Paharon Ki Beti by Maria Shah NovelR50756 Paharon Ki Beti by Maria Shah Episode06
No Download Link
502.4K
13
Rate this Novel
Paharon Ki Beti by Maria Shah Episode01 Paharon Ki Beti by Maria Shah Episode02 Paharon Ki Beti by Maria Shah Episode03 Paharon Ki Beti by Maria Shah Episode04 Paharon Ki Beti by Maria Shah Episode05 Paharon Ki Beti by Maria Shah Episode06 (Watching)Paharon Ki Beti by Maria Shah Episode07 Paharon Ki Beti by Maria Shah Episode08 Paharon Ki Beti by Maria Shah Episode09 Paharon Ki Beti by Maria Shah Episode10 Paharon Ki Beti by Maria Shah Episode11 Paharon Ki Beti by Maria Shah Episode12 Paharon Ki Beti by Maria Shah Last Episode
Paharon Ki Beti by Maria Shah Episode06
Paharon Ki Beti by Maria Shah Episode06
تھک ہار کر وہ واپس اسی فٹ پاتھ پر آگئی تھیں جہاں عدیمہ گم ہوئی تھی ۔ ان دونوں نے رات وہیں فٹ پاتھ پر اونگھتے ہوئے گزاری ۔ذرا آنکھ لگی تھی کہ بھوک کی شدت سے کھل گئی اب تو انتڑیاں بد دعائیں دینے لگی تھیں کتنی بھی مشکل کیوں نہ پیش آجائے بھوک ستانے لگ ہی جاتی ہے۔ وہ شاپنگ بیگ میں سے کل صبح کی خریدی گئی چیزیں نکال کر بے دلی سے پیٹ کی آگ بجھانے لگی۔ اس نے زینب بی بی کو بھی کھانے کا کہا لیکن وہ صاف انکار کر گئیں۔
”باجی بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔۔ کچھ ہے تو مجھے بھی دے دو“ کشمالہ نے دیکھا اس کے پاس کھڑا دس بارہ سالہ بچہ للچائی نظروں سے اس کے ہاتھ میں پکڑے سینڈوچ کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے کپڑے میلے کچلے تھے اور چہرے پر چھائی بے چار گی پہلی نظر ڈالنے پر ہی غربت کا پتہ دے رہی تھی۔ کشمالہ کو بے اختیار ترس آیا اور اس نے ہاتھ میں پکڑا سینڈوچ اس کی طرف بڑھا دیا۔ اپنے گندے ہاتھوں میں سینڈوچ لے کر وہ اس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔
”ہمارا تو کوئی گھر نہیں اسی لئے ہم یہاں سوتے ہیں۔۔ ۔ تم یہاں کیوں سو رہی ہو ؟“ سینڈوچ کا بڑا سا لقمہ لیتے ہوئے اس نے قدرے مدبرانہ انداز اپنایا تھا۔
”میری بہن کل یہاں سے گم گئی تھی۔۔۔ابھی تک نہیں ملی“ کشمالہ کی آنکھ سے چند آنسو گرے تھے۔
”اور پولیس میں ریپورٹ لکھوائی؟“ بچے نے ابرو اچکا کر پوچھا۔
”انہوں نے کہا ہے چوبیس گھنٹوں سے پہلے ریپورٹ درج نہیں ہو سکتی“اسے بتاتے ہوئے پولیس والوں کا رویہ یاد آیا تھا اور وہ گھٹنوں میں سر رکھ کر رو دی تھی۔ وہ امجد صاحب کی موت کی خبر سن کر اتنا نہیں روئی تھی اس نے داور کے مرنے پر بھی آنسو نہیں بہائے تھے۔ اور تو اور عدیمہ کے گم جانے پر بھی اس کے حوصلے پست نہیں ہوئے تھے۔ اسے رلایا تھا تو پاکستانیوں کے رویے نے رلایا تھا۔ وہ پاکستان کی تاریخ پڑتی رہی تھی اسے حال کی کیا خبر تھی۔ اسے کیا پتا تھا کہ وہ جن اسلاف کی قربانیوں کو سینے سے لگائے بیٹھی ہے اسے پاکستانیوں نے خود بھلا دیا ہے۔۔۔وہ مری کی ایک سڑک کنارے بیٹھ کر اپنی محبت کا بھرم ٹوٹ جانے پر رو رہی تھی۔۔۔ وہ سولہ سال کی محبت کی ایک دن میں ہوئی نیلامی پر آنسو بہا رہی تھی۔
”تم روؤں نہیں ۔۔۔یہاں کی پولیس ایسے ہی کرتی ہے۔۔۔مجھے ایک جگہ پتہ ہے جہاں گم ہوئے بچے مل جاتے ہیں“ وہ کھانے کے بعد اب جلدی جلدی اپنی گندی قمیض سے ہاتھ صاف کر رہا تھا۔
”کہاں؟“کشمالہ نے سرعت سے سر اٹھا کر نم آنکھوں سے پوچھا اس کے لہجے میں بے قراری تھی۔
”کچرے کے ڈھیر میں“ اس کی بات پر کشمالہ کو ایسے لگا جیسے مری اورکشمیر کے سارے پہاڑ دھڑا دھڑ اس کے اوپر آ گرے ہوں۔
___________
وہ بچہ جس نے اپنا نام عاشر بتایا تھا اسے اپنے ساتھ لئے اونچی نیچی پگڈنڈیوں سے گزرتا ایک کوڑے کے ڈھیر کے پاس لے آیا ۔ جہاں سے اٹھتے بدبو کے بھبھوکوں نے کشمالہ کو ناک پر ہاتھ رکھنے پہ مجبور کر دیا تھا۔ جگہ جگہ لگے گندگی کے ڈھیر دیکھ کر اسے کراہیت محسوس ہوئی تھی اس نے شدت سے عدیمہ کے وہاں نہ ہونے کی دعا مانگی ۔عاشر بلا جھجک کوڑے کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا اور وہ زینب بی بی کا ہاتھ تھامے خود کو رونے سے روک رہی تھی۔
”یہاں تو کوئی نہیں ہے۔ “ کوڑے کے ڈھیر پہ جھکے جھکے عاشر نے کہا۔
”وہ یقیناً راستہ بھول گئی ہو گی۔۔۔ ورنہ اب تک کوئی نہ کوئی اسے ہمارے پاس ضرور چھوڑ جاتا“ موہوم سی ایک امید اب بھی باقی تھی۔
” یہاں جب بچے گم جائیں تو پھر ملتے نہیں ہیں اور اگر مل بھی جائیں تو وہ زندہ نہیں ہوتے“ عاشر نے سنسنی خیز انداز میں خبر سنائی جسے سن کر کشمالہ کا دل دہل گیا تھا۔
”ایک دو اور جگہیں ہیں وہاں چل کر دیکھتے ہیں “ اس کے چہرے کے اڑے رنگ دیکھ کر عاشر نے تسلی دینے والے انداز میں کہا تو وہ بنا کچھ کہے اس کے ساتھ چل پڑی۔
”لگتا ہے تمہاری بہن اب کبھی نہیں ملے گی“ عاشر نے مایوسی سے کہا۔ چوتھی جگہ پر ڈھونڈنے کے بعد بھی عدیمہ کا کچھ پتا نہیں چلا تھا۔
”آہ۔۔۔“ کسی کے کراہنے کی آواز پر ان کے کان کھڑے ہو گئے تھے وہ دونوں بیتابی سے اردگرد ڈھونڈنے لگے۔
آپا۔۔۔اماں۔۔۔داور۔۔۔ابا“ درد میں ڈوبی آواز مسلسل آئے جارہی تھی اور آواز دینے والی کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ عاشر نے آگے بڑھ کر دیوار کے دوسری طرف دیکھا اور وہاں پڑے نیم برہنہ وجود کو دیکھ کر فوراً نظریں موڑ کر کشمالہ کو آواز دی تھی۔ وہ دس بارہ سالہ لڑکا کسی بہترین سکول نہیں گیا تھا کسی درسگاہ سے نہیں پڑھا تھا لیکن پھر بھی اس میں روایات باقی تھیں۔
”عدیمہ۔۔۔عدیمہ میری جان۔۔“ اس کی حالت دیکھ کر کشمالہ پر بجلیاں گری تھیں اور اس نے پوٹلی سے اپنا دوپٹہ نکال کر اس کے گرد لپیٹا تھا۔
”آپا۔۔۔۔“ وہ کچھ بولنا چاہ رہی تھی لیکن لفظ اس کے منہ سے ادا نہیں ہو رہے تھے۔
” عاشر یہاں ہسپتال کہاں ہے؟ ۔۔۔ عدیمہ کو ہسپتال لے کر جانا ہے“ وہ عدیمہ کا سر گود میں رکھتے ہوئے تڑپ کر چلائی تھی زینب بی بی بھاگتی ہوئی آئی تھیں اور اپنی معصوم بیٹی کی حالت دیکھ کر ان کا کلیجہ منہ کو آ گیا تھا۔
”تم اسے لے کر سڑک تک آ جاؤ کوئی گاڑی مل جائے گی۔۔۔یہاں سے ہسپتال دور ہے “ عاشر کے کہنے پر وہ بمشکل عدیمہ کو اٹھائے سڑک تک آئی اور اسے زینب بی بی کی گود میں لیٹا کر گاڑی روکنے کی کوشش کرنے لگی۔ اس نے اور عاشر نے اس مصروف ترین سڑک پر نجانے کتنی گاڑیوں کو ہاتھ دے کر روکنے کی کوشش کی تھی لیکن ان کے لئے کوئی ایک بھی گاڑی نہیں رُکی تھی۔ سب انہیں مانگنے والا سمجھ کر نظر انداز کرتے جا رہے تھے۔
عدیمہ کی بگڑتی حالت دیکھ کر وہ دوبارہ اس کے پاس آئی تھی۔
”آپا۔۔۔“ عدیمہ نے کانپتا ہوا اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا۔
”سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ ابھی ہم ڈاکٹر کے پاس جا رہے ہیں“عدیمہ کا ہاتھ تھپتھپاتے اس کی آواز رندھ گئی تھی۔
”آپا۔۔۔“ اس نے دوبارہ کچھ بولنے کی کوشش کی تو کشمالہ نے اپنے کان اس کے منہ کے پاس کر لیے۔
”آپا۔۔۔ تیرا۔۔۔ پاکستان تو۔۔۔ بہت۔۔۔ برا ہے“ عدیمہ کے منہ سے لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہوئے تھے اور پھر وہ خاموش ہو گئی۔
”نہیں عدیمہ نہیں۔۔۔ ہوش میں آؤ“ اس نے زینب بی بی کی گود میں رکھا اس کا چہرہ ہلایا لیکن وہاں کوئی ہلچل نہیں ہوئی۔
”عدیمہ نہیں۔۔۔ آنکھیں کھولو۔۔۔ ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔۔۔ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔۔۔ پلیز آنکھیں کھولو“ کشمالہ کی آہ و بکا سن کر اردگرد لوگ جمع ہونے لگے تھے۔ زینب بی بی کی زبان تالو سے چمٹ گئی تھی بیٹی کے بے جان ہوتے وجود کو دیکھ کر انہیں لگا اب وہ کبھی نہیں بول سکیں گی۔
”قاتل ہو تم لوگ۔۔۔ظالم ہو۔۔۔محبت کے قابل نہیں ہو۔۔۔میں پاگل تھی جو تم لوگوں سے محبت کرتی رہی۔۔۔اور میری محبت نے دیکھوکیسی سزا دی۔۔۔ مار دیا تم لوگوں نے عدیمہ کو۔۔۔ مار دیا۔۔۔ دیکھنا آہ لگے گی تم سب کو ۔۔۔ میری آہ لگے گی“اردگرد اکھٹا ہوتے مجمع کو دیکھ کر وہ چلائی تھی آج اس کے ضبط کا دامن ٹوٹ گیا تھا۔ اگر کشمیر کے وہ پہاڑ جنہوں نے داور کی تدفین کے وقت اس کے حوصلہ کو داد دی تھی اسے اس وقت دیکھ لیتے تو ایک بار پھر سے حیران رہ جاتے یہ وہ لڑکی تو نہیں تھی جو کشمیر کی وادیوں میں بے خوف پھرا کرتی تھی یہ تو کوئی اور تھی جو ایک آزاد ملک کی سڑک کے کنارے بیٹھی اپنی بے بسی پر رو رہی تھی۔ ۔ کسی نیک انسان نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے ایمبولینس کو کال کر دی تھی جبکہ بہت سے لوگوں کی جیب سے موبائل نکل آئے تھے جس پر دھڑا دھڑا ویڈیو بنائی جا رہی تھی۔ ایمبولینس کے آنے سے پہلے وڈیو اپلوڈ بھی ہو چکی تھی جس پر لوگ کمنٹ کر کے افسوس کا اظہار کر رہے تھے۔ اپنے ملک کے نظام کو کوس رہے تھے۔ ان میں وہ شخص بھی ہوں گے جو کچھ دیر پہلے لاپرواہی سے ان ماں بیٹیوں کے پاس سے گزرے تھے ان میں کوئی وہ بھی ہو گا جس کی گاڑی کے سامنے عاشر اور کشمالہ نے ہاتھ دئیے تھے۔
۔۔۔۔۔۔
کشمالہ جلے پیر کی بلی کی طرح ایمرجنسی روم کے باہر چکر کاٹ رہی تھی جس کے اندر مختلف مشینوں میں عدیمہ کا وجود جکڑا ہوا تھا۔پہلے تو ہسپتال کے عملے نے پولیس کیس کہہ کر ہاتھ لگانے سے ہی منع کر دیا تھا لیکن پھر ان کی حالت کو دیکھتے ہوئے ایک ڈاکٹر کو ترس آ ہی گیا تھا اس نے اپنے طور پر کاروائی کروا کے بے ہوش ہوئی عدیمہ کو ایڈمٹ کروایا تھا۔
زینب بی بی ٹھنڈے فرش پہ بیٹھی بار بار اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھیں۔
”انہیں ہاتھوں سے مارا تھا میں نے داور کو۔۔۔ دیکھ عدیمہ بھی اسی وجہ سے نہیں بچی۔۔۔ مجھے سزا ملی ہےبیٹی کی خاطر بیٹے کی سانسیں روکی تھیں اس نے بیٹی بھی چھین لی۔ “ وہ بار بار یہی الفاظ دوہرائے جا رہی تھیں۔
”سوری ہم آپ کی بہن کو نہیں بچا سکے۔۔۔اگر آپ وقت پر لے آتے تو شاید کچھ ہو سکتا تھا۔۔۔آپ ریسپشن پر جا کر فارملیٹیز پوری کر لیں اور پھر لاش کو لے جائیں “ یہ دیکھے بغیر کہ اس کے لفظوں سے مقابل پر کیسی قیامت ٹوٹی ہے ڈاکٹر اپنے مخصوص پروفیشنل انداز میں کہتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔ وہ مرے مرے قدموں سے چل کر ریسپشن تک آئی تھی۔
”ویسے تو یہ سرکاری ہسپتال ہے لیکن مریضہ کو جو ٹیکے لگے وہ ہسپتال کی ڈسپنسری سے نہیں تھے اسی لئے آپ کو ان کے پیسے ادا کر نے ہوں گے پھر ہی لاش کو لے جا نے کی اجازت ملے گی “ ریسپشن پر موجود لڑکی نے کمپیوٹر پر انگلیاں چلاتے ہوئے مصروف سے انداز میں کہا۔
”مممم۔۔۔میں کہاں لے کر جاؤں“ وہ خود سے بڑبڑائی تھی اس کی بڑ بڑاہٹ اتنی بلند تھی کہ کاؤنٹر کے پار کھڑی لڑکی نے بھی سن لی ۔
”اپنے گھر لے جائیں۔۔۔اگر گھر دور ہے تو ایمبولینس کا بندوبست بھی ہو جائے گالیکن اس کا کرایہ الگ سے دینا ہو گا“ اس لڑکی نے کمپیوٹر کی سکرین سے نظریں اٹھاتے ہوئے کشمالہ کی طرف دیکھا تھا ۔
”ہمارا کوئی گھر نہیں ہے“ اس کے آواز پست تھی۔
”اوہ ۔۔۔ پھر آپ لاش کو کہاں لے جانا چاہیں گی“ لڑکی نے اوہ میں لب سکیڑے۔
”وہ لاش نہیں میری بہن ہے“ وہ پھٹ پڑی تھی عدیمہ کے لئے بار بار لاش سننا تکلیف دے رہا تھا۔
”یہاں لاوارثوں کی تدفین کا کوئی انتظام نہیں ہوتا؟کچھ دیر بعد پوچھتے ہوئے اسے اپنی آواز بھی اجنبی لگی تھی۔ ایک وارث ہو کر کسی اپنے کو لاوارث کہنا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے کوئی اس لمحہ کشمالہ سے پوچھتا۔
”لاورثوں کی لاشیں تو ایسے ہی سرد خانے میں پڑی رہتی ہیں اور کچھ عرصہ بعد میڈیکل کے طالب علموں کے تجربہ کے لئے بھیج دی جاتی ہیں“ اس لڑکی کی بات سن کر وہ دہل گئی عدیمہ کو کسی تجربہ کے لئے نہیں چھوڑ سکتی تھی۔ اس سے بل لے کر وہ کاریڈور میں زینب بی بی سے پیسے لینے آئی تھی اور انہیں وہاں نہ پا کر اس کے قدموں تلے سے زمین کھسک گئی ۔وہاں موجود ایک ورکر کے بتانے پر وہ باہر آئی تھی۔ زینب بی بی سامنے سنسنان سڑک پر ہوش و خرد سے بیگانہ چلی جا رہی تھیں۔ کشمالہ ان کی طرف بھاگی ۔اس سے پہلے کہ وہ ان تک پہنچ پاتی دوسری طرف سے آتی ایک تیز رفتار گاڑی ان سے ٹکراتی ہوئی آگے بڑھ گئی تھی سنبھلنے کی کوشش کرتی زینب بی بی سڑک کے دائیں طرف بنی گہری کھائی میں جا گری تھیں۔
”اماں۔۔۔اماں“ وہ حواس باختہ سی بھاگتی ہوئی آئی کھائی میں جھانک کر دیکھا خون کی چند لکیریں نظر آرہی تھیں وہ سیدھی ہو گئی اس میں اور دیکھنے کی ہمت نہیں رہی تھی۔۔۔ اس کے رشتوں کی لڑی خالی ہو چکی تھی ساتھ ساتھ اس کا دل بھی۔۔۔
وہ واپس بھاگ کر ہسپتال کے اندر گئی اور عملہ سے مدد مانگی تھی کچھ لوگ اس کی مدد کے لئے آئے بھی لیکن ایک بچی کی بات پر اتنی گہری کھائی میں جانے کی کون ہمت کرتا اور وہ بھی اس وقت جب انہیں کوئی رقم ملنے کی بھی امید نہیں تھی ۔اس کو تسلیاں دیتے وہ واپس چلے گئے۔
”خدا کے لئے کوئی میری مدد کرو۔۔۔ میری ماں وہاں کھائی میں گر گئی ہے۔۔۔ میری بہن کی لاش سرد خانے میں پڑی ہے۔۔۔۔ خدا کے لئے مدد کر و۔۔۔ کوئی تو رحم کرو“ وہ ہسپتال کے باہر بیٹھ کر روتے ہوئے کہے جا رہی تھی۔ کئی لوگ اسے فقیر سمجھتے ہوئے اس کے پاس چند سکے رکھ گئے تھے جنہیں اس نے سر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا۔
”ہمیں اس کی مدد کرنی چاہیے۔۔۔ شاید سچ کہہ رہی ہو“ پاس سے گزرتے ہوئے ایک جوڑے میں سے شوہر نے کہا۔
”پاگل ہیں۔۔۔ ایسے ہی ان لوگوں نے مانگنے کے طریقے اپنائے ہوئے ہیں۔۔۔ دس روپے رکھیں اور چلیں“ بیوی نے تنک کر کہا ۔شوہر کا ایک لڑکی کی مدد کے لئے آمادہ ہونا اسے ایک آنکھ نہ بھایا تھا۔ اس شخص نے ہاتھ میں پکڑے والٹ میں سے سو روپیہ نکال کر اس کے پاس رکھ دیا بیوی کو یہ حرکت بھی پسند نہیں آئی تھی لیکن پبلک پلیس کی وجہ سے خاموش ہوگئی۔
پتا نہیں کتنی دیر رونے کے بعد اس نے گھٹنوں سے سر اٹھایا ہر طرف شام کے دھند لکے پھیل چکے تھے۔ ایک نظر پاس پڑے پیسوں پر ڈالی اور بے دردی سے آنکھیں صاف کرتی ہوئی اٹھ گئی۔
”میں اب اس ملک کے لئے نہیں روؤں گی بلکہ میں یہاں رہوں گی ہی نہیں ۔۔۔ میں واپس چلی جاؤں گی “ اس نے خود سے عہد کیا۔ وہ مالا جو پاکستان سے محبت کرتی تھی وہ زینب بی بی کے ساتھ کھائی میں ہی گر گئی تھی۔ وہ کوئی اور کشمالہ تھی جس نے ابھی ابھی مری کے ایک ہسپتال کے سامنے جنم لیا تھا۔ اسے پاکستان سے نفرت ہوگئی تھی اور یہاں کے لوگوں سے گھن آنے لگی تھی۔
_________
میں شاید جنگلوں میں جا بسوں اب
میں انسانوں سے اتنا ڈر گئی ہوں
”لگتا ہے پیٹ میں دوڑتے چوہوں نے سر مجتبٰی کی بات کو مجھ سے زیادہ سیریس لے لیا ہے بنا بریک پہ پاؤں رکھے دوڑتے چلے جا رہے ہیں“ بھوک سے نڈھال ارسل نے بھاگتے ہوئے دہائی دی۔
”تم لوگ دیکھ لینا تاریخ کے سیاہ اوراق میں لکھا جائے گا کہ کس طرح اس جلاد صفت انسان نے صرف پانچ منٹ اور ستاون سیکنڈ لیٹ ہونے پر تین جوانوں کو خالی پیٹ اس وسیع و عریض گراؤنڈ کے پچاس چکر لگوائے تھے“ حسن کی دوسرے چکر میں ہی بس ہو گئی تھی۔
”میں بتا رہا ہوں تم دونوں کو اگر ہم کچھ دن اور ان کے انڈر رہے تو بارڈر پہ جانے سے پہلے ہی شہید ہو جائیں گے“ ارسل نے پھولی ہوئی سانسوں کو ہموار کرتے ہوئے پیشن گوئی کی۔ وہ لوگ کچھ دن پہلے ہی بھرتی ہو کر آئے تھے اور یہ ان کی قسمت کی خرابی ہی تھی کہ ان کا پہلا واسطہ کیپٹن مجتبٰی سے پڑا تھا۔ جو اپنے جونئیرز کو ستانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا۔
”غلطی تم دونوں کی تھی اور میں بے چارا تم دونوں کو جگانے کے چکر میں یوں ہی مفت میں مارا گیا“ کب سے خاموش حمزہ کو بھی اپنا دکھ یاد آیا۔
”ہاں تم تو جیسے صبح سویرے مرغ کی جگہ بانگ دینے۔۔۔“ لفظ حسن کے منہ میں ہی رہ گئے وہ دیوار کے ساتھ پڑے وجود کو دیکھ کر ٹھٹکا تھا۔ان دونوں نے بھی اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا جہاں چادر میں لیپٹا ایک وجود بے حس و حرکت پڑا تھا۔
”اف میرے خدایا۔۔۔لگتا ہے کوئی مار کر یہاں لاش چھوڑ گیا ہے“ ارسل نے اپنے مخصوص انداز میں حیرت کا اظہار کیا۔
”لوگوں کی دیدہ دلیری دیکھو آرمی والوں کا بھی ڈر نہیں رہا۔۔۔کیمپ کے پاس ہی لاش چھوڑ گئے“ حمزہ کے خون نے فوراً جوش مارا ۔
“تم دونوں پیچھے رہو۔۔۔ میں چیک کرتا ہوں “ حسن کہتے ہوئے چند قدم آگے بڑھا۔ اس سے پہلے کہ وہ لاش پر سے کپڑا ہٹاتا لاش یکدم کھڑی ہو گئی۔ وہ تینوں بوکھلا کر پیچھے ہوئے تھے۔ اسی اثنا میں ان کے پیچھے کچھ فرلانگ کے فاصلے پر موجود کمرے کی کھڑکی کا پردہ ہٹا کر کیپٹن مجتبٰی اور لیفٹینٹ ولی نے باہر جھانکا تھا۔ وہ سزا دینے کے بعد ایسے ہی نظر رکھ کر لطف اندوز ہوتے تھے۔
”خبردار اگر کوئی میرے پاس آیا۔۔۔ کسی کو بھی زندہ نہیں چھوڑوں گی۔۔۔ تم سب وردی والے ایک جیسے ہوتے ہو۔۔۔ میجر آتش جیسے “ ان تینوں کے فرشتوں کو بھی علم نہیں تھا کہ یہ میجر آتش کون ہے جس کی پاداش میں انہیں بھی برا بھلا سننے کو مل رہا ہے۔ گرد سے اٹے وجود نے بازوں پہ لٹکائے شاپنگ بیگ سے چند پتھر نکال کر ہاتھ میں پکڑے تھے۔
”ریلیکس میم۔۔۔ آپ غلط سمجھ رہی ہیں ہم نہ کسی میجر آتش کو جانتے ہیں نہ اس جیسے ہیں ہم۔۔۔ “ اس سے پہلے کہ ارسل اپنی بات مکمل کر تا ایک نوکیلا پتھر اس کے سر پر آ کر لگا۔ کھڑکی پار کھڑے ان دونوں نے بمشکل اپنی مسکراہٹ روکی تھی جبکہ ارسل کی پیشانی خون سے داغدار ہو چکی تھی۔
”میم ایک آرمی والے کو زخمی کر کے آپ غلط کر رہی ہیں۔۔۔ اگر کوئی مسئلہ ہے تو بات چیت سے بھی حل ہو سکتا ہے۔۔۔ یہ ڈرون حملے کرنا بند کریں “ حسن نے ارسل کی پیشانی سے نکلتے خون پر نظریں جمائے ہوئے کہا۔
”اگر کسی نے آپ کے ساتھ برا کیا ہے تو آپ تحمل سے ہمیں ساری بات بتائیں۔۔۔ہم اسے سزا دلوانے میں آپ کی ضرور مدد کریں گے“ حمزہ نے رسانیت سے اسے بات کرنے پہ آمادہ کرنا چاہا ۔ وہ اس کی بات سن ہی کب رہی تھی اس نے تاک کر حسن پر پتھر پھینکا جس سے اس نے بچنے کی بھرپور کوشش کی تھی لیکن مقابل کا نشانہ اتنا پکا تھا کہ اس کی ٹانگ پر لگ ہی گیا۔ مجتبٰی نے اس حرکت پہ محظوظ ہوتے ہوئے میز پر پڑا وائرلیس اٹھا کر اس پہ بٹن دبائے تھے۔
”سکینڈ لیفٹینٹ حمزہ یہ کیا تماشہ چل رہا ہے؟“ اگلے ہی لمحے حمزہ کے وائرلیس سیٹ پر بیپ کے ساتھ اس کی رعب دار آواز ابھری تھی۔
”سر ہمیں کیمپ کے گراؤنڈ میں ایک لاش۔۔۔ نہیں میرا مطلب ایک لڑکی ملی ہے“ اس نے بوکھلاتے ہوئے الرٹ ہونے کی کوشش کی۔
”اور ایک لڑکی کو دیکھ کر تم لوگ اپنی سزا بھول گئے“ اس نے سخت لہجے میں گھرکا۔
”سوری سر“ حمزہ خوامخواہ نادم ہوا۔
”جوان ۔۔۔ تمہیں اپنے ساتھیوں کو زخمی کرنے والی مجرمہ کو پکڑ کر لانے کا مشن سونپا جاتا ہے۔۔۔اسے جلد از جلد پکڑ کر اندر لاؤ“ مجتبٰی کی بات پر حمزہ نے ایک نظر سامنے بھپری ہوئی کشمالہ پر ڈالی جو تاک تاک کر اس کے ساتھیوں پر حملہ کر رہی تھی اور وہ اچھلتے کودتے پتھروں سے بچنے کے ساتھ ساتھ اس تک پہنچنے کی کوشش بھی کر رہے تھے۔ بھاگ جانا ان کی سرشت میں شامل نہیں تھا اور کسی عورت پر جوابی حملہ کرنا ان کی تربیت کا حصہ نہیں تھا۔ اسی لئے وہ اس کے پتھراؤ سے بجتے پتھر ختم ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔
”اوکے سر۔۔۔“ حمزہ نے پرجوش انداز میں کہتے ہوئے سلوٹ کے لئے ہاتھ اوپر کیا اور وہیں کشمالہ کا آخری پتھر اس کے ہاتھ پر لگا ۔ کمرے میں مجتبٰی اور ولی کا جاندار قہقہ گونجا تھا۔ اپنے جونیئرز کی درگت بنتے دیکھ کر وہ حظ اٹھا رہے تھے۔
”خبردار جو اب کوئی حرکت کی۔۔۔“ حمزہ نے جیب کے پاس لگے دستے میں سے بندوق نکال کر اس پہ تانی تھی۔ لمحہ بھر کو سبز آنکھوں میں اچنبھا ابھرا اور پھر وہ بندوق کو نظر انداز کرتی نیچے پتھر اٹھانے کے لئے جھک گئی۔
”حسن گلے سے مفلر اتار کر اس کے ہاتھ باندھو“ اسے پتھر اٹھاتے دیکھ کر حمزہ نے کہا۔ حسن سرعت سے گردن کے گرد لپٹا مفلر اتار کر اس کی طرف بڑھا تھا۔
وہ جو بظاہر مضبوط بن کر حملے کر رہی تھی اب ہمت ہارنے لگی تھی۔ بھوک کی وجہ سے ہوئی کمزوری کے باعث اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اسی لئے تو اب نشانہ بھی چُوک رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ سیدھی ہوتی اسے چکر آیا تھا اور وہ غش کھا کر زمین بوس ہو گئی۔ بے اختیار مجتبٰی کے منہ سے اوہ نکلا اگلے ہی پل وہ اور ولی ان کے سر پہ تھے۔
”بہت ہی مایوس کیا ہے تم تینوں نے۔۔۔ ایک بالشت بھر کی لڑکی سے مار کھاتے رہے ہو“ اس کی بات پر تینوں نے نظریں جھکائی تھیں۔
”اسے اندر لے کر جانا پڑے گا یہ بے ہوش ہو چکی ہے“ مجتبٰی نے اس کی نبض ٹٹولتے ہوئے انہیں اطلاع دی۔
وہ لوگ اسے کیمپ میں لے جانے کے بجائے ولی کے گھر لے آئے تھے۔ پانی کے کچھ چھینٹے مارنے کے بعد اسے ہوش آگیا تھا لیکن نقاہت کی وجہ سے اسے اٹھنے میں مشکل ہو رہی تھی۔ اس نے صوفے پر لیٹے لیٹے ہی غصے سے اپنے پاس دو زانوں بیٹھے مجتبٰی کے چہرے کی طرف ہاتھ بڑھائے تھے اس سے پہلے کہ وہ اس کا منہ نوچ لیتی اس نے مضبوطی سے کشمالہ کے ہاتھ پکڑے تھے۔
”بس بہت ڈرامہ ہو گیا محترمہ۔۔۔ اگر ہم ایک عورت کی حیثیت سے آپ کا احترام کر رہے ہیں تو آپ ہمیں کمزور سمجھنے کی غلطی نہیں کریں “ بات مکمل کر کے وہ جھٹکے سے اس کے ہاتھ چھوڑتے ہوا کھڑا ہوا تھا۔
جاری ہے
