Saza-e-Ishq by Areeba Sehar NovelR50421 Saza-e-Ishq Episode 1
Rate this Novel
Saza-e-Ishq Episode 1
Saza-e-Ishq by Areeba Sehar
صبح کا سورج اپنی آب و تاب سے چمک رہا ہے ۔۔سفید حویلیی میں ۔۔زور و شور سے نکاح کی تیاریاں ہو رہی ہیں باورچی مختلف اقسام کے پکوان پکا رہے ہیں جبکہ دادا اور ابا حویلی کے باغ میں مہمانوں کے بیٹھنے کا انتظام کر رہے ہیں ان کے چہرے فرض کی ادائیگی کے اطمینان سے پرسکون تھے ۔۔یہ پرسکونی دیکھ کر آنے والا وقت مسکرا دیا
زرمین اور زارا کو تیار کرنے کے لئے شہر سے بیوٹیشن آگئی
فرزانہ پتہ نہیں کیا ہوا زمین کل سے چپ چپ ہے شبانہ بیگم فکریہ لہجے میں بولی
آپی آپ پریشان نہ ہو لڑکیاں اپنی شادی کو لے کر تھوڑی فکرمند ہو جاتی ہیں میں سمجھاؤں گی یہ کہہ کر کمرے میں داخل ہوئیں اور بولیں پہلے کونسی دلہن تیار ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔ آنی چاچی مجھے تیار نہیں ہونا ۔ ۔ ۔ ۔
کیوں نہیں ہونا تیار مانا کہ آپ سادگی میں بھی اچھی لگتی ہیں مگر آج آپ کا اہم دن ہے فکر نہ کرو رخصتی تمہاری مرضی سے کریں گے چلو شاباش جلدی سے بےڈریس اپ ہو تم بے فکر اور لاپرواہی سے اچھی لگتی ہو زمین کا گال تھپکتے ہوئے مسکراتے ہوئے بولی
زرمین مرے مرے قدموں سے ڈریس چینج کر کر بیوٹیشن کے پاس آکر بیٹھ گئی اور آنکھیں موند لی ذہن پر سوچ ہوگیا ابھی چند دن پہلے میں کتنی خوش تھی اپنے کالج کی فیر ویل پارٹی میں جانے کے لیے ”
آپی ۔۔آپی کہاں ہیں آپ
آرام سے زرمین کتنی بار بولا ہے لڑکیوں کو آہستہ بولنا چاہیے ۔۔
اوہو دادی آپ بھی نہ بس مجھے ڈانتے رہتی ہیں اچھا بتائیں آپی ہے کہا ۔۔
وہ سو رہی ہے
اچھا جی دن میں سو رہی ہے آپ نے مجھے کہا تھا لڑکیوں کو دن میں نہیں سونا چاہیے تو آپی لڑکی نہیں ہے یا دن نہیں ہے بولے بولیے کمر پر دونوں ہاتھ رکھ کر لڑاکا انداز میں بولی ۔۔
چپ بالکل چپ دادی سے سوال جواب کرتی ہے آنے دواپنے ابااور دادا کو شکایت لگاتی ہو ںں
زرمین بولی کیوں کیوں میں نے کیا کیا ہےصرف پوچھا ہی تو ہے
دادی کے بجائے شبانہ بیگم بولی زارا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس لیے سو رہی ہے ۔۔۔زر میں مسکہ لگاتے ہوئے اچھا اچھا میری پیاری دادی مجھے معاف کر دیں یہ کہتے وہ لال حویلی کی طرف چل دی
کلفٹن کی مصروف شاہراہ پر بیلو اسٹائلش عمارت دور سے ہی دیکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہے یہ عمارت فرقان شاہ کی ذاتی ملکیت ہے ۔۔۔۔
آفس میں افراتفری کا عالم ہے سب ورکرز اپنے حصے کا کام تیزی سے مکمل کر رہے ہیں کیونکہ ایک ہفتے بعد حسنین شاہ لندن سے ایک بڑی بزنس میٹنگ اور ٹینڈرحاصل کرکے کل رات ہی واپس پاکستان آیا ہے ۔۔۔
براؤن گیٹ کے سامنے بلیک ہونڈا سوک آکررکی گارڈ نےگاڑی کا دروازہ کھولا فارمل گرے ڈریس میں حسنین فرقان گاڑی سے نکل آیا ۔۔۔6 فٹ کا قد۔ ۔۔۔۔گندمی رنگت ۔۔۔کالے بال ۔۔۔ جم میں روز ورزش کرنے کے سبب سکس ایپس ۔۔بھاری لہجہ ۔۔۔جس جگہ جاےصنف نازک کی توجہ کھینچ لیتا ۔۔۔مکھیوں کی طرح اپنے گرد گھومنے والی لڑکیوں سے حسنین سخت الرجک ہے
علیزہ دس منٹ بعد کافی اور میرے جانے کے بعد جتنی بھی ڈیلزاور آفرز آئ ہیں سب کی فائل لے کر آفس میں آؤں اور کل کی کوئ میٹنگ نہیں رکھنا ۔۔۔۔میں آج گاؤں جاؤنگا
علیزہ فوراً بولی یس
______________
ماہرہ ماہرہ کہاں ہو یار
میں کچن میں ہوں آجاو
واو تم کچن میں ۔۔۔آج سورج لگتا ہے مغرب سے نکل آیا ہے زرمین ہنستے ہوئے بولی۔ ۔۔
نہیں یار علی کے لئے چائے بنا رہی ہوں اس کے ساتھ شاپنگ پر جانا ہے اس نے شرط رکھی ہے اب کیسے بناؤ یار آتی نہیں ہے۔ ۔گوگل سے بھی مدد نہیں لے سکتے۔۔ مجھے چیلنج دیا ہے۔۔
کوئی مسئلہ ہی نہیں میں ہوں نہ
او میں تو بھول ہی گئی تھی کہ آپ تو شیف راحت کی شاگرد ہیں
اوہو میرا مطلب ہے کہ مل کے بناتے ہیں مائ سب سے پہلے چولہا جلاتے ہیں ۔۔
ماہرہ غصے سے مجھے مائ کیوں بولا مائ لفظ سے مانگنے والے کا تصور آ جاتا ہے خبردار اب مائ بولا تو زر کی بچی ۔۔
بچی کہاں ہے بچی۔ ۔۔اور بچی کو کچن میں آنے کا کس نے کہا ۔۔۔بچوں کے لئے کچن خطرناک جگہ ہے اور تمہارے پاس 15 منٹ ہے چائےبنا کے لے آو ورنہ دوست کے گھر چلا جاؤں گا۔ ۔۔۔ علی نون سٹاپ کہہ کر یہ جا وہ جا ۔۔
ماہرہ بوکھلا کر یار بعد میں لڑتے ہیں ابھی چائے بناتے ہیں مجھے آتا ہے چو لھاجلانا ماہرہ نے جوش سےکہا ۔۔
بول تو ایسے رہی ہو جیسے غوری مزائل چلانا آتا ہے
دیکھو اب تم پھر شروع ہو رہی ہو
اچھا اچھا ۔ سوری زرمین کان پکڑ کر بولی ۔ ۔ ۔
پتیلی میں ایک گلاس پانی ڈالو ۔۔۔۔چائے میٹھی ہوتی ہے تو اس میں ایک کپ چینی ڈالتے ہیں ۔۔ماہرہ نے ماہر شیف کی طرح کہا ۔
زرمین نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے کہا ایک بار بابانے کہا تھا میری چائے میں کم دودھ ڈالنا تو اس میں دودھ بھی شامل ہوتا ہے تو ایک گلاس دودھ بھی ڈالتے ہیں جیسے دھواں نکلے گا چولہا بند کر دیں گے ۔۔
تھوڑی دیر بعد فکری انداز میں ماہرہ بولی سن زرمین چائے تو yellow سی ہوتی ہے اس کا تو رنگ ہیں نہیں بدلا ۔۔۔
ہاں یہ تو ہے سامنے کیبنیٹ کا جائزہ لیتی زرمین کی نظر دو جار پر پڑی ایک پر ہلدی دوسرے پر زردے کا رنگ لکھا تھا ۔۔۔۔۔ ۔ مل گئی چائے کو رنگ دینے والی چیز زرمین نے جوش سے کہا ۔۔
ماہرہ نے کہا دونوں میں سے کیا ڈالیں
زرمین سوچتے ہوئے بولی میرے خیال سے ہلدی ڈالتے ہیں یاد کرو اردو کی منس غزالہ نے وہ سانولی ٹیچر سے کہہ رہی تھی ہلدی سے رنگ گورا ہوتا ہے اور اور چچی بھی ارحم سے کہہ رہی تھیں چائے پینے سے رنگ نہیں جلتا تو اس کا مطلب ہے کہ ہلدی اچھی چیز ہے ۔۔۔
ابھی رنگ دینے کا مسئلہ چل ہی رہا تھا کہ حسنین نے کچن میں آکر کہا کہ ایک کپ چائے میرے روم میں بھی دے جاؤں یہ دیکھے بغیر کہ کچن میں کون کون ہے کہ کر چلا گیا ۔۔۔
یار جلدی کرو وقت کم ہے ایک چمچ ہلدی ڈال دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ تھوڑی دیر بعد دھواں نکلنے پر دونوں خوش ہوئی بن گئی چائے اب جلدی سے چائے نکالو حسنین بھائی کو چائے دینے میں جاؤ نگی جو ہر وقت کہتے رہتے ہیں مجھے کچھ نہیں آتا انہیں پتہ ہونا چاہیئے کہ مجھے آتا ہے زرمین فخریہ انداز میں بولی اور چائے لے کر حسنین کے روم کے جانب بڑھی ۔ ۔ ۔ ۔
دستک دی آواز نا آنے پر سوچا مصروف ہوں گے میں اندر ایسی ہی چلی جاتی ہو ں۔ ۔۔۔ ۔ واو کتنا زبردست روم ہے یہ میرا دل کرتا ہے اس روم پر قبضہ کر لو’ خیر میں کوئی انڈیا ہو جو دوسروں کی چیزوں پر قبضہ کر لو میں پاکستانی ہوں فخر سے سوچا ۔۔۔ ۔ دادا سے ضد کرکے ایسا روم بنوا ہی لونگی اور یہ بھی میرا ہی ہے ‘اف کتنا بڑا بیڈ ہے یہ کتنے پیارے واز اور ڈیکوریشن پیس رکھےہیں اور یہ پینٹنگ تو غضب کی ہے ۔۔۔خود سے بات کرتے ہوئے زرمین بولی ویسے ہے تو کافی سڑو مگر روم زبردست ہے ۔۔۔ابھی مزید گلفشانی جاری تھی کہ
باتھ روم کا دروازہ کھولا حسنین بنا شرٹ ‘تولیاسے سر پونھچتا باہر آیا ۔۔۔۔۔
زرمین کے حلق سے زوردار چیخ برآمد ہوئی اس نے فورا آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا
تم یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔دستک کیوں نہیں دی ۔۔حسنین نے جلدی صوفے سے شرٹ اٹہا کر پہنتے
ہوے غصے سے کہا
دی تھی دستک ۔۔کوی جواب نہیں آیا تو میں آگی آپ نے شرٹ باتھ روم میں ،کیوں نہیں پہنی ‘ باتھ روم کس لئے ہوتا ہے بندے کو چاہیے ۔۔
شٹ اپ ذیادہ تقریر کرنےکی ضرورت نہیں جس کام سے آی ہو وہ بتاو حسنین نے زرمین کی بات کاٹ کر کہا
زرمین نے اترا کر کہا آپ کے لئے چائے لائی ہوں میں نے خود بنائی ہے
سیریسلی ۔۔آبرو اچکا کر کہا ۔۔
جی ہاں منہ بنا کر کہا
ھاتھ سے چاے لے کر ایک سپ لیا اورفورا سے باہر آیا ۔یہ کیا عجیب چیز بنای ہے۔۔حسنین غصے سے دھاڑا
زرین سہم گی لیکن زبان قابو میں نہ رہی فورا بولی ایک تو محنت کر کے چائے بنائی اور آپ کے نخرے ختم نہیں ہو رہے ہیں
شٹ اپ اینڈ گیٹ آؤٹ اس سے پہلے میں آپے سے باہر ہو جاؤ تم باہر جاؤ . .
زرمین نے باہر کی طرف دوڑ لگائی مگر قسمت وہ حسنین کا نقصان کئے بغیر جاسکتی تھی باہر ۔۔چھناکے کی آواز سے ٹیبیل پر رکھا ایک خوبصورت آواز زمین بوس ہوگیا ۔۔زرمین کے قدم رک گئے ۔۔اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور نین کی طرف مڑی ۔۔اس سے پہلے حسنین غصہ کرتا اس نے جھٹ سے معافی مانگی پلیز دادی سے شکایت مت کیجئے گا آج جو سزا دیں گے مجھے منظور ہے
حسنین نے غصے سے مٹھیاں بہینچی اور گہرا سانس لے کر غصہ قابو کیا
اتنے میں ماہرہ اندر آئی . . . . چلو جلدی چلیں فیرویل کی شاپنگ کے لیے
اف ماہرہ کو بھی ابھی آنا تھا میری لائیو بےعزتی دیکھے گی زرمین نے کلس کر سوچا . .
حسنین نے ماہرہ سے کہا تم جاؤ زرمین بھی آتی ہے . . . ماہرہ کے جانے کے بعد زرمین سے بولا تم چاہتی ہو دادی کو شکایت نہیں لگاؤ تو یہ سزا ہے تمہاری کل فیر ویل پارٹی میں نہیں جاؤں گی اور جاکر سردارا کو صفائی کے لئے بھیجو .
لیکن زرمین ٹس سے مس نہیں ہوئی . .
کیا ہوا کھڑے کھڑے سو گئ
یہ تو بڑی سخت سزا ہے . . میں آپ کی روم کی صفائی کر دیتی ہوں آپ کے کپڑے دھو دیتی ہوں . .
چلو دادی کے پاس چلتے ہیں
نہیں نہیں حسنین بھائی میں تو مذاق کر رہی تھی میں نہیں جاؤں گی کل . . . زرمین افسردہ سی باہر آگئی . .
کیا ہوا کافی بیستی ہوگی . . ماہرا مسکرائی .
تم چپ رہو سب کیا دھرا تمہارا ہے
___________
یہ سب تمہارا کیا دھرا ہے کس نے کہا تھا علی کی شرط مانو
تم سے کس نے کہا تھا بھائی کے پاس لے جاؤ اب بحث ختم کرتے ہیں اور جلدی سے شاپنگ پر چلیں
نہیں میں نہیں جا رہی ہوں تم چلی جاؤ مجھے سمجھ میں آگیا آ بیل مجھے مار کی تشریح
یہ سن کر ماہرہ اور علی ہنسنے لگے اور وہ باہر جانے لگی پھر اچانک یاد آیا علی تم کو چائے کیسی لگی
یو نو میں بڑا عقلمند ہو میں نے ماہرہ سے چائے بنانے کی ترکیب پوچھ لی اور کپ لے جاکر واش روم میں پھینک دیا چونکہ تم دونوں نے محنت کی ہے اور میں محنت کرنے والوں کا قدردان ہوں اس لئے تم دونوں کو شاپنگ پر لے جا رہا ہوں علی نے احسان جتایا
تھینکس میں نہیں جا رہی ہوں تم دونوں جاؤ اداس اداس گھر کی طرف آگئی —-
۔۔۔ . . . . . . . . ۔۔۔۔ . . ۔ . . . . . ۔۔۔۔۔۔ ۔۔
ماشااللہ بہت پیاری لگ رہی ہیں آپ بیوٹیشن بولی
زرمین نے جھٹکے سے آنکھیں کھولیں ماضی کی بھول بھلیوں میں وہ ایسی کھوئی کے وہ بھول ہی گئی آج اس کا نکاح ہے
آپ آجائے زارا میں آپ کو تیار کرو گی
زارا مسکراتی ہوئی آ کر بیٹھ گئی اتنے میں بیوٹیشن کے موبائل پر کال آئی وہ بات کرنے لگی اپنی دوست سے یار تم ہمت نہ ہارو ایک بار پھر کوشش کرو یقینا تمہارے والد مان جائیں گے ہم ضرور ساتھ پکنک پر جائیں گے
بیوٹیشن کی بات سن کر زمین کو لگا مجھے بھی کوشش کرنی چاہیے کیا پتا مسلا حل ہو جائے ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ شبانہ بیگم روم میں داخل ہوئی اور کہا
نکاح عصر کے بجائے اب مغرب ہوگا سرپنچ صاحب کو ایمرجنسی دوسرے گاؤں میں جانا پڑ گیا وہ مغرب تک لوٹیں گے زرمین بیٹا آپ اپنے روم میں جاکے تھوڑی دیر آرام کر لیں
یہ سنتے ہی زرمیں نے فورا حامی بھری اور اپنے روم کی طرف چل دی روم کے ڈور کو جلدی بند کرکے لوک لگایا ‘
سائٹ ٹیبل کی دراز سے ایک بلیک چھوٹی بوتل نکالی جس پر کاکروچ مار زہر لکھا تھا اس نے سوچا تھا نکاح ہونے سے تھوڑی دیر پہلے 2چمچ پی لے گی جس پر اسے کوئی الٹی ہو جائے گی طبیعت خراب سی ہو جائے گی تو شاید نکاح رک جائے اس نے وہ بہت تنگ تمہارا میسج کر رہا ہوں اس نے وہ بوتل اپنے پرس میں رکھ لی ۔۔۔بیوٹیشن کی بات سے اسے لگا کہ ایک کوشش کرنی چاہیے اس اس نے لرزتے ہاتھوں سے کال ملای کی دل میں دعا کرنے لگی کہ اللہ کرے جلدی کال اٹھالیں تین چار بار ملانے کے بعد بالآخر کال اٹھا لی گئی
اسپیکر میں سے بھاری آواز آئی ہیلو
کہاں تھے آپ میں کل سے آپ کو کال کر رہی ہو دادا نے اچانک فیصلہ لیا کہ زارا آپی کے ساتھ ہی میرا نکاح ارحم سے کر دیگے ۔۔زرمین جلدی سے بولی کہیں وہ بے درد فون نہ بن کر دے
ایک پل تو وہ حیران ہوا پھر انتہائی غصے بھری آواز میں بولا ۔ ۔۔میں کہا ں تھا تم کو بتانے کی ضرورت نہیں اور کیا تم نکاح ہونے دوں گی سوال اٹھایا
میں میں کیا کر سکتی ہوں بے چارگی سے بولیی
ہمم تم نہیں کر سکتی لیکن میں تو کر سکتا ہوں نہ کل جب تمہارا بھائی ہوسٹل جائے گا تو راستے میں اس کا ایکسیڈنٹ ہوجاے اور وہ بےچارہ مر جاے تو۔ ۔سفاکی سے کھا
یہ سن کر زرمیں کو لگا اس کا دل بند ہوجاے گا نہیں نہیں آپ ایسا نہیں کر سکتےسنا آپ نے آپ یہ ظلم نہیں کر سکتے وہ ہچکیوں سے رونے لگی
اوکے اوکے میں جو کہوں گا وہ تم کروگی ۔۔نکاح کرنے سے سب کے سامنے منع کرنا ہوگا تمہیں اور مجھ سے محبت کا اعتراف کرنا ہوگا سب کے سامنے مجھ سے شادی کرنے کی بھیک مانگنی ہوگی ۔۔۔یہ کہہ کر فون بند کر دیا
زرمین کو لگا اس کی سماعت میں کسی نے صور پھونک دیا وہ سن ہوگی اسے بے پنہاتکلیف ہوئی دل میں تراشہ کسی کا خاکاچور چور ہوا تکلیف اتنی تھی کہ آنکھوں سے آنسونکلنا بند ہوگئے سن زہن کے ساتھ بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئ
دستک کی آواز سن کر زرمین کے حواس تھوڑے بحال ہوئے لرزتے قدموں سے اٹھ کر اس نے دروازہ کھولا ۔ ۔ دروازے پر شنو تھی ۔ ۔ کیا بی بی کتنی دیر سے دروازہ کھٹکھٹا رہی ہوں لگ رہا ہے آپ بے ہوش ہوگئی وہ جی فیصل صاحب اور پھوپھو بارات لے کر آگئی . . آپ بھی نیچے آکر مل لیں
نہیں تم جاؤ میں ابھی تھوڑا اور آرام کرو گی اور دروازہ بند کر دیا . . . کپکپاتے ہاتھوں سے ایک بار پھر نمبر ملایا لیکن نمبر بند جا رہا تھا اسے سمجھ نہ آیا وہ اپنوں پر بےعزتی کا ظلم کیسے ڈھائے وہ اپنے جنہوں نے بے پناہ محبت دی وہ بے آواز رونے لگی اور بد دعا کرنے لگیں اللہ اللہ مجھے موت دے دے .
اس کا ذہن اس قدر بے حواس تھا کہ وہ سوچ ہی نہ سکی کہ وہ مانگ کیا رہی ہے موت کے بجائے بہتری کی دعا کیوں نہیں مانگ رہی . . . . . . . اور بہتر ہونی کی دعا مانگتی تو وہ رب جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے اپنے بندوں کی دل سے مانگی دعا کو قبول کرتا ہے . . وہ مانگتی یقینا اسے راہ ملتی ، مگر اس نے مانگی بھی تو موت کی . . .
زرمیں جلدی سے نیچے آئی اور زاویارکے برابر میں بیٹھتے گھورتے ہوے ارحم سے بولی ارحم درہم برہم بریانی کی ڈش دینا
دادی تنبیہ لہجےمیں بولی ایسے بولتے ہیں نام بگاڑنا گناہ ہوتا ہے نا
کیا دادی آپ مجھے بولتی رہتی ہیں یہ جو ارحم کہہ رہا تھا اس کو تو کچھ نہیں کہا بس مجھے ہی ٹوکتی رہتی ہیں بریانی کا چمچ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا میں ارحم کو بھی ڈانٹوں گی
منہ بسور کر بولی دیکھیے داداجی مجھے ابھی ڈانٹا اور ارحم کو بعد میں ڈانٹیں گی مجھے اپنا نام بالکل پسند نہیں حرف تہجی میں ا سے ےاتنے الفاظ ہیں اماں کوصرف یہی لفظ ز ملا اس کی ٹرین چلا دیں زارا زرمین زاویار
سب زرمین کی یہ بات سن کر مسکرا دیئے
زاویار نے جھٹ سے مشورہ دیا آپ اپنے بچوں کے نام رکھ لینا
زاویار کی بات سن کر زرمین نے فورا زاویار کی بلائیں لیں بہن صدقے کتنا پیارا مشورہ دیا ہے تم نے بلکل میں بارہ بچے پیدا کرو نگی
دسترخوان پر بیٹھے نفوس حیران ہوگئے حسنین کا منہ میں جاتا ہوں بریانی کا چمچ ہوا میں معلق ہو گیا ‘ پانی پیتے ارحم کو پھندا لگیا اور دادی تو ہکا بقا ہوگی فرزانہ اور شبانہ بیگم غصے سے گھورنے لگی بڑے دادا چھوٹے دادا بابا چچا مسکرانے لگے علی اور ماہرہ نے تالیاں بجا کر حوصلہ افزائی کی اور سائرہ سب کے نام تمہیں رکھوں گی
مسکراتے ہوئے پوچھا
ہاں نا چھے بیٹے اور چھ بیٹیاں ہوگئیں بیٹیوں کا نام حیا بہار ےگل زمر آیت نور نشرح اور ولید فارس سالار جہاں عالیان اور زاویار نے نون سٹاپ بولتی زرمین کی بات کاٹی آپو کیا میں نہیں رکھوں گا زرمین بولی تم تو ماموں ہو میرے پیارے بچوں کے ایک کا رکھ لینا ٹھیک ہے نہ دادا جی ۔ہاں یہ تمہارا چمچا ہے اس کو تو نام رکھنے دو گی احمربولا
دادا نے دادی کو کن انکھیوں سے دیکھتے ہوئے کہا ہاں زاویار کا حق ہے
دادا جی کی تائید سے دادی تلملا گی ربا کیا زمانا آگیا اتنی بےشرم لڑکی روک ابھی تجھے بتاتی ہوں دادی نے چمچہ مارنے کے لیے اٹھایا ہی سائرن بجنے کی آواز آی
زرمین نے بھی جلدی سے پانی پیا اور کہنے لگی میں نے تو کچھ کھایا ہی نہیں اب سارا دن کیسے گزرے گافضول باتیں کھائیں تو ہیں اماں نے خفگی سے کہا چھوٹے دادا نے کہا روزہ رکھنے کی دعا پڑھ لیں اور سب نماز کے لیے اٹھ گئے
افطاری میں سب کے من پسند پکوان پکائے گئے افطار کے بعد پرلطف ڈنر بھی ہوا ڈنر کے دوران پہوپہو نے بتایا 22 ویں روزے کی رات میں علی کے سسرال والے آئینگے حویلی دیکھنے آپ سب بھی ڈنر ہمارے ساتھ ہی کریے گا
ہاں پھپو ضرور آئیں گے زرمیین نے جواب دینا ضروری سمجھا اور ایک ددن کا اختتام ہوا
22 ویں روزے کو علی کے سسرال والے تحائف اور م ٹھائی کے ساتھ آئے حنا کے والدین اور بھائی بھاوج اور بچے ساتھ بچے بھی ساتھ تھے
کمال شان نے آپس میں انٹروڈکشن کرایا یہ میرے بڑے بھائی جلال شاہ اور یہ بھابھی سعیدہ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں بیٹی ماشاءاللہ بیاہ کر لاہور گئی ہیں اور اس کے بھی تین بچے ہیں ان سے ملئیے یہ بڑے بیٹے حسن شاہ ہیں اور ان کی اہلیہ شبانہ ہے اور ان کی تین پیاری پیاری بیٹیاں ہیں دوسرے بیٹے ظفر اور ان کی بیگم فرزانا ان کا ایک ہی اکلوتابیٹا ہے ۔۔ میرے بچوں سے تو مل ہی چکے ہیں ۔۔۔جی جی سب سے مل کر خوشی ہوی حنا کے والد بولے کھانے کے بعدایک بار پھر باتوں کا دور چلا باتوں باتوں میں ہی نہ کے والد نے پوچھا آپ کی بہو اور داماد کی ڈیتھ کیسے ہوئی لاؤنج میں ایکدم سے خاموشی چھا گئی انہوں نے بوکھلا اکر معذرت کی ۔۔ارے کوئی بات نہیں آپ اب تو ہم رشتہ دار بننے جارہے ہیں پوچھنا آپ کا حق بنتا ہے میں نے وٹا سٹا میں شادی کی تھی میرے سمدھی کا تعلق حیدرآباد شہر سے تھا بہو کے والد کی طبیعت خراب تھی وہ انہیں دیکھنے گئی ہوئی تھیں احمر کو گھر ہی چھوڑ گئی تھی زرمین بیٹے کا عقیقہ تھا پھر وہ اپنے میکے میں ہی رک گئی کے بھائی کے ساتھ عقیقہ میں شرکت کے لیے آجائیں گی جس دن آنا تھا اسی دن راستے میں روڈ ایکسیڈنٹ سے انتقال ہوگیا اور میری بیٹی معذور ہوگی ۔۔جو اللہ کی مرضی کمال شاہ افسردہ لہجے ماشاللہ میرے پوتے حسنین نے سب کو سنبھالا
کمال شاہ کی یہ بات سن کر زرمین بولی صدمے کی وجہ سے حسنین شاہ ایسے سنجیدہ سے ہیں
حسنین شاہ نے فورا گھور کر دیکھا زرمین میں گھبرا کر دونوں کان پکڑ کر سوری کہا اور باہر کی طرف بھاگ گئی۔
رمضان کا رحمتوں بھرا مہینہ ختم ہوا اور عید کا خوشیوں بھرا دن آیا
پورے گاؤں میں خوب چہل پہل تھی اور عید کا سماں رنگ بکھیر رہا تھا عید کی نماز کے بعد حسنین گاؤں کے مردوں سے عید ملی اور پھر حویلی واپس آیا عید مبارک دادی جان عید مبارک پھوپھوحسینن نے آگے بڑھ کر گلے ملا دونوں سے ۔۔۔سائرہ اورماہرہ کہاں ہے پھوپھو
ابھی تک تیاری مکمل نہیں ہوئی دونوں کی پھپو بولی
دادی جان میں تھوڑی دیر آرام کرلوں صبح آیا تھا تھکن سی ہورہی ہے بڑی دادی سے شام میں جا کے ملوں گا
دادی محبت سے بولی کام بھی تو اتنا کرتے ہو جاؤ جا کر آرام کر لو اور یہ تمہارا باپ کب آئے گا موے وزٹ سے
حسنین نے جاتے ہوے پلٹ کر کہا انشاءاللہ کل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ابھی روم میں آئے تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی لندن پروجیکٹ مینیجر کی کال آگئی بات بات کرتے کرتے حسنین کھڑکی کی طرف آ گیا کال بند کرکے باغ میں دیکھنے لگا اسے علم ہوتا کے باغ میں دیکہنے پر اس کا دل بدل جاے گا تو وہ کبھی نا دیکتھا۔ ۔وہ اسے بلکل حور کی طر ح لگی سفید لباس میں گورا رنگ باہر کی روشنی میں دمک رہا لگا شہد رنگ لمبے ہوا میں لہراتے ہوے قوس قزح جیسے’ مناسب میک اپ ‘ اور کانوں میں پڑے جھمکے نے روپ کو دو آتشآ کر دیا اوپر سے ادائیں دے کر سیلفی لیتی زرمین نے حسنیین کو مسمراز کردیا زرمین مسکراتی ہوئی حویلی کے اندر چلی گئی اس کے منظر سے ہٹتے ہی حسنین کو ہوش آیا اف یہ مجھے کیا ہوا میں کیسے زرمین کو دیکھ ہاتھ تھا اس نے اپنے آپ کو ڈپٹا لیکن بار بار منظر آنکھوں کے سامنے آ رہا تھا مجھ سے عمر میں کیتنی چھوٹی حسنین بہول سب ۔۔لیکن دل سمجھا رہا ہے چھوٹی ہے تو کیا ہوا محبت میں چھوٹا بڑا کچھ نہیں ہوتا میں حسنین نے دل کو جھٹلایا ۔۔سو چا باہر جاچلا جاتا ہوں یہاں رہا تو خیال آتے رہیں گے
لاونج میں سارے ہی بیٹھے تھے دادی بیٹا اتنی جلدی آگۓ تھوڑی دیر تو سو جاتے
نیند ہی نہیں آئی تو میں نے سوچا آپ سب کے ساتھ وقت گزار لو
اچھا کیا بیٹا اب رات میں ایک بار ڈھنگ سے سونا اور ابہی کچھ کھا لو پھوپھو نے یہ کہہ کر سردارں کو آواز لگای کے ڈائننگ ٹیبل لگاؤں
کھائیں گے پئےگے بعدمیں پہلے آپ سب میری عیدی نکالیں ۔۔علی بھائی پانچ ہزار دے جلدی سے ۔زر میں نے علی کے آگے ہاتھ پھیلاے
حسنین کی نگاہ زرمین کی ہتیلی پر بنےچاند پر پڑی جو گوری ہتیلی پر
خوب جچ رہا ہے حسنین کی نظر ایک بار پھر زرمین پر کھو گی
کیوں بھئ ہزارکس خوشی میں’ میں صرف ایک عام سا ڈاکٹر ہوں تھوڑی سی تنخواہ ہے بس ہزار دوں گا بزنس مین تو یہ بیٹھے ہیں ان سے لو حسنین کی طرف اشارہ کرکے علی بولا
ہاں ہاں حسنین بھائی سے دس ہزار روپے لونگی لائے آپ بھی دیں اپنی ہتھیلی کا رخ حسنین کے جانب کیا
حسنین نے سب کو مسکرا عیدی دی احمر کو دینے لگا لیکن احمر نے ہاتھ آگے نہیں بڑھایا
حسنین نے احمر سے پوچھا کیا چاہیے میرے بچے کو
مجہے اپنے فرینڈز کو آپ کے کراچی ہاوس میں پارٹی دینی ہے
بس اتنی سی بات ۔۔جب تم کہو تب ارینج کرلیں گے
چلو چلو جلدی ڈائننگ ٹیبل ک طرف مجھے دادی کے ہاتھ کا شیر خورمہ کھانا ہے ماہرہ نے کہا سب ڈائننگ ٹیبل کے جانب چل دیئے
سارا دن مصروف گزرنے کہ بعد حسنین سونے لیٹا تو آنکہں بندکرتے ہی زرمین کا پیکر نظروں میں پہر آگیا حسنین کے اندر ایک ہاں نا کی جنگ چھڑ گئ بلاخر جیت دل کی ہوئ دل کی فتح ہوتےہی حسنین کو پر سکون نیند آگئ
صبح دوسری عید کادن بھی بہت مصروفیت بھرا ہےعید کے تیسری عید کو علی کی علی کی مہندی ہونے کے سبب کل کےفنکشن کی آج ہی سے تیاری شروع کرنی تھی فون پر شادی ارجمینٹ کے مینجر کو ہدایتیں دی
سرور سرور حسین
جی سائیں ادب سے
رات میں شہر سے مہمان آ جائیں حویلی کے پچھلی طرف
ان کے رہنے کا انتظام کرو اور شادی میں شرکت کے کرنے والے مہمان کا آگے والے مہمان خانے میں انتظام کرو سب بہت اچھے سےہونا چاہیے کسی کو کسی بھی قسم کی کوئی شکایت نہ ہو حکمیہ لہجہ بنایا
جی سائیں سب اچھے سے ہوگا
دادا جی کارڈ تو سارے بانٹ دیےہوں گے
ہاں بیٹا اور لاہور بھی بھجوا دیئے اللہ کرے خیر خیریت سے شادی نمٹ جائے
آمین انشاء اللہ یہ کہہ کر سیڑھیوں کی طرف رخ کیا حسنین نے
بیٹا اوپرسے ماہرہ کو بھیجنا دونوں سہیلیاں اکھٹا ہو جاتی ہیں تو بس پھر ہوش نہیں رہتا ا پھوپھو نے کہا
جی پھوپھوحسنین دل میں زرمین سے ملاقات کا سوچ کر خوش ہوا اور ماہر کے کمرے کی جانب سے سرشار سابڑھا ماہرہ کے روم کا دروازہ تھوڑا کھلا ہوا تھا حسنین کھولنے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا اندر سے زرمین کی آواز آئی
یار مجھے سعدی یوسف سے محبت ہو گئی ہے
یہ سن کر حسنین کے دل کو شاک پہنچا وہ دل جس نے ابھی نیا انداز لیا تھا محبت کی نئ کونپل کھلی تھی وہ مرجھا سی گئی حسنین خاموشی سے آیا تھا اسی خاموشی سے واپس اپنے کمرے میں چلا گیا
ایسا کیوں ہوا میرے ساتھ زرمین کیسے کسی اور کے ساتھ محبت کر سکتی ہے وہ صرف میری ہے
اسے سخت غصہ آرہا تھا غصے کی حالت میں اس نے کسی کے سامنے نہ آنا مناسب سمجھا کیا کروں کیا کروں اچانک ذہن میں ایک خیال آیا اور اس پر عمل کرنے کا فوری فیصلہ کیا مٹھل ڈیرے پر آؤ حسنین نے اپنے وفادار ملازم کو کال کی
مجھے دو گھنٹے کے اندر اندر سعد ی یوسف کی معلومات دو
جی سائیں
دو گھنٹے حسنین نے بڑی مشکلوں سے گزارے
سائیں سعدی یوسف ماسٹر یوسف کا بیٹا ہے میڈیکل کا انٹری امتحان دیا ہے
ہمممم اسے ابھی بلاو ۔۔۔۔کچھ دیر بعد
جی سائیں
میں نے سنا ہے میڈیکل کا انٹری ٹیسٹ دیا ہےپاس ہو جاؤ گے تو کہاں پڑہوں گے
سائیں اسکالر شپ کی کوششش ہے اور ابا نے جلال سائیں کو زمین بیچ رہے ہیں
ہمممم زمین بیچ دو گے تو گزر بسر مشکل ہو جائے گی اور میں چاہتا ہوں ایسا نہ ہو گاؤں کے ہاسپٹل کے لیے مجھے ویسے بھی اچھے وقت ڈاکٹر چاہیے تمہارا خرچہ میں اٹھاوں گا تم آج ہی شہرجانے کی تیاری کرو حسنین نے اسے آفر بھی دیاور ساتھ شہر جانے کا حکم بہی
سعدی خوشی خوشی آپ بہت اچھے ہو سائیں آپ نے گاوں کے لئے بہت کام کیا آپ کا بہت شکریہ میں ابھی شہر نکلنے کی تیاری کرتا ہوں مصافحہ کرکے چلا گیا
تم صرف میری ہو ‘ تم ہاں کرو یا نا میں صرف تم سے ہی شادی کروں گا میں کل ہی تمہارے لئے رشتہ بھیجوں گا حسنین نے زرمیبکی موبائل میں تصویر دیکھتے ہوئے کہا اور حویلی کے جانب جانے کے لیے قدم بڑھائے
_______
گاڑی ایک جھٹکے سے رکی کی جھٹکے کی وجہ سے حسنین کے بھی آنکھیں کھل گئیں ڈرائیور کی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا
صاحب جی شاید گاڑی گرم ہوگئی ہے پانی ڈالنا ہوگا ڈرائیور ڑرتےہوئے بولا
ہممم
ڈرائیور تو حیران ہوگیا صاحب نے کچھ نہیں کہا جلدی سے پانی کی بوتل لے کر بونٹ کی طرف بڑھا
حسنین نے پھر آرام سے دوبارہ آنکھیں موند لیں
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ٹھک ٹھک ٹھک ۔۔۔ ۔ ٹھک ٹھکٹھک۔ ۔دروازہ کھٹکا
زرمین بی بی دروازہ کھولیں
زرمین نے جلدی سے آنکھہں صاف کی دروازہ کھولا
ہائے باجی یہ کیا حال کردیا مییک اپ کا ‘ آپ تو ایسے رو رہی ہو جیسے آج آپ کی رخصتی ہے شنو نے منہ بنایا
زرمین نے گھورا کیا کیا دادا جان آگے
نہیں فون آیا تھا وہ بس نکل رہے ہیں آدھے گھنٹے تک پہنچ جائیں گے
تو پھر تم ابھی کیوں آئی ہو جاو جب آئیں تب ہی آنا دروازہ بند کرنے لگی
ارے بی بی میں تو کام سے آئ ہوں اور اچھا ہوا نہ میں آگئی آپ جلدی سے اپنا میک اپ ٹھیک کر لیں
جس کام سے آئی ہو بس وہ بتاؤ غراتے لہجے میں کہا
زارہ بی بی کی ساس اپنا خاندانی زیور لائی ہیں تو ان کو دیکھ کر آپ کی ساس کو بھی ہوش آیا یہ جو آپ نے زیور پہنا ہے یےاتار کر یہ والا زیور پہنے شنو ہنسنے لگی
اس میں کیا لطیفہ تھا جو تم اپنے دا نت دکھا رہی ہو
شنو منہ بنا کر بولی کیا ہے باجی اب ہنس بہی نہیں سکتے ویسے ہی اتنی سادگی سےشادی ہورہی ہے سچی بالکل مزہ نہیں آرہا ہماری طرف سادگی لال حویلی کے غم کی وجہہ سے اور زارا بی کی بارات میں پندرہ لوگ آے ہیں اسے کوئ شادی ہوتی ہے مزہ تو علی صاحب کی شادی میں آیا تھا اب آپ کی رخصتی دھوم دھام سے کریں گے آپ مجہے الگ سے سوٹ بنا کر دیں گی
زرمین نے خالی خالی نظروں سےد یکھا
اپنی بات پر کوئ ردعمل نہ پایا تو مایوس سی باہر چلی گئی
علی کی شادی ہاں علی کی شادی واقعی اچہی تہی میں بہی بہت خوش تہی زرمین نے سرگوشی کے انداز میں خود سے بولی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے ایک بار پہر یادوں میں کھو گئ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو الگ افراد ‘کئ دور بیٹھے ایک ہی جیسی سوچوں میں گم ہیں علی کی شادی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔،_____________،____________
صبح سے ہی حویلی میں گہما گہمی تہی نوکر الگ بو کھلاے ہوے تہے منجمینٹ کے ہوتے ہوے بہی گھر کے افراد اور سب نوکر کام میں مصروف تہے آج علی کی مہندی کا فنکشن ہے مجھے کسی بہی قسم کی خرابی نہیں چاہیے بخش اور مٹھل کہاں ہے حسنین بولا
جی سائیں مٹھل کسی کام سے شہر گیا ہے
جیسے ہی آےاسے میرے پاس بھیجنا حکمیہ لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔۔ ،،،،،__،_______،،،،،،،،
زرمین بیبی پہلے آپ تیار ہونے سے مجے پہلے تیار کر دے
زرمین نےگھوراکیوں بھئ۔۔۔۔دادی نے کہا لال حویلی جاکر کام میں ہاتھ بٹا دینا ۔۔
ٹھیک ہے پھر آجاؤ بیٹھو ابہی صرف بیس ہی بنایا موبائل کی رنگ ٹون بجی دیکھا تو آہا سارا کا نمبر تھا پورے ڈیڑھ ماہ بعد سارہ نے کال کی
ہیلو کیسی ہو تم اتنے دن بعد مجھے یاد کیا زرمین چہکتے بولی
ہاں تم تو صبح شام مجھے کال کرتی تھی روز رات دن۔میسج کرکے اپنی انگلیاں گھسا ڈالیں تم نے تو سارہ ناراضگی سے بولی
ہاں رات دن نہ سہی لیکن کرتی تو تھیں
بچاری شنو منہ بناتے ہوئے کال ختم ہونے کا انتظار کر رہی ہے ۔۔۔میں تم سے ناراض تھیں کہ تم فیر ویل پارٹی میں کیوں نہیں آئی
کیا بتاؤں بہن لمبی داستان ہے اس کھڑوس نے نہ جانے کی سزا دی تھی
وہ کیوں بھلا سارہ نے تجسس کےمارے سوال کیا
زمین زوروشور سے قصہ سنانے لگی
فون کے اس پار سارا اور ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھی شنو ہنسنے لگی
زرمین نے دونوں کو ڈپٹا چپ ہو جاؤ چوڑیلو ں
تم چپکے سےآجاتی حسنین کو کیسے پتہ چلتا۔۔۔۔۔۔۔ نہیں یار پتا چل جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔پھر وہ دادی کے پاس چلے جاتے اور میں نے دادی سے وعدہ کیا تھا کے اس پورےہفتے میری کوئی شکایت ان کے پاس نہیں آئے گی اگر شکایت آئی تو مجھے مدرسے والی باجی کے پاس پورے ہفتہ بھیج دیں گی اور تم کو پتا تو ہے مدرسے والی باجی کیسی ہیں ہر وقت نصیحتیں ہر وقت ڈانتی رہتی ہیں ذرا سی بھی غلطی پر مجبورا مجھے سزا قبول کرنی پڑی
بیبی مجھے جلدی تیار کر دینا شنو روہانسی ہونے لگی
ایسا کرو تم زارا باجی سے تیار ہو جاؤ وہ بھی بہت اچھا تیار کرتی ہیں
آپ کو تیار نہیں کرنا تو پہلے بولتی کتنی دیر سے بٹھایارکھا۔۔۔
اور سناعید کیسی گزری ۔۔۔۔۔۔
مت پوچھ
چل ٹھیک ہے نہیں پوچھتی
کیوں نہیں پوچھتی پوچھو اتنا کچھ بتانے کوہے مجھے تو
سارا ہنستے ہوئے چل بتا پھر کیا ہوا
میں نے بڑی مشکلوں سے پتہ کروایا کہ وہ سڑو کیساسوٹ پہنے گا جس رنگ کا پہنے گا اسی کی میچنگ کامیں بھی لونگی سفید میکسی پہنی بہت خوبصورت لگ رہی تھی میں ۔۔جلدی سے تیار ہو کر بڑی شان سے سیڑھیاں اتر رہی تھی لیکن دادی نے سارا موڈ خراب کر دیا کہنے لگے یہ کفن جیسا لباس کیوں سلوایا آج عید ہے کوئی اچھا شوخ رنگ پہنتی پر باقی سب نے تو بہت تعریف کی اور تیزی سے لال حویلی کی طرف گی میرا ہیرو مجھے دیکھ کر مجھ پر فداہوجائیں مگر نہ بھائی لگتا ہے کےدور قریب کی نظر کمزور ہے پتہ نہیں ناول کی ہیروئن ہیرو کو کیسے ایمپریس کر لیتی ہے ناول سے یاد آیا کے میں نے نمرہ احمد کا ناول نمل پورا پڑھ لیا
سچی مجھے بھی بھیج
جب تمہارے گھر آؤں گی تو لیکے آؤنگی . . مجھے تو اس میں سب سے اچھا سعدی یوسف لگا لیکن ماہرہ کو تو ہاشم پسند آیا میری بڑی بحث ہوئی عید والے دن سچی بڑا ہی دل جلا میرا عید والے دن ۔
ہائے بی بی جی آپ ابھی تک تیار نہیں ہوئی زارا باجی تو ہوگئی اب میں اور زارا باجی جا رہے ہیں آپ آتی رہنا .
ٹھیک ہے .
یار میں تو تمہیں بتانا ہی بھول گئی کہ علی کی شادی ہورہی ہے آج مہندی ہے میں نے تو اپنی ساری شاپنگ کراچی سے کی ہے
جب تم جارہی تھی تو مجھے بھی ساتھ لے چلتی
یار ہم ہی اتنی مشکلوں سے نکلیں ہے پورے چھ گھنٹے ہم نے ڈولمین مال میں شاپنگ کری اور کریڈٹ کارڈ گھر میں ہی بھول گئے جلدی سے حسنین کو بلایا مینجر نے بڑی باتیں سنائی ہستے ہوے زرمین بولی اور سارا بل حسنین نے ہی پے کیا حسنین بڑے غصے میں تھا ویسے میرا
ہیرو غصے میں بڑا ہی پیارا لگتا ہے ۔ یار ایک تو ہی تو ہے جس میں اپنے دل کی بات کر لیتی ہوں صرف تم کو ہج حسنین کا بتایا ہے زرمین اداس سی بولی اس کا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے سارا بولی
او۔ ۔۔۔ہو اور جب وہ تمہیں ڈانٹتا ہے تو۔۔۔۔۔۔۔
تب کبھی اچھا لگتا ہے کبھی زہر لگتا ہے اس دن اس نے ہمیں شاپنگ مال سے ہی روانہ کردیا بہت رات کو ہم لوگ گھر واپس آئے دوسرے دن دونوں دادا نے ان کی بڑی کلاس لی قسمیں بڑا مزا آیا چل مجھے بھی تیار ہونا ہے مہندی میں جانے کے لیے بعد میں بات کرتے ہیں آج بات کرنے کا وقت ہی نہیں ملا . . . . . . . . . . . . . . بائے
وقت بے چارہ حیران ہے کہ دو گھنٹے سے باتیں کر رہی ہیں اور وقت ہی نہیں ملا ۔
زرمین جلدی جلدی تیار ہوئی اور حویلی پہنچی . . . . حسنین بلیک شلوار کمیز اجرک کے ساتھ مہندی کے لئے تیار ہو کر جلدی جلدی نیچے آیا ۔۔۔۔حسنین نے زرمین کو دیکھا تو دیکھتا رہےگیا نظر نے پلٹنے سے انکار کر دیا وہ کالے لباس میں بے حد خو بصورت لگ رہی ہے بالکل ایسا ہیرا جو کوئلے کے بیچ میں آب و تاب سے دمک رہا ہوں ۔۔۔۔
زرمین کو حسنین کا رکنا دیکھنا محسوس ہی نہیں ہوئ اگر دیکھلیتی تو سارے شکوے ختم ہوجاتے ۔۔۔۔۔۔ حسنین مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھنے لگا مگر رستے میں ہی اس کی کزن ردایہ مل گئ
ہائے کیسے ہو بہت اچھے لگ رہے ہو حسنین ۔۔۔
حسنین مسکرایا بالکل ٹھیک تم سناؤ اور سب آئییں ہیں نہ
ہاں جی آخر اتنے سالوں بعد خاندان میں شادی آئ ہے تو سب ہی نے شرکت کرنی تم نہ جانے کب کروں گے کیوں کسی لڑکی کی آہ لےرہے ہو بچاری تمہارا کب تک انتظار کرے گی ۔۔۔کنوارے رہے کر کب تک حسیناوں پر بجلیاں گراوں گے
حسنین نے رادیہ کی بات پر زندگی سے بھر پور قہقہ لگایا اور پوچھا ۔۔ کیا تم بھی میرے انتظار میں ہوں
اگر مجھے فراز سے محبت نہ ہوتی تو ضرور
وہ پھر ہنس دیا ۔۔۔۔۔۔اسی پل زرمین کی نگاہ دونوں پر پڑی اس کے انگ انگ سےناگواری ظاہر ہونے لگی مگر سامنے کے منظر میں کافی دیر تک تبدیلی نہ دیکھ کر ان کے پاس جانے کا فیصلہ کیا
بڑا مسکرا مسکرا کر بات کی جارہی ہے اس دم کٹی بندریا سے ابہی مزا چکاتی ہوں اس کبوتری کو دانت سارے اندر نہ کر دے تو میں بہی اپنی دادی کی پوتی نہیں.
