Saza-e-Ishq by Areeba Sehar NovelR50421 Saza-e-Ishq Episode 5
Rate this Novel
Saza-e-Ishq Episode 5
Saza-e-Ishq by Areeba Sehar
تم ایک سمجھدار انسان ہو ،مسلمان ہو ،موت کی حقیقت سے واقف ہو ۔۔موت تو برحق ہے ہر ذی روح کو آئے گی ۔۔آج میں کل تم کوئ بھی کسی بھی وقت مر سکتا ہے ،موت تو کسی بھی بہانے سے آسکتی ہے ۔۔کوئ بیماری سے تو کوئ ایکسڈینٹ سے جس کی جس طرح لکھی ہے مت، ویسے ہی آئیگی ۔۔اور حادثہ تو کھبی بہی کہیں بھی ہوسکتا ہے ۔۔۔زاویار کو موردالزام ٹھرانا غلط ہے جب کے وہ دل سے شرمندہ اور معافی کا طالب ہے
نین خاموشی سے سن رہا ہہے سادہ الفاظ ۔۔سادہ لہجہ اثر کر ہا ہے ۔۔سمجھ کا نیادور کھل رہاہے ۔۔شاید پہلے غصے نے عقل سلپ کردی اور اب زرمین کی تڑپ نے عقل پر ضرب دی ۔۔۔۔۔۔
بیٹامعاف کرنا بہت بڑا عمل ہے اللّہ کو معاف کرنے والے بڑے پسند ہیں ۔۔۔تم کو زاویار لو معاف کردینا چاہیے تھا احمر کی موت پر صبر کرنا احمر کی موت میں بہی اللّہ کی مصلحت ہوگی ۔۔۔
بھائ کے زکر پر حسنین آبدیدہ ہوگیا مرنے میں کیا مصلحت ۔۔۔چھوٹا تھا ۔۔احتجاتی لہجہ۔ ۔
قدوسی صاحب مہبمسا مسکرائے ۔۔واقع خضر پڑھا ہے کبھی ۔۔نین نے سر ہلایا ۔۔کچھ یاد ہے کچھ نہیں۔ ۔۔۔۔۔
اسمیں یہی ہے صبر و حکمت ہے۔ ۔حضرت خضر سے صبر کا وعدہ کرکے روانہ ہوئے تو ایک کشتی میں سفر کیا کشتی والوں نے محبت وادب سے سفر کی اجازت دی ۔ ،کنارے پر پہچنے پر حضرت خضر نے کشتی سے دو تختے اسطرح نکالے کے کشتی میں پانی نہ جائے ۔۔۔حضرت موسی نے اعتراض کیا حضرت خضر نے وعدہ یاد دلایا جس پر شرمندہ ہوے سفر پھر شروع کیا رستے میں ایک مکان کے باہر کچھ لڑکے کھیل رہہے تھے آپ نے ایک کو پکڑ کر قتل کیا ۔ حضرت موسی پہر غصہ ہوئے حضرت خضر نے انکو یاد دلایا ۔۔حضرت موسی نے پہر معذرت کی ۔۔اور کہا اگر اب اعتراض کرو تو مجھے سفر سے نکال دینا ۔۔۔
پھر سفر شروع کیا بھوک لگنے لگی ۔۔ایک بستی سے گزرے وہاں کے لوگ مالی لحاظ سے اچھے ہیں ایک جگہ جہاں لوگ جمع تھے کھانے کا بولا لیکن وہاں کے لوگ کنجوس تہے کسی نے بھی خیال نہ کیا وہ ایسی جگہ پہنچے جہاں ایک بوسیدہ دیوار تہی آپ نے اس دیوار کو ٹھیک کیا حضرت موسی نے پہر صبر کا دامن چھوڑدیا اورسوال کر بیٹھے کہ حضرت یہاں کے لوگوں نے مہماننوازی نہ کی آپ نے انکی دیوار بغیر اجرت ٹہیک کردی ۔۔اس تیسرے اعتراض پر حضرت موسی نے خود شرط رکھی تہی کے اب اعتراض کی صورت میں مزید سفر نہیں ہوگا ۔۔توسفر روک گیا مگر حضرت موسی نے ہوے واقعات کے بارے میں پوچھا ۔۔جس کشتی میں سوار تہے وہ دس غریب کی ملکیت تھی جو سب غریب تھے ۔۔جس کنارے پہنچے وہاں ایک ظالم بادشاہ جالندہری کی حکومت تہی اسنے اپنے سپاہیوں کو اچھی کشتی اور کمائ پر قبضہ کر لیا ۔۔اللّہ نے یہ رازحضرت خضر پر منکشف کیا میں نے کشتی کو داغی کردیا تاکے کشتی محفوظ رہے۔۔اور غریبوں کی کمائ اور کشتی محفوظ کی ، جس لڑکے کوقتل کیا وہ کافر تھا اور جوان ہو کر ایسے غلط کام کرتا کہ دوسروں کو اور اپنے مومن ماں باپ کو بہی کافر کردیتا۔ اور اللّہ اسکے والدین جا ایمان قائم رکھنا چاہتا تھا ۔ ۔۔اس لیے قتل کیا ۔۔اور دیوار دو یتیم بچوں کی ملکیت تہی ان کے ماں باپ نے اس دیوار کےنیچے مال دفن کیا بچے بڑے ہوکر لےلیتے۔ ۔اگر دیوار گرتی تو عزیزواقارب لیتے اسلیے مرمت کی۔ ۔اللّہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ نیک کمائ یتم بچوں کے سوا لے اس لیے حکم اللّہ دیوار ٹھیک کی۔ ۔۔۔۔ان تین الگ باتوں میں تین حکمتیں ۔،تین احسان ۔سامنے آئے ۔۔۔۔شاید بڑا ہو کر احمر کسی ایسے مرض میں مبتلا ہوجاتا اور تڑپتا رہتا ۔۔تو تڑپ تم برداشت نہ کر پاتے ۔۔۔یا پھر جس محبت سے تم اس سے کرتے ہو وہ بڑا ہوکر حق ادا نہیں کرپاتا تو تب بہی تکلیف مشکل ہوتی ۔۔یا وہ ملک دشمن بن جاتا غرض کے کچھ بہی ہوسکتا تھا ۔۔۔۔اس لیے اللّہ کے فیصلے پر صبر کرو اور یہ حقیقت یاد رکھو زب کچھ فنا ہوگا صرف اللّہ باقی رہے گا سب کچھ اللّہ کا ہے اور اس کی طرف لوٹ جانا ہے ۔۔ رہی بات زوایار کی تو ہوسکتا ہے اسکی آزمائش کے ساتھ تمہاری بہی آزمائش ہو ۔ ۔۔اللّہ تمہارے معافی کے ظرف کو آزمارہا ہو ۔ ۔
ٹھیک کہا آپ نے ۔۔۔۔لکن میں نے معاف نہیں کیا ۔۔میں نے زبردستی شادی کی اپنا حق وصولہ ۔۔۔بہت ۔ را سلوک کیا اپنی بیوی سے ۔۔
ہائے ربا تم اتنےظالم تو نہیں لگتے ۔۔خاتون بولی
____________
تم بیٹا شکل سے ایسے تو نہیں لگتے خاتون نے برا منہ بنایا ۔۔پھر محبت سے سمجھانے لگی ۔۔۔اللّہ نے عورتوں کو بڑا نرم بنایا ۔۔مرد اپنی محبت سے اسے جو شکل دے وہ ایسے ہی بن جاتی ہے ۔۔۔کیا تمہاری بیوی تمہارا خیال نہیں رکھتی اگر ایسا ہے تواسے یہاں لاو میں سمجھاونگی ۔۔
رکھتی ہے خیال ۔۔میں پھر بہی مارتا ہوں نین نے کرب سے کہا ۔۔۔آنکھ اپنے ہی ظلم پر نم ہوگئ ۔ ۔ ۔ ۔
غلط بات ہے بیٹا ۔۔۔ایسا نہ کرو ۔۔بیٹا تم اپنی بیوی کے دل سے خودکی عزت ختم کرلو گے ۔۔ ۔۔اگر وہ غصہ دلاتی ہے تو تم صبر کرو ۔۔غصہ انسان کی عقل سلپ کردیتا ہے اور اصلی مرد وہ ہی ہے جو غصہ پر قابو پائے ۔۔۔
حسنین سر جھکائے خاتون کو سن رہا تھا ۔۔
سورہ نسا میں اللّہ پاک فرماتا ہے “عورتوں سے اچھا برتاو کرو “۔۔ اگر عورتیں حقیر اور غیر اہم ہوتی تو اللّہ یہ نصیحت نہ کرتا ۔۔۔بےشک شوہر بیوی سے افضل ہوتا ہے مگر اس حد تک کہ وہ بیوی کے ساتھ نانصافی نہ کرے ،اسکے حقوق محبت خلوص اور چاہت کی صورت میں دے ،اسکی خدمات کی قدر کرے ۔۔
اللّہ کے پیارے رسول صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں اچھے لوگ وہ ہیں جو عورتوں کے ساتھ اچھی طرح سے پیش آتے ہیں ۔۔۔۔۔آپ نے یہ بہی فرمایا “جب تم کھاو تو انہیں بہی کھلاو ،خود پہنو تو انہیں بھی پہناو ، انکے چہرے پر مت مارو انہیں برا نہ کہو اگر کوئ ناراضگی والی بات ہوجا ئے تو انہیں گھر سے نہ نکالو ۔۔
واضح لفظوں میں پیارے نبی نے بتایا مگر عقل رکھنے والے اچھی بات پر عمل نہیں کرتے بس اپنی کرتے ہیں ۔۔۔اور ۔۔اماں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خاتون کا ارادہ ابھی اور سمجھانے کا تھا مگر مہناز کی آواز پر جانا پڑا مگر جاتے جاتے قدوس صاحب کو سمجھانے کا اشارا کیا انھوں نے بھی سر ہلا کر اقرار کیا ۔۔۔ قدوس صاحب نے حسنین کو دیکھا جو ان کی بیگم کی بات سن کر سوچ میں مصروف ہوگیا چہرے کے اتار چڑھاو سے اندازہ ہو رہا ہے حسنین پیشمان ہے ۔۔۔
نین تو خاتون کی زبان سے حدیث سن کر احتساب میں پڑ گیا ۔۔نہ تو میں نے اچھا کھلایا نہ پہنایا ۔ چہرے پر تو کِئ بار مارا ۔۔اللّہ اللّہ میں نے بہت ظلم کیا نین سر ہاتھوں میں پکڑ کر رونے لگا ۔۔۔۔۔
بیٹا جو ہوگیا مانا غلط تھا، گزرا وقت واپس لانا مشکل ہے جو کوتاہیاں ہوگئ اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرو ۔۔۔آج ایسا کیا ہوا جو تم کو درست راہ بتا گیا ۔۔۔۔
نین نے انکو آج ہوا زرمین کا رویہ اور شادی کے بعد اس سے روا رکھا رویہ بتایا ۔۔۔اللّہ نے مجھ کو آزمائش میں ڈالا ۔ مگر میں نے کیا کیا ،میں ایک جابر حکمران بن گیا ۔۔وہ روتی رہی اور میرے اندر کا حاکم اس کے رونے پر خوش ہوتا رہا ۔۔۔
قدوس صاحب کو سخت افسوس ہوا زرمین کے ساتھ اس ناانصافی پر ۔۔۔۔۔اللّہ نے تم کو آزمائش میں ڈالا ۔ ۔۔مگر تم نے صبر نہ کیا دل بڑا کرکے زاویار کو معاف کر دیتے ۔ ۔۔ تو آج ایسانہ ہوتا۔۔۔۔۔تم اللّہ سے معافی طلب کرو ۔۔
کیا اللّہ مجھے معاف کردے گا ۔۔۔۔
ہاں ۔۔۔اللّہ بڑا غفور ورحیم ہے ۔۔اس نے کہا ہے میرے بندوں میری رحمت سے ناامید مت ہو ۔۔۔اللّہ معاف کرنے اور معافی کو پسند کرنے والا ہے ۔۔بس شرط اتنی ہے صدقِ دل سے معافی مانگو ۔۔دوبارہ وہ گناہ نہ کرنے سے سچی توبہ کرنا ۔۔۔ اس کے جس بندے سے نا انصافی کی اس سے معافی مانگو ۔۔۔
کیا زرمین مجھے معاف کردےگی ۔۔۔
اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔۔۔اللّہ چاہے تو زرمین کے دل کو موم کردے ۔۔تم کوشش کرو ۔۔ ۔۔اللّہ چاہتا ہے تم اور تمہارا دل خوش رہے جبہی آج زرمین بیٹی کی تڑپ نے تمہارے دل کو بدل دیا ۔۔۔تم نے اللّہ کے کئ بندوں کی مدد کی ۔ ۔۔اور ان بندوں نے خلوص سے تمہاری خوشیوں کی دعائیں کی ہونگی اور خلوص سے مانگی دعا عرش پر قبولیت پاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔
حسنین اسی وقت سجدے میں گرگیا اور اللّہ کے سامنے ندامت کے اشک بہانے لگا ۔۔۔قدوس صاحب نے اسے اکیلا کمرے میں چھوڑ کر باہر آگئے اب ان کا کوئ کام نہ تھا رب اور اسکے بندے کا معملا تھا ۔۔۔رات کے کئ پہر حسنین اپنے گناہوں کا حساب کرتا رہا اور اللّہ سے معافی مانگتا رہا، فجر کے وقت قدوسی صاحب نے نین کو جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی دعوت دی ۔۔ رات بھر جاگنے اور رونے سے نین کی آنکھیں اور چہرہ سوج گیا تھا نماز فجر کے بعد نین نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا ئے ۔۔۔یااللہ تو بہت غفور رحیم ہے میں غفلت میں پڑا ہوا تھا اپنی جان پر ظلم کیا تیری بندی کوستا کر تیرے حکم کی نافرمانی کی ۔۔یارحمان مجھے معاف کر دے مجھے معاف کر دے مجھے سچی توبہ نصیب کر دے ۔۔۔مجھے تیری بندی سے معافی مانگنےکی ہمت دے، رب میں زرمین سے معافی مانگو تو اسکے دل کو میرے حق میں نرم کردے ۔۔اے کریم رب کرم کردے ۔۔۔اپنے پیارے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے میں اللہ مجھے معاف کردے آمین ۔۔۔۔۔
نماز پڑھ کر حسنین نے گھر جانا چاہا لیکن قدوس صاحب ناشتے کے لیے لےگئے ۔۔
تم نے مجھے کل زرمین کا رویہ بتایا تھا اسے دیکھ کر لگ رہا ہے کہ اسے عادت ہوگئی اور عادت بڑی جان لیوا ہوتی ہے ۔۔۔وہ پاگل نہیں ہوئ بس عادی ہوگئی ہے اور عادتیں ایک دم سے ختم نہیں ہوتی، تم آہستہ آہستہ اپنا رویہ ٹھیک کرو ،یوں تو معافی مانگنے میں جلدی کر نی چاہیے کیوں کے زندگی کا کوئ بھروسہ نہیں ہوتا مگر پہلے اس کی ذہنی حالت تھوڑی بہتر ہوجائے پھر مانگنا ۔۔۔جب تک تمہارے اندر بھی معافی مانگنے کی ہمت بھی آجائے گی ۔۔۔زیادہ وقت نہیں لینا۔۔ اور اسے میری بیگم سے ملانے لانا ۔۔۔
جی اب میں چلتا ہو۔۔۔۔اللّہ حافظ ۔ ۔
________________________________________________
گھر پہنچنے پر شائستہ نے حسنین کو زرمین کی طبیعت خرابی اور ڈاکٹر زویا کی ہدایت دی ۔۔
ہممم۔ ۔شائستہ زرمین سے تھوڑا کام کروائے زیادہ نہیں اسے خود کام کا کہےاس کے کرنے سے پہلے ،اس طرح وہ زیادہ کام کرنے کی ضد نہیں کرے گی ٹھیک ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جی سائیں۔ ۔۔
بخش کو فون کرکے بلایا ۔۔بخش نجمہ کوچھوڑ دو اس کی ٹریٹمنٹ کرواؤ ۔۔اور اس کے اکاؤنٹ میں مناسب رقم ڈالوں اور چیک بک اس کے حوالے کردو ۔۔۔۔
جی سائیں اور سائیں پروین کی بیٹی کی شادی کر دی اور اس کو اور اس کے شوہر کو سب سمجھا دیا ۔
ٹھیک ہے ۔۔۔
۔۔تھکے تھکے قدموں سے روم کی جانب بڑھا ۔۔۔بیڈ کے پاس زرمین کے سرہانے بیٹھا اور زرمین کے چہرے کو تکنے لگا ۔۔۔پہلے چہرے پر گلابیاں کھلتی تہیں اب زردی گھلی ہوئ ۔۔۔یہ پنکھڑیوں جیسے لب ہمہ وقت مسکراتے تھے اب مسکراہٹ کیا ہوتی ہے شاید بھول گئے ۔۔۔یہ الجھی زلفیں کبھی لہراتی تہی بےرونق ہوگئ ۔۔تمہاری خوبصورتی کھا گیا میں ۔۔تمہاری شوخی ختم کردی ۔۔۔تمہارا خوبصورت دل دکھایا میں نے۔ ۔۔بہت گناہگار ہوں تمہارا ۔۔۔پلز اپنے نین کو معاف کردوں ۔۔۔ایک بار پھر نین کی آنکھیں نم ہوگئ ۔۔۔
دوائیوں کے نشے میں سوتی ہوئی زمین کو پتہ ہی نہیں کہ پتھر موم ہو گیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہوش میں آنے پر زرمین نے دیکھا حسنین اسکے برابر میں سو رہا وہ جلدی سے اٹھ کر زمین پر لیٹنا چاہا مگر تیزی کے سبب چکر آ گئے اور وہ واپس بیڈ پر لیٹ گئ
زرمین کے تیزی سے اٹھنے اور لیٹنے کے عمل کو نین نے باغور دیکھا ۔۔ہونٹ بھینچ لیے ۔۔قدوسی صاحب کی بات یاد آئ آہستہ سے عادت بدلنی ہے ۔۔۔کیا ہو ۔۔۔
کچھ نہیں انداز میں بے حد نقاہت تہی ۔۔
آج سے بیڈ پر ہی لیٹنا ۔۔۔ڈاکٹر زویا نے بولا ہے کمزوری بہت ہے ۔۔اس لیے صرف ایک ہفتے کے لیے اپنا بیڈ دے رہا ہوں زمین پر اٹھنے بیھٹنے سے چکر آسکتے ہیں آگئ سمجھ ، ۔۔غصیلہ لہجہ رکھا ۔۔۔۔۔
جی سائیں ۔ ۔
انٹر کام کی مدد سے زرمین کے لیے ناشتہ منگوایا ۔۔ کھاو ناشتہ اور یہ پورا کھانا ۔۔میں حرام نہیں کماتا کہ تم بچا کر ضائع کرو ۔۔لہجہ بدستور غصیلہ رکھا ۔۔۔حسنین غیر محسوس طریقے سے باتیں سناتے ہوئے بریڈ پر مکھن لگانے لگا ۔۔۔اور خود ہی اٹھا اٹھا کر دینے لگا ۔۔۔
بس مجھ سے اور نہیں کھایا جائے گا ۔۔۔یہ ضائع نہیں ہوگا میں تھوڑی دیر بعد کھا لونگی ۔۔
اوکے ۔۔تم آج کا دن آرام کرو تاکہ کل سے کام کرسکو ۔۔
جی ساِئیں ۔۔۔۔
سائیں سن کر نین کا دل چاہا اسے ٹوک دے مجھے نین بولو لیکن رک گیا پھر کبھی کا سوچ کر ۔۔۔
________________________________________________ جلدی کرو فاریہ ۔۔۔باقی شوپنگ پھر کر لیں گے ۔۔دیر ہوجائے گی تو چاچی باتیں سنائیں گی ۔۔۔علیزہ نے کوفت سے کہا ۔۔
آپی بس جیولری شاپ سے بریسلٹ لے لوں پھر چلتے ہیں ۔۔
تمہارے پاس اتنی شاپنگ کے پیسے کہاں سے آئے ۔۔۔اور چاچی۔ ۔ کی نگا ہ سے بچ کیسے گئے ۔۔علیزہ نے تفتیش کی۔ ۔۔
آپی میں نے مریم کے سوٹ پر دبکے کا کام کیا تھا اس کی بھابھی کو اچھا لگا تو انہوں نے دو سوٹ دیے جو میں روز یونی میں فری پریڈ میں کاڑھتی رہتی تہی اسی کے دو ہزار اور آپ نے دیے تھے وہی ہیں اور چاچی سے ایسے بچے کے میں نے اس سے آج ہی لیے ہیں ۔۔مزے سے جواب دیا ۔۔۔
شاباش اب یونی میں یہ بہی ہوا کرے گا ۔۔۔۔۔۔دونوں ہسننے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپی پیزا کھانا ہے پلیز کھلادو ۔۔۔
اچھا چلو ۔۔ایک سمال پیک کروالینا ۔۔۔
کوئ نہیں یہی بیٹھ کر کھائیں گے گھر پر تو سب ہی کھا لیں گے ۔۔میرے پاس تھوڑے پیسےبچے ہیں لارج لیں گے ۔۔۔
اچھابابا چلو۔ ۔۔
پیزا ہٹ سے باہر نکل رہی تہیں اور علیزہ کی ٹکر سامنے سے آتے بندے سےہوئ دیکھے بغیر سر سہلاتے ہوئے ۔۔۔اف۔ ۔۔سر بجا ڈالا اندھوں کی طرح چلنا ضروری ہے ۔۔۔سوری منس میں زرا جلدی میں تھا ۔۔۔۔۔
سر آپ ۔۔گڈ ایوننگ ۔۔سوری سر میں غلطی سے ٹکرا گئ ۔۔فاریہ نے حیرت سے دیکھا ۔۔۔ابھی باتیں سنائ اور اب الزام اپنے اوپر ہی لے لیا ۔۔۔
سر یہ میری چھوٹی بہن فاریہ پے اور فاریہ یہ میرے باس ۔۔اوہو آپی کے باس ہیں جبہی اپنا بیان چینج کیا۔۔۔۔۔۔اسلام علیکم ۔۔۔۔
وعلیکم سلام ۔۔۔مسکرا کر کہا میں زرا جلدی میں ہوں پھر ملتے ہیں ۔۔۔
جی سر ۔۔۔۔۔۔
اور فاریہ تو سر کی مسکراہٹ میں ہی گم ہوگئ ۔۔۔دل نے کہا جیون ساتھی ہو تو ایسا ہو ۔۔فاریہ نے دل کی صدا پر لبیک کہہ دیا.
نین کے جانے بعد زرمین کو بھی گزری رات یاد آئ ۔۔وہ خود بھی اپنے طرز عمل سے گھبرا گئ ۔۔۔ ۔ یااللّہ خیر کر ۔۔۔مجھے لگ رہا ہے میں نفسیاتی ہورہی ہوں ۔۔۔اے میرے رب مجھے پاگل بننے سے بچا لے ۔۔لوگ میرے بچوں کو طعنے دیں گے اور نین میرے مرنے کے بعد بھی مجھے برا کہے گا ۔۔۔۔اللّہ کرم کردے روتے روتے دعا کرتی سو گئ ۔
وقت کاکام گزرنا ہے اور وہ گزر رہا ہے ۔۔۔نین ایک بار پھر زرمین کی محبت میں ڈوب گیا ۔۔وہ آہستہ اور غیر محسوس انداز میں زرمین کا خیال رکھ رہا یے اس کی عادتیں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے ۔۔۔۔
۔۔۔۔ زرمین نے اس دن کے بعد دوبارہ کوئ حرکت نہ کی ۔زرمین نے ٹھیک ہونے کے بعد اماں سے باتیں کی ۔۔اماں نے زرمین کو کافی سمجھایا ۔۔صبر کا پہر درس دیا اور مصروف رہنے کے لیے مختلف ایسے کام بتاے جس سے تھکن نہ ہو مصروفیت بھی رہے ۔ان کامںوں میں سر فہرست قرآن پاک کا ترجمہ اور تفسیر ہے ۔۔۔۔شائستہ ہلکا پلکا کام دینے لگی اور زرمین کاوقت اچھے سے گزر رہا ہے قرآن پڑھنے کے سبب بے چینی کافی حد تک ختم ہوئ ۔۔۔ ۔ ۔
آج صبح سے ہی زرمین کے سر میں درد ہے ۔۔ وہ ہلکے ہلکے ہاتھوں سے خود ہی سر دبا رہیہے مگر فائدہ نہیں ہورہا ۔۔نین کی روم میں آمد ہوئ ۔۔۔زرمین کو روم میں کسی کا احساس ہوا آنکھ کھول کر دیکھا تو نین واچ اتار کر ٹیبل پر رکھ رہا ہے ۔۔سلام سائیں ۔
نین نے سر ہلایا۔ ۔۔
زرمین کافی لانے کے لیے اٹھنے لگی تو نین نےمنع کردیا ۔۔رہنے دو تم کافی اچھی نہیں بناتی ۔۔نئ میڈ جو آئ ہے وہ کافی اچھی بناتی ہے آج سے وہی بنائے گی ۔۔اور فریش ہوکر کافی پی کر زرمین سے بولا میرے سر میں درد ہے سر دباو ۔ زرمین نے مرے مرے ہاتھوں سے سر دبانا شروع کردیا ۔دو منٹ بعد ہی نین نے کہا ۔۔ہاتھوں میں جان نہیں ہے ۔۔۔یا سر دبانا نہیں آتا ۔،لیٹو یہاں میں بتاتا ہو ں سر کیسے دباتے ہیں ۔۔۔۔نین نے سر دبا نا شروع کیا زرمین کو سکون کا احساس ہوا اور کچھ دیر میں ہی زرمین نیند کی وادی میں چلی گئ،نین کے سر دبانے سے اس کے سر کو سکون ملا اسے خیال ہی نہ رہا کہ نین اسے سر دبانا سیکھا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔
اور نین تو چاہتا ہی یہی تھا اس نے کمرے میں آکر زرمین کو سر دباتے دیکھ ہی لیا تھا اسلیے کافی بھی نہیں منگوائ تہی۔ ۔۔
زرمین کے سونے کے بعد حسنین نے عشاء کی نماز ادا کرکے رب کے دربار میں معافی کی عرضی لگائ ۔۔
دن پر دن گزر رہے تھے زرمین کی پریگنسی کو ساڑھے پانچ ماہ ہوگئے ۔۔ نین نے ابھی تک حویلی میں کسی کو نہیں بتایا ۔۔۔نین کی سمجھ نہیں آیا زرمین سے کیسے معافی مانگے ۔۔۔اسی ادھیڑبن میں مبتلا دن گزر رہے ہیں ۔۔اور پھر موقع مل ہی گیا ۔۔۔
،_______________________________________________
حسنین آفیس میں مصروف تھا جب علی کی کال آئ ۔۔بھائ مبارک ہو آپ تایا بن گئے ۔۔
خیر مبارک یار ۔۔یہ تو بتا بیٹا ہے بیٹی ۔۔
بیٹا ہے ۔۔بھائ جلدی آنا شہد میں آپ سے ہی چٹواوں گا ۔۔۔اور زرمین کو بھی لانا ۔۔۔
ہاں یار بس زرمین کو لیکر میں آتا ہوں میرے انتظار میں میرے شہزادے پر ظلم نہیں کر دادی جان سے شہد چٹواو ۔۔
اوکے اوکے مگر آپ جلدی آو ۔۔
علیزہ میں گاوں جارہا ہوں دو دن بعد آونگا ۔۔۔کوئ میٹنگ ہو تو اسفند کو بتا دینا ۔۔اور اس ماہ سب ورکز کو بونس دیا جائے ۔۔۔۔۔
بونس کا سن کر علیزہ خوش ھوگئ ۔۔۔سر ابھی تو عید میں وقت ہے ۔۔
میرے بھائ آج پاپا بنا ہے اور میں تایا اس خوشی میں ۔۔۔
کونگریجولیشن سر ۔۔
تھینکس ۔۔۔
۔۔۔۔۔ گھر جا کر شائستہ کو بھی بونس کا کہا اور زرمین کا پوچھنے پر شائستہ نے بتایا کی بیبی نماز روم میں ہیں ۔۔
میرے لیے بھی دعا کرو ۔۔زرمین کو زاروقطار روتے۔ ۔رب کے سامنے دعا کےلیے ہاتھ پھیلائے دیکھ نین نے بھی گزارش کی ۔۔زرمین نے چونک کر دیکھا ،جلدی سے آنسو صاف کیے ۔۔اور اپنی صفائ پیش کی میں بدعا نہیں کررہی تھیں ۔۔ جانتا ہوں ۔۔تم بہت اچھی ہو۔ ۔۔
جی ۔۔حیرانگی سے زرمین کی آنکھیں ہی بڑی ہوگئ ۔۔۔آپ کی طبیعت ٹھیک ہے ۔۔۔۔
نین دھیرے سے ہنس دیا ہاں ۔۔مبارک ہو تم تائ بن گئ ۔۔ اور حویلی چلنے کی تیاری کرو ۔۔۔یہ کہہ کر روم کی جانب بڑھا ۔۔
زرمین کو بھی بچے کا سن کر بہت خوشی ہوئ ۔۔۔۔۔۔
تمہارے پاس ڈھنگ کے کپڑے نہیں ہیں ۔۔نین نے پیکنگ کرتی زرمین سے پوچھا ۔۔۔
یہ لاسٹ ویک آپ ہی تو لائے تھے ۔۔۔
ہاں تو گھر میں پہننے کے لیے بہتر باہر تھوڑی ۔۔یہ سب رہنے دو راستے میں مال پڑے گا وہیں سے لےدونگا ۔۔۔۔۔
مال میں نہ صرف زرمین کے لیے بلکے علی کے بیٹے کی بھی شاپنگ کی ۔۔۔علی کے بچے کی شوپنگ کرتے حسنین کو خیال آیا کہ ابھی تک اس نے اپنے جگر گوشوں کے لیے کچھ نہیں لیا پھر سوچ کر مسکرادیا واپسی پر زرمین کے ساتھ مل کر لونگا ۔۔۔۔۔قسمت مسکرادی کہ واپسی پر ساتھ ہونگے یا نہیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔حویلی کے گیٹ کے سامنے پہنچے ہی تھے کہ سفید حویلی سے بھی اسی وقت جلال شاہ واک کے لیے نکلے ۔۔۔حسنین نے اتر کر سلام کیا اور زرمین نم آنکھوں سے دادا جی کو دیکھنے لگی کان ترس گئے لاڈو ۔۔چندا سننے کو ۔۔۔ہمت کرکے گاڑی سے اتری ۔۔اسلام علیکم دادا جان ۔۔۔
دادا نے چونک کر دیکھا ۔۔دل میں زرمین کی صحت دیکھ کر ماشاء اللّہ کہا ۔۔نظریں ملائے بغیر سلام کیا اور منہ موڑ کر آگے بڑھ گئے ۔۔۔
زرمین سسک کر رو پڑی ۔۔۔
نین نے سنبھالا۔۔۔زرمین کو لیکر اندر حویلی کی طرف بڑھا ۔۔۔
لاونج میں بیھٹی دادی کو جوش وخروش سے سلام کیا ۔۔۔
جیتے رہو بیٹا ۔۔۔دادی کو آج نین کے انداز اور شکل سے عرصے بعد خوشی دیکھ کر اطمینان ہوا دیر تک گلے لگائے رکھا ۔ ۔
کمال شاہ بھی کہنے لگے بھئ مجھے بھی ملنے دو میں انتظار کررہا ہوں ۔۔
ہاں ہاں ضرور دادی کی نظر زرمین پر پڑی۔۔زرنین بھی آئ ہے
زرمین دادی کے گلے لگنے لگی
رکو ۔ ۔
دادا سے بغلگیر ہوتے نین نے چونک کر دیکھا دادی زرمین کو گلے لگنے سے منع کیوں کر رہی ہے ۔۔۔زرمین کا چہرہ پھیکا پڑا ۔۔
دادی آگے بڑھی اور نین کو گھورا اور پھر نین کے کان پکڑے ۔۔غصے سے بولی مجھے کیوں نہیں بتایا ۔۔آواز بھراگئ اپنی دادی کو اس قابل نہیں سمجھا اپنی خوشی بتاتے ۔۔۔نین اور زرمین کی اب سمجھ آگیا ۔۔۔ٹوئن ببیز کی وجہ اور نین کے خیال سے زرمین کا سراپا نمایاں ہورہا تھا ۔۔
اوہ سوری دادی میں تو سرپرائز دینا چاہتا تھا ۔۔۔
سر پرائز کے بچے ابھی بھی کیوں لایا جب تیرےابچہ آجاتا بڑا ہوجاتا تب دیتا سر پرائز ۔۔
نین ہنس دیا جبکہ زرمین شرما دی ۔ ۔
آ میری بچی ۔۔ دادی نے زرمین کو چوما گلے لگایا ۔ خوب دعائیں دی ۔۔صدقے کے بکرے منگوائے ۔ ۔ ۔
علی بھی خوش ہوا اور ناراض بھی غصے سے اس نے اپنے بیٹے اور حنا کے کمرے کے باہر لوک لگا دیا ۔ ۔
یار دیکھنے دے ۔۔۔
نہیں بالکل نہیں ۔۔میں نے آپ سے سب سے پہلے یہ خوشی شیئر کی پپا کو بھی بعد میں بتایا اور ابھی بھی آپ کو پہلے بتایا ۔۔ اب آپ کی سزا ہے کل دیکھاونگا ۔۔پہلے پپا دیکھیں گے اس کے بعد ۔۔۔۔
یار غلطی ہوگئ نیکسٹ ٹائم زرمین کو کہونگا پہلے تمہیں بتائے پہر مجھے ۔۔۔
ہاں ہونا بھی یہی چاہیے ۔۔۔۔
چل اب جلدی دکھا دے زیادہ نہ اترا ۔ ۔ ۔ دونوں بھائیوں کو بحث میں الجھے دیکھ کر معملہ نبٹانے زرمین بول پڑی ۔۔
سوری علی بھائ سر پرائز دینے چاہا اور مجھے تو اندر جانے دیں میں تھک گئ ۔۔۔۔
ناراض تو میں تم سے بھی ہوں لیکن چاچو بننے کی خوشی میں آپ کو روم میں جانے کی اجازت ہے ۔۔۔
نین نے شرارت سے کہا یہ چاچو تم کو اس نے اکیلے بنایا ہے اسمیں میرا بھی کام ہے ۔۔
علی کے سامنے زرمین، نین کی بات سن کر سٹپٹا گی اور شرم سے لال ہوگئ ۔۔۔
علی بھی ہنس دیا ۔۔۔لیکن تھوڑا روم کا دروازہ کھولا نین نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور علی کو دھکا دیتا اندر چلا گیا ۔ ۔
بھائ یہ چیٹنگ ہےعلی نے دہائ دی ۔۔
حنا اور ماہرہ روم سے باہر کی آواز سنتے کب سے اندر بے چینی سے زرمین کی منتظر تہی ۔۔
مبارک ہو مجھے پھوپو اور خالہ بنانے کی ماہرہ چہکی ۔ ۔ زرمین مسکرائ ۔ ۔
زرمین نے حنا کو اور حنا نے زرمین کو مبارک دی ۔۔
ماشا ءاللّہ ۔۔یہ تو بالکل احمر جیسا ہے نین کی آنکھیں نم اور لہجہ اداس ہوگیا کمرے موجود سب ہی کو احمر کی یاد نے افسردہ کر دیا ۔ ۔علی نے خاموشی توڑی ۔۔بھائ اس کا نام آپ رکھیں گے ۔۔۔
نہیں میں نہیں ۔۔۔بلکہ زرمین رکھے گی ۔۔۔۔
میں ۔۔حیرانگی اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سے تائید چاہی ۔۔۔
ہاں تم ۔۔۔حنا کو اعتراض تو نہیں ۔۔نین نے پوچھا ۔۔
نہیں بھائ ۔۔۔
میں اسکا نام فارس رکھونگی ۔۔حنا نے خوشی سے کہا ۔۔۔
سب مسکرا دیے ۔۔علی بولا یہ تو تمہارے بارہ بچوں میں سے ایک کا نام ہے ۔۔۔۔۔
پل بھر کو زرمین کا چہرہ پیھکاپڑا ۔۔۔اور یہ پھیکا پن نین نے بغور دیکھا ۔ اور سمجھا کہ زرمین کو سفید حویلی والے یاد آگئے ۔۔
بھائ آپ لوگ آرام کرلیں تھک گئے ہونگے ۔۔
حسنین نے کہا چلو زرمین ۔۔۔۔زرمین کا ابھی دل تھا ماہرہ سے بات کرنے کا مگر حسنین کہنے پر چلدی ۔۔۔
تم جاو روم میں دادا سے بات کرکے آتا ہوں ۔۔۔
دادا جی سفید حویلی سے فارس کو دیکھنے آئے ۔۔
کون فارس ۔۔۔
علی کے بیٹے کا نام ۔۔ ۔۔۔۔
اچھا بہت پیارا نام ہے ۔۔۔۔۔دادا جی کو پتہ ہوتا کس سے متاثر ہو کر رکھا ہے تو وہ یہ دو نمبر نام نہ رکھنے دیتے انکو تو بھولے لوگ ہی پسند ہیں ۔۔۔
نہیں حویلی تو نہیں سب ہوسپٹل آئے تھے آپ کل دوپہر کے کھانے کی دعوت دیں اور اسرار کرنا کہ سب کے سب آئیں ۔ ۔خاص کر ارحم میں اپنا دوست پھر واپس چاہتا ہوں ۔۔چاہتا ہوں زرمین سب سے ملے دلوں سے ناراضگی ختم ہو ۔۔۔
بہت اچھی بات ہے اور ایسی حالت میں زرمین پر بوجھ بھی نہ پڑے ۔۔۔میں ابھی خود جا کر دعوت دونگا ۔۔
حسنین روم میں آیا تو زرمین فریش ہوکر باتھ روم سے باہر آئ نکھرا نکھرا روپ نین کے دل کو لبھارہا ہے ۔۔نین نے دل کو ڈپٹا اور خود بھی فریش ہونے چلا گیا ۔۔۔
زرمین بیڈ پر سونے لیٹ گئ ۔۔۔نین بھی آکر لیٹ گیا ۔۔۔اور آنکھیں موندیں زرمین کو دیکھنے لگا ۔۔کوشش کروں گا کل تمہارے اپنوں کو تم سے ملا کر معافی مانگوں ۔۔۔۔نین کو کل سچ سن کر سفید حویلی کے لوگوں کے رویے کی بھی فکر ہوئ ۔۔۔اگر ان سب نے زرمین کو لیجانا چاہا تو نہیں نہیں میں ہرگز زرمین کو جانے نہیں دونگا ۔۔خوفناک سوچوں سے بچنے کے لیے نین نے زرمین کو کھینچ کر خود میں بھینچ لیا ۔۔۔پلز زرمین دور نہ جانا ۔۔۔نین کی سرگوشی ابھری ۔۔۔
زرمین اس افتاد پر گھبراگئ مگر نین کی مدہم سرگوشی سے اس کی طرف دیکھنا چاہا مگر نین نے اس کی آنکھوں کو چوم لیا ۔ ۔۔۔شدت تھکن محسوس ہوتے ہوے بھی اس وقت نین کے جذبات کو روکنا زرمین کے لیے ناممکن تھا اور اور آج تو نین کا انداز بھی جدا ہے ۔۔۔۔
لال حویلی میں صبح کا خوشگوار انداز ہوا ۔۔۔آج تو ویسے بھی دلوں سے ناراضگی ختم ہونی ہے دن بھی مسرور سا ہے۔ ۔۔
آج کوئ خاص بات ہے جو کچن میں اتنی ہلچل ہے مما۔ ۔ماہرہ بولی۔ ۔
ہاں بیٹا آج سفید حویلی والوں کی دعوت ہے ۔۔
سچی مما ۔۔کتنے مہینوں بعد سب مل بیٹھ کے کھائیں گے ۔۔۔
ممامسکرا دی ۔۔_______________________________________________ میں نہیں جاوں گا ۔۔ارحم نے برہمی سے بولا ۔۔۔
کمال شاہ چچا خود کہنے آئے تھے بیٹا ۔۔۔تمہارا خاص بولا ہے ۔بیٹا نہیں جاوگے تو دونوں دادا کو برا لگے ۔فرازنہ بے چارگی سے بولی ۔۔۔۔۔ٹھیک ہے امی لیکن صرف تھوڑی دیر بیٹھونگا ۔۔۔
شکر کا سانس بھرتی بولی صحیح ۔۔۔
سارے ہی تقریباً زرمین سے ملنا چاہ رہے تھے مگر اظہار کسی نے نہ کیا صرف دادی اور ارحم کو زبردستی راضی کرنا پڑا زاویار حیررآباد میں تھا۔۔۔
زرمین نے اپنوں کو آتے دیکھا تو رونا آگیا مگر برداشت کیا ۔۔۔
سلام کے لیے سر حسن صاحب کے آگے کیا اسلام علیکم چچا نہیں بابا ، زرمین کے رشتے سے تو بابا لگے ۔۔زرمین نے جھکا سر اٹھایا ۔۔نین کیا کرنا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔
اور ارحم تم کیسے ہو ۔۔یار مجھ سے سارے رابطے ختم کر لیے ۔۔
ارحم نے گھورا ۔۔۔کچھ نہ کہا ۔۔۔۔
زرمین کو بھی احساس تھا کہ سب سے زیادہ زیادتی ارحم کے ساتھ ہوئ ہے ۔۔۔اس نے ارحم سے معافی مانگی ۔۔مجھے معاف کردو ۔۔
معاف کردوں ۔۔تم کو مجھ سے نکاح نہیں کرنا تھا تو اسی وقت منع کردیتی جب دادا نے بتایا تھا ،میری بے عزتی بھرے مجمعے میں کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔۔کبھی معاف نہیں کرونگا ۔۔۔۔ارحم اٹھ کر جانے لگا تو نین نے ہاتھ پکڑ کر روک لیا ۔۔۔چھوڑو مجھے تم اگر لندن سے نہ آتے تو زرمین مجھ سے نکاح کر لیتی ۔۔نین کودھکا دےکر جانے لگا ۔۔
میں آتا یا نہیں آتا نکاح نہیں ہوسکتا تھا اب کی بار نین کے لہجے میں بھی غصہ آگیا ۔۔۔
سب افراد نین اور ارحم کو دیکھ رہے تھے جبکہ زرمین سسکیوں کہ ساتھ رو رہی تہی ۔۔۔
کیوں نہیں کرتی ۔۔۔۔۔تم موجود نہ ہوتے تو مجھ سے ہی کرلیتی ۔۔ ۔۔۔
کیسے کرتی نکاح ہاں ۔۔نکاح پر نکاح کیسے کرسکتی تھی ۔۔۔ ۔۔۔۔نین نے غصے سے چلاتے انکشاف کیا۔ ۔۔
کیا جلال شاہ کمال شاہ کی تو چیخ ہی نکل گئ اور باقی سب پر حیرت کا سکتہ پڑگیا۔ ۔
__________
حسنین کی بات پر لاونج میں سناٹا چھا گیا ۔۔۔کمال شاہ نے پوچھا کیا مطلب نین ۔۔۔ ۔۔
جرگے کی رات دادا جی جب آپ سے جرگہ نہ کرنے کا وعدہ کیا تب زرمین میرے پاس آئ تہی اور۔ ۔۔۔۔نین نے بتانا شروع کیا ۔۔۔
زرمین کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ نین سب کے سامنے یہ راز کھول دےگا ۔۔۔اسے وہ رات پھر یاد آئ ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔شنو کے بتانے پر زاویار کی زندگی کی بھیک مانگنے وہ دونوں حویلی کے لوگوں سے بچ کر نین کے روم میں گئ جہا ں نین دادا سے جرگہ نہ کرنے کا وعدہ کرکے غم وغصہ سے ٹہل رہا تھا ۔۔۔زرمین کو روم میں دیکتھے ہی دھاڑا تمہاری جرات کیسے ہوئ یہاں آنے کی ۔۔۔میرا بس چلے ابھی کہ ابھی جان سے مار دو ۔۔۔
پلیز حسنین بھائ میرے بھائ کو معاف کر دیں کل جرگہ نہ کریں۔ ۔۔ آپ کے احمر جیسا ہے ۔۔
نہیں ہے میرے احمر جیسا ۔۔۔میرا احمر مقتول اور تمہارا بھائ قاتل ہے ۔۔۔ہاں کل تمہارا بھائ مقتول ہوجائے تو پھر احمر جیسا ہوگا ۔ برابر برابر ٹھیک ۔۔۔
نہیں یہ ظلم نہ کریں میرا بھائ اکلوتا ہے ۔مت کریں ۔۔معاف کردیں ۔۔زرمین نین کے قدموں میں روتے بیٹھ گئ ۔ اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر بولی معافی دیں دے ۔۔یا مجھے سزا دیں دے کار کی چابی میں ہی تو لائ تہیں ۔۔۔
نین نے۔زرمین کو اپنے قدموں میں بیٹھے دیکھا دل کو ایک پل تکلیف ہوئ ۔۔مگر ذہن نے فورا زرمین کا اعتراف جرم بتایا ۔۔۔ہممم۔۔۔تم کو سزا ۔۔ٹھیک ہے تم کو ہی سزا ملے گی ۔۔۔۔۔۔
زرمین کو زاویار کی طرف سے اطمینان ہوا ۔۔
ٹھیک ہے کل جرگہ نہیں ہوگا جان بخشی کردی تمہارے بھائ کی ۔۔مگر اب سزا تم ہی پاوں گی ۔۔کل دوپہر میں مجھ سے نکاح کرنا ہوگا ۔۔۔
نکاح زرمین کی دل کی کلی اکدم کھلی ۔۔ہاں تو آپ دادا جی سے میری بات کریں ۔۔۔
کیوں کروں ۔۔۔
