Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Paharon Ki Beti by Maria Shah Episode09

Paharon Ki Beti by Maria Shah Episode09

بیٹا آپ کب سے ایسے ہی بیٹھی ہو۔۔۔کھانا کھاؤ نا“ آسیہ بیگم نے اس کا کندھا ہولے سے ہلا کر کہا۔ وہ جیسے اس کے آگے کھانے کی ٹرے رکھ کر گئی تھیں اب تک ویسی ہی پڑی ہوئی تھی اور وہ گم صم بیٹھی نہ جانے کہاں پہنچی ہوئی تھی۔ جواب میں وہ خالی خالی نظروں سے انہیں دیکھنے لگی جیسے سمجھ نہ آیا ہو کہ انہوں نے کیا کہا ہے۔
”وقت سب سے بڑا مرہم ہوتا ہے ہر زخم بھر دیتا ہے آپ بھی جلد سنبھل جائیں گی“ انہوں نے پیار سے اس کا ہاتھ سہلاتے ہوئے تسلی دی۔ جب سے مجتبٰی نے انہیں اس کے بارے میں بتایا تھا وہ ایک ہی دن میں انہیں عزیز ہو گئی تھی۔اس کا دکھ انہیں اپنا محسوس ہوا تھا اتنی سی عمر میں اس نے کیا کیا نہیں دیکھا تھا۔
”زخم بھر جاتے ہوں گے۔ لیکن جب کوئی اپنا پیارا بچھڑتا ہے صرف زخم تو نہیں لگتے۔ زندگی میں اک خلا سا آ جاتا ہے۔ وقت زخم بھر سکتا ہے خلا نہیں۔ جو جگہ کوئی اپنا خالی چھوڑ جاتا ہے وہ جگہ پھر کبھی نہیں بھر سکتی“ اس نے شکستہ انداز میں جواب دیا۔
”یہ بھی تو دستورِ دنیا ہے۔۔۔ ہمیں وہی رشتے عطا بھی کرتا اور پھر چھین بھی لیتا ہے۔۔ یہ سب اسی کے اختیار میں ہے ہم کیا کر سکتے ہیں“ انہیں نے رسانیت سے سمجھانا چاہا ۔
”وہ تو انصاف کرنے والی ذات ہے پھر یہ کیسا انصاف کہ کسی کو ایک دم سے ہی سب رشتوں سے محروم کر دیا جائے؟“ اتنے دنوں میں پہلی بار اس نے کسی سے اپنے دل کا حال بیان کیا تھا۔ اسے نفیس سی آسیہ بیگم اچھی لگی تھیں۔
”یہ تصویر دیکھو۔۔۔“ انہوں نے موبائل سے ایک تصویر کھول کر اس کے سامنے کی۔ جس میں آسیہ بیگم کے ساتھ وردی میں ملبوس چار مرد تھے وہ صرف ایک چہرے سے آشنا تھی۔ اس تصویر میں ان سب کے چہروں پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ تصویر کی دلکشی میں اضافہ کر رہی تھی۔
”یہ میرے شوہر اور بیٹے ہیں۔۔۔ ان میں سے اب صرف ایک زندہ ہے جس سے تم مل چکی ہو۔۔۔باقی سب کو میں نے آگے پیچھے کھو دیا لیکن میں اداس نہیں ہوں کیونکہ میں خود کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ میں ایک شہید کی بیوی ہوں اور دو شہیدوں کی ماں ہوں“ کہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں نمی اور چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ کشمالہ نے انہیں عجیب نظروں سے دیکھا ۔
”آپ نے ایسے ملک کے لئے اپنوں کو قربان کر دیا جنہیں قدر ہی نہیں ہے ۔۔۔بہت بیوقوف ہیں آپ “ اسے آسیہ بیگم کے لئے بیوقوف سے زیادہ مناسب کوئی لفظ نہیں ملا تھا۔
”میرے ساتھ چلو۔۔۔ میں تمہیں کچھ دکھاتی ہوں “ وہ اسے ساتھ لیے ٹیرس تک آئی تھیں۔
“ وہاں دیکھو۔۔“ انہوں نے ٹیرس سے نظر آتی سڑک پر کھیلتے بچوں کی طرف اشارہ کیا۔
” جب میں اپنے ارد گرد ان لوگوں کو پرسکون مسکراتے ہوئے دیکھتی ہوں تو میرے رگ و پے میں طمانیت بھرا احساس سرایت کر جاتا ہے کہ ان کا سکون ان کی مسکراہٹ قائم رکھنے میں کہیں نہ کہیں تھوڑا سا حصہ میرا بھی ہے“ کشمالہ کے تاثرات جانچنے کے لئے وہ لخطہ بھر کو رکیں اور پھر گویا ہوئیں۔
” دنیا میں کچھ بھی مفت نہیں ملتا اور آزادی تو بالکل نہیں۔۔۔ کچھ لوگوں کو سانس لینے کے لئے کھلی فضا فراہم کرنے کی خاطر کچھ سانسیں روکنی پڑتی ہیں۔۔۔ کچھ جانیں بچانے کے لئے کچھ جانیں قربان کرنی پڑتی ہیں“ اسے ان کی بات سمجھ آئی تھی یا نہیں لیکن وہ خاموش ہو گئی تھی۔ اس کے اندر دکھ کا ایک اور احساس اترا تھا اس خاندان کے دو افراد نے بھی اس ملک کی محبت میں اپنے پیارے کھوئے تھے بس فرق اتنا تھا کہ وہ خوش تھے اور کشمالہ نا خوش۔
۔۔۔۔۔۔۔
”آ گئے شہزادے صاحب فتح کے جھنڈے گاڑ کر؟؟ “ اسے گھر میں قدم رکھتے دیکھ کر آسیہ بیگم نے مصنو عی خفگی سے کہا۔
”آپ کا بیٹا ہو اور فتح کے جھنڈے نہ گاڑے ایسا ہو سکتا ہے ممی؟“ وہ آگے بڑھ کر ان کے گلے لگتے ہوئے شوخی سے بولا تو وہ مسکرا دیں۔
”اب کی بار کیا کارنامہ سر انجام دیا ہے؟“انہوں نے سنجیدگی سے پوچھا۔
”میں کیا خود سے اپنی تعریف کروں ۔۔۔آپ کے بھائی نے ساری رپورٹ دے ہی دی ہو گی“مجتبٰی نے شاہانہ انداز میں کندھے اچکائے ۔
”تم اصولوں کی پابندی کیوں نہیں کرتے؟“انہوں نے اس کے چہرے پر نظریں گاڑتےہوئے ڈپٹنے والا انداز اپنایا۔
”ایک خوبصورت لڑکی نے میری تربیت اس انداز سے کی ہے کہ میں اصول اور سچائی میں سے صرف سچائی کو چنتا ہوں“ مجتبٰی نے ان کے ماتھے پر بوسا دیا تو آسیہ بیگم نے خود کو لڑکی کہے جانے پر اس کے سر پر ایک ہلکی چپت لگائی تھی۔
”ٹھیک ہے پھرآج سے میں چھٹیوں پر ہوں تم گھر سنبھالوں ۔۔۔ میں اور کشمالہ تو خوب گھومیں گے“ انہوں نے مزے سے کہا وہ اکثر کام میں ان کی مدد کر دیا کرتا تھا۔
”ممی آپ بھول رہی ہیں میں آپ کی سلیقہ شعار بیٹی نہیں بگڑا ہوا بیٹا ہوں۔۔۔ جسے آرمی والے بمشکل جھیل رہے ہیں “اس نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
” کھانا تیار ہے میں رفیق سے کہتی ہوں تمہارے لیے لگا دیتا ہے۔۔۔ میں اور کشمالہ ذرا بازار تک جا رہے ہیں اس کے لئے شاپنگ کرنی ہے“اس کی بات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے انہوں نے رفیق کو آواز دی۔ ان کے لاپرواہ انداز پر مجتبٰی کو شبہ ہوا شاید سر ہارون نے انہیں حالات کی سنگینی کا نہیں بتایا اور پہرے والی بات تو وہ کبھی بتائیں گے بھی نہیں۔
”کچھ عرصہ تک آپ اسے باہر نہ لے کر جائیں خطرہ ہے“ آسیہ بیگم کے استفسار کرنے پر مجتبٰی نے ساری تفصیل بتا دی۔ وہ جو دروازے میں کھڑی اپنے ذات سے متعلق ان کی ساری گفتگو سن چکی تھی آگے بڑھ آئی۔
”آپ مجھے میرے انکل کے گھر چھوڑ دیں۔۔۔ یہ ان کا ایڈریس ہے“ کشمالہ نے ایک کاغذ کی چٹ ان کے سامنے کی اس نے وہاں سے جانے کا ارادہ کر لیا تھا وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ ان اچھے لوگوں کے لیے مزید تکلیف کا باعث بنے۔
” فی الحال تو آپ کہیں نہیں جا سکتیں۔۔۔ حالات بہتر ہوں گے تو ہم آپ کو چھوڑ آئیں گے“ مجتبٰی نے سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے صاف انکار کیا۔
”آپ لوگوں کا بہت شکریہ آپ نے میری بہت مدد کی ۔۔۔ لیکن میں آپ کی پابند نہیں ہوں لہذا مجھے جانے دیں میں انکل سے مل کر کشمیر واپس چلی جاؤں گی“ اس کا انداز فیصلہ کن تھا۔
”آپ کے لئے واپسی بھی آسان نہیں ہے۔۔۔ بھارتی آرمی آپ کو زندہ نہیں چھوڑے گی “ مجتبٰی نے اسے حقیقت کا ادراک کروانا چاہا۔
”یہاں کسی مسلمان کے ہاتھوں مرنے کے بجائے میں کسی کافر کے ہاتھوں مرنا پسند کروں گی۔۔۔ اگر آپ نہیں چھوڑ سکتے تو میں خود چلی جاؤں گی“ کشمالہ نے اٹل لہجے میں کہا اس پر مجتبٰی کی بات کا اثر نہیں ہوا تھا۔
آسیہ بیگم اور مجتبٰی نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ نہیں مانی تو مجبوراً وہ اسے لے جانے کے لئے تیار ہو گئے۔ پہرے کا اسے مسئلہ ہی نہیں تھا اس نے ساتھ والے گھر میں مقیم اپنے دوست سے مدد مانگی تو وہ مدد کرنے کے لئے آمادہ ہو گیا۔ وہ تینوں چھت سے دیوار پھلانگ کر ان کے گھر گئے اور وہاں اس کی گاڑی لے کر آسانی سے نکل گئے۔ اگر ہارون صاحب پہرا لگا سکتے تھے تو وہ بھی ان کا ہی بھانجا تھا ہر مسئلہ کا توڑ نکالنا جانتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔
آدھہ گھنٹہ پہلے وہ لوگ کشمالہ کے بتائے ہوئے پتے پر آ چکے تھے۔ کمرے کے وسط میں رکھی میز پر پڑی چائے پڑے پڑے ہی ٹھنڈی ہو چکی تھی ان تینوں میں سے کسی نے بھی چائے کے کپ کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا تھا۔ آسیہ بیگم مختصراً ساری روداد سنا چکی تھیں اور اس وقت سے باسط صاحب کے چہرے پر گہری سوچ کی لکیریں نظر آ رہی تھیں۔
”کشمالہ بیٹی کے ساتھ جو کچھ ہوا مجھے اس کا بے حد افسوس ہے لیکن۔۔۔“ انہوں نے بات ادھوری چھوڑ کر ایک طائرانہ نظر ان سب کے چہروں کی طرف ڈالی جو ان کی اگلی بات کے منتظر تھے۔
”میری بیوی حیات نہیں ہیں اور سب بچے بھی شادی شدہ ہیں اپنے گھروں میں مصروف ہیں۔۔۔ ایسے میں میں ایک جوان بچی کی ذمہ داری نہیں لے سکتا اگر زینب ساتھ ہوتی تو انہیں پناہ دے دیتا لیکن اب ممکن نہیں ہے“ انہوں نے لفظ تولتے ہوئے ادا کیے تھے۔
”ابو۔۔۔ میں تیار ہو ں کشمالہ کی ذمہ داری اٹھانے کے لئے “ کمرے میں داخل ہوتے شخص نے کہہ کر ایک اچٹتی نگاہ کشمالہ کے سراپے پر ڈالی گلابی رنگ کے لباس میں جس کی رنگت مزید کھل رہی تھی۔ حسن میں شامل حزن نے خوبصورتی کو مزید چار چاند لگا دئیے تھے جو دیکھتا لمحہ بھر کو مبہوت رہ جاتا۔ یہی حال اندر داخل ہونے والے شخص کا بھی ہوا تھا وہ ٹکٹکی باندھے اسے دیکھے گیا جو اپنے ہاتھوں پہ نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ اس کے مسلسل دیکھنے پر مجتبٰی نے ناگواری سے گلا کھنکھارا تو اس نے سٹپٹا کر نظروں کا رخ موڑ لیا۔
”تم سے اپنی بیوی تو سنبھالی نہیں جاتی روز میکے گئی ہوتی ہے ۔۔۔ تم کیسے اس کی ذمہ داری لو گے؟“ باسط صاحب نے بیٹے کو گھرکا۔
”اسی لئے تو کہہ رہا ہوں اسے وہیں رہنے دوں گا۔۔۔ آپ میرا کشمالہ سے نکاح پڑھوا دیں“ اس کی بات پر جہاں مجتبٰی نے پہلو بدلا تھا وہیں آسیہ بیگم کو بھی اس کی بات سخت ناگور گزری تھی۔ اور جو موضوع گفتگو تھی وہ تو نظریں جھکائے ایسے بیٹھی تھی جیسے وہاں اس کی ذات کے بجائے کوئی اور موضوع بحث ہو۔
”آپ غلط سمجھ رہے ہیں میں کشمالہ کو صرف آپ سے ملوانے لائی ہوں اور ساتھ آپ کو انوائیٹ بھی کرنا تھا آنے والے جمعہ کو کشمالہ اور مجتبٰی کا نکاح ہے“ ان کی بات پر جہاں مجتبٰی کو سو واٹ کا کرنٹ لگا تھا وہیں کشمالہ نے بھی انتہائی شاک کے عالم میں نظریں اٹھا کر انہیں دیکھا تھا۔ یہاں آنے سے پہلے تک تو انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی تھی۔ وہ دونوں بھی ہونقوں کی طرح انہیں دیکھ رہے تھے۔ وہ بھی مجتبٰی کی ماں تھیں کوئی بھی ان کے چہرے کو دیکھ کر یہ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ یہ بات انہوں نے ابھی ابھی بیٹھ کر سوچی ہے یا پھر پہلے سے طے شدہ ہے۔
___________
”یہ۔۔یہ نکاح والی بات آپ نے پہلے تو نہیں بتائی“ خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے واجد نے باپ کی طرف تائیدی نظر وں سے دیکھتے ہوئے کہا لیکن باسط صاحب نے نظریں پھیر لیں انہیں اپنے بیٹے کی بات پسند نہیں آئی تھی۔
”آپ باپ بیٹے نے بولنے کا موقع ہی نہیں دیا کب سے آپس میں ہی بات کرنے میں لگے ہیں“ آسیہ بیگم کے لہجے میں محسوس کی جانے والی ناگواری تھی۔
”ٹھیک ہے میں نکاح میں شرکت کے لئے آجاؤں گا کشمالہ بیٹی کی طرف سے بھی کوئی ہونا چاہیے “ انہوں نے ہامی بھرتے ہوئے کہا اور اٹھ کر کشمالہ کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔
”ہمارے ہاں لڑکیاں شادی سے پہلے سسرال میں نہیں رہتیں جمعہ تک کشمالہ ادھر ہی رہے گی“ واجد نے کشمالہ کو رکوانے کی ایک اور کوشش کرنی چاہی۔ جن نفوس کی شادی کی بات ہو رہی تھی ان کے علاوہ سب ہی بول رہے تھے۔
”بے فکر رہیں بیٹا۔۔۔ وہ کشمالہ کا سسرال نہیں اس کا اپنا گھر ہے جمعہ تک مجتبٰی گھر پر نہیں رہے گا“ وہ بھی آسیہ بیگم تھیں ان کے پاس ہر سوال کا جواب پہلے سے تیار ہوتا تھا مجتبٰی کو یکسر نظر انداز کرکے انہوں نے اپنی بات جاری رکھی۔
”اچھا ہم چلتے ہیں جمعہ کو ملاقات ہو گی۔۔۔ آؤ کشمالہ بیٹی“ انہیں اٹھتے دیکھ کر وہ دونوں بھی اٹھ کھڑے ہوئے ۔
”کمال کی لڑکی ہے کبھی انڈین آرمی کے بندے کو پھنساتی ہے تو کبھی پاکستانی آرمی کے “ واجدجل بھن کر بڑ بڑایا اس کی بڑبڑاہٹ اتنی بلند تھی کہ ان سب نے بھی سنی ۔ جہاں مجتبٰی کا غصے سے خون کھول اٹھا وہیں کشمالہ کا رنگ بے اختیار فق ہوا پہلی بار کسی نے اس کے کردار پر بات کی تھی ۔ مجتبٰی نے لمحے کے ہزارویں حصے میں آگے بڑھ کر واجد کے منہ پر ایک زوردار تھپڑ رسید کیا لمحہ بھر کو کمرے میں موجود سب لوگوں کو سانپ سونگھ گیا تھا واجد نے غصے سے بھڑک کر مجتبٰی کا گریبان پکڑا ۔ اس سے پہلے کے وہاں بات اور بڑھتی باسط صاحب نے اپنے بیٹے کو سنبھالا تھا اور آسیہ بیگم زبردستی مجتبٰی کا ہاتھ کھینچ کر باہر لے گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
واپسی پر مجتبٰی نے گاڑی اپنے گیٹ کے سامنے ہی روکی تھی۔ باہر کھڑے پہرے داروں نے انہیں حیرت سے دیکھا وہ کب ان کی ناک تلے سے غائب ہوئے ان کے فرشتوں کو بھی علم نہیں ہوا تھا۔ ان پہرے داروں میں سے ایک نے فوراً فون کر کے ہارون صاحب کو اطلاع دی تھی۔
”ہاں بولو ہارون خیر سے فون کیا؟“ آسیہ بیگم نے سلام کرنے کے بعد پوچھا۔ دوسری طرف ان کی بات پر ہارون صاحب کا غصہ ساتویں آسمان تک جا پہنچا۔
”میں نے تمہیں منع کیا تھا آسیہ اسے گھر سے باہر نہیں لے جانا پھر اسے لے کر باہر کیوں نکلی؟“ وہ پھٹ پڑے تھے۔لاؤنج میں قدم رکھتے آسیہ بیگم ان کی بات پر مسکرائی تھیں۔
”ضروری شاپنگ کرنی تھی اسی لئے لے کر گئی تھی۔۔۔ بے فکر رہیں آپ کا ایک جوان ہمارے ساتھ تھا اسی لئے ہم خیر خیریت سے پہنچ گئے ہیں“ آسیہ بیگم نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔ نادانستہ طور پر وہ کشمالہ کے کسی رشتہ دار کی پاکستان میں موجودگی کو چھپا گئی تھیں۔
”تم دونوں ماں بیٹا ایک جیسے ہو مجال ہے جو میری کسی بات کا اثر ہو“ وہ جھنجھلائے تھے۔
”جمعہ کو کشمالہ اور مجتبٰی کا نکاح ہے آپ بھی انوائیٹڈ ہیں“ انہوں نے لاؤنج میں رکھے صوفے پر بیٹھتے ہوئے جتنے آرام سے کہا تھا اتنا ہی حیرت کا شدید جھٹکا دوسری طرف لگا تھا۔
”تم پاگل ہو گئی ہو؟۔۔۔ پتا نہیں وہ لڑکی کون ہے کہاں سے آئی ہے اور تم چلی ہو اسے گھر کی بہو بنانے “ ہارون صاحب کو اپنی بہن سے ایسی بیوقوفی کی امید قطعی نہیں تھی۔کشمالہ جو آسیہ بیگم سے بات کرنا چاہتی تھی انہیں فون پر مصروف دیکھ کر کچھ دیر پاس کھڑے رہنے کے بعد کمرے میں چلی گئی ۔
”کچھ لوگوں کے لئے دل کی گواہی کافی ہوتی ہے “ ان کے لہجے میں یقین تھا۔
”وہ لڑکی ایک مجرم ہےکیا پتہ اس کے پیچھے کتنا بڑا گینگ ہو۔۔۔ ویسے بھی بہت جلد حکومت کی توجہ اس کی طرف مبذول ہو جائے گی پھر کیا کرو گی؟“ انہوں نے درشتی سے پوچھا انکا بس نہیں چل رہا تھا کہ کس طرح آسیہ بیگم کو اس حماقت سے باز رکھیں ۔
”مجتبٰی نے کسی کو اس کے آبائی گاؤں سے انفارمیشن نکلوانے کی ذمہ داری سونپی ہے جلد آپ کا یہ شک بھی دور ہو جائے گا۔۔۔ اور رہی بات کشمالہ کی تو کرنل صاحب اس کے بارے میں میں خود جنرل ابراہیم سے بات کر لوں گی بچی کو میں نے پناہ دی ہے ایسے تو کسی کے حوالے نہیں کروں گی“ آسیہ بیگم نے قطعیت سے کہا۔ جرنل ابراہیم کی بیوی ان کی بہترین دوست تھیں اور انہیں کے توسط سے کبھی کبھی جرنل صاحب سے بھی ملاقات ہو جاتی تھی۔
”اگر تم ماں بیٹا کسی مشکل میں پھنسے تو میں ہرگز مدد کے لئے نہیں آؤں گا“ غصے سے کہتے ہوئے انہوں نے ٹھک سے فون بند کر دیا فون کان سے ہٹاتے ہوئے آسیہ بیگم نے گہری سانس لے کر اپنے برابر بیٹھے مجتبٰی کی طرف دیکھا جو ساتھ والے گھر میں گاڑی واپس کر کے ان کے پاس ہی آبیٹھا تھا۔ابھی آسیہ بیگم کو ایک ساتھ کئی محاذوں پر لڑنا تھا۔
”یہ سب کیا ہے ممی؟۔۔۔ آپ میری اور کشمالہ کی مرضی جانے بنا سب کو انوائیٹ کرتی جا رہی ہیں“ اس کا لہجہ ناراضگی لیے ہوا تھا۔
”میں تمہاری ماں ہوں اور مجھے پتا ہے تمہاری کس میں بھلائی ہے اور کس میں نہیں“ آسیہ بیگم نے روایتی ماؤں والا انداز اپنایا۔
”میں کشمالہ سے شادی نہیں کر سکتا۔۔۔ اسے سنبھلنے کا موقع دیں ابھیوہ بہت کم عمر ہے “مجتبٰی حد سے زیادہ سنجیدہ تھا۔
”یہاں پر رہنے کے لئے اسے کسی مضبوط سہارے کی ضرورت ہے۔۔۔ اور وہ نکاح کی صورت میں ہی ممکن ہے“ انہوں نے متحمل مزاجی سے کہا۔
”ہم پہلے ہی اس کی مدد کر رہے ہیں اس سب کے لئے نکاح کی کیا ضرورت ہے “ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ ماں کو کیسے سمجھائے۔
”لیکن کس بنیاد پر؟؟ اگر کل کو باسط صاحب نے رشتے داری کا دعوا کرتے ہوئے اسے مانگ لیا تو ؟؟ میں واجد یا اس جیسے کسی شخص سے اس کی شادی نہیں کر سکتی۔۔۔ اور پھر خبروں نے جو فضولیات پھیلائی ہیں وہ اس کی آنے والی زندگی میں مشکلات پیدا کر سکتی ہیں“ آسیہ بیگم نے ایک اور پہلو پر روشنی ڈالی۔
”لیکن وہ کشمیر واپس جانا چاہتی ہے۔۔۔ آپ کو اس سے بات کئے بغیر اتنا بڑا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے تھا“ اسے ماں سے اتنی مستعدی کی امید نہیں تھی باسط صاحب کے گھر اسے لگا تھا شاید انہوں نے موقع محل کی مناسبت سے ایسا کہا ہے لیکن جانتا نہیں تھا کہ وہ گھر آکر بھی اپنی بات پر ڈٹی رہیں گیں اور یہی چیز اسے پریشان کر رہی تھی۔
”میں اس سے بات کر لوں گی“ آسیہ بیگم پرُامید تھیں۔
”میری طرف سے اب بھی انکار ہے۔۔ ہماری عمروں میں بہت فرق ہے“ وہ اپنی بات پر قائم رہا۔
”صرف نو سال اور پانچ مہینوں کا فرق ہے۔۔۔ یہ فرق اتنا زیادہ نہیں ہوتا فضول بہانے نہ تراشوں ۔۔۔تم معاشرے کی نزاکتیں کیوں نہیں سمجھ رہے ہو مجتبٰی؟ “ آخر میں وہ جھنجھلائی تھیں۔
”کیوں کہ میں کوئی نازک اندام حسینہ نہیں ہوں ممی۔۔۔ جو خوشی خوشی معاشرے کی بھینٹ چڑھ جائے“ وہ بھی چڑ گیا تھا۔
”اِدھر اُدھر کی بیکار باتیں بنانے کے بجائے مجھے انکار کی اصل وجہ بتاؤ“ آسیہ بیگم نے مجتبٰی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔ انہیں اتنا اندازہ تو ہوگیا تھا کہ مجتبٰی کے انکار کی وہ وجہ نہیں تھی جو وہ بتا رہا تھا۔
” میں نہیں چاہتا سب رشتے کھونے کے بعد وہ آنے والے وقت میں اپنے شوہر کو بھی کھو دے“ کچھ دیر بعد مجتبٰی نے نظریں جھکاتے ہوئے اپنے دل کی بات بتائی۔
”ٹھیک ہے تم مجھے دنیا کا کوئی ایسا شخص دیکھا دو جس کی زندگی کی گارنٹی ہے ؟“ آسیہ بیگم نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا جو نظریں جھکائے سامنے پڑے میز پر پاؤں کی ٹھوکر سے ہلکی ہلکی ضربیں لگا رہا تھا۔
“اگر اس کی زندگی میں بیوگی کی چادر اوڑھنا لکھا ہوا تو میں اور تم کچھ نہیں کر سکتے مجتبٰی۔۔۔ میں بس اتنا کر سکتی ہوں کہ اس کا ہاتھ ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں جس پر مجھے اعتماد ہو کہ وہ اسے خوش رکھے گا۔۔۔ اور اپنے بیٹے کا علاوہ میں اس بچی کے معاملے میں کسی اور پر بھروسہ نہیں کر سکتی۔ اللہ نے اسے ہم سے ملایا ہے تو اس میں کوئی نہ کوئی اس کی مصلحت ہو گی نا۔۔۔ اب اس کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے یہ ذمہ داری ہمیں ہی نبھانی ہے ۔“انہوں نے نرمی سے سمجھایا تو وہ خاموش ہو گیا۔
”لیکن میں پہلے کشمالہ سے بات کرنا چاہتا ہوں “ اس نے ہتھیار ڈالتے ہوئے خواہش ظاہر کی۔
”شریف لڑکوں کے والدین لڑکی سے خود بات کرتے ہیں اس لئے اس سے میں بات کر لوں گی۔۔۔ تم اپنا بوریا بستر سمیٹو اور اپنے نانا کے گھر جاؤ جمعہ والے دن بارات کے ساتھ ہی گھر میں قدم رکھنا آج سے یہ لڑکی والا گھر ہے“ اسے مانتے دیکھ کر انہوں نے فوراً اپنی ٹون بدلی تھی۔
”یہ آپ اچھا نہیں کر رہی ہیں ممی“ مجتبٰی نے دہائی دی۔
”جلدی نکلو اس سے پہلے کے تمہارے ماموں ابو کے کان بھریں جا کر اپنے نانا ابو کو کشمالہ کے بارے میں قائل کرنے کی کوشش کرنا۔۔۔میں بھی کل چکر لگاؤں گی“ اس کی دہائی کو نظر انداز کرتے ہوئے انہوں نے اسے وہاں سے چلتا کیا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *