Rahayi By SI Writes Readelle50235 Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
مُجھے اس لڑکے سے اتنے غیر زمہ دار ہونے کی امید نہی تھی
سب لوگ طرح طرح کی باتیں بنا رہے ہیں اور یہ صاحب اپنی شادی کے دن گھر سے غائب ہیں
ہم اب مہمانوں کو کیا جواب دیں
رضا دیکھیں آپ اس کے دوستوں سے پتہ کریں
اسکے دوستوں کو ضرور پتہ ہو گا کہ وہ کہاں ہیں،بیگم آپکو کیا لگتا ہے میں یوں ہی بیٹھا ہوں تب سے
اسکے ایک ایک دوست سے پتا کروا چکا ہوں
اسکے سب دوست یہیں موجود ہیں کوئی نہی جانتا آپکا لاڈلا کہاں گم ہے ہزاروں بار اسے کال لگا چکا ہوں
نہ جانے اپنا موبائل کو کونسے اندھیرے کنویں میں پھینکا ہے
جہاں سے اسے ہماری کوئی کال رسیو نہی ہو رہی
💖💖💖💖💖💖
حال میں داخل ہوتے ہی اسکی سب سے پہلی نظر کھنک کے گھبرائے چہرے پر پڑی
شاید اس کی نا موجودگی کا اسے بھی علم ہو چکا تھا
تبھی شاید اس نازک موقعے پر اُسکا ننھا سا دل گھبرا اٹھا ہو گا
لیکن چاہے کُچھ ہو جائے
۔میں تمہیں کبھی رسوا ہوتے نہی دیکھ سکتا
مُجھے تو آنا ہی تھا
اسکے معصوم سے چہرے پر نظریں ٹکاتے ہوئے اس کے چہرے کو ایک پھیکی سی مسکان نے چھوا
رضا آفندی جو احد کے اتنا دیر سے آنے پر اسکی کلاس لینے کے لئے اسکی طرف بڑھ رہے تھے
اپنے بیٹے کے چہرے پر ویرانی ، کرب ،دکھ، بےبسی دیکھ کر اپنی جگہ سے ہل بھی نہی سکے
کل تک تو انکا بیٹا ٹھیک تھا
ہاں تعویذ کھو جانے پر پریشان ضرور تھا
لیکن ایک ہی رات میں ایسا کیا ہو گیا جو اس کے ہنستے کھیلتے چہرے کی مسکراہٹ کی جگہ
ان چیزوں نے لے لی تھی
بیگم ایک کام کریں صرف ضروری ضروری رسمیں کریں اور سارے مہمانوں کو نمٹا دیں جلدی جلدی
یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں
ابھی تو احد آیا ہے
اور شادی بار بار تھوڑی ہوتی ہے
اگر آج بھی اپنے شوق پورے نہی کیئے تو پھر کب کروں گی
بیگم معاملے کی سنگینی کو سمجھنے کی کوشش کریں اور جو میں کہہ رہا ہوں وہ کریں
ایک گھنٹے میں سب نمٹا دیں
جلدی کریں
میں ابھی آیا
💖💖💖💖💖
ہیلو بابا
رضا آفندی نے فون ملا کر کان کو لگاتے ھی بابا کو پکارا
اسلام علیکم
واعلیکم اسلام بیٹا
کیا ہوا کوئی مسئلہ ہو گیا ہے کیا
ہاں بابا احد پہلے تو صبح سے گھر نہی آیا تھا
حالانکہ آج اسکی شادی ہے
بارات ہے
اس دن کے لئے وہ کتنا اوتانولا تھا
یہ مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا ہو گا
لیکن آج جب وہ آیا
تو اس کے چہرے پر خوشی ڈھونڈے سے نہی مل رہی تھی
بلکہ دکھ ، پریشانی
اور ایسی بے بسی اُسکے چہرے پر چھائی تھی
جسے دیکھ کر میرا دل دہل اٹھا
آپ کُچھ کریں بابا
میرے بیٹے کو کُچھ نہیں ہونا چاہئے
آپ کُچھ بھی مانگیں گے میں آپکو دوں گا
لیکن میرے بیٹے کو بچا لیں کہ وہ ہماری کل کائنات ہے پلیز بابا کُچھ کریں
تم فکر نہی کرو بیٹا
میں آتا ہوں
ہم مل کر بات کرتے ہیں
💖💖💖💖💖
پتہ نہیں خود کو کیا سمجھتا ہے
ویسے تو بہت اکسائٹمنٹ دکھاتا تھا
اور آج جب وہ دن آ گیا
تو یہ صاحب سرے سے ہی غائب تھے
آ جائے ایک بار کمرے میں سارے نخرے نکال دوں گی
سہاگ کی سیج پر بیٹھ کر ہاتھوں کی مٹھیاں بناتے ہوئے اس نے دل میں پکّا عہد کیا
💖💖💖💖💖💖
کیا ہوا ہے بابا نے احد کو اپنے سامنے بیٹھا کر پوچھتے ہوئے کہا
ایسا کچھ نہی ہے بابا بس یوں ہی طبیعت خراب ہے
احد نے نظریں چراتے ہوئے کہا
دیکھو بیٹا تم اچھے سے جانتے ہو کہ تم کم سے کم مجھ سے جھوٹ نہی بول سکتے
دیکھو تمہارے ساتھ تمہارے ماں باپ کی خوشیاں ،، امیدیں ،، زندگی جڑی ہیں
اور اب تمہارے ماں باپ کے ساتھ ایک اور زمہ داری تمہارے کاندھوں پر آ گئی ہے
جسکی ہر خوشی اور غم صرف تم سے تم تک منسوب ہیں
تم صرف اپنی زندگی کے ساتھ نہی بلکہ ان سب کی زندگی کے ساتھ کھیل رہے ہو
جو بھی اثر تمھاری زندگی پر ہو گا
اس سے کہیں زیادہ اثر ان اب کی زندگی پر ہو گا
تو اب اگر مجھ سے کچھ بھی چھپانا ہو تو یہ سب باتیں ذہن میں رکھ کر چھپانا
احد نے ایک نظر اپنی ماں کی طرف دیکھا جسکی آنکھیں چھلکنے کو بیتاب تھی
ایک ڈر تھا خوف تھا
اپنے جگر کے ٹکڑے کو کھو دینے کا ڈر
اور ایک نظر اپنے باپ کی طرف دیکھا
جن کے چہرے پر باپ کی شفقت کے ساتھ درد بھی تھا
وہ تھوڑے سخت ضرور تھے
لیکن صرف غلط بات کے لئے
ورنہ وہ احد کے اس دنیا میں سب سے اچھے اچھے دوست تھے
اور پھر آنکھوں کے پردے پر کھنک کا معصوم چہرہ جھلملا گیا
کوئی بھی تو نہی تھا اسکا اس دنیا میں
نا ماں نا باپ کس کے بھروسے وہ اپنے پیاروں کو چھوڑ کر جا رہا ہے
کیا گارنٹی ہے اُسکے جانے کے بعد وہ ان سب کو کُچھ نہیں کرے گی
اور کیا یہ سب اُسکے بغیر خوش رہ پائیں گے
یا پھر وہ ڈر گیا ہے
جو ہمیشہ بچپن میں جن بھوتوں کو مارنے کے کھیل کھیلا کرتا تھا
اسکول کے ہر فنکشن میں وہ اسی طرح کے کسی ڈرامے میں حصہ لیتا تھا
جس میں کسی برائی کو ختم کرنا ہو
آج جب اصل زندگی میں برائ سے اُسکا سامنا ہوا ہے
تو کیا وہ ڈر جائے گا
کیا وہ صرف ڈراموں تک ہی ہیرو تھا
جبکہ اسنے سنا تھا ہر انسان اپنی زندگی کا خود ہیرو ہوتا ہے
ایک برائ کے دھمکانے سے وہ ڈر گیا
یا پھر اس میں ہمت نہی ہے
اس برائی سے لڑنے کی
کُچھ دیر اپنے آپ سے جھوجھنے کے بعد اسے سوچوں کی دنیا سے بابا کی آواز کھینچ کر لائ
بتاؤ بیٹا ہم نے کُچھ پوچھا ہے تم سے
بابا کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے ایک لمبی سانس کو اپنے اندر اتارا
اور پھر اُسکے ساتھ ہونے والے ایک ایک واقعے کو بتاتا چلا گیا
احد کی ساری باتیں سن کر بابا کسی گہری سوچ میں ڈوب گئے
آخر اس نے تمہیں اپنا رشتہ مکمل کرنے سے ہی کیوں روکا
مُجھے لگتا ہے بیٹا
ہمارے ہاتھ اسکی کوئی کمزوری لگنے والی ہے
میں کُچھ ورد کر کے سارے معاملے کا پتہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں
اور اس پری سے بھی رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرتا ہوں جس کی وجہ سے وہ اس بد دعا کی قید میں ہے
لیکن تب تک تم وہی کرو جو وہ کہتی ہے
اُسے بلکل شک نہی ہونا چاہئے کہ تم اسکی مرضی کے خلاف کُچھ کر رہے ہو
اُسے یہی لگنا چاہیے کہ تم بلکل اُسکے بس میں ہو اور اس سے اتنا زیادہ ڈر گئے ہو کہ اسکی مرضی کے خلاف تم کُچھ کرنا نہی چاہتے
❣️❣️❣️❣️❣️
جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوا سامنے ھی اپنی محبت،چاہت ، پورے حق سے اُسکے بستر پر آنکھیں موندے لیٹی تھی
ڈل گولڈن رنگ کے لہنگے میں نفاست سے سنوارے گئے خوبصورت نین نقوش کو سنوار کر اُسکے معصوم حسن کو مزید دو آتشہ بنا دیا گیا تھا
ایک پل کے لیئے احد کو اپنا آپ بے بس ہو کر کمزور ہوتا محسوس ہوا
لیکن اُسے کمزور نہی پڑنا تھا
آگے بڑھ کر
اسکے نازک سراپے سے نظریں چراتے ہوئے اس نے کرخت لہجے میں اسے پکارا
کھنک اٹھو
بازو پکڑ کر اسے اٹھاتے ہوئے اس نے ایک بار پھر کھنک کو پکارا
ہڑبڑا کر اٹھتے ہوئے اس نے نا سمجھی سے احد کی طرف دیکھا
یہاں کیا کر رہی ہو
جاؤ اپنے کمرے میں
کک۔۔۔۔ کیا مطلب ہے آپکا
کہاں جاؤں میں
ہماری شادی ہو گئی ہے تو اب یہی میرا کمرہ ہوا نا
اور آپ غصّہ کیوں ہو رہے ہو
غصّہ تو مجھے ہونا چاہئے
سب لوگوں کے درمیان مجھ اکیلی کو چھوڑ کر چلے گئے
پتہ بھی ہے لوگ کتنی عجیب عجیب باتیں کر رہے تھے مجھے دیکھ دیکھ کر
جیسے میں نے کوئی جرم کر دیا ہو
کیوں کیا آپ نے ایسا
جواب دیں میرا ذرا سا بھی خیال نہی ہے نا آپکو
غصے سے دو بدو بولتے ہوئے وہ احد پر چڑھ دوڑی
دیکھو کھنک میرے غصے کو اور ہوا نہی دو اس سے پہلے کہ میں غصے میں کُچھ غلط کر جاؤں
ابھی اور اسی وقت میرے کمرے سے جاؤ
صبح بات کریں گے
کیوں جاؤں میرا قصور تو بتائیں
کیوں کر رہے ہیں آپ یہ سب
کل تک تو سب ٹھیک تھا
اب اچانک ایسا کیا ہو گیا ہے جو آپ مجھ سے اس قسم کا رویّہ اختیار کر رہے ہیں
ابھی مجھ سے کوئی سوال جواب نہی کرو اور جاؤ یہاں سے
اُسکا ہاتھ پکڑ کر کمرے سے باہر نکالتے ہوئے احد نے بے تاثر نظروں سے اسکی طرف دیکھا
اور بنا کسی دیری کے دروازہ بند کر دیا
جانتا تھا کُچھ دیر اور کھنک کی طرف دیکھا تو سب سچ اگل دے گا
دروازہ کھولیں احد
آپ میرے ساتھ بنا کسی وجہ بنا کسی قصور کے ایسا سلوک نہی کر سکتے
دروازہ کھولو
دروازے کو اپنے ہاتھوں سے بجاتے ہوئے اس نے غصے سے کہا
کافی دیر کی کوشش کے باوجود جب آگے سے کوئی رسپانس نہی آیا
تھک کر شکستہ قدموں سے وہ واپس اس کمرے کی طرف بڑھ گئی
جہاں آج تک وہ رہتی آئی
کیا بچ گیا تھا اسکے پاس آج
پہلے ماں باپ کو خدا لے گیا
اور اب جسے اپنا سب کچھ مانا وہ بھی اُسے بنا کسی قصور کے خود سے دور کر گیا
دو آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر رخسار پر بہہ گئے
آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے اپنے سجے سنورے روپ کو دیکھا
کتنی خوش تھی وہ آج
پالر والی کو بھی اس نے اپنا میک اپ کرنے سے منع کر دیا تھا
اسے لگتا تھا کہ وہ اس سے بہت محبت کرتا ہے
اسی لیئے اج ہمیشہ کے لئے جب وہ اسکی ہونے جا رہی ہے تو اُسکے رنگ روپ کو کوئی اور کیوں سنوارے
اسکے لیۓ وہ خود سجے گی
جھمکے اتارتے ہوئے اس نے اپنے ہونٹوں پر سجی لال رنگ کی لپسٹک کو دیکھا
جو احد کو بہت پسند تھی
ہاتھ بڑھا کر اُس نے انگوٹھے سے اپنے ہونٹوں سے لال رنگ کو مٹایا
اچانک ہوا کے ایک تیز جھونکے سے اس پر نیند کا شدید غلبہ آنے کے ساتھ ہی وہ فرش پر ڈھ کے ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئی
