92.7K
6

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

اوہ گلناز تم کتنی خوبصورت ہو جب جب مجھے لگتا ہے کہ آج تم سب سے زیادہ خوبصورت لگ رہی ہو لیکن اس سے اگلے دن تم میری سوچ کو غلط ثابت کر دیتی ہو جب سے تم میری زندگی میں آئی ہو مُجھے ایسا لگتا ہے مجھ سے زیادہ خوبصورت زندگی کسی کا مقدر نہی ہے مجھے ایسا لگنے لگا ہے کہ خدا نے مجھے دنیا میں ھی جنت دے دی ہو میں بہت خوش قسمت ہوں جو مجھے تمھارا ساتھ ملا
خوشی سے بھر پور انداز میں وہ انسان اپنے جزبات بیان کر رہا تھا
میں بھی بہت خوش قسمت ہوں جو مجھے تم ملے اور آج ہم ایک ہو جائیں گے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے
ہو جائیں گے
اپنی بلیک ساڑھی کا پلو ہٹا کر وہ اپنے دو آتشہ حسن کے ساتھ اُسکے سامنے آئ
آؤ جان آج ہم اپنے بیچ کی ہر دوری کو مٹا کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ایک ہو جائیں
گلناز نے خمار آلود لہجے میں اسے اپنی طرف بلایا
اور وہ جو پہلے سے ہی اس کے حسن و جمال کا گرویدہ تھا گلناز کے اس انداز پر فدا ہوتے ہوئے اُسکے پاس آیا
ایک پل اس حسن و جمال کی مورت کے حسن کو اپنی آنکھوں میں بسایا
اور پھر آہستگی سے اس پر جھک کر گلناز کے ہونٹوں کو اپنی قید میں لیا اور شدت سے اپنی شدتیں اس پر لٹانے لگا آہستہ آہستہ اپنے اور اس کے بیچ کے ہر پردے کو گرا کر پوری طرح اس پر حاوی ہو گیا
رات کے بارہ بجنے میں ابھی بس پانچ منٹ باقی تھے
جب گلناز نے اس وجود کو اپنے اُوپر سے ہٹا کر ایک طرف کیا اور اُسکے سر پر ہاتھ رکھ کر کُچھ تیز تیز پڑھنے لگی تقریباً دو منٹ یہی عمل دوہرا کر وہ اسکی ران کے پاس آئی جہاں ایک مخصوص قدرتی نشان تھا
اس نشان کو دیکھتے ہی گلناز کی آنکھوں میں شیطانی چمک ابھری جلدی سے اس نشان پر اپنی انگلی اور انگوٹھے کو ایک خاص انداز میں بیٹھا کر کُچھ پڑھنے لگی
جیسے جیسے وہ پڑھائی کر رہی تھی ویسے ویسے اپنے اصلی روپ میں آتے ہوئے اُسکا حسین و جمیل روپ ایک بھیانک چڑیل کا روپ اختیار کرنے لگا
اور بارہ بجنے سے دس سیکنڈ پہلے اُسکا عمل مکمل ہوا اور وہی نشان جو اس لڑکے کے وجود پر تھا اب اسکے ہاتھ کی بائیں طرف موجود تھا جسے دیکھ کر خوشی سے اُسکا قہقہہ بلند ہوا جو اس کھنڈر حویلی کی در و دیوار کو ہلا گیا پھر ایک دم اس نے ہاتھ ہوا میں بلند کیا اور ایک سفید چمکتا ہوا چاندی کا خنجر برآمد کیا
اور پھر بنا کسی دیری کے بہت بیدردی سے وہ خنجر اس وجود کی پیٹھ میں گھونپ دیا
جیسے ہی اس نے وہ خنجر باہر نکالا اس خنجر پر لگا خون اپنے آپ اس خنجر میں جذب ہو گیا
جسے دیکھ کر ایک پل کے لیئے گلناز کے دل میں خوف کی لہر دوڑ گئی
لیکن پھر کُچھ سوچ کر مسکراتے ہوئے دوبارہ سے اس خنجر کے ساتھ ہاتھ کو ہوا میں بلند کیا آنکھیں بند کر کے کُچھ پڑھتے ھی وہ خنجر دوبارہ سے ہوا میں تحلیل ہو گیا
چھ پورے ہوئے اب بس ایک رہتا ھے وہ بھی جلد بلی چڑھا کر میں واپس اپنے روپ میں آ جاؤں گی
اور بےشمار طاقت کی مالک بن کر راج کروں گئی
ہاہاہاہاہاہاہاہا
✨✨✨✨✨✨✨✨

مُجھے ساجن کے گھر جانا ہے
ہو مجھے ساجن کے گھر جانا ہے
شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر سرخ رنگ کی لپ اسٹک سے اپنے گلابی گُلابی ہونٹوں کو رنگتے ہوئے وہ گنگنانے میں مصروف تھی
تبھی کسی نے اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لیا
اہم اہم اگر اتنی جلدی تھی میرے پاس آنے کی تو مجھے پہلے بتا دیتی میں بنا رخصتی کے یوں ہی آپکو اپنے کمرے تک لے جاتا
مُجھے لگا آپ کی قربت کے لئے بس میں ہی بیتاب ہوں
مگر یہاں تو مجھے لگتا ہے آگ دونوں طرف برابر کی لگی ہے اسکے کندھے پر اپنے لب رکھتے ہوئے احد نے اسکی کمر کی زپ کو کھولا نیچے سے اسکی کمر کی نرمائ کو اپنے دونوں ہاتھوں سے محسوس کرتے ہوئے آہستہ آہستہ اُسکے ہاتھ کندھوں پر آئے
اپنے دونوں ہاتھوں سے اُسکے کاندھوں پر ہلکا سا وزن دے کر کھنک کو ہلکا سا نیچے جھکایا اور اسکی کمر کے بیچ میں موجود تل پر اپنے لب رکھ دیئے
یہ کیا کر رہے ہیں آپ
اپنا رخ دوسری طرف کرتے ہوئے اس نے ابرو اٹھا کر پوچھا اور اپنی بے ترتیب دھڑکنوں کو سنبھالنے کو کوشش کی
پیار کر رہا ہوں جانِ جاناں تمہیں احساس دلا رہا ہوں
تمھارا ساجن تمہارے پاس ہے تمہارے ساتھ ہے
ایک بار پھر اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے احد نے اسکی کمر پر گرفت مضبوط کی
جی نہی مجھے پتہ ہے آپ یہیں ہو
اور زیادہ میرے قریب آنے کی ضرورت نہیں
اگر ایسا سوچا بھی تو میں نے آپ کے بابا کو بلا لینا ہے پھر انہیں جواب دیتے رہنا
رخصتی کے تین دن پہلے آپ میرے کمرے میں کیا کر رہے ہیں
جبکہ آپکو سختی سے منع کیا گیا ہے کہ جب تک میں یہاں سے رخصت ہو کر آپکے کمرے میں نہی آ جاتی
تب تک آپکا مجھ سے ملنا منع ہے
کوئی اب شگن ہو جائے گا
کوئی اب شگن نہی ہوتا میں نہی مانتا یہ سب کہنے کی باتیں ہوتی ہیں
ورنہ بس دل ملنے چاہئے باقی کوئی شگن اور اب شگن نہی ہوتا
تمہیں کیا لگتا ہے یہ سب بکواس باتیں ہوتی ہیں
اگر تمہیں ایسا لگتا ہے تو مسٹر آدھے ہسبنڈ آپکو غلط لگتا ہے ایسا ہوتا ہے ہمارے ہمارے بزرگ ہمارے بڑے کبھی غلط نہی کہتے
سمجھ آئی بات
اوکے بابا ٹھیک ہے چلا جاتا ہوں لیکن پہلے ایک کس دو پھر
جی نہی کوئی کس نہی ہے میرے پاس
جائیں تین دن بعد آئیے گا میرے پاس پھر سوچوں گی
آپکو کس دینی ہے یا نہیں
اوہو ایسی بات ہے تو ڈارلنگ ایک بات سمجھ لو کس میں ابھی لے کر جاؤں گا
اور جہاں تک تیسرے دن کی بات ہے تو اس دن تو میں نے تمھاری ایک نہی چلنے دینی
اپنے سارے حق اس دن میں سود سمید وصولوں گا
اور پھر تمھاری یہ چھوٹی چھوٹی دھمکیاں دھری کی دھری رہ جائیں گی جب میں پورے حق سے تمھاری روح میں آ بسوں گا
اب تم شرافت سے میرے قریب آؤ اور مجھے ایک کس کرنے دو
کیونکہ اگر میں تمہارے قریب آیا تو یہ تمہارے لیے اچھا نہیں ہو گا
آؤ یہاں
بیڈ کے کنارے پر بیٹھتے ہوئے اس نے انگلی کے اشارے سے کھنک کو اپنے قریب بلایا
اس کے اسطرح حکمیہ انداز پر وہ منہ بناتی اسکے قریب آئ
اور اُسکے پاس بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گئی
جب ہی احد نے جھٹکے سے اسے اپنی بانہوں میں قید کر کے بیڈ پر لٹایا اور خود اس کے اوپر آ کر کھنک کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے
پیالوں میں بھر کُچھ پل اُس حسین چہرے نقوش کو آنکھوں
میں جذب کرتے ہوئے اپنے دہکتے لب اسکی پیشانی پر رکھے
کیا سچ میں تم انجان ہو میری محبت سے
میری پل پل کی تڑپ کی تمہیں کوئی خبر نہیں
اسکے چہرے کے ایک ایک نقوش کو دیوانہ وار چومتے ہوئے
وہ اس سے اپنی تڑپ اور محبت کا اظہار کرنے لگا
کُچھ پل اُسکے نرم و نازک گلاب کی پنکھڑیوں جیسے لبوں کو
سرخ لپ اسٹک سے سجا دیکھا اور پھر انگوٹھے سے لپ اسٹک صاف کرتے ہوئے وہ اس پر جھکا
اور پوری شدت سے اُس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کیا
اور دیوانہ وار اپنے شدتیں اس پر لٹاتے ہوئے وہ کھنک کی سانسوں کے ساتھ دھڑکنوں کو بھی درہم برہم کر گیا
اپنے آپ کو سیراب کرتے ہوئے اسے کھنک کا خیال آیا
تو سرعت سے پیچھے ہو کر اس کے چہرے کی طرف دیکھا
جو لمبے لمبے سانس لے کر اپنی سانسوں کو بحال کرتے ہوئے بے ترتیب دھڑکنوں کو سنبھالنے میں لگی تھی
بس اتنے میں بس ہو گئی
میری جان ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہی ہے
چلتا ہوں کل کے اوپٹن کی تیاری بھی کرنی ہے
اور اپنے ڈیڈ کو بھی اپنا دیدار کروانا ہے
جن کی نظروں سے میں کُچھ پل کے لیئے بھی دور ہو جاؤں تو وہ مجھے کسی رانجھے کی طرح ڈھونڈنے میں لگ جاتے ہیں
✨✨✨✨✨✨✨
آج تو ملکہ عالیہ کو اچھا سبق سیکھایا اب کل تک میرا دن سکون سے گزرے گا۔
بیڈ پر اوندھے منہ گرتے ہوئے اس نے خود کو داد دی اور آنکھیں بند کرکے ایک بار پھر کھنک کے لمس کو اپنے ہونٹوں پہ محسوس کیا
اللہ توبہ کیسی جادوگرنی بیوی ملی ہے مجھے ابھی ابھی اُسکے
قریب سے آیا ہوں اور ابھی پھر یہ دل اُسکے پاس جانے کو مچلنے
لگا ہے ۔
اگر میرا یہی حال رہا تو پکّا ڈیڈ مجھے پاگل خانے بھجوا دیں گے
تین دنوں بعد وہ تیرے پاس ہو گی
تیری بانہوں میں ہو گی۔۔ پھر اس سے سارے حساب کتاب پورے کرنا
جتنا وہ تیرے دل اور دماغ پر سوار ہو کر تُجھے تنگ کرتی ہے
پھر اس سے زیادہ اُسے تنگ کرنا
جیسے تُجھے اسکی وجہ سے ساری ساری رات نیند نہی
آتی ہے
ویسے ہی تو بھی اسے سونے نہی دینا ساری رات
دل میں سپنے سجائے اور دماغ میں آگے کا سوچتے ہوئے اس نے تکیے کو خود میں بھینچا اور
آنکھوں میں کھنک کی تصویر کو بسائے اس نے آنکھیں موند لیں
لیکن پھر جو منظر آنکھوں کے آگے سے گزرا احد کو ہوش و حواس
سے بیگانہ کر گیا ۔ توبہ استغفراللہ اتنا ڈراونا خواب یا اللہ ایسے خواب تو مُجھے بچپن میں آتے تھے ۔ لیکِن جب سے بابا نے تعویذ دیا تھا
مُجھے یہ خواب آنا بند ہو گئے تھے
اپنے گلے میں ہاتھ ڈال کر اس نے تعویذ کو محسوس کرنا چاہا
لیکن وہاں کُچھ بھی نہ پا کر وہ ایک دم بوکھلا اٹھا
یہ۔۔۔۔۔۔ یہ کیسے ہوا
مم۔۔۔ میرا تعویذ کہاں چلا گیا پریشانی سے اپنے بیڈ روم کی ہر چیز کو اوتھل پتھل کر بکھیرتے ہوئے اس نے اپنا تعویذ ڈھونڈنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن ساری کوشش بے کار ہو گئی اُسے
اپنے کمرے میں تعویذ کا نام و نشان تک نہ ملا
ایسا نہی ہو سکتا میں کُچھ دنوں بعد پچیس سال کا ہونے والا ہوں
بابا کے مطابق پچیس سال کا ہونے سے پہلے وہ تعویذ میرے
گلے سے نہی اترنا چاہئے تھا
ورنہ میری جان کو خطرہ ہے
اب میں کیا کروں
کتنی مُشکِل سے مجھے سات دن اندھیرے کمرے میں رکھ کر بابا نے وہ تعویذ بنایا تھا اور ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ یہ تعویذ بس ایک بار بنے گا
اگر میں نے اسے گم کر دیا تو میری زندگی خطرے میں پڑ جائے گی
اور پھر مجھے بچانے کے لئے وہ بھی کُچھ نہیں کر سکیں گے
گھبراتے ہوئے وہ خود میں ہو بڑبڑائے جا رہا تھا
اور گلناز پانی میں یہ منظر دیکھ کر زور سے ہنسی
میرے آخری شکار
تم کیا جانو تم سے وہ تعویذ دور کرنے کے لئے میں کب سے محنت کر رہی ہوں
پر چلو شکر ہے دیر آئے درست آئے
تمہارے پچیس سال کا ہونے سے پہلے میں نے وہ تعویذ تم سے دور کر ھی دیا
اب بس مُجھے تمھاری اس منکوحہ کو ہر رات سلا کر رکھنا ہے
اگر وہ تمہارے پچیس سال کا ہونے سے پہلے تمہارے قریب آ گئی
تو میرے آج تک کے کیئے کرائے پر پانی پھر جائے گا
اور پھر میری جان کو خطرہ لاحق ہو جائے گا
اب تم تو میرے جال میں پھنس ہی جاؤ گے
کیونکہ گلناز چیز ہی ایسی ہے
اپنے آپ کو ایک خوبصورت لڑکی کی شکل دیتے ہوئے آئینے کے سامنے آکر وہ زور سے ہنسی
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
نہی ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا
ہاتھ میں پکڑی سفید تسبی ،، بے داغ سفید کپڑے
پُرنور چہرے پر سفید داڑھی میں وہ باریش بزرگ جو کہ آنکھیں بند کرکے اپنے ورد میں مصروف تھا
اچانک سے کُچھ نظر آنے ایک جھٹکے سے اٹھا
کیا اس لڑکے سے وہ تعویذ کھو گیا ہے
اگر ایسا ہے تو برسوں سے اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے نہ جانے کتنے معصوموں کی جان لینے والی وہ چڑیل
اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گی
مُجھے رضا آفندی سے پوچھنا ہو گا کہ کیا وہ تعویذ ابھی بھی
انکے بیٹے کے گلے میں موجود ہے
یا پھر میرا شک صحیح ہے
مُجھے کل ھی انکے گھر جانا ہو گا
اور سارے حالات کا جائزہ لینا ہو گا
دل میں سوچتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر آنکھیں کر لیں
اور ایک بار پھر اپنے ورد میں مصروف ہو گئے
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
ہلکے پیلے جوڑے میں پھولوں کے زیورات پہنے وہ کوئی معصوم گڑیا لگ رہی تھی
احد جو کہ کُچھ کام سے اس طرف آیا تھا
کھنک کو دیکھتے ہی اپنی جگہ جم گیا
دل اچھل اچھل کر اُسکے پاس جانے کی۔ اُسے چھونے کی خواہش کرنے لگا
اوپٹن کی رسم تقریباً مکمل ہو چکی تھی
اپنی ساری دوستوں کے جھرمٹ میں بیٹھ کر وہ نہ جانے کس بات پر مسلسل کھلکھلا رہی تھی
ہممم مسز احد رضا تیار رہنا آج شام تمہارے پاس آ رہا ہوں
کتنا تڑپاتی ہو مجھے
اب تھوڑا سا حق تو میرا بھی بنتا ہے
تھوڑا سا کیوں
میرا تو پورا پورا حق بنتا ہے
اپنے دِماغ میں سوچتے ہوئے اس نے مسکرا کر سامنے بیٹھی کھنک کو دیکھا
اور تبھی سب لڑکیوں نے اُوپٹن کے باؤل میں سے ہاتھ بھر کر اوپٹن اٹھایا اور کھنک کو پوری طرح سے اوپٹن میں بھر کر بھوتنی بنا دیا
احد کو اس کی حالت دیکھ کر ہنسی تو بہت آئی
لیکن اپنی ہنسی دباتے ہوئے وہ سرعت سے وہاں سے نکل گیا
✨✨✨✨✨✨✨✨✨
جاری ہے