92.7K
6

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

صبح کے پانچ بجے آنکھ کھلنے پر کھنک نے کُچھ دیر چھت کو گھورنے کے بعد گردن موڈ کر احد کی طرف دیکھا
جسکی سانسیں ابھی تک اسکی گردن کو چھو رہی تھی
اسکی گردن پر ہاتھ رکھ کر ہلکا سا اسکی طرف جھکتے ہوئے اس نے احد کے کان میں سرگوشی کی
اٹھ جائیں اُسکے جگانے پر احد نے اسکی کمر پر گرفت مضبوط کرتے ہوئے قریب کیا
اور ایک بار پھر اپنے لب اسکی گردن پر رکھے
کیوں کیا تم نے اپنے ساتھ ایسا
جانتی تھی نا تم
بہت پیار کرتا ہوں تم سے نہی روک پاؤں گا خود کو تمہارے قریب آنے سے
لیکن تم پھر بھی میرے پاس آئی
اب میں شاید سکون سے مر بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس بہت ہو گیا مریں گے اب آپکے دشمن
آپکو آج جنگل میں جانا ہے آج آپکا برتھ ڈے ہے
آج آپ پچیس سال کے ہو گئے ہیں
اور آج ہی گلناز آپکی بلی دے گی
آپ کو جانا چاہیے آپ فکر نہ کریں میں اور بابا سب سنبھال لیں گے
اور ہاں یہ دھاگہ اپنے ہاتھ پر باندھ لیں
اس سے آپ پر اُسکا کوئی جادو نہی چلے گا
اور آپ اسکی ہر حرکت پر نظر رکھ سکو گے
اور یہ بلیو ٹوتھ اپنے پاس رکھیں
وہ ستر سال پرانی چڑیل کو کیا پتہ کہ یہ بلیو ٹوتھ ہوتی کیا ہے
ہنستے ہوئے اس نے احد کی ٹینشن کو تھوڑا کم کرنا چاہا
سنو اگر ویسا نہ ہوا جیسا ہم نے سوچا ہے تو
آپ ایسا کیوں سوچ رہے ہیں کہ ہم ہار جائیں گے
جبکہ ہم برائ کو ختم کرنے جا رہے ہیں
اور ویسے بھی آپ اس کو بھی اسکول کے ایک پلے کی طرح لیں
اور وہاں بھی جیسے ہمیشہ جیت آپکا مقدر ہوتی تھی
انشاءاللہ آج بھی جیت آپکا مقدّر ھی ھو گی
چلیں پہلے نماز پڑھ لیں
پھر چلتے ہیں آج یہ قصہ تمام کرنے
ٹھیک ہے چلو
بیڈ سے ٹانگیں نیچے لٹکاتے ہوئے اس نے اپنی شرٹ اٹھائی
💖💖💖💖
گلناز دروازہ کھولو
احد اسی محل کے سامنے کھڑا ہو کر چیخا
جہاں شاید وہ پہلے بھی آ چکا تھا
آ جاؤ اندر
ایک بھیانک آواز اس ویرانے کی خاموشی کو چیرتے ہوئے اس کے کانوں سے ٹکرائی
دھڑکتے دل سے اس نے بلیو ٹوتھ کو ایک بار پھر انگلی سے ٹھیک کیا
اور قدم اس ویران کھنڈر کے اندر رکھے
اسکے اندر قدم رکھتے ہی ہر طرف ہنسی کی آوازیں گونج اٹھی
میں جیت گئی
ایک کمرے سے گلناز کے ہنسنے کی آواز آئی
احد نے اپنے قدم اسی کمرے کی طرف بڑھا دیئے جہاں سے وہ آواز آ رہی تھی
جیسے ہی احد نے اس کمرے میں قدم رکھا اسکا سانس کہیں سینے میں ہی اٹک گیا
وہاں چھ لوگوں کے مردہ وجود الگ الگ جگہ پر لٹک رہے تھے
شاید یہ وہی چھ لوگ ہیں جنکی مجھ سے پہلے اس نے بلی چڑھائی ہے
اپنے اصلی روپ میں گلناز نے اسکی طرف دیکھا
کیا ہوا میرے راجا کہیں تمہیں ان سے ڈر تو نہی لگ رہا
نن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہی تو
احد نے خود کے ڈر پر قابو پاتے ہوئے کہا
ہاہاہاہا
ڈرنا بھی مت اب یہی تمھاری دنیا ہے
اب دوپہر کے بارہ بجتے ہی تم بھی ان ھی میں شامل ہو جاؤ گے
لیٹو اس تخت پر
احد کو حکم دیتے ہوئے وہ خود خون کے چھ پیالوں کے پاس آ کر بیٹھ گئی
اسکے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے احد اس تخت پر لیٹ گیا
اور ایک ہلکی سی آنکھ کھول کر گلناز کی ہر حرکت پر نظر رکھنے لگا
احد تم ٹھیک تو ہو نہ
بلیو ٹوتھ میں سے کھنک کی آواز ابھری
ہلکا سا کھنکار کر احد نے اسے اپنے ٹھیک ہونے کا سگنل دیا
سات پیالوں پر نہ جانے کیا پڑھ پڑھ کر پھونکتے ہوئے بارہ بجنے سے ایک منٹ پہلے اس تک آئی
جگر ہے ویسے تیرا جو تو مرنے خود موت کے منہ میں آ گیا
ہنستے ہوئے اس نے آنکھیں بند کر اسکی گردن کے نشان پر انگلی اور انگوٹھے کو رکھ کے کُچھ پڑھنا شروع کیا
اور بارہ بجنے سے کُچھ سیکنڈ پہلے ہاتھ ہوا میں بلند کرتے ہوئے دوبارہ چاندی کا خنجر برآمد کیا
احد جلدی کرو ۔ کھنک نے احد کو آواز دیتے ہوئے کہا
بجلی کی تیزی سے سے احد نے گلناز کے ہاتھ سے خنجر اپنے ہاتھ میں لیا اور ایک زور دار لات اُسکے سینے پر رسید کی
اور تیزی سے نیچے اتر کر ان چھ خون کے پیالوں میں ایک ایک کر کے خنجر ڈبونا شروع کیا
اے رک جا
اپنی طاقتوں کا استعمال کرتے ہوئے اس نے احد کو روکنے کی کوشش کی
لیکن اسی وقت بابا نے اُسکے سامنے آتے ہی اس پر کچھ پڑھ کر پھونکا
گلناز کے ہاتھ پاؤں بلکل حرکت کرنا بند کر گئے
تم میری طاقتوں کو نہی جانتے
کُچھ پڑھ کر خود کو آزاد کروانے کی کوشش کرتے ہوئے وہ غرائی
لیکن خود کے ہر جادو کو بے اثر ہوتے دیکھ
اسنے حیرت سے ہر طرف دیکھا
جہاں سب کے چہروں پر ایک عجیب مسکان تھی
بابا نے دل پر ہاتھ کی مُٹھی بنا کر رکھتے ہوئے کُچھ پڑھا
ایک سنہری روشنی چمکنے کے ساتھ ھی معصوم پری کا مسکراتا چہرہ نمودار ہوا
احد نے اس خنجر کو چھ خون کے پیالوں میں ڈبو کر معصوم پری کے سامنے کیا
معصوم پری نے مسکراتے ہوئے شہادت کی انگلی اس خنجر کی طرف کی
اور انگلی سے ایک سنہری روشنی نکلتے ہوئے اس خنجر میں آ سمائی
اور پھر بنا ایک پل کی دیری کیئے احد نے وہ خنجر گلناز کی شہہ رگ پر گھما دیا
اور ایک دل دہلا دینے والی چیخ کے ساتھ گلناز کا وجود دھواں بن کر ہوا میں بکھر گیا
جلدی چلو بیٹا ہو سکتا ہے یہ محل ڈھ جائے
بابا نے سب کو وہاں سے جانے کا کہا
نہی جب تک ہم یہاں ہیں
آپ لوگوں کو کچھ نہی ہو گا
معصوم پری نے مسکراتے ہوئے احد اور کھنک کی طرف دیکھا
ہماری طرف سے آپ سب کو دل سے شکریہ
اور ہاں کھنک تم ہم پریوں کے لیئے بہت خاص ہو
اور ہمیں ایک بار پھر تمھاری ضرورت پڑے گی
ہم اپنی ایک امانت تمہارے پاس رکھ کر جائیں گے
اور پھر اسے اپنی دنیا میں لے جائیں گے
کونسی امانت معصوم پری
کھنک نے تجسس سے پوچھا
یہ ہم تمہیں بعد میں بتائیں گے
پہلے آپ لوگ یہاں سے جاؤ
اور میری دعائیں ہمیشہ آپ لوگوں کے ساتھ ہیں
ختم شدہ