Rahayi By SI Writes Readelle50235 Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
آج سے ستر سال پہلے میں نے اپنی طاقتوں سے ایک طاقتور پری کی طاقتیں چھین کر خود طاقت ور بننے کی کوشش کی
آخر غلط کیا تھا اس میں ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ سب سے زیادہ طاقت ور ہو
لوگ اس کے آگے پیچھے پھریں
اُسکا حکم چلے اور سب لوگ اُسکا حکم ماننے پر مجبور ہوں
اس دنیا میں ہر مخلوق میں جیت کا نشا پایا جاتا ہے جیت کر سب کو خوشی ملتی ہے
چاہے وہ کوئی انسان ہو
،،شیطان ہو
جن ہو، چرند پرند
سب جیت کر خوش ہیں
مجھ میں بھی جیت جانے کی چاہ ہے
طاقت پانے کا جنوں تھا
تبھی تو میں نے اس پری پر دھوکے سے حمله
کر کے اس سے اسکی ساری طاقتیں چھیننے کی کوشش کی
البتہ اس پری کی بد دعا سے میں اس بدصورت چڑیل کے روپ۔میں قید ہو کر رہ گئی
لیکن اچھا ہوا جو میں اس پری کا یہ خنجر لے آئی
اس میں اس پری کی ساری طاقتوں کے ساتھ ساتھ
میری رہائی کا بھی سامان ہے
لیکن جہاں یہ خنجر میری رہائی کا سبب ہے
وہیں یہ خنجر میری موت کا ہتھیار بھی ہے
لیکن یہ بات تو اس پری اور میرے علاوہ کوئی نہی جانتا
ہاہاہاہا
بس اب میں نے چھ لوگوں کی بلی دے دی ہے اب ایک بچا ہے
اگر اس پری کے حساب سے میرا جادو اس ساتویں شکار پر نہی وہ سکتا
تو کوئی بات نہی
کیونکہ چھ لوگوں کو آسانی سے میٹھا میٹھا بول کر مارنے
میں مجھے کوئی خاص مزا نہی آیا
کیوں نا اس بار کُچھ الگ کیا جائے
شکار کو اگر پہلے ہی پتہ چل جائے کہ اس کا شکار ہونے والا ہے
اور بچ نکلنے کا اب کوئی راستہ نہیں
تو اس کے چہرے پر جو ڈر ہو گا وہ ڈر گلناز کے لئے بلکل نیا ہو گا
وہ انسان میرے جادو کے زیرِ اثر تو نہی آیا
لیکن وہ میرے خوف کے
زیرِ اثر ضرور آئے گا
کتنا مزا آئے گا جب وہ مجھ سے ڈرے گا
میری طاقتوں کے آگے بے بس ہو کر گھٹنے ٹیک دے گا
واہ واہ واہ
آئینے کے سامنے بول کر اپنا پلان خود کو ھی بتاتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کر کے خود کو بے شمار طاقتوں کا مالک تصور کرتے ہوئے پریوں کو اپنا حکم بجا لاتے ہوئے دیکھا
💖💖💖💖💖💖
کیوں نہی بتایا تم نے مجھے
وہ تعویذ کھو گیا ہے اور ہمیں کُچھ پتہ نہیں ہے
مُجھے ایک بات بتاؤ
تم مجھے اپنا باپ مانتے ہو کہ نہی
جانتے بھی ہو کتنی منتیں دعائیں مانگنے کے بعد خدا نے ہماری جھولی میں تمہیں ڈالا تھا
تم ہمارے لیئے کیا ہو یہ شاید تم کبھی نہی جان سکتے
اگر کوئی تمھاری ایک خوشی کے عوض ہم سے ہماری سانسیں بھی مانگے گا تو ہم قسم کھاتے ہیں
تمہیں وہ خوشی دینے کے لیے اگر ہمیں اپنی سانسیں بھی قربان کرنی پڑی
تو ہم ایک پل ضائع کیے بغیر اپنی سانسیں تم پر وار دیں گے
لیکن شاید تمہیں ہم پر بھروسہ نہی ہے
یا پھر ہمارے پیار بھروسے میں کُچھ کمی رہ گئی تھی جو تم نے ہم سے اتنی بڑی بات چھپائ
دکھ اور افسوس سے کہتے ہوئے رضا آفندی کا لہجہ بھیگ گیا
نہی بابا ایسی بات نہیں کیا
مُجھے لگا یہیں کہیں رکھ کر میں بھول گیا ہوں گا
صبح تک مل جائے گا وہ تعویذ مجھے
بس اسی لیئے نہی بتایا آپکو
آپ خوامخواہ میں پریشان ہوتے
ورنہ آپ میری دنیا ہیں بابا
رضا آفندی کے سینے سے لگ کر احد کا لہجہ بھی نم ہو گیا
💖💖💖💖💖💖
مہندی کا فنکشن ختم ہو چکا تھا سب اپنے اپنے کمرے میں آرام کرنے جا چکے تھے
لیکن ایک وہی تھا جسے نیند نہی آ رہی تھی
کتنا ہنستا مسکراتا گھر تھا اسکا
جب اُسے روز ڈراؤنے خواب آتے تھے
تو وہ چیخیں مار مار کر اٹھتا
اور خود کو کسی سے بچانے کی کوشش کرتا
اسے لگتا کوئی کالے چو لے میں عورت ہے
جسکے ہاتھ میں ایک سفید خنجر ہے
جیسے ہی وہ احد کو مارنے کے لئے ہاتھ ہوا میں بلند کرتی
احد چیخ مار کر اٹھتا
اور ساری ساری رات بخار میں تپتا
اور پھر رضا آفندی نے اپنے اکلوتے بیٹے کا جہاں سے ہو سکا ہر طرح سے دعا علاج کروانے کی کوشش کی
لیکن احد کو یہ خواب آنا بند نہی ہوئے
یہاں تک کہ ان خوابوں کے زیرِ اثر وہ دن بدن کمزور ہونے لگا
ہر وقت وہ انہی خوابوں کے زیرِ اثر رہنے کی وجہ سے کوئی اُسے ہولے سے بھی بلاتا
تو وہ اتنی بری طرح سے ڈرتا کہ اگلے چار گھنٹوں تک اس کو سنبھالنا مُشکِل ترین ہو جاتا
اور تبھی کسی نے رضا آفندی کو جنگل میں رہنے والے ایک بابا کے بارے میں بتایا
ہر بار کی طرح اس بار بھی رضا آفندی اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتے تھے
اور تبھی وہ احد کو لے کر ایک بار پھر بابا کے پاس جا پہنچے
لیکن وہاں جا کر انہیں جو پتہ چلا اُسے سن کر رضا آفندی کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسک گئی
انکے اکلوتے بیٹے کو کوئی چڑیل اپنا شکار بنانا چاہتی ہے
پچیس سال کا ہونے سے پہلے وہ چڑیل انکے بیٹے کی بلی دے گی اور ایک پری کی دی گئی بد دعا سے رہائی پا جائے گی
اور یہ سب انکے بیٹے کے ساتھ صرف اس مخصوص نشان کی وجہ سے ہو رہا تھا جو اسکی گردن پر تھا
ان خوابوں سے بچنے کے لیے بابا نے احد کو سات دن کے لئے اپنے پاس رکھا ۔اور اسے ایک اندھیرے کمرے میں رکھا
جسکی دیواریں اسمِ ربّانی سے آیت الکرسی ، درود شریف اور نا جانے قرآن کے اور کتنے عظیم حروف سے بھری ہوئی تھی
سات دن بعد
بابا نے احد کو کمرے سے نکالتے ہی اُسکے گلے میں وہ تعویذ پہنایا
اور اسے کسی بھی حالت میں خود سے جدا نہ کرنے کی سختی سے تاکید کی
لیکن نہ جانے کیسے اور کیوں اب اس سے وہ تعویذ کھو گیا تھا
جو انیس سالوں میں نہی ہوا وہ اب ہو گیا تھا
💖💖💖💖💖💖💖
اچانک ہی اس کے کمرے کی روشنی جھٹکے کھانے لگی
ہر طرف کی لائٹیں جلنے بجھنے کے ساتھ ایک دم کمرے کی کھڑکی اچانک سے کھلی اور ایک آنکھوں کو چندھیا دینے والی روشنی کمرے میں داخل ہوئی
احد نے اس تیز روشنی سے بچنے کے لیے اپنی آنکھوں پر ہاتھ
کیسے ہو میرے راجا
اپنے پیچھے سے ابھرتی آواز پر احد نے گردن موڑ کر دیکھا
وہاں ایک تئیس چوبیس سالہ لڑکی کو دیکھ کر اُسے حیرانگی ہوئی
بلا شبہ وہ لڑکی بے حد حسین تھی
کوئی اور ہوتا تو شاید ابھی تک اسکے سامنے گھٹنے ٹیک کر اسکی قربت کی بھیک مانگ رہا ہوتا
لیکن وہ احد رضا آفندی تھا
جسکے دل کے تخت پر کھنک بڑی شان سے براجمان تھی
کون ہو تم اور یہاں کیسے آئی
میں کون ہوں
ہاہاہاہاہاہا
میں تمھاری موت ہوں اور موت سے یہ نہی پوچھتے کہ موت کب،کہاں،کیسے ، پہنچ گئی ہے
کیونکہ موت کو جب جہاں،جیسے،پہنچنا ہوتا ہے وہ پہنچ جاتی ہے
اے لڑکی لگتا ہے تمھارا دِماغ خراب ہے ۔ میرا وقت برباد نہی کرو اور نکلو یہاں سے
دروازے کا ہینڈل گھما کر اسکی طرف دیکھتے ہوئے احد نے اسے باہر جانے کا اشارہ کیا
دروازے کے ہینڈل پر اس کی گرفت اس وقت کمزور پڑی
جب وہ لڑکی ایک دھویں کے مرغولے کی طرح ایک کالے رنگ کے لباس میں آ چکی تھی
احد نے جیسے ہی اُسکے چہرے کی طرف دیکھا تو اسکی چیخ نکل گئی
اے لڑکی دور رہو مجھ سے
دروازے سے اپنی پشت لگا کر احد نے انگلی کے اشارے سے اُسے اپنے پاس آنے سے روکا
اسکے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے احد کو متلی آنے لگی
شاید ہی اس نے دنیا میں اتنی بدصورتی پہلے کبھی دیکھی ہو
سنا ہے کل تمہارے اس کمرے میں تمہاری منکوحہ رخصت ہو کر آ جائے گی
کوئی ضرورت نہیں ہے اس سے محبت بھرا رشتہ بنانے کی
خطرناک لہجے میں کہتے ہوئے گلناز ایک بار پھر پہلے والے روپ میں آ چکی تھی
کیوں کیوں ضرورت نہیں ہے
میری بیوی ہے ۔ اور مُجھے اُسکے ساتھ اپنا رشتہ مکمل کرنے سے کوئی نہی روک سکتا
غصے سے کہتے ہوئے احد نے اسکی طرف دیکھا
اوہ اچھا مطلب تم یہ چاہتے ہو کہ جہاں میں تمہارے پچیس سال کا ہونے پر صرف تمہیں ماروں گی
اس سے پہلے میں تمھاری اس محبوبہ بیوی کو تمھاری آنکھوں کے سامنے اس دُنیا سے رخصت کر دوں
آنکھیں بڑی کر کے اس نے احد کو گھورتے ہوئے کہا
کیا بکواس کر رہی ہو تم
کھنک کو مارنے کی دھمکی پر احد کا دِماغ شارٹ ہو گیا
آرام سے میرے راجا آرام سے
بکواس نہی کرتی گلناز
گلناز تو صرف کام کرتی ہے
نہی یقین آ رہا
تو یہ دیکھو
تب شاید تمہیں یقین آ جائے
ہاتھ ہوا میں بلند کر کے گلناز نے ایک ہوائی چکر تیار کیا
اور احد کو اس میں دیکھنے کا اشارہ کیا
اسکے نظروں کے زاویئے کی طرف دیکھتے ہی احد کی جان مانو لبوں پہ آ گئی ہو
یہ کھنک کے کمرے کا منظر تھا جہاں وہ دنیا جہان کی فکر سے بیگانہ اپنے خوبصورت چہرے معصومیت سجائے نیند ک مزے لینے میں مگن تھی
بیڈ کے آس پاس تقریباً آٹھ کالے چولے میں ملبوس وجود اپنے آپ کو پوری طرح ڈھانپے ہاتھوں میں بڑے بڑے خنجر لیئے کھنک کی طرف ایک ساتھ بڑھے
اور کھنک پر وار کرنے کے لیے سب نے ایک ساتھ اپنے خنجر والے ہاتھوں کو بلند کیا
اس سے پہلے کہ وہ کھنک پر وار کرتے احد کی زور دار چیخ سے وہ منظر ہوا میں تحلیل ہو گیا ۔
نہی نہی نہی
دیوار کا سہارا لے کر اس نے خود کو اپنے قدموں پر کھڑا رہنے کی قابل بنایا
ورنہ کھنک کو خود سے دور جاتے دیکھ اسکی جان نکلنے جیسی ہو گئی
ہاں تو بولو میرے راجا
سودا منظور ہے کہ نہی ہے
اکیلے مرنا ہے یا اپنی محبوبہ کو ساتھ لے کر مرنا ہے
جلدی سے اپنا فیصلہ بتاؤ
تاکہ جو کام مجھے کل کرنا ہے اُسے میں آج ہی نمٹا دوں
تم اسے ہاتھ بھی نہی لگاؤ گی
مُجھے منظور ہے تمھارا سودا
شدت ضبط سے آنکھیں زور سے بند کرتے ہوئے اس نے ایک لمبا سانس لیا
