Rahayi By SI Writes Readelle50235 Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
ایک گول دائرے میں بیٹھ کر ورد کرتے ہوئے وہ اپنی پوری کوشش کر رہے تھے
معصوم پری سے بات کرنے کی
لیکن یہ ورد انہیں بڑا مشکل پیش آ رہا تھا
بار بار بری طاقتیں ان کا دھیان بھٹکانے کی کوشش میں لگی تھیں
آخر رات کے تین بجے انکا ورد مکمل ہوا اور چاندی کے پیالے میں معصوم پری کی شبیہ ابھری
اور جیسے جیسے معصوم پری گلناز کی کمزوری اور اسکی موت کا راز بتانے لگی بابا کی آنکھوں میں ایک سکون کی لہر دوڑ اٹھی
💖💖💖💖💖💖💖💖
رضا آفندی مجھے احد سے اکیلے میں بات کرنی ہے جلدی سے اسے میرے پاس بھیجو
ٹھیک ہے بابا میں ابھی بھیجتا ہوں اسے آپکے پاس
بابا کی بات سنتے ہی اس نے جلدی سے حامی بھرتے ہوئے کہا
اور احد کے کمرے کی طرف بڑھ گیا
💖💖💖💖💖
جی بابا آپ نے مجھے بلایا ہے
ادب سے سر جھکا کر کہتے ہوئے اس نے سلام کرتے ہوئے بابا سے سوال کیا
ہاں بیٹا میں نے آپکو بلایا تھا
اِدھر اس دائرے میں بیٹھو
اور میری باتوں کو بہت دھیان سے سنو
تمہیں کچھ بھی کر کے اپنے اور اپنی کے رشتے کو مکمل کرنا ہو گا
مگر بابا اس نے مجھ سے کہا ہے کہ اگر میں نے کھنک کے پاس بھی جانے کی کوشش کی تو وہ اسے جان سے مار دے گی
نہی وہ ایسا نہی کر سکتی
مگر ایک بات پوچھوں بابا
ہمارے رشتے کے مکمل ہونے سے گلناز کا کیا بگڑے گا
بگڑے گا بہت کچھ بگڑے گا
تمہارے اور کھنک بیٹی کے رشتے سے گلناز کی طاقت آدھی ھو جائے گی
کیونکہ آج تک جن چھ مردوں کا اسنے شکار کیا ہے
انکا کسی عورت کے ساتھ ساتھ جسمانی رشتہ نہی تھا
انہوں نے اگر کسی کے ساتھ جسمانی رشتہ جوڑا تو وہ کوئی اور نہی بلکہ گلناز تھی
جب تم کھنک کے ساتھ اپنا رشتہ مکمل کر لو گے تو ایک تو اسکی طاقت آدھی ہو جائے گی کیوں کہ تم کوئی عام شکار نہی ہو
تم آخری اور سب لوگ زیادہ خاص ہو
اس لیئے ایک تو پہلے ہی وہ تمہیں پوری طرح اپنے جادو کے حصار میں نہی لے سکی
جب آدھی طاقت ہو جائے گی تو اسکو کنٹرول کرنا اور آسان ہو جائے گا
اور دوسرا جب تمھارا دل کے رشتے کے ساتھ ساتھ جسمانی رشتا بھی اپنی بیوی سے بن جائے گا تو وہ تمہارے جسم کے کسی بھی حصے اور اپنا قبضہ نہی جما پائے گی
اور ہاں مجھے پتہ چل گیا ہے کہ گلناز خاتما کہ کیسے ہو گا
سچ بابا آپ سچ کہہ رہے ہو جلدی سے مجھے بتائیں کیسے اسکو ختم کیا جا سکتا ہے
ابھی پہلے ایک کام ختم کرو پھر میں بتاؤں گا کہ اُسے کیسے ختم کرنا ہے ۔ اب جاؤ اور جلد از جلد یہ کام مکمل کرنے کی کوشش کرو
کیونکہ یہ اتنا بھی آسان نہیں ہے جتنا لگ رہا ہے
گلناز کی نظریں چوبیس گھنٹے تم پر ٹکی ہیں
💖💖💖💖💖💖💖
بابا کے پاس سے آنے کے۔ بعد اسنے اپنے قدم کھنک کے کمرے کی طرف بڑھائے
آنکھوں کے سامنے اپنا اس دن کا برتاؤ گھوم گیا جو اس نے بلا وجہ کھنک کے ساتھ اپنایا تھا
بیڈ پر اُسکے قریب بیٹھ کر وہ جو ہر وقت خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کرتا تھا
ایک دم ٹوٹ گیا
مُجھے معاف کر دو میری جان
تمہیں ڈانٹا
خود سے دور کیا
لیکن میں مجبور ہوں
تم سو کیوں رہی ہو دیکھو میری طرف
میرے پاس آؤ
دیکھو تمہیں خود سے دور کر کے اس دل کو ذرا سا سکون نہی ہے
جب سے تمہیں ڈانٹ کر خود سے الگ کیا ہے
مُجھے ایک پل چین نہی آیا ہے
سنو اٹھو نہ
اٹھو نا تاکہ ہم دونوں ایک ہو جائیں
اور وہ میرا پیچھا چھوڑ دے
اُسے مسلسل نیند سے بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اب اُسکا گلا رندھ گیا
آنکھ سے آنسو نکلا اور کھنک کے چہرے پر آ گرا
لیکن وہ تھی کہ اٹھنے کا نام ہی نہی لے رہی تھی
ٹھیک ہے نہ اٹھو
میں اپنا حق خود لے لیتا ہوں
ویسے بھی مجھے کون روک سکتا ہے
یہ میرا حق ہے
اپنی شرٹ اوتار کر نیچے پھینکتے ہوئے
وہ کھنک پر جھکا
اسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو پوری شدت سے چھوتے ہوئے اس نے کھنک کے لبوں کو اپنی قید میں لیا
اور اپنی سانسوں کو اسکی سانسوں سے الجھا دیا
کافی دیر بعد وہ اس سے الگ ہوا
تو کھنک ابھی بھی ہنور ایسے ہی پڑی تھی
ایک لمبی سانس لے کر اس نے اپنے ہاتھ کھنک کی شرٹ کی طرف بڑھائے
سارے بٹن کھول کر اسکی شرٹ کو کندھوں سے کھسکاتے ہوئے ایک جھٹکے میں اس شرٹ کو کھنک کے وجود سے الگ کیا
اسکی دونوں بانہیں اٹھا کر اپنے گلے میں ڈالتے ہوئے وہ اس پر جھکا
آہستہ آہستہ اسکی شہہ رگ کو چھوتے ہوئے وہ اُسکے کندھے اور سینے پر آیا
کھنک کے وجود پر احد کے ہونٹوں کے ساتھ ساتھ ہاتھ بھی مسلسل گردش میں لگے تھے
اور تبھی احد کو اپنی پشت پر ایک تیز چبھن محسوس ہوئی
نہ چاہ کر بھی وہ کسی طاقت کے زیرِ اثر کھنک سے آزاد ہوا
ساکت آنکھوں سے الٹے پاؤں چلتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا
اور بیڈ پر چت لیٹ گیا
اور چھت کو گھورنے لگا
کمرے میں چاروں طرف قہقہوں کی آواز گونجنے لگی
ہاہاہاہاہاہاہا
کیا ہوا میرے راجا
نہی کر پائے کُچھ
ہاہاہاہاہاہاہاہا
کر بھی نہی پاؤ گے جب تک وہ میرے جادو کے زیرِ اثر سوتی رہے گی
تم کُچھ نہی کر پاؤ گے
کیوں بلا وجہ ہاتھ پاؤں مار رہے ہو
جب تمہیں پتہ ہے کہ تمہیں آنا تو میرے ہی پاس ہے
کافی دیر کمرے میں گلناز کی ہنسی کی آواز گونجنے کے بعد ایک دم خاموشی چھا گئی
اور اسی کے ساتھ احد کی آنکھیں بند ہوئیں
اور وہ اپنے آپ سے بیگانہ ہو کر گہری نیند کی آغوش میں چلا گیا
💖💖💖💖💖💖
صبح کی اذان کی آواز جیسے ہی اُسکے کانوں میں پڑتی
اسکی نیند ایک جھٹکے سے کھل جاتی
کُچھ دنوں سے اُسکے ساتھ ایسا ہی ہو رہا تھا
جب سے احد نے اسے کمرے سے نکالا تھا وہ دوبارہ احد کے سامنے نہی گئی تھی
آنکھ کھلتے ہی اسے ہلکی سردی کا احساس ہوا
کمبل اٹھانے کے لئے جیسے ہی اس نے ہاتھ بڑھائے
اپنا اوپری جسم برہنہ دیکھ کر بجلی کی تیزی سے اسنے خود کو کمبل میں چھپایا
یہ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سب کیا ہو گیا ہے
آنکھوں میں آئی نمی سے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے اس نے کُچھ ٹٹولنے کی کوشش کی
اور تبھی نظر فرش پر پڑی اپنی شرٹ کے ساتھ احد کی شرٹ پر پڑی
لاکھوں وسوسوں کی جگہ دل میں سکون کی لہر دوڑ گئی
اسکے قریب آنے والا کوئی اور نہیں اُسکا محرم ہی تھا
خود پر کمبل لپیٹے ہوئے اس نے اٹھ کر دونوں شرٹس کو اٹھایا
اپنی شرٹ کو ایک طرف رکھ کر احد کی شرٹ کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے سینے سے لگایا
کیا ہو گیا ہے احد آپکو
جب آپ میرے قریب آنا چاہتے ہیں تو کیوں خود سے دور کرتے ہیں
کیوں خود کو اور مجھے سزا دے رہے ہیں
اگر کوئی وجہ ہے تو مجھے بتائیں
مگر ایسے دور رکھ کر ناراض ہو کر تو کُچھ بھی ٹھیک نہی ہو گا
مُجھے اندازہ ہے کُچھ تو بات ہے جو سارا گھر مجھ سے چھپا رہا ہے
لیکن میں وعدہ کرتی ہوں میں سب پتہ لگا کر رہوں گی
💖💖💖💖💖💖
بابا جو آپ نے کہا تھا وہ نہی ہو پایا
لیکن کھنک ہر رات اس گلناز کے جادو کے زیرِ اثر سوتی ہے
اور میرے کمرے پر اُسکا قبضہ ہے
اب ہم کچھ نہی کر سکتے بابا
اب بس دو دن ہی تو بچے ہیں
ان دو دنوں میں آخر ایسا کونسا کرشمہ ہو جائے گا
اب میں بھی نہی چاہتا کہ میں کھنک کی زندگی برباد کروں
اگر ہم اسے مارنے میں کامیاب نہ ہو پائے
تو کھنک کی زندگی جو پہلے ہی مشکلوں میں گھر گئی ہے وہ مُشکِل ترین ہو جائے گی
اور میری محبت یہ گوارا نہیں کھائے گی
میری بیوی کو میرے بعد میری وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے
اپنی بات کہہ کر وہ بنا بابا کی بات سنے وہاں سے چلا گیا
یہ دیکھے بغیر کہ دروازے کی اوٹ میں کھڑی کھنک انکی ساری باتیں سن چکی ہے
💖💖💖
اسلام علیکم بابا
کمرے میں داخل ہو کر اس نے بابا کو سلام کیا
بابا میں نے آپکی اور احد کی باتیں سن لی ہیں
میرا شوہر یہ سب کیوں کر رہا ہے
مُجھے لگتا ہے کہ آپ کے پاس میرے سارے سوالوں کے جواب ہیں
میں آپکی بیٹی کی جگہ ہوں
مُجھے اپنی بیٹی سمجھ کر سب سچ سچ بتا دیں
میں آپکے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں
آنکھوں میں آنسو اور التجا لے کر اس نے بابا کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے
نہی بیٹا تم ہاتھ نہی جوڑو
میں بتاتا ہوں سب کچھ
پھر آہستہ آہستہ کر کے بابا نے اسے سب کچھ بتا دیا
ساری سچائی جان کر کھنک کو اپنا سانس رکتا محسوس ہوا
یہ سوچ ھی جان لیوا تھی کہ اگلے دو دنوں میں اُسکا شوہر مرنے والا ہے
با۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بابا پلیز مُجھے بتائیں کوئی حل
میں سب کروں گی جو آپ کہو گے میں اپنے شوہر کو بچانے کے لئے سب کروں گی
پلیز بتا دیں
بابا کو مسلسل خاموش دیکھ کر اُس نے چلاتے ہوئے پوچھا
بابا نے ایک نظر اس کی طرف دیکھتے ہوئے سب بتا دیا جو جو احد کو بتایا تھا
بیٹا احد رات آیا تھا لیکن تم اس گلناز کے زیرِ اثر سو رہی تھی
بابا کیا آپکے پاس کوئی حل نہی ہے ان سب سے نکلنے کا
ہے بیٹا
اگر مجھے اندازہ ہوتا تو میں کل ھی اسکا حل احد کو دیتا
لیکن اب احد کُچھ بھی سننے کو تیار نہی ہے
بابا آپ مجھے بتائیں
ٹھیک ہے تم میرے ساتھ آؤ
بابا نے ایک کپڑے کا تھیلا اٹھا کر اس میں سے کچھ نکالا اس دھاگے پر میں نے بہت وقت پڑھائی کی ہے
اس دھاگے کو اپنی کلائی پر باندھنا
اور جہاں تک بات ہے احد کے کمرے پر گلناز کا قبضہ ہے
تو مجھے پتا اسنے ضرور احد کے کمرے کے ارد گرد حصار کھینچا ہو گا
لیکن تم اسکی فکر نہی کرنا
میں اُسکے حصار کے اُوپر ایک دوسرا حصار کھینچ دوں گا
جس سے اُسے کوئی شک بھی نہی ہو گا
کواور احد کے کمرے میں اُسکے علاوہ بھی کوئی ہے
یہ اُسے نہی پتہ چلے گا
💖💖💖💖💖💖💖
آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اس نے ایک آخری تنفيدی نظر اپنی تیاری پر ڈالتے ہوئے
بابا کا دیا ہوا دھاگہ اپنے سیدھے ہاتھ کی کلائی پر باندھا
اور احد کے کمرے کا رخ کیا
دروازہ کھولتے ھی سامنے احد کو کھڑے دیکھ کر کھنک کے لب اپنے آپ مسکرائے
اسکی طرف قدم بڑھاتے ہوئے اس کے قدم لڑکھڑائے
اسکی پشت سے سر ٹکا کر اپنے ہاتھوں کو اُسکے سینے پر رکھا ۔
غصّہ ٹھنڈا ہوا آپکا
پیار سے پوچھتے ہوئے اس نے احد کے کندھے پر اپنے ہونٹ رکھے
اچانک کھنک کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر احد کا دل یکبارگی دھڑکا
کونسا غصّہ
میں نے جب بول دیا ہے کہ تم یہاں نہی رہ سکتی تو جاؤ
نہی جاؤں گی جتنا اس کمرے پر آپکا حق ہے اتنا ہی میرا بھی حق ہے
اور صرف اس کمرے پر ھی نہی میرا آپ پر بھی حق ہے
اور میں اپنے کسی حق دستبردار نہی ہونے والی
مُجھے میرے دونوں حق چاہیے
چلی جاؤ کھنک یہاں سے
میں تمھاری شکل بھی نہی دیکھنا چاہتا
کرخت لہجے میں کہتے ہوئے اس نے اپنا رخ
کھڑکی کی طرف کر لیا
لہو ٹپکاتی آنکھیں اور ضبط سے بھینچی مٹھیاں نہ چاہ کر بھی اسکی بے بسی کا پتہ دے رہی تھی
وہ جو اس سے دور رہنے کی نا ممکن کوششوں میں لگا
ڈیپ ریڈ کلر کی ہلکے پھلکے کام والی ساڑھی میں نیچرل سا میک اپ کیئے
آنکھوں میں کاجل کی دھار
لمبے سنہری بالوں کو ہلکا ہلکا رول کر کُچھ آگے اور کُچھ نے پشت پر بکھیرے
اور سامنے ساڑھی کا جالی دار پلو جس سے
اسکی نازک سی دودھیا رنگ کمر اسکا ضبط آزما رہی تھی
ہر ہتھیار سے لیس آج وہ اُسکا ضبط آزما رہی تھی
وہ جو خود پر ضبط کے کڑے پہرے ڈال کر بیٹھا تھا
وہ اس کی پسند کے مطابق تیار ہو کر
اس کا صبر چھلکانے
اور اپنا حق مانگنے آ گئی تھی
کیوں چلی جاؤں میں یہاں سے
یہ میرا بھی کمرہ ہے
بیوی ہوں میں آپکی
محبت کرتی ہوں آپ سے
اور کُچھ دن پہلے تک آپ بھی مجھ سے محبت کرتے تھے
میرے قریب آنے کے بہانے ڈھونڈتے تھے
پھر ان دو ہفتوں میں ایسا کیا ہو گیا
جو آپ میری شکل بھی نہی دیکھنا چاہتے
اسکے گریبان کو اپنی مٹھیوں میں جکڑے
روانی سے بہتے آنسوؤں کے ساتھ
آج وہ اپنے ہر سوال کا جواب لینے پر بضد تھی
آپ کیا سمجھتے ہیں
مُجھے کُچھ نہی پتہ
مُجھے سب پتہ ہے آپ یہ سب اس گلناز کی وجہ سے کر رہے ہیں
نہی ایسا کچھ نہیں ہے
اسکے دونوں ہاتھوں کو بیدری سے جھٹکتے ہوئے اس نے ایک بار پھر اپنا رخ دوسری جانب کر لیا
مُجھے پتہ ہے یہ سب آپ اسی کی وجہ سے کے رہے ہیں
وہی زمہ دار ہے ہمارے بیچ ان دوریوں کی
کیا لگتا ہے آپکو
اگر آپ چلے جائیں گے تو میں آپکو بھول جاؤں گی
نہی بلکل نہی
کھنک نے محبت جمعہ جمعہ چار دن کے لئے نہی کی ہے
اگر آپ چلے گئے تو کھنک ساری زندگی آپ کے نام پر گزار دے گی
پاگل نہی بنو کھنک
تمہارے آگے ساری زندگی پڑی ہے
تم جوان ہو
خوبصورت ہو
پڑھی لکھی ہو
کسی بھی انسان کی پہلی خواہش ہو سکتی ہو
مجھ سے تمہیں کُچھ نہی ملے گا
البتہ کل کو میری وجہ سے تم پر بیوہ کا ٹیگ لگ جائے گا
میری وجہ سے پہلے ہی تمھاری زندگی برباد ہونے والی ہے
اپنے اور میرے درمیان یہ رشتہ قائم کر اسے اور برباد نہی کرو
کرب سے کہتے ہوئے اس نے آنکھیں میچ لی
بہتر ہے تم اب اپنے بارے میں سوچو
میں نے ویسے بھی اپنی راہیں جدا کر لی ہیں
اور اب مجھے تم سے محبت بھی نہی ہے
یہ سب اس نے کیسے بولا تھا
یہ بس وہی جانتا تھا
تو دیکھیں میری آنکھوں میں
اور کھائیں میرے سر کی قسم
اُسکا ہاتھ اپنے سر پر رکھ کر آج وہ آر یا کرنے پر تلی تھی
بولیں کوئی جواب کیوں نہیں دے رہے آپ
ضد نہی کرو کھنک
اور جاؤ اپنے کمرے میں
کُچھ دن پہلے تک آپ چاہتے تھے کہ میں بھی کبھی اپنی محبت کا کوئی عملی ثبوت دوں آپکو
تو ٹھیک ہے آج میں عملاً اظہارِ محبت کرتی ہوں
یہ کہتے ہی اس نے اپنی بانہیں اُسکے گلے میں ڈالتے ہوئے اس کے پیروں پر اپنے پیر رکھ کر اپنا چہرہ اُسکے چہرے کے بلکل سامنے کیا
کُچھ پل اسکی آنکھوں میں دیکھنے کے بعد آہستگی سے اپنی آنکھیں موند کر اپنے لب اُسکے لبوں سے ملا دیئے
احد رضا جو حیرانگی اُسکے ایک ایک عمل کو دیکھ رہا تھا
آج اُسکے ہر انداز سے خود سپردگی چھلک رہی تھی
اسکے اس طرح خود سے اپنے قریب آنے پر وہ بے خود ہوتے ہوئے
اپنی ساری مجبوریاں ،، پریشانیاں ،، پسِ پشت ڈال کر اس لمحے میں کھو گیا
آہستگی سے اپنا ایک ہاتھ اُسکے ہلکے کرلی بالوں میں ڈالا
اور دوسر ا ہاتھ سے اسکی نازک سی کمر میں ڈال کر اپنی گرفت مضبوط کی
اُسکا لمس پاتے ہی وہ مدہوش ہو کر سب بھُلا بیٹھا تھا
یاد رہا تو بس اتنا کہ وہ اس کی بیوی ہے
اس کے ساتھ احد رضا کا جائز رشتہ ہے
اسکی محبت ہے جس سے وہ دو ہفتوں سے
اس بلا کی وجہ سے بھاگ رہا ہے
پوری شدت سے وہ اس پر جھکا اپنی شدتیں لٹاتے ہوئے اپنے اتنے دنوں کی تڑپ مٹانے لگا
وہ نجانے کتنی دیر اس پر اپنی شدتیں اور لٹاتا
لیکن اپنے کالر کو جھٹکے لگنے اور کھنک کے بے جان ہوتے وجود سے وہ سمجھ گیا
کہ وہ سانس نہی لے پا رہی
ہولے سے اُسے خود سے الگ کر کے ایک پل اس نے کھنک کے سرخ چہرے کی طرف دیکھا
جو لمبے لمبے سانس لے کر اپنا تنفس بحال کرنے میں لگی تھی
دوسرے ھی پل اُسکے نازک سے وجود کو نرمی سے اپنی بانہوں میں بھر کر آہستگی سے اُسے بیڈ پر لٹایا
اپنی شرٹ کے بٹن کھول کر اسے ایک طرف ڈالتے ہوئے وہ اس پر جھکا
اسکے کندھے سے پن ہٹا کر ساڑھی کے پلو کو اُسکے وجود سے الگ کر اپنا سر اُسکے بالوں میں چھپایا
اور اپنے لبوں سے اسکی شہہ رگ کو چھوتے ہوئے ایک ہاتھ اسکی کمر میں ڈال کر اُسے تھوڑا اُوپر اٹھایا
دوسرے ہاتھ سے اُسکے بلاؤز کی ایک ایک کر ساری ڈوریاں کھولتا چلا گیا
کھنک نے جب احد کو پوری طرح اپنے پر قابض دیکھا تو سکون سے آنکھیں موند لیں
میں تمہیں کچھ نہی ہونے دوں گی احد
چاہے اس کے لیئے مجھے اپنی جان پر کیوں نہ کھیلنا پڑے
اسکی شدتوں کو سہتے ہوئے اس نے دل میں سوچا
آج بابا نے جو کہا تھا وہ میں نے کر لیا ہے
آج میرا اور احد کا رشتہ مکمل ہو جائے گا
لیکن کیا وہ گلناز اپنے ستر سال کی محنت کو یوں ضائع جانے دے گی
جبکہ بابا نے کہا تھا
وہ ہماری سوچ سے بھی زیادہ طاقت ور ہے
اور اپنی رہائی کے لیئے وہ کُچھ بھی کر سکتی ہے
چھ لوگوں کی بلی دے کر اب آخر میں وہ یوں ہی تو چُپ چاپ نہی جائے گی
