Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shadi Mubarak (Episode 02)

Shadi Mubarak by Mishi Sheikh

بلاول صاحب صبح کمرے سے باہر نکلے تو مزے دار خوشبو پورے گھر میں پھیلی ہوئی تھی…. وہ کچن کی طرف بڑھے ہی تھے کہ تابش ہاتھ میں ٹرے تھامے باہر آتا دکھائی دیا، حیرت سے انکی آنکھیں پھیل گئی….

آج ناشتہ باہر سے منگوا لیا ہے…. بلاول صاحب نے ذرا خفگی سے پوچھا.

نہیں بابا گھر پہ بنایا ہے…. آپ جلدی سے ناشتہ شروع کریں، کھاتے جائیں اور تعریفیں کرتے جائیں…. اس نے جھک کر آداب بجا لاتے ہوئے کہا.

بابا نے ناشتہ دیکھا پھر اسکی طرف دیکھا….. آملیٹ، پراٹھا، اچار اور ساتھ میں سوجی کا حلوہ…..ناشتے کی خوشبو کہہ رہی تھی سوچو نہیں بس جلدی سے سب چٹ کر جاؤ…. . یہ سب انکا یہ نکما اور لا پرواہ بیٹا کبھی نہیں بنا سکتا…

. یہ سب کیا ہے، کس نے بنایا ہے تابش…. سچ سچ بتاؤ… وہ کنفیوز ہو رہے تھے.

بتا دیتا ہوں بابا پہلے ناشتہ شروع تو کریں اس نے ایک لقمہ بنا کر بابا کے منہ میں ڈال دیا….

ناشتہ واقعی مزے دار تھا خستہ پراٹھا، آملیٹ بھی پرفیکٹ تھا، اک لمحے کو نغمانہ بیگم کی یاد آ گئی.

تابش بھی بابا کے ساتھ ہی بیٹھ گیا….

اچانک کچن سے کاٹن کے سوٹ میں ملبوس اک سوبر سی خاتون برآمد ہوئیں انکے ہاتھ میں چائے کی ٹرے تھی…

سلام کیا…. جواب دینے کی بجائے بلاول صاحب نے بیٹے کی طرف دیکھا جیسے پوچھ رہے ہوں کہ یہ کون ہے اور ہمارے گھر میں کیا کر رہی ہے…

بابا میں نے انہیں کچن کے کام کے لیے رکھا ہے…. یہ ماہم آنٹی ہیں، ویسے آپ انہیں ماہی بھی کہہ سکتے ہیں، وہ آنکھ مار کر مسکرا دیا.

اس نے دانستہ نام بدل دیا. ملاقات تو بابا کی کبھی منال آنٹی کے ساتھ نہیں ہوئی تھی، پر یہ یقین نہیں تھا کہ ماما نے کبھی بابا سے انکے متعلق کوئی بات نہ کی ہو….

وہ بابا کے دل میں کوئی شک نہیں پڑنے دینا چاہتا تھا، اسے یقین تھا کہ اگر بابا کو پتہ چل گیا کہ منال، نغمانہ سے منسلک رہی ہے تو وہ کبھی بھی ان سے شادی پہ راضی نہیں ہوں گے.

بابا اسے پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے جیسے انہیں بیٹے کی دماغی حالت پہ شک ہو رہا ہو.

بلاول صاحب آپ کو کسی اور چیز کی ضرورت تو نہیں، آپ نے ناشتہ بھی ٹھیک سے نہیں کیا، پسند نہیں آیا کیا ، منال عرف ماہم نے چائے انکے سامنے رکھتے ہوئے پوچھا….. تو وہ ہڑبڑا سے گئے…. نہیں….. بالکل نہیں… اٹ انف، وہ بظاہر پوری توجہ سے چائے پینے لگے … انکی حالت سے باقی دونوں نے خاصا لطف اٹھایا.

وہ کمرے میں لیٹا کسی میگزین کی ورق گردانی کر رہا تھا بابا آفس جانے سے پہلے اسکے کمرے میں چلے آئے اور آتے ہی برس پڑے…. کیا ضرورت تھی اس خاتون کو رکھنے کی، کیا میں تمہیں بھوکا مار رہا تھا….

بابا ریلیکس….. آہستہ بولیں وہ سن لیں گی تو انہیں دکھ ہو گا…. اس نے کول ڈاؤن کرنے کی کوشش کی.

تم تیار ہو کر فوراً باہر آ جاؤ، گھر رہو گے فارغ تو اسی طرح کے فضول کام کرتے پھرو گے… آفس جوائن کرو… کام کاج کرو گے تو الٹا سیدھا سوچنے کا وقت نہیں ملے گا…. ہری اپ…

بلاول صاحب باہر جانے لگے تو اس نے ہاتھ بڑھا کر روک لیا، بابا آج ماہم آنٹی کا پہلا دن ہے، انہیں سارے کام سمجھا دوں، پکا پرامس کل سے آپ کے ساتھ جاؤں گا، اس نے مسکین سی صورت بنا کر کہا تو بلاول صاحب کو ماننا پڑا.

وہ آفس چلے گئے تو تابش آنٹی کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھ گیا اور انہیں بابا کا دل جیتنے کے گر بتانے لگا…. پھر رات کا مینو سوچا جانے لگا ایسا مینو جو کہ انکے دل پہ ٹھا کر کے لگے….

نہاری…..وہ چیخا….

کیا ہو گیا نہاری کو…. آنٹی نے دل پہ ہاتھ رکھ کر کہا.

ماما نہاری تب بنایا کرتی تھیں جب کبھی بابا خفا ہوا کرتے تھے…. انہیں منانے کو ماما یہ حربہ استعمال کیا کرتیں تھیں اور نہاری دیکھ کر بابا مسکرا دیا کرتے تھے…..

اس نے مسکرا کر کہا.

تو….. آنٹی نے منہ بنا کر کہا.

ارے میری بھولی آنٹی… تو یہ کہ ہم بھی آج نہاری بنائیں گے…. اور پھر بابا کی ساری ناراضگی ہوا ہو جائے گی…. ڈن

پر مجھے تو نہاری نہیں بنانی آتی…… انہوں نے مزید منہ پھولاتے ہوئے کہا.

اوووو تو آپ کو نہاری نہیں بنانی آتی… وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا.

آئیڈیا….. ایسا کرنا تم نہاری باہر کسی اچھے سے ریسٹورنٹ سے لے آنا…. آنٹی نے خوشی سے چٹکی بجا کر کہا.

باہر سے…… پر بابا باہر کا کھانا نہیں کھا سکتے…. اس نے مایوسی سے کہا.

دفع کرو بابا کو… ہم کھا لیں گے…. آنٹی لاپرواہی سے کہہ کر صوفے پہ نیم دراز ہو گئیں اور کشن گود میں رکھ لیا.

وہ شوکڈ….. پھٹی پھٹی آنکھوں سے آنٹی کو دیکھنے لگا….

اوووو میرا مطلب ہے، آج تھوڑا سا کھا لیں گے تو کچھ نہیں ہو گا، اب مجبوری ہے نا… انہوں نے چہرے پہ زمانے بھر کی معصومیت سمیٹتے ہوئے کہا.

ہممم اوکے….. شام میں مجھے یاد کروا دیجیے گا میں لے آؤں گا. کہہ کر وہ ٹھہرا نہیں، اپنے کمرے میں چلا آیا…. ادھر سے ادھر چکر کاٹنے لگا…. کہیں مجھ سے کچھ غلط تو نہیں ہو گیا…. کیا میری چوائس ٹھیک رہے گی بابا کے لیے…. سوچ سوچ کر اسکے سر میں درد ہونے لگا تھا…. وقت دیکھا تو ظہر کی نماز ہوئے آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا، وضو کیا، نماز پڑھ کر اپنے اور بابا کے حق میں دل و جان سے دعا کی اور گولی کھا کر سو گیا.

شام چار بجے آنٹی اسے اٹھانے آ گئیں، تابش جلدی سے نہاری لے آؤ…. باقی تیاری میں نے کر لی ہے، ساتھ میں روغنی نان بھی پکڑ لانا…. نہاری کے ساتھ روغنی نان ہوں تو مزا دوبالا ہو جاتا…. آنٹی چسکے لے کر کہہ رہی تھیں…

وہ آنکھیں مل رہا تھا…. اٹھنے کو بالکل بھی جی نہیں چاہ رہا تھا پر مجبوری تھی….

آنٹی جاتے جاتے پھر پلٹ آئیں، سنو تم نہاری کہاں سے لاؤ گے…. یہی جو قریب ہے سردار جی سے…. اس نے جمائی روکتے ہوئے کہا.

نہیں اس کی اتنی اچھی نہیں، تم ایسا کرو ہشام اینڈ برادرز سے لے آؤ، اس کی کھاؤ گے تو انگلیاں چاٹتے رہ جاؤ گے… .

اسکی آنکھیں پوری کی پوری کھل گئیں… . آپ نے کب کھائی،

اس نے الٹا سوال داغ دیا.

وہ جب میں نئی نئی بیوہ ہوئی تھی تو محلے والے بہت خیال کرتے تھے….. ہمسائی نے منگوائی تو مجھے بھی بھیج دی….اس نے آپ کو بتایا تھا کہ کہاں سے منگوائی ہے، اس نے آنٹی کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا.

مجھے اچھی لگی تو پوچھ لیا کہ کہاں سے منگوائی ہے…اب اس میں ایسی کونسی ہے، انہوں نے خفگی سے کہا.

پر وہ ریسٹورنٹ تو ابھی چھ ماہ پہلے کھلا ہے…. تابش نے مشکوک ہوتے ہوئے پوچھا.

اوووو ہاہاہا مجھے بھی بھولنے کی عادت ہوتی جا رہی، ہو سکتا ہے یہ چھ ماہ پہلے ہی کی بات ہو…. اچھا چھوڑو، یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی، تم جلدی سے لے آؤ، ایسا نہ ہو بلاول صاحب تم سے پہلے آ جائیں…. آنٹی ساری باتیں ہوا میں اچھال کر منظر سے غائب ہو گئیں.

وہ ہاتھ منہ دھو کر متفکر سا بائک کی چابی اٹھا کر باہر نکل گیا….

شام میں آنٹی بھی سلیقے سے تیار ہو گئیں اور ٹیبل بھی سجا دیا…. تابش اور آنٹی انتظار کر رہے تھے، پیٹ میں چوہوں نے اودھم مچا رکھا تھا اور بلاول صاحب کا کچھ پتہ نہ تھا…. بابا نے آنے میں معمول سے ذرا دیر کر دی،

ہارن کی آواز سنائی دی تو دونوں الرٹ ہو گئے، آنٹی کچن کے دروازے پہ جا کھڑی ہوئیں، جیسے کام میں مصروف ہوں اور تابش سیڑھیوں پہ چڑھ گیا اور خود کو اوپر سے آتا ظاہر کیا.بلاول صاحب کسی سے مخاطب ہوئے بنا کمرے کی طرف بڑھ رہے تھے کہ تابش نے آواز دی… بابا کھانا ریڈی ہے جلدی سے آ جائیں…. مجھے بہت بھوک لگی ہے….

میں کھانا کھا چکا ہوں برخوردار….. تم بھی کھا لو، بہت تھک چکا ہوں آرام کرنا چاہتا ہوں. مجھے کوئی ڈسٹرب نہ کرے پلیز.

بابا مڑے بنا کہہ کر کمرے میں داخل ہو گئے….

آنٹی کرسی پہ ڈھے سی گئیں….. اتنی محنت کی تھی اور تمہارے باپ نے اک نظر دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا….. انہوں نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا.

کس پہ محنت کی …. کھانا بنانے پہ…. ؟؟؟؟ تابش نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا.

نہیں، اپنے آپ پہ، انہوں نے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا…. پورے دو گھنٹے لگے میک اپ کرنے میں…. اور انہیں احساس ہی نہیں…. مجھے نہیں لگتا کہ میرے نصیب میں اب کوئی خوشی رہ گئی ہے…. وہ میز پہ سر ٹکا کر رونے لگیں.

تابش کو جو اب تک ہنسی آ رہی تھی یک دم ان پہ ترس آنے لگا، صبح جو انکے لئے دل میں بد گمانی نے جنم لیا تھا وہ بھی ہوا ہو گئی….

ایسا مت کہیں…. آپ کا دامن خوشیوں سے بھرنے والا ہے، ان شا اللہ، تابش نے انکے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا.

انہوں نے سر اٹھا کر تابش کی طرف دیکھا اور مسکرا دی، اس وقت وہ مسکراتی ہوئیں کافی خوفناک لگ رہی تھیں کہہ ان کا کاجل بری طرح پھیل چکا تھا…. وہ ڈر کر پیچھے ہو گیا اور دل ہی دل میں دعا کی کہ انکا بابا سے اس حالت میں سامنا کبھی نہ ہو ورنہ بابا کے جوتے اور اسکا سر ہو گا…..

اگلے دن وعدے کے مطابق وہ بابا کے ساتھ آفس جانے کو تیار ہو گیا، اور آنٹی ماہم کو بیسٹ آف لک کہتا ہوا آفس روانہ ہو گیا….

آج اسکا پہلا دن تھا، بلاول صاحب نے منیر صاحب اپنے اسسٹنٹ سے کہہ دیا تھا کہ تابش کو آہستہ آہستہ کام سمجھا دیجئے گا، اور اسے اسکا کیبن بھی دکھا دیا جو کہ بابا کے کیبن کے بالکل ساتھ تھا.

دوپہر میں بابا کے دوست طیب انکل چلے آئے وہ سیدھا انکے آفس میں چلے گئے.

تھوڑی دیر بعد بابا نے اسے بھی اپنے آفس بلا لیا، طیب اس سے ملو میرا بیٹا تابش ہے، آج سے یہ بھی میرے ساتھ بزنس دیکھے گا.

انکل اٹھ کر اس سے بہت گرم جوشی سے ملے… اور بیٹا جی کیسا لگ رہا ہے، آج پہلا دن ہے آفس میں…. انکل نے رسما پوچھا.

جی بہت اچھا…… کام سمجھ آ جائے گا تو زیادہ دل لگ جائے گا… اس نے بھی مسکرا کر کہہ دیا.

_________

اتنے میں چائے آ گئی، ساتھ میں کچھ سینڈوچ اور سنیکس بھی تھے…. بلاول صاحب لنچ میں یہی لیا کرتے تھے.

وہ بھی اپنی چائے اور سینڈوچ کے ساتھ انصاف کرنے لگا…

یار رات بھابھی نے بہت اچھا کھانا بنایا، قورمہ تو میں بھول ہی نہیں پا رہا، ملائی بوٹی کی ریسپی تو میں بھابھی سے ضرور لوں گا…. مجھے بہت پسند آئی… بلاول صاحب، اپنے دوست کے ساتھ گپ شپ میں مصروف تھے… اسکے کان کھڑے ہو گئے اوووو تو بابا رات انکے ساتھ تھے….

دال چاول، اچار، سلاد اور ساتھ میں شامی کباب ہوں تو مزا آ جاتا ہے، اگلی بار بھابھی سے کہنا یہ مینیو رکھیں…. بلاول صاحب نے دوست سے ریکویسٹ کی.

آج ہی کھا لیتے ہیں دال چاول، آفس سے فری ہو کے میری طرف آ جاؤ، ساتھ میں اپنے ہونہار سپوت کو ضرور لانا….

نہیں… نہیں… آج نہیں… پھر کسی دن، بلاول صاحب نے معذرت کر لی..

چائے پی کر انکل چلے گئے اور وہ بھی اپنے کیبن میں آ گیا.

دماغ میں اک آئیڈیا آیا تو اس نے فوراً منال آنٹی کا نمبر ملا لیا.

السلام علیکم…. میں تابش بات کر رہا ہوں…کیسی ہیں آپ . کیا کر رہی تھیں …؟ اس نے ایک سانس میں ہی پوچھ ڈالا….

بریک ٹائٹ رکھا کرو لڑکے…. زبان تمہاری پھسلی ہی رہتی ہے، انہوں نے خفگی سے کہا….

آپ نے بتایا نہیں کیا کر رہی تھیں آپ… تابش نے انکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے پھر پوچھا.

کرنے کو کچھ ہے ہی نہیں.. بور ہو رہی تھی تو ٹی وی لگا لیا. آنٹی نے جمائی روکتے ہوئے کہا.

اتنے بڑے گھر میں کچھ کرنے کو نہیں ملا…. وہ کہنا چاہتا تھا پر خاموشی کو بہتر جانا….دل چاہا کہ سر دیوار پر دے مارے پر خود پہ قابو رکھا.

اچھا تو آج کھانے میں کیا بنایا ہے آپ نے…. اس نے خود کو قدرے نارمل رکھتے ہوئے پوچھا.

بنانا کیا تھا، کل کی نہاری ویسے ہی رکھی ہے، وہی کھا لینا، انہوں نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا تو تابش کا صبر جواب دینے لگا، اس سے پہلے کہ وہ کوئی بد تمیزی کر بیٹھتا اس نے لمبے لمبے سانس لے کر خود کو نارمل کیا اور بظاہر بشاشت سے کہا، آنٹی ایسا کریں آج آپ دال چاول بنا لیں اور ہاں اسکے ساتھ شامی کباب اور پیازوں کا سلاد بنانا مت بھولئے گا….. بابا کا بہت دل چاہ رہا ہے، آپ دل لگا کر بنائیں پھر دیکھیے کھاتے ہی بابا کا آپ پہ دل آ جانا قسم سے….

اچھا، یہ بات ہے، چلو دیکھتی ہوں… آنٹی نے مرے مرے انداز میں کہا تو اس نے فوراً فون رکھ دیا کہ اس سے اب مزید برداشت کرنا مشکل ہو گیا تھا.

فون رکھ کر وہ پریشان سا کرسی پہ ڈھے گیا…. یا اللہ کرم…. کہیں میں غلط تو نہیں کر رہا….

نہیں ہر گز نہیں، میری نیت اچھی ہے اللہ جی میرے ساتھ کچھ غلط نہیں ہونے دیں گے…. اس نے خود کو تسلی دی. اور کام میں مصروف ہو گیا.

شام میں وہ بابا کو سیدھا گھر لایا، حالانکہ وہ تھوڑی شاپنگ کا ارادہ رکھتے تھے….

آتے ہی اس نے بھوک کا شور مچا دیا، آنٹی برتن لگا چکی تھی،اور انہیں دیکھتے ہی گرم گرم کھانا بھی رکھ دیا… آج انہوں نے خود پہ بھی کافی محنت کی تھی…. اور کھانے پہ بھی….

بابا دال چاول…. کباب، اور سلاد دیکھ کر حیران ہوئے… بہت دل چاہ رہا تھا آج دال چاول کھانے کو سو بنا لئے…. اگر آپ کو پسند نہیں تو کچھ اور بنا دیتی ہوں، آنٹی نے پوز کرتے ہوئے کہا…

نہیں… نہیں… مجھے حیرت اس بات پہ ہوئی کہ میرا بھی بہت دل چاہ رہا تھا،اور آپ نے یہی بنایا آج… بابا نے جھجھکتے ہوئے کہا.

اس کو کہتے ہیں دل کو دل سے راہ ہونا…. وہ لقمہ دئے بنا نہ رہ سکا…. بابا نے اسے آنکھیں دکھائیں تو وہ مسکرا دیا.

بابا کھانے کی تعریف کیے بنا نہیں رہ پائے تھے…. شامی کباب واقعی بہت لذیز بنے تھے…. وہ تو کافی سارے کباب چٹ کر گیا، آنٹی بابا سے اور لینے کی ضد کرنے لگیں… آج انہوں نے بات مان لی اور انکی فرمائش پہ مزید بھی لیا…

وہ دونوں کو ایک ساتھ مسکراتا دیکھ کر بہت خوش تھا، اسکے دل کی مراد پوری ہونے میں اب زیادہ وقت نہیں….

کھانا کھا کر سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے…. وہ فون لے کر باہر لان میں آ بیٹھا، سوچا دوست کو فون کر کے اس معاملے پہ ڈسکس کر سکے، ہو سکتا ہے وہ کوئی بہتر مشورہ دے دے….

باتیں کرتے کرتے اسے سخت پیاس کا احساس ہونے لگا، اچھا یار پھر بات ہو گی…. اب چلنا چاہیے کہہ کر اس نے کال کاٹ دی اور کچن کی طرف بڑھ گیا….

پانی لے کر کرسی پہ بیٹھا تو کوئی چیز اس کے پاؤں سے ٹکرائی، اس نے جھک کر دیکھا تو ڈسٹ بن تھی…

اوو یہ یہاں کیسے…. وہ بن اٹھا کر اسکی جگہ پہ رکھنے لگا تو رک گیا، یہ کیا اس میں ہشام ایک برادرز ریسٹورنٹ کا ایک ڈبہ گرا پڑا تھا، اس نے اٹھا کر دیکھا تو کباب کا ڈبہ تھا…. اففففف منال آنٹی…. وہ دانت پیسنے لگا…. اتنا بڑا دھوکہ… وہ سب کچھ وہیں چھوڑ کر کمرے میں چلا گیا…

صبح ناشتہ کر کے وہ بابا کے ساتھ آفس کے لیے نکلنےلگا… آج بھی فون کر کے بتا دینا کیا بنانا ہے آنٹی نے اسکے کان میں کہا…

بابا کے کل کے مثبت رویہ سے وہ خاصی پر امید ہو گئیں تھیں، وہ رات کے متعلق کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ بابا کی آواز آ گئی بھئ کہاں رہ گئے آ بھی جاؤ….

وہ بنا جواب دئیے باہر نکل گیا.

دفتر آ کر بھی اسکا کام میں دل نہیں لگ رہا تھا…. بار بار وہ کباب کا ڈبہ نظروں کے سامنے آن ٹھہرتا تھا….

اتنے میں اسکے دوست ایان کا فون آ گیا…. یار میں نے اک پلان بنایا ہے… اسے نے فوراً کہنا شروع کر دیا.

ایک منٹ یار پہلے میری بات سن لے، تابش نے اسے روک دیا.

ہاں بول،اسکی متفکر آواز ابھری.

تابش نے رات والی بات جو اسے چین نہیں لینے دے رہی تھی، سنا ڈالی.

یار تو بھی نا…. میں تو پریشان ہی ہو گیا تھا، کہ جانے کیا ہو گیا ہے.

ایسے معاملات میں تھوڑا دل بڑا کرنا پڑتا ہے، اتنا تھوڑا بہت کھانے سے انکل کو کچھ نہیں ہو گا، ان شا اللہ.

اور جب نکاح ہو جائے گا تو آنٹی کے دل میں خودبخود انکل کے لیے فکر مندی پیدا ہو جائے گی، اور انکل انہیں خود بھی پیار سے بتا دیں گے کہ انہیں کیا پسند ہے اور کیا نہیں…

بس چند دنوں کی تو بات رہ گئی… ایان کی باتیں اسے معقول لگی تھیں… پھر واقعی سب ٹھیک ہو جائے گا، اسے آنٹی سے بدگمان نہیں ہونا چاہیے.

اچھا اب اپنا پلان بھی بتا دے. تابش نے بے صبری سے پوچھا.

میں نے سوچا ہے کہ تو آنٹی انکل کو لے کر کہیں اؤٹنگ کا پروگرام بنا… وہاں پہنچ کر مجھے بھی بتا دینا، پھر میں بھی اتفاقاً وہاں پہنچ جاؤں گا، اور تجھے بہانے سے وہاں سے لے نکلوں گا… تب دونوں کو ایک ساتھ ٹائم گزارنے کا موقع ملے گا، انکے درمیان انڈرسٹینڈنگ بڑھے گی تب کام آسان ہو جائے گا… ایان نے ساری بات کہہ کر سانس لیا.

واہ یار زبردست……. کیا بات ہے تیری…. ڈن… ٹھیک ہے بس اگلے چند دنوں میں یہ کام بھی کر گزریں گے ہم… تیار رہنا… اس نے گرم جوشی سے کہہ کر فون رکھ دیا.

اب اسکا ذہن کافی حد تک پر سکون ہو چکا تھا، اگر ایان سے بات نہ ہوتی تو جانے کب تک وہ سوچ سوچ کر خون جلاتا رہتا….

ابھی وہ کام شروع ہی کرنے والا تھا کہ آنٹی کا فون آ گیا… کتنی دیر سے فون ہاتھ میں لئے بیٹھی ہوں، تم نے ابھی تک فون ہی نہیں کیا….

انکی بے قراری دیکھ کر وہ مسکرا دیا.

ایسا کریں آج ملائی بوٹی بنا لیں…. اپنے پیارے پیارے ہاتھوں سے… آخری بات پہ اس نے زور دیا تھا…عقل مند کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے پر پتہ نہیں آنٹی نے اسکی بات توجہ سے سنی بھی تھی کہ نہیں….

چلو ٹھیک ہے میں جلدی سے تیار ہو جاؤں…. آنٹی نے کہہ کر فون رکھنا چاہا.

کیا… آپ خود تیار ہونے جا رہی ہیں، کھانا نہیں تیار کرنا…. اس نے حیرت سے چیخ کر کہا.نہیں میرا مطلب ہے کھانا تیار کر لوں …. آنٹی نے بات سنبھالتے ہوئے کہا.

اوکے… کہہ کر اس نے فون رکھ دیا.

کھانا بہت اچھا بنا ہے، بابا نے آج بھی مسکرا کر تعریف کی…. اور آنٹی نے شرما کر وصول کی…

جب سب کمروں میں چلے گئے تو وہ کچن میں جا گھسا…. ادھر ادھر سب چھان مارا پر کچھ نہ ملا.. اسکا مطلب ہے چور، چوری سے باز نہیں آیا پر ہوشیار ہو گیا ہے….. آج کا کھانا بھی باہر کا ہی تھا پر کچن میں اسکا کوئی نام و نشان بھی نہ تھا.

پھر یہ سلسلہ چل نکلا، وہ روز کسی نہ کسی طرح معلوم کر لیتا کہ بابا آج کیا کھانا چاہ رہے ہیں، اور پھر آنٹی روز وہی کھانا بناتی، مطلب باہر سے منگوا لیتی پر گوگل سرچ کر کے نت نئے سلاد اور میٹھا گھر بھی بنا لیتی تاکہ شک نہ ہو….

یہ ویک اینڈ تھا، اس نے پوری کوشش کی کہ بابا اور آنٹی کو اؤٹنگ پہ لے جائے پر بابا نے سہولت سے انکار کر دیا….

پر اسکے موڈ کو اچھا رکھنے کے لیے بولے آج میں اپنے بیٹے کے لیے کوکنگ کروں گا اتنے دن ہو گئے میری جان نے میرے ہاتھوں کا کھانا نہیں کھایا….

وہ منع کرتا رہ گیا پر بابا کچھ سنے بنا کچن میں جا گھسے…. آنٹی بھی انکے پیچھے چلی گئیں، آپ کیوں تکلف کرتے ہیں، مجھے بتا دیں میں بنا دیتی ہوں، انہوں نے یقیناً رسما ہی کہا.

نہیں…. میں کر لوں گا، بس آپ مجھے نان اسٹک کڑاہی دے دیں….

بابا کہہ کر بیسن میں ہاتھ دھونے لگے….

نان اسٹک کڑاہی…. وہ پریشانی میں ریک کھول کھول کر دیکھنے لگیں….

کیا ہوا…. بابا نے مڑ کر پوچھا.

وہ کڑاہی ڈھونڈ رہی ہوں…. انہوں نے لڑکھڑاتی آواز میں کہا.

آپ روز کچن میں کام کرتی ہیں اور آپ کو یہ نہیں پتہ کہ کون سی چیز کہاں ہے…. بابا نے زرا سخت لہجے میں کہا.

تابش بیشتر سے پہلے کچن میں داخل ہوا ایک کیبنٹ سے کڑاہی نکال کر بابا کے سامنے رکھ دی، ایکچولی بابا آنٹی کو بھولنے کی بیماری ہے…. انہیں روز ہی چیزیں ڈھونڈنی پڑتی ہیں…. اس نے آنٹی کی طرف سے صفائی دے کر سٹویشن سنبھالنے کی کوشش کی.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *