گیا ہے، جلدی سے چونچ سلونی کرو اور فٹ ہو جاؤ، بلاول صاحب نے اسکی متجسس نگاہیں شاپر پہ محسوس کی تو شرارت سے کہا .
بابا کی اس بات پہ وہ بے اختیار مسکرا دیا…
صبح ناشتے کے ساتھ بابا نے اسے پھر سے دوا دی، دو تین دن کمپلیٹ ریسٹ کر لو، پھر شادی کی تیاری بھی کرنی، دن بہت کم رہ گئے…
تمہاری خواہش کے مطابق ہم دونوں نے ایک جیسی ڈریسنگ کرنی ہے سو تم جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ، پھر چلتے ہیں شاپنگ پہ….
بلاول صاحب اسکے بالوں میں پیار سے ہاتھ پھیر کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے کہ آفس کے لیے تیار بھی ہونا تھا.
تابش کی رگیں تن سی گئیں…. کچھ دیر تک وہ خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرتا رہا… غصہ اسے اب بھی بہت آ رہا تھا، پر اسنے کل والا ری ایکشن نہیں دکھایا…. خاموشی سے دوا پھانکی اور اپنے کمرے میں چلا گیا. اندر سے لاک کر لیا، کہ اب وہ کچھ دیر کے لیے بابا کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا کہ کہیں کوئی بد تمیزی نہ کر بیٹھے…. بستر پہ گر کر سونے کی کوشش کرنے لگا اس وقت اسے آرام کی سخت ضرورت تھی. ابھی لیتے کچھ دیر ہی گزری تھی کہ دروازے پہ دستک ہوئی…. وہ دروازہ کھولنا نہیں چاہتا تھا، پر دوسری دستک پہ اسے اٹھنا پڑا…..
دروازہ کھولا تو سامنے مسکان کھڑی تھی. وہ حیران پریشان اسے تکنے لگا وہ جو کل بالکل سادہ سی تھی آج نیٹ کی بلیک ساڈھی میں ملبوس، ہلکے پھلکے میک اپ سے آراستہ قیامت ڈھا رہی تھی،ہاتھوں میں سرخ گلابوں کا بکے…. اسکے حسن کو مذید مہکا رہا تھا… اندر آنے کو نہیں کہو گے، اس نے اسکی حیرت کو بھانپتے ہوئے مسکرا کر کہا.
تابش کچھ بول نہیں پایا بس راستہ دے دیا.
وہ دھیرے دھیرے چلتی اندر آ گئی، بلاول صاحب سے تمہاری طبیعت کا پتہ چلا…. اب کیسی طبیعت ہے… اوووو تم کھڑے کیوں ہو لیٹ جاؤ، مسکان نے اسے بستر پہ بیٹھایا، وہ شاکڈ سا بیٹھ گیا… ابھی بھی اسے پھٹی پھٹی نگاہوں سے ہی دیکھ رہا تھا….
وہ بھی سامنے صوفے پہ بیٹھ گئی
تم نے بتایا نہیں اب کیسے ہو…. دوا لی تم نے….. ڈاکٹر کا وزٹ بھی کیا یا خود ہی دوا کھانے لگ گئے ہو…. وہ سوال پہ سوال کر رہی تھی پر جواب ندارد….
مجھے لگتا ہے تمہاری طبیعت ابھی ٹھیک نہیں، یا شاید مجھے دیکھ کر بگڑ گئی ہے…وہ اٹھ کر اسکے بستر کے قریب چلی آئی . اینی وے گیٹ ویل سون، مائی ڈئیر سن کہہ کر اس نے اپنے لب اسکی پیشانی پہ ثبت کر دئیے…..
تابش ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا… جسم پسینے سے شرابور تھا، اس نے پیشانی کو رگڑ ڈالا، پیشانی پہ بھی خاصا پسینہ آیا ہوا تھا، سانس پھول رہی تھی….وہ اب تک مسکان کا لمس محسوس کر رہا تھا . اوو یہ خواب تھا…. شکر ہے یہ خواب تھا اس نے خود کلامی کی.
اسکا دل اس کمرے سے وحشت کھانے لگا تو وہ اٹھ کر باہر آ گیا…. وہ لاؤنچ میں آ رہا تھا تو بابا کو دیکھا جو کہ بیرون دروازے کے قریب تھے…..
کمپلیٹ ریسٹ کرنا….. ادھر ادھر نہ نکل جانا، اور آفس آنے کی تو بالکل بھی ضرورت نہیں، میں سب دیکھ لوں گا…..لو یو بائے، بابا اسے فلائنگ کس دے کر باہر نکل گئے.
وہ صوفے پہ بیٹھ گیا…. وہ ڈرا سہما سا ادھر ادھر دیکھنے لگا… ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ابھی مسکان کسی کونے سے نکل آئے گی اور مائی ڈئیر سن کہتے ہوئے اسکی پیشانی کو چوم لے گی…. وہ زور زور سے پیشانی کو رگڑنے لگا …. اتنا صاف کرنے کے باوجود مسکان کے بوسے کا لمس مٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا… وہ خود کو بہت بے بس محسوس کر رہا تھا… دل چاہ رہا تھا یہاں سے کہیں دور بھاگ جائے جہاں مسکان کا خیال بھی اسے چھو نہ پائے….
جب وحشت بڑھنے لگی، تنہائی سے خوف آنے لگا تو وہ بیرون دروازے کی طرف بھاگا…. ولی محمد…. ولی محمد… اس نے چیخ کر اسے بلایا….
جی جی… تابش صاحب کیا ہوا، طبیعت تو ٹھیک ہے آپ کی… وہ پریشان ہو گیا
ہاں میں ٹھیک ہوں، بس تم یہاں میرے پاس بیٹھ جاؤ… اکیلے دل گھبرا رہا ہے…. تابش نے اپنی حالت پہ قابو پاتے ہوئے نارمل انداز میں کہا.
ولی محمد اسکے پیچھے پیچھے…. اندر آ گیا، تابش صوفے پہ نیم دراز ہو گیا اور وہ فرش پہ اسکے قریب بیٹھ گیا…
تابش کی حالت دھیرے دھیرے نارمل ہو رہی تھی…. ایسے لگا کہ نیند آ رہی ہے…. شاید دوا کا اثر شروع ہو گیا.
آنکھیں بند ہوتے ہی مسکراتی مسکان پھر سے سامنے آن موجود ہوئی….نہیں…. نہیں… تابش نیند میں بڑبڑایا اور پیشانی ملتا ہوا اٹھ بیٹھا…. تابش میاں… ہوش کرو، کیا ہوا…. ولی محمد اسکے ہاتھ رگڑنے لگا.
نہیں کچھ بھی نہیں…. اس نے ولی محمد سے آنکھیں چرا لی. کچھ دیر یونہی بیٹھا رہا، ولی محمد مسلسل اسے دیکھ رہا تھا،
اگر طبیعت خراب ہو رہی ہے تو ڈاکٹر کو بلا لاؤں…. ولی محمد نے جھجھکتے ہوئے پوچھا یا کہتے ہیں تو بڑے صاحب کو فون کر دوں…
نہیں بالکل بھی نہیں…. میں بالکل ٹھیک ہوں… ایسا کرو تم جاؤ باہر… تابش نے اس سے جان چھڑائی… اسے ڈر لگنے لگا تھا کہ وہ تھوڑی دیر اور بیٹھا رہا تو اسکے دل کا حال جان جائے گا اور یہ اسے کسی طور گوارہ نہ تھا.
تابش واش میں گیا، خوب رگڑ رگڑ کر چہرہ دھویا، فریش ہو کر باہر آیا، چینج کیا، موبائل اور بائک کی چابی اٹھائی اور باہر نکل گیا…. ولی محمد نے اسے جاتا دیکھا تو بولا، صاحب نے منع کیا تھا کہ آپ کو کہیں نہیں جانے دینا، مکمل آرام کروانا ہے تاکہ آپ جلد از جلد ٹھیک ہو سکیں…
تابش سنی ان سنی کرتا ہوا بائک لے اڑا….
بے مقصد سڑکوں پر دوڑاتا رہا، پھر سوچا آفس ہی چلے جانا چاہیے، یوں سڑکوں پر خاک اڑانے کا فائدہ….
تھوڑی دیر میں وہ آفس کی بلڈنگ کے سامنے تھا.
پارکنگ میں انکل ہمدانی کی کار دیکھ کر وہ پھیکی سی ہنسی ہنسا…. دل نہیں لگ رہا آجکل ان دونوں کا ایک دوسرے کے بغیر…. کوئی نہیں… چار دن کی چاندنی ہے پھر وہی اندھیری راتیں….
وہ مین دروازے کی طرف بڑھ گیا.
بابا کے کیبن کے سامنے اسکے قدم رک گئے کہ بابا ہمدانی صاحب کو چیک پکڑا رہے تھے…. بلینک ہے، ضرورت کے مطابق فل کر لینا، کمی بیشی کا حساب پھر کر لیں گے، بابا نے آنکھ میچ کر کہا.
ہمدانی صاحب نے مسکراتے ہوئے چیک جیب میں رکھ لیا….
یہ منظر دیکھ کر وہ اندر نہیں جا سکا…. اچھا تو اس لیے مجھے آج آفس آنے سے روکا جا رہا تھا…. ضبط کی کوشش میں آنکھیں لال ہونے لگیں…. وہ واپس ہو لیا،
میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بابا اتنے گر سکتے ہیں…. اور ہمدانی انکل… وہ تو بابا سے بھی زیادہ گرے ہوئے نکلے، مسکان کو بیچ دیا اور اسکے سامنے بھی خدا بنے ہوئے ہیں کہ اسکے لئے کتنے فکر مند ہیں، بظاہر اسکی ساری بگڑی سدھار رہے ہیں پر کوئی کیا جانے کہ اندر ہی اندر کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے…… آئی ایم سوری مسکان میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکا پر میں تمہیں بے خبر نہیں رہنے دوں گا…. اسکی بائک ہوا سے باتیں کر رہی تھی اور وہ خود سے اور آنسو بھی تواتر سے رخساروں کو بھگو رہے تھے.
_____________
ایان کے آفس کے باہر پہنچ کر اس نے اسے کال ملائی،ایک منٹ میں باہر آ تجھ سے بہت ضروری بات کرنی ہے….میں تیرے آفس کے باہر کھڑا ہوں…
پر یار…. ایان نے کچھ کہنا چاہا.
تو آ رہا ہے کہ نہیں…. تابش نے اپنے آنسو رگڑتے ہوئے ذرا تلخی سے پوچھا.
ایان اسکی بھیگی آواز سے حالات کی سنگینی کا اندازہ لگا چکا تھا، سو فوراً باہر نکل آیا.
ہمدانی نے مسکان کو بیچ دیا… وہ روتا ہوا ایان کے گلے لگ گیا.
واٹ…. کہاں بیچ دیا کس کے ہاتھ بیچ دیا…. ایان نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے چیخ کر پوچھا.
بابا نے خریدا ہے اسے، بابا اس قدر گر جائیں گے، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا…. تابش نے ایان کو ساری بات سنا ڈالی.
دیکھ ہمدانی کتنا پارسا بنا ہوا ہے، مسکان کی اتنی کیئر وہ بے لوث نہیں کر رہا، اگر اسکی بیوی مر چکی ہوتی تو مجھے پورا یقین ہے کہ اس نے خود مسکان سے شادی کر لینی تھی اب جبکہ وہ ایسا نہیں کر سکتا تو اسے بیچ کر دل کی تسکین کر رہا ہے، اسے ذرا بھی خوف خدا نہ آیا، اور نہ ہی میرے باپ کو…. تابش نے انتہائی نفرت سے کہا.
ایان کا رنگ اڑا ہوا تھا، اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ تابش کو کیسے سنبھالے، کیسے سمجھائے….
مجھے پورا یقین ہے کہ مسکان کو اس بات کی بھنک بھی نہیں لگنے دی گئی ہو گی… پر میں اس بھیانک حقیقت سے پردہ ضرور اٹھاؤں گا…. چل میرے ساتھ مسکان کے پاس… تابش نے اسے اپنے ساتھ بائک پہ بیٹھانا چاہا.
پاگل ہو گیا ہے کیا…. وہ ہتھے سے اکھڑ گیا…. وہ تیرا یقین کیوں کرے گی….کیا لگتا ہے تو اسکا… کوئی ثبوت ہے تیرے پاس… کہ جو تو کہہ رہا وہ سچ ہے..
دیکھ پاگل مت بن، پہلے ہم ثبوت اکٹھے کریں گے پھر جائیں گے وہاں… ہمدانی کوئی چھوٹی چیز نہیں ہے، ہم اس پہ ایسے ہاتھ نہیں ڈال سکتے….
تابش کو سوچ میں پڑتا دیکھ کر ایان نے گہری سانس خارج کی…
بس اب تو وہی کرتا جا جو میں کہتا ہوں، تجھے ثبوت مل جائیں گے، تو نے فکر مند بالکل بھی نہیں ہونا، اوکے…. ایان نے اسکا کندھا تھپتھپا کر کہا تو وہ بھی سر ہلا گیا….
رات بابا پھر اسکے لئے کھانا باہر سے ہی لائے….بھئ آج پلیز ٹھیک ہو جانا… کل میں ہر حال میں شاپنگ کے لیے جانا چاہتا ہوں…. انہوں نے اسے شرارت سے چھڑا…. وہ سر جھکائے، کھانا کھاتا رہا.
وہ باپ سے بازپرس ضرور کرتا اگر ایان نے اسکی زبان بندی نہ کروائی ہوتی….
صبح ناشتہ کرتے ہی بابا نے جلدی کا طوفان برپا کر دیا. وہ تیار ہو کر آ گیا، دونوں شہر کے اچھے دولہا ہاؤس پہ چلے گئے…
یہ شیروانی مجھے اچھی لگ رہی ہے…. دیکھو کام کتنا نفیس ہے… بابا نے ایک گرے کلر کی شیروانی اپنے ساتھ لگا کر اسے دکھائی… کیسی لگ رہی…
اس نے آنکھوں کے اشارے سے ہی اوکے کر دیا.
اس گرے شیروانی کے پیچھے ایک بلیک کلر کی لٹک رہی تھی بابا نے اسے سامنے کر کے دیکھا تو انکی آنکھیں چمک اٹھیں… اس کی شان ہی نرالی لگ رہی تھی وہ اسے لے کر تابش کے قریب چلے آئے جو کہ دوسری طرف تھری پیس سوٹ دیکھ رہا تھا..اسے چیک کرو… ٹرائی روم اس طرف ہے، انہوں نے تابش کو راستہ دکھایا .وہ شیروانی پہن کر باہر نکلا تو بلاول صاحب دیکھتے ہی رہ گئے… وہ کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا، وہ فوراً نظریں پھیر گئے کہ نظر ہی نہ لگ جائے….
ڈن… تمہارے لیے یہ بلیک اور میرے لئے وہ گرے والی… میری عمر کے حساب سے یہی اچھی رہے گی… بلاول صاحب کہہ کر کاؤنٹر کی طرف بڑھ گئے….
کپڑوں کی دفعہ عمر یاد آ گئی، بابا آپ کو مسکان کا سوچتے ہوئے اپنی عمر کا خیال کیوں نہیں آیا… وہ کہنا چاہتا تھا پر تربیت نے اجازت نہیں دی.
وہاں سے نکل کر وہ دوسری شاپ میں چلے گئے…. اب باری تھی تھری پیس سوٹ لینے کی، پہلی شاپ پہ کوئی دل کو نہیں لگا تھا…
یہ پلم کلر دیکھو کیسا لگ رہا ہے…. بلاول صاحب نے تابش کو دکھایا…. نائس…. کہہ کر
تابش نے ایک کریم کلر پر ہاتھ رکھا… بابا نے آگے بڑھ کر دیکھا، زبردست…. گریس فل….. میرا خیال ہے بیسٹ رہے گا تمہارے لیے…..
اور یہ آپ کے لیے بیسٹ رہے گا،
ایک براؤن کلر کے ڈریس کو سامنے کرتے ہوئے تابش نے کہا.
میرے بیٹے نے کہا اور میں نے مان لیا… بلاول صاحب مسکراتے ہوئے دونوں سوٹ کاؤنٹر پہ لے گئے…
اب وہ باہر گاڑی میں آ بیٹھے….
میرا خیال ہے آج کے لئے اتنا ہی کافی ہے، جانے کیوں اب میں جلدی تھکنے لگا ہوں… بلاول صاحب یک دم مرجھا سے گئے.
اتنے سے کام سے تھک جاتے ہیں اور چلے ہیں شادی کرنے، اور وہ بھی اپنی اولاد کی عمر کی لڑکی سے…. تابش نفرت سے سوچ کر رہ گیا.
بابا کوگھر چھوڑ کر وہ خود آفس چلا گیا…. اب تو اک اک لمحہ بہت بھاری ہو گیا تھا…
آفس پہنچ کر کچھ ضروری کام نمٹائے، ذرا فراغت ہوئی تو ایان کو کال ملا لی، ہاں یار کچھ کام ہوا…
اوووو بھئ، میں انسان ہوں، کوئی جن بھوت یا خلائی مخلوق نہیں کہ چٹکی بجاتے ہی تیرا کام ہو جائے گا،ایسے ہی بار بار مجھے فون کیا نا تو کچھ نہیں کروں گا میں، سمجھے…. وہ شاید اپنے آفس ورک میں الجھا ہوا تھا، غصہ تابش پہ اتار بیٹھا.
تابش نے بھی غصے سے فون کاٹ دیا.
اگلے روز پھر سے بابا نے شاپنگ کی رٹ پکڑ لی… آج شوز اور دوسرے لوازمات لینے تھے…. سارا دن خوار ہوئے پھر بھی شاپنگ پوری نہیں ہوئی….
یار میں تو سمجھتا تھا دو گھنٹے کا کام ہے شادی کی شاپنگ…. مجھے کیا پتہ تھا… اتنا وقت لگ جاتا اور اتنا خوار ہونا پڑتا…. بلاول صاحب کار کی سیٹ پہ بے حال سے بیٹھے کہہ رہے تھے، تھک تو تابش بھی گیا تھا پر ذرا سا مسکرا دیا.
رات بابا کو تھوڑا سا ٹمپریچر ہو گیا شاید تھکاوٹ کی وجہ سے، تابش نے ڈاکٹر کو بلانا چاہا پر وہ پینا ڈول لے کر سو گئے… اگلے روز بھی وہ تھکاوٹ محسوس کر رہے تھے، ناشتہ تابش نے بنا کر دیا… آج بھی وہ اکیلا ہی آفس گیا….
ابھی وہ جا کر بیٹھا ہی تھا کہ ایان چلا آیا، اسکے سلام کا جواب دے کر وہ اپنے کام میں بہت مصروف دکھائی دینے کی کوشش کرنے لگا….
ایان کافی دیر تک اسکی اس حالت سے لطف اٹھاتا رہا، پھر آخر خاموشی کو توڑنا پڑا.
یار تیرا کام ہو گیا ہے… ایان کے کہنے پہ تابش چونک اٹھا… سچ کہہ رہا ہے تو…. اس نے بے یقینی سے پوچھا.
جلد ہی تیرے سارے مسئلے حل ہو جائیں گے،بس اب جلدی سے اچھی سی چائے پلا دے، میں نے اپنے آفس بھی جانا، تیری وجہ سے دو گھنٹے کی لیو لے کر آیا ہوں، فون کیوں نہیں اٹھا رہا تھا…. دو دن تنگ کیا تو نے مجھے…. آج خود آنا پڑا…. ایان نے آنکھیں دکھا کر منہ بناتے ہوئے کہا.
تابش مسکراتے ہوئے چائے آڈر کرنے لگا.
اب آئے گا مزہ…. ہمدانی میں تمہاری اصلیت ساری دنیا کو بتاؤں گا…. مسکان کو پتہ چلے گا تو وہ تم پہ تھوکنا بھی پسند نہیں کرے گی…. کجا تمہاری عزت کرنا…
ایان کےجاتے ہی وہ سوچوں کے سمندر میں غوطے لگانے لگا…. پر سوچوں کی لہروں نے اسے بری طرح ساحل پہ پٹک دیا جب اسے بابا کا خیال آیا…. اوو نووو… ہمدانی کےساتھ اسکے بابا کی بھی بدنامی ہو گی، وہ چاہے باپ سے جتنی بھی نفرت کرنے لگے پر باپ آخر باپ ہی ہوتا ہے، کیا وہ انکی بدنامی اور جھکا ہوا سر برداشت کر پائے گا…..
وہ ایک بار پھر سے بے بس ہونے لگا تھا جانے قسمت اسکے ساتھ کیا کھیل کھیلنے والی ہے، روز اک نیا راستہ نظر آتا ہے، وہ اس طرف بڑھتا ہے تو وہ راستہ بند ہو جاتا ہے…. اس نے بری طرح اپنے بال نوچ ڈالے….
رات دیر سے گھر آیا کہ گھر سے وحشت ہونے لگی تھی…. جیسے جیسے وقت قریب آ رہا تھا وہ پاگل ہو رہا تھا…..بابا سے سامنا نہیں ہوا، اس نے شکر ادا کیا، کمرے میں چلا آیا…. کتنی ہی دیر اندھیرے میں بیٹھا رہا کہ اب تو زندگی کے ہر سو اندھیرا ہی اندھیرا ہونے والا تھا…. اور یہ اندھیرا اس اندھیرا کے مقابلے میں تو کچھ بھی نہیں لگ رہا تھا….
جب دل گھبرایا تو سائڈ ٹیبل پہ دھرا لیمپ آن کر لیا…. اس کے عین نیچے اک کارڈ نظر آیا، جس پہ انویٹیشن لکھا چمک رہا تھا، اوو تو کارڈ بھی چھپ کر آ گئے، اس نے نفرت سے سوچا. دل چاہا کہ کھول کر پڑھے تو صحیح کہ بابا نے کیا لکھوایا ہے…، یقیناً لکھوایا ہو گا…. تابش کے والد محترم کی شادی کے لئے آپ کو مدعو کیا جا رہا ہے….
وہ طنزاً ہنسا اور پھر غصے میں کارڈ پڑھے بغیر ہی دراز میں ڈال دیا.
اور اپنی ان سوچوں سے ہی لڑتا لڑتا جانے کب سو گیا.
صبح ولی محمد نے اسکا دروازہ زور زور سے بجایا، اٹھ کر کھولا تو ولی محمد کو روتے پایا، گھبرا کر پوچھا کیا ہوا…..
وہ… وہ بلاول صاحب…. وہ مذید کچھ نہ بول پایا.
تابش کے قدموں تلے سے زمین نکل گئی وہ لاؤنچ کی طرف بھاگا…. بابا صوفے پہ گرے ہوئے تھے، سانس اکھڑ رہی تھی… آنکھیں بند تھیں.
