573.1K
9

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Saza-e-Ishq Episode 6

Saza-e-Ishq by Areeba Sehar

مجھ سے شادی کریں گے آپ تو۔۔اف رشتہ بیھجتے ہیں نہ پہلے ۔۔زرمین نے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا ۔۔

کس نے کہا شادی کا ۔۔۔۔۔۔۔

زرمین نے ناسمجھی سے دیکھا ۔۔۔۔۔۔ابھی آپ نے خود نکاح کا بولا تھا ۔۔۔

ہاں نکاح بولا ۔۔۔کل دوپہر میں سب سے چھپ کر نکاح کریں گے ۔۔۔اس نکاح کا کسی کو پتہ نہیں چلے ۔ ۔ میرا دل چاہے گا تو بتا دو گا ورنہ نہیں ۔۔۔ساری زندگی میرے نام سے بیٹھی رہنا ۔۔۔میری ہر بات ماننی ہوگی ۔۔۔۔ورنہ بغیر جرگہ ہی تمہارے بھائ کا فیصلہ کرونگا۔ ۔۔

زرمین کا دل ٹوٹا ۔۔۔ آنکھوں سے پھر برسات شروع۔۔یہ کیسا رشتہ ہے ۔۔۔۔قربانی کی عید میں تو ابھی وقت ہے ۔۔مجھے اپنے بھائ کے لیے خود کو قربان کرنا ہوگا ۔۔۔

زرمین نے آنسو پونچھے ۔۔میں راضی ہوں غلام بننے کے لیے ۔۔۔

جاو کل ملے گے ۔۔۔

دوسرے دن خاموشی سے نکاح ہوا ۔۔مٹھل اور بخش گواہوں میں شامل تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر ارحم سے نکاح کی خبر نے یہ راز جلد ہی کھول دیا ۔۔۔۔۔زرمین کی سسکیاں لاونج میں گونج رہی تہی ۔۔۔۔۔۔

دادا جی نکاح والے دن بھی جوکچھ ہوا وہ سب زرمین نے میرے کہنے پر کیا ۔۔۔صدمے نے میرے ذہن کو دل کو جابر بنا دیا ۔۔۔میں انتقام کی آگ میں اندھا ہوگیا ۔۔۔

دادا جی میں زرمین کے زریعے سفید حویلی والوں کو بھی سزا دینا چاہتا تھا ۔۔مجھے لگتا تھا کہ ان سب کو کوئ دکھ نہیں احمر کا ۔۔اگر دکھ ہوتا زاویار کی معافی کے بجائے اسے ہمارے حوالے کرتے ۔۔۔اس لیے اسنکاح والے دن سب کے سامنے بےعزتی کروائ ۔۔۔

چٹاخ کی آواز سے لاونج گونجا ۔۔۔۔۔۔ تم کو شرم نہ آئ ایک عورت کو بدلے کے لیے چنا ۔۔۔۔کمال شاہ غصے سے بوے

مجھے آپ سب معاف کردیں ۔۔زرمین کو چھوڑنے کے سوا جوبھی سزا دیں گے مجھے منظور ہے ۔۔پھر آہستہ قدم اٹھاتا زرمین کے قدموں میں جا بیٹھا ۔۔تم بھی معاف کردو سب سے زیادہ تہمارا گناہگار ہوں ۔۔تم کو سب کی نظروں میں گرایا ۔۔۔اور شادی کے بعد ۔۔۔۔زرمین نے سہمی نظروں سے دیکھا وہ نہیں چاہتی تہی اس کے ساتھ ناروا سلوک کا سن کر سب پریشان ہوں ۔۔۔نین زرمین کے نظروں کا مفہوم سمجھ گیا ۔۔۔۔میں نے کوشش نہیں کی تم کو تمہارے اپنوں سے ملانے کی سب سے جدا کردیا ۔۔۔پلیز معاف کردو نین کی آنکھیں رو دی ۔۔۔۔زرمین تو نین کے آنسو دیکھ کر خود رونا بھول گئ ۔۔نفی میں سر ہلاتے روم کی جانب بڑھ گئ ۔ نین نے اپنے آنسو صاف کیے اور پہر سب سے ایک بار دوبارہ ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی ۔۔

جلال شاہ بولے تمہارے ساتھ ہم بھی قصوار ہیں ۔۔خدا گواہ ہے احمر کی حادثاتی موت کا بڑا غم ہوا ،اگر زاویار جان بوجھ کر کرتا تو میں خود اپنے ہاتھوں سے گولی مارتا ۔۔۔مگر بریک خراب ہوگئے تھے۔ ۔۔۔۔۔مانا کہ غم بڑا تھا ۔۔۔تم سمجھداری سے کام لیتے مگر افسوس عقل ہی نے کام نہیں کیا۔۔لیکن میری لاڈو کے ساتھ ہم سب نے غلط کیا ۔۔۔گزرا وقت ہم میں سے کوئ نہیں لاسکتا ۔۔مگر حال کو ٹھیک کر سکتے ہیں ۔۔میں نے اپنی لاڈو سے زبردستی نکاح کو معاف کیا ۔۔زارا کی شادی میں ہوئ بے ذلت معاف کی۔ ۔۔تم ہمارے داماد ہو سفید حویلی کے دروازے ہمیشہ تمہارے لیے کھلے ہیں ۔۔۔جلال شاہ نے گزرے وقت کو بھول جانے کا مشکل فیصلہ لے کے حسنین کو معافی کا عندیہ دے کر سمجھداری کا ثبوت دیا ۔۔۔کل کو معاف کرنا ہی تھا تو آج کیوں نہیں ۔۔۔۔۔۔گو دل کوبے حد تکلیف ہوئ ۔۔۔پر معاف کردینا بڑا عمل ہے بڑا عمل عموماً بڑے ہی کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جلال شاہ نے حسنین کو گلے لگا کر معاف کیا ۔۔ کمال شاہ نے بھی حسنین کی طرف سے بھی معافی مانگی ۔۔۔۔حسن شاہ اور شبانہ بیگم زرمین سے ملنا چاہتے تھے مگر زرمین نے اندر سے روم لوک کرلیا ۔۔۔دادی نے بولا ۔۔۔ میں سمجھا کر ملانے لگاو ں گی ۔۔۔

ارحم پلیز یار تم بھی معاف کردو ۔۔جوڑے تو آسمان پر بننتے ہیں میرا جوڑا زرمین سے طے تھا ۔۔تو تم سے کیسے ہوتی ۔۔ارحم نے بھی اعلی ظرفی کا مظاہرہ کیا ۔۔۔۔۔۔اور ایک بار پھر سب کے چہروں پر اطمینان چھاگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.

دادی کے سمجھانے پر زرمین نے سفید حویلی میں جانا شروع کردیا ۔

میری بچی مجھے معاف کر دے تو نےمیرے وارث کے لیے اپنی زندگی داو پر لگادی ۔۔دادی نے روتے ہوئے ہاتھ جوڑے ۔۔نہ دادی ایسے نہ کرے ۔۔۔۔زرمین نے روتے ہوئے گلے لگایا ۔۔۔۔۔

آپو میری سب سے اچھی آپو زاوی ۔۔۔اس کے گلے لگ گیا ۔۔تم کب آئے زاوی فرزانہ بیگم بولی ۔۔

چچی ابھی آیا ہوں دادا جی نے فون پر سب بتایا ۔۔ ۔ اتنے میں شنو دوڑی چلی آئ سانس پھولنے لگی ۔۔۔۔

۔کیا اولمپکس کی ریس میں حصہ لے لیا زاوی نے مذاق کیا ۔۔۔۔۔۔

۔نہیں نہ وہ آئیں ہیں ۔۔ کون سب ہی نے ایک ساتھ پوچھا ۔ ۔

حسنین سائیں ۔۔۔

زاویار کا چہرہ فق ہوا ۔۔۔وہ اندر جانے لگا ۔۔زرمین نے ہاتھ پکڑ کے روک لیا ۔۔کب تک چھپو گے ۔۔آج سامنا کرو ۔۔۔آنکھوں سے تنبیہ کی ۔۔۔۔۔

اسلام علیکم ۔۔۔حسنین نے مشترکہ سلام کیا ۔۔۔۔ ۔۔کیسے ہو زاوی ۔۔۔مسکرا کر پوچھا ۔۔۔۔۔۔اور زاویار حیران ہوگیا ۔۔۔جج جی ٹھیک ہوں ۔۔حیرت سے زبان لڑکھڑائ ۔۔۔۔۔۔میں تم سے معافی چاھتا ہوں ۔۔میں نے بالکل اعلی ظرفی نہ دکھائ ۔۔مجھے فیصلے کا اختیار تھا۔۔اللّہ نے آزمائش میں ڈالا کہ میں اسکی پسندیدہ صفات اپناتا ہوں یا نہیں ۔۔مگر میں نہ صرف ظالم بنا بلکے زرمین کے ساتھ بھی ناانصافی کرکے بدترین لوگوں میں شامل ہوگیا ۔۔۔ندامت ہی ندامت حسنین کے انداز سے لہجے سے اور الفاظ سے نظر آرہی ہے ۔۔۔۔۔

زاوی کو تولگ رہا ہے آج حیرت کےمارےدم ہی نہ نکل جائے۔۔۔

حسن صاحب نے آگے بڑھ کے نین کے شانے کو تھاما ۔ ۔۔۔تم شرمندہ ہو ۔۔یہ گناہ کی معافی کی علامت ہے ۔۔ہم سب نے معاف کیا ۔۔۔یہ سن کر نین نے زرمین کی طرف دیکھا اس نے نگاہیں پھیر لی نین کے دل کو تکلیف ہوئ ۔۔۔۔پر اس نے جو تکلیفیں پہنچائ اس کے آگے تو یہ ذرہ برابر بھی نہ تہی ۔۔تکلیف چھپا کر مسکرایا ۔۔

اچھا ہوا بیٹا آپ آئے ۔۔۔میں نے آپ کی من پسند مچھلی پلا پکائ ہے ۔ ۔۔۔شبانہ بیگم نےخوشدلی جتائ ۔۔۔

واو زبردست ۔۔پھر جلدی سے ڈنر لگائیں ۔۔۔۔

خوشگوار ماحول میں ڈنر کے بعد نین نے زرمین کو چلنے کا کہا ۔۔۔لال حویلی آکر شہر جانے کی جب بعد کی تو زرمین نے دادی کے زریعے رکنا چاہا ۔۔۔نین چاہتا تو لیجاتا مگر اب وہ زرمین پر زور زبردستی نہیں کرنا چاہتا ۔۔ ۔۔ ۔

شہر جانے کے بعد نین روز رات کو سونے سے پہلے فون پر لازمی بات کرتا اور صبح مارننگ وش کا معمول بنا لیا ۔۔۔۔

زرمین بھی حویلی آکر خوش تہی گزرے دنوں کی یاد تو آتی تہی لکن اپنوں کے ساتھ نے اچھا اثر کیا۔ ۔۔۔۔۔دن گزرہے تہے۔۔۔۔

۔۔آٹھواں مہینہ لگ گیا ۔۔ زرمین نین کے خیال رکھنے کو گزرے سلوک کا ازالہ سمجھ رہی تہی ۔۔۔نین نے پھر غلطی کری ایک بار بھی محبت کا لفظ استمعال نہیں کیا ۔ ۔ ۔۔۔محبت کا اظہار کرتا تو شاید زرمین دل سے معاف کردیتی آخر کو نین سے اس نے بھی محبت کری تہی اور یہ محبت زندہ ہی ہے ۔۔۔نین کے برے رویے نے کئ بار دل توڑا ۔۔مگر دل بے وفائ پر آمادہ نہ ہوا ۔ ۔ وفا نبھاتا رہا ۔۔۔۔

اور نین کو زرمین کی دوری اس کی محبت کی تڑپ میں اضافہ کر ہی تہی ۔۔۔پہلے کی طرح ہر ویک اینڈ نین گاوں میں ہی آجاتا ۔۔۔۔۔۔اور احمر کی قبر پر ضرور جاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زرمین کا دونوں حویلی میں بہت خیال رکھا جاتا ۔۔ وہ گول مٹول چھوٹی سی گڑیا بن گئ ۔۔ابھی سب کے لیے ٹوئنز کا سر پرائز باقی ہے ۔۔۔۔۔

بیٹا یہ آملے کامربہ کھالو ۔۔۔چھوٹی دادی میں ابھی بڑی دادی سے سیب کا مربہ کھا کر آئ ہوں ۔۔۔مجھ سے اب نہیں کھایا جائے گا ۔۔۔اور آملے سے تو سر دھوتے ہیں ۔۔۔اس کا مربہ بھی کھاتے ہیں ۔۔زرمین نے ناک چڑھائ ۔۔ آج پورے سات ماہ بعد پرانی زرمین کی جھلک نین کو دیکھی اسکا دل تھوڑا مطمئن ہوا ۔۔۔۔۔۔

کھا لو زرمین ۔۔۔۔۔۔۔۔

کیوں کھا لوں، منہ میں جھاگ بن جائے گا اور آپ کھا ئیں نہ آپ بھی تو باپ بننے والے ہیں ۔۔ ۔۔ ۔اور کھانے سے بچنے کے لیے باہر حویلی کے پچھلی جانب چلی ۔۔جہاں نوکروں کے بچے کرکٹ کھیل رپے تھے۔ ۔۔۔ ۔ ادھر نین نے دادی سے کہا ۔۔لائیں دادی میں کھالوں ۔۔۔آخر باپ بن رہا ہوں بچوں کی ریں ریں سنوگا تھوڑی طاقت میں بھی بنا ہی لوں ۔۔۔۔

ہاں یہ خوب رہی ۔۔۔جس کو زیادہ ضرورت ہے وہ نہ کھائیں اور تم کھاو ۔۔۔۔رہی بچوں کی بات کان کھول کر سن لو۔ ۔میں اب زرمین کو جانے نہ دونگی ہم سنبھال لیں گے بچے ۔۔۔تم کر واپنا کاروبار ۔۔۔۔ دادی نے نین کو مصنوئ ڈرایا ۔۔ ۔

کیا کیا آپ یہ ظلم نہں کرسکتی ابھی اتنی مشکلوں سے رہے رہا ہوں ۔۔۔۔میں تو بالکل نہ چھوڑوں ۔۔۔۔اچھا اچھا بیٹا ۔ ۔ میں مزاق کررہی ہوں ۔۔۔۔۔۔

دادی میں شہر جا رہا ہوں …اسفند کسی ضروری کام سے لندن جا رہا ہے اور پراجیکٹ تکمیل پر ہے اس لیےمیں اس ہفتے نپیں آپاوں گا زرمین کا چیک اپ ضروری ہے لاسٹ ماہ بھی نہیں ہوا پلیز آپ شہر لے آیے گا ۔۔۔

جاو بچے اللّہ کی امان میں ۔۔۔۔میں ضرور لاوں گی تم فون کردینا ۔۔۔۔۔۔۔

آپ کی بہو سے مل لوں پھر جاوں گا ۔۔۔۔

دادی مسکرادی ۔ ۔

بچوں کو کرکٹ کھیلتا دیکھ زرمین ماضی کے جھروکے میں چلی گئ۔ ۔

لال حویلی کے صحن میں احمر اور زاویار کرکٹ کھیل رہے ہیں ابھی نائن کے پیپر دیے کر فراغت پائ تہی ۔ ۔

مجھے بھی کھلاوں ززرمین شور مچانے لگی۔۔

کیوں تم کو کیوں کھلائیں ،سب لڑکے کھیل رہے ہیں تو اندر جاؤ ۔۔۔۔

ارے یہ لڑکے ان کو تو میں جانتی ہوں ۔۔اگر تم نے مجھے نہ کھلایا تو میں حسنین بھائی کو بتا دوں گی کہ تم کل شام میں رمیز کے ساتھ بیٹھ کر چھت پر سگریٹ پی رہے تھے ۔۔

تم تم نے کہاں سے دیکھا ۔۔۔

کل اپنی چھت سے زرمین اترائ ۔۔

میری بہن کو کھلاؤ بہت اچھا کرکٹ کھیلتی ہیں زاویار بولا۔ ۔زاویار کی بات سن کر احمر دانت پیستے ہوئے بولا ہاں تمہاری بہن نے تو ہی ٹی ٹوئنٹی کپ جتوایا تھا۔ ۔

مجھے تم اپنی ٹیم کا کیپٹن بنا لو میں بالکل عمران خان کی طرح کیپٹن سی کرتی ہوں ،شاہد آفریدی کی طرح بیٹنگ کرتی ہو ں، سرفراز کی طرح کی کیپنگ کرتی ہوں، عامرکی طرح بالنگ کرتی ہوں بھلےٹی ٹوئنٹی نہیں جتوایا لیکن تم کو ضرور جتواں گی ۔۔

احمر کلس تے ہوئے بولا وڈی آئ ورلڈ دی بیسٹ کرکٹر چلو مرو کھیلوں ۔۔۔

زرین نے اعلان کیا کہ پہلے بیٹنگ کروں گی اور پچ پر جا کر کھڑی ہو گئی ۔۔بولر نے بال کرائ ۔۔زرمین نے شاٹ مارا اور گیندسیدھے پورچ میں کھڑی حسنین کی گاڑی کے شیشے پر لگی ۔۔۔۔۔

اور زمین کی سٹی گم ہوئی اور احمر ہنسنے لگا ۔ ۔

اب تو تمہیں بھائی بتائیں گے کتنی اچھی کھلاڑی ہو ۔ ۔

کیا احمر تمہارے بھائ اتناکنجوس ہے ایک شیشہ نہیں لگواسکتے ۔۔زرمین نے اپنی دماغ کی بتی جلائ اور ایموشنل کرنے کی کوشش کی ۔ ۔

نہیں می بالکل نہیں کنجوس ہوں، میں آپ کے لیے ہی تو محنت کرکے کما کے گاڑیاں خریدتا ہوں ۔۔کہ آپ اس کے شیشے توڑے بتایئے گا نیکسٹ کونسی گاڑی لوں جس کاشیشہ توڑنے میں مزہ آئے ۔۔۔۔

حسنین نے میٹھے لہجے میں بے عزتی کی ۔۔۔

زرمین نے سوری کہہ کے سفید حویلی کی طرف ریس لگائ اور بھاگتے ہوئے گیٹ سے ٹکرا گئ ۔۔۔

سب لڑکے بے اختیار ہنسے ۔۔۔۔۔۔

کیا ہو رہا دیکھ کے کھیلیں ۔۔۔زرمین حسنین کی آواز پر چونک کر ماضی سے باہر آئ ۔۔۔

حسنین بچوں کو ڈانٹ کر زرمین سے بولا کیا ہے یار دھیان سے بیٹھو ۔ابھی میں کیچ نہ کرتا تو لگ جاتی ۔۔۔زرمین نے سوری کیا ۔۔۔

اچھا میں چلتا ہوں ۔۔

_________

میں نے فاریہ کی بات یاسر سے پکی کردی یہ جوڑا اور سامان ہے منگل کو شادی ہے سادگی سے کریں گے میں نے سب دعوت دے دی رات کے کھانے پر چچی نے بم پھوڑا ۔۔ فاریہ کے حلق میں نوالہ پھنس گیا زور کا پھندا لگا ۔ ۔ علیزہ نے پانی دیا ۔

چچی اتنی جلدی اور اچانک ۔۔۔

جلدی کاہے کی 21 کی ہوگئ ہے تمہاری بھی 20 میں کردی تہی ۔۔۔

عرفان بولے اماں یاسر کچھ کماتانہیں ہے پہلے جاب تو کرلے۔۔

کمانے کی بھی خوب کہی بیٹا جب تمہاری کی تہی شادی اس کے بعد ہی تم لگے ۔۔یاسر بھی کرلے گا ۔

چپ کرکے کھانا کھاوں . چچی نے بات سمیٹی ۔ ۔

فاریہ کھانا چھوڑ کر کمرے میں چلی گئ ۔۔۔

آپی میں مر جاو گی ۔ ۔ ابا اماں کیوں چھوڑ گئے ۔۔۔مجھے بھی ساتھ لے جاتے ۔۔۔۔۔۔فاریہ رونے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کماتا بھی نہیں ہے جواری ہے کسی دن مجھے ہی بیچ کھاے گا ۔۔

اللّہ نہ کرے ۔۔۔علیزہ نے دہل کر کہا ۔۔میں کچھ کرتی ہوں

فکر نہ کرو اللّہ بہتر کرے گا۔۔میں سر سے بات کرو ۔۔۔علیزہ فکرمندی سے بولی ۔۔۔

سر کی بات پر فاریہ کے دل نے اک بیٹ منس کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔

کیا میرے نصیب میں سر کا ساتھ لکھا ہے فاریہ نے سوچا۔

۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔۔حسنین گاوں سے آکر بے حد مصروف ہوگیا ۔۔۔

علیزہ بار بار آفیس کے چکر لگا رہی تہی ۔۔حسنین کو لگا شاید کوئ بات کرنا چاہ رہی ہے ۔۔۔

خیریت علیزہ کوئ کام ہے مجھ سے ۔۔۔۔

جی سر علیزہ بےچارگی سے بولی ۔۔۔

سر اسفند کا نمبر بند جا رہا ہے ان سے بات کرنی ہے ۔۔۔ہاؑ وہ اپنے بھائ کی ہارٹ سرجری کیوجہ سے آسٹرلیا میں ہے ۔۔دوسرا نمبر ہے میں آپ کو دے دیتا ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ویسے کوئ کام ہو تو بتاو ۔۔۔ سر میری بہن کی شادی ہے کل آپ آئے گا ۔۔سراسفند کو بھی دعوت دینی ہے ۔۔

آپ بہت مبارک ہو ۔۔

جی سر شکریہ ۔۔۔۔۔۔________________________________________________

گھر آکر حسنین کو بیڈ کا سونا پن بہت کھل رہا ہے ۔۔۔موبائل میں عید کے دن لی ہوئ تصویر دیکھ کر حسنین نے اسے سوری کیا ۔۔میری زندگی جلد آجاو ۔۔۔

ہیلو ۔۔۔کیا حال ہیں ۔۔۔

جی میں ٹھیک ہوں ۔۔

چھوٹی چھوٹی باتوں میں نین نے وقت کو طویل کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔

چلو کل آفیس کا کام بہت ہے اور علیزہ کی طرف چکر لگانا ہے ۔۔۔

سونے کے لیے آنکھ بند کی ہی تہی کہ موبائل کی بیل نے پہر جاگا دیا اور کال ایٹینڈ کی ۔۔۔ااسفند کیسا ہے ۔۔بھائ کی سرجری ہوئ ۔۔۔ہاں میں ٹھیک ہوں اوربھائ کی سرجری کل پے تجھے میرا ایک کام کرنا ہے ۔۔دیکھ یار تجھ پر بھروسہ ہے پلیز ۔۔۔

کام بتائے گا تو کچھ کہوں گا ۔۔۔پہر اسفند کے اصرار پر راضی ہوگیا ۔

دوسرا دن کئ رنگ لے کے طلوع ہوا ۔۔۔

میں یہ شادی نہی کرونگی ۔۔۔۔

کیسے نہیں کرے گی سارے مہمان جمع ہوگئے میں تم کو جان سے نہ مار دو ۔۔۔

نہیں کرو نگی ۔۔۔مار دے جان سے فاریہ رونے لگی ۔۔

یہ تو میرا ظرف ہے کے بغیر جہیز کے شادی کررہی ہوں آج کے زمانے میں کوں کرتا ہے چلو ابھی ان مہمانوں سے پوچھ لیتے ہیں ۔چچی فاریہ کو ہاتھ سےگھسیٹ کر باہر لائ ۔ اور بولی ۔ کون ہے جو بغیر جہیز کے اس کے ساتھ شادی کرے گا ۔۔بےحس لوگ ۔۔کوئ نہ بولا ۔۔چچی نے تمسخرانہ نظروں سے دیکھا ۔ ۔ ۔۔اور پہر مسکراتی ہوئ بولی کوئ ہے جو بغیر جہیز کے شادی کرے گا ۔۔ ۔

میں کروں گا۔۔۔آواز گونجی ۔۔۔علیزہ نے حیران ہو کر دیکھا پہر خوشی سے چہکی سر ۔۔۔۔فاریہ نے نم آنکھوں سے دل تھام لیا ۔۔۔۔ محبت سے ملنے کی آس جاگی ۔۔

مولوی صاحب نکاح پڑھایے ۔۔۔۔۔۔۔۔

فاریہ آپ کوسکہ رائج الوقت ایک لاکھ حق مہر میں حسنین فرقان شاہ سے نکاح قبول ہے ۔۔

جی قبول ہے ۔۔۔۔۔

چچی ہاتھ ملتے رہ گئ۔۔۔۔اب اتنے امیر بندے سے پنگے کیا لے خوشامد ہی بہتر ہے ۔۔۔ رخصتی کے وقت چچی نے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا بیٹا آتی جاتی رہنا ۔۔۔فاریہ چاہا کر بھی ہاتھ نہ جھٹک سکی ۔ ۔ ۔

حسنین فاریہ کو لیکر گھر میں داخل ہوا ۔۔زہن فاریہ مہں اٹکا تھا پورچ میں کھڑی گاڑی کی طرف دھیان ہی نہ گیا ۔۔ ۔

سلام سائیں ۔۔۔یہ کون ہے حیرت سے دلہن بنی فاریہ کو دیکھ کر شائستہ نے پوچھا ۔۔۔۔

حسنین نے فاریہ کو ریلکس کرنے کے لیے کہا تمہاری نئ بیبی ۔۔۔اور میری دلہن ۔۔۔۔۔۔

ٹرے گرنے کی آواز پر حسنینمڑ ا اور پل بھر کو سکتہ میں چلا گیا ۔۔۔۔۔ شائستہ دوڑ کر زرمین کے پاس پہنچی ۔۔سر کہا ۔۔نین تیزی سے بھاگتا زرمین کے پاس آیا زرمین خرد سے بیگانہ ہوچکی تہی۔ ۔۔۔دادی اور حنا بھی شور سن کر باہر آئ۔۔زرمین کو دیکھ پریشان ہوئ ۔۔۔نین نے ٹائم ضائع نہ کیا فورا لیکر ہوسپٹل بھاگا ۔

ایمرجنسی ٹریٹمنٹ شروع ہوئ۔۔نین بے چینی سےایمرجنسی دروازے کے باہر کھڑا ڈاکٹر کا منتظر ہے ۔۔۔دیکھتے دیکھتے زرمین کو ہر طرف سے مشینوں میں جکڑ لیا گیا ۔۔دادی حنا اور علی بھی آچکے تھے ۔۔سب دعاوں میں مشغول ہوگئے ۔ ۔حنا پریشان کے ساتھ فکر میں تہی کہ اچانک زرمین کو کیا ہوگیا ۔۔ سفر تو اچھے سے گزرا اس نے آرام کے بجائے اپنے ہاتھوں سے چائے بنانے کی ضد کی ۔۔۔آدھے گھنٹے بعد ڈاکٹر نے آپریشن کہا ۔۔

کیسی ہے زرمین ۔۔۔پلیز کچھ تو بتائیں ۔ ۔ ڈاکٹر زویا ۔ ۔ ۔

آپ کو اس سے مطلب ۔۔۔جشن ماننے کی تیاری کریں ۔ ۔ ۔اپنی زندگی داو پر لگا کر آپ کا وارث پیدا کرہی ہے ۔ ۔ آپ سے مانگا ہی کیا تھا کتنا میں نے کہاخیال رکھیں نہیں مگر اذیت دینی ہے اور آج کیاہوا جو اس کا نروس بریک ڈاون ہوا ،کسی قسم کا رسپونس نہیں دے رہی ۔ ۔ ۔

باقی سب کی سمجھ نہ آیا مگر نین سمجھ گیا ڈاکٹر زویا کیوں باتیں سنا رہی ہیں ۔۔۔ابھی وہ اس قدر ڈیپریس میں تھا کہ شرمندہ بھی نہیں ہوسکا ۔ لگتا ہے زرمین نے شادی کا سن لیا ۔۔ ۔ ۔

آپریشن شروع ہوچکا ۔ ۔نین وہیں ایمرجنسی کے باہر نڈھال سا بیٹھ گیا ۔۔نین کوایسا لگ رہا ہے جسم سے روح نکل رہی ہو ۔۔۔علی نے کہا بھائ حوصلہ کریں کچھ نہں ہوگا ۔۔۔اللّہ سے مانگے ۔۔۔۔۔۔۔

اللّہ تو سب جانتا ہے میں تیرا گناہگار بندہ ہوں اللّہ مجھے معاف کردے ۔۔۔مجھے سزا نہ دے ۔۔میں توبہ کرتا ہوں اپنے گناہوں کی ۔۔تونے مجھے بیوی کی صورت میں میری محبت کو محرم بنا دیا تا کہ میں گناہگار نہ ہوں اور میں نے تیری نعمت اور احسان کی قدر نہ کی ۔۔ ۔۔ مجھے معاف کردے۔۔۔یارب ستر ماوں سے بھی زیادہ محبت کرنے والے میری فریاد سن لے ۔۔زرمین کو زندگی عطا کردے ۔ ۔ نین نے اللّہ کی بارگاہ میں عاجزانہ دعا کی ۔۔دل کوکچھ حوصلہ ملا۔اور نماز روم سے واپس ایمرجنسی میں آیا ۔۔۔کچھ دیر بعد قدوسی صاحب کی یاد آئ جو اپنی فیملی کے ساتھ نین کے دیے ہوئے تحفے سے عمرہ کی سعادت حاصل کرہے ہیں ۔ نین نے ان کو بھی فون ملا کے دعا کی درخواست کی ۔۔۔۔دل کو مزید تسلی ہوئ ۔۔۔اللّہ کے گھر مانگی دعاقبول ہوتی ہےیہ اطمینان اور یقین ہر مسلمان کو ہوتا ہے نین کو بھی ہے ۔۔کھڑے کتنی ہی منتیں نین نے مانگ لی ۔۔ ۔ ایمرجنسی روم کا دروازہ کھولا ۔۔۔ڈاکٹر نے بچوں کا بتایا چونکہ پری امیچور کیس تھا اس لیے بچوں کو نرسری میں رکھا جائے گا ۔۔۔اور واپس اندر چلے گئے ۔۔ٹوئنز کا سن کر دادی حنا اور علی پل کو خوش ہوئے پہر زرمین اور نین کی حالت کے پیش نظر اداس ہوگئے ۔۔ ۔ علی کو ہی ہوش آیا اس نے سفید اور لال حویلی اطلاع دی ۔۔ایک بار پھر ایمرجنسی روم کا دروازہ کھولا ۔۔ڈاکٹرز کی ٹیم باہر ۔۔ڈاکٹر زویا باہر آئ ۔۔۔تھکے اور اداس لہجے میں بولی ۔۔ہم نے بہت کوشش کی مگر ۔۔سوری۔ ۔۔۔ ۔

نین نے بےیقینی سے دیکھا اتنی دعائیں مانگی۔۔کیا گناہوں کی سزا مل گئ ۔۔محبت کی ناقدری پر عشق نے انصاف کیا محبت کو دور کرکے عشق نے بتایا محبت نبھانا بے حد ضروری ہے ذرا سی بھی کوتاہی محبت کو دور اور عشق کو ناختم ہونے والے فاصلے پر لیجا ئے گی ۔۔

________

نین خالی آنکھوں سے ڈاکٹر زویا کو دیکھ رہا ہے ۔۔۔

علی کیا کہہ رہی ہیں آپ ۔۔۔سوری

جی زرمین اس وقت کومہ میں چلی گئ ۔۔اور جس طرح وہ رسپونس نہیں دے رہی تہی تو مجھے لگ رہا ہے یہ کومہ طویل اور اینڈ شاید موت ہو ۔۔ ڈاکٹر زویا نہایت بے رحمی سے بولی ۔۔

آپ ایک ڈاکٹر ہو کر اتنی بے رحم کیسے ہوسکتی ہیں آپ مریض اور لواحقین کو تسلی دینے کے بجاِے ڈرارہی ہیں ۔۔علی غصہ سے بولا ۔۔۔

جس مریضہ کے گھر والے ظالم ہوں ان کو حقیقت ہی بتانی چاہیے ۔۔

اور ایک بری خبر یہ بھی ہے وہ آئندہ دوبارہ ماں نہیں بن سکتی ۔۔۔۔ڈاکٹر زویا کہہ کر آگے بڑھ گئ ۔۔۔

نین سجدے میں گرااللّہ نے کرم کیا ۔۔۔مایوس نہیں ۔۔۔کومے میں ہی صحیح نظر کے سامنے تو ہے ۔دعاوں سے مانگ لوںگا ۔۔۔

دادی رونے لگی ۔۔۔۔میرے بچوں کو نظر لگ گئ ۔۔علی صدقہ دو ۔۔نین بیٹا اٹھو ۔۔۔سجدے میں گرے نین کواٹھایا جس کا چہرہ آنسووں سےتر تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بیٹا اللّہ کا حکم۔ ہوا تو زرمین ٹھیک ہوجائے گی ۔۔۔دادی نے دلاسا دیا ۔۔۔اور علی کو بچوں کے کان میں اذان دینے کا کہا ۔۔

رات تک سارے ہی ہوسپٹل آگئے ۔۔۔روئے ۔۔۔نین کو تسلی دی ۔۔۔اور نین اور علی کے سوا سب گھر روانہ ہوئے ۔۔۔۔۔۔

شائستہ کو بھی فون کے زریعےزرمین کی حالت پتہ چلی وہ رونے لگی ۔۔فاریہ نے ہمت کرکے پوچھا یہ کون تہی ۔۔۔۔

شائستہ نے حیرانی سے پوچھا آپ کو سر نے نہیں بتایا ۔۔۔۔سر کی پہلی بیوی ہیں ۔۔۔

کیا ۔۔اللّہ اللّہ یہ کیا ظلم ہوگیا ۔۔۔مجھے پتہ ہوتا تو میں راضی نہ ہوتی یا اجازت لیتی ۔۔۔۔لگتا ہے حسنین نے کچھ نہیں بتایا جب ہی صدمے سے ایسا ہوگیا ۔۔۔فاریہ خود سے باتییں کرنے لگی ۔۔۔اسے بھی بےحد افسوس ۔۔۔

آیے میں آپ کو سر کاکمرہ بتادو ۔۔

مجھے حسنین کا نہیں دوسرا روم دیکھا دو ۔۔۔

جی بہتر۔ ۔۔۔۔شائستہ نے سوچا ابھی سامنے نہ آنا بہتر ہے ۔۔۔

_________________________________________ _____

زرمین کو چار دن ہوگئے کومے میں آج کمال شاہ کے سمجھانے پر حسنین کچھ دیر کے لیے گھر گیا ۔۔۔۔جھاں ایک نئ پریشانی اس کی منتظر ہے ۔۔۔۔

چچی کو چار دن بعد فاریہ کی یاد ستائ ،۔دیکھیں تو صحیح کیسے رہےرہی ہے مہارانی بن کہ یا نوکرانی بن کے ۔۔۔تجسس کے مارے علیزہ کو بتائے بنا آگئ ۔۔۔۔

چوکیدار کو بولا فاریہ کو بتاو چچی آئ ہیں

چوکی دار نے انٹر کام کے ذریعے پوچھا فاریہ کی چچی آئی ہیں ۔۔

دادی حیران ہوئی کون فاریا اور چوکیدار کو اجازت دی ۔۔شائستہ یہ فاریہ کون ہے ۔۔

شائستہ کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اب کیا جواب دے ۔۔

جی جی جی

یہ کیا جی جہ کی رٹ لگائی ہے کیا پوچھ رہی ہوں یہ فاریہ کون ہے۔۔۔

آپ نہیں جانتیں ۔۔چچی نے اندر داخل ہوتے ہوئے جواب دیا

۔۔حسنین کی بیوی ہے چچی نے دھماکا کیا

کیا لاونج میں بیٹھے سارے افراد دم بخود رہے گئے ۔۔۔جلال شاہ کو حسنین سے یہ امید نہ تہی ۔۔۔انکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ ۔۔

کیا بکواس کر رہی ہیں آپ دادی دھاڑی ۔۔۔

لو میں کیوں کروں گی بکواس یہ تو سچ ہے چچی چمک کر بولی ۔۔۔لوگوں کے بیچ میں بیاہ کر لایا ہے وہ الگ بات ہے گھر والوں کو بتانا ضروری نہ سمجھا ۔چچی شاطرانہ مسکرائ ۔۔

شائستہ یہ کیا بول رہی ہیں

اب سچ بتانے کے سوا شائستہ کے پاس کوئی چارہ نہ تھا جی بیگم صاحبہ ٹھیک بول رہی ہیں ۔۔۔

دادی یہ خبر سن کر صدمے سے خاموش ہوگئ ۔۔۔

فرزانہ بیگم نے پوچھا کہاں ہے فاریہ بلائیےاسے ۔۔۔

فاریہ ڈرتےڈرتےنیچے آئی وہ چار دنوں سے کمرے میں محصور تھی شائستہ اس کو کھانا پینا سب کمرے میں ہی بہیج رہی تہیں

۔۔۔۔۔۔۔آپ سے شادی حسنین نے کب کی ۔۔۔

جی چار دن پہلے ۔۔۔۔۔

سب کو اب زرمین کے نروس بریک ڈاون کی وجہ پتہ چلی ۔۔۔۔

چچی تو آگ لگا کر چلی گئ اور فاریہ روم میں فکر مند اب کیا ہوگا ۔۔۔۔

حسنین کے گھر آتے ہیں جلال شا نمدیدہ آواز سے بولے۔۔آپ سے یہ امید نہ تھی بیٹا ۔۔۔دوسری شادی کرنی تھی تو چند دن صبر کر لیتے ۔۔۔زرمین بیٹا فارغ ہوجاتی تب تم یہ قہر اس پر ڈھا دیتے ۔۔۔۔

ٹھیک ہے تم نے کرلی شادی اب میری بیٹی کو طلاق دو ۔۔۔اس کاعلاج اب ہم خود کرائیں گے ۔۔۔حسن شاہ غصے سے بولے ۔۔۔۔

آپ کا دماغ تو ٹھیک ہے ۔۔۔طلاق کا سن کر حسنین کو غصہ آگیا بھول گیا سامنے اس کے سسر حسن شاہ کھڑے ہیں کوئ بچہ نہیں ۔۔۔۔

آپ آج سب میری بات اچھے سے سن اور سمجھ جائیں ۔۔۔میں کسی بھی حالت میں زرمین کو نہیں چھوڑا گا وہ صرف بیوی نہیں میری محبت بھی ہے ۔۔۔۔نین نے ٹھوس متوازن مضبوط لہجہ رکھا ۔۔۔

واہ بھئ واہ بہت خوب ۔۔۔ارحم نے تالی بجا کے داد دی ۔۔۔محبت کو سوتن کا بہترین تحفہ دیا ہے ۔۔۔کہ وہ خوشی سے کومہ میں چلی گئ ویلڈن ۔۔ارحم نے طنز کیا ۔ ۔

تم بیچ میں مت بولو ۔۔۔نین نے ناگواری سے کہا

کیوں نہ بولے ۔۔کزن ہےاسکا ۔۔ چچا۔۔خالہ کا بیٹا ۔ ۔ کیا لاوارث سمجھ لیا تم نے ۔۔۔اب کے فرزانہ بیگم نے تیور دیکھائے ۔۔۔۔

پلیز میں یہاں تھوڑی دیر چینج کرنے آیا ہوں مجھے زرمین کے پاس جانا ہے یہ فضول باتیں پھر کبھی کریں گے ۔۔۔

فضول باتیں میری لاڈو اس سبب وہاں موت سے لڑ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔اور تم ہم سے کہہ رہے ہو ۔۔۔فضول باتیں ۔۔۔ہونہہ جلال شاہ واقع جلال میں آگئے ۔۔۔

دادا یہ وقت سب ان باتوں کا نہیں ہے ، مجھے جانا نین چینج کیے بنا ہی پلٹا ۔۔۔ ارحم نے ہاتھ پکڑ کر روک لیا ۔۔ ۔

ارحم ہاتھ چھوڑوں میرا ۔۔۔

تمکو کہیں جانے کی ضرورت نہیں ۔۔۔اپنی نویلی بیوی کے پاس جاو ۔۔۔زرمین کے پاس میں چلا جاوں گا ۔۔۔ارحم نے ہاتھ نہ چھوڑا ۔۔۔۔۔۔

نین نے غصے میں ارحم کا گریبان پکڑ کر جھٹکا ۔۔۔ہاں تم کیوں جاوں گے ۔۔۔بیوی ہے میری ۔۔۔

آج کے بعد نہیں رہے گی ۔۔۔ارحم نے گریبان چھڑاتے غصے سے کہا ۔۔۔۔

نین نے گریبان چھوڑ ارحم کے منہ پر تھپڑ مارا اور لگاتار ددو تین مارے ۔۔۔۔میری بیوی کو چھوڑنے کی باتیں کرتا ہے نین نے مارتے بولا ۔۔۔ارحم نے بھی جوابی کاروائ کی ۔۔۔ ۔ ۔

دونوں کو ہاتھا پائ کرتے دیکھ ڈرائنگ روم میں کھڑے افراد دنگ رہ گئے کسی کو حسنین کے ایسے شدید ردِعمل کی امید نہ تہی ۔۔۔۔جلال شاہ اور حسن شاہ نے دونوں کو چھڑایا ۔۔۔۔یہ منظر اندر آتے کمال شاہ دیکھ کر اپنی جگہ فریز ہوگئے ۔۔

کیا ہورہا ہے یہ ۔۔۔کمال شاہ حیرت سے بولے ۔۔۔

دادا جی آپ یہاں ۔،زرمین کے پاس کون ہے ۔ ۔۔

جلال شاہ سمجھ نہ پائے نین کا حلیہ ۔۔چار دن سے ایک ہی لباس ۔۔۔جو میلا ہوچکا تھا ۔۔۔منہ اترا اترا اور اس پر اس کے الفاظ تو زرمین سے محبت ظاھر کرہی ہے مگر پھر یہ دوسری شادی ۔۔۔۔

علی ہے ۔۔۔اور تم جاو فریش ہو ۔ ۔ کمال شاہ نے پوتے کو منظر سے ہٹایا ۔۔۔

جلال شاہ نے طنزیہ مبارک دی ۔۔۔بہت مبارک ہو تمہارے لاڈلے نےپہرچھپ کر دوسرا نکاح کرلیا۔۔۔۔

کمال شاہ نے تحمل سے جواب دیا جانتا ہوں ۔۔۔۔

ایک بار پھرسب کے سب دنگ رہے گئے ۔ ۔

میری اجازت سے کی ہے ۔۔۔پھر سے بجلی گرائ جس پر سب تڑپ ہی اٹھے۔ ۔ ۔ ۔