92.7K
6

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

نہی ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا
ہاتھ میں پکڑی سفید تسبی ،، بے داغ سفید کپڑے
پُرنور چہرے پر سفید داڑھی میں وہ باریش بزرگ جو کہ آنکھیں بند کرکے اپنے ورد میں مصروف تھا
اچانک سے کُچھ نظر آنے پر ایک جھٹکے سے اٹھا
کیا اس لڑکے سے وہ تعویذ کھو گیا ہے
اگر ایسا ہے تو برسوں سے اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے نہ جانے کتنے معصوموں کی جان لینے والی وہ چڑیل
اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گی
مُجھے رضا آفندی سے پوچھنا ہو گا کہ کیا وہ تعویذ ابھی بھی
انکے بیٹے کے گلے میں موجود ہے
یا پھر میرا شک صحیح ہے
مُجھے کل ھی انکے گھر جانا ہو گا
اور سارے حالات کا جائزہ لینا ہو گا
دل میں سوچتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر آنکھیں کر لیں
اور ایک بار پھر اپنے ورد میں مصروف ہو گئے
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
ہلکے پیلے جوڑے میں پھولوں کے زیورات پہنے وہ کوئی معصوم گڑیا لگ رہی تھی
احد جو کہ کُچھ کام سے اس طرف آیا تھا
کھنک کو دیکھتے ہی اپنی جگہ جم گیا
دل اچھل اچھل کر اُسکے پاس جانے کی۔ اُسے چھونے کی خواہش کرنے لگا
اوپٹن کی رسم تقریباً مکمل ہو چکی تھی
اپنی ساری دوستوں کے جھرمٹ میں بیٹھ کر وہ نہ جانے کس بات پر مسلسل کھلکھلا رہی تھی
ہممم مسز احد رضا تیار رہنا آج شام تمہارے پاس آ رہا ہوں
کتنا تڑپاتی ہو مجھے
اب تھوڑا سا حق تو میرا بھی بنتا ہے
تھوڑا سا کیوں
میرا تو پورا پورا حق بنتا ہے
اپنے دِماغ میں سوچتے ہوئے اس نے مسکرا کر سامنے بیٹھی کھنک کو دیکھا
اور تبھی سب لڑکیوں نے اُوپٹن کے باؤل میں سے ہاتھ بھر کر اوپٹن اٹھایا اور کھنک کو پوری طرح سے اوپٹن میں بھر کر بھوتنی بنا دیا
احد کو اس کی حالت دیکھ کر ہنسی تو بہت آئی
لیکن اپنی ہنسی دباتے ہوئے وہ سرعت سے وہاں سے نکل گیا
✨✨✨✨✨✨✨✨✨
چھوڑوں گی نہی میں ان چڑیلوں کو
ایک تو اتنی سردی ہے
اوپر سے مجھے اپٹن سے نہلا دیا
اپنے جسم سے اوپٹن صاف کرتے ہوئے وہ
اپنی ساری سہیلیوں کو من ھی من صلواتیں سنانے مگن تھی
جلدی جلدی نہا کر اپنا نائٹ ڈریس پہن
فوراً بستر میں دبک گئی
کمرے میں ہیٹر کی گرمائش تھی لیکن
بستر میں گرمائش ہونے کا نام و نشان تک نہیں تھا
کانپ کانپ کر اُسکا برا حال ہوگیا
اللہ جی آج مُجھے بچا لو بس
کل کو مجھے اس حال تک پہنچانے والیوں کو میں آپکے پاس پہنچا دوں گی
کپکپاتے ہونٹوں سے اس نے آسمان کی طرف منہ کر التجا کی
تبھی کسی نے پیچھے سے اُسے اپنے حصار میں لیا
خود کو گرم گرم بازوؤں کے حصار میں محسوس کر لب اپنے آپ مسکرا اٹھے
چہرہ موڑ کر احد کی طرف دیکھا
جو مسکراتے ہوئے اُسے ہی دیکھ رہا تھا
ہممم سردی لگ رہی تھی
تو مجھے آواز دے دیتی
اسکے نم بالوں کو ایک طرف کرکے اس کی گردن کو اپنے لبوں سے چھوا
جی نہیں منہ دھو کر رکھیں ناک چڑھاتے ہوئے
وہ تھوڑا سا کھسک کر اس دور ہوئی
منہ دھو کر ھی آیا ہوں جان
آخر تمہیں منہ جو لگانا ہے
اسکی شہہ رگ پر انگلی پھیرتے ہوئے
اسنے ایک ہاتھ سے اسکی کمر کی زپ کھول کھولی
اپنی زپ کھلتی محسوس کر کھنک کی ریڑھ کی ہڈی سنسنا گئی
اور وہ بجلی کی تیزی سے احد کی بانہوں کا حصار توڑ کر دور ہوئی
کیا کر رہے ہیں آپ گھبرا کر حیرت سے اس نے پوچھا
وہی جو دو پیار کرنے والے میاں بیوی کرتے ہیں
یار کیوں دور گئی ہو چلو اِدھر واپس آؤ
مُجھے تمہیں محسوس کرنا ہے
تاکہ دو مہینوں سے میرے تڑپتے دل کو تھوڑا سا قرار آئے
کتنا رسک لے کر آیا ہوں
میرے بابا اور تمہارے باڈی گارڈ کو چکمہ دینا اب اتنا آسان کام بھی نہی ہے
منہ بنا کر کہتے ہوئے اس نے کھنک کو ایک بار پھر اپنی طرف کھینچا
اور اس بیڈ پر لٹا کر شرٹ کو کندھوں سے نیچے سرکا کر وہاں اپنے دہکتے لب رکھ دیئے
کندھے سے ہوتے ہوئے اسکے ہونٹ اب
پر شدت انداز میں شہہ رگ کو چھونے لگے
احد دیکھیں پلیز
دو دن بعد میں آپکے کمرے میں آ جاؤں گی
ابھی آپ جائیں
اگر کسی نے دیکھ لیا تو ہزار باتیں بنیں گی
اسکی بڑھتی شدتوں کو محسوس کر اُسے خود سے دور کرنے کی کوشش کی
خمار آلود آنکھیں اٹھا کر ایک پل اس نے کھنک کے گھبرائے چہرے کی طرف دیکھا
کوئی کُچھ نہی بولے گا
بیوی ہو تم میری
میرا پورا حق بنتا ہے تم پر
اور اس رخصتی وغیرہ کو میں نہی مانتا
ضدی لہجے میں کہتا ہوا وہ اس کے ہونٹوں پر جھکا
اور پوری شدت سے اُس پر اپنی شدتیں لٹانے لگا
لمبی سانس لے کر کھنک نے آنکھیں بند کر لیں
وہ جانتی تھی اب وہ ضد پر آ گیا ہے
اور اپنی ضد منوانے کا وہ بچپن سے ہی بہت پکّا ہے
پانچ منٹ بعد باہر سے آتی پُکار نے کھنک
کو قہقہہ لگانے پر مجبور کر دیا
جبکہ اُسکے اسطرح قہقہہ لگانے پر احد نے گھور کر اسکی طرف دیکھا
ایسے نہی دیکھیں جہاں پناہ
جائیں آپکا باہر بلاوا آیا ہے
ہنسی ضبط کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اس نے بمشکل کہا
دیکھ لوں گا میں تمہیں بھی اور اپنے ڈیڈ کو بھی
منہ بنا کر وہ دوبارہ کھڑکی کی طرف بڑھ گیا
⁦❣️⁩⁦❣️⁩⁦❣️⁩⁦❣️⁩⁦❣️⁩⁦❣️⁩
ٹک ٹک ٹک کی آواز کے ساتھ جیسے ہی گھڑی کی تینوں سوئیاں بارہ کے ہندسے پر آ کر رکی
احد کے کمرے کی کھڑکی اپنے آپ ایک ایک جھٹکے سے کھل گئی
اور سوئے ہوۓ احد کے کانوں سے ایک مدہوش کر دینے والی دھن آ کر ٹکرائی
ایک دم اپنی آنکھیں کھول کر احد ایک ٹرانس کی کیفیت میں اپنے کمرے سے باہر نکلا
اور سیدھا چلتے ہوئے مین گیٹ کے پاس رکا
نظر گھما کر نیند میں مگن واچ مین کی طرف دیکھا
اور پھر ایک نظر گیٹ کی طرف دیکھتے ہی گیٹ بنا آواز کھلتے چلا گیا
جیسے جیسے اس دھن کی آواز بڑھ رہی تھی
ویسے ویسے احد کے قدموں کی رفتار تیز ہو رہی تھی
اور وہ تیزی سے جنگل کی طرف بڑھنے لگا ۔ اچانک جنگل کے بیچوں بیچ وہ ایک بہت ہی خوبصورت محل کے سامنے آ کر رکا
اور اندر سے نکل کر ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی کو اپنی طرف
بڑھتے دیکھ کر وہ ایک دم وہیں رک گیا
اور پھر وہی خوبصورت لڑکی عین اس کے مقابل آ کر رکی
یہاں کیوں رک گئے جہاں پناہ
اندر آئیں ہمیں آپکا کتنی بے صبری سے انتظار ہے
یہ شاید آپ کبھی نہیں جان پائیں گے
اپنے ہاتھ کی انگلی کے ناخن سے
احد کے ماتھے سے گال پر لکیر کھینچتے ہوئے اس نے معنی خیز انداز میں کہا
اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر کی طرف بڑھ گئی
آئیں یہاں بیٹھیں
ایک طرف گول بیڈ پر اُسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھتے ہوئے وہ منہ ھی منہ میں کُچھ پڑھتے ہوئے اس کے بائیں جانب آئی
گلناز نے اپنا ہاتھ اُس کے بازو پر رکھتے ہوئے آہستہ آہستہ اُوپر کی جانب سرکانا شروع کیا
ہم آپکا اتنے برسوں سے انتظار کر رہے ہیں
کیا آپ بھی ہمارے انتظار میں تھے
اسکے شانوں کے گرد اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر اس نے احد کے کان میں سر گوشی کی
ساکت بیٹھے احد کے دل کو اچانک کُچھ ہوا
اسکا دِماغ بھلے ہی گلناز کے قبضے میں تھا
لیکن دل
اُسکا دل تو صرف کھنک کی پکار کرنے میں لگا تھا
ہاں کھنک میں تمھارا ھی انتظار کر رہا ہوں
بہت پیار کرتا ہوں تم سے
کب آؤ گی میرے پاس
گلناز نے حیرت اور غصے سے اس کی طرف دیکھا
آج تک ایسا نہی ہوا تھا اس نے کسی کو اپنے قابو میں کیا ہو اور
وہ گلناز کے مطلب کی زبان بولنے کے علاوہ کچھ بولا ہو
شدید غصے میں اس نے ایک بار پھر ہاتھ ہوا میں بلند کیا
اور وہی چمکدار خنجر ایک بار پھر برآمد کیا
لیکن جیسے ہی گلناز نے احد پر وار کرنے کے لیے اس خنجر پر اپنی گرفت مضبوط کرنی چاہی
اس خنجر نے اپنے آپ گھوم کر گلناز کے بازو پر ایک گہرا کٹ لگایا اور اسی کے ساتھ گلناز کی ایک دلخراش چیخ اس محل میں گونج اٹھی
درد، تکلیف، اور غصے سے اس نے خنجر کی طرف دیکھا اور جلدی سے کُچھ پڑھا جس سے وہ خنجر ایک بار پھر ہوا میں تحلیل ہو گیا
اور اسی کے ساتھ گلناز کے سامنے ایک سنہری روشنی نمودار ہوئی
خوبصورت سفید لباس میں ایک انتہا کی خوبصورت پری نے ایک نظر گلناز کی طرف دیکھا
تمہیں شاید پتہ نہیں ہے گلناز یہ خنجر کوئی عام خنجر نہی جسے تم کبھی بھی نکال کر کسی پر بھی وار کر دو گی
یہ ہمارا خنجر ہے
یہ وقت سے پہلے کُچھ نہی کرتا
اور ہاں جو تمہارے سامنے بیٹھا ہے یہ بھی کوئی عام شکار نہی ہونے والا تمہارے لیئے
ذرا دیکھو اس کی آنکھوں میں
تمہیں محبت کا ایک جہاں نظر آئے گا
تم لوگوں کے دماغ کو قبضے میں لے سکتی ہو
مگر دل کو نہی اور جس دل میں محبت ہو وہ دل چاہ کر بھی کم از کم تمھاری گرفت میں تو آنے سے رہا
لیکن نہ جانے کیوں ہمیں اس انسان کے ماتھے کی لکیروں میں تمھاری موت نظر آ رہی ہے
تمہیں ہماری دی گئی بددعا سے کبھی رہائی نہی ملے گی گلناز
یہ ہمارا ایمان اور خدا پر یقین ہے
ظلم کا کبھی بول بالا نا ہوا ہے نہ ہو گا
تم کبھی بھی رہائی پا کر ہم پریوں پر راج نہی کر سکتی
💖💖💖💖💖💖💖💖
مہندی کا فنکشن اپنے عروج پر تھا
تبھی ایک نوکر بھاگ کر رضا آفندی تک آیا
اور تیزی سے کُچھ ان کے کانوں میں بڑ بڑا
کر رضا آفندی کا اشارہ پاتے ہی باہر کی طرف چلا گیا
اور اسی کے ساتھ رضا آفندی نے بھی باہر کی طرف قدم بڑھا دیئے
💖💖💖💖💖💖💖💖
اسلام علیکم بابا
آج اتنے وقت بعد آپ کا آنا ہوا
آپ کو اگر کوئی کام تھا تو مجھے بلا لیا ہوتا
خود آنے کی زحمت کیوں کی
کرنی پڑی آفتاب
بات ہی کُچھ ایسی تھی
جا کر احد کو بلاؤ
اور پتہ کرو جو تعویذ ہم نے اسے بنا کر دیا تھا کیا وہ اس کے گلے میں ابھی بھی موجود ہے یا پھر گم ہو گیا ہے
یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں بابا
آپ جانتے ہیں کہ احد کبھی بھی اس تعویذ کو خود سے دور نہی کرتا
اگر آپکو یقین نہیں ہے تو میں ابھی اُسے بلوا کر پوچھتا ہوں
آپ اندر تشریف لائیں
بابا کو ڈرائینگ روم میں بٹھا کر وہ خود احد کی تلاش میں نکل گئے
✨✨✨✨✨✨
پانچ منٹ بعد رضا آفندی احد کے ساتھ ڈرائینگ روم میں داخل ہوئے
یہ دیکھیں بابا میں احد کو لے آیا ہوں
اب آپ خود اس سے پوچھ لیں
کہ اس کا تعویذ اس کے پاس ہے یا کسی اور کے پاس
بابا نے ایک نظر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا
بہت غور سے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ کچھ قدم چل کر اُسکے قریب آئے
بیٹا آپکا تعویذ کہاں ہے جو میں نے آپکو بچپن میں جب آپ بیمار ہوئے تھے اس وقت بنا کر دیا تھا
ایک بار مجھے وہ تعویذ اپنی آنکھوں سے دیکھنا ہے
بب۔۔۔۔۔۔
۔ بابا وہ تعویذ کھو گیا
میں نہی جانتا کیسے کھو گیا
کیوں کہ میں اسے بہت حفاظت سے رکھتا تھا
لیکن نا جانے کیسے و گم ہو گیا
مُجھے خود سمجھ نہیں آ رہی
اسکی باتوں پر جہاں بابا سوچ میں پڑ گئے
وہیں رضا آفندی نے حیرت سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا
اتنی بڑی بات ہو گئی اور تم ہمیں اب بتا رہے ہو
جانتے نہی ہو اگر پچیس سال کا ہونے سے پہلے وہ تعویذ تمہارے گلے سے نکلا تو تمھاری جان کو خطرہ ہے
جب بابا نے وہ تعویذ بنایا تھا
تو اس وقت تمہیں صاف صاف لفظوں میں کہا تھا
کہ اگر اب یہ تعویذ تم کھو دیتے ہو
تو وہ بھی تمھاری جان نہی بچا سکیں گے
لہجے میں غصّہ اور فکر لیئے رضا آفندی نے احد کو اچھا خاصا جھاڑ دیا
ڈیڈ میں بتا رہا ہوں
میں اس تعویذ کی خود سے بھی زیادہ حفاظت کرتا تھا
لیکن مجھے نہی پتہ چلا کب،کہاں،کیسے وہ تعویذ اپنے آپ میرے گلے سے نکل کر کہاں کھو گیا
چھوڑ دو رضا بیٹا اسے
اس پر غصّہ کرنے کا کو فائدہ نہیں
ایک نہ ایک دن تو ایسا ہونا ہی تھا
اس چڑیل نے کسی نہ کسی بہانے سے وہ تعویذ اسکے پاس سے دور کر ھی دینا تھا
اس میں زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں
مُجھے اسی وقت اندازہ تھا
اب ہمیں یہ سوچنا یہ ہے کہ اس تعویذ کے بنا ہم اُسے کیسے روکیں
کیوں کہ کوئی برائی ایسی نہی ہوتی جسکا خاتمه نہ کیا جا سکے