Rahayi By SI Writes Readelle50235 Last updated: 14 September 2025
No Download Link
Rate this Novel
Rahayi
By SI Writes
جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوا سامنے ھی اپنی محبت،چاہت ، پورے حق سے اُسکے بستر پر آنکھیں موندے لیٹی تھی ڈل گولڈن رنگ کے لہنگے میں نفاست سے سنوارے گئے خوبصورت نین نقوش کو سنوار کر اُسکے معصوم حسن کو مزید دو آتشہ بنا دیا گیا تھا ایک پل کے لیئے احد کو اپنا آپ بے بس ہو کر کمزور ہوتا محسوس ہوا لیکن اُسے کمزور نہی پڑنا تھا آگے بڑھ کر اسکے نازک سراپے سے نظریں چراتے ہوئے اس نے کرخت لہجے میں اسے پکارا کھنک اٹھو بازو پکڑ کر اسے اٹھاتے ہوئے اس نے ایک بار پھر کھنک کو پکارا ہڑبڑا کر اٹھتے ہوئے اس نے نا سمجھی سے احد کی طرف دیکھا یہاں کیا کر رہی ہو جاؤ اپنے کمرے میں کک۔۔۔۔ کیا مطلب ہے آپکا کہاں جاؤں میں ہماری شادی ہو گئی ہے تو اب یہی میرا کمرہ ہوا نا اور آپ غصّہ کیوں ہو رہے ہو غصّہ تو مجھے ہونا چاہئے سب لوگوں کے درمیان مجھ اکیلی کو چھوڑ کر چلے گئے پتہ بھی ہے لوگ کتنی عجیب عجیب باتیں کر رہے تھے مجھے دیکھ دیکھ کر جیسے میں نے کوئی جرم کر دیا ہو کیوں کیا آپ نے ایسا جواب دیں میرا ذرا سا بھی خیال نہی ہے نا آپکو غصے سے دو بدو بولتے ہوئے وہ احد پر چڑھ دوڑی دیکھو کھنک میرے غصے کو اور ہوا نہی دو اس سے پہلے کہ میں غصے میں کُچھ غلط کر جاؤں ابھی اور اسی وقت میرے کمرے سے جاؤ صبح بات کریں گے کیوں جاؤں میرا قصور تو بتائیں کیوں کر رہے ہیں آپ یہ سب کل تک تو سب ٹھیک تھا اب اچانک ایسا کیا ہو گیا ہے جو آپ مجھ سے اس قسم کا رویّہ اختیار کر رہے ہیں ابھی مجھ سے کوئی سوال جواب نہی کرو اور جاؤ یہاں سے اُسکا ہاتھ پکڑ کر کمرے سے باہر نکالتے ہوئے احد نے بے تاثر نظروں سے اسکی طرف دیکھا اور بنا کسی دیری کے دروازہ بند کر دیا جانتا تھا کُچھ دیر اور کھنک کی طرف دیکھا تو سب سچ اگل دے گا دروازہ کھولیں احد آپ میرے ساتھ بنا کسی وجہ بنا کسی قصور کے ایسا سلوک نہی کر سکتے دروازہ کھولو دروازے کو اپنے ہاتھوں سے بجاتے ہوئے اس نے غصے سے کہا کافی دیر کی کوشش کے باوجود جب آگے سے کوئی رسپانس نہی آیا تھک کر شکستہ قدموں سے وہ واپس اس کمرے کی طرف بڑھ گئی جہاں آج تک وہ رہتی آئی کیا بچ گیا تھا اسکے پاس آج پہلے ماں باپ کو خدا لے گیا اور اب جسے اپنا سب کچھ مانا وہ بھی اُسے بنا کسی قصور کے خود سے دور کر گیا دو آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر رخسار پر بہہ گئے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے اپنے سجے سنورے روپ کو دیکھا کتنی خوش تھی وہ آج پالر والی کو بھی اس نے اپنا میک اپ کرنے سے منع کر دیا تھا اسے لگتا تھا کہ وہ اس سے بہت محبت کرتا ہے اسی لیئے اج ہمیشہ کے لئے جب وہ اسکی ہونے جا رہی ہے تو اُسکے رنگ روپ کو کوئی اور کیوں سنوارے اسکے لیۓ وہ خود سجے گی جھمکے اتارتے ہوئے اس نے اپنے ہونٹوں پر سجی لال رنگ کی لپسٹک کو دیکھا جو احد کو بہت پسند تھی ہاتھ بڑھا کر اُس نے انگوٹھے سے اپنے ہونٹوں سے لال رنگ کو مٹایا اچانک ہوا کے ایک تیز جھونکے سے اس پر نیند کا شدید غلبہ آنے کے ساتھ ہی وہ فرش پر ڈھ کے ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئی
