Saza-e-Ishq by Areeba Sehar NovelR50421 Saza-e-Ishq Episode 3
Rate this Novel
Saza-e-Ishq Episode 3
Saza-e-Ishq by Areeba Sehar
حسنین کا یہ انداز زرمین کو سخت صدمے سے دوچار کر رہا ہے ۔۔۔۔۔یہ سزا تو زرمین نے خود چنی ۔۔ ۔۔۔۔سزا کب ختم ہوگی آنے والا وقت ہی جانے ۔۔۔۔پر جو وقت گزر رہا ہے بہت کڑا ہے وہ نازوں پلی جس نے کبھی کوئی کام نہ کیا شوقیہ کوکنگ کورس کی کلاس لی جو دوہفتے بعد ہی چھوڑ دیں ۔۔۔وہ حسنین کے لئے مشکل مشکل کھانے پکا رہی ہے۔ ۔۔کھانا پکاتے وقت کئی بار زرمین کا ہاتھ جلا ۔۔تکلیف کی شدتوں کے باوجود کہولو کا بیل بنی صبح سے اٹھ کر کام کرتی ۔۔۔دن بھرکے کاموں کی تکلیف ایک طرف رات کی اذیت ایک طرف نین کو جب اپنا حق یاد آجاتا ۔ ۔ ۔ ۔۔۔اسے اس بات سے کوئ مطلب نہیں کہ زرمین تھکی یا بیمار ہے اگر اسے زرمین کی ضرورت ہے تو زرمین کو لازم سج سنور کر اس کی ضرورت پوری کرنی ہے ۔۔۔ ۔ ۔ زرمین اپنی ضرورت بننے پر بہت سسکتی تڑپتی ہے اسے نین کی محبت چاہت عشق بننا تھا مگر ایک ناگہانی خطا نے اسے صرف ضرورت بنا دیا
۔۔۔۔ ہیڈ نجمہ نے امیروں سے آج تک ملنے والی تکلیفوں کا بدلہ زرمین سے لینے کا ہی سوچ لیا چن چن کے کاموں میں غلطی نکال کر پہر کراتی اور زرمین جو واقعی بچاری بن گئ ہیڈ کے ہاتھوں بےعزتی نہ ہو جاِے اس ڈر پہر کام کردیتی ۔۔۔۔۔شروع میں گھر کے سب ملازمین حیران ہوے کے گھر کی ما لکن نوکروں کے ساتھ کام کر رہی ہیں کچھ کو زرمین پر ترس آیا کچھ ہیڈ نجمہ جیسے تھے۔۔زرمین کو سب پکارتے بی بی ہی تھے ۔۔۔۔یہ احسان ضرور کیا گیا زرمین کی ساری شوخی شررات نکاح ہوتے ہی ختم ہوچکی تہی اب اس میں سنجدگی اور رنجد گی بس گئ۔۔۔۔۔دن کام کرتے گزرجاتے ایک ماہ میں وہ ایک قابل ملازمہ بن گئ ۔۔۔قسمت کا پہیر شہزادی کو کیا بنا گیا۔ ۔۔لال حویلی سے جب بہی فون آتا وہ سب بہتر کا تاثر ہی دیتی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زرمین کچن میں ملازموں کے لیےبننے والا کھانا پکا رہی تہی ۔۔۔نجمہ نے کہا بیبی ‘صاحب آگئے جلدی سے کافی دے آو ۔۔
آج جلدی آگئے اس نے خود سے ہمکلامی کی کافی لیکر روم کی طرف بڑھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں نہیں بک رہا’ کیا ڈیمانڈ ہیں اسکی ‘ نین کی غصے بھری آواز پر دروازہ کھول کر اندر آتی زرمین وہیں رک گئ
نہ جانے کس پر غصہ ہو رہے میں سامنے گئ تو مجھ پر ہی نہ ہوجائے یہ سوچتے ہی مڑنے لگی کہ زاویار نام پر رک گئ ۔۔۔۔نین زرمین کی آمد سے بے خبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ہر حال میں زاویار کی ٹیم نے ہارنا ہے مجھے یہی اس کاکرکٹ کریئیر ختم کرنا ہے اس کی ٹیم کے کیپر کی جو بہی ڈیمانڈ ہے اسے پورا کرو ‘ ایک بچہ کنڑول نہیں ہورہا اگر گھی سیدہی انگلی سے نہیں نکلا تو انگلی ٹیڑ ھی کرو۔ ۔۔۔سمجھے مجھے رات تک خو ش خبری چاہیے ۔۔۔
فون رک کر مڑا تو زرمین کو کھڑا پایا ۔۔ اب کافی لے کر بت کیوں بنی کھڑی ہو غصیلا لہجہ برقرار ۔۔۔۔دو ۔۔۔
آپ نے ابہی کیا نام لیا ۔۔
اوہ سن لیا ٹھیک نام لیا زاویار ۔۔۔
آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں آپ نے کہا تھا بخش دیں گے ۔۔۔کافی نین کو دینے کے بجائے ٹیبل پر رکھ دی ۔۔۔نین کو زرمین کی یہ حرکت مزید غصے میں مبتلا کر گئ ۔۔۔تبہی بولا کب کہا میں نے ۔۔۔۔۔۔میں ہر اس مقام پر جب تمہارا بھائ کامیابی سمیٹتے منزل پانے والا ہوگا وہ منزل دور کردوں گا ۔۔۔سفاک اور تکبرانہ بولا ۔۔آج فائنل میچ ہے جس کی جیت میں ہار میں بدل کر اسے کیپٹن شپ سے محروم کر دوں گا ۔۔۔
اس دن کہا تھا آپ نے ۔۔۔۔آپ مذاق کررہے ہیں نہ ۔۔۔
میرا تمہارا مذاق ہے ۔۔۔نین نے ہنس پڑا ۔۔۔نین کی ہنسی زرمین کو سخت زہر گئ ۔۔۔
دونوں ہاتھوں سے تالیاں بجائ
نین نے اچنبھے سے دیکھا ۔۔۔کہیں دماغ تو نہیں چل گیا
سنا تھا مردوں کی زبان ایک ہوتی ہے لگتا ہے آپ مرد ہی نہیں نامرد ہے ۔۔۔ نامردانگی کے طعنے نے نین کو سرتاپا جھلسا دیا ۔۔۔۔نین نے زرمین کس کس کر دو تپھڑ لگا ے مگر بات کی آگ ختم ہی نہ ہوِ ئ تو بیلٹ نکال کر مارنے لگا زرمین گڑگڑانے لگی مجھے معاف کر دو ۔۔۔۔۔زرمین مار کھا کر بے ہوش ہوگئ ۔۔۔اس کو ٹھوکر مار کر بولا صرف چھ بیلٹ برداشت نہ کر سکی ۔۔۔باقی غصہ کمرے میں مجود چیزوں پر نکالا ۔۔۔بڑی مشکلوں سے خود کو کنڑول کیا ۔ ۔زرمین کی طرف بڑھا ۔۔۔ اٹھا کر بیڈ پر پٹخا ۔۔۔نجمہ کو کال کرکے فرسٹ ایڈ لانے کو کہا ۔۔۔۔
کبہی تم نے نرسنگ کی تہی یاد ہو یا نہیں بیبی کو دیکھو ڈاکٹر بولانے کی ضرورت نہیں ۔۔ ۔سنگدلی سے بولتا روم سے باپر چلا گیا ۔۔۔۔نجمہ کو زرمین سے زیادہ روم کی حالت نے افسوس کیا اتنے پیارے کمرے کا بیڑہ غرق کردیا ۔۔۔۔۔زرمین کی ٹریٹمینٹ کرنے لگی پانی ڈال کر ہوش دلایا درد کا انجکیشن لگایا ۔۔۔بیبی کپڑے بدلو تا کہ میں پہر مرہم لگادوں ۔۔۔زرمین کپڑے چینج کرنےگئ ۔۔۔نجمہ نے دوسری ملازمہ کو صفائ کے لیے بلایا ۔۔۔نہ جانے بیبی نے کیا بس مار ہی کی کسر باقی تہی وہ بہی آج پوری ہوئ دوسری ملازمہ بولی میری ماں نے مجھے بولا شوہر کا ہاتھ ایک بار اٹھ گیا تو سمجھ لینا پہر نہیں رکتا اس لیے شوہر کو کبہی غصہ نہ دلانا ۔۔۔واش روم سے باہر نکلتی زرمین نے ملازمہ کی بات سن کر اپنا دل ہی تھام لیا ۔۔۔کیا کرتی وہ اپنے بھائ کی ہار وہ کیسے برداشت کرتی غصے میں اندازہ ہی نہ ہوا کیا بول کر نین کا ہاتھ اپنے اوپر کھول لیا ۔۔۔۔
مار سے زرمین کو بخار چڑھ گیا دو دن ہوگئے اترنے کا نام ہی نہ لیا تو نین کی اجازت سے نجمہ زرمین کو ہوسپٹل لے گئ ۔ ۔ فوری ٹریٹمنٹ سے زرمین کا بخار اترا کمزوری دور کرنے کے لیے ڈرپ چڑھائ اور کچھ ٹیسٹ لیے
ان کی کنڈیشن ابہی توڑی بہتر ہے کل تک چٹھی ہوگی جب تک ٹیسٹ رپورٹ بہی آجائے گی ۔۔۔ڈاکٹر نے نجمہ سے کہا اور دوسرے مریض دیکھنے چلی گئ ۔۔ہوش آنے پر زرمین ضد کر کے گھر چلی آئ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملازمہ نے ٹھیک ہی کہا ‘حسنین زرا زرا سی بات پر ڈانٹنے اور مارنے لگا ۔۔ زرمین کو شہر آئے 2 ماہ ہونے والے تھے ۔۔۔۔۔ زرمین پر بہی آہستہ آہستہ بے حسی چھائ جا رہی ہے ۔۔۔زندگی میں تھوڑی سی تبدیلی آئ جب گھر کے چوکیدار کی والدہ رکنے آئ ۔۔۔بنگلے کے بیک سائیڈ پر سرونٹ کواٹرز بنے ہوے تھے جہاں اکثر زرمین کواٹرز میں بنے لان میں بچوں کو کھیلتا دیکھتی تہی ۔۔۔۔۔۔
چوکیدار کی والدہ نیک اور دینی رجحان کی مالک ہیں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹی تم کو دو دن سے دیکھ رہی تہیں کہ آج پتہ چلا تم حسنین بیٹے کی بیوی ہو میں نے تو ان کو اچھا پایاکئ بار میرے بیٹے کی مختلف معملات میں مدد کی ‘ تمہارے ساتھ ایسا رویہ سن کر مجھے اچھا نہیں لگا ۔۔بس اماں جی قسمت ۔۔قسمت بری ہے ۔۔۔موت نہ جانے کب آِےگی میں تھک گئ ۔ ۔ زرمین نے عرصہ دراز بعد اتنا ملائم اور میٹھالہجہ سنا تو فورا دل کا حال سنا یا ۔ ۔۔ ۔ بیٹی یہ رب کی آزمائش ہے ۔۔۔بیٹی تم صبر سے کام لو ۔۔۔نماز پڑہو ‘قرآن پاک پڑہواور دعا مانگو۔۔۔۔کیا تم نے شادی کے بعد اپنے نصیب کے اچھے ہونے کی دعا مانگی ۔۔۔کیا تم نے حسنین بیٹے کے رویہ اچھا ہونے کی دعا مانگی ۔۔دعا کے لیے الفاظ نہیں ‘ ڈھنگ نہیں ۔۔۔۔تو بس ہاتھ پہیلا لو وہ لفظوں کا محتاج نہیں۔ ۔وہ دل کی پکار سن لے گا ۔۔۔۔۔نصیب کی دعا تو شادی سے پہلے مانگتے ہیں اب تو شادی ہوگئ ۔۔۔نہیں۔۔۔ بیٹا نصیب اچھے ہونے کی دعا کرنی چاہیے نصیب ایک جیسا نہیں رہتا آج اچھاکل برا ۔۔۔جس بندے سے شادی ہوئ وہ شروع میں اچھا ہو چند سالوں بعد وہ اپنا رویہ بدل لے ‘ دوسری شادی کر لے ‘ طلاق دے دے تو ۔یا سسرال میں کوئ تنگی ہو ‘۔۔پہر عورت کیا کرے ۔۔اچھا یہی ہے وہ شادی سے پہلے اور بعد میں بہی اچھے نصیب کی دعا کریں دعا بڑی سے بڑی مشکل ٹال دیتی ہے ۔۔۔
آپ سے بات کر کےدل کو بڑا اچھا لگا ۔۔۔زرمین نے کہا ۔
نماز پڑہو گی تو دل کو سکون ملے گا’ نماز پڑہنی آتی ہے اماں نے سوال کیا ۔۔
جی شادی سے پہلے پڑھا کرتی تہی ۔۔انشاءاللہ آج سے ہی پڑھونگی اور آپ میرے حق میں دعا کرنا ۔۔۔میں آپ سے ملنے آجایا کروں ۔۔۔ہا ں بیٹی ضرور آو ۔۔۔
اچھا میں چلتی ہوں سائیں آنے والے ہونگے۔ ۔۔
اماں سے ملنے کے بعد زندگی میں تھوڑا چینج آگیا ۔۔۔تھوڑا صبر ۔۔۔۔آزمائش ابہی تھوڑی اور باقی ہے ۔۔۔ زرمین کو گاوں سے دور آج 3 ماہ ہوگئے ۔۔۔زرمین کو سفید حویلی شدت سے یاد آرہی تہی ۔۔اس نے ہمت کرکے فون کیا ۔۔ایر پیس پر دوپٹہ رکھا تاکہ کوئ آواز پہچان کر فون بند نہ کرے ۔۔۔ہیلو ۔۔۔فون ارحم نے اٹھایا ۔۔۔
ارحم کی آواز سن کر زرمین بوکھلاگئ اور غلط سوال پوچھ بیٹھی زرمین سے بات کرادیں میں اسکی کالج فرینڈ ہو ں۔ ۔۔۔
زرمین3 ماہ پہلے مر گئ ۔۔۔ارحم نے سنجیدہ سفاک لہجے میں کہہ کر فون بند کر دیا ۔۔۔
میں مر گئ سب نے مجھے مرا ہوا سمجھ لیا زرمین کو سخت شاک پہنچا رو رو کر بخار چڑھ گیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بیبی کو کب سے کہا تھا آج کھیر بنانے کو دیکھ شاداں ‘ کہا ں ہیں
شاداں گھبرائی ہوئی نجمہ کے پاس واپس آئ ۔۔۔جی بیبی کو تو بڑا سب بخارہے میں اتنی آواز دی لیکن انہوں نے کوئی جواب نہ دیا ۔۔۔
نجمہ بڑبڑ کرتی کمرے کی جانب چل دی نہ جانے بیبی کو بخار کیوں چڑھ جاتا ہے
دیر تک کوشش کرتی رہی مگر ہوش نہ آنے پر ہاسپٹل لے جانا ہی پڑا ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈاکٹر نے ٹیسٹ لیے ۔ ۔۔طبعیت زیا دہ خراب ہونے پر ایک دن ایڈمٹ ہونا پڑا ۔ ۔۔۔۔نین کو اطلاع دےدی گئ مگروہ دیکھنے نہ آیا۔ ۔۔
ڈاکٹر زویا نے ہوش میں آنے کے بعد زمین سے پوچھا تم کتنے سال کی ۔۔
زرمین نے نقاہت سے جواب دیا 18 سال کی ہوں ۔۔
تم بہت کمزور ہو تمہارا وزن بھی بڑا کم ہے صرف 44 kjاس حالت میں تم ایکسپیٹ کررہی ہو زویا نے فکر مند لہجے میں کہا۔۔۔زرمین نے بے یقینی سے دیکھا اور کہا کیا کہا آپ نے ۔۔۔
ڈاکٹر زرمین کی بے یقینی دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی ۔۔تم پریگننٹ ہو مگر بے حد کمزور ۔۔۔تمہاری یا تمہارے بچوں کی جان کو سخت خطرہ ہے مجھے افسوس ہے ابہی ابارشن بہی نہیں ہوسکتا تمہیں اپنا بے حد خیال رکھنا ہے ۔۔۔اپنے شوہر کو بولاو ۔۔۔میں اسے ہدایت اور مشورے دونگی تا کے وہ تمہارا خیال رکھ سکے تمہاری کنڈیشن اور اسکی اس وقت غیر موجودگی میرے ذہن میں کئی سوال کھڑے کر رہی ہے ۔۔۔ڈاکٹر زرمین کی حالت پر افسوس کرتے ہوئے بولی ۔۔
زرمین نے نین کا دفاع کیا ۔۔۔وہ میرے ساتھ اچھے ہیں ملک سے باہر ہیں اس لیے نہیں آے ۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی آپ کے ساتھ جو ہے وہ کون ہے ۔۔۔میں ان کو بتاتی ہوں ۔۔۔
زرمین جلدی سے بولی نہیں نہیں نہیں انہیں مت بتائے اپنے شوہر کو خود بتاؤں گی اور وہ میرے ساتھ میری ساس ہیں ۔۔۔زرمین نے دل میں سوچا سلوک توساس والا ہی کرتی ہیں ۔۔۔
ٹھیک کہاں رہتی ہو ۔۔۔زویا کو زرمین بہت اچھی لگی اس لیے اس سے ایڈرس پوچھا۔ ۔
ڈیفنس فیس ٹو اسٹریٹ 4 میں ۔۔۔۔ارے میں بہی وہیں رہتی ہوں اپنی دوست کے ساتھ انکسی میں ۔۔۔تم میرا نمبر لے لو جب بہی طبعیت خراب محسوس کرو مجھ سے کونٹکیٹ کر لینا ۔۔۔اور اپنا بے حد خیال رکہوں ۔۔۔بیڈ ریسٹ کروں ۔۔۔بچوں کی گروتھ کے لیے صحت بہت ضروری ہے ۔۔
بچوں زرمین نے پہر حیرت سے دیکھا ۔۔۔
زویا مسکرا کر بولی ٹوئن ہیں ۔۔۔میں ایک ہفتے کا ڈائٹ پلان اور داویاں دے دیتی ہوں اور روم سے چلی گئ
زرمین ابہی ٹھیک سے خوش بھی ہو نہیں پائی تھی کہ نجمہ نے آکر بولا گھر چلیں ۔۔ہاں ڈاکٹر سے دوائیاں لے لو پھر چلتے ہیں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔!۔۔۔۔۔۔
گھر پہنچنےپر زرمین کو گھر میں ہلچل سی محسوس ہوئی ۔۔ملازم سارے صفائ میں لگے تھے زرمین کچن میںگئ تو وہاں بھی سب مصروف ہی تھے ۔۔۔آج کوی خاص بات ۔۔۔زرمین نے پانی پیتے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شائستہ بولی آپ کو نہیں پتا ۔ ۔ ۔۔۔اور آپ کی طبیعت اب کیسی ہے
ٹیھک ہوں تم بتاو کیا خاص بات ہے
آج احمر صاحب کی برتھ ڈے ہے ۔۔۔حویلی سے فون آیا تھاسب آرہے ہیں ۔۔۔۔
زرمین کے ہاتھ سے گلاس چھوٹ جاتا ہے ۔۔۔وہ تیزی سے اٹھ کر نماز روم میں آکر روم بند کر کے دروازے سے ٹیک لگالیتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خود کلامی کرنے لگتی ہے ۔۔۔۔میں آج سامنے نہیں جاوں گی’ یہی رہوں گی ‘۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔کمرے میں سسکیاں گونجنے لگی ۔۔۔۔آج کافی دن بعد زرمین کی آنکھوں سے آنسو نکلے بے حسی نےآنکھوں سے آنسو نکلنا بند کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔ احمر کی سالگرہ کیسے منا سکتے ہیں ۔۔۔کیا مردہ لوگوں کی بہی سالگرہ ہوتی ہے ۔۔۔کیسےمنا سکتے ہیں ۔۔زرمین روتے روتے یادوں میں کھو گئی ۔۔۔
_____
کمال شاہ کو آج کے دن حسنین کی کیفیت کا اندازہ تھا اس لیے وہ بیگم کمال حنا اور علی کے ساتھ آئے ۔۔۔پھوپو گاوں میں ہی تہیں ۔۔۔
نجمہ نے سب کو سلام کیا ۔۔۔۔
دادا جی نےنجمہ سے حسنین کا پوچھا ۔۔۔
جی صاجب باہر ہیں ۔۔۔۔
زرمین کہا ہے دادی نے نجمہ سے کہتے ادھرادھر نظردوڑائ ۔
جی بیبی کی طبیعت خراب تہی دو دن ہوسپٹل رہی ہیں ابھی ایک گھنٹہ پہلے ہوسپٹل سے گھر آئیں ہیں ابھی آرام کر رہی ہیں ۔۔نجمہ نے تفصیل سے جواب دیا ۔۔۔
کل ہی میری حسنین سے بات ہوئ مجال ہے اس لڑکے نے زرا سا بھی بتایا ہو دادی نے ناراضگی کا اظہار کیا ۔۔ ۔
میں دیکھ کر آتی ہوں دادی حنا نے کہا ۔۔۔اور جانے کے لیے قدم بڑھاے ہی تھے حسنین کی آمد ہوئ ۔ ۔
حیرانگی سے دیکھا ۔۔
ارے آپ لوگ یہاں کیوں آگئے میں خود آنے والا تھا ۔۔۔پھر اکدم لہجہ میں میں جوش ابھرا ۔۔
میں نے احمر کے لیے اسپورٹس کارلی ہے ۔۔وہ بے حد خوش ہوگا ۔۔۔۔۔۔
یہ سن کر علی نے نم آنکھوں سے کہا ۔ ۔ بھائ احمر کو اسپورٹس کار کی نہیں ہماری دعاوں کی ضرورت ہے ۔۔۔وہ اب ہمارے درمیان نہیں ہے ۔۔۔
علی کی بات سن کر جوش مدہم پڑا ۔۔۔جوش کی جگہ غم وغصے نے لےلی ۔۔
کیوں ضرورت نہیں ۔۔۔دادا جی وعدہ کیا تھا میں نے ۔۔۔وعدہ پورا کیا ۔۔اسے بولے مجھ سے کار لینے آئے ۔۔۔ ۔ آواز بھرائ ۔۔۔۔بولو علی اسے آئے ۔۔۔
علی نے حسنین کو گلے لگایا ۔۔۔بھائ وہ نہیں آسکتا ۔۔مرگیا ہے ۔۔۔
حسنین نے جھٹکے سے علی کو دور کیا ۔۔۔۔۔۔شیشے کی ٹیبیل اٹھا کر پھیکی ۔۔۔کانچ ٹوٹنے کی گونج ہر طرف پھیل گئ ۔۔ ۔ ______________________________________________
وہ کاٹا ۔۔۔
واہ آپو زبردست ۔۔۔آپ بہت اچھی پتنگ اڑاتی ہیں ۔۔۔۔۔
بس کبھی غرور نہ کیا ۔۔۔زرمین نے اپنے نادیدہ کالر جھاڑے ۔۔۔۔۔اچھابہت ہوگئ ۔۔۔اب چلو ۔۔۔نہیں تو دادی کو پتہ چلا تو غصہ ہونگی ۔۔چھت پر کپڑے پھیلاتی زارا نے کام ختم کرکے دونوں کو کہا ۔۔۔۔
دادی کب غصہ نہیں ہوتی ۔۔۔آپی بس یہ ریڈ پتنگ کاٹ لوں ،بہت اونچا اڑ رہی ہے ۔۔پلیز میری اچھی آپی ۔۔
اچھا ٹھیک ہے ۔۔میں بس تھوڑی دیر ہی دادی کو سنبھال سکتی ہوں۔۔اس کے بعد تم جانواور دادی جانے زارا کہتی نیچے چلی گئ ۔۔۔۔۔۔
زاوی ڈور کو تھوڑی ڈھیل دو ۔۔۔آہہہہ۔۔۔۔۔ہوننننننن۔۔۔ یہہہہ ۔
اوہ ہہہہہ ۔کاٹ گئ ۔۔۔زرمین نے خوشی سے دھمال ڈالا ۔۔ ۔۔۔
زربردست آپی پورے گاوں میں آپ جیسی پتنگ کوئ نہیں اڑا سکتا ۔۔۔زاوی نے پہر تعریف کی ۔.
زاوی اگر پتنگ کا ورلڈ مقابلہ ہوتو میں پاکستان کو کپ جتواوں ۔۔۔زرمین نے فخریہ کہا ۔۔۔اب میں جلدی سے دوڑ لیپیٹو اور تم پتنگ سمیٹ لوں۔۔۔زرمین نے زاوی کو کام دیا
ادہر ادہر اڑتی پتنگ سمیٹتے زاوی کی نظر پورچ میں کھڑی پجارو پر پڑی ۔۔۔
آپو میری آپو ۔۔۔زاوی نے پکارا
ہاں میرے دلارے بھائ ۔۔۔۔
آپ کو پتہ ہے حسنین بھائ احم کی برتھڈے پر اسپورٹس کار گفٹ کریں گے ۔۔مجھے احمر نے بتایا تھا ۔۔۔
ہاں بھائ لاڈلا جو ہے ۔۔۔مگر مجھے کوں نہیں بتا یا احمر کے بچے نے ،ملنے دو زرا ایسی خبر لوںگی نانی یاد آجائے گی ۔۔اور زاوی تم فکر مت کرو میں جب بڑی امیر عورت ہوجاوں گی تو تم کو گفٹ کرونگی ۔۔زرمین نے زاوی کو بہلایا ۔۔۔۔
۔۔زاوی نے حیران ہوکر دہرایا۔۔۔بڑی عورت ۔۔۔
ہاں نہ بے وقوف ۔۔جب بڑا آدمی ہوسکتا ہے تو بڑی عورت کیوں نہیں ۔۔۔ تیوری چڑھا کر بولی ۔۔۔
جی جی آپو ۔۔ آپو اب جب دلائے گی تب دیکھیں گے ابھی میرا دل گاڑی چلانے کا ہورہا ہے پلیز چلائیں ۔۔۔
ٹھیک ہے پجارو کی آواز سے دادی اٹھ جائیں گی ظفر چچا کی کار چلاتے ہیں میں چابی لاتی ہوں تم۔گیراج کی طرف چلو ۔۔.
زاوی آہستہ چلانا ۔۔۔اگر گڑبڑ لگے تو فورا بریک لگانا ۔۔۔گاڑی چلاتے زاویار کو ہدایت دیتی ساتھ پیدل چلنے لگی ۔۔
آپو بڑا مزہ آرہا ہے۔۔۔باہر چلیں ۔۔۔بس حویلی کی رینج گلی تک چلاوں گا ۔. راونڈ میں بار بار سلو گاڑی چلاتے بولا۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔میں گیٹ کھلواتی ہوں ۔۔
زرمین نے چوکیدار سے کہہ کر دروازہ کھلوایا ۔۔۔۔اور زاوی کو آنے کا اشارہ کیا ۔۔۔اسی اثنا میں لال حویلی کا دروازہ کھولا ۔۔۔احمر کوچنگ جانے کے لیے نکلا ۔۔۔موبائل پر بات کررہا ہےسارا دھیان موبائل پر تھا۔۔۔۔۔۔زرمین نے ہاتھ ہلایا اور مسکرائ ۔۔۔
بھائ میرے سارے دوستوں کو پارٹی اچہی لگی ۔۔۔بس اسی وعدے کی طرح اسپورٹس کار بھی دلایے گا احمر چہکا ۔۔۔
کار ٹرن کرتے ہوے زاوی سے اکدم سپیڈ تیز ہوئ اس نے بریک لگانا چاہا مگر کار سیدھی گیٹ کے پار ہوئ اور فضا میں ایک درد ناک چیخ گونجی ۔۔۔کار لال حویلی میں کھڑے بلند پرانے برگد کے درخت سے ٹکرا کر روکی ۔۔۔زاوی کا سر ڈیش بورڈ سے ٹکرایا اور وہ ڈروخوف سے بے ہوش ہوگیا ۔۔۔
احمر کا چہکنا آخری ہوا اور کار اس سے ٹکرا کر روندتی ہوئ آگےبڑھی ۔۔اس کا جسم آنافانا خون میں نہا گیا جسم اور آدھا چہرہ مسخ ہوگیا ۔۔۔یہ لرزہ خیز منظر دیکھ زرمین کے بھی حواس کھوگئے۔۔۔دونوں حویلی کے گارڈ اور چوکیدار بھی اس قیامت خیز منظرکو دیکھ کر گھبرا گئے ۔۔اور کچھ اندر گئےباہر ہونے والی قیامت بتانے ۔۔۔
پورے گاوں میں سوگ کی کیفیت چھاگئ ۔۔۔ہر کوئ اداس اور غم زدہ نظر آرہا ہے ۔۔۔۔
کمال شاہ نڈھال اور دادی پر بار بار غشی طاری ہورہی ہے ۔اٹلی میں موجود فرقان شاہ کو اطلاع دے دی گئ ۔۔مگر حسنین سے رابطہ نہیں ہورہا ۔۔تنگ آکر آفیس فون ملایا تو ۔۔۔علیزہ نے بتایا ۔۔ایک گھنٹہ پہلے سر کو بدحواسی سے جاتا دیکھا ہے ۔۔۔اور علی سمجھ گیا نین کو پتہ چل گیا ۔۔۔
بس تدفیین کے لیے حسنین کا ہی انتظار ہے ۔۔۔زرمین روتے ہوئے معافی مانگنے کی نیت سے احمر کی طرف بڑھی ۔۔مگر تھوڑا ہی چل کر قدم نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا وہ وہیں بیٹھ کر رونے لگی ۔۔۔اسے آواز آئ اٹھا حسنین سائیں آگئے۔۔۔
زرمین نے ڈر کر پورچ میں دیکھا ۔۔۔
حسنین کار سے اترا ۔۔۔لوگوں کے ہجوم دیکھ کر کپکپاتی آواز میں پوچھا ۔۔۔مٹھل کیا کیا ہوا ۔۔۔
مٹھل کوبتانے کی ہمت نہ ہوئ بازو سے پکڑ کر احمر کے جسد خاکی کی طرف بڑھا ۔۔۔۔ککوکون ہے حسنین کی زبان خوف سے لڑکھڑائ ۔۔۔۔علی روتے ہوئے بولا بھائ احمر ہمیں چھوڑ گیا ۔۔۔۔۔۔جھوٹ بول ریے یس،مزاق کرہے ہو نہ بولو ۔۔۔ابھی میری احمر سے بات ہوئ تہی ۔۔۔تم بکواس مزاق کررہے ہو ۔۔۔دادا جی بولے ۔۔۔علی سچ کہہ رہا ہے ۔ ۔نین نے نے آگے بڑھ کر کفن ہٹایا ۔. ۔۔فق چہرے کے ساتھ بیٹھا احمر اٹھو ۔۔۔مذاق ختم کرو اور چیخنے چلانے رونے لگا ۔۔۔۔ زرمین کا دل کرا جا کر اسے تسلی دے مگر خوف نے پاوں جکڑ لیا اگر حسنین کو سچ پتہ چل گیا تو ۔ ۔ ۔
حسنین کے سوئم کے بعد حواس بحال ہوئے ۔۔ سب جان کر چالیسوایں کے بعد جرگہ بیٹھانے کا فیصلہ کیا ۔۔
سوئم میں فرقان شاہ بھی آگئے تھے جوان ہوتے بیٹے کی موت نے بےحد نڈھال کردیا ۔۔۔سب سن کر انھوں نے زاویار کو معاف کردیا ۔ ۔ مگر حسنین نے نہیں ۔ ۔ ۔
دادی زرمین کو مسلسل ڈانٹ کوس رہی تہہں ۔ نہ وہ چابی دیتی نہ بچے کی جان جاتی ۔ ۔
زاوی تو حادثے کے بعد گمسم ہوگیا ۔ڈر وخوف میں مبتلا ۔دن میں کرے سے باہر نہ نکلتا اور رات میں کبھی زرمین یا مما کے کمرے میں سوتا ۔ ۔سب اس کو سمجھا تسلی دے رہے ہیں ۔۔
آج سفید حویلی میں سناٹا چھا گیا سب نفوس موجود ہیں ۔۔۔پھر بھی سناٹا ہے ۔۔۔فکر پریشانی سے نیندیں اڑ گئ کہ کل جرگہ میں کیا فیصلہ ہوگا ۔۔
شنو روتی گھبراتی آئ ۔۔زرمین بیبیب ابھی میں نے سنا ۔۔ میں مٹھل سے بات کرہی تہیں ۔۔حسنین شاہ کی آواز آئ ۔۔میں نے سنا کل خون کا بدلہ خون ہوگا ۔ ایکسیڈینٹ کا بدلہ ایکسڈینٹ ہوگا ۔ ۔
زرمین کو ایکسڈینٹ سے احمر یادآیا نہی نہیں ۔۔میں حسننین کو میں یہ ظلم نہیں کرنے دونگی ۔۔
زرمین نے حسنین کے پاس جانے کا فیصلہ کیا ۔۔۔۔۔فضا میں چھناکے کی آواز گونجی۔زرمین چونکی جاگی حواسوں میں آئ ۔۔ڈرتے ،لرزتے ،کپکپاتے ہاتھوں سے تھوڑا سا دروازہ کھولا اوردروازے کی جھری سے جھانکا ۔۔
حسنین دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپائے رو رو رہا یے ۔۔۔
میرے بچے صبر کرو ۔۔مجھ بوڑھی دادی پر رحم کرو ۔۔تمہاری حالت میرے دل کو صدمہ دے رہی ہے ۔۔۔۔۔حسنین اٹھ کر دادی کے گلے لگا ۔بس میرابچہ ۔۔۔مت رو احمر کو تکلیف ہوگی ۔۔۔وہ وہاں اس جہاں میں خوش ہوگا دادی نے سمجھانے کی کوشش کی
آج پہلے کی طرح زرمین کا دل چاہا کہ حسنین کو گلے لگا تسلی دے، غم بابنٹےلیکن ڈر کے مارے پھر قدم رک گئے ۔۔
دادی آپ کو یاد ہے مجھے احمر کی آنے کی پہلے خوشی نہ تہی۔ ۔۔نین کی بات سے سب ہی ماضی میں داخل ہوگئے ۔۔۔۔
________________________________________________
مما مجھے زرمین جیسی گڑیا چاہیے ۔۔جس کے بال زرمین کے جیسے گولڈن ہوں ۔آئیز گرین ہوں. ۔گوری ہو ۔ اور روتی نہ ہو ۔ہر وقت مسکراتی رہتی ہو ۔۔۔
بس بس یار تم نے تو فرمائشی پروگرام شروع کردیا ۔۔۔۔ہم خود نہی۔ بناتے ۔۔اور کیا خیال ہے زرمین کو ہی لے آئیں ۔۔فرقان شاہ شرارت سے بولے ۔۔
تو چلیں لے کے حسنین فورا کھڑا ہوا ۔۔
ابھی تو نہیں آسکتی بیٹا جانی جب وہ بڑی ہوگی تو تمہاری دلہن بنا کر لیں آئیں گے ۔۔۔۔
حسنین سے تو 9سال چھوٹی ہے ۔۔علی کے ساتھ ٹھیک رپے گی ۔بیگم فرقان شاہ نے باپ بیٹوں کی بات چیت میں مداخلت کی ۔۔
عمر سے کچھ نہیں ہوتا ۔۔اور حسنین کو پسند ہے تو بس حسنین کے لیے آئے گی ۔۔۔آج ہی جا کر بات پکی کرتے ہیں ۔۔فرقان شاہ نے فیصلہ کیا ۔۔۔
کیا اتنی جلدی ہے اور کیا حسن بھائ مان جائیں گے. ۔۔ ۔۔
کیسے نہیں مانے گے میرے شہزادے میں کیا کمی ہے انکو ایسا داماد چراغ لیکر بھی نہیں ملے گا اور ۔۔۔
مجھے گڑیا چاہی باپ ماں کو بحث میں الجھا دیکھ کر چیخ کے بولا ۔۔
ہاں ہاں بیٹا تمہاری مماعمل شروع کرچکی ہیں اب تمہاری قسمت کہ گڑیا ملے یا گڈا ۔۔. فرقان نے پہر شرارتی لہجے میں کہا ۔۔۔
علی حسنین سے 4 سال چھوٹا ہے اور اللّہ نے 6 سال بعد خوش خبری دی ۔۔۔۔سائرہ حسنین سے دو سال جبکہ ماہرہ علی سے تین سال اور زرمین سے تین سال بڑی تہی ۔۔پیدائشی طور پر بیماری کی وجہ سے اسکول زرمین کے ساتھ ہی شروع کیا ۔۔۔
ارحم حسنین سے دو سال چھوٹا ہے جبکے حسن صاحب کو شادی کے چار سال بعد اولاد عطا ہوئ ۔۔ ۔۔۔۔۔زارا ارحم سے تین سال چھوٹی ہے۔۔زرمین زارا سے پانچ اور زاویار چھ سال چھوٹا ہے ۔۔۔ ۔
بلاآخر گڑیا کے آنے کا دن آیا،مگر گڑیا کی جگہ گڈا آگیا ۔۔نین سب سے ہی ناراض ہوا ۔۔بچہ کو ایک نظر بھی نہ دیکھا ۔۔۔رات میں دادی نے کوشش کی اور کامیابی پائ ۔ ۔
دیکھو تو اسکی آنکھیں حسنین جیسی ہیں اور ہونٹ ناک بھی حسنین جیسا ہے ۔۔۔کیوں فرقان یہ بال بھی تو نین جیسے ہیں بالکل چھوٹا نین ہے دادی نے کن انکھیوں سے دیکھتے کہا ۔۔۔
حسنین نے یہ سب سنا دوڑ کر پاس آیا بچے کو دیکھا ،اپنے سے ملتا پایا توفوراً خوشی سے ماتھے کو چوم لیا ۔۔۔ڈرائنگ روم میں بیٹھے سب ہی نے سکھ بھرا سانس لیا ۔۔۔
کمال شاہ نے خامشی توڑی میں نام رکھوں گا ۔۔۔
جی نہیں بابا علی کا نام آپ نے رکھا تھا اس لیے اب میں رکھوں گا ۔۔۔۔باپ دادا بحث شروع کرتے حسنین نے بیچ میں ہی روک دیا ۔میں رکھوں گا نام ۔۔احمر ہوگا ۔۔۔اچھا ہے نہ دادی ۔ ۔ ہاں بیٹا اچھا ہے ۔۔۔دادا اور فرقان شاہ دل مسوس کے رہ گئے ۔۔۔اب بحث کرکے حسنین سے جنگ لڑنے کی ہمت نہ تہی۔ ۔۔
حسنین نے احمر کو سچ میں اپنا گڈا ہی مان لیا ۔۔۔اس کی ساری زمہ داری خود لےلی ۔۔۔اسے چھوڑ کر شہر اسکول جانے سے منع کردیا ۔ ۔اور گاوں کے اسکول میں لگ گیا ۔۔
. بیگم فرقان اور انکے بھائ کے انتقال سے سب بچوں کی ذمہ داری کمال شاہ اور بیگم کمال پر آگئ اور حسنین تو احمر کا ماں اور باپ دونوں ہی بن گیا ۔۔ اعلی تعلیم کے لیے ابروڈ جانے سے منع کرکے حیدرآباد میں پڑھائ شروع کی ۔۔
بیگم کی حادثاتی موت نے فرقان کو تنہا کر دیا ۔۔اپنا سارا وقت بزنس میں لگا دیا ۔۔۔
وقت گزرا حسنین نے احمر کوشروع ہی سے لاڈ میں رکھا احمر بالکل نہ بگڑا ۔ ۔ اپنے سے چھوٹے زاویار کے ساتھ اسکولنگ اسٹارٹ کی ۔۔۔۔۔
حسنین کسی بھی حالت میں احمر کو اگنور نہیں کرتا آفیس میں کتنا ہی مصروف ہو احمر کی کال ایٹینڈ کرتا ۔ اس دن بھی آفیس میں کام چھوڑ احمر کی کال سن رہا تھا ۔۔۔آحمر کی چیخ نے حسنین کے دل کو انہونی کا احساس دلایا ۔۔۔اسکے دل ودماغ خوف میں جکڑا بد حواس ہو کر آفیس سے بھاگا راستے میں دو جگہ ایکسڈینٹ ہوتے ہوتے بچا چھ گھنٹے کا سفر چار گھنٹوں میں طے کیا ۔۔۔حویلی پہنچ کر مٹھل کو آواز لگائ ۔۔۔پہر حواس سوئم کے بعد جاگے ۔۔۔سچ سن کر زرمین اور زاویار کو جان سے مارنے کا دل کیا ۔۔لیکن سفید حویلی کی وجہ سے اپنا یہ فیصلہ جرگے کی صورت میں کرنا چاہا ۔۔۔
مٹھل شنو سے فون بات کرہا تھا جب حسنین کے بلاوے پر فون بند کرنا بھول گیا ۔۔۔
بخش زاویار کہاں ہے ۔۔
سائیں حویلی میں ہی ہے ۔۔
ہممم قادر کو بولا گاوں سے باہر جانے والے رستوں پر بندے بیٹھائے ۔۔۔۔زاویار باہر جانے کی کوشش کرے مار دینا ۔۔حسنین سنگدلی سے بولا ۔۔۔
جاو اب ۔تم ٹھرو مٹھل ۔۔۔
کل جرگہ میں کیا سزا دینی چاہیے ۔۔۔۔۔
سائیں میں کیا مشورہ دے سکتا ہو۔ ،زاویار حسن شاہ کا اکلوتا ہے معاف کردیں ۔۔۔
ٹھیک کہا مٹھل تم کو مشورہ دینا نہیں آتا ۔۔۔میرے بھائ کو مارا ہے خون کا بدلہ خون ۔۔ایکسڈینٹ کا بدلہ ایکسڈینٹ ۔۔اب اس کی قسمت وہ بچتا ہے یا مرتا ہے ۔۔۔ حسنین کے لہجے میں بات میں اندازمیں سفاکی ہی سفاکی دکھ رہی ہے ۔۔۔
مٹھل کے بعد دادا جی کمرے میں آئے اور جرگہ ختم کرنے کی گزارش کرتے حدنین کے سامنے ہاتھ جوڑے ۔۔جس پر نین نے ہاتھ کھول کر انکی بات مانی
د ۔۔۔آہ آہ دادی جان ۔۔حنا نے درد سے کراہتے سب کو ماضی کی بھول بھلیوں سے نکالا ۔۔حنا کا ساتواں مہینہ چل رہا ہے ۔۔۔ علی نے فورا گود میں اٹھا کر روم میں لا کر چیک کیا ۔۔۔سفر ۔۔بھوک اوراحمر کی یادوں سے حنا کو ٹیشن سے درد ہوا ۔۔۔اس سب میں زرمین کو بھول گئے حنا کی طبعت بحال ہوتے ہی گاوں روانہ ہوئے ۔۔۔
انکے جانے کے بعد زرمین نے شامت سے بچنے پر شکر مناتی بیڈروم میں چلی گئ ۔۔
گاوں جا کر احمر کی قبر پر فاتحہ کے بعد حسنین کچھ دیر قبر کے پاس ہی رہا وہیں اسے اٹلی سے فرقان شاہ کے اٹیک کی خبر ملی ۔۔وہ علی کو لیکر اٹلی جانے کے لیے نکلا ۔۔اور 15 دن وہاں رہا ۔۔یہ دن زرمین کے بہتر گزرے ۔
_______
زرمین نے کسی کو اپنی پریگنسی کا نہیں بتایا ۔۔سواے اماں کے ۔۔۔فون پر انھوں نے زرمین کو ہدایتیں دی ۔۔سورہ مریم ہفتے میں ایک بار پڑھنے کو کہا ساتھ ہی کھجور روز کھانے کی ہدایت کی ۔۔ زرمین کو ان سے بات کرکے اچھا لگا ۔ ۔ وہ کام کرتے وقت احتیاط سے کرتی ۔۔۔اس کی بھوک میں اضافہ ہوا ۔نجمہ ایک ظالم ساس کا کردار ادا با خوبی کررہی تہی۔ ۔دنمیں تو نجمہ سے نظر بچا کر کچھ نہ کچھ کھا لیتی مگر رات بہت مشکل ہوتی ۔۔نجمہ فریج اور اناج کیبنٹ میں روز رات کو تالا لگا دیتی ۔۔صرف حسنین کی کافی کا سامان باہر رکھ دیتی تہی کہ حسنین کو کب کافی چاہیے تب بن جاے ‘ابہی حسنین نہں تہا تو کافی کا سامان کام آیا ۔۔زرمین کی میڈیسن ختم ہوگئ ۔۔۔اس کے پاس پیسے بالکل نہیں تہے ۔۔۔اس کے ذہن میں اپنی رنگ آئ جو شادی کے بعد ماہرہ نے گفٹ کی اس نے اسے بیچنے کا فیصلہ کیا ۔۔۔
چوکیدار بھائ آپ میرا ایک کام کر دیں گے ۔۔۔
جی بیبی
یہ گولڈ کی رنگ ہے اسےآج ہی بیچ دیں گے ۔۔۔مجھے سخت ضرورت ہے
چوکیدار نے حیرت سے سوچا اس گھر کی مالکن ہو کر ایک رنگ بیچنے کی کیا ضرورت ہے پہر غور سے دیکھا اور سر ہلایا ۔۔یہ بد رنگ کپڑے پہنے مالکن تو کہیں سے نہیں لگ ہی واقعی ضرورت ہوگی بچاری سے نجانے صاحب کون سی دشمنی نبھا رہے ہیں۔۔
چوکیدار کو اپنا جائزہ لیتے دیکھ زرمین شرمندہ ہو کر بولی ۔۔کوئ بات نہیں میں کسی اور سے پوچھ لونگی ۔آپ سے اس لیے بولا کہ آپ کی ڈیوٹی ختم ہوجاے گی تو آپ مجھے آج ہی لادیں گے ۔۔۔
نہیں بیبی کسی کو نہ بولیں میں لادوں گا ۔۔
زرمین رنگ دے کے چلی گئ اور حسنین کے گارڈ نے دیکھ لیا ۔۔۔
چوکیدار نے اپنی بیوی کے ساتھ جا کر رنگ بیچ دی سوچا پہلے بیوی کو گھر چھوڑ دوں پہر پیسے دینے بنگلے جاوں گا
مگر گھر جا کر بہنوئ کی طبعت کا سن کر بہن کے پاس ہوسپٹل دوڑا ۔ ۔۔۔
زرمین انتظار کرتی رہی ۔۔میڈیسن کھانے کو نہ ملی تو طبیعت بوجھل سی لگی اور رات کا کھانا بہی کم کھانے میں آیا ۔۔۔تھک ہار کر بستر پر جب لیٹی تھوڑی دیر بعد بھوک کا احساس جاگا ۔۔کچن میں جا کر کافی پینے کا سوچا ۔۔۔ایک کپ کافی پی کر تسلی ہوئ ۔۔ لیکن رات کے دو بجے پہر بھوک لگ گئ ۔ پہر کچن میں بال پن کے ذریعے فرج کھولنے کی کوشش کی ناکام ۔۔بے حد رونا آیا ۔۔بھوک سے برا حال ہوگیا ۔۔۔اتفاق سے بھوسی ٹکرے کے باکس پر نظر پڑی اس مجبوری کے عالم میں حویلی کی شہزادی دادا بابا کی لاڈلی پر یہ وقت بہی آیا سوکھی روٹی پانی کے ساتھ کھائ ۔۔۔ زرمین کو اپنی بےکسی پر شدید رونا آیا روتے روتے کھانا کھایا ۔ ۔
بھوک بڑی ظالم ہے انسان اس کے خاطر کیا کچھ نہیں کرتا ایک بچہ کچرا چنتے روٹی کھاتا تو کوئ بھوک کو مٹانے چوری کرتا ۔۔تو کوئ بے ایمانی کرتا۔ ۔
آج زرمین بہی مجبور ہوگئ سوکہی روٹی کھانے پر۔ ۔۔کھانا کھا کر روم آئ تہجد پڑہنے کا خیال آیا اس نے چھوٹی دادی سے تہجد کے بارے میں میں سنا تھا۔ ۔۔۔
ماہرہ نماز پڑھو
پڑھ لونگی دادی
تم فرض ادا کرو بیبی ۔۔تہجد کی تم سے امید نہیں ہے
زرمین بولی ۔ ۔۔ہاں دادی ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ
تم بہی اسی قبیلے سے تعلق رکھتی ہو۔۔
دادی آپ تہجد کی نماز کے بارے میں بتائے ۔۔
ہممم۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔کائنات کے رب کو سب سے زیادہ فرض نمازوں کے بعد جو نماز پسند ہے وہ تہجد کی ہے
روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا تم رات کی نماز ضرور پڑھا کرو یہ تم سے پہلے صالحین اور انبیاء کرام کا طریقہ تھا اگر تم رات کی نماز پڑھو گے تو رب کی محبت ملےگی۔ ۔۔
اللہ اس سے خوش ہوتا ہے کہ اس کے بندے نیند چھوڑ کر کھڑے ہوتے ہیں اس کی بارگاہ میں عاجزی کرتے ہیں اللہ کے سامنے روتے ہیں بات کرتے ہیں ۔۔ ۔اللہ اس وقت مانگی دعائیں قبول فرماتا ہے ۔۔
دادی ہم کوشش کریں گے تہجد پڑے دونوں یک زبان بولی ۔ ۔۔دادی مسکرائ ۔ ۔
۔ ۔۔۔ ۔ ۔ ۔ آج تک دونو ں نے کوشش نہیں کی ۔۔
آج اپنی تکلیف سے اسے تہجد یاد آئ ۔۔۔۔۔
وضو کیا نماز پڑہی اور رو رو کے دعا مانگی ۔۔اے رب کریم تو لفظوں کا محتاج نہیں میری مشکل آسان کردے مجھ پر رحم کر مولا ۔۔میرے شوہر کا دل بدل دے ۔۔۔اللّہ کرم کردے ۔۔تو جب چاہے سنگلاخ زمینوں کو بہی نرم کر دے ۔۔جاے نماز پر ہی سو گئ ۔۔۔۔
فجر کی نماز پڑھ کر کام شروع کردیا ۔۔۔
چوکیدار آیا بی بی معافی چاہتا ہوں کل آنہیں سکا اسنے 20 ہزار روپے دیے ۔ ۔
معافی کی کوئ ضرورت نہیں آپ کا بے حد شکریہ ۔۔
یہ کہہ کر وہ اندر شائستہ کے پاس آئ ۔ آپ مجھے کچھ میڈیسن اور سامان مانگا دےگی ۔ جی بیبی میں آج ہی شام میں بازار جاونگی بلکہ آپ بہی ساتھ چلیے ۔۔
نہیں میں نے نہیں حاونگی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نین کو اٹلی گئے 15 د ن ہوگئے نین کی غیرموجودگی میں نین کا دوست اور مینجر بزنس سنبھال رہے ہیں ۔۔۔
زرمین نے اپنے لیے کھجور کےپیکٹ اور بسکٹ کے پیکٹ مانگوالیے ۔۔15 دن میں اچھی طرح اپنا خیال رکھنے سے زرمین کی صحت کافی بہتر ہوئ ۔۔۔زرمین میں آئ جسمانی تبدیلی کو شائستہ نے نوٹ کیا ۔۔۔ شائستہ نے بہی زرمین کا خیال رکھناشروع کردیا۔۔زرمین کے پرانے کپڑے فٹ ہونا شروع ہوئےتو شائستہ نے ان کی فیٹنگ ٹھیک کی ۔ زرمین کو شائستہ اللّہ کا کرم لگی ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔کچن میں آٹا گوندتی زرمین کو نین کی آمد کی خبر ہوئ
۔۔زرمین فورا روم گئ اور نین کو سلام کیا ۔۔
نین نے زرمین کو ایک نظر دیکھا جو کھلی کھلی سی تہی ۔۔سر ہلا کر گویا ہوا۔ ۔میری غیر موجودگی میں تو کافی مزے کیے ہوں گے شکر منا رہی ہوں گی
۔۔دل میں اعتراف کیا ہاں ۔۔مگر زبان سے نہ ۔۔۔ہاں کہہ کہ عتاب کاشکار نہیں ہونا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اٹلی سے آکر نین بےحد مصرف ہوگیا لیکن زرمین سے بے خبر نہیں ۔۔۔زرمین کو ڈانٹنا اس پر ہاتھ اٹھانا معمول کی طرح جاری تہا۔۔۔ہاں مار کھاتے وقت وہ احتیاط کرتی ۔۔۔زرمین نین کے خوش گوار موڈ کا انتظار کررہی ہے مگر وہ یہ نہیں سمجھ رہی کہ اس کو دیکھ کر ہی اس کا موڈ بگڑ جاتا ہے ۔۔۔شائستہ کہہ ہمت دلانے پر بہی نہیں بتا پائ اور 4 ،ماہ بیت گئے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے فون پر ملازم کو زرمین کو بلانے کو کہا
جی سائیں ۔۔۔
آج دوست کی پارٹی پر جانا ہے۔ ۔۔۔9 بجے تک تیار رہنا ۔۔۔اور ڈریس میں شام تک بھجواو گا ۔۔اچھا تیار ہونا۔ ۔۔
