Saza-e-Ishq by Areeba Sehar NovelR50421 Saza-e-Ishq Last Episode
Rate this Novel
Saza-e-Ishq Last Episode
Saza-e-Ishq by Areeba Sehar
جمرات کے دن ساری ینگ جنریشن شاپنگ پر گئ ۔
تمہارے لیے ڈریس میں پسند کرونگا ۔۔۔۔نین نے زرمین کو برائڈل ڈریس لینے سے منع کیا ۔۔۔۔
جی نہیں میری اکلوتی شادی ہے۔،میں اپنی پسند سے لونگی زرمین نے اختلاف کیا ۔۔۔۔۔
ہاں میری تو دس بارہ شادی ہوچکی ہیں۔۔نین نے جل کر جواب دیا ۔۔۔
ڈریس پسند کرتی ۔۔۔زرمین نے ایک نظر دیکھا ۔۔۔۔پھر مزید دل جلانے کے لیے بولی ۔۔۔موصوف 2 تو کرچکے ہیں ۔۔۔اور کرنے کی حسرتیں ہیں تو جانب ابھی ختم کرلیں ۔۔میں جو کرونگی آپ اور آپ کی چہیتی سہے نہ سکے گی۔ ۔۔۔پھر نہ کہنا میں نے وارن نہیں کیا۔ ۔۔۔۔۔
باقی شاپنگ چھوڑ ان دونوں کو انجوئے کرنے لگے۔ ۔۔۔
اچھا تو اب طعنے دو گی ۔۔۔۔۔اور اسلام میں چار کی گنجائش ہے ۔۔۔۔۔اور میں اچھا مسلمان بننے کی کوشش کررہا ہوں۔۔۔نین زیر لب مسکرایا۔
شاید ٹھیک سے سنا نہیں ۔۔۔میں وارن کر چکی ہوں ۔۔۔ زرمین نے انگلی اٹھا کر تنبیہ کی ۔۔۔
کیا پھولن دیوی کی روح سے مل لی ۔۔۔زرمین کی دھمکی کو چٹکی میں اڑایا ۔۔۔۔
پھولن دیوی کیوں میں نئ تاریخ بناوں گی ۔۔۔۔آہ ہا کتنا اچھا ہوگا تاریخ میں میرا نام بنے گا ۔۔ ۔ ۔۔زرمین نے مسکرا کر کہا ۔۔۔۔۔
تو کب کررہے ہیں تیسری ۔۔۔۔۔
نین نے زرمین کے دونوں بازو پکڑ کے اپنے قریب کیا ۔۔۔۔زندگی دعوا تو نہیں کرونگا کیونکہ انسان کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔۔پر پوری کوشش کرونگا جب تک زندہ ہوں تمہارا ہی رہوں گا ۔۔۔تم سے ہی عشق کرونگا ۔۔۔۔۔۔تمہاراوفادار رہوں گا، اپنی محبت سے مالا مال کرونگا ۔۔۔۔اور زرمین کی پیشانی چوم کر خود میں محصور کیا ۔۔۔
زرمین بھی آسودگی سے گلے لگی ۔۔۔۔۔
دونوں ہی اردگرد کو بھول گئے ۔۔۔چند پل تو علی نے ویٹ کیا کہ رومینس سیشن جلد ختم ہو ۔۔۔مگر نہیں
علی نے نین کا اور حنا نے زرمین کا کندھا تھپتھایا ۔۔۔۔
کیا ہے یار ہاتھ ہے یا ہتھوڑا ۔۔۔نین اس مداخلت پر سخت بےمزہ ہوا ۔۔۔جبکے زرمین شرما گئ ۔۔۔۔
بھائ ہم شاپنگ پر آئے ہیں ۔۔۔۔اگر رومینس کرنا تھا ۔۔۔مجھے بھی بتاتے میں بھی کچھ تیاری کرتا ۔۔۔ علی نے حنا کو آنکھ ماری ۔۔۔۔حنا جھینپ کے ادہر ادہر دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔ویسے بھی بھائ پبلک پلیس ہے خیال کریں ۔۔۔لوگوں کو مفت میں فلم نہ دکھائیں ۔۔۔ ۔
نین نے گھورتے کہا باز نہیں آنا فضول باتوں سے ۔۔۔چلو دیر ہورہی ہے ۔۔۔۔
ابھی جو رومینس ہورہا تھا اسمیں دیر کا احساس نہ جاگا ۔۔۔بس بھائ کی باتیں دیر کرارہی ہیں ۔۔ علی نے دہائ دی ۔۔۔۔
نین مسکرایا ۔۔۔ ۔ اس وقت پانچ بج رہے ہیں ۔آٹھ بجے تک سب کی شاپنگ ہوجانی چاہیے ۔۔۔ارحم نے سب ہی کوکہا ۔۔۔۔
مایوں کے لیےلڑکوں نے سفید اور لڑکیوں نے اورنج سوٹ لینے کا فیصلہ کیا ۔۔۔۔ ۔۔زرمین نے پیلا سوٹ لیا اور نین کو بھی پیلا کرتا دلایا۔ ۔۔۔۔۔بچوں کے لیے بھی سیم رکھا۔ ۔۔
بارات کے لیے اسٹائلش غرارہ اور دیدہ زیب شیروانی لی گئ۔ ۔۔۔جبکہ زرمین کے لیے نین نے اناری کلر کا شرارہ اور زرمین کی پسند پر وائٹ شیروانی پر اناری کڑھائ کے کام کی شیروانی لی ۔۔۔ اور نین نے اپنی پرنسس کے لیے شرارہ لیا ۔۔۔۔اور سالار کے لیے سمپل کرتا لیا ۔۔موصوف لائٹ سوٹ پسند کرتا ہے ہیوی پہنادو تو باجا بجنے لگ جاتا ہے اور ماں باپ اپنی شادی چھوڑ کر کیا اب بچےسنبھالتے ۔۔۔۔۔
ولیمہ میں سب خواتین نے میکسی اور لڑکوں نے اسٹائلش تھری پیس سوٹ لیا ۔۔۔۔۔۔
زرمین کی پسند سے ولیمے کے لیے وائٹ میکسی اور نین نے وائٹ سوٹ لیا ۔۔۔۔
شاپنگ اور ڈنر کرتے دس بج گئے ۔۔۔۔۔اب اتنی رات ہوگئ ہے گھر چلتے ہیں ۔۔۔صبح گاوں کے لیے نکلتے ہیں ۔۔۔۔نین نے کہا ۔۔۔
نہیں بھائ کل کی تیاری کرنی ہے ابھی نکلتے ہیں پہنچ جائیں گے جلدی ۔۔۔اور گارڈ بھی ساتھ ہیں اس لیے خواتین کے ساتھ رات کا سفر مسئلہ نہیں ۔۔۔۔۔ارحم نے جواب دیا ۔۔۔اور سب نے تائید کی۔ ۔۔
نین دل مسوس کر رہے گیا ۔۔۔اس نے سوچا تھا آج کی رات زرمین کے ساتھ وقت گزارے گا مگر نہیں سارے ہی کباب بنے بیٹھے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔________________________________
جمعہ کا دن بڑا ہی ہنگامہ خیز شروع ہوا ۔۔۔جمعہ کی تیاری کے ساتھ مایوں کی بھی تیاری کی گئ ۔۔۔۔علی کی شادی کی طرح اس بار بھی اریجمنٹ کرنے والوں کو شہر سے بلا لیا گیا ۔۔۔۔۔دونوں کے ننھیال کو فون کے ذریعے انوائٹ کیا گیا ۔۔۔اور سب ہی اس خوشی میں شرکت کرنے آگئے ۔۔۔مایوں مشترکہ رکھا گیا ۔۔۔۔ سفید حویلی کے لان کو گیندے کے خوبصورت پھولوں سے سجایا گیا ۔۔۔ برقی قمقے ہر طرف آنکھوں کو خیرا کرنے والی روشنی دے رہے ہیں ۔۔۔۔دلہن کے لیے اسپیشل ڈولی سجوائ گئ اور نین کے لیے بگھی کا انتظام تھا ۔۔۔۔۔۔
زارا اور پھوپھو بہی صبح سے آگئیں ۔۔۔زارا بھی 4مہینے کی پریگنسی سےتہی۔ ۔۔۔
آپی میں نے آپ کے لیے مایوں کا سوٹ لیا لیکن یہ تو آپ کو آئے گا نہیں ۔۔۔زارا کے بھرے سراپے کو دیکھ کر بولی ۔۔۔
کوئ نہیں چندا میں خود بھی پیلا سوٹ لائ ہوں ۔۔۔۔مگر میں یہ والا سوٹ رکھ لوں گی ۔۔۔زارا نے محبت سے کہا زرمین کے ہاتھ سے سوٹ لے لیا ۔
رات میں شہر سے بلوائ گئ بیوٹیشنز نے اپنی مہارت سے سب لڑکیوں کی خوبصورتی کو چار چاند لگائے ۔۔۔۔اور
لڑکوں کی بھی تیاری ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ۔۔۔نین چھ بجے سے تیار جلدی جلدی مچا رہا ہے مگر سارے تیاریوں میں مصروف ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔
کیا مسئلہ ہے تم سب کے ساتھ ایک دم نین کی دھاڑ نے سب کو ساکت کیا ۔ ۔۔آٹھ بج گئے تیاریوں میں عورتوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ۔۔۔دس منٹ میں تیار نہ ہوئے تو سب کو چھوڑ کر چلا جاوں گا ۔۔۔۔۔۔ ۔
آپ کو اکیلے انٹری کرنے دیں گے بڑےدادا ۔۔۔۔علی نے پلٹ کر جواب دیا ۔۔۔ اور بس یہی ساری دھاڑ کا بیڑہ غرق ہوا ۔ ۔
اچھاسوری مرو کرو تیاری ۔۔۔
پریشان نہ ہو برو بس فائنل ٹچ ہے ۔۔۔۔علی نے ترس کھایا ۔۔۔
احسان ہے آپ کا ۔۔۔۔نین نے کلس کر کہا ۔۔۔ کل رات سے زرمین سے نہ ملا صبح سے تین بار اریجمنٹ دیکھنے کے بہانے سفید حویلی کا چکر لگا چکا ہے مگر ایک بار بھی دل کا سکون دکھائ نہ دیا ۔۔۔لگتا ہے مایوں سے پہلے ہی مایوں بیٹھ گئ۔ ۔ تیسری بار تو دادا جی نے کہہ دیا اب سب کے ساتھ ہی آنا ۔۔۔آہ ہا ۔۔لوگ بڑے ظالم ہیں ۔۔۔نین نے سوچا ۔۔۔اور پھر لڑکوں کو مصروف دیکھ کر کمال شاہ کی طرف التجا ئیہ نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔جواباً دادا جی نہ تسلی دی یار میں خود تیار ہوں پر تمہاری دادی کا انتظار ہے پھر ان کو چھوڑ جائیں گے ۔۔۔۔کیسے چھوڑ جائیں گے ۔۔بگھی کے آگے بھنگڑا کون ڈالے گا ۔۔۔۔نین کے ماموں کا بیٹا اور سائرہ کا ہسبینڈ فائز بولا ۔۔۔سائرہ کا گریجویٹ کے بعد نکاح ہوچکا تھا ۔۔۔۔مگر لندن میں جاب کی مصروفیت کے سبب رخصتی نہیں ہورہی تہی اب پاکستا ن شفٹ ہوتے ہی، زرمین کے کومے کے سبب سادگی سے رخصتی لےلی تہی۔مگر ولیمہ دھوم دھام سے کیا تہا ۔۔۔۔۔ ۔۔۔
ان وجوہات کی بنا پر ہی میں تم سب گدھوں کا انتظار کرہا ہوں ۔۔۔نین نے پھر غصہ کیا ۔۔۔۔
او بھائ بے عزتی کی نہیں ہورہی۔۔۔۔ خالہ کا اکلوتا سپوت بابر بھی کیسے پیچھے رہتا ۔۔۔۔نہیں تو ہم سب دھرنا دیں گے ۔۔۔اور سوچ لیں دھرنے کی وجہ سے آپ کی مایوں کینسل بھی ہوسکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن فرقان صاحب کی آمد نے نین کو غصے سے کوئ بھی ردعمل دینے سے روک لیا ۔۔۔۔فرقان صاحب پہلے کمال شاہ سے ملے ۔۔۔۔اس کے بعد نین سے ۔۔۔۔کیسے ہیں بابا نین گلے لگا ۔۔۔
فٹ فاٹ ہوں ۔۔۔۔میرے بیٹے کی شادی کی خوشی نے پھر سے جوان کردیا ۔۔۔میرے وارث کہا ں ہیں ۔نین سے گلے مل کر نظر دوڑائ ۔۔۔۔۔ فارس اپنی مما کے پاس اور سالار اور زمر بھی مما کے پاس ہے اور میں آپ کے پاس ۔۔۔علی بھی جواب دے کر گلے لگا ۔۔۔۔۔۔۔
چلیں سب ۔۔۔پھر سارے کزن نین کی بگھی کے آگے ڈانس کرتے بڑھے ۔۔۔۔ارحم اور زاویار نے بھی خوب رنگ جمایا ۔۔۔دھمال کی نئ نئ قسمیں دریافت ہوئ ۔۔۔مسرور سا نین احمر کی یاد میں اداس ہوگیا ۔۔۔۔وہ بھی ہوتا تو کتنا خوش ہوتا ۔۔۔بھائ کے خوشی سے پہیکے پڑھتے چہرے کو دیکھ کر علی نے حوصلہ دیا ۔۔۔۔بھائ وہ جہاں بھی آپ کے لیے خوش ہے اس لیے اداس نہ ہو آپ کو اداس دیکھ اسے اچھا نہیں لگے گا ۔۔۔نین نے سمجھ کر سکون سے مسکرایا ۔۔۔۔وہ دور نہیں دل میں ہے ۔۔۔۔پھر کیسا غم ۔۔۔۔۔
زرمین بھی بگھی کا سن کر بالکنی میں آئ سب کے دھمال ڈانس اور بھنگڑے سے لطف اندوز ہوتی خود بھی ہلکا ہلکا ناچنے لگی ۔۔۔۔لان سے دادی نے یہ منظر دیکھا تو فورا شنو کو بیہجا ۔۔۔۔
کیا یار دادی بھی نہ اب بندی اپنی شادی بھی انجوائے نہ کریں۔۔مریضہ بن کر بیٹھ جائے ۔۔۔زرمین نے خفگی کا اظہار کیا ۔۔۔۔
________
اب تم مجھے کیوں گھور رہی ہو شنو کو بولی۔
زرمین بیبی بہت سوہنی لگ رہی ہو قسمے آج۔۔۔۔
اس سے پہلے زرمین اتراتی سب کزن زارا کہ ساتھ آئ ۔۔۔چلو ۔۔۔ہیں میرے لیے تو ڈولی تہی ،کیا پیدل جاوں ۔۔۔
نہیں میں تم کو گود میں اٹھا کر لے چلتی ہوں ۔۔۔ماہرہ نے طنز کیا ۔۔۔۔۔ملکہ عالیہ آپ اپنے پیروں پر چل کر لاونج کے دروازے تک جائیں گی وہاں ڈولی میں بیٹھے گی ۔۔۔
زرمین مسکرا کر چل پڑی ۔۔۔
حسنین بگھی سے اتر کر اسٹیج پر بیٹھا ۔۔۔اور زرمین کے انتظار کرنے لگا ۔۔۔۔جہاں اب سارے لڑکے ڈولی لیے زرمین کو لیکر آرہے ہیں ۔۔۔۔جیسے ہی زرمین ڈولی سے اتری ۔۔۔نین کے ارمانوں پر پانی پیھرا ۔۔۔زرمین لمبا گھونگھٹ ڈالے ہوئے تہی۔ ۔۔۔باری باری سب نے رسم کی ۔۔۔۔نین نے کافی کوشش کی زرمین کا چہرہ دیکھ لے مگر کامیاب نہ ہوا ۔۔۔۔۔
اسٹیج پر سارے ہی تھے سرگوشی کرنے کا موقع بھی نہیں ملا ۔۔۔ اسٹیج سے اترنے کے بعد بھی نظر رکھی ۔پھر نین کی پرنسس نے مدد کی ۔۔۔۔
رسم کے بعد زرمین نے زمر کو گود میں لیا ۔۔چار ماہ کی بچی اپنی مما کو گھونگھٹ میں دیکھ کر گھبراگئ فل والیوم سے تان لگائ ۔۔۔زرمین نے بوکھلا کر گھونگھٹ اٹھا دیا ۔۔۔میری بچی کیا ہوا ۔۔۔بچی صاحبہ تورونے میں مصروف ۔۔۔ابھی اردو سمجھ نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔۔پھر ایک نظر زرمین پر ڈال اپنی پرنسس کو کھڑے ہو کے چپ کرایا ۔۔۔باپ کو مسکرا کر دیکھا ۔۔۔جیسے کہہ رہی ہو۔ ۔پپا اب مما کو دیکھ لو۔ ۔۔اور نین بھی سمجھ گیا ۔ ۔۔۔
آپ کے پاس فورا چپ ہوگئ ۔۔۔میں تو لگتا ہوں اس کی کچھ نہیں لگتی باپ کی چمچی ۔۔لائیں دیں ۔۔۔زرمین کو باپ کی گود میں چپ ہونا نہ بھایا ۔۔۔۔جھٹ اظہار کردیا ۔۔۔
لو زرمین کو دے کرمحبت سے دیکھنے لگا ۔ ۔ زرمین کا ہاتھ پکڑ کر بولا بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔دل چاہا رہا ہے سب سے دور لے جاوں ۔۔۔۔
زرمین بغیر شرمائے ۔۔۔۔آپ بھی بے حد اچھے لگ رہے ہیں ۔۔۔ کیا ہوا رہا پے ، کوئ شرم ہوتی ہے جو لگتا ہے تم دونوں کے پاس نہیں ۔۔۔تھوڑی دیر اسٹیج کیا خالی چھوڑا فورا باتیں شروع ۔۔۔زرمین گھونگھٹ گرا جلدی ورنہ دلہن بن کر روپ نہیں آئے گا ۔۔۔دادی نے دونوں کی کلاس لی ۔۔۔نین نے کچھ خفا سی نظر دادی پر ڈالی ۔۔۔یار دادی مایوں کم کرفیو زیادہ فیل ہورہا ہے ۔۔۔اتنی سختیاں۔ ۔۔۔
نین کی بات پر سب ہی ہنس دیے ۔۔۔پرتکلف ڈنر کے بعد بھی ہلا گلا رہا ۔۔۔۔
دوسرے دن مہمان گاوں کی سیر کرنے چلے گئے ۔۔۔اور نین کو بھی اپنے ساتھ زبردستی زبردستی لے گئے اسے موقع ہی نہیں ملا سارا دن ایک بار بھی زرمین سے ملنے کا اور رات میں بھی سب کزن رونق لگا کر بیٹھ گئے ۔۔۔۔اتوار کے دن سب برابر گاوں جہاں احمر فاونڈیشن کے تحت بچوں کے لیے کھیل کا گراونڈ بنایا ۔۔۔اس کو دیکھنے چلے گئے اور ساتھ حسنین کو لیجانا نہ بھولے ۔۔۔
سفید حویلی کے مہمان بھی ساتھ گئے اور زرمین بیبی دادی کے نرغے میں مختلف ٹپس لے رہی ہیں ۔۔۔۔جیسے اس نے گذشتہ ایام سسرال میں گزارا ہی نہیں ۔۔۔
اتوار کی رات حسنین کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوا ۔۔۔اور دل زرمین کے لیے حد سے زیادہ بے چین ۔۔۔۔اس نے ڈیٹ پلا ن وفا داروں کے ذریعے رکھی ۔۔۔۔
بخش مجھے ہر حال میں آج ہی زرمین سے ملنا ہے ۔۔۔۔نین نے کہا ۔۔
مٹھل مجھے یاد آرہا ہے کوئ کہہ رپا تھا اسے چھپ چھپ کرملنے والے پسند نہیں ۔۔۔۔
نین کو اپنی بات یاد آئ ۔۔۔آنکھیں دکھائ ۔۔۔اور بولا ۔ ۔ ہاں تو نامحرموں کا نا پسند ہے اور میں تو اپنی بیوی سے ملنا چاہتا ہوں ۔۔۔مسکرایا ۔۔۔۔مٹھل کے بجائے حسنین نے جواب دیا ۔۔۔۔
اچھا ۔۔۔تو جائیں ۔۔کس نے روکا ہے بیوی کے پاس جانے سے ۔۔۔اب کے مٹھل بولا ۔۔۔نین کی حالت دونوں کو مزہ دے رہی ہے ۔۔۔
نہ کرو یار سب پتہ ہے کیسے سارے میری بیوی پر قبضہ کرکے بیٹھ گئے ۔۔۔۔اس کے پاس موبائل بھی نہیں ۔۔نین نے بےچارگی دکھائ ۔۔۔
مٹھل تم شنو کو بولو اسے حویلی کے دائیں باغ میں لے آئے اور بخش تم وہاں موجود چوکیداروں کو سنبھالو ۔۔۔۔
مٹھل نے فون لگایا اور باتیں کرنے لگا ۔۔۔کچھ دیر تو نین نے برداشت کیا پھر موبائل چھین کر خود ہی شنو کو بولا ۔۔بات کرکے موبائل ہاتھ میں دے دیا ۔۔۔اس سارے وقت میں بخش مسکراتا رہا۔۔۔۔
کتنے عرصےسے بات نہیں کی تھی ۔۔۔سوال کیا
میری نئ نئ شادی ہوئ ہے اور آپ کی شادی شروع تو اب شنو کو زیادہ وقت حویلی اور میرا آپ کے ساتھ ۔۔۔ستم ہے ۔۔مٹھل کو بھی دل کا حال سنانے کا موقع ملا ۔۔۔۔
سمجھ سکتا ہوں تمہارا غم ۔۔۔گزر رہا ہوں اس دور سے ۔۔۔نین نے بھی تائید کی ۔۔۔
کافی دیر سے مسکراتا بخش اپنا قہقہ نہ روک سکا ۔۔۔دونوں کے ایک ساتھ گھورنے پر جلدی سے ہنس روکی ۔۔۔دس بجے کی ملاقات فکس کی ہے ۔۔جلدی کام کرو ۔۔۔۔میں چلا تیار ہونے ۔۔۔۔
دائیں طرف آیا تو دیکھا دونوں چوکیدار کے ساتھ مل کر چائے نوش کررہے ہیں۔۔۔دونوں چوکیدار نے سلام کرکے ڈر وجھجک کر چائے پینے کی آفر کی ۔۔۔۔ ۔۔۔چائے زندگی میں کبھی بری نہ لگی مگر اس وقت زہر لگی ۔۔۔
نہیں ۔۔کوئ کام دیا تھا ۔۔۔یہ چائے پی کے وقت ضائع کیا ۔ ۔ مٹھل کو گھور کر برہم بولا۔ ۔۔۔
جی سائیں آپ ادہر آئے بس 5 منٹ میں کام ہوتا ہے چائے میں بے ہوشی کی دوا ہے ۔۔اب صبح ہی ہوش آئگا ۔۔اور ان کی جگہ۔ بخش اور قادر لے لیں گے اور میں شنو کے ساتھ گھر چلا جاوں گا ۔ ۔ ۔ ۔ مٹھل نے پلان بتا دیا ۔۔
زرمین سب سے چھپ کر باغ میں آئ ۔۔ویسے بھی دوسرے گاوں کی سیر کےسبب مہمان بھی آج جلدی سوگئے ۔۔۔۔
_______________________________________________
نین ،زرمین کی طرف بےتابی سے بڑھا ۔۔۔۔اور زرمین بھی مگر کچھ قدم رک گئ ۔۔۔۔
کیا ہوا ملو گی نہیں زندگی ۔۔۔۔نین کی بوجھل آواز نے زرمین کو شرمگیں کردیا وہ آگے آنے کی بجائے دو قدم اور پیچھے ہوئ ۔۔۔
کوئ دیکھ نہ لے ۔۔۔زرمین ڈر سے بولی ۔۔۔
تو کیا ہوا ؟ میں تمہارا محرم ہوں ۔۔۔۔
زرمین نے ایک نظر نین کو دیکھا جو اس کے انتظار میں تھا آنکھوں میں محبت کا رتجگہ صاف نظر آیا ۔۔۔اور ساتھ ہی اپنی محبت کا دیا جو اس کو دیکھ کر روشن ہوا ۔۔۔۔اور اس نے ان کی روشنی کو آگے بڑھ کر نین کو گلے لگا کر بڑھا دیا ۔۔۔۔ کچھ دیر دونوں ایسے ہی کھڑے رہے موبائل کی بپ سن کر زرمین نے حصار سے نکلنا چاہا مگر نین نے گرفت مضبوط کی ۔۔۔نین نے اسکرین دیکھی علی کالنگ پر اس نے فون ہی سوئچ آف کردیا ۔ اور بڑبڑایا ۔۔۔چین نہیں ایسے ،تم سے سے اطمینان سے ملنے ہی نہیں دے رہے ۔۔۔۔زرمین ہنس پڑی ،سر اٹھا کر محبت سے بولی ۔۔۔۔دو دن پہلے تو ملے تھے ۔۔۔دو دن نہیں دو صدیاں لگ رہی ہیں ۔۔۔اور اپنی بے چینی کا حال بتایا ۔۔۔۔۔۔
جسے زرمین سن کر مسکراتی رہی اور نین اس کی مسکراہٹ دیکھ کر خوش ہوتا گیا ۔۔۔۔
میں دو دن سے ٹھیک نہیں سویا ۔۔۔چلو چپکے سے فارم ہاوس چلتے ہیں ۔۔۔
جی آپ کی سرخ آئیز سے اندازہ ہورہا ہے ۔۔ایسا کرتے ہیں میرے روم چلتے ہیں فجر ٹائم آپ چلے جانا ۔اور اس وقت گھر والے تو سو رہے ہیں بس گارڈز ہیں ۔۔۔زرمین نے فارم ہاوس کا آئیڈیا رد کر کے نئ تجویز دی ۔۔۔
جسے نین نے فورا قبول کی ۔۔۔۔چلیں ۔۔۔
ہاں چلیں، ایک منٹ، چلتے قدم رکے۔ ۔۔آپ میرے لیے گفٹ نہیں لائے ۔۔۔ڈیٹ پر آئے ہیں خالی ہاتھ ۔۔۔۔۔۔
گفٹ تو نہیں لایا۔ ۔۔کیا گفٹ بھی لاتے ہیں۔ ۔۔مجھے پتہ نہیں یار گفٹ بھی ضروری ہے میری پہلی ڈیٹ ہے اس لیے معلومات نہیں کچھ ۔۔۔۔۔ نین نےشرمندہ ہو کر کہا ۔۔۔۔اور دل میں افسوس اترا کچھ تو لے ہی آتا ۔۔۔۔۔
اور زرمین کو گفٹ نہ لانے کا صدمہ ۔۔۔۔۔کسی سے پوچھ لیتے خیر ۔۔نین آپ نے مجھے ابھی تک کوئ بھی گفٹ نہیں دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کو پتہ سالار نے اپنی بیوی امامہ کو ایک کروڑ کی رنگ دی ۔۔۔
کیا ۔۔۔سالار کی اتنی ہمت ۔۔۔ میں اتنی محنت سے کما رہا ہوں دن رات میٹنگ اور ڈیلز کرتا ہوں ۔۔اس نے صرف ایک رنگ خرید ی ۔۔۔سیٹ ہوتا تو میں درگزر کردیتا ۔۔۔کہا ں ہے وہ ۔۔۔۔۔ایک تو گفٹ نہ لانے کی شرمندگی ۔۔۔اوپر سے کبھی گفٹ نہ دینے کا شکوہ نین کو خود پر غصہ آیا ہی تھا سالار کی شاہ خرچی کی بات نے اس غصے کو عروج پر پہنچا دیا ۔۔۔۔زرمین دونوں ہاتھ کمر پر رکھے ۔۔۔گھورنے لگی ۔۔۔۔
گھور کیوں رہی ہو بلاو ۔۔ایسے کان کھینچوں گا آئندہ دس بار سوچے گا ۔۔۔سالار سالار ۔۔۔بھول ہی گیا ۔۔چھپ کر آیا۔۔۔۔چوکیدار تو بے ہوش ہیں مگر آگے حویلی کے گارڈ جاگ رہے ہیں ۔۔۔۔مگر فاصلہ تھا اس لیے آواز نہ گئ ۔۔۔۔۔آواز دیتے دیتے یاد آیا چھوٹا بچہ خود کیسے آئے گا۔ ۔۔۔۔یاد آہی گیا ۔۔ لیکن اپنا سالار تو ابھی چھوٹا ہے اس کی شادی کب ہوئ ۔۔۔۔۔
شکر ہے آپ کو یاد آ گیا ۔۔۔۔اور میں اتنی ا چھی ہوں کہ اپنی بہو کو اتنی مہنگی رنگ دینے دونگی ۔۔۔ میں بہت بری ساس بنو گی ۔۔اور میں سالار حسنین کی نہیں سالار سکندر کی بات کررہی ہوں ۔۔۔زرمین نے ناک چڑھائ ۔۔۔۔
یہ کون ہے ۔۔۔۔۔نین بےچارگی سے بولا ۔۔۔۔
کیا آپ سالار کو نہیں جانتے ۔۔۔۔میں گفٹ نہ لانا معاف کردیتی مگر یہ بات نہیں ۔۔۔۔۔
اچھا میں معلوم کرلونگا تم ناراض نہ ہو مجھے سخت تھکن ہورہی ہے دیکھو میری آنکھیں، سرخی بڑھتی جارہی ہے ۔۔۔۔
سوری ہم بعد میں یہی سے لڑائ کریں گے ابھی چلیں ۔۔۔۔
نین نے زرمین کے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے معصومیت سے کہا ۔۔۔جانم سونا ضروری ہے کیا ۔۔۔۔۔
زرمین جو برابر میں لیٹنے ہی والی تہی فورا جگہ سے اٹھی۔۔۔جی آپ روم میں سونے ہی آئے ہیں ۔۔۔اس لیے صرف اور صرف سونا ہی ہوگا ۔۔۔۔اگر آپ نے پہیلنےکی زرا بھی کوشش کی تو میں نے دادی کو آواز لگا دینی ہے ۔۔۔اور میرا روم ساونڈ پروف ہرگز نہیں ہے ۔۔۔زرمین نے دھمکی دی ۔۔۔
نین نے جل کر کہا لگ رہی ہو اس وقت دادی کی پوتی ۔۔۔۔
خیر گڈ نائٹ وش تو لازمی کروں گا ۔۔۔۔اور زرمین کو
کہینچ کر خود میں بھینچ لیا ۔ ۔ ۔ ۔۔
اٹھیے سرتاج زرمین نے فجر میں نین کو اٹھایا ۔۔
گہری نیند میں ڈوبا نین اٹھنے سے انکاری ہوا ۔۔۔۔لیکن
زرمین نے اٹھا کر ہی دم لیا ۔۔۔۔۔جلدی سے جائیں ۔۔۔اس سے
پہلے سب اٹھیں اور حویلی میں چہل پہل ہو آپ جائیں ۔۔۔ یار میں روز آجایا کروں ۔۔۔۔نین نے واشروم سے آتے پھر آنے کی اجازت چاہی ۔۔۔۔
جی نہیں کل سارے تھکے تھے اس لیے آپ کو موقع مل گیا ۔۔میں باہر دیکھتی ہوں جلدی آئے ۔کچھ اٹھ گئے ان سے بچ کر جاتا نین لاونج میں پکڑا گیا ۔۔دادا جی جو آج جلدی میں تسبیح بھول گئے ۔۔۔۔لینے پلٹے ۔۔۔۔
ہممم برخودار یہا ں کیسے ۔۔۔۔
وہ میں نے سوچا کہ سب سورہے ہیں جلدی سے مل کر آجاوں گا اور پھر نماز پڑھ لونگا ۔۔۔۔
کیوں امام صاحب کو کہہ کر آئے تھے میں ذرا مل آوں میری آمد پر جماعت کھڑی کرنا ۔۔۔۔
ن نہ نہیں ۔۔۔وہ ۔۔۔میں خود پڑھ لیتا ۔۔۔۔۔
یعنی بغیر جماعت ۔۔۔۔افسوس ہوا تم تو ایسے نہ تھے ۔۔۔۔پتہ ہے جماعت سے پڑھنے کا کتنا فائدہ ہے چلو ۔۔۔۔
پھر پورے رستے وہ جماعت کا فائدہ سنتے اور واپس آتے آیا ۔۔۔۔۔
________
نماز سے آکر حسنین ڈرتا ہی رہا نہ جانے کب دادا جی سب کو بتائیں اور بے عزتی کردیں مگر خیر ہی رہی ہے ۔۔۔۔رات کو پھر زرمین کی یاد ستائ ۔۔۔اف یہ محبت بھی ہر وقت محب کو ہی مانگتی ہے ۔۔۔چل نین بیٹا باھر ہی چل نہیں تو پہلی پہلی محبت کا میٹھا درد سہا نہ جائے گا ۔۔۔بس چند دن اور پھر جو میں کبھی رکنے نہ دوںگا ۔۔۔۔مگر باہر نکلتے نین کے قدم رک رہے گئے ۔۔پہلی محبت ۔۔۔زرمین بھی تو کرتی تہی اور میں نے کیا اسے جدا کردیا ۔۔۔گلٹ کا احساس جاگا ۔۔۔اب تو مجھ سے ہی کرتی ہے ۔۔میں معافی مانگ لونگا ۔۔۔۔میں ماہرہ سے پوچھتا ہوں محبت تہی یا پسندیدگی ۔۔۔ ڈائریکٹ سوال نہیں پوچھوں گا گول مول کرتا ہوں ۔۔۔خود سے باتیں کرتا نین ماہرہ کے دروازے تک پہنچ گیا ۔۔۔
دستک پر ماہرہ نے دروازہ کھولا کیا ہوا نین بھائ تین بج رہا ہے کوئ کام ہے کیا ۔۔۔۔۔۔۔کیا ہاتھ میں پین ہورہا ہے ۔۔۔۔
نہیں ۔۔اب بہتر ہے انجکیشن اور دوائیوں سےبہت فائدہ ہے ۔ ۔ ۔۔مجھے سعدی یوسف سے ملنا ہے ۔۔۔پوچھنا کیا تھا پوچھ کیا لیا ۔
۔۔رات کے ۔۔۔اچھا آپ کو نیند نہیں آرہی ہوگی ۔۔۔
پھر وہ خاموشی سے الماری تک گئ ۔۔نین سمجھا چادر لینے گئ ہے ۔۔۔مگر وہ تو بک لے کر آگئ ۔۔۔یہ لیں ۔۔۔
نین حیرت سے بولا ۔۔۔میں سعدی یوسف کی بات کرہا ہوں اور تم۔ کیا دے رہی ہو ۔۔۔
ہاں نہ بھائ اسمیں ہی تو ہیں سعدی یوسف اور فارس غازی ۔۔۔نمرہ احمد کا مشہور ناول ۔۔۔آپ پڑھیے گا اور بتایے گا مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آیا سعدی ہیرو تھا یا فارس ۔۔۔۔۔نین کے دل میں چھبی آخری پھانس گلٹ ختم ہوا ۔۔۔۔اف اتنی بڑی غلط فہمی ۔۔۔ میں بدھو ہوں۔۔مسکرایا۔ ۔
ٹھیک ہے جاتے جاتے پھر زہن میں کلک ہوا سالار سکندر کا بھی پوچھ لے ۔۔۔یہ سالار سکندر کون ہے ۔۔۔۔
آپ سالار کو بھی ۔۔۔۔۔ ہاں ابھی بارات میں تین رات اور آئیں گی ۔۔۔جلدی سے گئ تین بکس اور اٹھا لائ ۔۔۔یہ پیر ِ کامل اور یہ آب حیات اسمیں ہے سالار سکندر اور امامہ ۔۔۔چلو یہ مسٹری تو حل ہوئ ۔۔۔نین نے دوبارہ سکھ کا سانس لیا ۔۔۔اور یہ تیسری بکس ۔۔۔۔
یہ جنت کے پتے ہیں جہاں سکندر اور حیا کی اسٹوری ۔۔یہ سب آپ کی بیگم کے ہی ہیں لے جائیں آرام سے پڑھیں ۔۔۔
تھینکس ماہرہ ۔۔۔میرا اتنا بڑا مسلہ حل کیا ۔۔۔تو انعام بنتا ہے ۔۔۔اور انعام میں ارحم کیسا رہے گا ۔۔۔۔نین شرارت سے بولا ۔۔۔
ماہرہ نے حیران نظروں سے دیکھا جی بھائ ۔۔۔آپ کو کیسا پتہ ۔۔میرا مطلب ہے آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔
میں اب محبت پہچاننے لگا ہوں ۔۔۔۔فکر نہ کرو ۔۔۔تمہارا بھائ تم کو من پسند گفٹ ضرور دیگا ۔۔۔۔گڈ نائٹ ۔۔۔
ماہرہ شرم سے مسکرادی ۔۔۔۔۔
جیسے تیسے کرکے دن گزر ہی گئے ۔۔۔کوئ بہانہ کارگر نہ ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آخر بارات کا دن آگیا ۔۔۔۔۔۔۔ بارات کا انتظام۔ حسن شاہ کے فارم ہاوس میں کیا گیا جبکے ولیمہ لال حویلی میں رکھا گیا ۔۔۔
حسنین بھائ مہندی میں آپ بگھی میں چلے گئے آج بارات لیکر کس میں جائیں گے ۔۔۔۔کار تو سجوائ نہیں ۔فائز فکرمند ہوا تم ٹینشن نہ لو سب انتظام ہوجائے گا ایک بات سارے کان کھول کر سن لو سب ک سب آٹھ بجےبرات لیکر نکل جانا ۔۔۔۔۔ اور کال پر بات کرتا باہر نکل گیا ۔۔۔مٹھل سارا انتظام ہوگیا۔۔۔ٹھیک ۔ ۔۔۔۔۔ سیڑھیاں اور میرے روم تک رنگ برنگی پھول سجے ہوں ۔۔اور میرے روم میں ریڈ روز ہوں صرف ۔۔۔۔
پھر مینجر کو کا ل کی ۔۔۔دونوں کام ہوگئے ۔۔۔
جی سر بڑا ہی مہنگا بنا ہے ۔۔۔۔ہم ایک اور نئ فیکٹری کھول لیتے ۔۔۔۔
تم سے مشورہ مانگا حسنین برہمی سےبولا ۔۔سات بجے تک میرے فارم ہاوس پہنچا دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
آج تو زرمین کی سج دھج نرالی ۔۔۔۔ایک الوہی چمک کا حصار ۔۔۔خوشی سے دوچند چہرہ ۔۔۔ایک خوبصورت بہار کا کارنگ محسوس ہوا ۔۔۔دادی کو زرمین کی یہ خوبصورتی سات دن کے مایوں کی مرہون منت لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔جبکے زرمین کو اپنے اکڑو سے عزت کے ساتھ ملنے کی خوشی لگی ۔۔ زارا کو بیوٹیشن کا کمال لگی ۔۔۔جو بھی وجہ ہو یہ تو طے ہے حسنین کے تو ہوش اڑیں گے ۔۔۔۔۔
تیسری بار نکاح کے لیے دادا نے منع کردیا ۔۔۔دو بار ہی کافی ہے دلہن بنی زرمین اسٹیج پر بیٹھی حسنین کا انتظار کے ساتھ ساتھ زاوی کے موبائل میں سیلفی لینے میں بھی مصروف ہیں ۔۔۔۔اور دادی گھورنے میں ۔۔ ۔
آپی مجھے بھی سیلفی لینے دیں ۔۔۔۔۔۔زاوی موبائل لیکر اتر گیا ۔۔۔۔اور اسٹیج پر زرمین اکیلی رہ گئ ۔۔۔۔اچانک زرمین پر پھول گرنے لگے ۔۔۔زرمین تو خوشی سے اچھل پڑی واو پھولوں کی بارش ۔۔۔۔سر اٹھا کر دیکھنا مشکل ہوا ۔۔۔۔۔صرف کھڑ کھڑ کی آواز سنائ دی ۔۔۔سارے اس منظر سے حیرت کے ساتھ خوش بھی ہوِئے ۔۔۔۔بارش بند ہوئ ۔۔۔زرمین نے دیکھا ۔۔۔ہیلی کاپٹر لائٹوں سے لشکارے مار رہا ہے ۔۔۔اور اب فارم ہاوس پر موجود گارڈن میں اترا جہا ں گارڈز کے علاوہ کوئ نہ تھا ۔۔۔۔اس میں میں وائٹ شیروانی اور میچنگ کا کلاہ پہنے حسنین باہر آیا ۔۔۔۔اس کی آمد پر گارڈز نے فائرنگ کرکے استقبال کیا ۔۔۔جیسے جیسےقدم بڑھتے جارہے ہیں ویسے ویسے ہاں موجود مصنوعی انار روشن ہوتے جارہے ہیں ۔۔۔۔۔
کیا دبنگ اینڑی کی ہے ۔۔۔۔فائز نے سراہا ۔۔
حسن صاحب کو بھی سمجھ آگیا آج شادی کی تقریب سجانےکی زمہ داری نین نے کیوں لی ۔۔۔۔ بہت خوب بھائ علی آگے بڑھا ۔۔۔۔اور گلے لگا ۔۔۔نین بھی مسکرایا ۔۔اور کزنز کے گھیرے میں اسٹیج پر پہنچا ۔۔۔۔
اور زرمین اپنے اکڑو کی شاندار آمد پر حق دق رہ گئ ۔۔۔۔اسی طرح تو سوچا تھا ۔۔۔۔حسنین کو کیسا پتہ چلا ۔۔۔۔۔۔زرمین بےتحاشہ خوش ہوئ ۔ ۔
اسٹیج پر پہنچ کر نین کی نظر زرمین پر پڑی ۔۔۔اور پلٹنے سے انکاری ہوئ ۔۔سب فراموش ہوگیا ۔۔۔آس پاس کیا ہورہا ہے کچھ پتہ نہیں ۔۔۔۔یاد ہےتو ۔۔بس آنکھو ں کی ،دل کی پیاس بجھ رہی ہے سجنی کے دیدار سے ۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔
اور زرمین حسنین کے مہبوت ہوجانے پر شرم سے چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپاگئ ۔۔۔ لیکن حسنین ٹس سے مس نہیں ہوا ۔۔۔اسے تو محبوب کی اس ادا نے اور پرشوق ۔۔۔دیوانہ کیا ۔۔علی نے ہی ہوش دلایا۔۔بھائ تمہاری ہی دلہن ہے گھر جا کر مجسمہ بن جانا لیکن خدارا ابھی انسان بن جاو ۔۔۔۔
علی کی بات پر حسنین ہاتھ سر پر پھیر کر رہ گیا ۔۔۔۔اور زرمین کے برابر جا کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔ سلامی کی رسم شروع کی گئ اور دلہا دلہن کے ساتھ فوٹو شوٹ کروایا ۔۔۔پرتکلف ڈنر کے بعد رخصتی ہوئ ۔۔۔۔ہر دلہن کی طرح زرمین بھی سب سے مل کر روئ ۔۔۔۔
بھائ اب رخصتی کس میں ہوگی ۔۔۔کار تو سجوائ نہیں ۔۔۔بابر نے پوچھا ۔۔۔۔۔
میں جیسے آیا تھا ویسے ہی جاونگا ۔۔۔اور علی سب کو بتا دینا ۔بابر کے ساتھ ساتھ علی کو کہا ۔۔اور آنسو بہاتی زرمین جو زارا سے مل رہی تہی جس کے سر پر قران کا سایہ فگن کیے کھڑا ہے زاوی بھی رونے میں مشغول ہے ۔۔۔اس کے پاس آیا۔۔اور جلال شاہ سے پوچھا ۔۔۔دادا جی اجازت ۔۔۔۔جو کہ وہ فون پر پہلے بھی لے چکا تہا۔ ۔۔
دادا جی نے مسکرا کر سر ہلایا ۔۔۔۔۔۔
اور پھر حسنین نے زرمین کو گود میں اٹھا کر بڑھا ۔۔۔۔سب نے ہوٹنگ شروع کردی ۔۔۔مگر بے پرواہ نین آگے بڑھتا ہیلی کاپٹر کی طرف بڑھا ۔۔۔ایک با پھر انار جلے۔۔۔۔گارڈز نے فائرنگ کی ۔۔۔نین زرمین کو لیکر ہیلی میں بیٹھا ۔۔۔۔اور سب نے ہاتھ ہلا کر الوداع کیا ۔۔ زرمین بچاری تو حیران ہی رہ گئ بالکل ویسا ہی ہورہا ہے مگر نین کو کیسے۔ ۔۔۔۔۔پرواز شروع ہوئ اور سیدھا حسنین کے فارم ہاوس لے گئ ۔۔۔ چھت پر لینڈنگ کے بعد نین نے پھر سےگود میں لینا چاہا مگر زرمین نے منع کیا ۔۔۔اور آہستہ آہستہ سیڑھی کی طرف بڑھی اور پھر شاک ہوئ ۔۔۔خوش ہوتی اتری ۔۔لاونج میں پہنچی۔ ۔۔۔اور نین کے روم کا دروازہ کھولا ۔۔۔اب حیران نہ ہوئ بلکہ نین کی محبت پر مسکرائ ۔۔۔ بہت خوب ۔۔۔۔بہت پیارا ۔۔۔ ۔ زرمین دروازے پرکھڑے بولی ۔۔۔
تم سے زیادہ پیارا نہیں ۔۔۔۔زرمین کو بانہوں کے حصار میں لے لیا ۔۔۔۔تم سے زیادہ خوب نہیں۔ ۔۔۔زندگی آج اتنی دلنشین لگ رہی ہو، لگ رہا ہے بندے کے حواس کسی کام کے نہیں رہے ۔۔۔
نین کی بات سے زرمین کو شرم آئ ۔۔۔ماحول کے بوجھل پن کو ختم کرنے کی ناکام کوشش کی ۔۔اور مجھے لگ رہا ہے۔۔میں شرما شرما کے کہیں مر ہی نہ جاوں ۔۔ ۔
زندگی نین غصے سے چیخا ۔۔۔مذاق میں بھی میں یہ نہ سنو ۔۔۔پلیز لہجہ التجائیہ کیا ۔۔۔دعاوں سے پایا ہے ۔۔۔۔دوبارہ مرنے کی بات مت کرنا ۔۔۔۔شدت سے خود میں زرمین کو سمایا ۔۔۔اور زرمین نین کی شدت و۔ محبت سے رونے لگی ۔۔۔
میں نے بھی دعاوں میں مانگا تھا ۔۔۔بے حد محبت کرتی ہوں ۔۔ابھی سے نہیں ۔۔۔۔
نین نے گرفت ڈھیلی کی بے یقینی سے دیکھا پہلے سے ۔۔کب یار مجھے کیوں نہں بتایا ۔۔۔
ہم اندر جائیں گے یہاں ہی کھڑے رہیں گے ۔
سوری ۔۔تم چلو میں ڈور لاک کر کے آیا ۔۔۔
روم لاک کرکے الماری سے ایک بک نکالی ۔۔۔۔
یہ منہ دکھائ ۔۔۔۔۔نین نے بک بڑھائ ۔۔۔
کیا یہ بک دے رہے ہیں مانا کے مجھے ناولز پسند ہیں مگر میں ایک عدد لڑکی ہوں مجھے بھی زیور بھاتا ہے ۔۔۔زرمین صدمے سے بولی ۔۔۔۔
مجھے لگا تم کو اچھا لگے گا ۔۔۔۔
ہونہہ۔ ۔۔اب لےہی آئے تو لینا پڑے گا ۔۔۔بک ہاتھ میں لی جس پر آب ِ حیات کندا ہوا ہے ۔۔۔۔یہ اتنی ہلکی کیوں ہے۔۔۔حیرت سے نین کو دیکھا ۔۔۔ یہ ناول بک کی شکل میں جیولری بکس تھا ۔۔۔۔پھر جلدی سے کھولا ۔۔۔اندر ایک خوبصورت بریسلیٹ ۔۔جس کا ڈئزائن ایک طرف اردو اور دوسری طرف انگلش ورڈز میں گولڈ سے حسنین اور زرمین کا نام سے بنایا گیا ۔ اور بیچ میں ریڈ ڈائمنڈ لگا بریسلیٹ کو چار چاند لگا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
نین اتنا حسین ہے ۔۔۔۔۔تم سے زیادہ نہیں ۔۔ ۔بریسلیٹ ہاتھ میں پہناتا بولا ۔۔۔۔ بتایا نہیں ۔۔۔پہلے کب سے محبت کرتی ہوں ۔۔۔۔
کیا واقعی۔۔۔۔۔پہلےبتادیتی تو مجھے انار کلی کی طرح دیوار میں خود چن دیتے ۔۔۔۔اتنے تو آپ کھڑوس ہوتے تھے ۔۔۔ہاں اب ٹھیک ہیں ۔۔۔
نین نے کھڑوس کہنے پر مصنوعی گھورنا چاہا مگر نہ گھور سکا مسکرا بولا جو دل چاہے بلاو مگر پیار سے بلانا ۔۔۔اللّہ کا خاص کرم ہے بھٹکتے ہوئے مجھے سیدھی راہ دی اور انعام میں تم کو نواز دیا ۔۔۔۔میں عشق کا بھی شکرگزار ہوں اس نے سزائیں ختم کرکے ہمیں ایک دوسرے کابنا کر محبت بھری دلکش سزا دی ۔۔۔۔
ہاں سچ کہا ۔۔۔زرمین نے اطمینان بھری سانس لی۔ ۔۔ایک بات بتایے ۔۔یہ بارات کی اتنی شاندار اینڑی اور یہ حسین پھولوں کی سجاوٹ ۔۔۔۔کا آپ کو کیسے پتہ چلا ۔۔۔۔
جنت کے پتے ناول میں سے ایک پرچا نکلا تھا جو تمہاری ہیڈ رائٹنگ میں تھا ۔۔۔جو تمہاری وش لگی میں نے سوچا قابل عمل ہے تو عمل کرلوں اور اگر ِجہاں جیسا غریب ہوتا تو نہیں کرتا ۔۔۔۔
اچھا ۔۔۔دل سے شکریہ ۔۔۔۔اور جہا ں کی تو بات ہی نہ کریں فضول کا غریب بنتا ہے ۔۔۔آپ ناولز پڑھتے ہیں ۔۔۔
نہیں ۔۔یہ تو تمہارے ہجر میں پڑھے جو چار راتیں گزری تمہارے بنا مشکل گزری ۔۔۔۔اور کوئ شکریہ نہیں حق ہے اور محترمہ اب مجھے بھی گفٹ دیں ۔۔۔
سوری دادی کا سخت پہرہ تھا بازار نہ جاسکی ۔۔۔اس لیے بعد میں لیجیے گا ۔۔۔
رئیلی ۔۔۔۔بازار سے لانا تھا مجھے یاد ہے پیپر میں تو کچھ اور ہی گفٹ کا زکر تھا ۔۔۔۔
چھوڑیں پیپر کو۔۔۔۔ زرمین نے سٹپٹا کر کہا ۔۔۔۔
آج میری اسپیشل نائٹ ہے اس لیے میں کوئ تشنگی نہیں چاہتا ۔۔اس لیے مجھے میرا گفٹ ابھی چاہیے ۔۔۔
ٹھیک ہے لیکن آنکھیں بند کریں ۔۔۔
نین نے آنکھیں بند کی زرمین نے پہلے دائیں ،پھر بائیں گال پر کس کی ۔۔۔اور پیچھے ہٹنے لگی ۔۔۔نین نے گرفت مضبوط کرکے کے حصار تنگ کردیا ۔۔۔۔
ولیمہ کی تقریب شاندار ہوئ حسنین کے کافی بزنس ریلٹیو اور احباب نے شرکت کی ۔۔۔زرمین پریوں کی طرح چہکتی ادھر سے ادھر پھر رہی ہے ۔۔۔
دادا جی آپ خوش ہیں ۔۔۔حسنین نے جلال اور کمال شاہ سے پوچھا ۔۔۔دونوں نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔حسنین آسودہ محبت سے زرمین کو دیکھ کر رب کی بارگاہ میں پھر شکر گزر ہوا۔۔۔۔اور شکر تو بار بار بنتا ہے اللّہ نے اپنے کرم سے تمام آزمائشوں سے نجات دےکر محبتوں سے بھرپور زندگی عطا کر دی
_______________________________________________
یار کیوں ٹینشن لے رہی ہو۔ ۔۔یہ جوس پیوں ۔ ۔ ۔ ہوسپٹل میں ادہر ادھر چکراتے،فکرمند حسنین نے زرمین سے کہا ۔۔۔
کیسے فکر نہ کرو سات سال ہوگئے انتظار کرتے ۔۔۔کب امامہ آئے اور میرے بچے کی جوڑی مکمل ہو ۔۔۔۔کیوں زاوی آئے گی نہ ۔۔۔ نین کو جواب دیتی۔۔آس سے زاوی سے بولی ۔۔۔۔
میں کیا کہہ سکتا ہوں آپو ۔۔۔۔یہ تو اللّہ کے ہاتھ میں ہے ۔۔۔۔۔زاوی عجزانہ بولا ۔۔۔
اور نین بھی پریشان ہے ۔۔۔اسے پتہ ہوتا تو دوسرا ہی نام رکھ لیتا ۔۔۔۔سالار نہ رکھتا ۔ ۔۔ زمر کو خاندان کی اکلوتی اور لاڈلی ہونے کاشرف ابھی تک حاصل ہے۔ ۔۔
علی کے بھی تین بیٹے ہوئے ۔۔۔زارا کے دو اور ارحم کا ایک
اکلوتا منتوں مرادوں سے ہوا ۔۔ ۔علی کے تیسرے بیٹے کی پیدائش پر تو زرمین صدمےسے بےہوش ہوگئ تھی ۔۔۔اور زاوی کی جلدی شادی کروائ اور اب فسٹ بیبیز وہ بھی جڑواں ۔۔۔۔اللٰہ ایک بیٹی دے دینا ۔۔پلیز میری زرمین پر رحم کر مالک۔ ۔۔۔۔حسنین زیر لب دعا میں مصروف ۔۔۔۔۔آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلا ۔۔۔ڈاکٹرآئ ۔۔۔۔
مبارک ہو بیٹی ہوئ ۔۔۔اللّہ کا لاکھ لاکھ شکر۔ ۔ ۔ میرے رب ۔۔۔۔زرمین اور حسنین نے بےساختہ سجدہ کیا ۔۔۔
زندگی خوشیوں سمیت آگے بڑھنے لگی ۔۔۔۔
