Shadi Mubarak by Mishi Sheikh NovelR50691
Last updated: 17 May 2026
Shadi Mubarak by Mishi Sheikh
بلاول صاحب صبح کمرے سے باہر نکلے تو مزے دار خوشبو پورے گھر میں پھیلی ہوئی تھی.... وہ کچن کی طرف بڑھے ہی تھے کہ تابش ہاتھ میں ٹرے تھامے باہر آتا دکھائی دیا، حیرت سے انکی آنکھیں پھیل گئی....
آج ناشتہ باہر سے منگوا لیا ہے.... بلاول صاحب نے ذرا خفگی سے پوچھا.
نہیں بابا گھر پہ بنایا ہے.... آپ جلدی سے ناشتہ شروع کریں، کھاتے جائیں اور تعریفیں کرتے جائیں.... اس نے جھک کر آداب بجا لاتے ہوئے کہا.
بابا نے ناشتہ دیکھا پھر اسکی طرف دیکھا..... آملیٹ، پراٹھا، اچار اور ساتھ میں سوجی کا حلوہ.....ناشتے کی خوشبو کہہ رہی تھی سوچو نہیں بس جلدی سے سب چٹ کر جاؤ.... . یہ سب انکا یہ نکما اور لا پرواہ بیٹا کبھی نہیں بنا سکتا...
. یہ سب کیا ہے، کس نے بنایا ہے تابش.... سچ سچ بتاؤ... وہ کنفیوز ہو رہے تھے.
بتا دیتا ہوں بابا پہلے ناشتہ شروع تو کریں اس نے ایک لقمہ بنا کر بابا کے منہ میں ڈال دیا....
ناشتہ واقعی مزے دار تھا خستہ پراٹھا، آملیٹ بھی پرفیکٹ تھا، اک لمحے کو نغمانہ بیگم کی یاد آ گئی.
تابش بھی بابا کے ساتھ ہی بیٹھ گیا....
اچانک کچن سے کاٹن کے سوٹ میں ملبوس اک سوبر سی خاتون برآمد ہوئیں انکے ہاتھ میں چائے کی ٹرے تھی...
سلام کیا.... جواب دینے کی بجائے بلاول صاحب نے بیٹے کی طرف دیکھا جیسے پوچھ رہے ہوں کہ یہ کون ہے اور ہمارے گھر میں کیا کر رہی ہے...
بابا میں نے انہیں کچن کے کام کے لیے رکھا ہے.... یہ ماہم آنٹی ہیں، ویسے آپ انہیں ماہی بھی کہہ سکتے ہیں، وہ آنکھ مار کر مسکرا دیا.
اس نے دانستہ نام بدل دیا. ملاقات تو بابا کی کبھی منال آنٹی کے ساتھ نہیں ہوئی تھی، پر یہ یقین نہیں تھا کہ ماما نے کبھی بابا سے انکے متعلق کوئی بات نہ کی ہو....
وہ بابا کے دل میں کوئی شک نہیں پڑنے دینا چاہتا تھا، اسے یقین تھا کہ اگر بابا کو پتہ چل گیا کہ منال، نغمانہ سے منسلک رہی ہے تو وہ کبھی بھی ان سے شادی پہ راضی نہیں ہوں گے.
بابا اسے پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے جیسے انہیں بیٹے کی دماغی حالت پہ شک ہو رہا ہو.
بلاول صاحب آپ کو کسی اور چیز کی ضرورت تو نہیں، آپ نے ناشتہ بھی ٹھیک سے نہیں کیا، پسند نہیں آیا کیا ، منال عرف ماہم نے چائے انکے سامنے رکھتے ہوئے پوچھا..... تو وہ ہڑبڑا سے گئے.... نہیں..... بالکل نہیں... اٹ انف، وہ بظاہر پوری توجہ سے چائے پینے لگے ... انکی حالت سے باقی دونوں نے خاصا لطف اٹھایا.
وہ کمرے میں لیٹا کسی میگزین کی ورق گردانی کر رہا تھا بابا آفس جانے سے پہلے اسکے کمرے میں چلے آئے اور آتے ہی برس پڑے.... کیا ضرورت تھی اس خاتون کو رکھنے کی، کیا میں تمہیں بھوکا مار رہا تھا....
بابا ریلیکس..... آہستہ بولیں وہ سن لیں گی تو انہیں دکھ ہو گا.... اس نے کول ڈاؤن کرنے کی کوشش کی.
تم تیار ہو کر فوراً باہر آ جاؤ، گھر رہو گے فارغ تو اسی طرح کے فضول کام کرتے پھرو گے... آفس جوائن کرو... کام کاج کرو گے تو الٹا سیدھا سوچنے کا وقت نہیں ملے گا.... ہری اپ...
بلاول صاحب باہر جانے لگے تو اس نے ہاتھ بڑھا کر روک لیا، بابا آج ماہم آنٹی کا پہلا دن ہے، انہیں سارے کام سمجھا دوں، پکا پرامس کل سے آپ کے ساتھ جاؤں گا، اس نے مسکین سی صورت بنا کر کہا تو بلاول صاحب کو ماننا پڑا.
وہ آفس چلے گئے تو تابش آنٹی کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھ گیا اور انہیں بابا کا دل جیتنے کے گر بتانے لگا.... پھر رات کا مینو سوچا جانے لگا ایسا مینو جو کہ انکے دل پہ ٹھا کر کے لگے....
نہاری.....وہ چیخا....
کیا ہو گیا نہاری کو.... آنٹی نے دل پہ ہاتھ رکھ کر کہا.
ماما نہاری تب بنایا کرتی تھیں جب کبھی بابا خفا ہوا کرتے تھے.... انہیں منانے کو ماما یہ حربہ استعمال کیا کرتیں تھیں اور نہاری دیکھ کر بابا مسکرا دیا کرتے تھے.....
اس نے مسکرا کر کہا.
تو..... آنٹی نے منہ بنا کر کہا.
ارے میری بھولی آنٹی... تو یہ کہ ہم بھی آج نہاری بنائیں گے.... اور پھر بابا کی ساری ناراضگی ہوا ہو جائے گی.... ڈن
پر مجھے تو نہاری نہیں بنانی آتی...... انہوں نے مزید منہ پھولاتے ہوئے کہا.
اوووو تو آپ کو نہاری نہیں بنانی آتی... وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا.
آئیڈیا..... ایسا کرنا تم نہاری باہر کسی اچھے سے ریسٹورنٹ سے لے آنا.... آنٹی نے خوشی سے چٹکی بجا کر کہا.
باہر سے...... پر بابا باہر کا کھانا نہیں کھا سکتے.... اس نے مایوسی سے کہا.
دفع کرو بابا کو... ہم کھا لیں گے.... آنٹی لاپرواہی سے کہہ کر صوفے پہ نیم دراز ہو گئیں اور کشن گود میں رکھ لیا.
وہ شوکڈ..... پھٹی پھٹی آنکھوں سے آنٹی کو دیکھنے لگا....
اوووو میرا مطلب ہے، آج تھوڑا سا کھا لیں گے تو کچھ نہیں ہو گا، اب مجبوری ہے نا... انہوں نے چہرے پہ زمانے بھر کی معصومیت سمیٹتے ہوئے کہا.
ہممم اوکے..... شام میں مجھے یاد کروا دیجیے گا میں لے آؤں گا. کہہ کر وہ ٹھہرا نہیں، اپنے کمرے میں چلا آیا.... ادھر سے ادھر چکر کاٹنے لگا.... کہیں مجھ سے کچھ غلط تو نہیں ہو گیا.... کیا میری چوائس ٹھیک رہے گی بابا کے لیے.... سوچ سوچ کر اسکے سر میں درد ہونے لگا تھا.... وقت دیکھا تو ظہر کی نماز ہوئے آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا، وضو کیا، نماز پڑھ کر اپنے اور بابا کے حق میں دل و جان سے دعا کی اور گولی کھا کر سو گیا.
شام چار بجے آنٹی اسے اٹھانے آ گئیں، تابش جلدی سے نہاری لے آؤ.... باقی تیاری میں نے کر لی ہے، ساتھ میں روغنی نان بھی پکڑ لانا.... نہاری کے ساتھ روغنی نان ہوں تو مزا دوبالا ہو جاتا.... آنٹی چسکے لے کر کہہ رہی تھیں...
وہ آنکھیں مل رہا تھا.... اٹھنے کو بالکل بھی جی نہیں چاہ رہا تھا پر مجبوری تھی....
آنٹی جاتے جاتے پھر پلٹ آئیں، سنو تم نہاری کہاں سے لاؤ گے.... یہی جو قریب ہے سردار جی سے.... اس نے جمائی روکتے ہوئے کہا.
نہیں اس کی اتنی اچھی نہیں، تم ایسا کرو ہشام اینڈ برادرز سے لے آؤ، اس کی کھاؤ گے تو انگلیاں چاٹتے رہ جاؤ گے... .
اسکی آنکھیں پوری کی پوری کھل گئیں... . آپ نے کب کھائی،
اس نے الٹا سوال داغ دیا.
وہ جب میں نئی نئی بیوہ ہوئی تھی تو محلے والے بہت خیال کرتے تھے..... ہمسائی نے منگوائی تو مجھے بھی بھیج دی....اس نے آپ کو بتایا تھا کہ کہاں سے منگوائی ہے، اس نے آنٹی کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا.
مجھے اچھی لگی تو پوچھ لیا کہ کہاں سے منگوائی ہے...اب اس میں ایسی کونسی ہے، انہوں نے خفگی سے کہا.
پر وہ ریسٹورنٹ تو ابھی چھ ماہ پہلے کھلا ہے.... تابش نے مشکوک ہوتے ہوئے پوچھا.
اوووو ہاہاہا مجھے بھی بھولنے کی عادت ہوتی جا رہی، ہو سکتا ہے یہ چھ ماہ پہلے ہی کی بات ہو.... اچھا چھوڑو، یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی، تم جلدی سے لے آؤ، ایسا نہ ہو بلاول صاحب تم سے پہلے آ جائیں.... آنٹی ساری باتیں ہوا میں اچھال کر منظر سے غائب ہو گئیں.
Rate this Novel
Categories:
Age Difference Based Contemporary Fiction Forced Marriage Based Innocent heroin based novels Love Story Based ROMANTIC NOVELS Romantic Urdu Novel Romentic Love Story Social Issues BAsed Social Romantic Novel urdu novels
Tags:
