Saza-e-Ishq by Areeba Sehar NovelR50421 Saza-e-Ishq Episode 4
Rate this Novel
Saza-e-Ishq Episode 4
Saza-e-Ishq by Areeba Sehar
جلدی جلدی کرتے بہی حسنین کو گھر آنے تک ساڑھے آٹھ بج گئے ۔۔ موبائل پر بات کرتے روم میں داخل ہوا ۔۔۔۔۔۔ہاں یار آج حویلی نہیں آسکتا اسفند کے گھر پارٹی ہے ۔حنا کیسی ہے ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔
حنا کی طبیعت دریافت کرتے نین کو سنتی زرمین اداس ہوگئ ۔۔میں دو دن ہوسپٹل رہی مجھ سے نہں پوچھا میں کیسی تہیں ۔دل میں کہا۔ ۔۔ اور سینڈیل کے اسٹریپ بند کرنے جھکی۔ ۔۔
بالکل ٹھیک ہے ۔۔زرمین بہی جائے گی ۔۔۔جواب کے ساتھ سوال بہی حاضر۔ ۔۔۔۔
ہاں یار ۔۔اسفند کی فیملی کو اچھے سے جانتا ہوں اور آنٹی نے بہی اصرار کیا ۔۔۔تم اور حنا آجاو ۔۔۔
نہیں بھا ئ ابہی دادی بیڈ ریسٹ کروارہی ہیں تو مشکل ہے آپ اور زرمین آجاو زرمین جب سے وہاں گئ ہے پلٹ کر نہیں آئ
ہمممم اچھا مجھے تیار ہونا ہے ۔۔۔زرمین کی بابت سوال کو نظر انداز کیا ۔۔
جی ۔۔اللّہ حافظ ۔۔۔
فون رکھ کر نگاہ اٹھا کر صوفے کے جانب دیکھا ۔۔اسی پل زرمین نے بہی جھکا سر اٹھایا اور بیٹھے ہوے سائٹمیں رکھی جیولری پہننے لگی۔ ۔۔ پل بھر کو نین کی نظر تھم گئ ۔۔میرون میکسی پر لائٹ میک اپ کھلے بالوں میں وہ ایک پری سی لگی ۔۔۔۔ وہ اسے اور مبہوت ہوکر دیکھتا موبائل کی بپ اسے ہوش کی دنیا میں لائ ۔۔۔
اسفند کا نمبر دیکھ کر کا ریسیو کی ۔۔
کب آئے گا ۔۔۔۔۔۔جب سب مہمان چلیں جائیں گے ۔۔۔۔۔۔آجا یار میں نے برتن دھونے کے لیے لوگ بلواے ہیں تو ڈر مت ڈنر فری ہے ۔۔۔اسفند نے لگاتار بولنا شروع کردیا۔ ۔۔
خبیث انسان مجھے کچھ بولنے کا موقع دےگا ۔۔آتا ہوں ۔۔اسکی مزید سنے بغیر موبائل بند کردیا ۔۔۔اور زرمین کی طرف متوجہ ہوا جو بالکل تیار کھڑی تہی ۔۔۔زرمین کی خوبصورتی کا جو فسوں نین پر طاری ہوا تہا اس کا بہت کم دورانیہ رہا اور زرمین ان پلوں سے پہلے کی طرح بے خبر ہی رہی۔ ۔ ۔۔ اتنا زیادہ تیار ہونے کا بہی نہیں کہا تھا ۔۔ لپ اسٹک لائیٹ کرو ۔۔۔ تنقید کی
جی جی۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔ ۔ ۔۔
کافی عرصے بعد زرمین نے کسی تقریب کو اٹینڈ کیا بہت اچھا لگا۔ ۔
نین نے اس کا تعارف کرایا ۔۔۔زرمین آج بہت خوش ہے ۔۔۔اسے اندازہ نہیں کہ اس کی خوشی کے پل بہت جلد ختم ہونے والا ہے ۔۔۔۔۔
سوری سوری ۔۔مقابل نے زرمین کو ایک بازو سے پکڑا ۔۔۔میرا پاوں ڈس بیلنس ہوگیا ۔۔ ۔۔۔
اوکے ۔۔۔۔۔کوئ مسئلہ نہیں۔ ۔زرمین مسکراتے گویا ہوئ
آپ کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ کہیں دیکھا ہے یہ مت سمجھیے گا کہ میں فلرٹ کررہا ہوں ۔۔۔
زرمین نے گھورا ۔۔۔فلرٹ کرکے تو دیکھو رات میں ہی سورج نہ دیکھا دیے تو زرمین نام نہیں ۔۔۔روانی سے اپنا نام ہی بتا دیا۔
ان دونوں کو بات کرتا دیکھ حسنین کی آنکھوں میں آگ کے شعلے جل اٹھے نین کا دل چاہا ابہی کے ابہی دونوں کو اس آگ میں بھسم کر دے ۔۔۔غصے پر قابو پاتا ان کی جانب آیا ۔۔۔
یاد آیا آپ زرمین حسن شاہ ہیں ۔۔۔جلال شاہ کی پوتی ۔۔۔
میں ماسٹر یوسف کا بیٹا سعدی یوسف ہوں ۔۔
کیسے ہیں ماسٹر جی ۔۔ زرمین نے خوشی سے پوچھا ہی تھا کہ نین کی آمد ہوئ ۔۔۔
چلیں زرمین ۔۔
جی ۔۔حیرت سے اسے دیکھا ابہی تو ڈنر ہی نہیں ہوا اور جانے کی بعد ۔۔۔جی چلیں ۔۔۔
سر آپ ۔۔۔۔
ارے تم یہاں ۔۔۔
جی سر میں شہریار کا فرینڈ ہوں وہ یہاں آرہا تھا مجھے بہی لے آیا۔۔۔ ۔۔۔۔
اسفند کا۔کزن ۔۔۔اچھا کیا ۔۔اور زرمین کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا یہ میری وائف۔ ۔۔
سر بہت خوشی ہوئ ۔۔۔اور میم آپ بہت لکی ہیں سر بہت اچھے ہیں ۔۔میرا میڈیکل کا سارا خرچ سر دے رہے پیں ۔۔
زرمین پیھکا مسکرائ ۔۔۔ہاں سب سے کے ساتھ اچھے ہیں سواے میرے بچپن کی دشمنی ہے ۔۔آرزدہ دل میں سوچا۔ ۔۔۔
نین نے بہت ریش ڈرائونگ کرتا گھر آیا ۔۔۔ ۔اور چابی گارڈ کے حوالے کرتا سیدھا روم میں پہنچا۔ ۔۔۔
زرمین پورے رستے ہولتی رہی اور منہ بند ہی رکھا ۔۔سمجھ سے باہر تھا کہ موڈ آخر کیوں آف ہے ۔۔۔۔کافی بنا کر لے جاتی ہوں دوبارہ نہیں آنا ہوگا خود سے باتیں کرتی زرمین کچن چلی آئ ۔۔
۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین صوفے پر بیٹھا غصہ میں کھول رہا تہا ۔۔جب تک زرمین پرنہ اتار لیتا سکون کہاں ملتا۔ ۔۔۔۔
نین نے سگریٹ سلگائ دوکش ہی لگائیں ہونگے زرمین روم میں آئ ۔۔۔
سائیں آپ کی کافی ۔ ۔
نین نے غصے سے دیکھا ۔۔۔
زرمین کو ڈر لگا آج تو ارادہ کیا تھا اسے باپ بننے کی خوش خبری سنائے گی لیکن اب کیسے سوال ذہن میں گونجا ۔۔ڈرتے ڈرتے پوچھا ۔۔۔آپ غصہ کیوں ہیں ۔
او میری پیاری بیوی کو نہیں پتہ چچ چچ ۔۔۔۔میں بہی سوچو آج اتنا بنی سنوری کیوں تہی ۔۔۔غصے نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی ختم کردی بھول گیا خود ہی نے کہا تھا ۔۔۔ ۔۔
اسی بازو کو پکڑا تہا نہ ۔۔کس کر بازو پکڑا ۔۔۔زرمین کےہاتھ سے کپ گرا ۔۔۔زرمین کو شدت سے تکلیف ہوئ ۔۔۔۔آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ۔۔۔
نین نے جلتی سگریٹ زرمین کے بازو پر رگڑ کر بجھائی ۔۔۔۔
زرمین کی چیخ نکل گئ ‘ ۔۔۔چیخ پر نین نےزور کا تھپڑ لگا یا زرمین گری ۔۔۔۔زمین پر پڑے ٹوٹےکافی کے کپ کے کانچ کا کگر زرمین کے ھاتھ کی نس میں کھب گیا ۔۔تکلیف سے چیخیں نکلے بغیر ہی ہوش کھوگیا ۔۔
بالوں سے پکڑا آئندہ کسی بہی غیر نے بازو پکڑا تو جڑ سے کاٹ کر پھینک دونگا ۔۔۔۔۔مگر یہ دھمکی سننے کے لیے زرمین حواسوں میں ہی نہیں تہی ۔۔۔۔نین کے ہاتھوں میں جھول گئ۔ ۔۔نین کی نظر ہاتھوں نکلے خون پر پڑی تو غصہ تھم گیا ۔ ۔ ذہن پل کو ہاتھ سے نکلے خون پر جم گیا ۔ جلدی سے کوئ کپڑا دیکھا فوری کچھ نظر نہ آیا اپنی ٹائ اتار کے کانچ نکال کر کس کے باندھا ۔۔پھر تیزی سے گود میں اٹھا کر گاڑی کی طرف بھاگا ۔ ۔ تیز گاڑی چلاتے ایمرجنسی میں پہنچا ۔۔۔
ارے یہ تو زرمین ہے نائٹ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر زویا بولی ۔۔۔ان کو میں دیکھتی ہو ں ۔۔جلدی سے خون روکا انجکشن لگا کر بہترین ٹریٹمنٹ دی اور باہر آکر غصہ حسنین پر اتارا۔ ۔
آپ مریضہ کے کون ۔۔۔
ہسبینڈ ۔۔۔
ھممم ۔۔لو میرج کی ہے آپ نے لیکن زرمین کی پرواہ بالکل نہیں کرتے ۔۔۔۔۔اور اپنی ماں کو کیوں نہیں سمجھاتے کتناظلم کرتی ہے میں نے بیڈ ریسٹ بتایا تھا مگر ساس نہیں کرنے دیتی ۔ ۔نرس کی آمد پر رکی ۔۔۔۔ واپس اندر کی راہ لی ۔ ۔
ماں پر نین چونک پڑا ۔۔ ضبط سے ہونٹ بھینچ لیے۔نہ جانے کیا بتا یا ۔۔۔بزنس مین سے اچھا میں ڈاکٹر ہی بن جاتا ۔ ۔۔زرمین کا ہوسپٹل آنا اتنا بڑھ گیا ڈاکٹر پہچاننےلگی ۔۔اتنی فضول باتیں بلاوجہ سنی ۔۔ یہ نہیں بتایا طبیعت کیسی ہے۔نین نے کوفت سے سوچا۔۔۔
زرمین کو روم میں شفٹ کیا۔۔زویا نے روم میں بلایا ۔۔
دیکھیے مجھے بتایے ایسا کیا ہوا جو پیشنٹ نے خود کشی کی ۔۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔یہ حادثہ ہے۔۔۔ایکچولی زرمین بے دھیانی میں تہی اور کافی کپ پر گرگئ ۔۔نین نے سارا ملبہ زرمین پر ڈال دیا ۔۔۔
اور ان کے چہرے پر یہ نشان سوالیہ نگاہیں نین پر رکھی ۔۔نین نے چہرہ پر دیکھا پانچوں انگلی کے نشان چھپے تھے چہرہ سوج گیا تھا ۔۔
یہ میرا پرسنل معاملہ ہے نین نے دو ٹوک کہا ۔۔
اوکے زویا نے خود پر کنٹرول کرتے کہا ۔ ۔ میں نے سب دوائیاں اور ان کی ڈائٹ لکھ دی ہیں بلڈ اور چاہیے ۔۔۔۔نہیں تو ماں کے ساتھ ساتھ بےبیز کو بہی خطرہ ہوگا ۔۔۔
نین نے ناسمجھی سے دیکھا کون سی ماں ‘کون سے ببیز’
زویا نےزرمین کی طرف اشارہ کیا یہ ماں اور اسی کے ہونے والے بچے ۔۔
کیا میں باپ بننے والا ہوں ۔۔۔نین نے خو شی سے پوچھا ۔۔۔
اس بار زویا نے تپ کر کہا ۔۔۔ہاں ۔
سچ میں ۔ ۔
زویا نے حیرانگی سے دیکھا ۔ ۔۔آپ کو نہیں معلوم کیا 5 ماہ شروع ہیں ۔۔ اور ٹوئنز ہیں۔ ۔
پاکستان میں نہیں تھا ۔۔
یاد آیا زرمین نے ذکر کیا تھا ۔ ۔ ۔ اوکے میرا راونڈ ہے میں باقی مریض چیک کرونگی ۔۔ ان کو اب ہوش صبح ہی آئے گا۔ ۔۔
نین کو باپ بننے کی بے حد خوشی ہے ۔۔۔ساتھ ہی اپنے دیر سے پتہ چلنے پر غصہ آیا ۔۔۔غصہ تو لگتا ہے چند مہینوں میں نین میں رچ بس گیا ۔۔۔جانے کا نام نہیں لے رہا مگر اب غصے کو جانا ہی ہوگا ۔۔۔پر جانے سے پہلے زرمین پر ایک خنجر اور گھونپے گا۔۔۔
نین ہوسپٹل میں نہایت برداشت سے کام لیا بس نہ چلتا زرمین کے نہ بتانے پر پھانسی کی سزا دے دیتا۔
حسنین نے نجمہ کو زرمین کا ڈائٹ پلان دیا اور سختی سے کہا کوئ غلطی نہ ہو ۔۔آرام کروانے کی ہدایت دی ۔۔
۔ ۔۔۔۔۔۔۔
مجھے کیوں نہیں بتا یا ۔۔۔ارحم کی طرح میرے بچوں کو بہی مارنا چاہتی تہیں ۔۔۔گھر آتے ہی نین نے زرمین سے غصے سے پوچھا ۔۔۔
ذرمین اس الزام پر تڑپ گئ ۔۔نہیں میں نہیں مارنا چاہتی ۔۔۔موقع نہیں ملا ۔۔۔
یہ موقع کیا ہوتا ہے جس دن پتہ چلا اسی دن بتانا تہا ۔۔یاد رکھو اگر میرے بچوں کو کچھ ہوا نہ تو میں تمہارے خاندان کو مٹا دونگا۔۔۔۔۔۔۔بھول جاوں گا کہ میرے بہی کچھ لگتے ہیں ۔۔نین نے سفاکی سے کہا ۔۔۔۔۔۔
نہیں نہیں بچوں کو کچھ نہیں ہوگا میں خیال رکھونگی ۔
مجھے گاوں جانا ہے زرمین نے ڈرتے ڈرتے کہا ۔۔۔
ہاں خیال تو رکھنا ہی پڑے گا ۔۔ ورنہ ۔۔۔اور حویلی نہیں جاسکتی۔۔۔محھ سے جان چھڑانی ہے تو ایک آئڈیا ہے میرے پاس کہ۔ ۔دنیا میں یہ بہی ہوتا ہے کتنی مائیں ہیں جو بچوں کی پیدائش کے وقت مر جاتی ہیں سمپل تم بہی مرجانا ۔۔۔بے رحمی سے کہتے حسنین کو اندازہ ہی نہیں کتنی بڑی بات کرگیا ایسی حالت جب بیوی کو اپنے شوہر سے زیادہ محبت’ زیادہ کیئر کی ضرورت ہوتی ہے موت کی بات اس کے دل میں کیا قیامت برپا کرے گی ۔ ۔۔۔۔جبکہ زرمین کی جان کو تو پہلے ہی خطرہ ہے ۔۔ ۔۔ ۔
اسکی بات سن کر زرمین اسے دیکھتی رہے گئ افسوس سے گردن ہلائ ۔۔آنسو ضبط کرتی ۔۔۔دل کو سخت کرتی ۔۔۔خود کو اسی پل بےحس بناتی بولی ۔۔۔اچھا آئیڈیا ہے آپ کی خواہش ہے تو پوری کرونگی ۔۔۔۔۔اور آنکھ موند لی ۔ ۔ ۔
نین بھی خاموش ہوگیا اسے زرمین کی بات سے’ انداز سے عجیب محسو س ہوا اور ہونا ہی چاہیے تھا مار ہی تو دیااسکے الفاظ نے ۔۔۔۔۔
_______
حسنین اپنا سارا غصہ زرمین پر نکال کر آفیس جانے کے لیے نکلا۔ ۔ ۔۔غصہ تو نکل گیا مگر دماغ اپنے الفاظ میں ہی
الجھ گیا ۔۔زرمین کے مرنے سے مجھ پر کچھ اثر نہیں ہوگا دل نے احتجاج کیا ہوگا پہلی محبت ہے ۔۔ دماغ محبت کچھ نہیں ہوتی ۔۔۔۔دل محبت ہے احمر سے بہی محبت تہی جس کی وجہ سے زرمین ستم سہے رہی ہے ۔۔۔دماغ ہاں محبت جو احمر کے قاتل سے ۔۔۔دل ابہی جواب دیتا حسنین نے اپنے دل ودماغ کو کنڑول کیا ۔۔ذہن جھٹکا ۔۔۔اچانک روڈ کراس کرتے بزرگ کے ہاتھ سے تھیلا گرا وہ اٹھانے جھکے ۔۔بریک لگاتے لگاتے بہی بزرگ سے کار ٹکرا گئ ۔۔۔ ۔ حسنین جلدی سے کار سے باہر آیا ۔۔بزرگ کو دیکھا ۔۔۔اور گہری سانس لی ۔ اللّہ کا شکر ۔ ۔میں ٹھیک ہوں بس سائیٹ سے تھوڑی ٹکر لگی ہے بظاہر چوٹ نہیں لگی ۔۔۔میری غلطی تہی مجھے جھکنا نہیں چاہیے تھا ۔ ۔ بزرگ نے حسنین کو دیکھتے کہا بیٹا تم ٹھیک نہیں لگ رہے بزرگ نے حسنین کی اڑی رنگت دیکھ کر سوال کیا ۔۔۔
آپ کو ٹھیک دیکھکر میں بہی ٹھیک ہوں ۔۔۔مجھے ایکسڈینٹ سے ڈر لگتا ہے ‘دو بڑا نقصان پہنچا ہے۔ آیے جناب میں ڈاکٹر کے پاس لے چلو۔ ۔۔۔۔
نہیں بچے میں ٹھیک ہوں ۔۔ بزرگ حسنین کے اصرار پر نہ مانے اچھا ایسا کرو مجھے گھر چھوڑ دو ۔۔۔
جی ضرور ۔ ۔ ۔۔۔
بسبس اس گلی میں ہی موڑ۔ ۔ اس کالے گیٹ کے سامنے روک لو ۔۔۔ ۔۔آو اپنی بیگم کے ہاتھ کی چائے پلاو اچھی بناتی ہے ۔۔۔
نہیں جناب پھر کبھی ۔۔۔
نہیں ابھی ابہی ۔ ۔اسی انداز میں بزرگ بولے ۔۔حسنین مسکرا دیا ۔۔۔
یار اگر تم لڑکی ہوتے تو میں کہتا ۔۔ہنسی تو پٹی ۔ ۔
اس بار حسنین نے قہقہ لگایا ۔۔
کافی دلچپس انسان ہے آپ ۔۔۔میرا دل کہہ رہا ہے آپ کی بات مان کر چائے پی لینی چاہیے ۔ ۔
دل کی بات تو فورا مان لینی چاہیے ۔ ۔ ۔
کیا دل کی بات ماننی چاہیے حسنین نے سوال کیا ۔۔
بزرگ کو حسنین کے سوال سے ایسا لگا کہ حسنین ایک بکھرا انسان ہے جسےسمیٹنا ضروری ہے ۔ ۔ ہاں برخودار ۔۔حسنین کا ہاتھ پکڑ کر داخل ہوے ۔ ۔نیک بخت مہمان آیا ۔ ۔
اچھی چائے بناو ۔ ۔
ایک ادھیڑ عمر خاتون آئ ۔۔۔نین نے سلام کیا ۔ ۔
خوش رہو ۔۔۔ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنے رہو ۔۔صرف چائے کیوں جی کھانا بہی کھایے گا ۔۔ آج تو میرا ارادہ چکن کڑھائ بنانے کا ہے۔ ۔۔
نہیں آنٹی۔۔میں صرف چائے پیوگا۔ ۔
بیٹا حامی بھرلو تمہارے بہانے مجھ غریب کو بہی چکن کھانے کو مل جائے گی۔ ۔
کیوں جی آپ تو ایسا بول رہے ہیں جیسے میں آپ کے لیے کچھ نہیں بناتی ۔۔۔آئندہ بہی نہیں دونگی۔ ۔۔
۔۔۔تم جانا نہیں بیٹا ۔۔۔خاتون دو باتیں سنا کر کچن میں چلدی ۔۔۔ ۔
بزرگ مسکرادیے ۔۔۔ہاں بیٹا اور سناو . .کچھ دل کا پوچھ رہے تھے ۔۔۔
جی دل کی سننی چاہیے ۔۔
۔دل انسانی جسم کا وہ حصہ ہے جو دلیل نہیں مانگتا ۔۔فورا ردعمل کرتا ہے ۔ چاہے اس میں محبت سما جاے یا نفرت .
دماغ تو نفع نقصان سب دیکھتا ہے پھر فیصلہ کرتا ہے اسکا فائدہ کس میں ہے کس میں نہیں ۔۔۔لیکن دل یہ سب نہیں دیکھتا ۔۔اگر غلط فیصلہ لے تو دل بے سکون ہوتا ہے صحیح فیصلہ ہوتا ہے تو دل خوشی محسوس کرتا ہے ۔۔۔اب تم نے دل کی مانی ابھی تو دل کیا کہتا ہے ۔۔۔سمجھاتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
اچھا لگ رہا ہے ۔۔۔
تو ٹھیک کیا پھر ۔۔۔
اگر دل کچھ محسوس نہ کرے تو ۔۔۔نین نے سوال کیا۔ ۔۔
ہوں ہوتا ہے اکثر ۔۔۔دل بے حس ہوجا تا ۔۔اوردماغ کے کہنے پر ظلم روا رکھا جائے ۔۔بے انصافی کی جائے ‘گناہ کی کثرت دل پر زنگ لگا دیتا ہے ۔۔زنگ لگنے سے پتہ ہی نہیں چلے گا ہم کہاں ٹھیک ہیں اور کہاں غلط ۔۔۔
پیارے رسول نے ایک حدیث میں فرمایا “سن لو بدن میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جب وہ درست ہوگا تو سارا بدن درست ہوگاوہ بگڑ گیا سارا بدن بگڑگیا ۔ سن لو وہ ٹکڑا دل آدمی کا دل ہے ” ۔ ۔۔
کتنے پیارے وضح الفاظ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کردی.
دل وجود انسانی میں صرف پمپنگ کرکے زندہ رکھنے کا کام نہیں کرتا یہ زندگی کو گزارنے کا کام کرتا ہے ۔۔سارا دن ہم مختلف الفاظ میں کہتے ہیں کہ کیادل چاہا رہا ہے یہ کھالیں ۔۔۔دلچاہا رہا ہے فلاں جگہ گھوم آئیں ۔ ۔دل کا تسلسل جملہ رہتا ہی اب دیکھ لو میرا چکن کھانے کا دل ہےپر تمہاری ظالم آنٹی نے دینے سے منع کردیا۔۔۔سمجھاتے اپنا دکھڑا بہی کہہ بیٹھے۔ ۔۔۔خیر یہ تو دل کچھ بہی فرمائش کر لیتا ہے ۔۔۔دل کی خبصورتی کے لیے ضروری ہے کسی دوسرے دل کی دل آزاری نہ ہو ۔۔۔ہمیں صرف اپنے ہی دل کاخیال نہیں رکھنا دوسرے دل کا بہی رکھنا ہے ۔۔۔اگر ددوسرا دل دکھا تو تکلیف تمہارا دل بہی سہہ گا ۔۔۔دل دکھانے کا سلسلہ جاری رہا تو دل پر تو زنگ لگنا شروع ہوجاے گا ۔۔ اگر بروقت ازالہ کردیا جاے دل دکھانے کا تو دل بے سکون ہونے سے بچ جاےگا ۔۔ ۔ بعض تکلیفوں کا ازالہ ناممکن سا ہوتا ہے پر اللّہ چاہے تو نا ممکن بہی ممکن کردے شرط صرف سچی ندامت ہے ۔۔۔کسی کا دل مت دکھاو اس کے آنسو تمہارے لیے سزا بن سکتے ہیں۔ ۔۔۔۔کوشش کرو دل کی اچھی بات فورا سنو ۔۔
نین کے ذہن میں روتی زرمین آئ اس کا دل یکدم گبھرایا ۔۔چلتا ہوں جناب کافی ٹائم گزرا مجھے اچھا لگا ۔۔
کوئ نہی۔ کھانا کھا کر جانا ۔۔۔آپ نے اپنی باتوں سے بچے کو پکا دیا ہوگا ۔۔۔خاتون اچانک کمرے میں آئ اورنین کو روکا ۔۔۔
لو بھلا میں کیوں پکاو گا یہ کام تو خواتین کاہےنروٹھے انداز میں بولے۔ ۔
کیا مطلب آپ کا ۔۔۔خاتون اپنی صنف کی حمایت میں تیکھےتیور میں بولی
۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے بیگم کھانا تو خواتین پکا تی ہیں اور بہت عمدہ پکاتی ہیں کل پڑوس سے اقصی خاتون نے بہت لذیز کھیر بنائ تہی ۔۔بیجھی۔۔۔۔۔۔۔
ہیں ہیں کھیر ۔۔کب آئ ۔۔میں کہاں تہیں ۔۔
معصومیت سے ۔آپ سو رہی تہیں اس لیے میں نے پوری کھا لی ۔۔ گرم ہوجاتی تو آپ کھاتی نہیں ۔ ۔ ۔۔۔
گرم کی خوب کہی فریج میں رکھ دیتے ۔۔۔اور پوری کھائ اسلیے کل شگر بڑھ گئ آنے دو مہناز کو وہ ہی آپ کو سمجھا سکتی ہے ۔۔۔حسنین کی طرف رخ کرکے بولی مہناز میری بیٹی ہے شادی کے دس سال بعد ہوئ ہے اللّہ کریم نے ہم بے اولادوں پر کرم کیا۔ ۔
حسنین کا دل ان دونوں کی نوک جھوک میں مصروف ہوگیا ۔۔ ایک اچھی دوپہر گزار کر ‘دوبارہ آنے کا وعدہ کرکے آفیس کے لیے روانہ ہوا۔۔۔۔. ۔۔۔۔۔
اسفند آفیس میں علیزہ سے بیٹھا باتیں کر ہا تھا حسنین کی آمد پر علیزہ بوکھلا کر چیر سے اٹھی مارننگ سر ۔۔سوری آفٹر نون سر ۔۔
اسفند نے علیزہ کی بوکھلاٹ کو انجوِے کیا ۔۔۔
حسنین نے اسفند کو گھورا اور علیزہ کو احمد سنز کی فائل لینے بیہجا ۔۔۔
اور شہزادے آج اتنا لیٹ آیا ۔۔کیا بھابھی کو چھوڑ کر آنے کا دل نہیں کیا ۔
دل پر نین چونکا ۔۔۔
یار بھابھی ہے بڑی قیامت۔۔ ۔نین نے گھورا۔ ۔۔اسفند بوکھلایا میرا مطلب ہے خوبصورت ہے ۔۔معصوم ہیں ۔ ۔۔۔اور میرا کوئ الٹا دوسرے مردوں کی طرح مطلب نہیں ہے وہ میرے لیے قابل احترام ہیں ۔۔ ۔ میری بہنوں جیسی ہیں ۔۔۔اسفند نے جزباتی تقریرکی۔ ۔
نین ‘یہ دوسرے مردوں سے کیا مراد ہے وضاحت کریں گے آپ۔ ۔۔اسفند مسکراتے ہوے یار سنا نہیں ہم مردوں کو بیوی دوسروں کی اور بچے اپنے اچھے لگتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نین بہی مسکرادیا۔۔۔۔۔بڑا ہی خبیث ہے تو ۔۔۔
اور میرا شمار نہیں اسمیں
مان لیتا ہوں اور آتے ہوئے راستے میں ایک چھوٹا ایکسڈینٹ ہوگیا تھا ۔۔
اوہ کوئ مسلہ ‘کوئ چوٹ تو نہیں لگی
نہیں’ اللّہ کا کرم ہے ۔۔۔اور تم کو کام کے لیے آفیس بلایا ہے سیکٹری سے گپیں لڑانے نہیں ۔۔۔
کیا مطلب ہے تیرا میں کوئ ایساویسا ہوں ۔۔اسفند نے برا منایا ۔۔۔
تو کیسا ویسا ہے مجھے سب پتہ ہے میں اندھا ہوسکتا ہوں آفیس کے باقی لوگ نہیں ۔۔سمجھے علیزہ ایک شریف لڑکی ہے ‘بلاوجہ لوگ باتیں بناتیں ہیں ۔۔۔
ہاں میں لچا لفنگا ہوں 16ملکوں نہیں بلکے پوری دنیا کی پولیس مجھے ڈھونڈ رہی ہے ۔ ۔اسفند جل کر بولا ۔۔
اب اپنے ڈرامے بند کرلےاور کیا خیال ہے کام کرلیا جائے ۔ ۔ ۔۔ ہاں ضرور ۔ ۔ ۔
۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔نجمہ نے حسنین کی ہدایت پر عمل شروع کردیا۔ ۔ بہتر ین غذا اور آرام سے زرمین کی طبیعت تو بہتر ہوئ مگر سکون تو حسنین کے غصے نے ختم کردیا اور خیال کتنا ہی رکھا جاے اگر سکون نہ ہو تو غذا بہی بہترین اثر نہیں رکھتی ۔۔اور طبیعت میں بوجھل پن سما جاتا ہے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔دادا ابو آپ سومرو کو سمجھا دیں روکاوٹ نہ ڈالیں اگر اس کے پاس اختیارات اور سورسز ہیں تو میں بھی شہر میں کوئ گھانس نہیں کھارہا ۔۔۔میں بس کسی کو بیچ میں نہیں لانا چاہتا ۔۔۔
بیٹا تم فکر نہ کرو پنچائیت بٹھائیں گے ۔۔۔آخر ان کے علاقے کا بھلا ہے اور زمین بھی ہم نے خریدی ہے ۔۔۔نیک کام کررہے ہیں اللّہ مدد کرے گا ۔۔۔
جی آپ آج ہی بات کرے مجھے جلد بتائیں تاکہ کام شروع کریں ۔۔۔دادی کیسی ہیں
اچھی ہیں تم کب آو گے ۔۔آجاو زرمین بیٹی کو بھی لاو ۔۔دادا ایک اور فون آرہا میں سن لو پہر بات کریں گے اللّہ حافظ۔ ۔۔۔اب تو حویلی فون کرنا بہی مشکل ہے میرے خاندان کو بہی اسی کی فکر رہتی ہے ۔۔نین نے کوفت سے سوچا۔ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔یہ ہفتہ بظاہر زرمین کے لیے سکون کا گزرا تھا مگر زرمین بے چین رہی ۔۔۔
زبردستی کچن میں کام کرنے لگی ۔۔۔صبح سے کچھ نہ کچھ توڑنے لگی ۔۔۔نجمہ کو تنگ کرنے والے سارے کام کیے ۔۔۔نجمہ حسنین کی ہدایت پر برداشت کرنے کی کوشش میں لگی رہی۔۔برداشت کرنا مشکل تھا جس پر حکومت کی تہی ،آج تابعداری کرنی پڑ رہی ہے، آخر برداشت اس وقت ختم ہوئ جب زرمین نے نجمہ کو چائے دی اور غلطی سے پیالی چھوٹ کر نجمہ کے پیروں کے پاس گری اگرچہ نجمہ پر چائے کے چند چیٹھے ہی پڑے تھے لیکن نجمہ نے زرمین پر ہاتھ اٹھالیا پہلے تھپڑ پر نین نے لاونج میں قدم رکھا دوسرے پر تیزی سے دھاڑا ۔۔۔۔
___________
کیا ہورہا ہے ۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئ ہاتھ اٹھانے ۔۔۔نین نے غصیلے لہجے میں بولا ۔ ۔ ۔
صاحب جی غلطی سے ہوگیا ۔۔۔مجھے معاف کر دیں ۔۔۔ ۔۔
زرمین نے نین کی طرف دیکھا ۔۔۔آنکھ نم ہے مگر کوشش کی آنسو باہر نہ آئے ۔۔۔
۔۔۔تمہیں خیال رکھنے کا کہا تھا ۔۔۔تمہارے اس تھپڑ کی وجہ سے میرے بچوں کو نقصان پہنچ جاتا ۔۔۔۔
زرمین نے گہری سانس لی ۔۔میری نہیں بچوکی فکر ہے ۔ ۔ ۔
میری بیوی ہے حسنین شاہ کی بیوی ۔۔تم ایک ملازمہ ہو کر اس پر ہاتھ اٹھاوں گی ۔۔میری چیزوں کو کوئ بہی نقصان پہنچائے مجھے برداشت نہیں ۔۔۔میں عورتوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتا ورنہ وہ حشر کرتا تمہاری نسلیں یاد رکھتیں ۔ ۔
زرمین نے حیرانگی سے دیکھا عورتوں والی بات پر۔ ۔معافی تو بالکل نہیں ملے گی ۔ ۔بخش ۔۔۔آواز دے کر بولایا ۔۔لے جاو اسے بیسمنٹ میں اور حسنین شاہ کے حکم نہ ماننے کی سزا دوں ۔۔۔بس جان نہیں لینا ۔۔۔
حسنین کے اس روپ سے سب ملازم سہم گئے ۔۔۔نجمہ سب ہی کے لیے ظالم اپنی ہیڈ پوسٹ پر اکڑنے والی۔ ۔۔۔اسلیے ملازمو ں کو حسنین کے فیصلے سے زیادہ دکھ نہیں ہوا۔ ۔۔۔۔ ایک ظالم تو انجام کو پہنچا۔ ۔
جی سائیں ۔۔۔ بخش نے سردارا کو بولا سردارا کھینچتے ہوے لے گئ سائیں ۔۔۔معاف کردیں معاف کردیں۔ نین نے ان سنا کیا۔ ۔
شائستہ آج سے نجمہ کی جگہ آپ ہیں ۔۔۔اور میری بیوی کا بےحد خیال رکھنا ۔۔۔
جی سر ۔۔۔شائستہ اس بات پر خوش تہی دیر سے ہی صحیح حسنین نے زرمین کا خیال تو رکھنا شروع کیا ۔۔ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بخش نے زرمین پر ہاتھ اٹھانے کی سزا میں نجمہ کے ہاتھ دہکتے کوئلے سے جلا دیا ۔۔۔ہاتھ جلنے کی تکلیف سے نجمہ کو بخار نے آگھیرا ۔۔۔
سائیں نجمہ بخار میں بے ہوشی کی کیفیت ہے
ہممم ٹھیک ہےابہی کے لیے کافی ہے اتنا ۔۔۔علاج کراو ۔۔۔
جی سائیں بہتر ۔۔۔۔سومرو کے آدمی کو آج حویلی کے باہر دیکھا گیا ہے قادر سے فون پر بات ہوئ تہی ۔۔۔
حسنین بات سن کر چونکا ۔۔۔جانے دیا کیا ۔۔۔
نہیں سائیں تھوڑی خاطر مدارت تو بنتی ہے بخش نے دانت نکالے ۔۔
ہوں ۔۔کیا بتایا۔۔۔۔ پروین کی بیٹی سے محبت کرتا ہے اس سے چوری ملنے آیا تھا ۔۔۔
سخت زہر لگتا ہے مجھے ایسا چوری چپھے ملنا ۔۔۔پھر تو اچھے سے کروں خاطر کوئ کمی نہ ہو ۔۔۔۔۔تھوڑی دیر سوچ کر کیا خیال ہے بخش داماد بنا لیں ۔۔۔سومرو کی خبر دیگے ۔۔۔
جی سائیں بات تو ٹھیک ہے ۔۔۔
ٹھیک خاطر کے بعد معملات طے کر لوں ۔۔اور شادی میں کوئ کمی نہیں ہونی چاہیے ۔۔۔اسے سمجھا دینا کیسے وفاداری نبھانی ہے ۔۔۔۔۔
جی سائیں ۔۔۔.. …
حسنین کی قدوس صاحب سے اچھی سلام دعا ہوگئ ۔۔قدوسی صاحب کے کہنے پر اس نے انکے محلے کی ایک لڑکی کی شادی کروائ اور اب ایک جگر کے مریض کو پاکستان سے باہر بیہجنے کی تیز رفتاری سے کوشش کرہا ہے ۔۔۔نین شروع ہی سے اچھے اور نیک کام کرتا رہتا ہے ۔۔ مختلف گاوں میں احمر فاونڈیشن ادرے کے تحت اسکول اور چھوٹے ہوسپٹل کھول رہا ہے اس چھوٹے ہوسپٹل میں سب ہی بنیادی ضرورت کا سامان موجود ہے ۔۔نصیر سومرو گاوں میں بچل سومرو روکاوٹ بن رہا ہے اس لیے ابہی وہاں تعمیرات شروع ہی نہ ہوسکی 2 گاوں میں ہوسپٹل اور 3 گاوں میں اسکول تیار ہوچکے ہیں اور وہاں کے لوگ حسنین سے بہت خوش ہیں ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔ ۔۔۔۔. . . . . ۔۔۔. دو سے تین دن بعد زرمین نے پھر ایسا ہی کیا زبردستی کام کرنے لگی تو شائستہ نے ہلکا پھلکا کام دیا ۔۔۔پر زرمین باز نہیں آئی ۔۔۔نین کی آمد پر بہی زرمین نے کافی خود بنائ اور لیکر روم میں پہنچی ۔۔۔۔۔
سائیں کافی ۔۔۔
تمکو منع کیا پے کتنی بار، صرف آرام کرو ۔۔۔کون سی بہت اعلی کافی بناتی ہو جو میں نہ پیوں تو مر جاوں ۔۔۔
زرمین کے دل نے کہا اللّہ نہ کرے ۔۔
جاو اب میرا کھڑے کھڑے منہ کیا دیکھ رہی اور کتنا رف حلیہ ہے فورا چینج کرو۔۔۔۔۔۔۔اور بیڈ پر آو ‘ویسے ہی کافی دن ہوگئے۔۔۔۔۔ ذومعنی بات کہہ دی . ۔۔۔۔۔۔۔
زرمین پھر ضروت بننے پر نم آنکھوں سے ڈریسنگ روم کی جانب بڑھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. . ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
آج 10 دن ہوگئے نجمہ کو گئے اور شائستہ کو ہیڈ بنے ۔۔شائستہ نے اپنے زیر ملازموں کے ساتھ بہترین سلوک رکھا سب ہی شائستہ سے خوش ہیں ۔۔۔
آج بہی زرمین ذہنی طور پر بوجھل ہے ۔۔کچن میں آکر روٹی پکاتی ملازمہ کو ہٹا کر خود پکانے لگی ۔۔۔شائستہ کو جیسے ہی معلوم ہوا فورا آکر اسے ہٹانے لگی مگر زرمین پر تو پکانے کا جنون ہی چڑ ھ گیا ۔۔آپ کون ہوتی ہیں منع کرنے والی میں تو پکاوں گی ۔۔۔کیا کرلیں گی آپ ۔۔بدتمیزی سے شائستہ کو جھڑکا ۔۔۔بیبی آپ کی طبیعت خراب ہوجائے گی عاجزی سے گویا ہوئ ۔۔۔
کیوں کیا اس سے پہلے میں نے روٹیاں نہیں ڈالی ۔۔اگر تم نے مجھے منع کیا تومیں خود کو جلا لونگی ۔۔۔نہیں بیبی آپ پکاوں ۔بےبس باہر آگئ ۔ ۔ فکر ہوئ صاحب نے دیکھ لیا تو ۔۔۔۔۔ ۔زرمین کو کچھ دیر بعد کچن سے نکلتا دیکھ سکھ بھرا سانس لیا شکر ہے سر نہیں آئے ۔۔مگر زرمین پھر واپس آئ ۔۔شائستہ گھبراگئ نجانے اب کیا کہے ۔۔۔
معافی چاہتی ہوں شائستہ باجی پتہ نہیں کیسے میں آپ سے اتنی بدتمیزی کر گئ ۔۔۔ ۔ ۔
شائستہ کوئ بات نہیں۔۔۔۔پھر کھانے کے بعد جھاڑو دینے پر ۔۔شام کی چائے سب ملازموں کو دینے پر شائستہ سے بدتمیزی اور غصے کا اظہار کیا ۔۔۔اور سوری بہی نہیں کی ۔رات کے کھانے کو لیکر جب زرمین نے پکانے کی ضد کی اس وقت تو زرمین کی طبیعت بہی ٹھیک نہ تہی تو مجبورا تنگ آکر شائستہ نے نین کو فون کیا ۔۔۔نین نے تھوڑی دیر میں آنے کا کہا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زرمین کی طبیعت کے پیش ِنظر نین نے نارمل لہجے میں زرمین کو روم میں آنے کو کہا ۔۔آج بہی زرمین کافی بنا کر لے گئ۔ ۔۔۔
کیوں نہیں سن رہی تم ۔۔۔منع کرہا ہوں کافی بنانے سے صرف آرام کروں ۔۔۔نین کا لہجہ نارمل ہی رہا ۔۔۔نین نے کافی پینی شروع کردی ۔۔زرمین یک ٹک نین کو دیکھتی رہی ۔۔۔۔پھر زرمین نے کافی کا کپ نین سے لے کر پھینک دیا ۔۔۔۔۔ ۔
نین ہکا بقا ہوگیا کہ زرمین نے یہ کیوں کیا ۔۔۔غصے سے چیخا ۔۔۔کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔زرمین چپ ۔۔۔بولو ۔۔۔زرمین کچھ نہ بولی ۔۔نین ۔ ےحد مشکل سے خود پر قابو پایا دل تو کررہا تھا مار کر دماغ ٹھکانے لگائے مگر ڈاکٹر زویا کی ہدایت پر مارنے سے خود کو باز رکھا ۔۔۔میرا خیال ہے تمہاری طبیعت خراب ہے آرام کرو ۔۔غصہ کنڑول کرنے کے لیے راکنگ چیئر پر بیٹھ گیا ۔۔۔
۔۔زرمین نین کی ڈانٹ سن کر آہستہ چلتی نین کے پاس آئ اور بولی ۔۔نین 15 دن ہوگئے آپ نے غصے سے زیادہ ڈانٹا نہیں مارا نہیں۔۔۔۔۔۔۔پلز مجھے مارو ۔۔۔مجھے جھڑکوں ۔۔۔میری بےعزتی کرو ۔۔۔نین مجھے مارو نہ روتے روتے بولی ۔۔۔مجھے سخت بے چینی ہورہی ہے ابہی آپ نےتھوڑا غصہ کیا مجھے تھوڑابہتر لگا ۔۔۔پلز مارو نہ ۔۔۔میں میں نہ تمہا تمہاری کافی پھینک دی ۔۔بات نہ مم مانی۔ ۔مارو مجھے ۔۔ہچکیاں لیتی زرمین نے ہاتھ جوڑ لیے ۔۔۔ ۔۔
حسنین کو تو سکتہ ہی ہوگیا ۔۔۔وہ فق چہرہ سے زرمین کا گڑگڑانا دیکھ رہا ہے ۔۔کیا اس کے ظلم نے زرمین کو پاگل کردیا ۔۔پلز روتی بلکتی ہچکی لیتی زرمین ہاتھ جوڑے مار کی گردان میں لگی اس کا دامن پکڑ لیا۔۔۔نین کو وہ اس وقت ہیروئن کانشہ کرنے والوں کو وقت پر نشہ نہ ملے جیسی حالت میں لگی ۔۔۔۔۔حسنین کے پسینے چھوٹ گئے ۔۔زرمین کے الفاظوں اور حالت نے حواس باختہ کر دیا وہ گھبرا کر اٹھا ۔۔۔ دامن چھڑایا اور تیزی سے باہر کی جانب بڑھا نین کو لگا اگر وہ تھوڑی دیر اور روکا تو اس کا دم گھٹ جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔
شائستہ نے نین کو تیزی سے الجھے چہرے کے ساتھ بھاگتے دیکھا تو جلدی سے روم میں بڑھی ۔۔۔جہاں روتی ہوئ زرمین کے حواس بہی کھوئے ہوئے تہے۔۔۔ملازمہ کی مدد سے زرمین کو بیڈ پر لٹا کر ڈاکٹر زویاکو فون کیا ۔۔۔
میں نے اس آدمی کو کتنا سمجھایا ان کو بے حد بےحد کیئر کی ضرورت ہے مگر نہیں کوئ خیال نہیں ۔۔۔ساس کہا ں ہے بلاو ذرا ۔۔۔۔
ڈاکٹرنی جی وہ گاوں چلی گئ سر نے انکو گاوں بہیج دیا ۔۔۔شائستہ کو زدمین نے نجمہ کا بتا دیا تھا۔ ۔
یہ اچھا کام کیا ظلم کے علاوہ وہ کرتی ہی کیا تہی اپنی جاگیردارنی گاوں میں ہی کرے تو صحیح ہے ۔۔۔نہیں گاوں پر بہی ظلم ہی ہے ۔۔۔خیر اب میں انکی میڈیسن چینج کرہی ہوں ۔۔۔بہت پابندی سے تینوں ٹائم دینا ہے ۔۔فریش فروٹ کا استمعال زیادہ سے زیادہ ہو ۔۔ وینفر ڈرپ لگادی ہے اور انجکشن بہی تھوڑی دیر میں طبیعت بہتر ہوجائے گی۔ ۔۔۔۔۔
________________________________________________
حسنین سن ذہن کے ساتھ کار سڑکوں پر چلانے لگا زرمین کو کئ بار روتے فریاد کرتے دیکھا مگر آج کا رونا ہی الگ تہا ۔۔بار بار کانوں میں مجھے مار کی آوازیں گونج رہی تھیں ایک وحشت سی چھا رہی تہی اور سڑکوں پر پھرتے پھرتے کار رخ قدوسی صاحب کے گھر کر لیا غائب دماغی سے اترا اور بیل کی بجائے دروازہ کھٹکھٹایا ۔۔
دروزہ زور سے بجنے پر قدوس صاحب نے جلدی کھولا سامنے حسنین کھڑا تھا ۔۔۔اسکے چہرے پر عجیب کیفیت لگ رہی ہے قدوس صاحب اس کو بازو سے پکڑ کر لائے وہ بے جان مورت کی طرح کھینچتا چلا گیا ۔۔۔۔۔اندر بیٹھایا پھر پوچھا کیا ہوا بیٹا اتنے پسینے کیوں ہورہے ہو ۔۔۔
پانی پلز پانی دیں ایسا لگ رہا ہے حلق میں کانٹے اگ آئیں ہوں۔ ۔
وہ جلدی سے پانی لائے نین نے ایک ہی سانس میں گلاس خالی کیا اور مانگا وہ بہی پی لیا تھوڑے حواس بحال ہوئے ۔۔۔لگ رہا ہے آج زرمین کی تڑپ ‘دعا اور سزا رنگ لے آئ ۔۔۔نین کے دل ودماغ میں زرمین کی مار کی فریاد کوڑا بن کر لگی جس نے دل ودماغ پر لگے بے حسی کے تالے کو توڑ دیا ۔۔ نظریں جھکا کر دھیمے سے ۔۔۔میں نے اسے شاید پاگل کردیا ۔۔۔میں ایک ظالم جابر ہوں۔۔
کسے کردیا پاگل ۔۔قدوس صاحب نے سوال کیا ۔۔۔۔
نین انکے سوال پر ایک دم ہوش میں آیا میں یہاں کیسے ۔۔۔
قدوسی صاحب نے کہا بیٹا شاید تمہارے دل کو احساس کی چوٹ پڑی ہے ۔۔۔اس لیے غائب دماغ ہوگئے ۔۔۔تم لمبی لمبی دو تین سانسیس لو میں بیگم کو چائے کا کہہ کر آتا ہوں ۔۔۔
پو برخودار اب بتاو ایسی کیا بات ہوئ کہ تم اپنے آپ میں نہ رہے ۔۔۔
نین احمر کی موت سے لیکر زرمین سے شادی تک کاقصہ سنا سنادیا.
