Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Paharon Ki Beti by Maria Shah Episode04

Paharon Ki Beti by Maria Shah Episode04

خالہ یہ کچھ چیزیں ہیں جو آپ لوگ گھر ہی بھول آئے تھے امجد انکل نے بھیجوائی ہیں “ اس نے تھیلا زینب بی بی کی طرف بڑھایا جسے انہوں نے بادل نخواستہ تھاما تھا۔
” وہ خود کیوں نہیں آئے؟“ کشمالہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا اس کی بات پر احمد کو چپ لگ گئی ۔زینب بی بی بھی سوالی نظروں سے اسے دیکھنے لگی تھیں شدت سے انہوں نے دل میں دعا مانگی تھی کہ وہ ٹھیک ہوں۔
”وہ نہیں رہے مالا“ کچھ دیر بعد احمد نے آہستگی سے کہتے ہوئے نظریں جھکائی تھیں جیسے وہ خود ان کا مجرم ہو ویسے بھی وہ احساس جرم کا شکار ہو رہا تھا یہ سوچ سوچ کر کہ اسے اس وقت امجد صاحب کو اکیلا چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا یا پھر کم از کم اسے میجر آتش پہ زیادہ دیر تک نظر رکھنی چاہیے تھی تاکہ وہ اس کے اگلے قدم سے واقف ہو جاتا۔
”کیا مطلب۔۔کیا ہوا انہیں؟؟“ کشمالہ کو اپنی آواز اجنبی لگی اور زینب بی بی تو کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہی تھیں۔
”میں ان کے لئے ناشتہ لے کر گیا تو اس وقت دیکھا وہ سانس نہیں لے رہے تھے۔۔۔ شاید میجر آتش آیا تھا“ احمد کے لئے نظریں اٹھانا اور مشکل ہو گیا تھا۔
”پلیز احمد بھائی ایسے تو نہیں کہیں نا۔۔۔ “ آنسو اس کی آنکھوں سے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگے تھے جبکہ زینب بی بی کے ہاتھ میں پکڑا تھیلا زمین بوس ہو چکا تھا۔
”جتنی جلدی ہو سکے آپ لوگ یہاں سے نکل جائیں انکل یہی چاہتے تھے“ کشمالہ نے اس کی بات پر دھیان کہاں دیا تھا اس کے ذہن میں تو لفظ ”تھے “ گونجنے لگا تھا۔ ایک نادم سی نگاہ اس پر اور زرد ہوتی زینب بی بی پہ ڈالتے ہوئے اس نے واپسی کے لئے قدم بڑھا دیے۔
”رُکیں احمد بھائی ہم بھی آپ کے ساتھ چلتے ہیں۔۔۔مجھے ابا کا بدلہ لینا ہے۔۔۔میجر آتش کو زندہ نہیں چھوڑوں گی“ کشمالہ نے آنکھیں رگڑتے ہوئے اسے روکا۔ وہ ایک پاؤں پر اس کی طرف گھوما تھا ۔
”اور بدلہ کیسےلو گی تم؟“ اب وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پوچھ رہا تھا۔
”ہم مل کر بدلہ لیں گے۔۔۔ریحان بھائی کا ابا کا۔۔ہم مارخور ہیں“ اس نے راہ بتائی۔
”ہمارا گروپ ٹوٹ چکا ہے مالا۔۔۔مارخور کا اب کچھ بھی نہیں بچا۔۔۔ کل سے علی بھی غائب ہے پتا نہیں زندہ ہے بھی یا نہیں۔۔۔غدار کو ہم ابھی تک نہیں ڈھونڈ سکے۔۔۔ ایسے میں عقل کا یہی تقاضا ہے کہ تم اپنے ابا کی قربانی کی قدر کرتے ہوئے چپ چاپ یہاں سے چلی جاؤ۔۔۔یہاں رہ کر کچھ حاصل نہیں ہو گا“ بات کے آخر میں آتے آتے اس کا انداز ناصح ہو گیا تھا۔
”لیکن میں۔۔۔“
”تم کچھ بھی الٹا سیدھا نہیں کرو گی اور کل صبح ہوتے ہی ان سب کو ساتھ لئے یہاں سے نکل جاؤں گی بس “ احمد نے اسے بات پوری کرنے سے پہلے ہی ٹوکتے ہوئے قطعیت سے کہا تو وہ بے بسی سے ہاتھ مل کر رہ گئی۔
۔۔۔۔۔
احمد کے جانے کے بعد غار میں پھر سے خاموشی چھا گئی تھی گویا کسی نے صور پھونک دیا ہو لیکن اب اس خاموشی میں خوف اور وحشت کی جگہ درد اور تکلیف نے لے لی تھی۔ داور اور عدیمہ اب بھی سو رہے تھے اور وہ دونوں ضبط کی انتہاؤں کو چھوتے ہوئے منہ سے آواز نہ نکالنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ آنسو لڑھک لڑھک کر گالوں پہ آ رہے تھے۔ ایک طرف زینب بی بی کی آنکھوں کے سامنے اٹھارہ سالہ ازدواجی زندگی کے لمحات کسی سکرین کی طرح چل رہے تھے جو کسی فلمی جوڑے کی طرح بہت خوشگوار تو نہیں لیکن پر سکون تھے۔ ہر اچھے برے وقت میں ان لوگوں نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا تھا۔ دوسری طرف پتا نہیں ابا کو کیسے ظالمانہ طریقے سے مارا ہو گا سوچ سوچ کر کشمالہ کے ذہن کی طنابیں چٹخنے لگی تھیں۔ دل و دماغ میں ایک حشر برپا تھا۔
احمد کی باتوں سے کسی خطرے کی بو آرہی تھی اسی لئے وہ لوگ اب سرنگ کے اندر آ بیٹھے تھے اگر کوئی غار کے سر ے پر بھی آ کھڑا ہوتا تو اس کی نظر ان پہ اس وقت تک نہیں پڑ سکتی جب تک وہ سرنگ کے دہانے پر نہ آکھڑا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔
”کہاں ہے وہ غار؟ “ سڑک کے ایک طرف گاڑی روکتے ہوئے میجر آتش نے جیپ کے پیچھے بیٹھے نوعمر نوجوان سے پوچھا تھا۔
”اس پہاڑ کے پیچھے “ نوجوان نے سڑک کے دائیں طرف نظر آتے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ کی طرف اشارہ کیا۔
”اگر خبر جھوٹی ہوئی اور مجھے وہ یہاں نہ ملی تو تمہارا وہ حشر۔۔۔“
”جو مرضی حشر کر لینا۔۔ پہلے کبھی کوئی خبر جھوٹی دی ہے جو اب دوں گا“ نوجوان نے اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی درمیان میں اچک لی اور جیپ سے اتر آیا اس کے ساتھ ہی کبیر اور میجر آتش بھی اتر آئے تھے لیکن جیپ سے اترنے کے بعد ان کے رخ مخالف سمت میں تھے میجر آتش اور کبیر پہاڑ کی طرف جا رہے تھے جبکہ نوجوان سڑک کے کنارے ٹہلتا ہوا دوسری طرف جانے لگا تھا۔
”اُف ایک تو اس بڈھے نے اتنی دور چھپا کر رکھا ہے لڑکی کو۔۔۔ ایسے جیسے کوئی شہزادی ہو“ پہاڑ پر چڑھتے ہوئے کبیر نے جل کر کہا وہ صبح سے میجر آتش کے ساتھ کشمالہ کو ڈھونڈنے میں لگا تھا اور اب رات ہونے کو آئی تھی۔ تھکاوٹ سے برا حال تھا لیکن اپنے مفاد کی خاطر وہ میجر آتش کا ساتھ دینے پر مجبور تھا۔
”لگتا ہے وہ رہا غار“پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کے میجر آتش نے ہاتھ میں پکڑی ٹارچ سے چاروں اطراف میں روشنی ڈالی تھی اور غار کا کھلا منہ دیکھ کر اس کی آواز پر جوش ہو گئی۔ قدموں میں بھی پہلے کی نسبت تیزی آ گئی تھی۔
وہ آپس میں باتیں کرتے غار تک پہنچے تھے ۔رات کے ہیبت ناک سناٹے میں ان کے بولنے کی گونجتی آواز کشمالہ اور زینب بی بی نے بھی سنی تھی۔ دونوں نے بے اختیار خوف سے جھر جھری لی ۔
چاند کی روشنی چھن کر غار کے اندر آرہی تھی اسی لئے جب وہ دونوں غار کے سامنے آکھڑے ہوئے تو ان کے سائے سرنگ میں بیٹھی ان ماں بیٹی نے بھی دیکھے تھے۔ عدیمہ جو کچھ دیر پہلے ہی اٹھی تھی اور اب خوف کے مارے ماں کے پلو میں چھپ گئی تھی۔
”یا اللہ ہماری مدد فرما ویسے ہی جیسے تو نے غار ثور میں کفار کے مقابلے میں اپنے نبی (ص) کی مدد کی تھی۔ میں جانتی ہوں ہم بہت گناہ گار ہیں لیکن تو چاہے تو کیا نہیں ہو سکتا تو ہم میں اور ان میں پردہ ڈال دے۔۔۔اے اللہ ہماری حفاظت فرما۔۔ “ ہاتھوں میں پتھر پکڑے وہ دل ہی دل میں اللہ سے دعا گو تھی۔ اسے خود سے زیادہ اپنے بہن بھائی کی فکر تھی اسی لئے تو غار میں بیٹھی رہی تھی ورنہ میجر آتش کی آواز سنتے ہی اس کا دل بدلہ لینے کے لئے مچلنے لگا تھا۔
”یہ ٹارچ کو کیا ہوا۔۔۔ اچانک کیسے بند ہو گئی“ باہر سے آتی کبیر کی آواز کے ساتھ کسی کے ٹارچ پر ہاتھ مارنے کی آواز بھی آئی تھی لیکن ٹارچ آن نہیں ہوئی۔ دعا نے کام کرنا شروع کر دیا تھا۔
” بیٹری ختم ہو گئی ہو گی۔۔۔ تو اپنا موبائل نکال“ غار کی خاموشی میں میجر آتش کی جھلائی ہوئی آواز گونجی ۔
”موبائل تو میں جیپ میں بھول آیاتو اپنا نکال لے“ کبیر کے کہنے پر میجر آتش نے اپنا سر پیٹا تھا۔
”میرا موبائل دو دن سے چارج نہیں ہوا۔۔۔ بیٹری ڈیڈ ہے“ میجر آتش نے بتاتے ہوئے غار کے اندر قدم رکھا باہر سے آتی چاند کی روشنی بھی اب بادلوں کی اوٹ میں ہو چکی تھی جس کی وجہ سے غار کے اند ر کا منظر غیر واضح تھا۔
”یہاں تو کوئی نہیں ہے۔۔۔ لگتا ہے اس بار سالے حارث نے دھوکہ دے دیا ہے“ کبیر نے غار میں آگے جھانکتے ہوئے کہا جبکہ اس کی بات ہر کشمالہ پہ بجلی گری تھی۔ تو حارث بھائی نے غداری کی ہے۔ اب اسے سمجھ آرہی تھی اس کی لائی گئی انفارمیشن ہمیشہ آدھی غلط کیوں ہوتی تھی اور ریحان نے آخری دو میشنز میں اسے ساتھ کیوں نہیں رکھا تھا یقیناً اسے شک ہو گیا ہو گا۔
”آہ حارث بھائی۔۔۔ آپ تو بھائی کہلانے کے لائق بھی نہیں ہیں۔۔۔ صحیح کہتے ہیں مسلمان دشمن سے جیت جاتے ہیں بس انہیں اپنوں کی غداری مار دیتی ہے“ اس کی ذہنی رو باہر کھڑے دشمن سے ہٹ کر دوست نما دشمن کو سوچتے ہوئے بھٹکنے لگی تھی۔
باہر وہ دونوں باتیں کرتے کرتے سرنگ کے دہانے پہ آکھڑے ہوئے تھے لیکن ان کی نظر ابھی تک سرنگ کی طرف نہیں گئی تھی اندر بیٹھے نفوس سانس روکے بیٹھے تھے۔نہ جانے اگلے پل میں ان کے ساتھ کیا ہو جائے۔
” لگتا ہے وہ لوگ یہاں نہیں ہیں ۔۔۔ لیکن وہ لڑکی میرے ہاتھوں سے نہیں بچ سکتی ۔۔۔بچے گا تو آج وہ غدار بھی نہیں “میجر آتش کو شدید ہتک کا احساس ہوا تھا۔ شکار دوڑانے کے کھیل میں وہ شکار سے ہی ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ غار کی خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے میجر آتش نے واپسی کے لئے قدم اٹھایا اور اس کا بھاری بوٹ نیند میں لڑھک کر باہر نکلے داور کے ہاتھ پہ پڑا زینب بی بی نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اس سے پہلے کہ داور کے منہ سے کوئی چیخ نکلتی انہوں نے اس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اس کی آواز کو دبا دیا تھا۔ حواس باختگی میں ان کے ہاتھ کی گرفت داور کے منہ کے ساتھ ساتھ ناک پر بھی تھی اور وہ اس سے لا علم سایوں کو غار سے نکلتے ہوئے دیکھ رہی تھیں۔ جن میں سے ایک کا بوٹ غار میں خون کے نشان ثبت کرتا جا رہا تھا۔
کچھ دیر تک ان کے جانے کا یقین کر لینے کے بعد ماں بیٹیوں نے گہری سانسیں لی تھیں زینب بی بی نے اپنا ہاتھ داور کے منہ سے ہٹا دیا پر اس نے کوئی حرکت نہیں کی ۔ کسی انہونی کے احساس کے تحت انہوں نے داور کو جھنجھوڑا لیکن اس کے بے جان وجود میں اب بھی کوئی حرکت نہیں ہوئی تھی۔ بھائی بہنوں کے محافظ ہوتے ہیں۔۔۔ ان کی عزت کے رکھوالے۔۔۔ یہ بات چھ سالہ داور نے ثابت کر دی تھی۔ بہنوں کی عزت بچانے کی خاطر وہ بنا کوئی آہ کیے ہی چل دیا تھا۔ مالا کے رشتوں کی لڑی سے ایک اور موتی ٹوٹ کر گرا تھا اور اسے وہیں کشمیر کی وادیوں میں ہی کھو جانا تھا۔
_________
غار کے اندر کی فضا سوگ میں ڈوبی تھی۔ وہاں تین نفوس سہمے بیٹھے تھے ان میں ایک عورت تھی جس نے ایک ہی دن میں اپنے سر کا تاج اور جگر کا ٹکرا کھویا تھا دو لڑکیاں تھیں جو ایک ہی دن میں یتیم اور بے سہارا ہو گئی تھیں۔ جن کے سر سے سائبان اٹھ گیا تھا۔
”اماں یہ کیا کیا آپ نے؟“ عدیمہ خوف زدہ نظروں سے ماں کے پاس پڑے بے جان وجود کو دیکھ رہی تھی۔
”میں۔۔۔ میں نے کیا کیاہے ؟“ زینب بی بی نے خالی الذہبی سے پہلے اپنے ہاتھوں کو اور پھر داور کو دیکھا۔ انہوں نے تو صرف اس کی آواز دبائی تھی لیکن وہ تو سانسیں بھی روک بیٹھا تھا۔
”آپا۔۔۔ کیا اب داور کبھی بات نہیں کرے گا؟“ عدیمہ نے روتے ہوئے اسے ہلایا لیکن وہ خاموش بت بنی کھڑی رہی اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ کسی ایسی جگہ بھاگ جائے جہاں کوئی اسے یہ خبر دینے والا نہ ہو۔
”داور۔۔ داور اٹھ جا نا۔۔۔ میں اب تجھ سے کبھی نہیں لڑوں گی۔۔۔ تیرا سارا ہوم ورک بھی کر دوں گی۔۔۔پلیز اٹھ جا“ عدیمہ نے داور کا کندھا ہلایا۔
”نہ چھیڑ اسے۔۔۔ تیرے ابا اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔۔۔ آخری بار اس نے کہا تھا اب جب بھی کہیں جائیں تو مجھے اپنے ساتھ لے کر جانا۔۔۔ دیکھ تیرے ابا نے اس کی بات مان لی ۔۔۔ ہمارا بالکل نہیں سوچا اور اسے اپنے ساتھ لے گئے“ زینب بی بی نے عدیمہ کا ہاتھ جھٹک کر داور سے پیچھے کیا وہ اس وقت حواسوں میں نہیں لگ رہی تھیں۔
”آپا یہ اماں کیا کہہ رہی ہیں ۔۔۔ ابا کہاں گئے ہیں؟“ عدیمہ پر ایک اور قیامت ٹوٹی تھی اس نے وحشت سے ایک بار پھر کشمالہ کو ہلایا اماں سے پوچھنے کی اس نے زحمت نہیں کی وہ اس وقت اپنے بھائی کی قاتلہ سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔
”کچھ نہیں ہوا انہیں۔۔۔کچھ دن میں آ جائیں گے“ لفظ بمشکل اس کے حلق سے ادا ہوئے اس نے عدیمہ کو اپنے ساتھ لگا کر تھپکا تھا۔
”ابا ہمیشہ ایسے ہی کرتے ہیں۔۔۔ انہیں مجھ سے زیادہ داور سے محبت ہے ۔۔۔اسی لئے تو ہر جگہ اسے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں“ عدیمہ نے روتے ہوئے شکایت کی۔اس پر کشمالہ کے جھوٹ کا اثر نہیں ہوا تھا۔
اس رات ان تینوں کو ہی نیند نہیں آئی تھی۔ صبح کی روشنی پھیلتے دیکھ کر وہ سرنگ سے دوسری طرف آ گئے تھے جہاں سے ان کے سفر کا آغاز ہونا تھا لیکن اس آغاز سے پہلے داور کی تدفین کا کام کرنا ضروری تھا وہ ایک لاش کو ساتھ رکھ کر اس کی بے حرمتی نہیں کر سکتے تھے۔ امجد صاحب نے سرنگ بنانے کے دوران کچھ اوزار غار میں ہی رکھ دیے تھے انہیں کی مدد سے اس نے ایک درخت کے پاس گڑھا کھودا۔ قبر کھودنا آتا ہی نہیں تھا۔ کفن اور غسل کا انتظام بھی نہیں ہو سکتا تھا بس اس نے اماں کا ایک دوپٹہ لے کر اس کے گرد لپیٹ دیا اور پھر جنازہ پڑھنے لگی ۔ وہ کائنات کا سب سے عجیب جنازہ تھا جس میں صرف دو لڑکیوں نے شرکت کی تھی۔وہ داور امجد کا جنازہ تھا جو بہت سے دوسرے معصوموں کی طرح آنکھوں میں آزادی کا خواب لیے اس دار فانی سے کوچ کر چکا تھا۔ کشمالہ نے ایک بار ابا سے جنازہ پڑھنے کا طریقہ پوچھا تھا لیکن یہ نہیں جانتی تھی وہ کیسے وقت میں کام آئے گا عدیمہ آنسو بہاتے اس کے پیچھے پیچھے پڑھ رہی تھی ۔ داور کو گڑھے میں لیٹاتے اس کے ہاتھوں میں واضح لرزش تھی۔ بلند و بالا درخت اور دیو قامت پہاڑ حیرت سے اس چھوٹی سی لڑکی کی کاروائی دیکھ رہے تھے اس کے حوصلہ کو داد دے رہے تھے جو ضبط کے کڑے مراحل سے گز رہی تھی۔
”مالا میرا بیٹا ہے۔۔۔ بہت بہادر بچہ۔۔۔ اسے ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنا آتا ہے “ اس کے ذہن میں امجد صاحب کے الفاظ گونج رہے تھے اور وہ بار بار آنکھوں میں تنی دھند کی چادر کو پیچھے دھکیل رہی تھی۔ اسے اماں کو سنبھالنا تھا جو داور کے بعد سے بہکی بہکی باتیں کرنے لگیں تھیں اسے عدیمہ کا حوصلہ بننا تھا جو غم و خوف کی شدت سے ہراساں ہو رہی تھی۔
”آپا پلیز نہ کریں وہ ڈر جائے گا ۔۔۔ آپ کو پتا تو ہے اسے اندھیرے سےکتنا ڈر لگتا ہے“ اس نے داور کے اوپر پہلی مٹھی بھر کر مٹی ڈالی تو عدیمہ نے اس کے ہاتھ پکڑ لیے۔ شدتِ گریہ کی وجہ سے اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ کشمالہ نے نرمی سے اس کے ہاتھ ایک طرف کرتے ہوئے اپنا کام دوبارہ شروع کیا۔
”اتنی ظالم نہ بن مالا۔۔۔ اگر تیرا بھائی گہری نیند سو گیا ہے تو کیا تو اسے ایسے مٹی میں دبا دے گی؟؟؟۔۔۔ ہوش کے ناخن لے اگر تجھے بوجھ لگ رہا ہے تو اپنے داور کو میں اٹھا لوں گی۔۔۔ لا مجھے پکڑا دے “ زینب بی بی کی جیسے ہی اس پر نظر پڑی غار کے دہانے سے دہل کر اٹھ آئی تھیں اور داور کے اوپر سے مٹی ہٹانے لگیں ۔ اس نے بمشکل انہیں ہٹایا وہ وہیں پاس بیٹھ کر اسے کوسنے لگیں ۔ اب کی بار اس نے آنکھیں بند کر کے اندازے سے مٹی ڈالی تھی۔ تھوڑی دیر بعد ہی درخت کی جڑوں کے پاس ایک مٹی کی ڈھیری نظر آنے لگی تھی اس نے پتھر کی نوک سے درخت پہ ”داور “ لکھا اور غار میں چلی گئی۔ سامان سمیٹنے کے بعد وہ زبردستی انہیں ساتھ لے کر آگے بڑھی تھی۔ لیکن ایسے مشکل حالات میں بھی وہ غار کی دیوار پر اپنے ساتھیوں کے لئے ایک پیغام چھوڑنا نہیں بھولی تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی یہ پیغام ان تک پہنچے گا یا نہیں پر اس نے اپنا فرض ادا کر دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
پچھلے ایک دن سے میجر آتش کا برا حال تھا۔ اس نے کشمالہ کو ڈھونڈنے کی ہر ممکن کوشش کر لی تھی لیکن کامیابی نہیں ہوئی تھی۔ اپنے ساتھیوں کے سامنے ہوئی ہتک کا احساس اس کے اشتعال میں مزید اضافہ کر رہا تھا اور اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ جادو کی چھڑی گھمائے اور وہ لڑکی سامنے آ جائیں۔ اپنے آفس میں بیٹھے ہاتھ میں پکڑی کشمالہ کی پاسپورٹ سائز تصویر کو گھورتے اس کی سوچ بھی کشمالہ کے گرد گردش کر رہی تھی۔ یونیفارم میں بنی وہ تصویر یقیناً کسی داخلہ فارم کے لئے بنوائی گئی تھی جو اسے حارث نے کشمالہ کے گھر سے لا کر دی تھی۔ کرسی کو جھلاتے اچانک اس کے ذہن میں ایک خیال کوندا اسے بدلہ لینے کا طریقہ سمجھ آگیا تھا۔ فوراً سیدھے ہوتے اس نے میز پر پڑا فون اپنے آگے کھسکایا اور بھونیں سیکڑتے ہوئے ایک نمبر ملانے لگا۔
”آرمی بیس کیمپ دہلی۔۔۔“ کال اٹھانے کے بعد دوسری طرف سے کہا گیا۔
”میجر آتش ریپورٹنگ سر“ ایک ہاتھ ماتھے تک لے جاتے ہوئے اس نے بیٹھے بیٹھے ہی سلوٹ کیا تھا۔
”یس میجر کیا ریپورٹ ہے؟“ ماتھ پیس سے رعب دار آواز اُبھری۔
”سر ہمیں باوثوق ذرائع سے خبر ملی ہے کہ جموں میں ایک پاکستانی جاسوسہ گھس آئی ہے جو لوگوں کو ہمارے خلاف بھڑکا رہی ہےاور ایسا لگتا ہے کچھ عرصے سے ہمارے جوانوں پر جتنے بھی پر سرار حملے ہوئے اسی کی کار ستانی ہے۔۔۔ ہم نے اپنے ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے اس کی ایک عدد تصویر حاصل کر لی ہے“ میجر آتش نے اپنے پلان کے مطابق بولنا شروع کیا۔
”وہ لڑکی اتنا کچھ کر چکی ہے اور تم ہاتھ پر ہاتھ دھرے کس انتظار میں بیٹھے ہو۔۔۔ ؟“ مقابل اس کی بات کاٹتے ہوئے دھاڑا تھا۔
”آپ کی اجازت چاہیے تھی سر۔۔۔ اگر حکم کریں تو ہر ناکہ ہر پولیس اسٹیشن پہ اس کی تصویر بھیجوا دوں؟“ہاتھ میں پکڑی تصویر پر ایک نظر ڈالتے ہوئے میجر آتش اصل مدعہ پر آیا جس کے لئے اس نے راہ ہموار کی تھی۔
” جو مرضی کرو میجر۔۔۔ لیکن وہ لڑکی جلدازجلد پکڑی جانی چاہیے“ ماتھ پیس کے پار سے محکم آواز سن کر اس کے دل پہ ٹھنڈی پھوار پڑی تھی۔
”اب تمہیں مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا مالا“ اس کی تصویر کو ہاتھ میں گھماتے ہوئے میجر آتش کی آنکھیں چمکنے لگی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
کشمالہ کے پاکستانی جاسوس ہونے والی خبر وادی کے ہر ناکہ پہ پھیلتے پھیلتے احمد تک بھی آ پہنچی تھی اسی لئے شام ہوتے ہی اس نے غار کا رُخ کیا تھا۔ ایسے حالات میں کشمالہ کا کہیں نکلنا ٹھیک نہیں تھا اسے کچھ دن مزید غار میں ہی پناہ لینی چاہیے اسی لئے وہ اسے آگے جانے سے روکنا چاہتا تھا۔ اسے یقین نہیں تھا کہ وہ لوگ ابھی تک چلے گئے ہوں گے یا نہیں۔۔۔ بس ایک مبہم سی امید تھی شاید انہوں نے آج کے دن نکلنے کا ارادہ ملتوی کر دیا ہو۔ اسی امید پر وہ غار تک آ پہنچا تھا لیکن غار خالی تھا۔ اس نے موبائل کی ٹارچ اردگرد ڈالی تو دیوار پر کچھ لکھا دیکھ کر ٹھٹک گیا۔
”حارث غدار ہے (مارخور) “ ٹارچ قریب کرکے اس نے زیر لب پڑھا اور اس کے اعصاب تن گئے۔ اسے سمجھ نہیں آئی اپنا خدشہ ٹھیک نکلنے پر خوش ہو یا غمگین۔۔۔ بلا شبہ حارث کا شمار اس کے بہترین دوستوں میں ہوتا تھا کچھ دنوں سے اس کی مشکوک سرگرمیاں دیکھ کر احمد کو شک ہورہا تھا لیکن شک کے یقین میں بدلنے پر اسے دکھ ہوا تھا۔ اگر کشمالہ نے کہا تھا پھر اس میں جھوٹ یا غلط فہمی کی کوئی گنجائش بچتی ہی نہیں تھی ۔ احمد جانتا تھا وہ ہمیشہ وہی بات کرتی ہے جس سے خود واقف ہو۔
”کہیں حارث کی وجہ سے امجد انکل کے خاندان کو کوئی نقصان نہ پہنچ گیا ہو۔۔“ اسے نئی فکر نے آن گھیرا۔لیکن پھر جاسوس والے ڈرامے کے ذہن میں آنے پر اسے یہ تسلی ہو گئی کہ وہ میجر آتش کی گرفت سے فی الحال بچی ہوئی ہے۔
”میں دوستی کا فرض بس اتنا ہی ادا کر سکتا ہوں کہ تمہارا پردہ رکھ لوں لیکن تمہیں سدھرنے کا موقع دینے کے لئے زندہ نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔ میں مزید نقصان نہیں اٹھا سکتا حارث“ بڑبڑاتے ہوئے اس نے پتھر سے کشمالہ کی لکھی تحریر پر لائنز لگائیں اور غار سے باہر آگیا۔
اگلے دن بستی والوں نے ایک اور لاش دیکھی تھی جسے ویسے ہی پرسرار طریقے سے مارا گیا تھا جو وہاں کی روایت تھی۔ بستی میں پھر سے آہ و بکا تھی چیخ و پکار تھی لوگ بھارتی فوج کو کوس رہے تھے گالیاں دے رہے تھے۔ ایسے میں ایک شخص بالکل پر سکون تھا اور وہ تھا احمد جبار۔۔۔ جس نے حارث کا پردہ رکھ کر دوستی نبھائی تھی اور ایک غدار کو مار کر اپنی ریاست کا فرض بھی ادا کر دیا تھا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *