Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Paharon Ki Beti by Maria Shah Episode03

Paharon Ki Beti by Maria Shah Episode03

آپا۔۔ابا گھر آ گئے ہیں؟ “ سکول سے واپسی پر عدیمہ نے دروازے میں کھڑے کھڑے ہی آس بھرے لہجے میں پوچھا اس کے اثبات میں سر ہلانے پر وہ دونوں بیگ سمیت ہی بھاگتے ہوئے اماں اباکے کمرے کی طرف گئے اور جا کر امجد صاحب سے لپٹ گئے۔
”اباکیا آپ کو چوٹ لگی ہے ؟“ ان کے ساتھ لپٹے ہوئے سب سے پہلے داور نے ہی ان کے کراہنے کو محسوس کیا تھا۔ عدیمہ بھی ان کے سینے سے ہٹ کر ان کا جائزہ لینے لگی۔
”آپ کو کس نے مارا ہے؟ “ عدیمہ کی نظریں ان کی ٹانگ پر جا ٹکی کیونکہ یہی بظاہر چوٹ انہیں نظر آ رہی تھی باقی جسم پر جو تشدد کے نشان تھے وہ کپڑوں نے چھپا لئے تھے۔
”کسی نے نہیں۔۔۔ بس پہاڑ سے گرنے کی وجہ سے چوٹ لگ گئی“ ان کے معصوم چہروں کو دیکھتے ہوئے انہوں نے جھوٹ بولا وہ ان کو مزید پریشانی میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔
”ابا مجھے آپ کے بغیر کچھ اچھا نہیں لگتا۔۔۔ اگلی بار آپ کہیں جائیں تو مجھے بھی اپنے ساتھ لے کر جانا“ داور نے کہتے ہوئے امجد صاحب کے ہاتھ پر اپنا ننھا ہاتھ رکھا تو انہوں نے سر ہلاتے ہوئے ہامی بھر لی۔
”باقی باتیں بعد میں کر لینا۔۔۔ اب اپنے ابا کو آرام کرنے دو جاؤ جا کر وردی بدلو اور کھانا کھاؤ“ شوہر کے چہرے پر آئے تکلیف کے تاثرات کو جانچتے ہوئے زینب بی بی نے انہیں وہاں سے اٹھایا گو کہ ان دونوں کا ہی وہاں سے اٹھنے کا دل نہیں کر رہا تھا لیکن ماں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے اسی لئے تابعداری سے اٹھ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
”میں سوچ رہا ہوں بچوں کو لے کر پاکستان چلے جاتے ہیں“ امجد صاحب نے سوچتے ہوئے زینب بی بی سے کہا جو ان کی کمر پر لگے زخموں پر مرہم لگانے کے ساتھ ساتھ آنسو بہانے میں بھی مصروف تھیں۔
”چلے جائیں گے۔۔ پہلے آپ ٹھیک تو ہو جائیں“ زینب بی بی نے دوپٹّے سے آنسو پونچھتے ہوئے جواب دیا۔
”سنو۔۔۔ اگر مجھے کچھ ہو جائے تو تم بچوں کو لے کر راولپنڈی چلی جانا وہاں باسط بھائی رہتے ہیں وہ ضرور مدد کریں گے “ امجد صاحب نے بیگم کا ہاتھ تھامتے ہوئے اپنے کسی دور کے کزن کا نام لیا۔
”اللہ نہ کرے آپ کو کچھ ہو۔۔۔ ہم انشاءاللہ مل کر پاکستان جائیں گے“ وہ فوراً اپنا ہاتھ چھڑا گئیں۔
”میرے دل کو دھڑکا لگ گیا ہے زینب۔۔۔ کہیں میرے بچوں کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔۔۔ مالا بڑی ہو رہی ہے اور بہت خوبصورت بھی ہے مجھے ڈر ہے کہیں اس پر کسی کی بری نظر نہ پڑ جائے“ ہلدی والا دودھ گرم کر کے لاتی کشمالہ کے کانوں میں بھی ان کے الفاظ پڑے تھے وہ بے اختیارشرمندگی سے نظریں جھکا گئی۔
”مالا۔۔۔ ادھر آؤ میرے پاس بیٹھو“ وہ جو دودھ کا کپ رکھ کر جانے لگی تھی باپ کی آواز پر خاموشی سے لب کاٹتے ہوئے ان کے پاس پلنگ پر بیٹھ گئی۔ وہ گہری نظروں سے اپنی بیٹی کو دیکھنے لگے۔ جس کو اندر ہی اندر باپ کی تکلیف کھائے جا رہی تھی لیکن پھر بھی بظاہر حوصلہ سے کام لے رہی تھی۔ انہوں نے آہستگی سے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے تھپکا تو وہ ضبط کھو بیٹھی اور ان کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
”یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے۔۔۔ میری وجہ سے وہ لوگ آپ کو پکڑ کر لے گئے تھے۔۔۔ میری وجہ سے آپ کو اتنی اذیت ملی۔۔۔۔ آپ کی تکلیف کی ذمہ دار میں ہوں۔۔۔ ابا میں آپ کی قصور وار ہوں“ وہ روتے ہوئے مسلسل کہے جا رہی تھی اور امجد صاحب اس کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔
”آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے؟“ کچھ دیر رو لینے کے بعد جب اس کے آنسو تھمے تو انہوں نے پوچھا۔ زینب بی بی پہلے ہی کچن سمیٹنے کے لئے کمرے سے جا چکی تھیں۔ ان کے پوچھنے پر اس نے اٹکتے ہوئے میجر آتش سے ہونے والی ملاقات کا سارا قصہ سنا دیا لیکن عدیمہ والی بات کو دانستہ چھپا گئی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ ایک اور پریشانی پال لیں۔
”ابا۔۔۔ مجھے معاف کر دیں۔۔ مجھ سے بڑی غلطی ہو گئی“ امجد صاحب کو گہری سوچ میں گم دیکھ کر اس نے ان کے برف ہوتے ہاتھوں پر اپنے کانپتے ہاتھ رکھے تھے۔
”تم نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔ مجھے اپنی بیٹی پر فخر ہے“ امجد صاحب نے اس کا ماتھا چوما تو وہ حیرت سے انہیں دیکھے گئی جن کے چہرے پر تفکر کی واضح لکیریں نظر آرہی تھیں اور وہ اسے چھپانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ اگر وہ باپ کی مزاج شناس نہ ہوتی تو شاید دھوکہ کھا جاتی۔
”اب تم جا کر آرام کرو۔۔۔ اور ہاں کل تم تینوں سکول سے چھٹی کر لینا“ اس کی کھوجتی نظروں سے بچنے کے لئے امجد صاحب نے اسے وہاں سے جانے کا کہا تو وہ تابعداری سے سر ہلاتے ہوئے چلی گئی۔
”پتا نہیں اب میجر صاحب کی واپسی کب تک ہو اور لڑکی کے بارے میں بھی کوئی ہدایات دے کر نہیں گئے“ ان کے ذہن میں قید کے دوران سنی گئی ایک آواز کی بازگشت گونجی اور وہ معاملہ کی کڑیوں سے کڑیاں ملاتے گئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیم روشنی میں ڈوبے ایک منزلہ گھر کے دروازے کے سامنے کھڑے کھڑے اس نے انگڑائی لیتے ہوئے سفر کی تھکاوٹ دور کرنی چاہی اور اگلے ہی پل دروازے پر لگاتار دستک دینے لگا۔
”کون پاگل ہے ۔۔۔ آ رہا ہوں۔۔۔ زرا جو انتظار کر لے“دس منٹ کی دستک کے بعد نیند میں ڈوبی ہوئی بڑبڑاہٹ سنائی دی۔ اب دستک دینے والے کے ہاتھوں کے ساتھ ساتھ اس کی زبان بھی چلنے لگی تھی۔
“ کمینوں ۔۔۔ کیا بھنگ پی کر سو رہے تھے۔۔۔“ دروازہ کھلتے ہی وہ دھاڑا جبکہ اسے دیکھ کر دروازہ کھولنے والے کی نیند غائب ہو گئی تھی اس نے ایک ہاتھ ماتھے تک لے جا کر میجر آتش کو سلوٹ کیا۔
”باقی سب کہاں ہیں؟“ اردگرد بکھری شراب کی بوتلوں کی دیکھتے ہوئے اس نے دوسروں کے بارے میں پوچھا۔
”سب سو رہے ہیں سر“ ویسے تو وہ اچھے دوست تھے لیکن جب اس کا موڈ خراب ہوتا تھا تو وہ اپنے عہدے کے لحاظ سے ہی بات کرتا تھا۔
”ابھی جا کر سب کو اٹھا کے لا“ صوفے پر ڈھتے ہوئے اس نے حکم دیا اگلے ہی پل پانچ نفوس اس کے سامنے مودب انداز میں کھڑے تھے۔
”میں نے تم لوگوں کو یہاں صرف اس کام کے لئے رکھا ہے؟“ چند گالیوں سے نوازتے ہوئے اس نے بکھری بوتلوں کی طرف اشارہ کیا لیکن کسی نے بھی جواب دینے کی ہمت نہیں کی۔ شاہی مزاج برہم دیکھ کر وہ یہی تکنیک اپنایا کرتے تھے۔
”اس لڑکی کے باپ کا کیا کیا تم لوگوں نے؟“ ٹانگ پر ٹانگ چڑھاتے ہوئے اس نے رعونت سے پوچھا۔
” تین دن رکھا تھا آپ کی طرف سے کوئی حکم نہیں ملا تو پھر چھوڑ دیا۔۔۔ لیکن اچھے سے مرمت کر دی تھی “ ان میں سے ایک نے جواب دیا۔
”اب کوئی مذاحمت کرنے کے قابل تو نہیں رہا نا؟ “
”بالکل نہیں۔۔۔ کبیر نے اس کی ایک ٹانگ توڑ دی تھی“ دروازہ کھولنے والے نے بتایا۔
”گڈ پانچ منٹ ہیں تم لوگوں کے پاس جلدی تیار ہو کر آجاؤ ایک ضروری مشن پہ جانا ہے“ اس نے گھڑی پر ٹائم دیکھتے ہوئے کہا جو رات کے تین بجا رہی تھی۔
”کوئی آفیشل مشن ہے؟“ کبیر کو ابھی ابھی گڈ ملا تھا اسی لئے اس نے پوچھنے کی ہمت کی۔
”تم لوگوں کی بھابھی کو لینے سسرال جانا ہے“ اس نے اطمینان سے صوفے کی بیک سے ٹیک لگائی۔
”اس وقت؟“ اس کے اطمینان سے کہنے پر وہ سب حیران ہوئے تھے۔
”نہیں صبح پورے بینڈ باجے کے ساتھ بارات لے کر جاؤ ں گا۔۔۔ اور محلہ والوں کو بھی شریک کر لیں گے“ ان کی حیرت پر وہ جل کر بولا۔
”وہ مسلمانوں کی بستی ہے وہاں کے لوگ ہمیں دیکھ کر بھڑک گئے تو؟“ ایک نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
”الو کے پٹھے۔۔۔ اسی لئے تو اس وقت جا رہے ہیں تاکہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔۔ گھر والوں نے شور مچانے کی کوشش کی تو تو انہیں بھی سکون کی نیند سلا دیں گے مجھے آج ہر حال میں وہ لڑکی چاہیے“ اس نے قطعی انداز میں کہا۔ وہ چار دن بعد لوٹا تھا جس دن اس نے امجد صاحب کو پکڑ وایا تھا اسی دن کشمالہ کو بھی اٹھوانے کا پلان بنایا تھا لیکن پھر تین فوجی گاڑیوں پر ہوئے حملے کی وجہ سے اسے انکوائری کے لئے بلوا لیا گیا اور اس کا پلان دھرا کا دھرا رہ گیا۔
”اور وہ چھوٹی والی؟“ کبیر کی سوئی ابھی تک چھوٹی والی پر ہی اڑی تھی۔
”اسے بھی لے آئیں گے۔۔۔ اب کیا تم لوگ میرے سر پرہی کھڑے رہو گے جلدی کرو“ اس کے دھاڑنے پر وہ سب تیار ہونے چلے گئے۔ کچھ دیر بعد ہی فضا میں جیپ سٹارٹ ہونے کی آواز گونجی جس کا رخ کشمالہ کے گھر کی طرف تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”زینب ۔۔۔جلدی اٹھو زینب۔۔۔ “ امجد صاحب نے گھبرائے ہوئے انداز میں ان کا کندھا ہلایا۔
”کیا ہوا امجد۔۔۔ آپ کو کہیں درد ہو رہا ہے ؟ “ وہ بوکھلا کر اٹھی تھیں اور امجد صاحب کے اڑے رنگ دیکھ کر ان کا خیال امجد صاحب کی تکلیف کی طرف ہی گیا تھا۔
”نہیں۔۔۔ تم جلدی تیاری کرو اور ابھی اسی وقت بچوں کو لے کر غار میں چلی جاؤ“ ان کی بات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے نیا حکم صادر کیا۔ جس نے زینب بی بی کے رہے سہے اوسان بھی خطا کر دئیے ۔
”ایک دم سے کیا ہو گیا ہے امجد کچھ تو بتائیں۔۔۔ باہر اتنا اندھیرا ہے اس وقت میں بچوں کو کہیں بھی اکیلی کیسے لے جا سکتی ہوں صبح تو ہونے دیں“ زینب بی بی کے چہرے پر صاف پریشانی نظر آنے لگی تھی اور امجد صاحب چاہ کر بھی انہیں اپنے خواب کے بارے میں نہیں بتا سکے جس میں انہوں نے کچھ بھیڑیوں کو کشمالہ کی طرف بڑھتے دیکھا تھا اور اسی سے ڈر کر ان کی آنکھ کھل گئی تھی۔
”کیا ہو گیا ہے آپ کوایسے ہی وہم پال رہے ہیں ۔۔۔ آرام سے سو جائیں آپ کے ٹھیک ہونے کے بعد ہم اکھٹے ہی چلیں گے“ زینب بی بی انہیں تسلی دیتے ہوئے پاس رکھی پائنتی پہ پڑے جگ سے گلاس میں پانی ڈالنے لگیں۔
”تم سمجھ کیوں نہیں رہی ہویہ وقت بحث کا نہیں ہے جلدی تیاری کرو۔۔۔ میں بچوں کو اٹھاتا ہوں“ امجد صاحب کہتے ہوئے بیڈ کا سہارا لے کر کھڑے ہو گئے۔
”میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی۔۔۔ اور اس حال میں تو بالکل نہیں“ زینب بی بی نے صاف انکار کر دیا۔
”پاگل مت بنو جلدی ضروری سامان باندھو میں اپنے بچوں کی زندگی داؤ پر نہیں لگا سکتا۔۔۔ تم کیا چاہتی ہو کشمالہ کی زندگی خراب ہو جائے؟“ امجد صاحب نے گُھرکا تو وہ بادل نخواستہ جانے کے لئے سامان باندھنے لگیں جو کھانے پینے کی ضروری اشیاء کے علاوہ چند کپڑوں پر مشتمل تھا۔ میجر آتش کے بارے میں وہ پہلے ہی انہیں بتا چکے تھے اسی لئے انہوں نے دوبارہ کوئی سوال نہیں کیا وہ ان کا ڈر سمجھ سکتی تھیں ۔ داور اور عدیمہ چھوٹے تھے انہیں حالات کی سنگینی کا اندازہ نہیں تھا وہ پہلے بھی ہمیشہ غار میں ایسے ہی رات کے وقت سب سے چھپ کر جاتے تھے وہ ان کے خاندان کا راز تھا جس سے کوئی اور واقف نہیں تھا وہ ان کے لئے پکنک پوائنٹ تھا اس لئے انہوں نے زیادہ سوال نہیں کئے بس داور نے باپ کے ساتھ نہ چلنے کا پوچھا تھا جسے انہوں نے بعد میں ان کے پیچھے آنے کی تسلی دیتے ہوئے بڑے آرام سے ٹال دیا۔ لیکن کشمالہ کو سب سمجھ آرہا تھا اور وہ بے بس کچھ نہیں کر پا رہی تھی۔
”ابا آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں “ اس نے پیچھے کے دروازے پر کھڑے ایک بار پھر وہی بات دوہرائی جو نجانے اب تک کتنی بار کہہ چکی تھی۔
”میں ابھی چل نہیں سکتا تم لوگوں پر اضافی بوجھ بنوں گا۔۔۔حالات بہتر ہونے کے بعد آجاؤں گا “ انہوں نے تسلی دی۔
”ابا آپ مجھے بیٹا کہتے ہیں پھر بیٹا سمجھیں بھی ۔۔۔میں آپ کو سہارا دے کر لے جاؤں گی اور آپ جانتے ہیں آپ کی بیٹی ہر طرح کے حالات سے نبٹ لے گی“ وہ جانتی تھی میجر آتش والی بات کی وجہ سے ہی اباانہیں یوں آناً فاناً بھیج رہے ہیں۔ اسی لیے ایک بار پھر منانا چاہا۔
”مالا۔۔۔ باتوں میں وقت ضائع نہیں کرو جلدی نکلو اور بہن بھائی کا خیال رکھنا۔۔“ وہ حسرت سے باپ کا چہرہ تکتی باہر نکل گئی۔ پیچھے امجد صاحب نے دروازہ بند کر دیا اپنے پیاروں کو خود سے دور جاتے دیکھنے کی ان میں ہمت نہیں تھی۔ زینب بی بی بار بار مڑ کر اپنے گھر کو دیکھ رہی تھیں ساتھ ساتھ پلو سے آنکھوں میں امڈآنے والے آنسو بھی صاف کر رہی تھیں ۔مختصر سا زادہِ راہ لئے وہ لوگ انجان سفر پہ نکل گئے۔۔۔۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ موت کے سفر پر نکلے ہیں اور اس سفر میں کام آنے والی سب سے قیمتی چیز ”کفن “ ساتھ رکھنا بھول گئے تھے_
_________
دروازہ بند کر نے کے بعد وہ نجانے کتنی ہی دیر دروازے سے لگ کر کھڑے آنکھوں سے مسلسل بہنے والے آنسو صاف کرتے رہے اور پھر دیوار کا سہارا لے کر لڑ کھڑاتے ہوئے کمرے تک آئے تھے۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی ان کی نظر میز پر رکھے تھیلے پر پڑی تو بے اختیار ان کا ماتھا ٹھٹکا اس تھیلے میں ضروری کاغذات تھے جنہیں زینب بی بی پریشانی میں وہیں بھول گئی تھیں ۔ امجد صاحب کے چہرے پر سوچ کی لکیریں نمودار ہوئیں اگر انہیں کچھ ہو جاتا تو ان کے اہل خانہ ان کاغذات کے بغیر پاکستان نہیں پہنچ سکتے تھے۔
”میجر آتش آج رات واپس آ چکا ہے“ اسی وقت ان کے موبائل پر احمد کا میسج موصول ہوا جسے انہوں نے رات کو ہی فون کر کے میجر آتش کے واپس آنے پر باخبر کرنے کا کام سونپا تھا۔
”مجھے تم سے کچھ کام ہے ابھی آ سکتے ہو؟“ ان کے پوچھنے پر کچھ دیر تک جواب نہیں آیا اسے سویا سمجھ کر ابھی انہوں نے نمبر ڈائل ہی کیا تھا کہ باہر دروازے پہ دستک سنائی دی۔ بے اختیار ایک مسکراہٹ نے ان کے ہونٹوں کو چھوا تھا وہ ایسا ہی تھا بنا کوئی عذر پیش کئے فوراً سے کام کر دینے والا۔
امجد صاحب نے بمشکل ہانپتے ہوئے دروازہ کھولا۔
”آپ دروازہ کھولنے کیوں آئے ہیں۔۔۔ کیا گھر پر کوئی نہیں ہے؟“ سلام کے بعد اس نے پوچھتے ہوئے انہیں آگے بڑھ کر تھاما اور ساتھ ہی ساتھ گھر پر بھی ایک نظر دوڑائی جہاں چھائی خاموشی مکینوں کی غیر موجودگی کا احساس دلا رہی تھی۔
”نہیں انہیں میں نے کچھ دیر پہلے بھیج دیا ہے “ احمد کے سہارے کمرے کی طرف آتے ہوئے انہوں نے بتایا۔
”کہاں بھیج دیا ؟؟ وہ بھی اس وقت۔۔۔ باہر کے حالات کا آپ کو پتا ہی ہے“ حیران ہونے کے ساتھ ساتھ وہ فکر مند بھی ہوا تھا۔
”میں بہت ڈر گیا ہوں احمد۔۔۔ ایک باپ کو موت سے بڑا خوف بیٹی کی عز ت برباد ہونے کا ہوتا ہے“ جواب میں وہ کیا کہتا بے بسی سے سر جھکا گیا۔
”یہ کچھ کاغذات ہیں ۔۔۔ زینب جلدی میں یہی بھول گئی ہے اگر مجھے کچھ ہوجائے تو یہ ان تک پہنچا دینا“ امجد صاحب نے تھیلا اس کی طرف بڑھایا جسے تھوڑے سے متامل کے بعد اس نے تھام لیا۔
”ٹھیک ہے اب تم جاؤ۔۔۔ دروازہ ٹھیک سے بند کر جانا میں کچھ دیر آرام کروں گا“ غار کا حدود اربع اچھے سے سمجھا نے کے بعد امجد صاحب نے اسے واپس جانے کی اجازت دی تو وہ اٹھ کر چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
میجر آتش کی جیپ بستی سے کچھ فاصلے پر رُکی تھی۔ وہ دو ساتھیوں کو وہیں چھوڑ کر باقی تین کو ساتھ لئے کشمالہ کے گھر کے پاس آ گیا۔ بنا کوئی آواز کئے پچھلے صحن کی دیوار پھلانگتے ہوئے وہ اگلے صحن تک آئے تھے۔ دبے پاؤں چلتے میجر آتش نے کچن کے ساتھ بنے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر جھانکا وہاں کوئی نہیں تھا۔ خالی کمرہ دیکھ کر وہ بے قراری سے دوسرے کمرے کی جانب بڑھا تھا اس کمرے میں پلنگ سے ٹیک لگائے اونگھتے ہوئے صرف امجد صاحب کو دیکھ کر اس کے تن بدن میں آگ لگی تھی۔
”کہاں ہے تیری بیٹی۔۔۔ بول کہاں چھپایا ہے اسے؟“ غصے سے آگ بگولہ ہوتے ہوئے اس نے امجد صاحب کا گریبان پکڑ کر جھنجھوڑا انہوں نے ہڑ بڑا کر آنکھیں کھول دیں۔
”وہیں ہے جہاں اسے ہونا چاہیے “ امجد صاحب نے اطمینان سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تو وہ مزید تپ گیا۔
”کمینے انسان تجھے کیا لگتا ہے ایسے تو اسے مجھ سے بچا لے گا؟؟؟ اس تک تو میں پہنچ ہی جاؤں گا کیونکہ میرے ہاتھ سے آج تک کوئی چیز نہیں بچی۔۔۔ لیکن یہ دیکھنے کے لئے تو نہیں بچے گا“ اس نے غصے میں امجد صاحب کو پلنگ سے نیچے دھکیلا تو ان کی زخمی ٹانگ میز سے جا ٹکرائی درد کی شدت کی وجہ سے ان کے منہ سے چیخ نکلی تھی۔ کبیر نے آگے بڑھ کر ان کے منہ میں کپڑا ٹھونس دیا۔اس لمحہ امجد صاحب نے دل ہی دل میں آسانی سے جان نکلنے کی دعا مانگی تھی۔
”بول کہاں ہے وہ۔۔۔ بول۔۔ میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ تیرا گوشت کتوں کے آگے ڈالوں گا۔۔۔ بولتا کیوں نہیں ہے ۔۔بتا کہاں ہے مالا“ میجر آتش پر تو جیسے کوئی جنون سوار ہو گیا تھا اس نے امجد صاحب پر لاتوں گھونسوں کی برسات کر دی۔ کبیر نے بھی اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا تھا جبکہ باقی ساتھی پاس کھڑے ہنس رہے تھے قہقے لگا رہے تھے۔ ان کے لئے تو مفت کی تفریح تھی جس سے وہ اکثر ہی لطف اندوز ہوتے رہتے تھے۔ امجد صاحب جو پہلے ہی درد سے آدھ موئے ہوئے جا رہے تھے زیادہ دیر تک ان کے گھونسوں کی تاب نہ لا سکے اور بے سدھ ہو گئے۔
”مر گیا ہے بڈھا۔۔۔ چھوڑ دے بس چل چلیں ۔۔کہیں محلہ سے لوگ نہ اٹھ کر آ جائیں“ کبیر نے اسے کھینچتے ہوئے کہا لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا وہ اشتعال میں امجد صاحب کے بے جان وجود کو مسلسل ٹھوکریں لگا رہا تھا۔ باہر سے آتی موذن کی پُروقار آواز پر انہیں جیسے ہوش آیا تھا فوراً وہاں سے نکل آئے۔ فجر کی اذان نے نئے دن کے آغاز کا اعلان کیا تھا لیکن وہاں آج پھر کسی کی زندگی تاریک ہو چکی تھی۔ امجد صاحب کی زندگی کا چراغ ہمیشہ کے لیے بجھ گیا تھا۔
۔۔۔۔
”اماں۔۔۔ابا کب آئیں گے؟ داور نے ماں کی گود میں دبکے ہوئے چوتھی بار یہ جملہ دوہرایا تھا۔
”تھوڑا صبر کر لو بیٹاتمہارے ابا بس آتے ہی ہوں گے “ زینب بی بی نے اس بار بھی وہی تسلی دی جو پہلے تین بار دے چکی تھیں۔
”اگر ابا نہ آسکے ؟؟“ ماں کے پہلو سے چپکی عدیمہ نے اپنا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے ماں کو حقیقت کا دوسرا رخ دکھانا چاہا۔
”اللہ نہ کرے۔۔۔بس ذرا دیر ہوگئی ہو گی رات تک آ جائیں گے “ اس کی بات پر زینب بی بی دہل گئی تھیں جب کہ کشمالہ پتھر اکھٹے کر کے اپنے پاس ڈھیر لگانے میں مصروف تھی ۔ مشکل وقت میں انہیں ہی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا تھا۔
وہ لوگ بمشکل گھنے جنگل سے ہوتے اس غار تک پہنچے تھے۔ جو آبادی سے بہت دور پہاڑوں کے درمیان میں تھا۔ غار کا ایک دہانہ سامنے کی طرف کھلتا تھا دوسرا بل کھاتی ہوئی سرنگ سے ہو کر درختوں کے جھنڈ تک جاتا تھا۔ دوسرے سرے کو درختوں نے ایسے ڈھانپ رکھا تھا کہ کسی کو وہاں غار کی موجودگی کا اندازہ بھی نہیں ہو گا۔ جس طرح لوگ اس غار سے ناواقف تھے اسی طرح کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ وہاں کوئی سرنگ بھی ہو سکتی ہے۔ وہ سرنگ امجد صاحب کی سالوں کی محنت تھی جس کی چوڑائی چار فٹ اور اونچائی بھی تقریباً اتنی ہی تھی۔
وہ لوگ اسی غار میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ ابا کا پوچھتے پوچھتے داور ماں کی گود میں لیٹے لیٹے ہی سو گیا تھا اور عدیمہ بھی ان کے کندھے سے لگی اونگھنے لگی تھی۔ بس وہ دو نفوس تھے جن کی آنکھوں میں نیند کا شائبہ تک نہیں تھا۔ ان کے دل گھر میں اٹکے ہوئے تھے جہاں وہ امجد صاحب کو تنہا چھوڑ آئے تھے۔ باہر سے آتی ہر آہٹ پر زینب بی بی کے کان ہی نہیں رونگٹے بھی کھڑے ہو جاتے تھے۔ ابھی بھی باہر سے آتی قدموں کی آواز پر انہوں نے بدحواس ہو کر کشمالہ کی طرف دیکھا جو اپنے سامنے لگائے گئے ڈھیر میں سے چند پتھروں کو ہاتھ میں پکڑتے الرٹ ہو گئی تھی۔
”خالہ یہ میں ہوں احمد۔۔۔ “ جانی پہچانی آواز سن کر ان کی رُکی ہوئی سانسیں بحال ہوئی تھیں لیکن یہ وہ آواز تو نہیں تھی جس کے وہ منتظر تھے اس وقت تو امجد صاحب کو وہاں ہونا چاہیے تھا۔ زینب بی بی نے داور اور عدیمہ کا سر کپڑوں کی پوٹلی پر رکھا اور احمد کی بات سننے باہر آ گئیں۔ کشمالہ بھی ان کے پیچھے پیچھے باہر آئی تھی۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *