Saza-e-Ishq by Areeba Sehar NovelR50421 Saza-e-Ishq Episode 7
Rate this Novel
Saza-e-Ishq Episode 7
Saza-e-Ishq by Areeba Sehar
جلال شاہ نے تاسف سے کہا تو تم نے بھی بدلہ لیا ۔۔اپنے پوتے کا ۔۔۔اس سے اچھا تم زاویار کو ایک ہی بار مار دیتے ۔۔۔سکون مل جاتا تم سب کو ۔۔بار بار تو انتقام نہ لیتے ۔۔اذیت نہ دیتے
کمال شاہ اس الزام پر تڑپ اٹھے ۔۔۔نہیں بھائ آپ غلط سوچ رہے ہہیں ۔۔زاوی کو میں احمر جیسا اپنا ہی پوتا سمجھتا ہوں ۔۔زرمین بیٹی مجھے بہت پیاری ہے ۔۔۔
بیگم جلال نے پوچھا جو پیارے ہوتے ہیں اس پر ایسا ظلم ڈھاتے ہیں ۔۔۔میری پوتی عیب دار ہوتی یا وارث نہ دیتی یا مر جاتی تو تب سمجھ بھی آتی شادی کی ۔۔۔۔۔۔
آپ غلط سمجھ رہی ہیں ۔۔۔نین دوسرا نکاح بالکل نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ۔میں نے ضرور دیا تب ہی۔ ۔۔کمال شاہ نے نین کی صفائ دی ۔۔۔
جلال شاہ کمال کی بات سن کر بیگم سے بولیں اب ہمیں چلنا چاہیے ۔۔۔۔
بھائ آپ ناراض ہوکر جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔
تو تم نے کون سا راضی کرنےوالا کام کیا ۔۔۔جلال شاہ غصے سے بولے ۔۔۔
میں وہی تو بتا رہا ہوں کیوں کیا آپ چلنے کی بات کررہے ہیں ۔۔۔
بولو۔۔۔سن رہے ہیں ہم ۔۔۔۔۔۔۔ڈرائنگ روم میں مکمل خاموشی چھا گئ ۔۔سارے ہی کمال شاہ کیطرف متوجہ ہوئے ۔۔۔
فاریہ بیٹی کی چچی نے اپنے جواری بیٹے سے فاریہ کی شادی طے کردی ۔۔۔۔۔۔۔ اور۔ ۔۔ ۔ تفصیل بتائ۔۔۔تو سب کو اطمینان ہوا
جلال شاہ جنجھلا کر بولے پاگل انسان تو یہ بات سب کے علم میں پہلے لے آتے اس میں راز داری کی کیا بات تہی ۔۔۔
بڈھے ہوگئے لیکن آج بھی عقل ٹخنے میں ہی ہے ۔ ۔ ۔
کمال شاہ بیٹوں بیٹیوں اور بہووں کے سامنے اس عزت افزائ پر کلس گئے ۔۔۔
بھائ غلطی ہوگئ ۔۔اور میں بڈھا نہیں ہوا ۔۔ڈرائنگ روم کا ماحول بہتری کی طرف بڑا ۔۔۔۔۔
ہاں ملی تہی نسیمہ وہ بھی بول رہی تہیں ۔۔کمال جوانی جیسا آج بھی ہے ۔۔۔
نسیمہ کے ذکر پر کمال شاہ اپنی جگہ پر اچھل ہی گئے ۔۔۔۔۔
کون نسیمہ۔۔بھائ صاحب ۔ بیگم کمال نے پوچھا ۔۔۔
کمال شاہ نے التجائیہ نظروں سے دیکھا بھائ جی بتا مت دینا ۔۔۔
مگر ان نظروں کو بڑی صفائ سے نظرانداز کرکے بولے آپ کو کبھی کمال نے نہیں بتایا ۔۔۔چلو میں بتاتا ہوں ۔۔۔کمال شاہ نے بےچینی سے پہلو بدلا۔ ۔۔
موصوف کی پہلی محبت تہی ۔۔۔
کیا ۔۔۔بیگم کمال چیخی ہائے ربا اس عمر میں یہ غم ملا ۔۔۔کہاں رہتی ہے نسیمہ ۔۔۔میں جب ہی سوچوں پچھلے مہینے مہندی کی جگہ کالا کولہ کیوں لگ رہا ہے ۔۔
استغفر اللّہ ۔۔توبہ کرو بیگم ۔۔میں پوتوں والا ہوں ۔۔ اور وہ بھی بچوں والی ہے ۔۔۔وہ تو زرمین بیٹی نے کہا تھا ۔۔
میں توبہ کروں ۔۔۔آپ نہ کرے جس کے۔۔جس کے دادی کو جملہ سمجھ نہ آیا تو ارحم سے مدد لی۔ ارحم بیٹا تم اپنے دوست کابتا رہے تہے جو لڑکیوں کو ایک کے بعد ایک دوست بناتے ہیں اس کو کیا کہتے ہیں ۔۔۔
ارحم بولا ۔۔افیئر ۔۔۔۔
ہاں جی افیر وہ سامنے آئے وہ توبہ نہ کرے ۔۔۔
بھائ صاحب آپ بھی آگ لگا کر بیٹھ گئے یہ نہیں بجھائیں بھی ۔۔۔۔کمال شاہ نے دانت پیستے کہا ۔۔۔
جلال شاہ مسکرا کر بولے ۔۔۔ فکر نہ کرو اور سچ بتادو ۔۔۔
کیساسچ ۔۔۔اس بار فرزانہ بیگم مزے سے بول پڑی ۔۔۔۔
یہی کے اماں جی کے دو جوتے کھاتے ہی نسیمہ کو بہن بنا لیا تھا ۔۔۔
اللّہ کا شکر ہے اماں جی نے وقت پر کاروائ کر لی ۔۔۔بیگم کمال کے انداز پر سب مسکرادیے ۔۔۔جب کے اپنی گلوخاصی پر دادا جان نے سکھ کا سانس لےکر بھائ کانظروں سے شکر ادا کیا اگر وہ نسیمہ کے ساتھ بھاگنے کی بات بتادیتے تو اس عمر میں گھر بدر ہونا پڑتا ۔۔۔ ۔
نین کی آمد پر ارحم نے نین سے اپنے بی ہیویر کی معافی مانگی ۔۔۔۔رات میں آدھے افراد گاوں روانہ ہوگئے ۔۔۔
اسفند آگیا اس نےاور علی نے آفیس کی ذمہ داری لی ۔۔۔20 دن حسنین رات دن زرمین کے پاس رہا ۔۔۔ دو سے تین دن بس چینج کرنے جاتا ۔۔۔۔نیند بھی کم لیتا ۔۔۔ڈاکٹر زویا کو بھی نین کی محبت پر یقین آگیا ۔۔پورے بیس دن بعد حسنین بچوں اور زرمین کو لے کر گھر آ گیا پندرہ دنوں میں زرمین کی کومہ کی کیفیت بہتر ہوئی وہ بنا آکسیجن کے سانس لینے لگی ۔۔۔بچوں کے لئے الگ آیا اور زرمین کے لئے دو علیحدہ ٹائم کی نرسیس کا بندوبست کیا ۔۔انکو رہائش دی تاکے وہ بغیر تھکے زرمین کی کیئر کرسکیں۔ ۔۔۔۔
لیکن رات میں حسنین خود خیال رکھتا ۔۔۔ بچوں کو بھی اپنا ٹآئم دیتا۔ ۔۔بیٹی کا نام زمر اور بیٹے کا نام سالار زرمین کی پسند پر رکھا۔ ۔۔نین روزانہ سورہ رحمن کی تلاوت کرکے زرمین پر دم کرتا ۔۔۔اس کو لائیٹ ورزش کراتا جیسے کبھی ہاتھ پیر ہلکے ہلکے موو کرنا تو کبھی پیرو ں کو ۔۔کروٹیں دلانا ۔۔۔زیتون کے تیل سے مالش کرنا ۔۔۔۔روز بالوں کو برش کرنا۔ ۔۔۔۔۔سر سہلانا ۔۔۔ یہ روٹین بنا لی ۔۔۔۔آفیس سے بار بار فون کرکے خیریت معلوم کرنا ۔۔۔ ان دنوں نین کی زندگی زرمین سے شروع اور ختم ہورہی ہے ۔۔۔گھروالوں نے اتنی فکر و محبت دیکھ کر نین کے گزشتہ تمام عمل کو بھلادیا ۔۔۔۔وہ سب نین کی محبت زرمین کے لیے دیکھ کر سرشار ہیں ۔۔۔ کیا زرمین بھی سب بھول پائ گی ۔۔۔نین کی محبت جسے وہ ابھی تک نین کا ازالہ سمجھ رہی ہے اس پر یقین کر پائے گی یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکے گا۔ ۔۔۔۔
تین ماہ بعد فاریہ زرمین کے روبرو آئ ۔۔۔فاریہ شرمندہ شرمندہ زرمین کے پاس بیٹھی ۔۔۔پاس موجود نرس کو تھوڑی دیر کے لیے باہرجانے کو کہا ۔۔۔۔۔اس کے سامنے معافی مانگنے کی جھجک محسوس ہوتی ۔۔۔۔
بےحدآہستہ سے زرمین کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا ۔۔مجھے معاف کردیں ۔۔۔۔مجھے آپ کے بارے میں کچھ نہ پتہ تھا ۔۔۔۔۔میں آپ سے اجازت لیتی ۔۔۔سر کو پہلی بار پیزا شوپ پر ملی اور وہیں اپنا دل ہار گئ ۔۔۔دوسری ملاقات یونی میں ہوئ وہ اپنے دوست سے ملنے آئے تھے اور مجھ سے ٹکراگئے۔ ۔۔۔اور وہ بھی مجھ پر فدا ہوئے ۔۔۔میں نے ان سے شادی کا کھبی نہ سوچا ۔۔۔اپنے اور ان کے بیچ کے فرق کو میں جانتی تہیں ،مگر محبت کوئ فرق نہیں مانتی ۔۔۔آپ نے بھی محبت کی ہوگی ۔۔میں اپنے کزن سے شادی کرہی لیتی لیکن اس کا کردار ٹھیک نہ تھا ۔۔۔اور چچی نے کچھ کرنے کی مہلت بھی نہ دی تیزی دکھائ برداری کو والوں بلایا ۔۔۔شادی کی صبح ۔۔بات کرتے کرتے فاریہ نے سر اٹھایا زرمین کی طرف دیکھا ۔۔اور نظر ٹھر گئ ۔۔۔زرمین کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں تین ماہ بعد زرمین نے ریکیشن دیا ۔۔۔۔۔فاریہ نے زرمین کا ہاتھ جھٹ چھوڑا ۔۔۔پریشانی سے اٹھ گئ ۔۔۔اس نے تو سنا تھا زرمین گہری نیند میں ہے مگر آج ۔۔۔۔۔پہر سوچا فلموں اور ناولوں میں جب ایموشنل کیا جاتا ہے تو کومے سے باہر آجاتے ہیں میں بھی کرتی ہوں کیا پتہ آج ہوش آجائے ۔۔۔اور نین کا کچھ احسان اتر جائے ۔۔۔۔۔
بے چاریکو پتہ ہی نہیں فلموں اور ناولوں کے چکر میں زرمین کا دل مزید دکھا رہی ہے ۔۔۔ آپ کو پتہ نہیں اوہو میں بدھوں ہوں بتاوں گی تو پتہ چلے گا ۔۔۔صبح مجھے ہگ کرکے وش کرتے ہیں ۔۔۔مجھے شاپنگ پر لے جاتے ہیں ۔۔۔ روز اظہار ِ محبت کرتے ہیں ۔۔۔۔ہنی مون ہر جانا تھا مگر آپ کی وجہ سے نہیں گئے ۔ ۔ ۔ ۔۔۔اور نین کے فرشتوں کو بھی علم نہیں اس کے اوپر الزامات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔۔۔۔
یہ تو صرف آنسو ہی بہا رہی ہے ۔۔۔میرےخیال سے باقی کل کروں گی دل میں سوچتی جانے لگی مگر جاتے جاتے بھی ایک تیر اور لگا گئ اچھا اب میں چلتی ہوں سر کے آنے کا ٹائم ہوگیااور انکی فرمائش ہے میں روز تیار ملو ۔۔۔۔۔۔۔۔
زرمین سوائے رونے کے کچھ نہ کرسکی آج ہی تو دماغ جاگا ۔۔۔۔۔ سماعتیں کھلی مگر اتنی نہیں کے انداہ ہوتا کون ہے کون نہیں ایک خوبصورت لہجے میں کان کے پاس ہی آواز آرہی تہی کچھ پل سمجھ نہیں آیا کیا ہے پھر آہستہ آہستہ احساس جاگا قرآن پاک کی تلاوت ہے ۔۔۔سورہ رحمن کی گونج سکون دے رہی ہے دل چاہا سنتی رہے ۔۔۔مگر شاید سورت پوری ہوگئ تہی اس لیے آواز آنا بند ہوئ ۔۔ پل بھر ہوا کا جھونکا آیا ۔۔۔محسوسات اور بڑھے بچے کی رونے کی آواز آئ ۔۔۔اس کے بعد ذہن پھر سوگیا ۔۔۔۔اور ابھی پھر بیداری ہوئ تو کافی دیر تک حواس سوئے پھر جاگے ۔۔۔صبح کی طرح اب پہلے سے اور بہتر ہوئ ۔۔۔۔ ماضی کی تھوڑی جھلک آئ ۔۔۔مگر کیا فائدہ ہوا ۔۔۔فاریہ نے آکر سب پھر سے دل برباد کیا۔ ۔۔۔
آج بڑی امپورٹڈ میٹنگ تہی ۔۔۔مگر صبح ہی تلاوت سے فارغ ہوکر جب زرمین پر دم کیا ہی تھااسی وقت آیا روتے سالار کو لیکر آگئ ۔۔۔رات سے ہی بابا کو موشن ہورہے ہیں ۔۔۔نین اسے ہوسپٹل لے گیا ۔۔۔ٹریٹمنٹ کے بعد آفیس گیا سارا دن مصروف رہا ۔۔رات 9 بجے گھر آکر پہلے سالار سے ملا پھر زرمین کے پاس آیا ۔۔۔ ماتھے پر بوسہ دیا ۔۔۔
سوری جانم آج وقت نہیں دے پایا بس چینج کرکے ابھی آیا ۔۔زرمین ،فاری کے جانے کے بعد آنسو بھاتے دوبارہ نیند کی کیفیت میں چلی گئ ۔۔۔نین نے اپنے روٹین کے کام کیے لاسٹ میں سر سہلانے لگا ۔تب زرمین کے حواس پھر کام کرنے لگے ۔۔نین نے سر سہلانے کے بعد زرمین کے کان میں کہا آج میٹنگ نے بہت تھکا دیا زندگی ۔۔۔۔اسلیے آج باتیں کرنے کی ہمت نہیں ۔۔کل کریں گے ۔۔۔گال پر پیار کرکے زرمین کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ لیا ۔۔۔۔۔
۔ زرمین کو دونوں کام ہی ناگوار لگے ۔اپنی ول پاور کا استعمال کرتے ہوئے نین کے ہاتھ کے نیچے سے ہاتھ نکالنے کی کو شش کرنے لگی ۔۔۔۔۔ہاتھوں میں اکدم ارتعاش پیدا ہونے سے غنودگی میں جاتے نین کا ذہن بیدار ہوا ۔۔۔وہ حیران ہوتا جھٹکے سے اٹھ بیٹھا ۔۔۔۔مگر ہاتھ نہ اٹھایا۔ ۔کچھ دیر زرمین کی کوشش دیکتھا رہا پھر خوشی سے بیڈ پر ہی سجدہ ِشکر کیا ہوش میں آنے کے اثرات تو نظر آئے ۔۔۔علی کو کال ملا کر بتایا ۔۔۔۔
علی نے ہوسپٹل لیجانے کا مشورہ دیا ۔۔۔
چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے تسلی دی ۔۔۔جلد ہوش میں آنے کی مگر وقت نہ بتا سکے ۔۔۔۔نین نے دونوں حویلی اطلاع کردی ۔۔۔۔نین نے دوسرے دن صبح میں معمول کے مطابق پھر سورہ رحمن کی تلاوت شروع کی جیسے جیسے وہ پڑھتا جا رہا تھا زرمین میں ہوش میں آنے کا مکمل عمل شروع ہوگیا ۔۔۔ سورت ختم ہونے کےبعد نین نے پھونک مارنا چاہا تو دیکھا نم آنکھوں سے زرمین اسے ہی دیکھ رہی ہے ۔۔۔۔۔
_______
زرمین کے ہوش میں آنے سے سب ہی خوش ہیں ۔۔۔داداصدقہ دے رہیں دادیوں نے نفلیں ادا کی ۔۔۔اور نین نےنم آنکھوں سے اپنی طرف دیکھتی زرمین کو گلے لگایا ۔۔۔پھر فورا ڈاکٹر کو بلایا ۔۔ تب تک حویلی سے سارے ہی آگئے تہے ۔
پھر دو دن نین غائب ہی رہا ۔اس نے جو منتیں مرادیں لی تہیں ،جو نفلیں مانگی تھیں اب اس کی ادائگی کی جارہی تہی ۔۔۔
دو دن بعد زرمین کو ڈسچارج کردیا گیا اس نے سفید حویلی جانے کی ضد کی ۔۔۔جو مان لی گئ ڈاکٹر نے کہہ دیا اگر اب کوئ ذہنی جھٹکا ملا تو شاید آپ لوگوں کو ہوسپٹل لانے کی بھی مہلت نہ ملے گی ۔۔۔اسی لیے بچوں سمیت زرمین حویلی جبکے نین ہوسپٹل سے گھر پہنچا ۔۔ ۔
شائستہ سب کہاں ہے روم کو خالی پاکر واپس لاونج میں آیا ۔۔۔
سر سب حویلی چلے گئے ۔۔۔۔
ہممم ،علی مجھے بتائے بغیر کیوں چلے گئے ۔۔۔کال ملا کر علی پر برہم ہوا ۔۔۔۔
بھائ میں ظالم سماج نہیں بنا خود آپ کی زوجہ بنی ۔۔۔
مطلب ۔۔۔۔۔
زرمین نے ضد کی اور ڈاکٹر نے ابھی اسٹریس لینے سے منع کیا اس لیے دادی جان نے مان لیا ۔۔۔
اوکے ۔۔ہاں زرمین نہیں بھابھی ۔۔۔۔۔
اوکے جناب میں کوشش کرونگا بچپن کی عادت ختم۔ ہوجائے ۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے میں ابھی تھوڑی دیر بعد نکلتا ہوں ڈنر ساتھ ہی کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائ فاریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں یار دےدی طلاق کب سے ۔۔۔کچھ مسئلہ ہے اس لیے ابھی یہی رہے رہی ہے
چلیں ٹھیک ہیں ۔۔۔۔آپ آجائیں ۔۔۔۔
رات کے پہنچتے پہنچتے بارہ بج گئے ۔۔۔اتنی رات ہوگئ ۔۔۔۔۔اف زرمین بھی سو گئ ہوگی صبح ملو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔سفید حویلی کے گیٹ کو دیکھتا اداس لال حویلی میں داخل ہوگیا ۔۔۔۔جہاں علی انتظار کرتے صوفہ پر ہی سوگیا ۔۔۔۔
حسنین کو بھائ پر پیار آیا بے ساختہ ماتھا چوم لیا ۔۔۔۔۔
بھائ تم نے کیا مجھے زرمین سمجھ لیا ۔۔۔۔علی نے شرارت بھری نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔
بکواس نہ کر ۔۔۔کیا اس سے پہلے کبھی پیار نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈنر کرنے کا موڈ ہے یا نہیں ۔۔۔
نہیں سرتاج آپ کا انتظار کرہی تہیں آپ آیں گے پھر ساتھ کھائیں گے ۔۔۔زنانہ اسٹائل میں علی بولا ۔۔۔۔
حسنین خوشدلی سے ہنس دیا ۔۔۔چلو پھر کھانا کھاتے ہیں ۔۔۔کافی عرصے بعد علی نے حسنین کو ہنستا دیکھا ۔۔۔ ۔
دل میں ماشاءاللّہ کہا ۔۔۔
حسنین کو نیند ہی نہیں آرہی تہی بس نہ چلتا اڑ کر زرمین کے پاس چلا جائے ۔۔۔کاش میرے پاس سیلمانی ٹوپی ہوتی ۔۔۔۔۔۔آہ اب تارے گننے جیسا کام بھی کرنا ہوگا نین مسکراتے ہوِے خود سے بولا ۔۔۔فجر کی نماز کے بعد ہی حسنین سویا ۔۔۔نو بجے اٹھ کر سیدھا سفید حویلی گیا ۔۔۔۔جہاں لان میں دادی آیا کے ساتھ مل کر سالار اور زمر کی مالش کررہی ہیں ۔۔۔حسنین نے سلام کیا ۔۔۔۔
دادی کے جواب دینے کے بعد نین نے دونوں بچوں کو خوب پیار کیا ۔۔دادی زرمین کہا ں ہے ۔۔۔۔
اپنے کمرے میں ہے ابھی دادا پوتی صبح کی واک پر گئے تھے ۔۔۔تو تھک گئ ۔۔۔۔۔
تھکن کا سن کر نین جلدی زرمین کے روم گیا۔۔۔جہا ں زرمین اپنے پیر پر شنو سےمالش کروارہی تہی ۔۔۔۔
سلام سائیں ۔۔۔شنو کمرے میں نین کو آتے دیکھ خوشمزاجی سے سلام کیا ۔۔۔۔
نین نے جواب دے کر شنو کو باہر جانے کا بولا ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔زرمین اس دوران خاموشی سے دیکھتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔
کیا حال ہے نین زرمین کے سامنے بیٹھ کر اس کے ہاتھ تھام کر محبت سے پوچھا ۔۔۔
زرمین نے ہاتھ چھڑایا ۔۔۔۔آپ نے چاہا تھا مر جاو مگرمجھے افسوس ہے آپ کی خواہش پوری نہ کرسکی ۔۔۔۔۔۔
نین کو اپنے سفاک الفاظ یاد آئے ۔۔۔۔انکی سنگینی کا احساس اس لمحے ہوا جی جان سے یہ سوچ کر ہی کانپ گیا زرمی۔ مر جاتی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔ پلیز مجھے معاف کردو میرے لفظوں کو معاف کردو ۔۔۔۔۔
ارے آپ کیوں مانگ رہے ہیں ۔۔۔۔آپ کا ہنی مون میری وجہ سے کینسل ہوگیا سوری ۔۔۔۔
ہنی مون۔ ۔۔۔نین کی حیران نظریں ۔۔۔۔۔سمجھ نہ آیا کچھ ۔۔۔۔۔
زرمین نے وضاحت کی آپ کی دوسری بیوی ۔۔۔۔۔۔۔
نین کو اب سمجھ آیا دوسرا نکا ح کی وجہ سے ناراض ہے چل نین جلدی سے سچ بتا کر منا ۔۔۔۔بڑبڑایا ۔۔۔۔
میں تم کو سچ بتانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔فاریہ۔ ۔۔بات کاٹی
مجھے باہر جانا ہے سب کے سامنے بات کریں گے ۔۔۔۔
نین نے سہارا دینا چاہا ۔۔۔۔۔۔۔میں خود چل سکتی ہوں ۔۔۔۔آرام آرام سے اترتی لاونج میں آئ جہا ں سب ہی گھروالے ناشتے سے فارغ ہوکر بیٹھے بات چیت میں مصروف ۔۔۔۔۔ ۔۔ نین کے دل میں وسوسے اور ڈر جاگا اور غلط نہ جاگا ۔۔۔۔
میں کچھ کہنا چاہتی ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔دادا جی جو کچھ ہوا اسے میں بھولنا چاہتی ہوں۔ ۔۔جینا چاہتی ہوں ۔۔ ۔۔
ہاں بیٹی کیوں نہیں ۔۔۔اللّہ کریم تم کو لمبی عمر دے ۔۔نین سمیت سب نے آمین بولا ۔۔۔۔ ۔ نین خاموشی سے زرمین کو دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔۔دل کی بیٹ بڑھ رہی ہے ۔۔۔کچھ غلط ہوگا ذہن خبردار کررہا ہے ۔۔۔ ۔ ۔
دادا جی مجھ میں جتنی ہمت تہی وہ ختم۔ ۔۔۔۔میں اب نین کے ساتھ نہیں رہ سکتی ۔۔۔مجھے طلاق چاہیے ۔۔۔ ۔
آخر دل و دماغ کی پیشن گوئ سچ ہوئ ۔۔۔۔۔
سب ہی گم صم زرمین کو دیکھنے لگے ۔۔۔۔۔۔
لاڈو رانی ۔۔۔۔کیا کہہ رہی ہو دادا جی نے خاموشی توڑی
میں نین کے ساتھ رہی تو مرجاوںگی پلیز ۔۔۔۔
نین آہستہ چلتا زرمین کے قدموں کے پاس بیٹھا ۔۔۔پلز تم سمجھو ۔۔۔۔میں تم سے محبت کرتا ۔۔۔ہوں ۔۔۔تمہارے بنا نہیں رہ سکتا ۔۔۔ تم مجھے جدائ کے علاوہ جو سزا دو گی ۔۔۔۔میں پورا کروں گا ۔۔۔۔
ان دونوں کے بیچ کسی نے مداخلت نہ کی ۔۔۔بس خاموش دونوں کو دیکھ سن رہے ہیں ۔۔ ۔ ۔
محبت ۔۔۔محبت کا پتہ ہے کچھ ۔۔محبوب کی خوشی میں خوش رہنا ۔۔۔۔۔
تو میری خوشی یہی ہے مجھے طلاق چاہیے ۔۔۔۔نبھآئے محبت ۔۔۔۔
نہیں آپ تو نبھاہی نہیں سکتے ۔۔۔۔ زرمین کی سانس پھولنے لگی ۔۔۔آپ چاہتے ہیں میں مرجاو تو میں چلتی ہوں آپ کے ساتھ اور زرمین کی سانس رکنے لگی ۔۔ ارحم جلدی آکسیجن سلینڈر لایا اور زرمین کے لگایا ۔۔ ۔ ۔ ۔۔۔
زرمین کی حالت کو مد ِ نظر دادا نے بعد میں کہا بات کریں گے ۔ ۔ ۔
حسنین لٹے انداز میں لال حویلی آیا ۔۔۔علی نے بات کرنی چاہی مگر نین کی نم آنکھوں نے روک دیا ۔۔۔بھائ کا بھرم رکھتے ۔۔اس نے ماجرا سفید حویلی والوں سے جاننا چاہا ۔۔۔یہاں آکر علی کو زرمین کے فیصلے نے دکھ دیا ۔۔۔ ۔
بھائ ۔۔۔۔علی نے روم کی لائیٹ جلائ ۔۔۔۔
یار بند کردو ۔۔۔۔۔بیڈ پر لیٹا نین بولا ۔۔۔۔۔۔
علی نے تسلی دینے کے لیے نین کا ہاتھ پکڑا اف بھائ آپ کو تیز بخار ہے ۔۔بتایا کیوں نہیں ۔۔۔ علی فرسٹ ایڈ لینے اٹھا تو ۔ ۔
رہنے دے ۔۔۔۔۔۔دوائ اثر نہیں کرے گی ۔۔۔۔جو اثر کرے گی یار اس نے ساتھ چھوڑنے کا حکم دے دیا ۔۔۔مجھ سے محبت کا خراج مانگا ہے ۔۔۔کیسے چھوڑ دو سوچ کر ہی دم گھٹ رہا ہے عمل کروں گا تو مرجاوں گا ۔۔۔۔نین بھراتے لہجے میں اپنا حال سنانے لگا ۔۔۔۔۔
اللّہ بہتر کرے گا ۔۔۔کوئ نہ کوئ راہ ضرور نکلے گی ۔۔۔۔۔۔
سب ہی کوشش کرہے تھے زرمین کو سمجھانے کی جیسے ہی بات شروع کرتے اسکی طبیعت خراب ہونے لگتی ۔۔۔اور سمجھانا پہر کبھی پر ٹل جاتا ۔۔۔
ادہر نین کی طبعت بھی خراب رہنے لگی پورے ایکہفتے بعد بخار ختم ہوا مگر کمزوری باقی ہے ۔۔دونوں گھرانے بچوں کو گھلتے دیکھ پریشان ہے ۔ ۔ ۔
دادی نےپھر سمجھانے کی کوشش کی زرمین کی طبیعت خراب ہوگئی ہارٹ بیٹس سلوہوگئ، نبض رکنے لگی ،سانس مدہم ہونے لگی فوری طور پر ہسپتال لے کر بھاگ گے ۔۔بروقت ڑیٹمینٹ سے زرمین کی طبیعت سنبھلی ۔۔۔شنو نےمٹھل کو بتایا ۔۔۔
مٹھل نے حسنین کو آکر بتایا ۔۔۔۔زرمین کی حالت کا سن کر نین نےکہا ٹھیک ہے ۔۔۔میں تکلیف سہ لوں گا لیکن اب زرمین کو تکلیف نہیں دینا چاہتا ۔۔۔سب کو مانا کردیں دادی کہ زرمین کو نہ سمجھائیں ۔۔۔۔اور کمرہ نشین ہوگیا ۔۔۔سجدے میں جا کر مناجات میں مصروف ہوا تو حوصلہ ملا ۔۔۔۔۔۔
علی کل شہر چلنا کاغذی کاروائ کروانا ہے اور میں زرمین کے نام کچھ پراپرٹی کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔ تمہیں تو کوئ اعتراض نہیں ۔۔۔۔۔
نہیں بھائ ۔۔۔یہ بزنس آپ نے اپنی محنت سے بنا یا ہے اور اس کی کمائ سے پراپرٹی ۔۔۔اب جس کو بھی دیں آپ کی مرضی اور زرمین بھی حق رکھتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
انہی باتو ں کے درمیان نین کے فون کی رنگ بجی ۔۔۔۔
اسلام۔ وعلیکم جناب ۔۔۔آپ پاکستان کب آئے ۔۔۔۔مجھے بتایا نہیں ایرپورٹ آتا ۔۔۔۔۔
بس جیسے ہی ٹھیک ہوا فورا آیا ۔۔۔اسفند سے تمہاری طبیعت خرابی پتہ چلی تو فون کیا گھر آو ۔۔۔
جی انشاءاللّہ کل ملتے ہیں ۔۔۔ ۔
کون تھابھائ ۔۔ ۔
قدوس صاحب تھے عمرے کی سعادت کے لیے گئے تھے لاسٹ ڈے اٹیک پڑا تو تب سے وہیں زیر علاج رہے رمضان وہیں گزارنے کی خواہش بھی پوری ہوئ عید بھی وہیں کی اب آگئے کل پہلے ان کے پاس جائیں گے ۔۔۔۔
یہ وہی ہیں نہ جنھوں نے احمر کی برسی پر مدینہ سے خصوصی دعا کروائ تہی
۔۔ہاں۔ ۔۔۔۔۔ٹھیک ہے جس دن زبردستی نکاح کیا اسی دن زبردستی چھوڑنا بھی پڑ رہا ہے ۔۔۔حسنین اذیت سے مسکرایا۔ ۔۔ ۔۔۔
دوسرے دن کمال شاہ اور بیگم کمال نے حسنین کے فیصلے سے آگاہ کردیا ۔۔سارے ہی سوگوار ہیں ۔۔۔زرمین بچوں کو کھلارہی تہی جب بتایا دادی نے تو ایک پل دھڑکن رک سی گئ ۔۔۔آنکھیں بیھگنے لگی ۔۔ ۔ زرمین رونا نہیں ۔۔۔وہ ہرجائ ہے ۔۔۔۔تم سوتن برداشت نہیں کرسکتی ۔۔۔یہ فیصلہ ٹھیک ہے ۔۔۔زرمین نے خود کو سمجھا یا ۔۔۔۔
دادی کو نم آنکھو ں سے لگا اب بدل لے فیصلہ ۔۔۔لیکن زرمین نے ان کے اندازے کو جھٹلایا ۔۔۔
اچھی خبر ہے ۔۔۔یہ کہہ کر روم میں چلی گئ ۔۔۔دادی سواے غصے کے کچھ نہ کرسکی ۔۔۔
_______________________________________________
جناب بہت مبارک ہو عمرہ اور صحت یابی ۔۔۔۔
نین نے پھولوں کا خوبصورت بوکے پکڑایا ۔۔ ۔۔اور ساتھ ہی علی کا تعارف کروایا۔ ۔۔
خیر مبارک زریعہ تو تم بنے ۔۔۔۔۔اور یہ اتنے کمزور ۔۔۔نڈھال سے کیوں لگ رہے ۔۔۔بخار سے اتنا اثر نہیں ہوتا ۔۔ ۔قدوس صاحب کی تشویش پر نین نے زرمین کا مطالبہ بتایا ۔۔۔۔
بےحد افسوس ہے ۔۔۔۔طلاق اللّہ کو سخت ناپسند ہے ۔۔۔اور معاشرے میں بھی براسمجھا جاتا ہے چاہے عورت کو ہو یا مرد کو ۔۔۔۔دونوں فریقین کو باتیں سننا پڑتی ہیں ۔۔کب دے رہے ہو طلاق ۔۔۔تاسف سے پوچھا ۔۔۔۔۔
آج ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔کیا تینوں ساتھ دوگے ۔۔۔۔حیرت سے پوچھا ۔۔۔
جی ۔۔۔۔۔نین نے کہا
نہیں غلط ہے ۔۔۔۔۔۔۔طلاق کے بارے میں کیا جانتے ہو ۔۔۔۔
ایک ساتھ دے دینا اسلام کی رو سے بھی ٹھیک نہیں ۔۔۔یہ صحیح ہے ایک ساتھ تین بار دینے سے بھی طلاق واقع ہوتی ہے ۔۔۔۔اگر احسن طریقے سے دو رشتہ بچنے کی گنجائش باقی رہتی ہے ۔۔۔
میں سمجھا نہیں آپ ٹھیک سے بتائیں ۔ ۔۔
ہممم ۔۔۔۔۔ شریعت کے حساب سے طلاق دینے کا جو طریقہ ہمیں رسول کریم نے بتایا ہے وہ بہترین ہیں اس طریقے کے مطابق طلاق دینے کےدو طریقے ہیں۔ ۔ایک طریقے کو بائن کہتے ہیں اور دوسرے کورجعی کہا جاتا ہے ۔۔ ۔۔۔بائن کا یہ طریقہ ہے کہ ایک دم عورت کو تین طلاق دے کر فارغ کردیا اس طرح کے بعد میاں بیوی کا کوئی تعلق نہ رہتا بلکہ طلاق سے فوری طور پر رشتہ ختم ہو جائے گا۔ ۔۔یہ طریقہ اچھا تصور نہیں کیا جاتا جبکہ اس کے برعکس دوسرا طریقہ ہے اسے رجعی کہا جاتا ہے اس طرح طلاق دینے کا یہ طریقہ ہےعورت پاک ہو اسے ایک طلاق دی جائے اور اور پھر اگلے مہینے دوسری طلاق دی جائے ۔ ۔ ان دو مہینوں کے درمیان صلح ہو سکتی ہے ۔۔۔اگر تیسرے مہینے تیسری طلاق دے دی جائے تو پھر مرد کو رجوع کرنے کا کوئی حق نہیں رہے گا طلاق مکمل طور پر ہو جائے گی۔ ۔
ہاں اس میں یہ ضروری امر ہے کہ پہلی طلاق کے بعد ایک ماہ کی عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع آسانی سے کیا جاسکتا ہے رجعت کرتے وقت کہنا ضروری ہے تو میری بیوی ہے جیسا کہ پہلے تھی اور دو گواہوں کے سامنے کی جائے ۔۔۔رجعت کا مطلب ہے نکاح باقی رکھنا یا روکنا ۔۔۔ارشاد باری تعالیٰ ہے جب عورتوں کو طلاق دو اور انکی عدت پوری ہونے کے قریب ہو تو خوبی کے ساتھ ان کو روک لو ۔۔۔رجعت دوسری طلاق کے بعد بھی ہوسکتی ہے ۔۔۔مگر اگر دوسری عدت بھی ختم ہوجائے تو پھر رجوع کرنے کے لیے دوبارہ نکاح کرنا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
میرا مشورہ ہے سب گھر والوں کے علم میں لا کر طلاق رجعت دو کیا پتہ اللّہ کے حکم سے زرمین کا دل ودماغ بدل جائے ۔ ۔ وہ راضی ہوجائے۔ ۔
اللّہ کرے ایسا ہی ہو ۔۔ ۔ ۔ آمین ۔ ۔ ۔ ۔
________
اور باقی کی رہنمائ ہمارے محلے کی مسجد کے پیش امام سے لے لو ۔۔۔حسنین نے سر ہلایا۔ ۔۔۔
سارے لال حویلی میں جمع ہیں ۔۔۔نین مضحمل سا اور اس کے برعکس زرمی خود کو مضبوط ظاہر کررہی ہے ۔ ۔۔۔میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔۔۔۔۔تمہاری خوشی کے لیے خود کے دل کو داو پر لگا دیا ۔۔۔۔۔ میں حسنین فرقان شاہ اپنے پورے ہوش وحواس میں زرمین حسن شاہ کو ایک طلاق دیتا ہوں ۔ ۔۔۔
زرمین کا دل کپکپایا ۔۔۔۔حسنین ایک بار کہہ کر شکستہ قدموں سے باہر چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔باہر آکر بہتے آنسو صاف کیے ۔۔۔ دل لرز رہا ہے ۔۔۔اللّہ رحم زبان سے نکلا ۔۔ مشکل ہورہا بچھڑنا ۔۔۔۔۔۔مالک زرمین کا دل بدل دے ۔۔۔۔۔۔نم آنکھوں سے حویلی سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔مٹھل ، بخش اور دیگر وفادار بھی شکستہ دیکھ کر افسوس میں مبتلا ہیں ۔۔۔آن بان سے رہنے والے نین کو عشق نے بے حال کردیا ۔۔ ۔ ۔۔۔ابھی تک عشق کی سزا ختم ہی نہ ہوئ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔ ۔۔ عشق ملن کی خوبصورت سزا بھی تو دے سکتا ہے ۔۔۔پر ابھی تک کی لاپرواہی معاف ہی نہیں کرہا ہے ۔۔۔۔
زرمین نے کچھ دیر بعد کہا نین نے تین بار نہیں کہا ۔۔۔یہ کہتے دل پر چھریاں چل رہی ہیں ۔۔۔مگر پوچھنا بھی ضروری تھا ۔۔۔
دادا جی بولے بیٹا احسن طریقے سے دی تین ماہ میں تین طلاقیں ہونگی ۔۔۔ان تین ماہ کے اندر تم رشتہ دوبارہ قائم کرنا چاہو تو اسلام اجازت دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زرمین نے نفی میں سر ہلایا ۔۔ایک ایک کرکے سب چلے گئے دادی نے کہا عدت ہوگی بیٹا ۔۔۔پردہ کرنا مردوں سے ۔۔۔ تمہارے داداجی سے کہہ کر مرد ملازموں داخلہ بند کرواں دوگی ۔۔۔۔کہتی دادی اٹھ گئ ۔۔۔
سب کے جانے کے بعد زرمین بھی اپنے روم میں آکررونے لگی ۔۔.. ۔.. میری پہلی اور آخری محبت ۔۔۔۔۔۔۔سب معاف کرسکتی مگر سوتن نہیں ۔۔ بے حد تکلیف دی ۔۔۔نین ۔۔۔۔
15 دن گزر گئے دوائیوں اور مناسب دیکھ بھال سے بظاھر زرمین بہتر ہوئ ۔۔۔سب گھر والوں نے پلان کیا اب آہستہ آہستہ پتھر پر چوٹ مارنی ہے ۔۔۔۔۔
16 دادا جی جرگے سے واپس آئے ۔۔۔سارے ڈرائنگ روم میں بیٹھے پلان ترتیب دیا اور زرمین کو سڑھیاں اترتے دیکھ آغاز شروع کیا ۔۔۔۔
زاوی بولا ۔۔ آپو آدھی سڑھی آگئ دادا جی ۔۔۔پپا جی ۔۔۔۔۔
ہممممم۔ ۔۔۔۔بابا آج جرگے میں جو ہوا اچھا نہیں ہوا لیاقت کی ہمت کیسے ہوئ مجھے طعنہ مارے ۔۔۔ارے میرا دل چاہا رہا تھا شوٹ کردوں اسے ۔۔۔حسن صاحب مصنوعی غصے سے بولے ۔۔۔۔۔
چچا نے کہا بتاو تو صحیح کیا کہا لیاقت نے جب سے آئے ہو بس غصہ ہی کیے جارہے ہو ۔۔۔۔آخری سیڑھی پر زرمین رک گئ ۔۔ ۔۔۔۔
دادا جی نے ایک ترچھی نظر زرمین کو دیکھا ۔۔۔اور لہجہ کو پست بنایا بولے ۔۔۔ایک طرح سے ٹھیک کہا ۔۔۔بھری محفل میں زرمین نے ارحم سے نکاح کر کے ہمارے سروں پر خاک ڈالی ۔۔۔وہ تو سچ ہمیں پتہ ہے بچی نے قربانی دی ۔۔اگر بتائیں گے تو کون یقین کرے گا ۔۔۔۔
یہ بھی تو بتائیں ۔۔طلاق کا پتہ چل گیا ۔۔۔۔حسن صاحب جلدی سے بولے ۔۔۔
ہاں ہاں ۔۔۔۔یہ بھی طعنہ مار رہا تھا کہ اب کون کریگا شادی ۔۔میں نے بھی دعوا کردیا عدت ہوتے ہی شادی کردوگا ۔۔۔۔۔اس پر نصیر سومرو نے اپنے بیٹے کا رشتہ دے دیا ۔ہے تصویر کل بیھجا گا ۔۔زرمین کو سمجھا دینا کہ اب ہمیں شرمندہ نہ کرے پہلے تو میں بےعزتی سہہ گیا اس بار خودکشی کرلوں گا ۔۔۔حرام موت گلے لگالوں گا ۔۔۔دادا جوش میں کچھ زیادہ ایموشنل ہوگئے ۔۔۔۔
زرمین کو یہ سب سن کر رونا آگیا وہ تیزی سے واپس کمرے میں آئ ۔۔۔۔سانس پھولی ۔۔۔دل گھبرایا ۔۔۔۔پانی پی کر خود کو ریلکیس کرنے لگی ۔۔۔۔نہیں میں دوسری شادی نہیں کرسکتی ۔۔۔اگر میں نے منع کیا تو دادا جی ۔۔۔۔اللّہ اللّہ میں کیا کروں ۔۔۔۔۔سسک سسک کے رونے لگی ۔۔۔۔
واہ دادا جی آپ نے زبردست ایکٹنگ کی ۔۔۔۔زاوی نے داد دی ۔ ۔۔
حسن شاہ جلدی سے بول اٹھے میں نے کیسے کی ۔۔۔
بس بس نارمل ہی تہی ۔۔۔حسن شاہ نے زاوی کو آنکھیں دیکھائ ۔۔۔سب ہنس پڑے ۔۔۔۔
میں زرمین کو دیکھو ۔۔۔۔فرازنہ بولی ۔۔
نہیں بہو ابھی ہمدردی بھاری پڑے گی ۔۔۔۔ ۔۔ ۔ ۔
دوسرے دن ارحم کے سین کی باری تہی ۔۔۔ زرمین ناشتے کے وقت کچن میں مجود تہی اور کچن سے قریب ڈائننگ پر ارحم اور فرزانہ بیگم بیٹھےہیں پلان کے مطابق دونوں اسطرح بیٹھے کے زرمین کی طرف پیٹھ ہو سامنے ششیے کی مدد سے پلان شروع ہوا ۔۔۔۔شبانہ نے پراٹھا بنا کر کہا زرمین یہ پراٹھا خالہ کو دے آو جی امی ۔۔۔۔
زرمین کوشیشے میں آتا دیکھ جلدی سے بولی ارحم تم ہی زرمین سے شادی کر لو ۔۔۔۔
سوری مما ۔۔مجھ میں اتنا ظرف نہیں کہ کسی دوسرے کی بیوی کو اپنا لوں ۔۔۔۔اور اگر میں کر بھی لوں تو لوگ مذاق بنائیں گے پہلے جس نے ٹھکرایا میں نے اسی سے شادہ کرلی ۔ ۔۔ لہجہ کو نخوت والا بنا یا اور ایک بعد جب تک زرمین کی شادی نہیں ہوجاتی میں شادی نہیں کرونگا ۔۔۔اس کے ہوتے میری بیوی کو سچ پتہ چلا تو بلاوجہ وہ شک کرتی رہے گی اور ہمارے درمیان ناچاقی ہوگی اس سے بہتر ہے میں ابھی شادی نہ کرو ۔۔۔۔
یہ سب سنتی زرمین کے آنکھوں میں آنسو آگئے وہ پراٹھا دیے بنا کچن لوٹی ۔۔۔۔کیا ہوا زرمین پراٹھا نہیں دیا اور رو کیوں رہی ہو۔ ۔۔۔
مما وہ سر میں چکر آنے لگا میں پھر آگے بڑھی نہیں ۔۔۔میں روم میں جا رہی ہوں ۔ ۔۔۔۔
شبنانہ بیگم۔ کو زرمین کے رونے نے تکلیف دی مگر اس کے بھلے کے لیے ضروری تھا ۔۔۔۔
17 دن فرازنہ شبانہ اور شنو کے بیچ پلان طے ہوا ۔۔۔۔جہاں زرمین کو اس کے ناپسندیدہ کام میتھی کے پتے توڑنے کا تہا زبردستی توڑنے کو بٹھایا۔۔۔۔میتھی کو توڑتے شنو بولی ۔۔۔پاس کے گاوں میری سہیلی بیاہ کر گئ وہ بتا رہی تہی کہ اس کے پڑوس میں ایک افسوس ناک واقع ہوا ۔۔۔۔۔
کیا ہوا ۔۔۔شبانہ بیگم نے دلچپسی لی ۔۔۔۔
وہاں اسکے پڑوسی نے ایک بیوہ عورت سے شادی کی اسکی دس سالہ بیٹی بھی ساتھ گئ چھ ماہ بعد اس نے بچی سے بد سلوکی کی ۔۔۔۔وہ بچی مرگئ اور ماں پاگل ہوگئ ۔۔۔۔
ہاے ربا اتنا ظالم شخص تھا رشتہ کے بھی احساس نہیں کیا ۔۔۔۔فرزانہ نے جھوٹا رونا رویا ۔۔۔
کیا کرے دنیا میں ہوتے ہیں کچھ ایسے رزیل انسان ۔۔ ہر سوتیلہ باپ ایسا نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔شبانہ بولی ۔۔۔۔۔ہ
ہاں جی ۔۔۔یہ تو سچ ہے ۔۔۔مگر کون کیسا ہوتا ہے پتہ نہیں ۔۔۔اور زمر بیبی کو کیسا سوتیلا باپ ملے ۔۔۔۔۔شنو نے فکر مندی سے کہا ۔۔۔۔
اللّہ نہ کرے میری بیٹی کو سوتیلا باپ ملے ۔۔۔۔زرمین نے دہل کر کہا ۔۔۔میں شادی نہیں کرونگی ۔۔۔
زرمین یہ کہہ کر روم میں آکر رو پڑی ۔۔۔ربا میری زمر کی حفاظت کرنا روتے روتے بچی کے لیے دعا کی ۔۔۔سارا دن ہمت کرتی رہی دادا جی سے بات کرے مگر ہمت ہی نہ پڑی ۔۔۔۔
18 دن دادی۔اور ظفر صاحب کے بیچ پلان فکس تھا ۔۔۔۔جب زرمین بچوں کو مالش کے لیے لائے گی چچا سے تو پردی نہیں ہوتا اس لیے وہ سامنے آجاتی ۔۔.
کل کہاں گئے تھے ظفر نظر ہی نہیں آئے ۔۔۔۔۔
حیررآباد گیا تھا ۔۔۔۔وہاں پرانا دوست مل گیا زبردستی اپنے گھر لے گیا۔۔وہاں جا کر دل اداس ہی ہوگیا ۔۔۔. کیوں کیا ہوا ۔۔۔سالار کے ہاتھو ں کا مساج کرتی دادی بولی ۔۔جبکے زرمین خاموشی سے دیکھتی رہی ۔۔۔۔
